جاں نثارا خترؔ
(1976 – 1914)
سیّد جاں نثار حسین رضوی نام، اخترؔ تخلّص تھا۔ آبائی وطن قصبہ خیرآباد، ضلع سیتاپور، اتّرپردیش تھا۔ لیکن جاں نثاراخترؔ کی پیدائش گوالیار میں ہوئی۔ ان کے والد مضطرؔ خیرآبادی اور تایا بسملؔ خیرآبادی دونوں شاعرتھے۔ انھوں نے دسویں جماعت تک تعلیم گوالیار کے وکٹوریہ کالجیئٹ ہائی اسکول میں حاصل کی۔ علی گڑھ سے بی اے کیا۔ ممبئی میں اُن کا انتقال ہوا۔
جاں نثار اخترؔ نے نظمیں، غزلیں اور رباعیاں کہی ہیں۔ نظمیں زیادہ لکھی ہیں۔ ان کی نظمیں بہت پُر اثر ہیں۔ وطنی ، قومی اور سیاسی نظموں میں ان کے جذبات اور لہجے کی لطافت نمایاں ہے۔ ’’ سلاسل‘‘، ’’تارگربیاں‘‘ ، ’’نذربُتاں‘‘، ’’جاوداں‘‘ ، ’’گھر آنگن‘‘ ، ’’خاک دل‘‘ اور ’’ پچھلے پہر‘‘ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ انھوں نے فلمی گیت بھی لکھے۔ ان کی نظم ’’اتّحاد‘‘ ایک نمائند ہ نظم ہے۔ جس میں انھوں نے ملک میں اتحاد، اخوّت،یک جہتی اور آپسی بھائی چارے کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔
اتّحاد
یہ دیش کہ ہندو اور مُسلم تہذیبوں کا شیرازہ ہے
صدیوں کی پُرانی بات ہے یہ، پر آج بھی کتنی تازہ ہے
تاریخ ہے اس کی ایک عمل، تحلیلوں کا ترکیبوں کا
سمبندھ وہ دو آدرشوں کا، سنجوگ وہ دو تہذیبوں کا
وہ ایک تڑپ، وہ ایک لگن، کچھ کھونے کی، کچھ پانے کی
وہ ایک طلب، دو روٗحوں کے اک قالب میں ڈھل جانے کی
وہ شمعوں کی لو پیچاں جیسے، اک شعلۂ نو بن جانے کی
دو دھاریں جیسے مدرا کی بھرتی ہوں کسی پیمانے کی
یوں ایک تجلّی جاگ اُٹھی نظروں میں حقیقت والوں کی
جس طرح حدیں مل جاتی ہوں دوسمت سے دو اُجیالوں کی
آوازۂ حق، جب لہرا کر بھکتی کا ترانہ بنتا ہے
یہ ربط بہم، یہ جذب دروٗں خود ایک زمانہ بنتا ہے
چِشتیؔ کا، قطبؔ کا ہر نعرہ یک رنگی میں ڈھل جاتا ہے
ہر دل پہ کبیرؔ اور تلسیؔ کے دوہوں کا فسوں چل جاتا ہے
یہ فکر کی دولت روٗحانی وحدت کی لگن بن جاتی ہے
نانکؔ کا کبت بن جاتی ہے، میراؔ کا بھجن بن جاتی ہے
دِل دِل سے جو ہم آہنگ ہوئے، اطوارملے، انداز ملے
اک اور زباں تعمیر ہوئی، الفاظ سے جب الفاظ ملے
یہ فکر و ادب کی رعنائی، دُنیائے ادب کی جان بنی
یہ میرؔ کا فن، چکبستؔ کی لے، غالبؔ کا امر دیوان بنی
تہذیب کی اس یک جہتی کو اُردو کی شہادت کافی ہے
کچھ اور نشاں بھی ملتے ہیں، تھوڑی سی بصیرت کافی ہے
ٹُھمری کی رسیلی تانوں سے نغموں کی گھٹائیں آتی ہیں
چھڑتا ہے ستار اب بھی جو کہیں، خسرو کی صدائیں آتی ہیں
آپس کی یہ بڑھتی یک جہتی، اک موڑ پہ جب رُک جاتی ہے
انسان کے آگے انساں کی اک بار نظر جُھک جاتی ہے
اے ارضِ وطن! مغموٗم نہ ہو، پھر پیار کے چشمے پھوٹیں گے
یہ نسل ونسب کے پیمانے، یہ پیار کے درپن ٹوٹیں گے
ذہنوں کی گھٹن مٹ جائے گی، انساں کا تفکّر جاگے گا
کل ایک مکمل وحدت کا بے باک تصوّر جاگے گا
تعمیر نئی وحدت ہوگی، مانوتا کی بُنیادوں پر
اے ارضِ وطن! وِشواس توکر اک بار ہمارے وعدوں پر
اس وحدت، اس یک جہتی کی تعمیر کا دن ہم لائیں گے
صدیوں کے سنہرے خوابوں کی تعمیر کا دن ہم لائیں گے
(جاں نثار اخترؔ)
مشق
سوالات
1. اس نظم میں شاعر نے کن دو تہذیبوں کاذکر کیا ہے؟
2. اتحاد سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
3. ’’تہذیب کی اس یک جہتی کو اردو کی شہادت کافی ہے‘‘ اس مصرعے میں شاعر کیا کہنا چاہتا ہے؟
4. نظم کے آخر حصّے میں شاعرنے کیا امید ظاہر کی ہے؟