بِرج نرائن چکبستؔ
(1926 –1882 )
بِرج نرائن چکبستؔ فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے لکھنؤ میں تعلیم حاصل کی اور وہیں وکالت کرنے لگے۔ ایک مقدمے کی پیروی کے لیے رائے بریلی گئے تھے۔ وہیں ان کا انتقال ہوگیا۔
چکبستؔ، میراینسؔ کے اُسلوبِ شاعری سے زیادہ متاثر تھے۔اُن کے کلام میں سادگی، سلاست،روانی اور ایک متر نّم فضا پائی جاتی ہے۔ چکبستؔ نے بھی شاعری کا آغاز غزل سے کیا۔وہ بعد میں جُب الوطنی کے جذبے کے تحت قومی نظمیں لکھنے لگے۔ اُن کی نظموں میں قدرتی مناظر کی عکّا سی، بیداریِ وطن کے جذبات،آزادی کی تڑپ اور درد مندی کے پہلو نمایاں ہیں۔ چکبستؔ نے احباب، بزرگوں اور قومی رہنماؤں کے مرثیے بھی لکھے ہیں اور اُن کی سیرت کی عمدہ عکاسی کی ہے۔’صبح وطن‘ ان کے مجموعے کا نام ہے۔
’رامائن کا ایک سین‘ اور’ پھول مالا‘ ان کی معروف نظمیں ہیں۔ چکبستؔ کے شخصی مرثیے اور ان کی قومی نظمیں اردوشاعری کی روایت میں اپنی خاص حیثیت رکھتے ہیں۔
وطن کو ہم، وطن ہم کو مُبارک
یہ پیاری انجمن ہم کو مبارک
یہ اُلفت کا چمن ہم کو مبارک
وطن کو ہم، وطن ہم کو مبارک
جو چڑیاں صبح کو گاتی ہیں اکثر
اسی کا راگ ہے ان کی زباںپر
وطن کو ہم، وطن ہم کو مبارک
وہ اک مستی کا عالم بادلوں میں
وہ پھولوں کا مہکنا جنگلوں میں
وطن کو ہم، وطن ہم کو مبارک
درختوں پر وہ چڑیوں کا چہکنا
وہ بیلے اور چمیلی کا مہکنا
وطن کو ہم، وطن ہم کو مبارک
یہاں کی خاک ہم کو کیمیا ہے
یہ سونے سے بھی قیمت میں سوا ہے
وطن کو ہم، وطن ہم کو مبارک
وہ ساون کے مہینے کی گھٹائیں
وہ کوئل اور پپیہے کی صدائیں
وطن کو ہم، وطن ہم کو مبارک
وہ چشمے اور وہ امرت کا پانی
وہ گنگا اور جمنا کی روانی
وطن کو ہم، وطن ہم کو مبارک
اسی کی خاک سے لیتے ہیں محصول
وہی دیتا ہے غلّہ اور پھل پھُول
وطن کو ہم، وطن ہم کو مبارک
وطن کا جن بزرگوں سے ہوانام
اسی مٹّی میں وہ کرتے ہیں آرام
وطن کو ہم، وطن ہم کو مبارک
(برج نرائن چکبستؔ)
مشق
سوالات
1. شاعرنے پیاری انجمن کسے کہا ہے؟
2. صبح کے وقت چڑیوں کی زبان پر کون سا راگ ہوتا ہے؟
3. شاعر کی نظر میں وطن کی خاک کی کیا حیثیت ہے؟
4. اس نظم میں جن مناظر کا بیان کیا گیا ہے انھیں اپنے لفظوں میں لکھیے۔