Skip to content
5188


51

جوشؔ ملیح آبادی

(1982 – 1898)

 شبیر حسن خاںنام تھا۔ ملیح آباد میں پیدا ہوئے۔  شاعری انھیں ورثے میں ملی۔ تلاش معاش کے سلسلے میں انھوں نے حیدرآباد، دہلی اور ممبئی کا سفر کیا۔ بالآخر دارالترجمہ عثمانیہ حیدرآباد میں ملازم ہوئے۔ دہلی آکر رسالہ ’کلیم‘ جاری کیا۔ آل انڈیا ریڈیو سے بھی منسلک رہے۔ فلمو ں کے لیے گیت اور کہانیاں بھی لکھیں اور پھر سرکاری رسالہ ’آجکل‘ کے مدیر بھی مقرر ہوئے۔ 
 اردو شاعری میں بحیثیت نظم گو ان کا مرتبہ بلند ہے۔ جوشؔ کے کئی مجموعے شائع ہوچکے۔ ان میں ’روح ادب ‘، ’نقش و نگار‘، ’شعلہ و شبنم‘، ’رنگ ورامش ‘، ’سنبل و سلاسل‘وغیرہ اہم ہیں۔
جوشؔ کی ابتدائی نظموں میں فطرت کی عکاسی ملتی ہے۔ ان نظموں پر اقبال اور ٹیگور کا اثر دکھائی دیتا ہے۔ جوشؔ بعد میں رومانی اور پھر سیاسی نظمیں لکھنے لگے۔ اِسی لیے اُنھیں ’شاعرِ فطرت‘، ’شاعرِ شباب‘ اور ’شاعرِ انقلاب‘ کہا جاتا ہے۔
جوش کو زبان و بیان پر بے پناہ قدرت حاصل تھی۔ انھوں نے تشبیہات اور صنائع کا استعمال بھی خوب کیاہے۔ ان کی نظمیں رواں دواں اور پرزور ہیں۔ نثر میں بھی جوش نے کچھ مضامین اور خود نوشت ’یادوں کی بارات‘ لکھی ہے۔
جوشؔ کے کلام میں ان کی رباعیات بھی اہمیت کی حامل ہیں۔

رباعی

(I)
ہر بات پہ منھ تیرااتر تاکیوں ہے؟
جینے کے لیے بنا ہے، مرتا کیوں ہے؟

کونین کے ساتھ کھیل،اے طفلِ حیات!
کونین خود اک کھیل ہے، ڈرتاکیوں ہے؟

(جوش ملیح آبادی)

                       مشق

سوالات

1.  اس رباعی کے پہلے شعرمیں شاعرنے کیا بات کہی ہے۔
2.   کونین کے بارے میں شاعر نے کیا کہا ہے؟

رباعی

(II)

افسوس ہے، اے جی کے گنوانے والو!
ہر سانس میں سو فریب کھانے والو!

غم،موجِ تبسّم سے ترس جاتا ہے
بیدار ہو اے اشک بہانے والو!

(جوشؔملیح آبادی)

                       مشق

سوالات

1.   ’جی کے گنوانے والو‘ سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
2.   دوسرے شعرمیں شاعر نے کیا مشورہ دیا ہے؟