ڈاکٹر سر محمد اقبالؔ
(1938 – 1877)
اقبال ؔکی پیدائش سیا لکوٹ میں ہوئی۔ انھوں نے مولانا سید میر حسن سے عربی وفارسی کی تعلیم حاصل کی۔ سیا لکوٹ سے ہی انٹرنس کا امتحان پاس کرنے کے بعد لاہور سے بی۔اے کیا۔ انھیں شاعری کا شوق لڑکپن سے تھا۔ چند غزلوں پر داغ ؔدہلوی سے اصلاح لی۔ داغ ؔکی شاعری کا رنگ اقبالؔ کی دوچار ابتدائی غزلوں میں نمایاں ہے۔ اقبالؔ نے 1905میں یوروپ کا سفر کیا ۔ پہلے کیمبرج گئے۔ پھر جرمنی کی ہائیڈل برگ یونیورسٹی سے ایرانی فلسفے اور تصوف پر ڈاکٹر یٹ کی ڈگری حاصل کی۔ لندن واپس آکر بیرسٹری کی تعلیم حاصل کی۔ 1908 میں ہندوستان آگئے۔ وکالت کا پیشہ اختیار کیا۔ 1915میں انھوں نے اپنی مشہور فارسی نظم ’’ اسرارِ خودی‘‘ میں فلسفۂ خودی کا نظر یہ پیش کیا۔ 1918میں ’’رموزِبے خودی‘‘ کی اشاعت ہوئی۔ انگریزی حکومت نے انھیں ’’سر‘‘ کا خطاب دیا۔ اقبالؔ نے عملی سیاست میں بھی حصہ لیا لیکن اقبالؔ بنیادی طور پر ایک مفکر اور شاعر تھے۔
اقبالؔ نے اردو شاعری کو نئی سمت اور نئے پہلوؤ ں سے روشناس کرایا۔ ان کے کلام میں انسانی عظمت واحترام اور حب الوطنی کا جذ بہ خاص طورپر نمایاں ہے۔ اقبالؔ کے کلام میں نغمگی اور ترنم بھی بہت ہے۔ انھوں نے اردو غزل کو بھی ایک نیا انداز عطا کیا۔ بالِ جبریل کی غزلوں سے غزلیہ شاعری کے ایک نئے موڑ کی نشان دہی ہوتی ہے۔
’’بانگ ِدرا‘‘ اردو میں ان کا پہلا مجموعۂ کلام ہے۔ اس کے بعد اردو میں ’’بالِ جبریل‘‘ اور ’’ضربِ کلیم‘‘ کے نام سے دو اور مجموعے سامنے آئے ۔ ’’ارمغانِ حجاز‘‘ ان کا چوتھا مجموعہ ہے جس میں فارسی اور اردو دونوں زبانوں کا کلام شامل ہے۔ اقبالؔ کے کلام کا بیشتر حصّہ فارسی میں ہے، انگریزی نثر میں بھی ان کی بہت سی تحریر یں ہیں۔ فلسفیانہ گہرائی اور اپنے شعورکی بلندی کے اعتبار سے اقبالؔ ہماری ادبی تاریخ میں ایک منفرد حیثیت رکھتے ہیں، انھیں دنیا کے بڑے شاعروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہمارا قومی ترانہ ’’سارے جہاں سے اچھّا ہندوستاں ہمارا‘‘ بھی اقبالؔ کا ہی لکھا ہوا ہے۔
شُعاعِ امید
سورج نے دیا اپنی شعاعوں کو یہ پیغام
دینا ہے عجب چیز کبھی صبح، کبھی شام
مدت سے تم آوارہ ہو پہنائے فضا میں
بڑھتی ہی چلی جاتی ہے بے مہریٔ ایاّم
نے ریت کے ذرّوں پہ چمکنے میں ہے راحت
نے مثلِ صبا طوفِ گل ولالہ میں آرام
پھر میرے تجلی کدۂ دل میں سماجاؤ
چھوڑو چمنستان وبیابان و در و بام
آفاق کے ہر گوشہ سے اٹھتی ہیں شعاعیں
بچھڑے ہوئے خورشید سے ہوتی ہیں ہم آغوش
اک شور ہے مغرب میں اجالا نہیں ممکن
افرنگ مشینوں کے دھوئیں سے ہے سیہ پوش
مشرق نہیں گو لذّتِ نظاّرہ سے محروم
لیکن صفتِ عالم لاہوت ہے خاموش
پھر ہم کو اسی سینۂ روشن میں چھپالے
اے مہر جہاں تاب نہ کرہم کو فراموش
اِک شوخ کرن، شوخ مثالِ نگہ حور
آرام سے فارغ صفتِ جوہر سیماب
بولی کہ مجھے رخصتِ تنویر عطا ہو
جب تک نہ ہو مشرق کا ہراک ذرّہ جہاں تاب
چھوڑوں گی نہ میں ہند کی تاریک فضا کو
جب تک نہ اٹھیں خواب سے مردانِ گراں خواب
خاور کی امیدوں کا یہی خاک ہے مرکز
اقبالؔ کے اشکوں سے یہی خاک ہے سیراب
چشمِ مہ و پرویں ہے اسی خاک سے روشن
یہ خاک کہ ہے جس کاخزف ریزہ درِ نایاب
اس خاک سے اٹھے ہیں وہ غوّاصِ معانی
جن کے لیے ہر بحرِ پرُ آشوب ہے پایاب
جس ساز کے نغموں سے حرارت تھی دلوں میں
محفل کا وہی ساز ہے بے گانۂ مضراب
بت خانے کے دروازے پہ سوتا ہے برہمن
تقدیر کو روتا ہے مسلماں تہِ محراب
مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذرکر
فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحَر کر
(محمد اقبالؔ)
مشق
سوالات
1. سورج نے اپنی شعاعوں کو کیا پیغام دیا؟
2. ’پھر ہم کو اسی سینۂ روشن میں چُھپالے‘ شعاعوں نے سورج سے یہ بات کیوں کہی؟
3. شاعر نے شوخ کرن کی کیا خصوصیت بیان کی ہے؟
4. اس شعر کی تشریح کیجیے:
مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذرکر
فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سَحر کر