Skip to content


Hindustan_ki_maashi_taraqqi

آزادی کے وقت ہندوستانی معیشت

 اس باب کے مطالعہ کے بعد طلباء



  •   1947 میں ، جو کہ ہندوستان کی آزادی کا سال تھا، ہندوستانی معیشت کی حالت سے واقفیت حاصل کر سکیں گے؛
  • ان عوامل کو سمجھ سکیں گے جو ہندوستانی معیشت کی پس ماندگی اور جمود کی وجہ تھے۔
  • ’’ہندوستان ہماری سلطنت کا محور ہے۔ اگر سلطنت اپنی عملداری کاکوئی دیگر حصہ کھو دیتی ہے تب ہم باقی رہ سکتے ہیں لیکن اگر ہم ہندوستان کو کھو دیتے ہیں، تب ہماری سلطنت کا سورج غروب ہو جائے گا۔‘‘ 
    وکٹر الکزنڈر وریوس، 1894ء میں برٹش ہندوستان کا وائیسرائے۔ 

 1.1   تعارف

اس کتاب ’’ہندوستان کی معاشی ترقی‘‘ کا ابتدائی مقصد ہندوستانی معیشت کی بنیادی خصوصیات اور آزادی کے نتیجے میں اس کی موجودہ ترقی کے بارے میں آپ کو واقفیت فراہم کرنا ہے۔ تاہم، ملک کے ماضی کے معاشی حالات کے بارے میں کچھ جاننا اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ اس کی موجودہ حالت اور مستقبل کے امکانات کے بارے میں مطالعہ کرنا۔ لہٰذا ، آئیے پہلے ہم ملک کی آزادی سے قبل ہندوستان کی معیشت کی حالت پر ایک نظر ڈالیں اوران  مختلف زیر غور لائی جانے والی باتوں کے ایک تصور کو تشکیل دیں جن کی بنیاد پر ہندوستان کی آزادی کے بعد کی ترقیاتی حکمت عملی تیار کی گئی۔
ہندوستان کی موجودہ معیشت کی ساخت محض حال میں ہی نہیں تیار ہوئی ہے۔ اس کی جڑیں تاریخ سے وابستہ اور اس سے پیوست ہیں، خاص طور پر اس دَور سے جب ہندوستان برطانوی حکمرانی کے تحت تھا، جو کہ آخرکار 15؍اگست 1947ء کو اپنی آزادی حاصل کرنے سے قبل ہندوستان میں تقریباً دو صدیوں تک جاری رہی۔ ہندوستان میں برطانوی نوآبادیاتی راج کا واحد مقصد عظیم برطانیہ کی اپنی تیزی سے پھیلتی جدید صنعتی بنیاد کے لیے ایک معاون معیشت کی حیثیت سے اس کا استحصال کرنا تھا۔ اس رشتے کی استحصالی نوعیت کو سمجھنا ترقی کی اس قسم اور سطح کی جو کہ ہندوستانی معیشت پچھلی چھ دہائیوں میں حاصل کرنے کی اہل ہوئی ہے،جائزہ لینے کے لیے لازمی ہے۔

1.2  نوآبادیاتی راج کے تحت معاشی ترقی کی پست سطح

برطانوی راج سے پہلے ہندستان میں ایک آزاد معیشت تھی۔ اگرچہ زراعت اکثر لوگوں کا ذریعۂ معاش تھا لیکن پھر بھی ملک کی معیشت کی خصوصیت کا تعین مختلف قسم کی سامان تیار کرنے کی سرگرمیوں سے ہوتا ہے۔ ہندوستان اپنے سوتی اور ریشم کے کپڑے، دھات اور قیمتی پتھروں کے کاموں وغیرہ کے میدان میں دستکاری صنعتوں کے لیے خاص طور پر جانا جاتا تھا۔ ان مصنوعات کی   عالمی بازار میں دھوم تھی کیونکہ یہ مصنوعات ان میں استعمال کیے جانے والے سامان کی عمدہ کوالٹی کی ساکھ اور ہنرمندی کے ان اعلیٰ معیارات پر مبنی تھیں جو کہ ہندوستان سے ہونے والی سبھی درآمدات میں جھلکتی تھی۔( دیکھیے باکس 11۔)

باکس 1.1 :   بنگال میں ٹکسٹائل صنعت

ململ سوتی کپڑے کی ایک قسم ہے جو بنگال ، خاص طور پر ڈھاکہ اور اس کے آس پاس علاقوں میں تیار کی جاتی تھی۔ ڈھاکہ اب بنگلہ دیش کا دارالسلطنت ہے۔ ڈھاکہ کی ململ کو سوتی کپڑے کی ایک نفیس قسم کے طور پر عالمی شہرت حاصل ہوئی۔ کبھی کبھی غیر ملکی سیاح اسے ململ شاہی یا ململ خاص کے طور پر بیان کرتے تھے جس کا مطلب تھا کہ شاہی خاندان کے لوگ اسے پہنا کرتے تھے یا ان کے لیے یہ موزوں تھا۔

ہندوستان میں نوآبادیاتی حکومت کے ذریعہ اختیار کی گئی معاشی پالیسیاں ہندوستانی معیشت کی ترقی کی بہ نسبت ان کے اپنے ملک کے معاشی مفاد کے تحفظ اور فروغ سے وابستہ تھیں۔ اس طرح کی پالیسیوں کے سبب ہندوستانی معیشت میں بنیادی تبدیلی پیدا ہوگئی اور اس سے ملک محض خام مال کا خالص فراہم کاراور برطانیہ میں تیار کی گئی، صنعتی اشیاء کا صارف بن گیا۔ ظاہر ہے نوآبادیاتی حکومت نے ہندوستان کی قومی اور فی کس آمدنی کا تخمینہ لگانے کی کوئی مخلصانہ کوشش نہیں کی۔ ایسی آمدنیوں کے تخمینے کے لیے کچھ انفرادی کوششیں کی گئیں تھیں جن سے متضاد اور بے ربط نتائج سامنے آئے۔ کچھ ممتازتخمینہ کار تھے۔ جیسے دادا بھائی نورجی، ولیم ڈگبی، فنڈے شیراسی، وی۔کے۔ آ۔ وی۔ راؤ اور آر۔سی۔ ڈیسائی۔ یہ راؤ ہی تھے جنہوں نے قومی اور فی کس آمدنیوں کے تخمینے نوآبادیاتی دَور میں تیار کیے تھے اور جنہیں نہایت اہم سمجھا گیا۔ تاہم اکثر مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ بیسویں صدی کے پہلے نصف میں ملک کی مجموعی حقیقی پیداوار کااوسط دو فیصد سے کم تھا جبکہ فی کس پیداوار آدھا فیصد سالانہ تھی۔

باکس 1.2 :   برطانوی حکمرانی سے قبل ہندوستان میں زراعت

فرانسیسی سیاح برنیر سترہویں صدی کے بنگال کے بارے میں اس طرح بیان کرتا ہے: ’’اپنے  دو  دوروں کے دوران بنگال کے بارے میں جو معلومات میں نے حاصل کیں ان سے میں یہ یقین کرنے پر مائل ہوں کہ یہ مصر سے امیر ترین ہے۔ یہ سوتی اور ریشمی کپڑے، چاول، چینی اور مکھن کثرت سے برآمد کرتا ہے۔یہ خود اپنے صرف کے لیے گیہوں، سبزیاں، اناج، مرغ، مرغابی اور بطخ خاطر خواہ پیدا کرتا ہے۔ یہاں سوروں اور بھیڑ اور بکریوں کے زبردست ریوڑ اور چراگاہیں پائی جاتی ہیں۔ یہاں مچھلیوں کی بکثرت اقسام موجود ہیں۔ راج محل سے لے کر سمندر تک بے انتہا نہریں ہیں جو جہاز رانی اور آب پاشی کے لیے شدید محنت کے ذریعہ عہد قدیم میں گنگا سے کاٹ کر بنائی گئی ہیں۔‘‘ 
PIC_1
شکل 1.1    برطانوی نوآبادیاتی راج کے تحت، ہندوستان کا زراعتی جمود۔

  •        سترہویں صدی میں ہمارے ملک میں زراعتی خوشحالی پرغور کیجیے۔ تقربیاً 200سال کے بعد جب برطانوی لوگوں نے ہندوستان چھوڑا اس وقت زراعتی جمود کے ساتھ اس کا تقابل کیجیے۔

1.3   زراعتی سیکٹر

برطانوی نوآبادیاتی راج میں ہندستان کی معیشت بنیادی طور پر زراعتی یا دیہی تھی ملک کی تقریباً 85 فیصد آبادی زیادہ ترزو دیہاتوں میں رہا کرتی تھی اور اس کا ذریعہ معاش بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر زراعت تھی۔(باکس 2۔1۔) تاہم، اتنی بڑی آبادی کا پیشہ ہونے کے باوجود زراعتی سیکٹر جمود کا شکار رہا اور اس میں اکثر وبیشتر تنزلی جاری رہی۔ فی کس زراعتی پیداوار، پست سے پست تر ہو تی گئی اگرچہ اس سیکٹر میں حقیقی معنی میں کاشت کے تحت مجموعی رقبے میں اضافے کے سبب کچھ نمو یا افزائش کا بھی مشاہدہ کیا گیا۔ زراعتی سیکٹر میں اس جمود کی وجہ بالخصوص اراضی بندوبست کے مختلف نظاموں  کے سبب پیدا ہوئی جو کہ نوآبادیاتی حکومت کے ذریعہ شروع کیے گئے تھے۔ خاص طور پرزمینداری نظام جو کہ اُس وقت کے بنگال کی پریزیڈنسی میں جو آج کے ہندوستان کی مشرقی ریاستوں کے کچھ حصوں پر مشتمل تھا، نافذ کیا گیا تھا، زراعتی سیکٹر سے کمایا جانے والا منافع کاشتکاروں کی بجائے زمینداروں کو جاتا تھا۔ تاہم صرف نوآبادیاتی حکومت ہی نے نہیں بلکہ زمینداروں کی خاصی تعداد نے بھی زراعت کی صورتحال میں بہتری پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ زمینداروں کی خاص دلچسپی کسانوں کے معاشی حالات کا لحاظ کیے بغیر صرف اپنے مفاد میں  لگان وصول کرنا تھا۔ اس سے کسانوں میں شدید خستہ حالی اور سماجی تناؤ  پیدا ہوا۔ زمینداروں کے اس طرح کے رویے اپنائے جانے کی بنیادی وجہ کافی بڑی حد تک محاصل بندوبست (Revenue Settlement) تھی، جس کے تحت محاصل کی مخصوص رقم جمع کرنے کے لیے تاریخیں مقرر ہوتی تھیں، جس میں ناکام ہونے کی صورت میں زمیندار اپنے حقوق سے محروم ہو جاتے تھے، اس کے علاوہ غیر معیاری ٹکنالوجی، آبپاشی کی سہولتوں کی کمی اور کیمیائی کھادکے برائے نام استعمال نے بھی مجموعی طور پر کسانوں کی حالت زار میں اضافہ کیا اور زرعی پیداواریت کی کمزور سطح کو مزید کمزور بنایا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ زراعت کو تجارتی بنانے کے سبب ملک کے بعض حصوں میں نسبتاً نقدی فصلوں کی زیادہ پیداواربھی ہوئی تھی لیکن نقدی فصلوں کو پیدا کرنے کے بدلے میں ان کے معاشی حالات کو بہتر بنانے میں بھی کسانوں کو شاید ہی مدد مل سکی ہو، اب نقدی فصلیں جو وہ پیدا کر رہے تھے وہ آخرکار برطانوی صنعتوں کے ذریعہ ان کے اپنے ملک میں استعمال کے لیے ہوتی تھیں۔ آبپاشی میں کچھ ترقی کے باوجود ہندوستانی زراعت میں کیاری بنانے سیلاب کی روک تھام، پانی کی نکاسی اور مٹی سے نمک ختم کرنے جیسے معاملات میں سرمایہ کاری کا فقدان تھا۔ اگرچہ کسانوں کے ایک چھوٹے سے طبقے نے اپنے فصل اگانے کے طریقوں میں تبدیلی کی تھی اور خوردنی اشیا کی فصل کی بجائے تجارتی فصلیں بونی شروع کی تھیں لیکن کرائے پر کھیتی کرنے والوں، چھوٹے کسانوں اور بٹائی داروں کے ایک بڑے طبقے کے پاس نہ تو وسائل تھے اور نہ ہی زراعت میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے کوئی مراعات ملتی تھیں۔

PIC_2 انہیں حل کریں

  •   آزاد ہندوستان کے ساتھ برطانوی ہندوستان کے نقشے کا موازنہ کیجیے اور ان علاقوں کو دریافت کیجئے جو پاکستان کے حصے بن گئے۔ معاشی نقطہ نگاہ سے وہ علاقے اتنے اہم کیوں تھے؟ (اپنے استفادہ کے لیے ڈاکٹر راجندر پرساد کی کتاب "India Divided" دیکھیں)
  • ہندوستان برطانیہ کے ذریعہ اختیار کی گئی محاصل بندوبست کی مختلف شکلیں کیا تھیں؟ اُنہوں نے اسے کہاں نافذ کیا اور اس کا کیا اثر رہا؟ آپ کے خیال میں ہندوستان میں موجودہ زراعتی منظرنامے سے یہ بندوبست کس حد تک متعلق ہیں؟ (ان سوالوں کے جواب پانے کی کوشش کریں اور اس سلسلے میں رمیش چندر دت کی "Economic History of India"  جو کہ دو جلدوں میں آتی ہے اور بی۔ایچ بادین پاول کی (یہ کتاب بھی دو جلدوں میں ہے) سے رجوع کر سکتے ہیں۔ موضوع کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے آپ برطانوی ہندوستان کا توضیحی زرعی نقشہ یا توہاتھ سے یا اپنے اسکولی کمپیوٹر کی مدد سے تیار کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ بلاشبہ موضوع کو فوری طور پر سمجھنے کے لیے توضیحی نقشے کے مقابلے کچھ بھی بہتر مددگار نہیں ہوتا۔)

1.4   صنعتی سیکٹر یا صنعتی شعبہ

زراعت کے سیکٹر جیسا معاملہ سامان تیار کرنے والے سیکٹر کا بھی ہے۔ نوآبادیاتی راج کے تحت ہندوستان بہتر صنعتی بنیادکو فروغ نہیں دے سکا۔ حتیٰ کہ ملک کی عالمی شہرت یافتہ دستکاری صنعتیں زوال پذیر ہوئیں۔ اس لحاظ سے کوئی جدید صنعتی بنیاد بھی کوئی ایسا نمایاں مقام نہیں حاصل کر سکی جیسا کہ ایک لمبے عرصے تک دستکاری صنعتوں کو حاصل تھا۔ ہندوستان کو منظم طور پر صنعتی اعتبار سے ترقی نہ کرنے دینے کی اس پالیسی کے پیچھے نو آبادیاتی حکومت کا دوہرا مقصد تھا۔ پہلایہ کہ برطانیہ میں بڑھتی ہوئی جدید صنعتوں کے لیے ہندوستان کو ضروری خام مواد کے محض برآمد کنندہ ملک کی حیثیت تک محدود کیا جائے اور دوسرے ان صنعتوںکی تیار اشیاء کے لئے ہندوستان کو ایک وسیع بازار کی شکل میں بدلا جائے تاکہ ان کا مسلسل ہونے والا پھیلاؤ  ان کے اپنے ملک برطانیہ کے زیادہ سے زیادہ مفاد کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس طرح کے معاشی منظر نامے میں دیسی دستکاری صنعتوں کے زوال کے سبب ہندوستان میں نہ صرف یہ کہ بڑے پیمانے پر بے روزگاری پیدا ہوئی بلکہ ہندوستانی صارف بازار میں نئی مانگ بھی پیدا ہوئی جو کہ مقامی طور پر بنی ہوئی اشیاء کی فراہمی سے محروم ہو چکا تھا۔ اس مانگ کو برطانیہ سے سستی تیار اشیا کی درآمدات بڑھاکر منافع بخش طور پر پورا کیا گیا۔
انیسویں صدی کے دوسرے نصف کے دوران جدید صنعت کی بنیاد جڑ تو پکڑنے لگی لیکن اس کی پیش رفت بہت دھیمی تھی۔ ابتدائی طور پر پٹ سن اور سوتی کپڑا بنانے والی ملوں کے قائم کرنے تک ہی اس کی ترقی محدود رہی۔ سوتی کپڑے کی ملوں پر باالخصوص ہندوستانیوں کا غلبہ تھا اور یہ ملک کے مغربی حصوں یعنی مہاراشٹر اور گجرات  میں  واقع تھیں، جبکہ جوٹ ملوں  پر غیر ملکیوں کا غلبہ تھا جو کہ خاص طور پر بنگال میں مرتکز تھیں۔ اس کے بعد بیسویں صدی کی ابتداء میں لوہے اور فولاد کی صنعتوں کی آمد شرع ہوئی۔ ٹاٹا آئرن اینڈ اسٹیل کمپنی(TISCO) 1907ء میں قائم ہوئی تھی۔ شکر، سیمنٹ، کاغذ وغیرہ کی بعض دیگر صنعتیں دوسری جنگ عظیم کے بعدلگائی گئیں۔

انہیں حل کریں

  •          ایک فہرست تیار کریں جس میں یہ دکھائیں کہ ہندوستان کی دیگر جدید صنعتیں سب سے پہلے کہاں اور کب قائم ہوئیں۔ کیا آپ یہ بھی معلوم کرسکتے ہیں کہ کسی جدید صنعت کو قائم کرنے کے لیے بنیادی ضرورتیں کیا ہیں؟ مثال کے لیے جمشید پور جو کہ اب جھارکھنڈ ریاست میں ہے وہاں ٹاٹا آئرن اور اسٹیل کمپنی قائم کرنے کے کیا اسباب ہوں گے؟
  •    اس وقت ہندوستان میں لوہے اور فولاد کی کتنی فیکٹریاں ہیں؟ کیا یہ لوہے و فولاد کی فیکٹریاں دنیا کی سب سے اچھی فیکٹریوں میں ہیں یا آپ سوچتے ہیں  کہ ان فیکٹریوں کی نئے سرے سے تشکیل اور مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے؟ اگر ہاں، تب اسے کیسے انجام دیا جا سکتا ہے؟ ایک دلیل یہ ہے کہ وہ صنعتیں جو نوعیت کے اعتبار سے کلیدی نہیں ہیں، انہیں پبلک سیکٹر میں جاری نہیں رکھنا چاہئے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
  •       ہندوستان کے نقشے پر ان سوتی ٹکسٹائل، جوٹ کی ملوں اور ٹکسٹائل ملوں کی نشاندہی کیجئے جو آزادی کے وقت موجود تھیں۔

تاہم، شاید ہی کوئی مشین سازی کی صنعت (Capital Goods Industry)  رہی ہو جو ہندوستان میں مزید صنعت کاری کو فروغ دینے میں مدد دے سکے۔ مشین سازی کی صنعت وہ ہوتی ہے جس میں دیگر مصنوعات تیارکرنے کے لیے درکار مشین اور دیگر آلات تیار کیے جاتے ہیں۔ یہاں وہاں کچھ مصنوعاتی اکائیاں قائم کرنے سے ملک کی روایتی دستکاری صنعتوں کے تقریباً خاتمے کا متبادل حاصل نہیں ہو سکتا۔ مزید برآں، نئے صنعتی سیکٹر کی شرح نمو اور مجموعی گھریلو پیداوار  (GDP) میں اس کا تعاون اب بھی بہت کم تھا۔ نئے، صنعتی سیکٹر کی ایک اور خامی پبلک سیکٹر کے دائرہ عمل کا نہایت محدود تھا۔ یہ سیکٹر صرف ریلوے، بجلی پیدا کرنے، مواسلات، بندرگاہ اور دیگر محکمہ جاتی ذمہ داریوں تک محدود تھا۔

1.5   بیرونی تجارت

قدیم زمانے سے ہی ہندوستان ایک اہم تجارتی ملک رہا ہے۔ لیکن نوآبادیاتی حکومت کے ذریعہ اپنائی جانے والی اشیا کی پیداوار ، تجارت اور محصول سے متعلق بندشی پالیسیوں کے سبب ہندوستان کی غیر ملکی تجارت کے ڈھانچے، ترکیب اور حجم پر بہت خراب اثر پڑا۔ نتیجتاً ہندوستان خام مال جیسے کچا ریشم، سوتی، اون، شکر، نیل، جوٹ وغیرہ کا برآمد کنندہ (فروخت کے لیے ملک سے باہر بھیجنے والا) اور تیار شدہ اشیا جیسے سوت، ریشم اور اونی کپڑوں اورکیپٹل گڈس جیسے ہلکی مشینری جو کہ برطانیہ کی فیکٹریوں میں بنائی جاتی تھیں، کا درآمد کنندہ بن گیا۔ سبھی عملی مقاصد کے لیے برطانیہ نے ہندوستان کی برآمدات اور درآمدات پر اجارہ دارانہ کنٹرول برقرار رکھا۔ نتیجے کے طور پر ہندوستان کی غیر ملکی تجارت کا نصف سے زیادہ برطانیہ تک محدود تھا جبکہ باقی میں کچھ دیگر ممالک جیسے چین، سیلون (سری لنکا)، فارس (ایران) ہی شامل ہو سکے۔سویز نہرکے کھلنے سے ہندوستان کی غیر ملکی تجارت پر برطانوی کنٹرول اور بھی زیادہ مستحکم ہو گیا۔ (باکس 1.3 دیکھیں)

انہیں حل کریں

  •        ان اشیا کی فہرست تیار کریں جو کہ برٹش راج میں ہندوستان سے برآمد اور یہاں  درآمد کی جاتی تھیں۔
  •       ہندوستان کی برآمدات اور در آمدات کی مختلف  اشیا پر وزارات مالیات، حکومت ہند کے ذریعہ شائع کیے گئے مختلف رسالوں کے معاشی سروے سے معلومات جمع کیجئے۔ ان درآمدات اور برآمدات سے قبل آزادی کے دَور کی درآمدات اور برآمدات کا موازنہ کیجئے ان اہم بندرگاہوں کے نام بھی معلوم کیجئے جن کے ذریعہ ہندوستان کی غیر ملکی تجارت کا کافی بڑا حصہ انجام دیا جاتا ہے۔

باکس 1.3 :  سوئیز نہر کے ذریعہ تجارت

سوئیزنہر شمال مشرقی مصر میں خاکنائے سوئز کے پار شمال سے جنوب تک بہنے والا ایک مصنوعی آبی راستہ ہے۔ یہ خلیج سوئیز، (بحر احمر کی ایک شاخ) کے ساتھ بحیرہ روم پر پورٹ سعید کو جوڑتا ہے۔ یہ نہر یوروپی یا امریکی بندرگاہوں اور جنوبی اشیاء مشرقی افریقہ اور بحرالکاحل اور قریبی سمندروں کے جزیروں (Oceanis) میں واقع بندرگاہوں کے درمیان چلنے والے جہازوں کا سیدھا تجارتی راستہ فراہم کرتی ہے جس سے افریقہ پار کرکے جہازرانی یا سمندری سفر کی ضرورت ختم ہو گئی۔کلیدی اور معاشی طور پر یہ دنیا میں ایک نہایت اہم آبی راستہ ہے۔ 1869 میں اس کے کھلنے سے بار برداری کی لاگت میں کمی آ گئی اور ہندوستانی بازار تک پہنچنا زیادہ آسان ہو گیا۔
PIC_3
(Not to scale)
UNITED KINGDOM
PORT Said
suez canal
india
Maditerranean sea
Red sed
AFRICA
ATLANTIC OCEAN
Arabian sea
INDIAN oCEANsss
ِشکل. 1.2  سوئیز نہر اس کا استعمال ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان شاہراہ کے طور پر کیا جاتاتھا۔


پورے نوآبادیاتی دَور میں ہندوستان کی غیر ملکی تجارت کی سب سے اہم خصوصیت برآمداتی اشیا کی بہت زیادہ اضافی پیداوار تھی۔ لیکن یہ فاضل اشیا ملک کی معیشت کے لیے کافی مہنگی ثابت ہوئیں۔ متعدد ضروری اشیاء اناج، کپڑے، مٹی کے تیل وغیرہ کی گھریلو بازار میں شدید قلت نمایاں طور پر سامنے آگئی ۔ مزید یہ کہ ان فاضل برآمداتی اشیا کا ہندوستان میں سونے یا چاندی کی آمد کی صورت میں کوئی نتیجہ نہیں ظاہر ہوا بلکہ کسی قدر اس کا استعمال برطانیہ میں نوآبادیاتی حکومت کے قائم کیے ہوئے دفترکے اخراجات کی ادائیگوں  کے لیے کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ برطانوی حکومت کے ذریعہ لڑی جانے والی جنگوں  پر ہونے والے اخراجات اور غیرمرئی یعنی نظر نہ آنے والے سامان کی درآمد وغیرہ کے سبب ہندوستان کی دولت کی نکاسی ہوتی رہی۔

1.6  آبادیاتی حالت

برطانوی ہندوستان کی آبادی کے بارے میں مختلف تفصیلات سے پہلے 1881ء میں مردم شماری کے ذریعہ جمع کی گئی تھیں۔ اگرچہ اس کی بعض حدود تھیں تاہم اس سے ہندوستان کی افزائش آبادی کے بارے میں غیر یکسانیت کا پتہ چلا۔ اس کے بعد ہر دس سال یہ اسی طرح کی مردم شماری کا کام انجام دیا جانے لگا۔ 1921ء سے قبل ہندوستان آبادیاتی عبور کے پہلے مرحلے میں تھا۔ عبور کا دوسرا مرحلہ 1921ء کے بعد شروع ہوا۔ تاہم اس مرحلے پر نہ تو ہندوستان کی کل آبادی اور نہ ہی افزائش آبادی کی شرح بہت زیادہ تھی۔
 سماجی ترقی پرمختلف اشار یے  (indicators) بھی کافی حوصلہ افزا نہیں تھے۔ مجموعی سطح خواندگی 16؍فیصد سے بھی کم تھی۔ اس میں خواتین کی شرح خواندگی نہایت معمولی تقریباً سات فیصد تھی۔ عوامی صحت سے متعلق سہولیات یا تو آبادی کے بہت بڑے حصے کے لیے دستیاب نہیں تھیں یا اگر دستیاب بھی تھیں تو وہ انتہائی ناکافی تھیں۔ نتیجتاً پانی اورہوا کے ذریعے پھیلنے والی بیماریاں زوروں پر تھیں اور بہت بڑے پیمانے پر ہلاکت خیزی کا سبب بنیں۔یہ تعجب کی بات نہیں کہ مجموعی شرح اموات بہت زیادہ تھی اور اس میں بھی بچوں کی شرح اموات خبردار کرنے والی تھی—یعنی اس وقت بچوں کی فی ہزار شرح اموات 218 جبکہ آج یہ 40 فی ہزار ہے۔ متوقع عمر 44 برس تھی جبکہ موجودہ اوسط متوقع عمر68 برس ہے۔ بھروسے مند اعداد وشمار نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت غریبی کا تعین مشکل ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ نوآبادیاتی دور میں ہندوستان میں بہت زیادہ غریبی تھی جس سے اس وقت ہندوستانی آبادی کو صورتحال ابتر ہوئی۔

PIC_4
شکل 1.3  غربت، ناقص تغذیہ، صحت سے متعلق سہولتوں کا فقدان بھی آبادی کی افزائش کی دھیمی رفتار کا سبب بنا۔

1.7    پیشہ وارانہ ڈھانچہ

نوآبادیاتی دَور میں ہندوستان کے پیشہ وارانہ ڈھانچے یعنی مختلف صنعتوں اور سیکڑوں میں کام کرنے والے افراد کی تقسیم میں تبدیلی کی کوئی خاص علامت نہیں دکھائی دیتی۔ زراعتی سیکٹر کے لیے افرادی قوت کا حصہ کافی بڑا تھا، جو کہ عام طور پر 70 تا 75 فیصد پر برقرار رہا، جبکہ سامان تیار کرنے اور خدمات کے سیکٹروں کا حصہ علی الترتیب صرف 10 اور 15 تا 20 فیصد تھا، دیگر لائق ذکر پہلو بڑھتا ہوا علاقائی تنوع تھا۔ تب کی مدراس پریزیڈنسی (موجودہ ریاستوں تمل ناڈو، آندھرا پردیش، کیرل اور کرناٹک کے علاقوں پر مشتمل) کے علاقے، مہاراشٹر اور مغربی بنگال میں زراعتی سیکٹر پر انحصار میں زوال اور سامان تیار کرنے (مینوفیکچرنگ) اور خدماتی سیکٹروں میں اس کے تناسب میں اضافہ دیکھا گیا۔ تاہم اُڑیسہ، راجستھان او رپنجاب جیسی ریاستوں میں اسی زمانے میں زراعت میں ورک فورس کے حصے میں اضافہ ہوا تھا۔

PIC_2انہیں حل کریں

  •    کیا آپ آزادی سے پہلے ہندوستان میں اکثر واقع ہونے والی قحط سالی کے اسباب دریافت کر سکتے ہیں؟آپ نوبل انعام یافتہ امرتیہ سین کی کتاب غربت اور قحط سالی (Poverty and Famines)  کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔
  •    آزادی کے وقت ہندوستان میں پیشہ وارانہ کے ڈھانچے کا ایک چھوٹا چارٹ تیار کریں۔

1.8    بنیادی ڈھانچہ  

نوآبادیاتی راج کے تحت بنیادی ڈھانچے جیسے ریلوے، بندرگاہیں، آبی ٹرانسپورٹ، ڈاک اور ٹیلی گراف میں ترقی ہوئی، تاہم اس ترقی کے پس پردہ مقصد لوگوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنا نہیں تھا بلکہ مختلف نوآبادیاتی مفادات کا ذریعہ بنانا تھا۔ برطانوی حکومت کے قیام سے پہلے ہندوستان میں جو سڑکیں تعمیر ہوئی تھیں وہ جدید ٹرانسپورٹ کے لیے موزوں نہیں تھیں۔ لیکن نوآبادیاتی انتظامیہ بھی فنڈ میں قلت کے سبب اس میدان میں زیادہ کچھ نہ کر سکی۔ جو سڑکیں تعمیر کی گئیں  وہ بنیادی طور پر ہندوستان کے اندر فوج کی نقل و حرکت اور دیہی علاقوں سے قریب ترین ریلوے اسٹیشن یا بندرگاہ تک خام مال کو پہنچانے کے مقاصد کی تعمیل کرتی تھیں۔ یہ خام مال ریلوے اسٹیشن یا بندرگاہ سے دور دراز انگلینڈ اور دیگر مالی فائدہ پہنچانے والے غیر ملکی مقامات پر بھیجے جاتے تھے۔ بارش کے موسم میں دیہی علاقوں تک پہنچنے کے لیے ہمیشہ سبھی موسموں کے لیے موزوں سڑک کی بھاری کمی بنی رہتی تھی، ظاہر ہے، اس لیے ان علاقوں میں رہنے والے اکثر لوگ قدرتی آفات اور قحط سالی کے زمانے میں انتہائی تکلیف دہ حالات سے گزرتے تھے۔
برطانیہ نے 1850 میں ہندوستان میں ریلوے کی شروعات کی جسے ان کی ایک نہایت اہم دین سمجھا جاتا تھا۔ ریلوے ہندوستانی معیشت کے ڈھانچے پر دو اہم طرح سے اثر انداز ہوئی۔ ایک طرف اس نے لوگوں کو  طویل دوری کے سفر کے قابل بنایاجس سبب جغرافیائی اور ثقافتی رکاوٹیں ختم ہوئیں اور دوسری طرف اس سے ہندوستانی زراعت کی تجارت کاری پروان چڑھی جس کا ہندوستانی دیہی معیشتوں کی خود کفالت پرخراب اثر پڑا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہندوستان کی برآمداتی تجارت میں وسعت پیدا ہوئی لیکن اس کے فائدے شاید ہی ہندوستان کے عوام کو مل پائے ہوں۔ سماجی فائدے جو کہ ہندوستان کے لوگوں نے ریلوے کے شروع ہونے سے حاصل کیے وہ ملک کے بھاری معاشی نقصان کے مقابلے بہت کم تھے۔
PIC_5
 شکل. 1.4     بمبئی اورتھانے کو ملانے والا پہلا ریلوے پُل ، 1954


سڑکوں اور ریلوے کی ترقی کے ساتھ ساتھ نوآبادیاتی نظام نے داخلی تجارت اور سمندری راستوںکی ترقی کے لیے بھی اقدامات کیے۔ تاہم، یہ اقدامات بہت زیادہ اطمینان بخش نہیں تھے۔ کبھی کبھی داخلی آبی راستے بھی غیر منفعت بخش ثابت ہوئے جیسا کہ اُڑیسہ ساحل پر ساحلی نہر کے معاملے میں ہوا۔ اگرچہ نہر سرکاری خزانے سے بھاری لاگت سے تعمیر ہوئی تھی پھر بھی یہ ریلوے کے ساتھ مسابقت میں ناکام رہی۔ جو کہ جلد ہی خطے سے نہر کے متوازی گزرنے لگی اور آخرکار اسے چھوڑ دیا گیا۔ ہندوستان میں برقی ٹیلی گراف کا مہنگا نظام شروع ہوا جو اسی طرح نظم و ضبط کو قائم رکھنے کے مقاصد کی تعمیل کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ دوسری طرف ڈاک خدمات ایک مفید عوامی مقصد کی تعمیل کے باوجود پوری طرح ناکافی تھی۔ آپ باب 8 میں مختلف بنیادی ڈھانچوں کی موجودہ حیثیت کے بارے میں مزید پڑھیں گے۔

PIC_6

شکل 1.5  ٹاٹا اینڈ سنز کی ایک شاخ ٹاٹا ائیرلائن 1932ء میں قائم کی گئی تھی، جس سے ہندوستان میں ہوابازی سیکٹر (aviation sectors)  کا افتتاح ہوا۔

انہیں حل کریں

  •            ایسا اب بھی سمجھا جاتا ہے کہ ہندوستان میں برطانوی انتظامیہ کئی طرح سے کافی فائدہ مند تھا۔ اس خیال کے لیے پُرمعلومات مباحثے کی ضرورت ہے۔ آپ کس طرح اس خیال یا رائے کو دیکھیں  گے ؟ اپنی کلاس میں اس بارے میں دلیل دیں  کہ کیابرٹش راج ہندوستان کے لیے اچھا تھا؟

1.9    اختتام


 ہندوستان نے جب آزادی حاصل کی، اس وقت دو صدی طویل برطانوی نوآبادیاتی راج ہندوستانی معیشت کے ہر پہلو پر پہلے ہی اپنا اثر دکھا رہاتھا۔ زراعتی سیکٹر پہلے ہی سے فاضل مزدور وں  کے بوجھ تلے دبا تھا اور ساتھ ہی ساتھ پیداواریت نہایت کم تھی۔ صنعتی سیکٹر کو جدید کاری، تنوع، استعداد اور عوامی سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت تھی۔ برطانیہ میں صنعتی انقلاب کو فائدہ پہنچانے کے لیے غیر ملکی تجارت شروع کی گئی تھی۔ بنیادی ڈھانچے سے متعلق سہولیات بشمول شہرۂ آفاق ریلوے نٹ ورک کا درجہ بڑھانے، توسیع اور عوامی واقفیت کی ضرورت تھی۔ہر طرف پھیلی غریبی اور بے روزگاری کا تقاضہ تھا کہ عوامی فلاحی معاشی پالیسی کی شروعات کی جاتی۔ مختصراً ملک کے سامنے بہت زبردست سماجی اور معاشی چیلنج تھا۔

PIC_9خلاصہ

       آزادی سے قبل کی معیشت کی فہم آزادی کے بعد کے دَور میں حاصل کی گئی ترقی کی سطح کو جاننے اوربخوبی سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔
  •        نوآبادیاتی سیاسی نظام کے تحت، حکومت کی معاشی پالیسیاں نوآبادیاتی ملک اور اس کے لوگوں کی معاشی حالت کوبہتر بنانے کی ضرورت کے مقابلے برطانیہ کے اقتصادی مفادات کے تحفظ اور افزائش سے زیادہ متعلق تھیں۔
  •        اس حقیقت کے باوجود کہ ہندوستانی آبادی کا سب سے بڑا طبقہ اپنے گزارے کے لیے زراعتی سیکٹر پر منحصر تھا، زراعتی سیکٹر جمود اور بڑھتی ہوئی ابتری کا شکار تھا۔
  •      ہندوستان کی برطانوی حکومت نے ایسی منظم پالیسیاں اختیار کیں جن سے ہندوستان کی شہرۂ آفاق دستکاری صنعتیں چرمرا گئیں اور کسی قابل لحاظ انداز میں ان کی جگہ جدید صنعتی بنیاد قائم بھی نہ ہوسکی۔
  •        عوامی صحت سے متعلق موزوں سہولیات کی کمی، باربار واقع ہونے والی قدرتی آفات اور قحط سالی کے سبب بدقسمت ہندوستانی عوام مفلس ہو گئے اور نتیجتاً اموات کی شرح بھی کافی بڑھ گئی۔
  •       نوآبادیاتی راج کی جانب سے بنیادی ڈھانچے سے متعلق سہولیات کو بہتر بنانے کی کچھ کوششیں کی گئیں تھیں لیکن یہ کوششیں اُنہوں نے اپنے خودغرضانہ مقاصد کو پورا کرنے کے لیے کیں، البتہ   طویل مدتی طور پر آزاد ہندوستانی حکومت کو اسی بنیاد پر ملک کے معاشی اور سماجی ترقی کے منصوبے مرتب کرنے پڑے۔

PIC_8مشقیں


 1.       ہندوستا ن میں نوآبادیاتی حکومت کی معاشی پالیسیاں کس پر مرکوز تھیں؟ ان پالیسیوں کے کیا اثرات مرتب ہوئے؟
 2 .      کچھ ممتاز ماہرین معاشیات کے نام بتائیے جنہوں نے نوآبادیاتی دَور میں ہندوستان کی فی کس آمدنی کا تخمینہ لگایا۔
3 .       نوآبادیاتی دَورمیں ہندوستان کے زراعتی جمود کے کیا اہم اسباب تھے؟
4 .       کچھ جدید صنعتوں کے نام بتائیے جو آزادی کے وقت ہمارے ملک میں عملاً موجود تھیں۔
5.      آزادی سے پہلے کے دور میں ہندوستان میں برطانیہ منظم طور پر رد- صنعت کاری کے پیچھے برطانیہ کادوہرا مقصد کیا تھا؟
6.      برطانوی راج کے تحت روایتی دستکاری صنعتیں برباد ہوئیں۔ کیا آپ اس خیال سے متفق ہیں؟ اپنے جواب کی تائید میں اسباب بتائیے۔
7. ہندوستان میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی پالیسیوں کے دریعہ برطانیہ کاکیا مقاصد حاصل کرنے کی منشا تھی؟
8. برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ کی اختیارکردہ صنعتی پالیسی کی کچھ خامیوں کا تنقیدی جائزہ لیجیے۔
9. نوآبادیاتی دَور کے دوران ہندوستان کی دولت کے اخراج (نکاس) سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
 10. آبادی سے متعلق پہلے مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقلی کے لیے کس سال کو فیصلہ کن سمجھا جاتا ہے؟
     11. نوآبادیاتی دَور کے دوران ہندوستان کی آبادی سے متعلق صورتحال کا مقداری جائزہ لیجیے۔
     12. ہندوستان میں آزادی سے قبل پیشہ ورانہ ڈھانچے کی اہم خصوصیات پر روشنی ڈالیے۔
     13. آزادی کے وقت ہندوستان کے بعض نہایت اہم معاشی چیلنجوں پر روشنی ڈالیے۔
     .14 ہندوستان کا پہلا سرکاری مردم شماری عمل کب انجام دیا گیا تھا؟
     15. آزادی کے وقت تجارت کے حجم اور رُخ کی نشان دہی کیجئے۔
     16. کیا ہندوستان کے لیے برطانیہ کی کوئی مثبت دین تھی؟ بحث کیجئے۔

PIC_2مجوزہ اضافی سرگرمیاں


   1 اشیاء اور خدمات کی ایک فہرست تیار کیجئے جو کہ آزادی سے پہلے کے ہندوستان میں  دیہی اور شہری علاقوں کے لوگوں کو دستیاب تھیں۔ آج کل لوگوں کے اشیا اور خدمات کی کھپت اور صَرف کے انداز کے ساتھ اس کا موازنہ کیجئے۔ لوگوں کے معیارِ زندگی میں قابل مشاہدہ فرق پر روشنی ڈالیے۔
       2 اپنے قرب و جوار میں قبل آزادی دَور کے قصبوں/گاؤں کی تصویریں تلاش کرکے حاصل کیجئے اور ان کا موازنہ ان کے موجودہ منظر نامے سے کیجئے، آپ کن تبدیلیوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں؟ کیا ایسی تبدیلیاں بہتری کے لیے ہیں یا خرابی کے لیے؟ بحث کیجیے۔
       3 اپنے ٹیچر کے پاس جمع ہوں اور ایک گروپ مباحثے کا انتظام کریں۔جس کا موضوع ہو کیا ہندوستان میں زمینداری نظام واقعی ختم کر دیا گیا ہے؟ اگر نتیجہ منفی ہے تب آپ کے خیال میں اسے خارج کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جانے چاہئیں اور کیوں؟
       4 آزادی کے وقت ہمارے ملک کے لوگوں کے اہم پیشوں کی شناخت کیجئے۔ آج کل لوگ کون سے بڑے پیشے اپناتے ہیں؟ اصلاح کی پالیسیوں کی روشنی میں اب سے 15 سال بعد یعنی 2020 میں ہندوستان کے پیشہ وارانہ منظر نامے کا آپ کیا تصورکر سکیں گے؟

PIC_7حوالہ جات


بدین۔ پاوِل، بی۔ ایچ ۔ "The Land Systems of British India" 1892  جلد II, IاورIIIآکسفورڈ کلارنڈن پریس، آکسفورڈ۔ 
  بکانن، ڈی۔ ایچ  1966، "Development of Capitalist Enterprise in India"فرینک کاس اینڈ کمپنی، لندن۔
  چندر،  بپن، 1993،"The Colonial Legecy"، بمل جالان کی ادارت میں The Indian Economy: Problems and Prospects" پنگوئن بکس، نئی دہلی۔
 دت، آر۔ سی۔ " Economic History of India" 1963جلد II, Iوزارت اعلانات ونشریات ، حکومت ہند، نئی دہلی۔
 کمار۔ ڈی اور میگھ ناڈڈیسائی (اشاعت)1983، کیمبرج ایکونامک ہسٹری آف انڈیا۔ کیمبرج یونیورسٹی پریس، کیمبرج۔
 مل جیمس،"History of British India"1972ایسوشی ایٹڈپبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی۔
 پرساد، راجندر، "India Divided" 1946، ہند کتاب، بمبئی۔
سین، امرتیہ 1999، "Poverty and Famines"آکسفورڈ یونیورسٹی پریس ، نئی دہلی۔
حکومت ہند کی رپورٹیں مختلف سالوں پر مبنی اقتصادی جائزہ وزارت خزانہ ، حکومت ہند۔
آزادی کے وقت ہندوستانی معیشت