گیت
گیت
گیت ہندی شاعری کی صنف ہے جو اردو میں بھی بہت مقبول ہے۔گیت کی زبان سادہ اور عام فہم ہوتی ہے۔ عام طور پر گیت میں مقامی زندگی کو موضوع بنایا جاتا ہے۔ گیتوں کا تعلق موسموں،فصلوں اور مختلف رسموں سے زیادہ ہے۔شادی بیاہ کے گیت بھی بہت مقبول ہیں۔ زبان اور آہنگ کے اعتبار سے گیت میں دل کے تاروں کو چھو لینے والی کیفیت ہوتی ہے۔ گیت کی فضا رومانی ہوتی ہے۔موسموں کے رنگ،پیارکی ترنگ، زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں‘ الجھنیں اور معاشرے کے مختلف روپ‘ یہ تمام چیزیں مل کر گیت کو بہت دلچسپ بنادیتی ہیں۔
اُردو کے گیت نگاروں میں عظمتؔ اللہ خاں،اخترؔ شیرانی، حفیظؔجالندھری، آرزوؔ لکھنوی، شاد ؔعارفی، میرا جیؔ ، مخدومؔ ،سلامؔ مچھلی شہری ،راجہؔ مہدی علی خاں ، قتیلؔ شفائی،جمیلؔ الدین عالی، ندافاؔضلی اور زبیر رضوی وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
شادؔعارفی
(1964 – 1900)
شادؔ عارفی کا وطن رام پور ،(یوپی) تھا۔ شادؔ عارفی نے شاعری کا جو اسلوب اختیار کیا اس میں تیکھے پن، طنز اور تلخی کے عناصر بہت نمایاں ہیں۔ ان کا اسلوب سادہ اور سپاٹ ہے۔ جس میں بے تکلفی اور طنز پایاجاتا ہے۔ ان کی غزل ایک نئے جمالیاتی احساس کا پتہ دیتی ہے۔ نئی غزل کے اوّلین نشانات جن شاعروں کے یہاں ملتے ہیں، ان میں شاد ؔکا نام بھی شامل ہے۔ زندگی سے ان کا رشتہ ہمیشہ حریفانہ رہا۔ زندگی کی طرح ان کی شاعری میں بھی مزاحمت کا عنصر بہت واضح ہے۔ ان کے مجموعے ’شوخیِ تحریر‘ اور ’سفینہ چاہیے‘ جدید نظم و غزل کے نمائندہ مجموعوں میں شامل ہیں۔
غزل کے علاوہ شادؔعارفی کے گیت بھی اہم ہیں انھوں نے مختلف موضوعات پر گیت کہے ہیں۔
یہ ہماری زبان ہے پیارے
یہ ہماری زبان ہے پیارے
شعرو نغمہ کی جان ہے پیارے
اک بڑی داستان ہے پیارے
لشکروں کی، حکومتوں کی قسم
کاروباری سہولتوں کی قسم
تاجرانہ ضرورتوں کی قسم
تھی یہ آپس کے میل جول کی بات
اس میں شامل ہے دیس دیس کی بات
قیدِ مذہب نہ شرط قوم نہ ذات
اس میں لہجے کی خوشگواری ہے
لفظ و معنی کی پاس داری ہے
سب کی ہمدم ہے سب کی پیاری ہے
دل کو چھُوتے ہیں اس کے میٹھے بول
نہ تنافر کہیں نہ حَشو نہ جھول
اس کی محفل کے سب رتن انمول
رفتہ رفتہ جنم لیا اس نے
ہر سبق بیش و کم لیا اس نے
ریختہ بن کے دم لیا اس نے
تازہ دم ہوکے بربِنائے سکوں
مسٔلے حل کیے، لکھے مضموں
اور اپنا لیے علوم و فنوں
علم و فن پر عبور ہونے سے
ناتمامی کے دُور ہونے سے
برتری کا شعور ہونے سے
اب دھنش کے سمان ہے اُردُو
اب ترنگا نشان ہے اُردو
اب ہماری زبان ہے اُردو
(شادؔعارفی)
مشق
سوالات
1. گیت کے پہلے اور دوسرے بند میں شاعر نے اردو زبان سے متعلق کن باتوں کا ذکر کیا ہے؟
2. لہجے کی خوش گواری اور لفظ و معنی کی پاس داری سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
3. آخری بند میں شاعر نے اردو زبان کے لیے کیا کیا مثالیں پیش کی ہیں؟