رباعیات
رُباعی
رُباعی میں چار مصرعے ہوتے ہیں۔ اس کا پہلا، دوسرا اور چوتھا مصرع ہم قافیہ ہوتا ہے۔ تیسرا مصرع بھی ہم قافیہ ہوسکتا ہے۔ عام طور پر رُباعی کا چوتھا مصرع سب سے زیادہ زوردار ہوتا۔ قافیوں کی پابندی اور بحر کی پابندی ایسی شرطیں ہیں جن کا پورا ہونا رُباعی کے لیے لازمی ہے۔ رُباعی کے لیے چند بحریں مخصوص ہیں۔
میرببرعلی انیسؔ
(1874 – 1802)
میر انیسؔ فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق میر حسن کے خاندان سے تھا۔ میر انیسؔ کے والد میر مستحسن خلیقؔ اعلیٰ پایہ کے شاعر تھے۔ میر انیسؔ کو شاعری ورثہ میں ملی۔ بچپن ہی سے شاعری کا شوق ہوا۔ شاعری کی ابتدا غزل گوئی سے کی۔ ان کے والد اور اُس وقت کے ماحول نے انھیں مرثیے کی طرف متوجہ کر دیا۔ انیسؔ امجد علی شاہ کے عہدمیں فیض آباد سے لکھنؤ آگئے اور آخر عمر تک یہیں رہے۔ میر انیسؔ جب لکھنؤ آئے اردو مرثیہ اُس وقت تک عروج حاصل کر چکا تھا۔ میر انیسؔ کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے کم عرصے میں ہی مقبولیت حاصل کرلی۔
میرانیسؔ اصل میں مرثیے کے شاعر ہیں۔ ان کے مرثیوں میں ہندوستانی مشترکہ تہذیب کا رنگ نمایاں ہے۔میرانیسؔ نے مرثیہ کے علاوہ رباعیاں بھی کہی ہیں، اردو میں وہ رباعیات کے بھی نمائندہ شاعر ہیں ان کی رباعیوں میں بھی اخلاقی اقدار، فکری گہرائی اور فلسفیانہ رنگ نمایاں ہے۔
رباعی
(I)
دنیا بھی عجب سرائے فانی دیکھی
ہر چیز یہاں کی آنی جانی دیکھی
جو آکے نہ جائے وہ بڑھاپا دیکھا
جو جاکے نہ آئے وہ جوانی دیکھی
(میرببرعلی انیسؔ)
مشق
سوالات
1. اس رباعی کا مرکزی خیا ل کیا ہے؟
2. بڑھا پا اورجوانی میں شاعر نے کیا فرق قائم کیا ہے؟
رباعی
(II)
رتبہ جسے دنیا میں خدا دیتا ہے
وہ دل میں فروتنی کو جا دیتا ہے
کرتے ہیں تہی مغز ثنا آپ اپنی
جو ظرف کہ خالی ہے صدا دیتا ہے
(میرانیسؔ)
مشق
سوالات
1- رباعی کے پہلے شعر میں کیاکہا گیا ہے؟
2- ’جو ظرف کہ خالی ہے صدا دیتا ہے‘ اس کا کیا مطلب ہے؟