سیمابؔ اکبرآبادی
(1925–1880)
عاشق حسین سیمابؔ آگرہ میں پیدا ہوئے۔ ایف اے تک ابھی تعلیم مکمل نہ ہوئی تھی کہ والد کا انتقال ہوگیا۔1897 میں تعلیم چھوڑنی پڑی ۔ شاعری کا شوق فطری تھا۔سیمابؔ امتحان کے پرچوں میں فارسی اشعار کا ترجمہ بلا تکلف اردو اشعار میں کردیتے تھے۔ سیمابؔ داغؔ کے شاگرد تھے۔ ان کی شاعری بلند خیالات اور انسانی جذبات کی ترجمان ہے۔ کانپور میں کچھ عرصے ملازم رہے۔ بعد میں استعفیٰ دے کر آگرہ میں اپناادارہ’ قصر الادب‘ قائم کیا۔ سیکڑوں نوجوان ان کے شاگرد ہوئے ۔ سیمابؔ کے کلام کے کئی مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ کارِامروز،حکیم عجم، پیامِ فرداوغیرہ ان کے اہم مجموعے ہیں۔
انھوں نے ایک ادبی ماہنامہ ’شاعر‘ کا بھی اجرا کیا جواب تک جاری ہے۔
میں ملک میں لکھ پڑھ کے بہت نام کروں گا
میں ملک کی خدمت سحر وشام کروں گا
کاہل نہ بنوں گا نہ میں آرام کروں گا
جس کام میں بہبود ہو وہ کام کروں گا
ہر کام غرض قابلِ انعام کروں گا
میں ملک میں لکھ پڑھ کے بہت نام کروں گا
میں جانتاہوں ملک کو کیا کیا ہے ضرورت
پھر کیوں نہ کروں گا میں بھلا ملک کی خدمت
مدّت سے نہیں ہند میں مقبول تجارت
کوشش میں کروں گا کہ بڑھے صنعت وحرفت
میں ملک میں لکھ پڑھ کے بہت نام کروں گا
میں جانتاہوں رنج سے مغلوب وطن ہے
پیارا ہے بہت اور بہت خوب وطن ہے
سو جان سے میرا مجھے مرغوب وطن ہے
خادم میں بنوںگا مجھے محبوب وطن ہے
میں ملک میں لکھ پڑھ کے بہت نام کروں گا
لاؤں گا بلندی پہ میں یوں اہلِ وطن کو
چھو لیں گے کبھی ہاتھوں سے سورج کی کرن کو
دوں گا میں نئے پھُول ہر اک شاخِ سمن کو
فردوس بناؤں گا میں بھارت کے چمن کو
میں ملک میں لکھ پڑھ کے بہت نام کروں گا
(سیماب ؔاکبر آبادی)
مشق
سوالات
1. شاعر ملک کی خدمت کس طرح کرنا چاہتا ہے؟
2. شاعر نے وطن سے محبت کا اظہار کس طرح کیا ہے؟
3. ’فردوس بناؤں گا میں بھارت کے چمن کو‘ اس بند میں شاعر کیا کہنا چاہتا ہے؟
4. اس نظم کا مرکزی خیال کیا ہے؟