Skip to content
5188


50

خواجہ الطاف حسین حالیؔ

(1837-1914)

  حالیؔ پانی پت میں پیدا ہوئے۔ ان کے ادبی ذوق کی تربیت دہلی کی ادبی مجلسوںمیں ہوئی۔ وہ غالبؔ کے شاگرد تھے۔ وہ ایک اچھّے شاعر، ادیب، سوانح نگار اور تنقیدنگار بھی تھے۔ 1857 کے بعد وہ نواب مصطفیٰ خاں شیفتہؔ سے وابستہ ہو گئے۔ شیفتہؔ کی وفات کے بعد 1872 میں لاہور کے گورنمنٹ بک ڈپو، پنجاب میں ملازم ہوئے۔ یہاں انگریزی کتابوں کے اردو تراجم کی اصلاح ان کے سپرد ہوئی۔ چار سال وہاں رہ کر دہلی واپس آگئے اور اینگلو عربک اسکول میں مدرّس ہوگئے۔
سرسید کے رفقا میں حالیؔ اس لحاظ سے ممتاز ہیں کہ انھوں نے سرسید کے مشن کو پورے طور پر اپنا لیا تھا۔ اپنے اسلوب اور طرز نگارش میں بھی انھوں نے سرسید کی پیروی کی۔ سرسید کی طرح ان کی نثر بھی سادہ اور بے تکلف ہے۔ حالیؔ جتنے اچھّے نثر نگار تھے اتنے ہی اچھّے شاعر بھی تھے۔ ان کی غزلیں، نظمیں اوررباعیاں بھی بہت مقبول ہیں۔ حالیؔ نے نیچرل شاعری کے فروغ میں بھی سرگرم رول اداکیا۔ ان کی پہلی نثر ی تصنیف ’مجالس النسا‘ ہے۔نثر نگار کی حیثیت سے حالیؔ کا ایک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ وہ اردو میں سوانح نگاری کے بانی ہیں۔ انھوں نے تین سوانح عمریاں لکھی ہیں۔ ’حیات سعدی‘ ،’یادگارِ غالبؔ‘ اور ’حیاتِ جاوید‘ ۔ حالیؔ کا دوسرا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے ’مقدمۂ شعر و شاعری‘لکھ کر اردو میں باقاعدہ تنقید نگاری کی روایت قائم کی۔ 

رباعی

(I)
ہندونے صنم میں جلوہ پایا تیرا
آتش پہ مُغاں نے راگ گایا تیرا

دہری نے کیا دہرسے تعبیر تجھے
      انکار کسی سے بن نہ آیا تیرا
                                       ( خواجہ الطاف حسین حالیؔ)

               مشق

سوالات

1.  اس رباعی میں کیا بات کہی گئی ہے؟
2.  ’دہری نے کیا دہر سے تعبیر تجھے‘ اس مصرعے کا مطلب بتائیے۔

رباعی

(II)     
ہے جان کے ساتھ کام انساں کے لیے
بنتی نہیں زندگی بے کام کیے

جیتے ہو تو کچھ کیجیے زندوں کی طرح
مردوں کی طرح جیے تو کیا خاک جیے
                                                                ( خواجہ الطاف حسین حالیؔ)

                      مشق

سوالات

1.  شاعر کے خیال میں زندگی کس طرح بنتی ہے؟
2.  شاعر نے اس رباعی میں کیا پیغام دیا ہے؟