Skip to content


Hindustan_ki_maashi_taraqqi

 ہندوستانی معیشت

 1950  تا  1990

  اس باب کے مطالعہ کے بعد طلباء:

  •       ہندوستان کے پانچ سالہ منصوبوں کے مقاصد سے واقف ہو سکیں گے؛
  •        1950سے 1990 تک مختلف سیکٹروں جیسے زراعت اور صنعت میں ترقیاتی پالیسیوں کے بارے میں جان سکیں گے؛
  •       منضبط معیشت کی خوبیوں اور حدوں کے بارے میں غور کرنے کی لیاقت پیدا کر سکیں گے۔
ہندوستان میں منصوبہ بندی کا مرکزی مقصد ۔۔۔۔۔ ترقی کے ہی عمل کا آغاز کرنا ہے جس سے معیارِ زندگی بڑھے گا اور خوشحال اور زیادہ متنوع زندگی کے لیے لوگوں کو نئے مواقع فراہم کرنا ہے۔
   پہلا پنج سالہ منصوبہ 

2.1   تعارف

15؍اگست 1947ء کو ہندوستان آزادی کی ایک نئی صبح کے ساتھ بیدار ہوا، آخرکار ہم کوئی دو سو سال کے برطانوی راج کے بعد اپنی تقدیر و اُمور کے مالک تھے۔ قوم کی تعمیر کا کام اب ہمارے اپنے ہاتھوں میں تھا، آزاد ہندوستان کے رہنماؤں کو دیگر باتوں کے علاوہ معاشی نظام کی ایسی قسم کے باب میں بھی فیصلہ کرنا تھا، جو ہمارے ملک کے لیے نہایت موزوں ہو، ایسا نظام جو صرف چند لوگوں کے لیے نہیں بلکہ سبھی کی فلاح و بہبود کو بڑھاوا دے سکے۔ معاشی نظام کی مختلف اقسام ہیں (دیکھئے باکس 2.1)  اور ان میں سوشلزم جواہر لعل نہرو کا سب سے زیادہ پسندیدہ تھا۔ تاہم وہ ایسے سوشلزم کے حق میں نہیں تھے جو سابق سویت یونین میں قائم کیا گیا تھا جہاں پیداوار کے سبھی ذرائع یعنی ملک کی تمام فیکٹریاں اور اراضی حکومت کی ملکیت ہوتی تھیں۔ وہاں نجی جائیداد کا کوئی تصور نہیں تھا۔ ہندوستان جیسی جمہوریت میں حکومت کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ اپنے شہریوں کی زمینوںاور دیگر جائیدادوں کی ملکیت میں اس طرح کی تبدیلی کرے جیسی کہ سابق سویت یونین میں کی گئی تھی۔

انہیں حل کریں

  •         دنیا میں رائج معاشی نظاموںکی مختلف اقسام پر ایک چارٹ تیار کریں۔ سرمایہ دارانہ، اشتراکی اور مخلوط معیشت کے تحت ملکوں کی فہرست بنائیں۔
  •        کلاس کے لیے ایک زرعی اراضی کے دورے کا پروگرام بنائیے۔ کلاس کو سات گروپوں میں تقسیم کیجئے جس میں ہرگروپ کو ایک مخصوص ہدف کا منصوبہ بنانا ہے مثال کے لیے دورے کا مقصد، اس میں شامل خرچ کی رقم، لیا جانے والا وقت، وسائل، گروپ کے ساتھ جانے والے لوگ اور وہ لوگ جن سے رابطہ کیے جانے کی ضرورت ہے، دورے کے ممکنہ مقامات، پوچھے جانے والے ممکنہ سوالات وغیرہ۔ اب اپنے کلاس ٹیچر کی مدد سے ان مخصوص مقاصد یا اہداف کو مرتب کریں اور کسی زراعتی فارم کے کامیاب دورے کے طویل مدتی مقاصدکے ساتھ موازنہ کیجئے۔

باکس 2.1  :   معاشی نظامو ں  کی اقسام

     ہر سماج کوتین سوالوں کے جواب دینے ہوتے ہیں:
  •          ملک میں کون سی اشیا اور خدمات تیار کی جانی چاہئیں؟
  •       اشیا اور خدمات کو کیسے تیار کیا جانا چاہئے؟ کیا چیزوں کو پیدا کرنے کے لیے صنعتکاروں کو زیادہ انسانی محنت یا زیادہ  کیپٹل (مشینوں) کا استعمال کرنا چاہئے؟
  •      لوگوں کے درمیان اشیا اور خدمات کیسے تقسیم کی جانی چاہئیں؟
ان سوالوں کا ایک جواب سپلائی (رسد) اور مانگ کی بازارکی قوتوں پر منحصر ہے۔ ایک بازارپر مبنی معیشت میں جسے سرمایہ داری (Capitalism) کہا جاتا ہے، صرف وہ اشیاء صرف تیار کی جائیں گی جن کی مانگ ہو، یعنی ایسی اشیاء جنہیں منافع بخش طریقے سے ’خواہ گھریلو بازاروں میں یا غیر ملکی بازاروں میں ‘فروخت کیا جا سکتا ہو۔ اگر کاروں کی مانگ ہے، تو کاریں تیار کی جائیں گی، اگر سائیکلوں کی مانگ ہے تو سائکلیں تیار کی جائیں گی۔ اگر محنت سرمایے کی نسبت سستی ہے تب پیداوار کے لیے زیادہ محنت پر مبنی طریقہ کار کا استعمال کیا جائے گا اور ورنہ اس کے برعکس۔ سرمایہ دار سماج میں جواشیاء تیار کی جاتی ہیں وہ لوگوں کے درمیان اس بنیاد پر نہیں تقسیم کی جاتیں کہ لوگوں کی کیا ضرورت ہے بلکہ اس بنیاد پر کہ لوگوں میں کن اشیاء کو خریدنے کی استطاعت ہو سکتی ہے اور وہ خریدنے کی خواہش کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بیمار آدمی دوا کے استعمال کا اہل تب ہی  ہوگا جب وہ اس دوا کو خریدنے کی استطاعت رکھتا ہو۔ اگر وہ دوا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا تب وہ اسے استعمال کرنے کا اہل نہیں ہوگا بھلے ہی اس کو اس کی شدید ضرورت ہو۔ اس طرح کا سماج ہمارے پہلے وزیر اعظم   جواہر لعل نہروکے لیے پسندیدہ نہیں تھا کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ملک کی آبادی کی عظیم اکثریت کو ان کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کا موقع دیے بغیر یوں ہی چھوڑ دیا جاتا۔
 ایک سوشلسٹ اشتراکیت پر مبنی سماج ان تین سوالو ں  کے جواب بالکل مختلف انداز میں پیش کرتا ہے۔ ایک سوشلسٹ سماج میں حکومت فیصلہ کرتی ہے کہ سماج کی ضرورتوں کے لحاظ سے کون سی اشیاء پیدا کی جانی چاہئیں۔ یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ حکومت جانتی ہے کہ ملک کے لوگوں کے لیے کون سی اشیاء ضروری ہیں اور اس طرح انفرادی صارفین کی خواہشات کو بہت زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔ حکومت یہ بھی فیصلہ کرتی ہے اشیاء کو کیسے تیار کیا جائے اور انہیں کیسے تقسیم کیا جائے۔ اصولاً، اشتراکیت کے تحت تقسیم کے بارے میں یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ یہ تقسیم لوگوں کی ضرورت پر مبنی ہے اور نہ کہ اس پر کہ خریداری کے لیے ان کی کیا استطاعت ہے۔ مثال کے طور پر سرمایہ داری نظام کے برعکس، ایک سوشلسٹ ملک ان شہریوں کے لیے صحت کی دیکھ بھال مفت فراہم کرتا ہے جنہیں اس کی ضرورت ہے۔ حتمی طور پر ، ایک سوشلسٹ سماج میں کوئی نجی جائیداد نہیں ہوتی کیونکہ ہر چیز کی ملکیت ریاست کی ہوتی ہے۔ بیسویں صدی کے آخری دہوں میں سویت نظام کے چرمرانے کے بعد سابق سویت یونین اور مشرقی یوروپ کی سوشلسٹ ریاستوں میں سوشلسٹ معیشتوں کا وجود ختم ہو گیا۔
زیادہ تر معیشتیں مخلوط معیشتیں ہیں، یعنی حکومت اور بازار دونوں ہی ان تینوں سوالوں کے جواب پیش کرتے ہیں کہ کیا تیار کیا جائے، کیسے تیار کیا جائے اور جو تیار کیا جاتا ہے اسے کس طرح تقسیم کیا جائے، کہ مخلوط معیشت میں بازار جو بھی اشیاء اور خدمات وہ بہتر طور پر تیار کر سکتا ہے وہی فراہم کرے گا اور حکومت وہ ضروری اشیاء اور خدمات فراہم کرے گی جس کو انجام دینے میں بازار ناکام ہو جاتا ہے۔

باکس 2.2: منصوبہ کیا ہے؟

کوئی منصوبہ یہ توضیح کرتا ہے کہ ایک ملک کے وسائل کو کس طرح استعمال کیا جائے۔ ایک منصوبے میں بعض عمومی اہداف اور ساتھ ہی ساتھ مخصوص مقاصد بھی ہونے چاہئیں جنہیں ایک مخصوص مدت میں حاصل کیا جانا ہوتا ہے ۔ ہندوستان میں منصوبے پانچ سال کی مدت کے ہوتے ہیں اور پنج سالہ منصوبے کہلاتے ہیں۔ (ہم نے اسے سابق سوویت یونین سے لیا ہے، جو کہ قومی منصوبہ بندی میں اولین تھی) ۔ ہمارے منصوبہ دستاویزات نہ صرف ان مقاصد کی صراحت کرتے ہیں جنہیں منصوبے کی پنج سالہ مدت میں حاصل کیا جانا ہے۔ بلکہ اس کی بھی وضاحت کرتے ہیں  کہ بیس سال کی مدت میں کیا حاصل کیاجانا چاہیے۔ پنج سالہ منصوبوں کے بارے میں یہ باور کیا جاتا ہے کہ وہ تناظری یا آئندہ کے منصوبے کے لیے بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
یہ توقع کرنا غیر حقیقی ہوگا کہ سبھی منصوبوں میں منصوبے کے تمام اہداف کو مساوی اہمیت دی جائے۔ درحقیقت اہداف متصادم ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جدید ٹکنا لوجی کے تعارف کا ہدف ممکن ہے کہ روزگار بڑھانے کے ہدف سے متصادم ہو اگر ٹکنالوجی مزدور یا محنت کی ضرورت کم کردیتی ہے۔ منصوبہ سازوں کو اہداف میں توازن قائم رکھنا ہوتا ہے جو کہ واقعتا بہت مشکل کام ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوستان میں مختلف منصوبوں میں مختلف اہداف پر زور دیاجاتا رہا ہے۔
ہندوستان کے پنج سالہ منصوبے اس بات کی توضیح نہیں کرتے کہ ہر ایک شے اور خدمت کو کتنا تیارکیا جانا ہے۔ یہ نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی ضروری۔ (سابق سوویت یونین نے اس سلسلے میں کوشش کی اور ناکام رہا) ۔ اگر منصوبے میں کسی سیکٹر کومخصوص کیا جائے جس میں حکومت اہم کردار ادا کرے، جیسے بجلی کی پیداوار اور آبپاشی جبکہ باقی کو مارکیٹ پر چھوڑ دیا جائے تو یہ کافی ہے۔ 


باکس 2.3:   مہالانوبس:  ہندوستانی منصوبہ بندی کے معمار

ہمارے پنج سالہ منصوبوں کی تشکیل میں متعدد ممتاز مفکرین نے تعاون کیا ہے۔ ان میں ماہر شماریات پرشانت چندر مہالانوبس کا نام زیادہ نمایاں ہے۔
 اصطلاح کے حقیقی مفہوم میں منصوبہ بندی کی شروعات دوسرے پنج سالہ منصوبے میں ہوئی۔ دوسرا منصوبہ جو کہ بالعموم ترقیاتی منصوبہ بندی میں ایک امتیازی دین تھا اس کے ذریعہ ہندوستانی منصوبہ بندی کے اہداف کے تعلق سے بنیادی تصورات کو نافذ کیا گیا۔ یہ منصوبہ مہالانوبس کے تصورات پر مبنی تھا۔ اس معنی میں انھیں ہندوستانی منصوبہ بندی کا معمار سمجھا جاتا ہے۔
مہالانوبس کلکتہ میں 1893ء میں پیدا ہوئے تھے۔ اُنہو ں  نے کلکتہ میں پریزیڈنسی کالج او رانگلینڈ میں کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ شماریات کے مضمون میں ان کے تعاون نے انہیں بین الاقوامی شہرت عطاکی۔  1946ء میں انہیں برطانیہ کی رائل سوسائٹی کا فیلو(رُکن) بنایا گیا تھا۔ جو سائنس دانوں کی ایک نہایت باوقار تنظیم ہے، صرف انتہائی ممتاز سائنس داں اس سوسائٹی کے ممبر بنائے جاتے ہیں۔
مہالانوبس نے کلکتہ میں ہندوستانی شماریاتی انسٹی ٹیوٹ (ISI) قائم کیا اور ایک جریدہ ’’سنکھیہ‘‘ (تعداد) کی شروعات کی جو اب بھی ماہرین شماریات و معاشیات کے لیے اپنے نظریات اور تصورات کے مباحثے کے لیے ایک قابل قدر فورم فراہم کرتا ہے۔ ISI اور سنکھیا دونوں کو ماہرین شماریات اور معاشیات آج تک پوری دنیا میں نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
PIC_10
دوسرے منصوبے کی مدت کے دوران مہالانوبس نے ہندوستان اور بیرونِ ممالک سے بہت سے ممتاز ماہرین معاشیات، ہندوستان کی معاشی ترقی پر انہیں صلاح دینے کے لیے مدعو کیے۔ ان میں بعض ماہرین معاشیات نے بعد میں نوبل انعام حاصل کیے جس سے یہ ظاہرہوتا ہے کہ انہوں نے کس طرح ذہین و باصلاحیت افراد کی شناخت کی۔ مہالانوبس نے جن ماہرین معاشیات کو مدعو کیا تھا یہ وہ لوگ تھے جو دوسرے منصوبے کے سوشلسٹ اُصولوں کے کافی نقاد تھے۔ دوسرے لفظوں میں وہ سننا چاہتے تھے کہ ان کے ناقدین کو کیا کہنا ہے۔ یہ ایک عظیم اسکالر کی پہچان ہے۔
آج کے بہت سے ماہرین معاشیات مہالانوبس کے وضع کیے گئے منصوبہ بندی کے انداز نظریہ کو مسترد کرتے ہیں لیکن انہیں ہمیشہ معاشی ترقی کی راہ پر ہندوستان کو گامزن کرنے میں اہم رول ادا کرنے کے لیے یاد کیا جائے گا اور ماہرین شماریات شماریاتی نظریے کے تئیں ان کے تعاون سے فائدہ اُٹھاتے رہیں۔

ماخذ:      سکھاموئے چکرورتی، مہالا نوبس، پرشانت چندر، جان ایٹ ویل اور دیگر اشاعتیں The Palgrave Dictionary: Economic Development، ڈبلیوڈبلیو۔نارئن نیویارک اور لندن)


باکس 2.4:  خدماتی سیکٹر

جب کسی ملک میں ترقی ہوتی ہے اس میں ’ساختی تبدیلی‘ واقع ہوتی ہے۔ ہندوستان کے معاملے میں ساختی تبدیلی منفرد ہے۔ عام طور پر ترقی کے ساتھ زراعت کا تعاون کم ہو جاتا ہے، جب کہ صنعت کا تعاون زیادہ ہوجاتا ہے۔ ترقی کی اعلیٰ سطحوں پر سروس یا خدماتی سیکٹرکاتعاون، باقی دو سیکٹروں کے مقابلے زیادہ ہوتاہے۔ ہندوستان میں GDP میں زراعت کا حصہ 50 فیصد سے زیادہ تھا، جیسا کہ ہم ایک غریب ملک کے لیے توقع کریں گے ، لیکن 1990ء تک سروس سیکٹر کا حصہ 40.59 فیصد تھا جو کہ زراعت یا صنعت سے زیادہ تھا جو ہم ترقی یافتہ ممالک میں پاتے ہیں۔ سروس سیکٹر کے بڑھتے حصے کا مظہر 1991 کے بعد کے دور میں کافی تیز تھا (اس سے ملک میں گلوبلائزیشن یعنی عالم گیریت کی شروعات کا پتہ چلتا ہے جس کے بارے میں ہم بعد کے باب میں بحث کریں گے۔)

نہرو اور دیگر متعدد رہنماؤں اور نئے آزاد ہندوستان کے مفکرین نے سرمایہ داری اور سوشلزم کی انتہائی شکلوں کا متبادل تلاش کیا۔ بنیادی طور پر سوشلسٹ (اشتراکی) نقطہ نظر کے ہم خیال ہوتے ہوئے بھی انہیں ایک ایسے معاشی نظام کا حل ملا جو کہ ان کے خیال میں سو شلزم کی عمدہ خصوصیات اپنے اندر سموئے ہوئے تھا لیکن اس کی خامیوں سے مبرا تھا۔ اس نظریہ کے تحت ہندوستان ایک سوشلسٹ سماج ہوگا جس میں ایک مضبوط پبلک سیکٹر ہوگا لیکن نجی جائیداد اور عوام کی حکومت (جمہوریت) بھی ہوگی، حکومت معیشت کے لیے منصوبہ بنائے گی جس میں منصوبے کی کوشش کے ایک حصے کے طور پر نجی سیکٹر کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی رہے گی۔ 1948ء کی ’صنعتی پالیسی قرارداد‘ اور ہندوستانی آئین کے رہنما اُصول اس نظریے کو ظاہر کرتے ہیں۔ 1950 میں منصوبہ بندی کمیشن قائم کیا گیا تھا جس کے سربراہ خود وزیر اعظم بنے۔ اس طرح پنچ سالہ منصوبوں کا دور شروع ہوا۔

2.2:  پنج سالہ منصوبوں کے اہداف

ایک منصوبے میں واضح طور پر صراحت کے ساتھ کچھ اہداف ہونے چائیں۔ پنچ سالہ منصوبے کے اہداف ہیں: نمو (Growth)، جدید کاری (Modernisation) ، خود اعتمادی اور مساوات (Equity)۔ اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ سبھی منصوبوں میں  ان سبھی اہداف کو مساوی اہمیت دی گئی ہے۔ محدود وسائل کے سبب ہر منصوبے میں پسند یا انتخاب کا یقین کیا جاتا ہے کہ کون سے اہداف کو بنیادی اہمیت دی جانی ہے۔ تاہم منصوبہ سازوں کو یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو سکے منصوبوں کی پالیسیاں ان چار اہداف کے متضاد نہ ہوں۔ آئیے اب ہم کچھ تفصیل کے ساتھ منصوبہ بندی کے بارے میں مطالعہ کریں۔
نمو یا افزائش:  اس سے مراد ہے ملک میں اشیاء اور خدمات کی پیداوار پیش کرنے کی ملک کی استعداد میں اضافہ۔ یہ یا تو پیداواری سرمایہ کے بڑے اسٹاک کی یا معاون خدمات جیسے ٹرانسپورٹ اور بینکنگ (بینک کاری) کے بڑے حجم یا پیداواری سرمایہ اور خدمات کی صلاحیت میں اضافہ کی دلالت کرتا ہے۔ معاشیات کی زبان میں معاشی نمو کا اچھااشاریہ مجموعی گھریلو پیداوار (GDP) میں مستحکم اضافہ ہے۔ GDP ملک میں ایک سال کی مدت میں پیدا کی جانے والی تمام اشیاء اور خدمات کی بازارکی قدرہے۔ آپ GDP کو ایک کیک کے طور پر تصور کر سکتے ہیں، کیک کے سائز میں اضافہ نمو ہے۔ اگر کیک بڑا ہے تب زیادہ لوگ اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ اگر ہندوستان کے لوگوں کو زیادہ خوشحال اور متنوع زندگی گزارنا ہے (پہلے پنج سالہ منصوبے کے الفاظ) تو یہ ضروری ہے کہ زیادہ اشیاء اور خدمات پیدا کی جائیں۔
کسی ملک کا GDP  معیشت کے مختلف سیکٹروں سے اخذکیا جاتا ہے جیسے زراعتی سیکٹر، صنعتی سیکٹر اور خدمات سیکٹر۔ ان میں سے ہر ایک سیکٹر کا اشتراک معیشت کی ساخت کی ترکیب سے حاصل ہوتا ہے۔ کچھ ممالک میں زراعت میں افزائش GDP  نمو میں زیادہ تعاون کرتی ہے جبکہ کچھ ملکوں میں خدمات کاسیکٹر نمو GDP میں زیادہ تعاون کرتا ہے۔  (دیکھئے باکس 2.4)

جدید کاری

:   اشیا اور خدمات کی پیداوار میں اضافے کے لیے پیداکاروں کو نئی ٹکنالوجی اپنانی ہوتی ہے۔ مثال کے لیے ایک کسان پرانے قسم کے بیجوں  کے استعمال کے بجائے بیجوں کی نئی اقسام کا استعمال کرکے اپنے کھیت کی پیداوار بڑھا سکتا ہے۔ اسی طرح ایک فیکٹری نئی قسم کے مشین کا استعمال کر کے پیداوار بڑھا سکتی ہے۔ نئی ٹکنالوجی کو اپنانا جدید کاری کہلاتا ہے۔
تاہم جدیدکاری کا مطلب صرف نئی ٹکنالوجی کا استعمال نہیں ہے بلکہ سماجی نظریے میں تبدیلی بھی اس کے تحت آتی ہے جیسے یہ ماننا ہے کہ عورتو ںکو اتنے ہی حقوق حاصل ہیں جتنے کہ مردوں کو ۔ایک روایتی سماج میں عورتوں کے بارے میں یہ باور کیا جاتا ہے کہ وہ گھر میں رہیں او رمرد کام کریں۔ ایک جدید سماج کام کے مقامات جیسے بینکوں، فیکٹریوں، اسکولوں وغیرہ میں عورتوںکی صلاحیتوں کے استعمال کو ممکن بناتا ہے۔ اور ایسا سماج زیادہ مہذب اور خوشحال ہوگا۔

خود کفالت:  کوئی بھی ملک اپنے خود کے وسائل یا دیگر ملکوں سے درآمد کیے گئے وسائل کو استعمال کر کے معاشی نمو اور جدید کاری کوفروغ دے سکتا ہے۔ پہلے سات پنج سالہ منصوبوں میں خود کفالت کو اہمیت دی گئی ہے جس کا مطلب ہے کہ ان اشیاء کی درآمدات سے گریز کرنا ہے جو کہ ہندوستان خود پیدا کر سکتا ہے۔ یہ پالیسی غیر ملکوں پر انحصار خاص طور پر غذا کے لیے ہمارے انحصار کو کم کرنے کے لیے ضروری سمجھی گئی تھی۔ یہ بات قابل فہم ہے کہ لوگ جو غیر ملکی تسلط سے ابھی حال ہی میں آزاد ہوئے تھے انہیں خود کفالت کو زیادہ اہمیت دی جانی چاہئے تھی۔ مزید برآں یہ ڈر تھا کہ درآمد کی گئی غدائی رسد، غیر ملکی ٹکنالوجی اور غیر ملکی سرمایہ ہندوستان کے اقتدار اعلیٰ کو ہماری پالیسیوں میں غیر ملکی مداخلت کے ذریعہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔

انہیں حل کریں  

  •        درج ذیل کے لیے استعمال کی جانے والی ٹکنالوجی میں تبدیلیوں پر اپنی کلاس میں بحث کریں۔
  (a)  اناج کی پیداوار 
(b)  پروڈکٹ کی پیکیجنگ یا ترتیب کاری (اشیاء کوڈبہ بند یالپیٹنے کا عمل)
(c)  ترسیل عامہ یا ابلاغ عامہ
  •    2018-19اور91-1990  کے دوران درآمد اور برآمد کرنے کے لیے ہندوستان جن اشیاء کی درآمد اور برآمد کیا کرتا تھا، ان کا پتہ چلائیے اور فہرست بنائیے۔(اس کے لیے صفحہ192 پر بھی دیکھیے-)
(a)  فرق کا مشاہدہ کیجئے۔
(b)  کیا آپ خودکفیلی کا اثر دیکھتے ہیں؟ مباحثہ کیجئے۔
ان تفصیلات کو اکٹھا کرنے کے لیے آپ حالیہ سال کے معاشی سروے سے رجوع کر سکتے ہیں۔
مساوات (Equity) :  نمو، جدیدکاری اور خودکفالت لوگوں کے زندگی گزار نے کی حالت کو بذاتِ خود تو بہترنہیں بناسکتے۔ایک ملک میں اعلیٰ نمو ہو سکتا ہے، ملک خود– انتہائی جدید ٹکنالوجی کو فروغ دے سکتا ہے اورساتھ ہی اس کے زیادہ تر لوگ غربت میں اپنی زندگی بھی گزار سکتے ہیں۔ لہذا یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ معاشی خوشحالی کے فوائد صرف امیروں کو پہنچنے کے بجائے غریب طبقات تک بھی پہنچیں۔ اس طرح نمو، جدیدکاری اور خود اعتمادی کے علاوہ معدلت بھی ضروری ہے یعنی کہ ہر ہندوستانی اپنی بنیادی ضرورتیں جیسے غذا،اچھا مکان، تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کی ضرورتیں پوری کرنے کا اہل ہو اور دولت کی تقسیم عدم مساوات میں کمی آنی چاہئے۔

آئیے اب ہم دیکھیں کہ پہلے سات پنج سالہ منصوبوں یعنی 1951 تا 1990 کے دورمیں ان چار اہداف کو حاصل کرنے کی کس طرح کوشش کی گئی ہے اور زراعت، صنعت اور تجارت کے حوالے کے ساتھ کس حد تک ایسا کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ آپ باب 3میں 1991ء کے بعد کی پالیسیوں اور اُٹھائے جانے والے ترقیاتی اُمورکے بارے میں مطالعہ کریں گے۔ 

2.3:  زراعت

آپ نے پہلے باب میں پڑھا کہ نوآبا دیاتی راج میں زراعتی سیکٹر میں نہ ہی افزائش تھی اور نہ ہی مساوات ۔ آزاد ہندوستان کی پالیسی سازوں کو ان امور کو حل کرنا تھا جسے اُنہوں نے زمینی اصلاحات اور زیادہ پیدوار دینے والے بیجوں (HYV) کے ذریعہ انجام دیا جو ہندوستان کی زراعت میں انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوئے۔

زمینی اصلاحات: آزادی کے وقت زمین کو کرایہ پر دینے کا نظام بچولیوں(زمیندار، جاگیردار)کے ذریعہ کیا جاتا تھا جو کھیتی کے سلسلے میں اصلاحات کے تئیں اشتراک کیے بغیر حقیقی کاشتکاری کرنے والوں سے محض لگان وصول کیا کرتے تھے۔ زراعتی سیکٹر کی کم پیداواریت کے سبب ہندوستان کو یو۔ایس۔اے (ریاست ہائے متحدہ امریکہ) سے غذا درآمد کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ زراعت میں مساوات کے لیے زمینی اصلاحات کی ضرورت تھی جسے ابتدائی طورپر مقبوضہ اراضی کی ملکیت میں تبدیلی سے منسوب کیا گیا۔ آزادی کے صرف ایک سال کے بعد بچولیوں کوہٹانے اور کاشتکاروں کو زمین کا مالک بنانے کے اقدامات کیے گئے۔ اس کارروائی کے پس پردہ خیال یہ تھا کہ زمین کی ملکیت دینے سے کاشتکاروں  کو اصلاحات کرنے کے سلسلے میں سرمایہ کاری کی ترغیب مل سکے گی کیونکہ حسبِ ضرورت سرمایہ ان کے پاس موجود ہوسکتاتھا۔ زمین کی حدبندی (Land Ceiling) زراعتی سیکٹرمیں مساوات کو فروغ دینے کی ایک اور پالیسی تھی۔ زمین کی حد بندی زمین کی زیادہ سے زیادہ سائز مقرر کرتی ہے جو کسی ایک فرد کی ملکیت میں ہو۔ زمین کی حدبندی کا مقصد کچھ ہاتھوں میں زمین کی ملکیت کے مجتمع ہونے کو کم کرنا تھا۔ (دیکھئے باکس 2.5)

باکس 2.5:   ملکیت اور ترغیبات:

’’کاشتکاروں کو زمین‘‘ دینے کی پالیسی اس تصور پر مبنی ہے کہ اگر کاشتکار زمین کے مالک ہیں تب پیداوار بڑھانے میں ان کو زیادہ دلچسپی پیدا ہوگی اور اُنہیں زیادہ ترغیب ملے گی۔ ایسا اس لیے ہے کہ زمین کی ملکیت کسانوں کو بڑھی ہوئی پیداوار سے منافع حاصل کرنے کا اہل بناتی ہے چونکہ یہ زمین کا مالک ہی ہے جو اونچی پیداوار سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکے گا اس لیے جو مزارع یا لگان دار ہوں گے ظاہر ہے انہیں کوئی ترغیب نہیں  ملے گی۔ ترغیبات فراہم کرنے میں ملکیت کے اہمیت کو ان لاپرواہیوں سے اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے جو سابق سویت یونین میں کسان فروخت کے لیے پھلوں کو پیک کرنے میں کیا کرتے تھے۔ کسانوں کے ذریعہ ایک ہی باکس میں سڑے گلے پھلوں کے ساتھ تازہ پھلوں کی پیکنگ کرناعام بات تھی۔ ہر کسان یہ جانتا تھا کہ اگر اُنھیں ایک ساتھ پیک کیا جائے تو سڑے گلے پھل تازہ پھلوں کو بھی خراب کر دیں گے۔ یہ کسان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا کیونکہ پھل فروخت نہیں ہو سکتے۔ تو آخر کیوں سویت کسانو ں نے ایسا کچھ کیا جو کہ بلاشبہ ان کے لیے نقصان کا باعث تھا؟ اس کا جواب ترغیبات میں پنہاں ہے جس سے کسان دوچار تھے۔ چونکہ سابق سویت یونین میں کسانوں کی کسی زمین پر ملکیت نہیں تھی اس لیے اُنہیں نہ تو منافع سے کوئی غرض تھی اور نہ ہی نقصان اُٹھانے کی کوئی پرواہ۔ ملکیت نہ ہونے کے سبب کسانو ںکو مؤثر کارکردگی کے لیے کوئی ترغیب نہیں حاصل تھی اس سے نہایت زرخیز زمین موجود ہونے کے باوجود سویت یونین میں زراعتی سیکٹر کی کمزور کارکردگی کی بھی وضاحت ہوتی ہے۔

مآخذ:   تھامس سویل ، Basis Economics: A Citiczen is Guide to the Economy، نیویارک، Basic Book، 2004 دوسری اشاعت۔

جاگیری یاثالثی نظام کے خاتمے کا مطلب تقریباً 200 لاکھ لگان داروں کا حکومت کے براہِ راست ربط میں آنا تھا۔ اس طرح انہیں زمین داروں کے استحصال سے چھٹکارا ملا۔ لگان داروں کو جو ملکیت عطا کی گئی اس سے پیداوار بڑھانے میں ان کو ترغیب ملی اور زراعت کی نمو میں بھی مدد ملی۔ تاہم ثالثوں کے خاتمے کے ذریعہ مساوات کے ہدف کی تکمیل پوری طرح نہیں ہوئی۔ قانون سازی سے کچھ بچ نکلنے کی صورت پیدا کرتے ہوئے بعض علاقوں میں سابق زمینداروں نے ، زمین کی کافی املاک اپنے پاس برقرار رکھی۔ ایسے بہت سے معاملے تھے جہاں  لگان داروں یا مزارع کو بے دخل کر دیا گیا اور زمین داروں نے خود کوبطور کاشتکار (اصل کسان) ہونے کی دعویٰ کیا۔ اور حتیٰ کہ جب کاشتکاروں نے زمین کی ملکیت حاصل بھی کی تب بھی غریب زرعی مزدوروں (جیسے لگان دینے والے کاشتکار اور بے زمین مزدور) زمینی اصلاحات کا فائدہ نہیں اُٹھا سکے۔
زمین حدبندی کی قانون سازی میں بھی رکاوٹوں کا سامناکرنا پڑا۔ بڑے زمینداروں نے عدالتوں میں ان قوانین کو چیلنج کیا جس سے اس کے نفاذ میں تاخیر ہوئی اس تاخیر کا فائدہ اُنہوں نے اپنی زمینوں کو اپنے قریبی رشتہ داروں کے نام رجسٹر کراکے اُٹھایا اور اس کے سبب وہ ان قوانین سے بچ گئے۔ قانون سازی میں اس سے بچنے کی کئی صورتیں نکال لی گئیں جن کا بھرپور استعمال بڑے زمین داروں نے اپنی زمین کو برقرار رکھنے کے لیے کیا۔ زمینی اصلاحات کیرل اور مغربی بنگال میں کامیاب ہیں کیونکہ ان ریاستوں میں حکومتوں نے کاشتکاروں کو زمین دینے کی پالیسی کی ذمہ داری نبھائی۔ بدقسمتی سے دیگر ریاستوں میں ذمہ داری کی یہ سطح نہیں اپنائی گئی اور زمین کی ملکیت میں کافی عدم مساوات اس وقت بھی جاری ہے۔
سبز انقلاب:  آزادی کے وقت ملک کی تقریباً 75 فیصد آبادی زراعت پر منحصر تھی۔ زراعتی سیکٹر میں پیداواریت بہت کم تھی کیونکہ اس کی وجہ پرانی ٹکنالوجی کا استعمال اور کسانوں کی بڑی اکثریت کے لیے مطلوبہ بنیادی ڈھانچے کی عدم دستیابی تھی۔ ہندوستان کی زراعت لازماً بارش پر منحصر تھی اور اگربارش ناکافی ہوتی تب کسان مصیبت میں پڑ جاتے جب تک کہ اُنہیں آب پاشی سہولیات نہ حاصل ہو پاتی جو کہ بہت کم تھی۔ نوآبادیاتی راج میں زراعت میں جو جمود قائم تھا، اسے سبز انقلاب کے ذریعہ مستقل طور پر ختم کیا گیا۔ سبز انقلاب (Green Revolution)  سے مراد اناج خاص طور پر گیہوں اور چاول کی پیداوار میں زبردست اضافے سے ہے جو بیجوں  کی اعلیٰ پیداواری اقسام (HYV) کے استعمال کے نتیجے میں ممکن ہوا۔ ان بیجوں کے استعمال میں فرٹیلائزر اور کیڑے مار دواؤں کی صحیح مقدار اور پانی کی باقاعدہ فراہمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لاگت کا صحیح تناسب میں استعمال اہمیت کا حامل ہے۔ کسان کو HYV بیجوں سے استفادہ کرنے کے لیے انہیں قابل اعتماد آبپاشی سہولیات کے ساتھ فرٹیلائز او رکیڑے مار ادویات کی خریداری کے لیے مالیاتی وسائل کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ نتیجتاً سبز انقلاب کے پہلے مرحلے میں (تقریباً 1960 کی دہائی سے وسط سے 1970 کی دہائی کے وسط تک) HYV بیجو ںکا استعمال زیادہ خوشحال ریاستوں جیسے پنجاب، آندھرا پردیش اور تمل ناڈو تک محدود تھا۔ مزید برآں HYV بیجو ں  کے استعمال کا فائدہ ابتدائی طور پر صرف گیہوں اُگانے والے خطوں کو پہنچا۔ سبز انقلاب کے دوسرے مرحلے میں (1970 کے دہائی کے وسط سے 1980 کے دہائی کے وسط تک)  HYV ٹکنالوجی کئی ریاستوں تک پھیلی اور فصلوں کی مختلف اقسام کو اس سے فائدہ حاصل ہوا۔ سبز انقلاب کی ٹکنالوجی کے پھیلائو سے ہندوستان اناج میں خود کفالت حاصل کرنے کا اہل ہوا۔ ہم اب اپنے ملک کی غذائی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے امریکہ یا کسی دوسرے ملک کے رحم و کرم پر منحصر نہیں رہے۔
سبز انقلاب کے بعد آپ کی پیشکش میں بھلا کس کو دلچسپی ہے؟


PIC_11

زراعتی پیداوار میں افزائش اہم ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے، اگر اس اضافے کا کافی زیادہ تناسب فروخت کرنے کے بجائے اگرکسان خود استعمال کرتے ہیں تب اونچی پیداوار سے مجموعی طور پر معیشت پر زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن اگر زرعی پیداوار کی کافی مقدار کسانو ںکے ذریعہ فروخت کی جاتی ہے تب اونچی پیداوار سے معیشت پر فرق پڑے گا۔ زراعتی پیداوار کا وہ حصہ جو کسانوں  کے ذریعہ بازار میں فروخت کیا جاتا ہے تب اسے فروخت شدہ فاضل (marketed surplus)  کہاجاتا ہے۔ خوش قسمتی سے جیسا کہ مشہور ماہر معاشیات سی۔ایچ۔ ہومنتھا رائو نے اشارہ کیا ہے۔ سبز انقلاب کے درمیان پیدا کیے گئے چاول اور گیہوں کا اچھا تناسب (فروخت شدہ فاضل کے طور پر دستیاب) کسانوں کے ذریعہ بازار میں فروخت کیا گیا تھا۔ نتیجے کے طور پر اناج کی قیمت میں صرف کی دیگراشیا کی نسبت گراوٹ پیدا ہوئی۔ کم آمدنی والے گروپ جو غذا پر اپنی آمدنی کا ایک بڑا فی صد خرچ کرتے ہیں قیمتوںکی اس کمی سے مستفید ہوئے۔ سبز انقلاب نے حکومت کو اس لائق بنایا کہ وہ اسٹاک بنانے کے لیے اناج کی کافی مقدار حاصل کرے جسے غذا کی قلت کے زمانے میں استعمال کیا جا سکے۔
اگرچہ سبز انقلاب سے ملک کو بے انتہا فائدہ ہوا لیکن ٹکنالوجی خطرات سے پاک نہیں تھی۔ ایک ایسا ہی جوکھم اس بات کا امکان تھاکہ اس سے چھوٹے اور بڑے کسانوں کے درمیان عدم مساوات بڑھ جائے گی کیونکہ صرف بڑے کسان ہی مطلوبہ لاگت (Inputs) کی استطاعت رکھ سکتے ہیں۔ اوراس کے سبب سبز انقلاب کے زیادہ تر فوائد انھیں حاصل ہوئے۔ مزید برآںHYV فصلیں  کیڑوں  کے حملوں  کی زد میں زیادہ ہوتی ہیں اور چھوٹے کسان جو اس ٹکنالوجی کو اپناتے ہیں وہ کیڑوں کے حملے میں ہر چیز کھو سکتے ہیں۔
خوش قسمتی سے یہ ڈر صحیح نہیں ثابت ہوا کیونکہ حکومت نے اس سلسلے میں اقدامات کیے تھے۔ حکومت نے چھوٹے کسانوں کو کم شرح سود پر قرض اور فرٹیلائزروں کے لیے اعانتیں فراہم کیں تاکہ چھوٹے کسانوں کو ضروری لاگت تک رسائی حاصل ہو سکے چونکہ چھوٹے کسان مطلوبہ ضروری چیزیں یا لاگت حاصل کرسکیں اس لیے چھوٹے کھیتوں پر ماحصل رفتہ رفتہ بڑے کھیتوں کے ماحصل کی ہمسری کرنے لگے۔ نتیجتاً سبز انقلاب سے امیر کسانوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے کسانوں کو بھی فائدہ پہنچا۔ چھوٹے کسانوں کا وبائی حشرات کے حملے سے ان کی فصلوں کی بربادی کا خطرہ بھی حکومت کے قائم کردہ تحقیقی اداروں کے ذریعہ پیش کی جانے والی خدمات کے ذریعہ نمایاں طور پر کم ہو گیا۔ یہاں اس بات پرغور کرنا چاہیے کہ اگریہ یقینی بنانے میں کہ چھوٹے کسانوں کو بھی نئی ٹکنالوجی سے فائدہ حاصل ہو، حکومت اپنا جامع کردار نہ ادا کرتی تو سبز انقلاب سے بڑے کسانو ںکو ہی فائدہ ہو سکتا تھا۔
اعانتوں (subsidies)  پر بحث:   زراعت میں سبسڈی کا معاشی جواز اس وقت گرماگرم بحث کا موضوع ہے۔ یہ عام طور پر متفقہ ہے کہ بالعموم کسانوں اور بالخصوص چھوٹے کسانوں کے ذریعہ نئی HYV ٹکنالوجی کو اپنانے میں ترغیب دینے کے لیے سبسڈی کا استعمال کرنا ضروری تھا۔ کوئی بھی نئی ٹکنالوجی کسانوں  کے ذریعہ جو کھم اور خطرہ سمجھی جائے گی۔ لہٰذا کسانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اعانتوں کی ضرورت تھی تاکہ نئی ٹکنالوجی کی جانچ کی جا سکے۔ کچھ ماہرین معاشیات مانتے ہیں کہ جب ایک بار ٹکنالوجی کو منافع بخش پایا جاتا ہے اور وہ وسیع پیمانے پر اپنائی جاتی ہے تب اعانتوں کو ترک کر دیا جانا چاہئے کیونکہ ان کے مقصد کی تعمیل ہو چکی ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ اعانتوں کا مطلب کسانوں کو فائدہ پہنچانا ہوتا ہے لیکن فرٹیلائزر کی کافی مقدار میں سبسڈی سے فرٹیلائزر صنعت کو بھی فائدہ حاصل ہوتا ہے اور کسانو ںمیں بھی سبسڈی زیادہ خوشحال خطوں کے کسانوں کو بڑے پیمانے پر فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ دلیل دی جاتی ہے کہ فرٹیلائزر سبسڈی جاری رکھنے کاکوئی جواز نہیں ہے۔ اس سے ہدف گروپ کو فائد نہیں پہنچتا اور حکومت کے خزانے پر کافی بوجھ پڑتا ہے (باکس  2.6 بھی دیکھیں)

جبکہ دوسری طرف کچھ مانتے ہیں کہ حکومت کو زراعتی سبسڈی جاری رکھنا چاہئے کیونکہ ہندوستان میں کاشتکاری ابھی ایک جوکھم بھرا کاروبار ہے۔ اکثر کسان بہت غریب ہوتے ہیں اور وہ بغیر اعانتوں کے مطلوبہ لاگت حاصل کرنے (Input) کی استطاعت رکھنے کے اہل نہیں ہوں گے۔ اعانتوں کو ختم کرنے سے امیر اور غریب کسانوں کے درمیان عدم مساوات بڑے گی اور مساوات کے مقصد کی خلاف ورزی ہوگی۔ یہ ماہرین دلیل دیتے ہیں کہ اگر سبسڈی سے فرٹیلائزر صنعت اور کسانوں کو کافی فائدہ پہنچتا ہے تب صحیح پالیسی یہ نہیں ہے کہ سبسڈی کو ختم کر دیا جائے بلکہ ان اقدامات کو یقینی بناناہے جس سے غریب کسانوں کو فوائد حاصل ہو سکیں

باکس 2.6  :   قیمتیں بطور اشارات

آپ نے پچھلی کلاس میں پڑھا ہوگا کہ کس طرح اشیاء کی قیمتوں  کا تعین بازار میں ہوتا ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ قیمتیں اشیا کی دستیابی کے بارے میں اشارات ہیں۔ اگر کوئی شئے کمیاب بن جاتی ہے تب اس کی قیمتیں بڑھیں گی اور وہ لوگ جو اس شئے کا استعمال کرتے ہیں، انہیں اس کے استعمال کے بارے میں جو کہ قیمت پر منحصر ہے باکفایت فیصلے کرنے کے لیے مائل ہونا پڑے گا۔ اگر پانی کی قیمت بڑھتی ہے، کیونکہ اس کی سپلائی قلیل ہے، تب لوگوں کو اس کے استعمال کے لیے بہت زیادہ احتیاط کرنے کی طرف مائل ہونا پڑے گا۔ مثال کے لیے وہ پانی کی بچت کے لیے باغ میں پودوں کی آب پاشی کو روک سکتے ہیں۔ پیٹرول کی قیمت میں  جب کبھی اضافہ ہوتا ہے تب ہم حکومت کو الزام دیتے ہیں۔ لیکن پٹرول کی قیمت میں اضافہ انتہائی قلت کا اظہار کرتا ہے اور اس بات کا اشارہ ہے کہ کم مقدار میں پیٹرول دستیاب ہے۔ اس سے پیٹرول کم استعمال کرنے کی ترغیب ملتی ہے یا متبادل ایندھن دیکھنا پڑتا ہے۔ 
بعض ماہرین معاشیات یہ بتاتے ہیں کہ مالی اعانت (Subsidies) کے سبب یہ نہیں پتہ چلتا کہ قیمتیں اشیاء کی فراہمی کا اشارہ کرتی ہیں۔ جب بجلی اور پانی مالی امداد کی شرح پر مفت فراہم کی جاتی ہے تب ان کا استعمال ان کی قلت کی پرواہ کیے بغیر مسرفانہ (فضول خرچی کے طور پر) کیا جائے گا۔ کسان ایسی فصلوں کی کاشت کریں گے جن میں پانی کا استعمال زیادہ ہوگا کیونکہ پانی کی فراہمی مفت ہے، حالانکہ اس خطے میں آبی وسائل کمیاب ہو سکتے ہیں اور ایسی فصلیں کمیاب وسائل کو اور بھی کم کر دیں گی۔ اگر پانی کی قلت ہوتی ہے تو اس سے اس کی کمیابی کا پتہ چلتا ہے ، تب کسان ایسی فصلیں اُگائیں گے جو خطے کے لحاظ سے موزوں ہوگی۔ فرٹیلائزر اور کیڑے مار دواؤ ں  پر ملنے والی امداد کے سبب وسائل کے ضرورت سے زیاد استعمال کا نتیجہ ظاہر ہوتا ہے اس سے ماحول کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اعانتیں وسال کے مسرفانہ استعمال کے لیے راغب کرتی ہیں۔ ترغیبات کی اصطلاح میں اعانتوں کے بارے میں سوچئے اور خود سے پوچھئے کہ کیا کسانوں کو مفت بجلی فراہم کرنا معاشی نقطہ نگاہ سے عقلمندی کی بات ہے؟

اس طرح 1960 کے دہے کے آخر میں، ہندوستان کی زرعی پیداواریت کافی بڑھ چکی تھی جس سے ملک اناج میں خود کفیل ہو سکا۔ یہ ایسی حصولیابی تھی جس پر فخر کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کا منفی پہلو دیکھیں  کہ 1990 کے عشرے کے آخر میں بھی تقریباً ملک کی 65 فیصد آبادی زراعت میں لگی ہوئی تھی۔ ماہرین معاشیات پاتے ہیں کہ بحیثیت ایک ملک جو زیادہ خوشحال ہوتا ہے اس میں زراعت کے ذریعہ اشتراک کیا جانے والا تناسب اور ساتھ ہی ساتھ اس سیکٹر میں کام کرنے والی آبادی کا تناسب نمایاں طور پر کم ہوتا جاتا ہے۔ ہندوستان میں 1950 اور 1990 کے درمیان GDPکا تناسب جو زراعت کے ذریعہ مہیا ہو رہاتھا، اس میں نمایاں طور پر کمی پیدا ہوئی لیکن زراعت پر منحصر آبادی جو 1950 میں 67.5 فی صد تھی وہ گھٹ کر  1990 میں 64.9 فیصد ہو گئی۔ آبادی کا اتنا بڑا تناسب زراعت میں کیوں مشغول تھا، اگرچہ زراعتی پیداوار اس سیکٹر میں کام کرنے والے  بہت کم والے لوگوں کے ساتھ بڑھ سکتی تھی؟ اس کا جواب ہے کہ صنعتی سیکٹر اور خدماتی سیکٹر زراعتی سیکٹر میں کام کرنے والے لوگوں کوجذب نہیںکرسکے۔ بہت سے ماہرین معاشیات اسے 1950 تا 1990 کے دوران اپنائی جانے والی ہماری پالیسیوں کی ایک قابل لحاظ ناکامی کہتے ہیں۔

2.4   صنعت اور تجارت

 ماہرین معاشیات نے پایاہے کہ غریب ممالک صرف اسی وقت ترقی کر سکتے ہیں جب ان کے پاس ایک اچھا صنعتی سیکٹر موجود ہو۔ صنعت سے روزگار فراہم ہوتا ہے جو کہ زراعت میں روزگار کے مقابلے زیادہ مستحکم ہوتا ہے، اس سے جدیدکاری کو فروغ حاصل ہوتاہے اور مجموعی طورپر خوشحالی پیدا ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنج سالہ منصوبوں میں صنعتی ترقی پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ آپ نے پچھلے باب میں مطالعہ کیا ہے کہ آزادی کے وقت صنعتوں میں تنوع محدود تھا۔ یہ زیادہ تر سوتی ٹکسٹائل اور جوٹ تک ہی محدود تھیں۔ لوہے اور فولاد کی دو فرمیں،ایک جمشید پور اور دوسری کولکاتہ میں تھیں۔ لیکن ظاہر ہے اگر ہمیں معیشت کی نمو کرنی تھی تو متنوع صنعتوں کے ساتھ صنعتی بنیاد کو وسیع کرنے کی ضرورت تھی۔ 

انہیں حل کریں

  •   طلباء کا ایک گروپ ایک زرعی فارم کا دورہ کر سکتا ہے جہاں وہ مستعمل کاشتکاری کے طریقے پر کیس اسٹڈی تیار کرے، یعنی بیجوں کی اقسام، فرٹیلائزر، مشینیں، آب پاشی کے ذرائع، اس میں شامل لاگتیں، قابل فروخت فاضل پیداوار اور کمائی گئی آمدنی کے بارے میں مطالعہ۔ اگر کاشتکاری کے طریقوں میں واقع تبدیلیوں کے بارے میں  معلومات کاشتکار فیملی کے بزرگ سے حاصل کر یں تب یہ فائدہ مند ہوگا۔ 
(a)  حاصل شدہ معلومات کے بارے میں اپنی کلاس میں بحث کیجئے۔
 (b) اس کے بعد مختلف گروپ ایک چارٹ تیار کریں جس میں پیداوار کی لاگت، پیداواریت، بیجوں کے استعمال، فرٹیلائزر، آبپاشی کے ذرائع، لیا گیا وقت، قابل فروخت فاضل پیداوارفیملی کی آمدنی دکھائے گئے ہوں۔
  •     اخبار وں کے تراشے جو عالمی بینک، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF)، عالمی تجارتی تنظیم (WTO) اور G7، G8، G10 ملکوں کے مشاورت) سے متعلق ہوں جمع کریں، کاشتکاری سے متعلق اعانتوں پر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے خیالات پر بحث کیجئے۔
  •      درج ذیل جدول میں دستیاب ہندوستانی معیشت کی پیشہ ورانہ ساخت پر پائی چارٹ تیار کیجئے۔

سیکٹر       51-1950        91-1990
زراعت     1۔72              8۔66
صنعت       7۔10             7۔12
خدمات       2۔17             5۔20
 
  •    زراعتی اعانتوں کے حق و مخالفت میں دلائل دیجئے اور اس مسئلے پر اپنے خیالات کا اظہار کیجئے۔
  •      بعض ماہرین معاشیات یہ دلیل دیتے ہیں کہ دیگر ملکوں میں خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک میں کافی سبسی ڈی فراہم کی جاتی ہے اور ان کی پیداوار کو دیگر ملکوںکو برآمد کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کیا آپ کے خیال میں ہمارے کسان ترقی یافتہ ملکوں کے کسانوں کے ساتھ مسابقت کرنے کے اہل ہوں گے؟ بحث کیجئے۔

ہندوستانی صنعتی ترقی میں نجی اور سرکاری سیکٹر: پالیسی سازوں کے سامنے ایک بڑا سوال تھا کہ صنعتی ترقی میں حکومت اور نجی سیکٹر کا کیا کردار ہونا چاہئے؟ آزادی کے وقت ہندوستانی صنعتوں کے پاس ہماری معیشت کی ترقی کے لیے مطلوبہ صنعتی مہم جوئی میں (Industrial venture) سرمایہ کاری کے لیے پونجی نہیں تھی اور بالفرض اگر پونجی ہوتی بھی تو بازار اتنا بڑا نہ تھا کہ صنعت کاروں کو بڑے پروجیکٹوں کی ذمہ داری اُٹھانے کی حوصلہ افزائی ہوتی۔ خصوصاً انہیں وجوہات کی بنا پرریاست کو صنعتی سیکٹر کو فروغ دینے میں ایک جامع کردار نبھانا تھا۔ اس کے علاوہ سوشلسٹ خطوط پر ہندوستانی معیشت کو فروغ دینے کے فیصلے سے ایسی پالیسی بنی جس کے تحت حکومت کو معیشت کے اہم ترین عناصر پر اختیار حاصل تھا، جیسا کہ دوسرے پنج سالہ میں اسے پیش کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ریاست کو ان صنعتوں پرمکمل اختیار حاصل ہوگا جو معیشت کے لحاظ سے نہایت اہم ہیں۔ اور نجی سیکٹر کی پالیسیوں کی حیثیت پبلک سیکٹر کی مدد گار ہوگی جس میں سرکاری سیکٹر کا رول قائدانہ ہوگا۔ 

صنعتی پالیسی قرار داد  1956 (IPR 1956):   معیشت کی اعلیٰ ترین بلندیوں پرحکومت کے اختیارات کے ہدف کے لحاظ سے صنعتی پالیسی قرارداد (1956)  اپنائی گئی۔ اس قراردار کے ذریعہ دوسرے پنج سالہ منصوبے کی بنیاد کی تشکیل ہوئی، وہ منصوبہ جس کے ذریعہ سماج کو سوشلسٹ نمونے کی بنیاد تعمیر کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس قرارداد کے ذریعہ صنعتوں کو تین زمروں میں تقسیم کیا گیا۔ پہلا زمرہ ان صنعتوں پر مشتمل تھا، جن کی ملکیت بلا شرکت غیرے حکومت کی ہوگی، دوسرا زمرہ ان صنعتوں پر مشتمل تھا جن میں نجی سیکٹر یا ریاستی سیکٹر کی کوششوں کی تکمیل کر سکتے تھے، لیکن نئی اکائیاں شروع کرنے کی ذمہ داری تنہا محض سرکارکی تھی۔ تیسرا زمرہ باقی صنعتوں پر مشتمل تھا جو کہ نجی سیکٹر میں ہو سکتی تھیں۔

گوکہ صنعتوں کا ایک زمرہ تھا جو نجی سیکٹر کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا لیکن لائسنسوں کے نظام کے ذریعہ اس سیکٹرکو سرکاری کنٹرول کے تحت رکھا گیا۔ کسی نئی صنعت کو اس وقت اجازت نہیں ملتی جب تک کہ وہ حکومت سے لائسنس نہ حاصل کر لیتیں۔ اس پالیسی کا استعمال پسماندہ علاقوں میں صنعت کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا، اگر معاشی طور پر پچھڑے علاقے میں کوئی صنعتی اکائی قائم کی جاتی تھی تب لائسنس حاصل کرنا اس کے لیے آسان تھا۔ مزید برآں، ایسی اکائیوں کو ٹیکس میں رعایت اور کم شرح پربجلی فراہم کرنے جیسی بعض رعایتیں دی جاتی تھیں۔ اس پالیسی کا مقصد علاقائی مساوات کو فروغ دینا تھا۔
 حتیٰ کہ کسی موجودہ صنعت کو توسیعی پیداوار (ماحصل) یا پیداوار میں تنوع پیدا کرنے (اشیاء کی نئی اقسام پیدا کرنے کے لیے بھی لائسنس حاصل کرنا ہوتا تھا۔ اس کا مطلب یہ یقینی بنانا تھا کہ پیدا کی جانے والی اشیاء کی مقدار معیشت کی مطلوبہ مقدار سے زیادہ نہ ہو۔ پیداوار کی توسیع کے لیے لائسنس صرف اسی وقت دیاجاتا تھا جب حکومت کو اس بات کا اطمینان ہو جاتا کہ معیشت میں اشیاء کی بڑی مقدار کی ضرورت ہے۔

چھوٹے پیمانے کی صنعت:   1955ء میں دیہی اور چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کے لیے کمیٹی نے جسے کاروے کمیٹی بھی کہا جاتا تھا، دیہی ترقی کو بڑھاوا دینے کے لیے چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کے استعمال کے امکان پر غور کیا۔ چھوٹے پیمانے کی صنعت کی تعریف اکائی کے اثاثوں پر زیادہ سے زیادہ منظور سرمایہ کاری کے حوالے کے ساتھ کی جاتی ہے۔ یہ حد وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوئی۔ 1950 میں چھوٹے پیمانے کی صنعت وہ تھی جس میں زیادہ سے زیادہ پانچ لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہو۔ اس وقت زیادہ سے زیادہ منظور شدہ سرمایہ کاری ایک کروڑ روپے ہے۔
یہ مانا جاتا تھا کہ چھوٹے پیمانے کی صنعتیں زیادہ جاذب محنت (Labour intensive)  ہیں یعنی وہ بڑے پیمانے کی صنعتو ں  کے مقابلے زیادہ مزدور اور کاریگر استعمال کرتی ہیں اور اس لیے زیادہ روزگار کی تخلیق کرتی ہیں۔ لیکن یہ صنعتیں بڑی صنعتی فرموں کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ ظاہر ہے کہ چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ انہیں بڑی فرموں کی طرف سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے بہت سی اشیا کی پیداوار چھوٹے پیمانے کی صنعت کے لیے محفوظ کر دی گئی تھی۔ البتہ ان یونٹوں کی پیداوری صلاحیت ہی ریزرویشن کا پیمانہ بنایا گیا انھیں کم تر ایکسائز ڈیوٹی اور کم سود پر قرض کی سہولیات بھی فراہم کی گئیں۔

2.5   تجارتی پالیسی  درآمدی متبادل

جوصنعتی پالیسی ہم نے اپنائی اس کا تجارتی پالیسی سے قریبی تعلق تھا۔ پہلے سات منصوبوں میں تجارت کی خصوصیت کا یعنی جسے عام طور پر داخلی طرزِ نظر (inward looking) تجارتی حکمت عملی کہا جاتا ہے،کے ذریعہ کیا گیا تھا۔ تکنیکی طور پ اس حکمت عملی کو درآمدی متبادل (Import Substitution) کہا جاتاہے۔ اس پالیسی کا مقصد درآمدات کے عوض یا متبادل کے طور پر گھریلو پیداوار ہے۔ مثال کے لیے بیرون ملک بنی ہوئی گاڑیوں کو درآمد کرنے کے بجائے انھیں خود ہندوستان میں بنانے کے لیے صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ اس پالیسی کے تحت حکومت غیرملکی مسابقت سے گھریلو صنعتو ںکو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ درآمدات سے تحفظ کی دو شکلیں ہیں: ٹارف (شرح محصول) اور کوٹہ (مقررہ حصہ)۔ ٹارف وہ ٹیکس ہیں جو درآمد شدہ اشیاء پر لگائے جاتے ہیں۔ اس سے درآمد کی جانے والی اشیاء زیادہ مہنگی ہو جاتی ہیں اور ان کے استعمال کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔کوٹہ اشیاء کی ان مقدار کی صراحت کرتے ہیں جنہیں درآمد کیا جا سکتا ہے۔ ٹارف اور کوٹہ کا اثر یہ ہوتا ہے اس سے درآمدات پر بندش لگتی ہے اور اس لیے گھریلو فرمیں غیر ملکی مسابقت سے تحفظ حاصل کرتی ہیں۔
تحفظ کی پالیسی اس تصور پر مبنی ہوتی ہے کہ ترقی پذیر ملکوں کی صنعتیں یافتہ معیشتوں کے ذریعہ پیدا کی جانے والی اشیا سے  مسابقت کرنے کی حیثیت میں نہیں ہیں۔ یہ باور کیا جاتا ہے کہ اگر گھریلو صنعتوں کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے تب وہ رفتہ رفتہ مسابقت کرنا سیکھ جائیں گی۔ ہمارے منصوبہ سازوں کو یہ بھی ڈر تھا کہ غیر ملکی زرمبادلہ کو آسائشی اشیاء کی درآمد پر خرچ کیے جانے کا امکان ہو سکتا ہے اگر درآمدات پر بندش نہیں لگائی گئیں۔ 1980ء کے عشرے کے وسط تک برآمدات کو بڑھاوا دینے کے بارے میں بھی سنجیدگی سے غورنہیں کیا گیا۔ 
صنعتی ترقی پر پالیسوں کا اثر:   پہلے سات منصوبوں میں ہندوستان کے صنعتی سیکٹر کی حصولیابی یقینا اثر انگیز رہی ہے۔ صنعتی سیکٹر کے ذریعہ اشتراک کیے گئے GDP  کا تناسب جو51-1950میں 13 فیصد تھا وہ91-1990میں بڑھ کر 24.6 فیصد ہو گیا۔ GDP  میں صنعت کے حصے میں اضافہ ترقی کا ایک اہم اشار یہ ہے۔اس عہد کے دوران صنعتی سیکٹر کی سالانہ شرح نمو چھ فیصد قابل تعریف ہے۔ اب ہندوستانی صنعت زیادہ تر سوتی ٹکسٹائل اور جوٹ کی صنعت تک ہی محدود نہیں رہ گئی تھی۔ درحقیقت صنعتی سیکٹر 1990 تک پبلک سیکٹر کے سبب اچھی طرح متنوع ہو چکا تھا، چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کے سبب ان لوگوں کو مواقع حاصل ہوئے جن کے پاس کاروبار میں داخل ہونے کے لیے بڑی فرم شروع کرنے کی پونجی نہیں تھی۔ غیر ملکی مسابقت سے تحفظ نے انہیں الکٹرانکس، آٹو موبائل سیکٹروں کے میدان میں دیسی صنعتوں کو ترقی دینے کا اہل بنایا ورنہ دیگر صورت میں ان کی ترقی ممکن نہ ہو پاتی۔ 
ہندوستانی معیشت کی نمو میں پبلک سیکٹر(سرکاری سیکٹر) کے اشتراک کے باوجود بعض ماہرین معاشیات پبلک سیکٹر کاروباری ادارو ں  کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہیں۔ اس باب کے شروع میں یہ کہا گیا تھا کہ ابتدائی طور پر پبلک سیکٹر کی بڑے پیمانے پر ضرورت تھی۔ لیکن اب بڑی حد تک یہ باور کیا جاتا ہے کہ سرکاری انٹرپرائزز مخصوص اشیاء اور خدمات (اکثر اجارہ دارانہ طور پر) پیش کرتے آ رہے ہیں حالانکہ اب ان کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی ایک مثال ٹیلی مواصلات خدمات کا اہتمام ہے۔ حکومت کے پاس ان خدمات کی اجارہ داری تھی حالانکہ بعد میں نجی سیکٹر کی فرمیں بھی اس میدان میں آگئیں۔ مسابقت نہ ہونے کے سبب 1990ء کے عشر ے کے آخر تک کسی کو بھی ٹیلی فون کنکشن لینے کے لیے کافی عرصے تک انتظار کرنے پڑتا تھا۔ ایک اور مثال ماڈرن بریڈ کا قیام ہوسکتی ہے۔جو ڈبل روٹی والی ایک فرم تھی، گویا پرائیویٹ سیکٹر بریڈ نہیں بنا سکتا تھا! 2001 میں یہ فرم پرائیویٹ سیکٹر کو فروخت کی گئی۔نکتہ یہ ہے کہ (i)  پبلک سیکٹر اکیلے کیا کر سکتا ہے اور (ii) پرائیویٹ سیکٹر بھی کیا کر سکتا ہے۔ ان کے درمیان کوئی امتیاز نہیں کیا گیا تھا۔مثال کے لیے اب بھی صرف پبلک سیکٹر ہی قومی دفاعی وسائل اور غریب مریضوں کے لیے مفت طبی علاج فراہم کر سکتا ہے۔ اگرچہ پرائیویٹ سیکٹر ہوٹلوں کا انتظام بہتر طور پر انجام دے سکتے ہیں تاہم حکومت بھی ہوٹلوں کے انتظامی عمل انجام دیتی ہے۔ اس سلسلے میں کچھ ماہرین یہ دلیل دیتے ہیں کہ ریاست کو ان شعبوں سے ہٹ جانا چاہئے جسے پرائیویٹ سیکٹر بھی انجام دے سکتے ہیں اور حکومت ان اہم خدمات اور اپنے وسائل پر توجہ مرکوز کرے جسے پرائیویٹ سیکٹر نہیں فراہم کر سکتے۔

PIC_2انہیں حل کریں

  •      GDP کے سیکٹر سے متعلق تعاون پر درج ذیل جدول کے لیے ایک پائی چارٹ بنائیے اور 1950-91 کے دوران ترقی کے اثرات کی روشنی میں سیکٹروں کے تعاون میں فرق کے بارے میں بحث کیجئے۔

  • 1990-91 1950-51 سیکٹر
    34-9 59-0 زراعتPIC_12
    24-6 13-0 صنعتPIC_13
    40-5 28-0 خدماتPIC_14

  •    پبلک سیکٹر کاروباری اداروں (PSUs)  کی افادیت پر اپنے کلاس روم میں ایک مباحثے کا اہتمام کیجئے اس کے لیے کلاس کو دو گروپوں میں تقسیم کیجئے۔ ایک گروپ PSUs کے حق میں بول سکتا ہے جبکہ دوسرا گروپ قرارداد کی مخالفت میں بول سکتا ہے۔ (جہاںتک ممکن ہو زیادہ سے زیادہ طلباء کو شامل کریں اور مثالیں دینے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کیجئے)۔
متعدد پبلک سیکٹر فرموں کو زبردست نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن ان کا عمل جاری رہتا ہے کیونکہ سرکاری ادارے کو بند کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ تقریباً ناممکن ہوتا ہے، بھلے ہی یہ ملک کے محدود وسائل کازیاںہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پرائیویٹ فرمیں ہمیشہ نفع بخش ہوتی ہیں (درحقیقت کچھ پبلک سیکٹر فرمیں ابتدائی طور پر نجی فرمیں تھیں جو کہ خسارے کے سبب بند ہونے کے قریب تھیں، اس کے بعد ورکرس کی ملازمت کے تحفظ کے لیے ان کو قومیایاگیا یعنی ان کو سرکاری تحویل میں لیا گیا)۔ تاہم خسارے والی فرمیں نقصانات کے باوجود جاری رہنے پر وسائل کو ضائع نہیں کریں گی۔
صنعت کو شروع کرنے کے لائسنس حاصل کرنے کی ضرورت کا صنعتی ادارو ں  کی جانب سے غلط استعمال کیا گیا تھا۔ بڑے صنعت کار ایک نئی فرم شروع کرنے کے لیے لائسنس نہیں حاصل کرتے تھے بلکہ اپنے کاروباری حریفوں کو نئی فرم شروع کرنے سے روکنے کے لیے کرتے تھے۔ مقرر کیے گئے اضافی ضوابط جنہیں ’پرمٹ لائسنس راج‘ کہا جاتا تھا بعض فرموں کو زیادہ مؤثر ہونے سے روکنے میںاستعمال ہوئے۔ کس طرح اپنی اشیاء کو بہتر بنایا جائے اس کے بارے میں سوچنے کی بجائے صنعت کاروں نے لائسنس حاصل کرنے یا متعلقہ وزراء کے ساتھ اپنا حلقہ اثر (lobby) قائم کرنے کی کوشش میں زیادہ وقت صرف کیا۔
غیر ملکی مسابقت سے تحفظ کی بھی اس بنیاد پر تنقید کی جا رہی ہے کہ یہ بہتر ہونے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہونے کے بعد بھی جاری ہے۔ درآمدات پر بندشوں کے سبب ہندوستانی صارفین کو وہی سب کچھ خریدنا پڑتا تھا جو ہندوستانی پیداکار پیدا کرتے یا تیار کرتے تھے۔ پیداکار اس بات سے آگاہ تھے کہ ان کے پاس خریداری کے لیے مجبور خریدار ہیں، لہٰذا انہیں اپنی اشیاء کی کوالٹی کو بہتر بنانے کی کوئی ترغیب نہیں مل رہی تھی۔ وہ بھلا کوالٹی کو بہتر بنانے کی کیوں سوچتے جبکہ وہ اونچی قیمت پر ہلکی کوالٹی کے سامان فروخت کر سکتے تھے۔ درآمدات سے مسابقت ہمارے پیداکاروں کو زیادہ بہتر کارکردگی کے لیے مجبور کر سکتی تھی۔تاہم، دانش وروں کا یہ کہنا ہے کہ پبلک سیکٹر منافع کمانے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ ملک کی فلاح و بہبود کو بڑھاوا دینے کے لیے ہوتے ہیں۔ اس نظریے کے مطابق پبلک سیکٹر کی فرموں کی تشخیص اس بنیاد پر کی جانی چاہئے کہ وہ کس حد تک لوگوں کی فلاح و بہبود میں تعاون کرتی ہیں نہ کہ اس بنیاد پر کہ وہ کتنا منافع کماتی ہیں۔ جہاں تک تحفظ کامعاملہ ہے کچھ ماہرین معاشیات اس نظریے کے حامل ہیں کہ ہمیں غیر ملکی مسابقت سے اپنے پیداکاروں کو تحفظ فراہم کرنا چاہے تاوقتیکہ امیر ممالک ایسا کرنا جاری رکھتے ہیں۔ ان تمام تضادات کے ہوتے ہوئے ماہرین معاشیات ہماری پالیسی میں تبدیلی کی مانگ کرتے ہیں۔ اس کے کچھ دیگر مسائل کے سبب حکومت نے 1991ء میں ایک نئی معاشی پالیسی شروع کی۔

2.6   اختتام

پہلے سات منصوبوں کے دوران ہندوستانی معیشت کی ترقی یقیناً اثر انگیز تھی۔ آزادی کے وقت جو صورتحال تھی اس کے مقابلے ہماری صنعتیں زیادہ متنوع ہوگئیں۔ غذائی پیداوار میں ہندوستان خود کفیل بنا جو سبز انقلاب کی بدولت ممکن ہوا۔ زمینی اصلاحات کا نتیجہ ناپسندیدہ زمینداری نظام کے خاتمے کی شکل میں برآمد ہوا۔ تاہم، بہت سے ماہرین معاشیات متعدد پبلک سیکٹر کاروباری اداروں کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے۔ حکومتی ضوابط کی زیادتی کی وجہ سے صنعت کاری(enterepreneurship)کی نمو میں رکاوٹ پڑی۔ خود اعتمادی کے نام پر ہمارے پیداکاروں کو غیر ملکی مسابقت سے تحفظ ملا اور اس سے تیار کی جانے والی اشیاء کی کوالٹی کو بہتر بنانے میں انہیں کوئی ترغیب نہیں ملی۔ہماری پالیسیاں، داخلی ضروریات کے لیے تھیں اور اس لیے ہم ایک مضبوط برآمداتی سیکٹر کو فروغ دینے میں ناکام رہے۔ بدلتے ہوئے عالمی معاشی منظرنامے کے سیاق و سباق میں بڑی حد تک معاشی پالیسی کی اصلاحات کی ضرورت محسوس کی گئی اور نئی معاشی پالیسی 1991 میں شروع کی گئی تاکہ ہماری معیشت زیادہ مؤثر ثابت ہو۔ یہ اگلے باب کا موضوع ہے۔

PIC_9خلاصہ

  •      آزادی کے بعد، ہندوستان میں ایک ایسے معاشی نظام کا تصور کیا گیا جو سوشلزم اور سرمایہ کاری نظام دونوں کی بہترین خصوصیات کو شامل کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ مخلوط معیشت کے نمونے کی شکل میں برآمد ہوا۔
  •     سبھی معاشی منصوبہ بندی پنج سالہ منصوبوں کے ذریعہ وضع کی گئی۔
  •       پنج سالہ منصوبوں کے عام اہداف تھے۔ نمو، جدیدکاری، خود کفالت اور مساوات۔
  •     زراعتی سیکٹر میں اہم پالیسی ترغیبات تھیں، زمینی اصلاحات اور سبز انقلاب۔ ان ترغیبات سے غذائی اناج کی پیداوار میں ہندوستان کو خود کفیل بننے میں مدد ملی۔
  •       زراعت پر منحصر لوگوں کا تناسب کم نہیں ہوا جیسا کہ توقع کی گئی تھی۔
  •      صنعتی سیکٹر میں پالیسی ترغیبات کے سبب GDP میں اس کا تعاون بڑھا۔
  •      صنعتی سیکٹر کی بڑی خامیوں میں سے ایک پبلک سیکٹر کی فعالیت کا قابل اطمینان نہ ہونا تھا جب اسے شروع کیا گیا تبھی اسے خسارہ اُٹھانا پڑا اور اس کے سبب ملک کے محدود وسائل کا زیاں ہوا۔

PIC_8مشقیں


  1      منصوبے کی تعریف کیجئے۔ 
  2       ہندوستان نے منصوبہ بندی کیوں اپنائی؟
  3       منصوبوں کے اہداف کیوں ہونے چاہئیں؟
  4      زیادہ پیداوار دینے والے بیج (HYV) کیسے بیج ہوتے ہیں؟
  5      قابل فروخت فاضل پیداورکیا ہے؟
  6      زراعتی سیکٹر میں نافذ کیے جانے والی زمینی اصلاحات کی ضرورت اور اقسام کی وضاحت کیجئے۔
  7      سبز انقلاب کیا ہے؟ اسے کیوں  نافذ کیا گیا ہے اور اس سے کسانوں کو کیا فائدہ پہنچا؟ مختصراً وضاحت کیجئے۔
  8      منصوبہ بندی کے مقصد کے طور پر نمو مع مساوات کی وضاحت کیجئے۔
 9      کیا روزگار کی تخلیق کی روشنی میں منصوبہ بندی کے مقصدکے طور پر جدیدکاری تضاد پیدا کرتی ہے؟ وضاحت کیجئے۔
  10    ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے یہ کیوں ضروری تھا کہ منصوبہ بندی کے مقصد کے طور پر خود اعتمادی کی پالیسی کو اپنایا جائے؟
  11   معیشت کی شعبہ جاتی ترکیب کیا ہے؟ کیا یہ ضروری ہے کہ خدماتی سیکٹر کو کسی معیشت کے GDP کے لیے زیادہ سے زیادہ تعاون کرنا چاہئے؟ تبصرہ کیجئے۔
  12    منصوبہ بندی مدت کے دوران صنعتی ترقی پبلک سیکٹر کو اولین کردار کیوں تفویض کیا گیاتھا؟
  13   سبز انقلاب کے باعث حکومت اپنے ذخیروں کو بڑھانے میں حسب ضرورت اناج حاصل کرنے کی اہل ہوئی، جسے قلت کے زمانے میں استعمال کیا جا سکتا تھا۔ اس بیان کی وضاحت کیجئے۔
  .14   حالانکہ اعانتوں (Subsidies) سے کسانوں کی نئی ٹکنالوجی اپنانے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے لیکن یہ حکومت کے مالیہ پر کافی بڑا بوجھ ہے۔ اس حقیقت کی روشنی میں سبسڈی کی افادیت پر بحث کیجئے۔
  15   سبز انقلاب کے تضاد کے باوجود ہماری 65 فیصد آبادی 1990 تک زرعی سیکٹر میں مصروف رہی، ایسا کیوں؟
  16   اگرچہ صنعتوں کے لیے پبلک سیکٹر بہت ضروری ہے تاہم متعدد پبلک سیکٹر ادارے کافی خسارہ اُٹھاتے ہیں اور معیشت کے وسائل کو کمزور کرتے ہیں۔ اس حقیقت کی روشنی میں پبلک سیکٹر اداروں کی افادیت پر بحث کیجئے۔
  17    وضاحت کیجئے کہ کس طرح درآمدی متبادل گھریلو صنعت کو تحفظ فرام کر سکتے ہیں۔
  18  پرائیویٹ سیکٹر کو IPR 1956 کے تحت کیوں اور کیسے منضبط کیا گیا تھا؟  
  19درج ذیل کا ملان کیجئے۔

A وہ بیج جوزیادہ پیداوار دیتے ہیں
B اشیاء کی مقدار جو درآمدکی جاسکتی ہے
C منصوبہ بندی کمیشن کا چیئر پرسن
 D ایک سال میں معیشت میں تیار کی گئی سبھی آخری اشیاء کی زرعی قدر اور خدمات
E زراعت کے میدان میں اس کی پیداواریت بڑھانے کے لیے اصلاحات
  F پیداواری سرگرمیوں کے لیے حکومت کے ذریعہ دی جانے والی زرعی یا مالی امداد
  1 وزیر اعظم
2 مجموعی گھریلو پیداوار
  3 کوٹا  (مقررہ حصہ )
 4 زمینی اصلاحات
HYV   5  بیج
 6 اعانت یا مالی امداد(Subsidy)

PIC_7حوالہ جات


بھاگوتی،جے۔1993"IndiainTransition:.Freeing,theconomy" آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، دہلی
ڈانڈیکرویایم۔"FortyYearsAfter2004Independenceبمل جان (ادارت) "TheIndian Economy:Problems-and prospects"پنگوئین،دہلی
جوشی، وجےاورآئی۔ایم۔ڈی لٹل،"India's EconomicReforms"1996. 1991تا 2001؛ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس ، دہلی
موہن، راکیش "IndustrialPolicyand Controls"2004بمل جالان (ادارت) " The Indian Economy Problems and Prospcets, Penguin , Delhi
راؤسی ۔ ایچ ہنومنتھ ، 2004"Agricultural:Policyand Performance" بمل جالان (ادارت) "The IndianEconomy:Problemsand  Prospects"پنگوئین، دہلی۔