Skip to content
5188


مخمور ؔدہلوی

(1956–1901)

مخمورؔ دہلوی کا نام فضل الٰہی تھا، دہلی میں پیدا ہوئے۔ وہ بیخود دہلوی کے شاگرد تھے۔ مخمورؔ دہلوی کو بچپن ہی سے سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا مگر مزاج میں قناعت تھی اس لیے سب کچھ خادموشی سے برداشت کرتے رہے۔ حالات نے انھیں دہلی سے پٹودی پہنچادیا، جہاں وہ نواب محمد افتخار علی خاں والی ریاست پٹودی کے ملازم ہوگئے۔ ان کی زندگی کا بڑاوقت اسی ملازمت میں گزرا1947 میں پھر دہلی آگئے۔
مخمورؔ دہلوی کا اصل میدان غزل ہے۔ ان کے کلام میں رندی وسرمستی کی فضا ہے۔ ان کے کلام میں سادگی، سلاست اور روانی پائی جاتی ہے۔ انھوں نے غزل کے علاوہ کچھ نظمیں بھی کہی ہیں۔ مخمورؔ کا کلام ’کلیات مخمور‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔

جشنِ آزادی

41

چمن میں بُلبُلیں ہر سمت چہچہاتی ہیں
فضائیں نغمۂ دِل کش ہمیں سناتی ہیں
ہوائیں آج ترانے خوشی کے گاتی ہیں
کھِلے ہیں پھول بھی، کلیاں بھی مسکراتی ہیں

بہار آئی ہے دیکھو بہار آئی ہے

نِشاط و عیش کا آئینہ دار آہی گیا
وہ زندگی کے چمن پر نکھار آہی گیا
وہ جس کے آنے کا تھا انتظار آہی گیا
وہ جھوم جھوم کے ابرِ بہار آہی گیا

بہار آئی ہے دیکھو بہار آئی ہے

جو غم کے ساتھ تھی مہمان، وہ برات گئی
جو دن کو رات بناتی رہی، وہ رات گئی
ہجومِ یاس گیا تلخیِ حیات گئی
جُھکے نہ غیر کے آگے، نہ اپنی بات گئی

بہار آئی ہے دیکھو بہار آئی ہے

چمک رہے ہیں ستارے، چراغ جل تو چکے
اندھیری رات کے سایے تمام ڈھل تو چکے
کھِلے ہیں پھول، فضاؤں کے رخ بدل توچکے
کھٹک رہے تھے جو کانٹے وہ سب نکل توچکے

بہار آئی ہے دیکھو بہار آئی ہے

اُٹھاؤ سازِ طرب،زندگی کی بات کرو
اَلم کو دل سے بھلاؤ، خوشی کی بات کرو
اندھیرا جاچکا، اب روشنی کی بات کرو
چمن میں پھول کھلاؤ، کلی کی بات کرو

بہار آئی ہے دیکھو بہار آئی ہے

بنا ہے زینتِ دستوٗر جشنِ آزادی
ہے چشمِ شوق کو منظور جشنِ آزادی
ہوا ہوں دیکھ کے مسرور جشنِ آزادی
نظر نواز ہے مخمورؔ جشنِ آزادی

بہار آئی ہے دیکھو بہار آئی ہے
( مخمورؔدہلوی)

                          مشق

سوالات

1.  نظم کے پہلے بند میں شاعر نے کیا منظر پیش کیا ہے؟
2.   ’’نشاط وعیش کا آئینہ دار آہی گیا‘‘ سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
3.   ’’اندھیر اجا چکا، اب روشنی کی بات کرو‘‘ یہاں اندھیرا اور روشنی کن چیزوں کی علامت ہیں؟
4.   نظم کے آخری بند میں شاعر نے جشن آزادی سے متعلق کن خیالات کا اظہار کیاہے؟