نذیر ؔبنارسی
(1996 – 1909)
پورانام نذیرؔ احمد بنارسی اور قلمی نام نذیرؔ بنارسی تھا،بنارس میں پیدا ہوئے،آبائی پیشہ طبابت تھا۔ ان کی تعلیم وتربیت میں ان کے بڑے بھائی حکیم محمدیاسین مسیح کا کلیدی رول رہا۔ جس کا ذکر وہ بار بار کرتے تھے۔ انھوں نے اپنے کلام پر یادگار خاندان مصحفی منشی عبدالرازق بیتاب بنارسی سے اصلاح لی۔ ’کتاب غزل‘ ،’ گنگ وجمن‘ ، ’کوثر وجم جم‘ ان کی مشہور کتابیں ہیں۔
نذیر ؔنے اپنی پوری زندگی بنارس میں گزاردی۔ اس شہر کی مشترکہ تہذیب اور روایتوں سے انھیں گہراجذباتی تعلق تھا۔ ہندومسلم اتحاد کے لیے وہ ہمیشہ سر گرم رہے۔ ان کی شاعری میں قومیت اور مقامی موضوعات کی کارفرمائی ہے۔ہندی اور اردو دونوں حلقوں میں انھیں یکساں مقبولیت حاصل تھی۔
نذیرؔ بنارسی نے عام موضوعات کو سیدھے سادے انداز میں عمدگی کے ساتھ پیش کیا ہے اس لیے ان کے کلام میں سادگی اور تاثیرنمایاں ہے۔
دیش سنگار
آؤ،امواجِ بہاراں کی طرح بَل کھائیں
کبھی کوَثرَ کبھی گنگا کی طرح لہرائیں
مل کے اِس طرح محبت کے ترانے گائیں
جھوم کر مسجدومندر بھی گلے مل جائیں
آڑمذہب کی نہ لے کر کوئی بیدادکرے
بندگی یوں کریں ہم سب کہ خدایادکرے
دیش کا حسن زمانے کو دکھانا ہے ابھی
چاندتاروں کو بھی حیران بنانا ہے ابھی
مانگ چوٹی سے ہمالہ کی سجانا ہے ابھی
شمَع’ کیلاش کے پربت پہ جلانا ہے ابھی
شمع وہ شمع کہ ہر گھرمیں اجالاکردے
ساری دنیا کا اندھیرا تہہ وبالا کردے
ایک دن قسمتِ ہر اہلِ وفا بدلے گی
دل بُجھے جاتے ہیں جس سے وہ ہوا بدلے گی
جس سے شرمندہ وطن ہے وہ ادا بدلے گی
اے نذیرؔ ایک نہ اک روز فضا بدلے گی
سب کے چہر ے پہ ہنسی آئے گی نورآئے گا
آئے گا آئے گا ، وہ دن بھی ضرور آئے گا
(نذیرؔبنارسی)
مشق
سوالات
1. اس نظم کے پہلے بند میں شاعر کیا کہناچاہتا ہے؟
2. دوسرے بند میں شاعر نے کس عزم کا اظہار کیا ہے؟
3. نظم کے تیسرے بندمیں شاعر کن خیالات کا اظہار کررہا ہے؟
4. نظم کا خلاصہ لکھیے: