Skip to content
5188


46

اخترؔالایمان

(1995–1915 )


اخترؔالایمان، نجیب آباد، ضلع بجنور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد کچھ مدّت تک وہ دلّی کالج میں زیرِ تعلیم رہے اور دہلی یونیورسٹی سے بی۔اے کیا۔ شروع میں محکمۂ سول سپلائی میں کام کیا، کچھ مدّت تک آل انڈیا ریڈیو میں رہے، اس کے بعد ممبئی جاکر فلموں سے وابستہ ہوگئے۔ ان کی نظموں کے چھے مجموعے ’گرداب‘، ’تاریک سیّارہ‘، ایک منظوم تمثیل ’سب رنگ‘ ،’آب جو‘ ،’ یادیں‘ ، ’بنتِ لمحات‘  ، ’نیا آہنگ‘ شائع ہوچکے ہیں۔ ان کا کلّیات ’سروساماں‘کے نام سے شائع ہوا۔ ان کی خود نوشت کا نام ’اس آباد خرابے میں‘ ہے۔ان کے چوتھے مجموعے ’یادیں‘ پر انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈدیا گیا۔
اخترؔالایمان کی نظموں میں ایک فلسفیانہ تجسّس کی کیفیت ملتی ہے۔ نظم نگاری میں انھوں نے اپنی راہ الگ بنائی ہے۔ نیکی اور بدی کی کش مکش ، وقت کی اہمیت، خواب اور حقیقت کا تصادم اور انسانی رشتوںکی دھوپ چھاؤں اُن کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔ وہ براہِ راست انداز کے بجائے رمزیہ انداز کے شاعر ہیں۔ ان کے یہاں خود کلامی اور مکالمے کی کیفیت ملتی ہے۔ اخترؔالایمان اردو نظم کے ممتاز شاعر تسلیم کیے جاتے ہیں۔

سرراہ گزارے

شبِ ماہ تو ہے، سحر بھی تو
کہ فغاں بھی تو ہے، اثر بھی تو
یہ تری بہار کے دن سہی
یہ ترے نکھار کے دن سہی
نہ مٹا کسی کو سنبھل سنبھل
سرِراہ یوں نہ بہک کے چل
کہ زمیں پہ رہتے ہیں اور بھی
جنھیں حُسن سے بھی لگاؤ ہے
جنھیں زندگی بھی عزیز ہے

                              (اختر ؔالایمان)

                   مشق

سوالات

1.  اس نظم میں شاعر کس سے مخاطب ہے؟
2.  شاعر نے کیا کیا تشبیہیں استعمال کی ہیں؟
3.  بہار کے دن سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
4.  شاعر سنبھل کے چلنے کی بات کیوں کہہ رہا ہے؟
5.  نظم کے آخر میں شاعر کیا کہنا چاہتا ہے؟