Skip to content


Hindustan_ki_maashi_taraqqi

نرم کاری، نجکاری 

اور

عالم گیریت: ایک جائزہ

  اس باب کے مطالعہ کے بعد طلباء:

  •       1991 میں ہندوستان میں اصلاحی پالیسیوں کے شروع کیے جانے کا پس منظر سمجھیں گے؛
  •      اس میکینزم کو سمجھیں گے جس کے ذریعہ اصلاحی پالیسیوں کو شروع کیا گیا تھا؛
  •      ہندوستان کے لیے عالم گیریت کے عمل اور اس کے مفہوم کو ذہن نشین کریں گے؛
  •     مختلف سیکٹروں میں اصلاحی عمل کے اثرات سے آگاہ ہوں گے۔
’’آج دنیا میں ایک عام رائے ہے کہ معاشی ترقی ہی سب کچھ نہیں ہے، اور GDP لازماً سماج کی ترقی کی ایک پیمائش نہیں ہے۔‘‘ کے۔آر۔نارائنن   (سابق صدرجمہوریہ ہند)

1 .3 تعارف

پچھلے باب میں آپ نے مطالعہ کیا ہے کہ آزادی کے وقت سے ہندوستان نے سرمایہ دارانہ معیشت کے نظام اور ساتھ ہی ساتھ منصوبہ بند معاشی نظام کے فائدوں کو ملاکر ایک مخلوط معیشت کی بنیادی ساخت اپنائی ہے۔ کچھ صاحب علم یہ دلیل دیتے ہیں کہ اتنا عرصہ گزرنے پر اس پالیسی کے نتائج طرح طرح کے قواعد و ضوابط اور قوانین کی شکل میں ظاہر ہوئے ہیں جن کا مقصد معیشت کو کنٹرول کرنا اور منضبط کرنا تھا اور بدلے میں  یہ آخرکار نمو اور ترقی کے عمل میں رکاوٹ بنا۔ دیگر بیان کرتے ہیں کہ ہندوستان جس نے اپنی ترقیاتی راہ تقریباً جمود کی حالت سے شروع کی تھی، تب سے وہ بچتوں میں افزائش حاصل کرنے کا اہل ہوا، ایک متنوع صنعتی سیکٹر کو فروغ دیا جس میں طرح طرح کی اشیاء پیدا کی جاتی ہیں اور زراعتی پیداوار کی برقرار توسیع کا عملی تجربہ حاصل کیا جس سے غذائی تحفظ(خوراک کی کفالت) کی یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔

1991ء میں ہندوستان اپنے بیرونی قرض سے متعلق، معاشی بحران کے دور سے گزر رہا تھا، حکومت غیر ممالک سے لیے گیے اپنے قرضوں کی ادائیگی کی اہل نہیں ہو پا رہی تھی۔   
زر مبادلہ کے ذخائر جس سے ہم عام پیٹرول اور دیگر اہم مدوں کی درآمد کے لیے برقرار رکھتے تھے اس سطح تک گر گیا جو کہ پندرہ دن کے لیے کافی نہیں تھا۔ یہ بحران ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ اور بھی شدید ہو گیا۔ یہ ساری وجوہات ایسی تھیں کہ حکومت کو پالیسی اقدامات کے ایک نئے مجموعے کی شروعات کرنی پڑی۔ جس نے ہماری ترقیاتی حکمت عملی کا رُخ بدل دیا۔ اس باب میں ہم بحران کے پس منظر پر نگاہ ڈالیں گے اورحکومت کے ذریعہ اٹھائے گئے اقدامات اور معیشت کے مختلف سیکٹروں پر ان کے اثرات کا بھی مشاہدہ کریں گے۔

3.2    پس منظر

 1980 کی دہائی میں ہندوستانی معیشت کے غیر مؤثر بندوبست سے مالیاتی بحران کا آغاز ہوا۔ ہم جانتے ہیں کہ مختلف پالیسیوں کو اور اس کے عمومی انتظام کو نافذ کرنے کے لیے حکومت کو مختلف وسائل جیسے ٹیکس کاری، پبلک سیکٹر میں کاروباری ادارو ںکو چلانے وغیرہ کے ذریعہ فنڈوں کی تخلیق کرنی پڑتی ہے۔ جب اخراجات آمدنی سے زیادہ ہو جاتے ہیں تب حکومت کو خسارہ (Deficit) پورا کرنے کے مقصد سے بینکوں اور ملک میں رہنے والے لوگوں سے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے بھی مالیات کا انتظام کرنے کے لیے قرض لینا پڑتا ہے۔ جب ہم پیٹرولیم جیسی اشیاء درآمد کرتے ہیں تب ہمیں ڈالروں میں ادائیگی کرنی ہوتی ہے جو کہ ہم اپنی برآمدات سے کماتے ہیں۔
ترقیاتی پالیسیوں کا تقاضہ تھا کہ خواہ محصولات بہت ہی کم کیوں نہ ہوں پھر بھی حکومت کو بے روزگاری، غربت، آبادی میں غیر معمولی اضافہ جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے اپنے محاصل سے تجاوز کرناضروری تھا۔ حکومت کے ذریعہ ترقیاتی پروگراموں پر مسلسل ہونے والے اخراجات سے اضافی محاصل کی تخلیق نہیں ہوتی۔ مزید برآں، حکومت داخلی وسائل جیسے ٹیکس کاری سے حسب ضرورت آمدنی پیدا کرنے کی اہل نہیں تھی۔ جب حکومت اپنی آمدنی کے ایک بڑے حصے کو ان شعبوں جیسے سماجی سیکٹر اور دفاع پر خرچ کر رہی تھی جن سے فوری آمدنی اور فوائد حاصل نہیں ہوتے تب ایسی صورت میں اسے اپنے باقی محاصل کو انتہائی مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت تھی۔ سرکاری سیکٹر کے کاروباری اداروں سے حاصل آمدنی اتنی زیادہ نہیں تھی کہ بڑھتے اخراجات کو پورا کیا جا سکتا۔ کبھی کبھی ہمارا بیرونی زرمبادلہ جو کہ دیگر ملکوں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے اُدھار لیا جاتا تھا وہ صرفی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے خرچ ہو جاتا تھا۔ اس طرح کی فضول خرچیوں کو نہ تو کم کرنے کی کوشش کی گئی اور نہ ہی بڑھتی درآمدات کے لیے ادائیگی کے سلسلے میں برآمدات بڑھانے پر مناسب توجہ دی گئی۔
1980ء کے دہے کے آخر میں سرکاری اخراجات اتنے بڑے فرق کے ساتھ اپنے محاصل سے متجاوز ہونا شروع ہوئے کہ یہ ناقابل برداشت ہو گئے۔ متعدد ضروری اشیاء کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ درآمدات میں برآمدات کی افزائش کے متناسب ہوئے بغیر نہایت اعلیٰ شرح پر اضافہ ہوا۔ جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ غیر ملکی زر مبادلہ کے ریزرو اس سطح تک گر گئے کہ اس سے دو ہفتے سے زیادہ مالیات کی اشیاء بھی درآمدنہیں کی جا سکتی تھیں۔ سود ادا کرنے کے لیے جو بین الاقوامی اُدھار دینے والوں کو ادا کیا جاتا تھا حسب ضرورت غیر ملکی زر مبادلہ موجود نہیں تھا۔
 ہندوستان نے بین الاقوامی بینک برائے تعمیر نو اور ترقی International Bank for Reconstruction and Developmnet,(IBRD)  جسے عام طور پر عالمی بینک کے نام سے جانا جاتا ہے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) سے رجوع کیا اور اس بحران سے نمٹنے کے لیے 7 بلین ڈالر کا انتظام کیا۔ قرض سے فائدہ اُٹھانے کے لیے ان بین الاقوامی ایجنسیوں نے یہ توقع کی کہ ہندوستان پرائیویٹ سیکٹر پر لگائی گئی بندشوں کو ہٹانے کے ذریعے نرم کاری کرے گا اور معیشت کو قابل رسائی بنائے گا جس سے بہت سے شعبوں میں حکومت کا کردار کم ہوگا اور تجارتی بندشوں کو ختم کردیا جائے گا۔
ہندوستان عالمی بینک اور IMF کی شرطوں سے متفق ہوا اوراس نے ایک نئی اقتصادی پالیسی (NEP) کا اعلان کیا۔ نئی اقتصادی پالیسی وسیع معاشی اصلاحات پر مشتمل پالیسیوں کا زور معیشت میں ایک زیادہ مسابقتی ماحول تخلیق کرنے اور فرموں کے داخل ہونے اور نمو سے متعلق رکاوٹوں کو دور کرنے کے تئیں تھا، پالیسیوں کے اس مجموعے کو موٹے طور پر دو گروپوں میں درجہ بند کیا جا سکتا ہے، استحکام کاری اقدامات اور ساختی اصلاحی اقدامات۔استحکام کاری اقدامات قلیل مدتی اقدامات ہیں جن کا مقصد ان بعض کمزوریوں کو دور کرنا ہے جو ادائیگیوں کے توازن اور افراطِ زر پیدا کرنے میں فروغ پا گئی ہیں۔ سیدھے سادے لفظوں میں اس کا مطلب ہے کہ حسب ضرورت غیر ملکی زر مبادلہ ریزرو برقرار رکھنے اور بڑھتی قیمتوں کے روکنے کی ضرورت تھی۔ جبکہ دوسری طرف ساختی اصلاحی پالیسیاں طویل مدتی اقدامات ہیں جن کا مقصد معیشت کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور ہندوستانی معیشت کے مختلف حصوں میں اس کی سختیوں کو ہٹانے کے ذریعہ اس کی بین الاقوامی مسابقت کو بڑھانا تھا۔ حکومت نے مختلف پالیسیوں کا آغاز کیا جنہیں تین عنوانات کے تحت رکھا جاتا ہے یعنی نرم کاری (Liberalisation)، نجی کاری  (Privatisation) اور عالم گیریت(Globalisation) ۔ پہلی دو حکمت عملیاں ہیں اور آخری ان حکمت عملیوں سے حاصل نتیجہ ہے۔

3.3    نرم کاری

جیسا کہ شروع میں بتایا گیا ہے کہ قواعد اور قوانین جن کا مقصد معاشی سرگرمیو ں  کو منضبط کرنا تھا وہ نمو اور ترقی میں بڑی رکاوٹیں بن گئیں۔ نرم کاری کی شروعات ان بندشوں کو ختم کرنے اور معیشت کے مختلف سیکٹروں کو قابل رسائی بنانے کے لیے کی گئی۔ اگرچہ کچھ نرم کاری اقدامات کی شروعات صنعتی لائسنس فراہم کرنے کے معاملے میں 1980 کے دہے میں کی گئی تھی لیکن برآمد-درآمد پالیسی، ٹکنالوجی کا درجہ بڑھانے، مالیاتی پالیسی اور غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق اصلاحی پالیسیاں 1991 میں شروع کی گئی تھیں جو کہ زیادہ جامع تھیں۔ آئیے کچھ اہم شعبوں کا مطالعہ کریں جیسے صنعتی سیکٹر، مالیاتی سیکٹر، ٹیکس اصلاحات، غیرملکی زر مبادلہ کی مارکیٹ میں اور تجارت اور سرمایہ کاری سیکٹر جن پر 1991 اور اس کے بعد زیادہ توجہ دی گئی۔

صنعتی سیکٹر سے متعلق ضابطے یا پابندیاں ہٹانا:   ہندوستان میں انضباطی نظام کئی طرح سے نافذ کیا گیا تھا۔ جیسے (i) صنعتی لائسنسنگ جس کے تحت ہرصنعت کار(Enterpreneur)  کو کسی فرم کی شروعات کرنے، فرم کو بند کرنے یا پیدا کی جانے والی اشیاء کی مقدار کا فیصلہ کرنے کے لیے حکومتی عہدیداروں سے اجازت لینی ہوتی تھی۔ (ii)کئی صنعتوں میں نجی سیکٹر کو اجازت نہیں دی گئی تھی۔ (iii) کچھ اشیاء ایسی تھیں جنہیں صرف چھوٹے پیمانے کی صنعتوں میں تیار کیا جا سکتاتھا اور (iv)  منتخب صنعتی اشیاء کی قیمت مقرر کرنے اور تقسیم کرنے پر کنٹرول۔

اصلاحی پالیسیاں 1991ء میں اور اس کے بعد شروع کی گئیں جن کے ذریعہ ان پابندیوں کو ہٹایا گیا۔ کچھ اشیاء جیسے شراب، سگریٹ، خطرناک کیمیکل، صنعتی دھماکہ خیز مادے، الکٹرانکس ایرو اسپیس، ادویات اور دواسازی کے علاوہ تقریباًسبھی پر صنعتی لائسنس کاری کو ختم کر دیا گیا۔اب جوصنعتیں جو صرف عوامی سیکٹر کے لیے محفوظ کی گئی ہیں  وہ دفاعی سازوسامان، ایٹمی توانائی تخلیق اور ریلوے ٹرانسپورٹ کا جز ہیں۔ بہت سی اشیاء جو چھوٹے پیمانے کی صنعتیں پیدا کرتی تھیں انہیں اب ریزرو سے ہٹا دیا گیا ہے۔ بہت سی صنعتوں میں بازار کو قیمتوں کے تعین کے لیے آزاد چھوڑ دیا گیا ہے۔ 

مالیاتی سیکٹر سے متعلق اصلاحات:   مالیاتی سیکٹر میں مالیاتی ادارے جیسے کمرشیل بینک، سرمایہ کاری بینک، اسٹاک ایکسچینج کا کاروبار اور غیر ملکی زر مبادلہ بازار شامل ہیں۔ ہندوستان میں مالیاتی سیکٹر کو ریزرو بینک آف انڈیا(RBI) کے ذریعہ ریگولیٹ کیا جاتا ہے۔ آپ واقف ہوں گے کہ ہندوستان میں سبھی بینک اور دیگر مالیاتی ادارے RBI کے مختلف معیارات اور قواعدو ضوابط کے تحت ریگولیٹ کیے جاتے ہیں۔ ریزرو بینک آف انڈیا ایک رقم کی مقدار کا فیصلہ کرتا ہے جنہیں بینک اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔ وہ سود کی شرح، مختلف سیکٹروں وغیرہ کو قرض دینے کی نوعیت وغیرہ کا تعین کرتا ہے۔ مالیاتی سیکٹر میں اصلاحات کا ایک اہم مقصد RBI کے مالیاتی سیکٹر کے لیے بطور ضابطہ کار (Regulator)کردار کو کم کرکے بطور معاون یا سہولت کار کے کردار کو بڑھانا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ مالیاتی سیکٹر کو اس بات کی اجازت ہو سکتی ہے کہ وہ ریزرو بینک سے مشورہ کیے بغیر بہت سے معاملوں پر فیصلہ لے سکتے ہیں۔

اصلاحی پالیسیوں کے سبب نجی سیکٹر کے بینکوں میں، خواہ ہندوستانی ہوں یا غیر ملکی، غیر ملکی سرمایہ کاری کی حد میں تقریباً 50 فیصد کا اضافہ ہوا۔ وہ بینک جو بعض شرائط کو پورا کرتے تھے انہیں بغیر ریزروبینک کی منظوری کے نئی شاخوں کو قائم کرنے اور ان کے موجودہ برانچ نیٹ ورک کو معقول بنانے کی آزادی دی گئی۔ اگرچہ بینکوں کو ہندوستان یا بیرونی ممالک سے وسائل کی تخلیق کرنے کی اجازت دی گئی تاہم اکاؤنٹ ہولڈر (کھاتہ داروں) اور ملک کے مفادات کے تحفظ کے لئے بعض پہلوئوں کو RBI  کے تحت برقرار رکھا گیا ہے۔ غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کار (FII)جیسے مرچنٹ بینکرس، میوچوئل فنڈس، پنشن فنڈس کو اب ہندوستانی مالیاتی بازاروں میں  سرمایہ کاری کی اجازت دی گئی ہے۔

ٹیکس سے متعلق اصلاحات:  ٹیکس اصلاحات حکومت کی ٹیکس کاری اور عوامی اخراجات سے متعلق پالیسیوں کے بارے میں ہیں جنہیں مجموعی طور پر مالیاتی پالیسی کے طور پرجانا جاتا ہے۔ ٹیکس دو طرح کے ہوتے ہیں: بلاواسطہ ٹیکس اور بالواسطہ ٹیکس۔بلاواسطہ ٹیکس افراد کی آمدنیوں اور کاروباری اداروں کے منافعوں پر لگائے جانے والے ٹیکسوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ 1991ء سے انفرادی آمدنی پرلگائے جانے والے ٹیکسوں میں مسلسل کمی ہوتی رہی ہے کیونکہ یہ محسوس کیا گیا تھا کہ آمدنی ٹیکس کی اونچی شرحیں ٹیکس چوری کی خاص وجہ تھی۔ اب اسے عام طور پر تسلیم کیا جاتا ہے کہ آمدنی ٹیکس کی معتدل شرحیں بچت اور آمدنی کے رضاکارانہ انکشاف کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ کارپوریشن ٹیکس کی شرح جو کہ پہلے بہت زیادہ اونچی تھی اسے بھی رفتہ رفتہ کم کیا گیا ہے۔ بالواسطہ ٹیکسوں، اشیاء پر لگائے جانے والے ٹیکسوں میں بھی اصلاح کی کوششیں کی گئیں ہیں تاکہ اشیاء اور اجناس کے لیے یکساں قومی بازار قائم کرنے میں سہولت پیدا ہو۔

 2016میں ہندوستانی پارلیمنٹ نے ایک قانون ’’گڈس ایند سروسز ٹیکس ایکٹ‘‘2016 (GST-Act) پاس کیا ہے تاکہ ٹیکس ادائیگی کو آسان بنایا جا سکے اور ہندوستان میں مجموعی بالواسطہ ٹیکس نظام کومتعارف کرایا جا سکے، یہ قانون جولائی کو نافذہوا، یہ توقع کی گئی ہے کہ حکومت کے لیے اضافی محصول اکٹھا کیا جا سکے گا اور ٹیکس حیلہ باز ی کو کم کیا جا سکے گا اور ایک قومیت کے تصور کو قائم کیا جا سکے گا۔ اس میدان میں اصلاحات کا دیگر جز تسہیل ہے۔ ٹیکس ادا کرنے والوں کی طرف سے بہتر طور پر تعمیل کی حوصلہ افزائی کے سلسلے میں متعدد طریقہ ہائے کام کو آسان بنادیا گیاہے اور شرح کو بھی بڑی معقول حد تک کم کیا گیا ہے۔

زر مبادلہ سے متعلق اصلاحات:  بیرونی سیکٹر میں پہلی اہم اصلاح زرِ مبادلہ مارکیٹ میں 1991 میں ادائیگیوں کے توازن سے متعلق بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کے طور پر کی گئی، غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے روپے کی قدرکم(devalue)  کر دی گئی۔ اس سے بیرونی زرِ مبادلہ کے داخلی بہاؤ میں اضافہ ہوا۔اور حکومتی کنٹرول سے زرِ مبادلہ بازار میں روپے کی قدر کے تعین میں اُتار چڑھاؤ کو آزاد چھوڑ دیا گیا۔ اب عموماً بازارہی زرِ مبادلہ کی شرحوں کا تعین کرتے ہیں جو کہ زرِ مبادلہ کی مانگ و رسد پر مبنی ہوتی ہے۔

تجارت اورسرمایہ کاری پالیسی سے متعلق اصلاحات:    تجارت اور سرمایہ کاری کے میدان میں نرم کاری کی شروعات پیداوار میں بین الاقوامی مسابقت کے ساتھ ساتھ معیشت میں بیرونی سرمایہ کاری اور ٹکنالوجی میں اضافے کے لیے کی گئی تھی۔ اس کا مقصد مقامی صنعتوں کی کارکردگی بڑھانے اور جدید ٹکنالوجیوں کو اپنایا جانا بھی تھا۔

گھریلو صنعتوں کے تحفظ کے سلسلے میں ہندوستان درآمدات پر مقداری بندشوں کے طور طریقے کی پابندی کر رہا تھا۔ درآمدات پر سخت کنٹرول اور ٹیرف (شرح محصول) کو بہت اونچا رکھنے کے ذریعہ اس کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ ان پالیسیوں کے سبب کارکردگی اور مسابقت کم ہوا جس سے صنعتی سیکٹر کی نمو میں سست رفتاری آئی۔ تجارتی پالیسی سے متعلق اصلاحات کا مقصد (i) درآمدات اور برآمدات پر لگائی گئی مقداری بندشوں کو ختم کرنا اور (ii) محصول کی شرح میں کمی اور  (iii) درآمدات کے لیے لائسنس کاری طریقہ عمل کو خارج کرنا تھا۔ درآمدی لائسنس کاری کو سوائے مضر اور ماحولیاتی طور پر حساس صنعتوں کے معاملوں کو چھوڑ کر ختم کر دیا گیا۔ مصنوعاتی اشیاء صرف اور زراعتی اشیاء کی درآمدات پر مقداری بندشو ںکو بھی اپریل 2001 میں پوری طرح سے ہٹا دیا گیا۔ برآمداتی ڈیوٹی کو بین الاقوامی بازار میں ہندوستانی اشیاء کی مسابقتی حیثیت کو بڑھانے کے لیے ہٹا دیا گیا۔

انہیں حل کریں 

  •            قومی بینک، نجی بینک، نجی غیر ملکی بینک، FII اور میوچوئل فنڈ میں ہر ایک کی مثال دیجئے۔
  •       اپنے محلے میں اپنے والدین کے ساتھ بینک جائیں۔ یہ جو کام انجام دیتے ہیں ان کا مشاہدہ کریں اور معلومات حاصل کریں۔ اس پر اپنے کلاس کے ساتھیوں سے مذاکرہ کیجئے اور اس پر ایک چارٹ تیار کیجئے۔   
  •       اپنے والدین سے دریافت کیجئے کہ کیا وہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ اگر ہاں، تو پوچھئے کہ وہ کیوں ایسا کرتے ہیں اور کس طرح کرتے ہیں؟
  •     کیاآپ جانتے ہیں کہ کافی طویل عرصے سے ممالک، بیرون ممالک ٹیکسوں کے لیے ریزرو کے طور پر چاندی اور سونا رکھا کرتے تھے۔ دریافت کیجئے کہ کس شکل میں ہم اپنا زرِ مبادلہ ریزرو رکھتے ہیں اور اخباروں، رسائل اور معاشی سروے کے ذریعہ معلوم کیجئے کہ کتنا غیر ملکی زرِ مبادلہ ریزرو آج کل ہمارے پاس ہے۔ یہ بھی دریافت کیجئے کہ درجہ ذیل ممالک کی غیر ملکی کرنسی اور اس کا شرح مبادلہ کیا ہے؟
غیر ملکی کرنسی کی ایک اکائی کی قدر(قیمت)ہندوستانی روپے میں کرنسی ملک


یو.ایس.اے
یو.کے.
جاپان
چین
کوریا
سنگا پور
جرمنی

3.4    نجکاری

اس سے مراد سرکاری ملکیت کے اداروں کی ملکیت یا مینجمنٹ (انتظام) سے دست برداری ہے، سرکاری کمپنیاں، نجی کمپنیوں میں دو طرح سے تبدیل ہو سکتی ہیں۔ (a)  پبلک سیکٹر کمپنیوں  کی ملکیت اور مینجمنٹ سے حکومت کی دست برداری کے ذریعہ اور یا (b)  پبلک سیکٹر کمپنیوں کی پوری طرح فروخت کے ذریعے۔

باکس 3.1  :   نورتنوں اور پبلک انٹرپرائز سے متعلق پالیسیاں

آپ نے اپنے بچپن میں مشہور نو رتنوں کے بارے میں ضرور سنا ہوگا۔ یہ نورتن مہاراجہ وکرمادتیہ کے شاہی دربار میں فنون، ادب اور علم کے میدان کے ممتاز افراد تھے۔ کارکردگی کو بہتر بنانے، پیشہ ورانہ خصوصیت کو سرایت کرنے اور معتدل عالمی ماحول میں زیادہ مؤثر طور پر مسابقت کا اہل بنانے کے سلسلے میں حکومت نے پبلک سیکٹر انٹر پرائزز(PSEs)کا انتخاب کیا اور انہیں مہارتن نورتن اور منی رتن قرار دیا۔ کمپنیوں کو مؤثر طور پر چلانے سے متعلق  مختلف فیصلے لینے میں اُنہیں مالی انتظامی اور عملی امور سے متعلق زیادہ خود مختاری دی گئی تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ منافع کماسکیں۔ اس قسم کی خود مختاری منافع میں چلنے والی کمپنیوں کو بھی دی گئی جنھیں مِنی رتن کا نام دیا گیا۔
مرکزی سرکاری انٹرپرائزوں کو مختلف حیثیتوں میں  منتخب کیا گیا ہے۔ بعض پبلک انٹر پرائزوں کی مثالیں ان کی حیثیت کے ساتھ درج ذیل ہے۔ (1)مہارتن(a)انڈین آئل کارپوریشن لمیٹیڈ اور (b)اسٹیل اتھارٹی آف انڈیا لمیٹیڈ(ii)نورتن (a)ہندوستان ایروناٹکس لمیٹیڈ(b)مہانگر ٹیلی فون نگم لمیٹیڈ اور (iii)منی رتن(a)بھارت سنچار نگم لمیٹیڈ (b)ایئر پورٹ اتھارٹی آف انڈیا اور (c)انڈین ریلوے کیٹرنگ اینڈ ٹورزم کارپوریشن لمیٹیڈ۔
یہ منافع بخش پبلک سیکٹر اکائیاں ابتدائی طور پر1950 اور 1960 کے دہے میں قائم کی گئی تھیں جب خود کفالتی عوامی پالیسی کا اہم عنصر تھی۔ ان کی تشکیل اس مقصد سے کی گئی تھی تاکہ بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا جائے اور عوام کو سیدھے طور پر روزگارمہیا کیا جائے ،اور آخری اشیاء کی پہنچ عوام تک معمولی لاگت پرہوسکے اور کمپنیاں خود کاروبار میں گہری دلچسپی لینے والوں یا حصہ داروںکو جوابدہ ہوں۔ حیثیت دینے کا نتیجہ ان کمپنیوں کی بہتر کارکردگی کی شکل میں برآمد ہوا ۔ ماہرین نے بت پبلک انٹر پرائزوں کو ان کی توسیع میں سہولت دینے اور انہیں  عالمی پیمانے پر کردار نبھانے کا اہل بنانے کے بجائے حکومت نے ان کی جزوی نجی کاری ارتداد سرمایہ یااصل کاری کو ختم کرنے کے ذریعہ کی۔ حال میں، حکومت نے انھیں پبلک سیکٹر میں برقرار رکھنے اور عالمی بازاروں میں انہیں وسعت دینے اور مالیاتی بازاروں سے ان کے وسائل بڑھانے کا اہل بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

PIC_2انہیں حل کریں

  •         بعض دانشور سرمایہ کاری (disinvestment)کو پبلک سیکٹر کے کاروباری اداروں کو بہتر بنانے کے سلسلے میں پوری دنیا میں پھیلتی نجکاری کی لہر کے طور پر لیتے ہیں جبکہ دوسرے اسے سرکاری جائیداد کو مخصوص مفاد کی خاطر قطعی طور پر فروخت کرنا کہتے ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
  •         ایک پوسٹر تیار کریں جو 10 تا 15 اخبار کے تراشے (news clippings)  پر مشتمل ہو۔ ان پبلک سیکٹر اکائیوں کے لوگو اور اشتہارات بھی جمع کریں، اسے نوٹس بورڈ پر لگائیں اور کلاس روم میں ان کے بارے میں بحث کریں۔
  •        کیا آپ کے خیال میں صرف غیرمنافع بخش کمپنیوں کی ہی نجکاری کی جانی چاہئے؟ کیوں؟
  •         نقصان اُٹھانے والے انٹر پرائزز کا خسارہ عوامی بجٹ سے پورا کیا جاتا ہے۔ کیا آپ اس بیان سے متفق ہیں؟ بحث کیجئے۔


پبلک سیکٹر انٹر پرائیزز کی نجی کاری جو پبلک سیکٹر اکائیوں کے حصص عوام کو فروخت کرکے کی جاتی ہے اسے سرمایہ کی نکاسی (disinvestment) کے طور پر جانا جاتا ہے۔ حکومت کے مطابق فروخت کا مقصد بالخصوص مالیاتی نظم کو بہتر بنانا اور جدیدکاری میں سہولت پیدا کرنا ہوتا ہے۔ یہ بھی تصورکیا گیا ہے کہ نجی پونجی اور انتظامی اہلیتوں  کو پبلک سیکٹر کی اکائیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔ حکومت کا خیال تھا کہ نجی کاری سے FDI کی ملک میں آمد کے لیے مضبوط قوت محرکہ فراہم ہو سکتی ہے۔
حکومت نے پبلک سیکٹر اکائیوں کی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش انتظامی فیصلے لینے میں اُنہیں خود مختاری دینے کے ذریعہ بھی انجام دی۔ مثال کے لیے کچھ پبلک سیکٹر اکائیوں کومہارتن، نورتن اورمنی رتنوں کے طور پر خصوصی حیثیت  دی گئی۔ (دیکھئے باکس 3.1)

3.5   عالم گیریت  (Globalisation) 

عالم گیریت، نرم کاری اور نجکاری کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ گلوبلائزیشن کو عام طور پر عالمی معیشت کے ساتھ ملک کی معیشت کے اتحاد کے طور پر باور کیا جاتا ہے۔ یہ ایک پیچیدہ مظہر ہے۔ یہ مختلف پالیسیوں کے مجموعہ کا ایک نتیجہ ہے جس کا مقصد عظیم بین انحصاری اور اتحاد کے تئیں دنیا کو تبدیل کرنا ہے۔ اس میں معاشی، سماجی اور جغرافیائی حدوں سے ماورا نیٹ ورک کی تخلیق اور سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں۔ گلوبلائزیشن کے ذریعہ اس طرح کے رابطہ قائم کرنے کی جستجو کی جاتی ہے جن سے ہندوستان میں ہونے والے واقعات میلوں دور پر اثر انداز ہو سکیں۔ یہ دنیا کو ایک واحدکُل میں بدل رہا ہے یاسرحدوں سے پاک دنیا کی تخلیق کر رہا ہے۔
آؤٹ سورسنگ:   (بیرونی ذرائع سے کام کا معاہدہ):       عالم گیریت عمل کا یہ ایک اہم نتیجہ ہے۔ آوٹ سورسنگ میں کوئی کمپنی بیرونی ذرائع سے زیادہ تر دیگر ممالک سے، باقاعدہ خدمات حاصل کرتی ہے جو کہ پہلے داخلی طور پریا ملک کے اندر  ہی فراہم ہوتی تھی۔ (جیسے قانونی مشاورت، کمپیوٹر خدمات، اشتہار، سیکورٹی، ہر ایک کمپنی کے متعلقہ فیصلوں کے ذریعہ فراہم کی جاتی تھی)۔ معاشی سرگرمی کی شکل میں آوٹ سورسنگ میں  حال کے زمانے میں  کافی اضافہ ہوا ہے، اس کی وجہ مواصلات کے تیز ترین طریقوں خاص طور پر انفارمیشن ٹکنالوجی، (IT) کا فروغ ہے۔ بہت سی خدمات جیسے آواز پر مبنی کاروباری عمل (جنہیں عام طور پر BPO یا کال سنٹرس کہا جاتاہے)، ریکارڈ کیپنگ، اکائونٹینسی، بینک کاری خدمات، میو زک ریکارڈنگ، فلم ایڈیٹنگ، کتاب کی نقل نویسی، طبی صلاح یا تدریس کو ترقی یافتہ ممالک میں کمپنیوں کے ذریعہ ہندوستان سے آوٹ سورس کیا جا رہا ہے۔ جدید مواصلاتی رابطوں بشمول انٹرنیٹ، متن، آواز اور بصری ڈیٹا کو ان خدمات کے لحاظ سے براعظموں اور قومی سرحدوں میں نہایت مختصر وقت میں عددی صورت میں لایا اور ترسیل کیا جاتا ہے۔ اکثر وبیشتر کثیرملکی کارپوریشنیں اور حتیٰ کہ چھوٹی کمپنیاں بھی اپنی خدمات کی آوٹ سورسنگ ہندوستان سے کرتی ہیں جہاں وہ مہارت اور دستیابی کے معقول درجے کے ساتھ سستی لاگت کافائدہ اٹھاتی ہیں۔ ہندوستان میں کم تر اُجرت پر ہنر مند افرادی قوت کی دستیابی کے سبب اصلاح کے بعد کے دَور میں عالمی آوٹ سورسنگ کے لیے  ہندوستان اہم مرکز بن گیا ہے۔
PIC_15
شکل3.1.    آوٹ سورسنگ (بیرونی ذرائع سے کام کا معاہدہ) بڑے شہروں میں نئے روزگارکے مواقع

باکس 3.2  :   عالمی پیمانے پر توسیع

عالم گیریت کے سبب آپ نے دیکھا ہوگا کہ بہت سی ہندوستانی کمپنیاں اپنے قدم دوسرے ملکوں میں جما چکی ہیں۔ مثلاً ہندوستان پبلک سیکٹر کے کاروباری ادارے تیل اور قدرتی گیس کا رپوریشن کی ذیلی کمپنی اواین جی سی ودیش کے جو کہ تیل اور گیس کی دریافت اور پیداوار میں مصروف ہے، 16ممالک میں منصوبے چل رہے ہیں۔ 1907میں قائم کردہ نجی ٹاٹااسٹیل کمپنی جو دنیا کی دس اہم اسٹیل کمپنیوں میں سے ایک ہے، 26ملکوں میں کام کر رہی ہے اور اپنی پیداوار پچاس ملکوں میں فروخت کرتی ہے۔ اس کے پچاس ہزار ملازمین دوسرے ملکوں میں کام کررہے ہیں۔ہندوستان کی پانچ اہم آئی ٹی کمپنیوں میں سے ایک ایچ سی ایل ٹیکنالوجی  (HCL Technology)کے 31ملکوں میں دفاتر ہیں اور تقریباً 15ہزار افراد بیرونِ ملک کام کر رہے ہیں۔ ابتدا میں ڈاکٹر ریڈی کی تجربہ گاہیں ہندوستان کی بڑی کمپنیوں کو دوا فراہم کرنے کی ایک چھوٹی کمپنی تھی۔آج دنیا بھر میں اس کے دوا بنانے کے کارخانے اور تحقیقی مراکز موجود ہیں۔
ماخذ:  www.rediff.com 14.10.2014

عالمی تجارتی تنظیم:   عالمی تجارتی تنظیم کا قیام 1995 میں "General Agreement on Trade and Tariff (GATT)" کی جگہ لینے کے طور پر عمل میں آیا۔ GATT کو 1948 میں 23 ملکوں کے ساتھ ایک عالمی تجارتی تنظیم کے طور پر قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد بین الاقوامی بازار میں سبھی کو یکساں مواقع فراہم کرنا تھا۔ WTO سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ضوابط پر مبنی ایسا تجارتی نظام قائم کرے جس میں ممالک تجارت پر من مانی بندشیں نہ لگا سکیں۔ اس کے علاوہ اس کا مقصد پیداوار اور خدمات کی تجارت کو بڑھانا، عالمی وسائل کے مناسب استعمال کو یقینی بنانا اور ماحولیات کو تحفظ فراہم کرنا بھی ہے۔

انہیں حل کریں 

  •    بہت سے دانشور دلیل دیتے ہیں کہ عالم گیریت ایک خطرہ ہے کیونکہ یہ متعدد سیکٹروں میں حکومت کے کردار کو کم کر دیتا ہے۔ اس کے جواب میں بعض دلیل دیتے ہیں کہ یہ ایک مواقع ہے جہاں مسابقت اور گرفت کے لیے بازار کھلے ملتے ہیں۔ کلاس روم میں اس موضوع پر بحث کیجئے۔
  •  ایک چارٹ تیار کیجئے جو پانچ کمپنیوں کی فہرست پر مشتمل ہو جن کی ہندوستان میں BPO خدمات ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کی کل فروخت بھی شامل کیجئے۔
  •  کیا آپ آن لائن کلاس میں شامل ہوئے ہیں یا 19-Covid کی وجہ سے اپنے کسی اور استاد کی گزشتہ سال میں ٹیلی ویزن۔موبائل فون۔ کمپیوٹر پر کلاس لیتے ہوئے ویڈیو دیکھی ہے؟ انفارمیشن ٹیکنا لوجی سے متعلق بپنا تجربہ شیر کریں 
  •   کال سینٹروں پر ملازمت کیا قائم پذیر ہے؟ کال سنٹروں میں کام کرنے والے لوگوں کے لیے کس طرح کی مہارتیں ہونی چاہئیں تاکہ وہ باقاعدہ آمدنی حاصل کر سکیں۔
  •    اگر کثیر ملکی کمپنیاں ہندوستان جیسے ممالک سے متعدد خدمات کی آوٹ سورسنگ، سستی افرادی قوت کے سبب کرتی ہیں تب ان ممالک میں رہنے والے لوگوں کے ساتھ کیا ہوگا جہاں یہ کمپنیاں واقع ہیں؟ بحث کیجئے۔


WTO معاہدہ بین الاقوامی تجارت کے فروغ کے لیے (باہمی اور کثیر رخی) ٹیرف کو ہٹانے اور ساتھ ہی ساتھ غیر ٹیرف بندشوں کے ہٹانے اور سبھی ممبر ملکوں کو عظیم تر بازار کی رسائی فراہم کرنے کے ذریعہ سہولت مہیا کرکے اشیاء اور ساتھ ہی ساتھ خدمات میں تجارت کا احاطہ کرتے ہیں۔
WTO کے ایک اہم ممبر کے طور پر، ہندوستان مناسب عالمگیر اُصولوں ، ضوابط اور حفاظتی تدابیر کو وضع کرنے اور ترقی پذیر دنیا کے مفادات کی تائید کرنے میں پیش پیش رہا ہے۔ ہندوستان نے WTO میں تجارت کی نرم کاری کے تئیں اپنے وعدوں کی پابندی، درآمدات پر مقداری بندوشوں کو ہٹانے اورمحصولات شرح کو کم کرنے کے ذریعہ کی ہے۔
بعض دانشور سوال اُٹھاتے ہیں کہ ہندوستان کے  WTO ممبر ہونے کی افادیت کیا ہے کیونکہ کافی بڑی حجم کی  بین الاقوامی تجارت ترقی یافتہ ملکوں کے درمیا ن ہوتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک ان کے ملکوں میں زراعتی اعانت دیے جانے کی شکایت درج کراتے ہیں، جبکہ ترقی پذیر ممالک اپنے آپ کو ٹھگا سا محسوس کرتے ہیں جب انہیں اپنے بازاروں کو ترقی یافتہ ملکوں کے لیے کھولنے پر مجبور کیا جاتا ہے 


جدول 3.1
GDP کا فروغ اور بڑے سیکٹر ( فیصد میں)

2014-2015 2013-2014 2012-2013 2007-2012 2002-2007 1992-2001 1981-91 سیکٹر
-0-2 4-2 1-5 3-2 2-3 3-3 3-6 زراعت
7-0* 5 3-6 7-4 9-4 6-5 7-1 صنعت
9-8/* 7-8 8-1 10 7-8 8-2 6-7 خدمات
7-4 6-6 5-6 8-2 7-8 6-4 5-6 کل

ماخذ:   معاشی سروے، مختلف سالوں کے لیے،
 وزارت مالیات حکومت ہند۔
نوٹ: یہ نیا سال ہے جس کے لیے موازنہ جاتی مواد موجود ہے۔
لیکن ترقی یافتہ ملکوں کی بازاروں تک ان کے لیے رسائی ممکن نہیں بنائی جاتی۔ آپ کا اس سلسلے میں کیا خیال ہے؟

3.6  اصلاحات کے دوران ہندوستانی معیشت:  ایک جائزہ

اصلاحات کا عمل اپنے آغاز سے پندرہ سال کے بعد پورا ہوا۔ آئیے اب ہم اس مدت کے دوران ہندوستانی معیشت کی کارکردگی پر ایک نظر ڈالیں۔معیشتوں میں کسی معیشت کی نمو کی پیمائش مجموعی گھریلو پیداوار (GDP) کے ذریعہ کی جاتی ہے۔ جدول 3.1 پر ایک نظر ڈالیں۔1991 کے بعد ہندوستان میں دو دہائی تک مسلسل طور پر GDP میں نمایاں تبدیلی ہوئی، GDP میں اضافہ 91-1980 کی %5.6 سے بڑھ کر 12-2007 میں 8.2 فیصد ہوگئی۔ اصلاح کے مدت کے دوران زراعت کی نمو میں تنزلی ہوئی جبکہ صنعتی سیکٹروں میں اتار چڑھاؤ اور خدماتی سیکٹر کی نمو میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نمو کی وجہ خاص طور پر خدماتی سیکٹر کو نمو ہے، 15-2012 کے دوران مختلف سیکٹروں کی شرح نمو میں 1991 کے بعد سب سے بڑی تنزلی نظر آتی ہے، جبکہ 14-2013 کے دوران زراعت میں زبردست اضافہ درج کیا گیا، اس سیکٹر میں پچھلے برسوں میں منفی نمو دکھائی دی تھی۔ 15-2014 میں اس سیکٹر سے سب سے زیادہ شرح نمو 10.3 فیصد درج کی۔ صنعتی سیکٹر میں 13-2012 میں زبردست گراوٹ نظر آئی اب اس میں مسلسل مثبت نمو دکھائی دینا شروع ہوئی ہے۔
PIC_17
 شکل  3.2ہندوستانی برآمدات کے لیے IT(انفارمیشن ٹکنالوجی)  صنعت کو ایک بڑا شریک کار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

 معیشت کو کھول دینے سے غیر ملکی سرمایہ کاری اور غیر ملکی مبادلہ کے ذخیرے (reserves) میں تیز اصافہ ہوا ہے۔ غیر ملکی زر سرمایہ کاری جس میں غیر ملکی راست سرمایہ کاری اور غیر ملکی ادارہ جاری سرمایہ کاری شامل ہے وہ 91-1990میں100ملین امریکی ڈالر سے بڑھ کر18-2017 میں  30 بلین امریکی ڈالرہو گیا ۔ غیر ملکی زرِ مبادلہ میں اضافہ 91-1990 کے 6 بلین امریکی ڈالر سے 19-2018میں413 بلین امریکی ڈالر ہو گیا۔غیر ملکی زر مبادلہ میں اضافہ91-1990میں تقریبا6 بلین امریکی ڈالرسے19-2018 میں413امریکی ڈالر کو پہنچ گیا-‏‏‏‏ اس وقت ہندوستان کا دنیا میں سب سے زیادہ غیر ملکی زرِ مبادلہ رکھنے والے ملکوں میں ساتواں مقام ہے۔
 ہندوستان کو1991 سے گاڑیوں کے پرزوں۔دوا سازی سےمتعلق اشیا، انجینئرنگ سے متعلق سامانوں، انفارمیشن ٹکنالوجی کے سافٹ ویئر اور ٹکسٹائل کے ایک کامیاب برآمد کنندہ ملک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ بڑھتی ہوئی قیمتوں کو بھی قابو میں رکھا گیا ۔
دوسری طرف کچھ بنیادی مسائل جو ہماری معیشت کو درپیش ہیں خاص طور پر روزگار، زراعت، صنعت، بنیادی ڈھانچے کے فروغ اور مالیاتی نظم جیسے مسائل سے نمٹنے کا اہل نہ ہونے کے سبب اصلاحی عمل پر کافی تنقید بھی کی گئی ہے۔

نمو اور روزگا ر:     اگرچہ اصلاحات کی مدت میں GDP کی شرح نمو بڑھی لیکن ماہرین کا کہناہے کہ اصلاح سے متعلق نمو میں ملک میں کافی روزگار کے مواقع کی تخلیق نہیں ہوسکی۔ آپ اگلی اکائی میں روزگار کے مختلف پہلوئوں اور نمو کے درمیان ربط کا مطالعہ کریں گے۔

زراعت میں اصلاحات:  اصلاحات سے زراعت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکا، جہاں شرح نمو کی رفتار دھیمی رہی ہے۔

1991سےزراعتی سیکٹر میں خاص طور پر بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں جس میں آب پاشی، بجلی، سڑک، بازار واسطہ اور تحقیق اور توسیع (جس نے سبز انقلاب میں اہم کردار ادا کیا) شامل ہیں، اصلاح کے دوران عوامی سرمایہ کاری میں گراوٹ آئی ہے۔ مزیدبرآں فرٹیلائزر پر سبسڈی ہٹانے سے پیداوار کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے،  جس سے چھوٹے اور محروم کسانو ںپر بہت زیادہ خراب اثر پڑا ہے۔ مزید برآں عالمی تجارتی تنظیم (WTO) کی شروعات سے اس سیکٹر میں پالیسی کی کافی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جیسے زراعتی اشیاء پر درآمد ڈیوٹی میں کمی، کم سے کم معاون قیمت کا ہٹایا جانا اور زراعتی اشیاء پر مقداری پابندیوں کا ہٹایا جانا، اس سے ہندوستان کے کسانوں پر انتہائی خراب اثر پڑا ہے کیونکہ اب انہیں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی مسابقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مزید یہ کہ زراعت میں برآمدحامی پالیسی حکمت عملیوں کے سبب گھریلو بازار کے لیے پیداوار سے برآمداتی بازار کے لیے پیداوار کی منتقلی ہوتی جس میں اناج کی پیداوار کے بجائے نقدی فصلوں پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔

صنعت میں اصلاحات:  صنعتی نمو میں بھی سست رفتاری درج کی گئی ہے۔ ایسا مختلف اسباب، جیسے سستی درآمدات، بنیادی ڈھانچے میں ناکافی سرمایہ کاری وغیرہ کے سبب مصنوعات کی مانگ میں کمی کے سبب ہوا ہے۔ گلوبلائزڈ دنیا میں، ترقی یافتہ ممالک سے اشیا اور پونجی کی وسیع آمدکے لیے اپنی معیشت کو کھولنے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے درآمد شدہ اشیا سے اپنی صنعتوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گھریلو اشیاکے لیے مانگ کی جگہ اس طرح اب سستی درآمدات نے لے لی ہے۔ گھریلو مصنوعات درآمدات سے مسابقت کا سامنا کر رہے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے سے متعلق سہولیات جس میں پاور سپلائی بھی شامل ہے، سرمایہ کاری میں کمی کے سبب اب بھی ناکافی ہے۔ اس طرح گلوبلائزیشن بیرونِ ممالک سے اشیاء اور خدمات کی آزادانہ نقل و حرکت کے لیے اکثر مشکل حالات پیدا کرنے کے طورپر دیکھی جاتی ہیں جو کہ ترقی پذیر ممالک میں مقامی صنعتوں اور روزگار کے مواقع پر خراب اثرات مرتب کررہی ہیں۔

PIC_2انہیں حل کریں

  •    پچھلے باب میں آپ نے مختلف سیکٹروں بشمول زراعت مالی اعانتو ں کے بارے میں مطالعہ کیا ہے۔ کچھ ماہرین دلیل دیتے ہیں کہ زراعت میں سبسڈی کو ہٹا دینا چاہئے تاکہ اس سیکٹر کو بین الاقوامی سطح پر مسابقتی بنایا جا سکے۔ کیا آپ اس سے متفق ہیں؟ اگر ایسا ہے تب اسے کیسے انجام دیا جا سکتا ہے؟ کلاس میں بحث کریں۔
  •   درج ذیل اقتباس کو پڑھیں اور کلاس میں بحث کریں۔
مونگ پھلی آندھراپردیش میں تلہن کی ایک اہم فصل ہے۔ مہادیو جو آندھراپردیش کے اننت پور ضلع کا ایک کسان تھا، اپنے نصف ایکڑ زمین پر مونگ پھلی اُگانے کے لیے10000 روپے خرچ کرتا تھا۔ اس لاگت میں مال (بیج، فرٹیلائزر وغیرہ) محنت، بیلوں اور مشینری کے استعمال کرنے کی لاگت شامل تھی۔ مہادیو دو کیونٹل موم پھلی کی فصل حاصل کرتا تھا اور7000 روپے فی کیونٹل کے حساب سے فروخت کر دیتا تھا، اس طرح 10000 روپے خرچ کرکے 14000 روپے کی آمدنی حاصل کرتا تھا۔ اننت پور ایک ایسا ضلع ہے جہاں خشک سالی کا امکان بنا رہتا ہے۔ معاشی اصلاحات کے نتیجے میں حکومت نے کسی بڑے آبپاشی پروجیکٹ پر کام نہیں کیا۔ حال ہی میں اننت پور میں موم پھلی کی فصل کو فصل کی بیماری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کم تر حکومتی اخراجات کے سبب تحقیقی اور توسیعی کام ٹھپ سا ہو گیا ہے۔ مہادیو، اور اس کے دوستوں نے متعلقہ حکام کو  اس سلسلے میں باربار آگاہ کیا لیکن اس میں کوئی کامیابی نہیں ملی۔ سامان پر (بیج، فرٹیلائزر)، سبسڈی بھی کم ہو گئی تھی، جس سے مہادیو کی کاشتکاری لاگت میں اضافہ ہوا۔ مزید برآں، مقامی بازاروں میں سستے درآمد شدہ خوردنی تیلوں کی افراط ہو گئی جو کہ درآمدات پر پابندی ہٹانے کے نتیجے میں ممکن ہوا۔ مہادیو اب اس لائق نہیں رہ گیا کہ وہ بازار میں اپنی موم پھلی فروخت کر سکے کیونکہ وہ اپنی لاگت بھر قیمت بھی نہیں حاصل کر پا رہا تھا۔
کیا مہادیو جیسے کسان کی مالی حالت اصلاحات کے بعد بہتر ہوئی؟ کلاس میں بحث کیجئے۔

مزید برآں، ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک کی پہنچ اب بھی ترقی یافتہ ممالک کی بازاروں تک اونچی غیر ٹیرف بندشوں کے سبب نہیں ہے۔ مثال کے لیے، اگرچہ ٹکسٹائل اور لباس کی برآمدات پر سبھی کوٹا بندشوں کو ہماری طرف سے ہٹا لیا گیا ہے تاہم یو۔ایس۔اے نے اب بھی ہندوستان اور چین سے کپڑے کی درآمدات پر اپنی کوٹا بندشوں کو نہیں ہٹایا ہے۔

سرمایہ کی نکاسی (حصص کی فروخت):  ہر سال حکومت پبلک سیکٹر اکائیوں کے سرمایہ کی واپسی حصص کی فروخت (disinvestment)  کے لیے ایک نشانہ مقرر کرتی ہے۔ مثال کے لیے 92-1991 میں سرمایہ کی واپسی حصص کی فروخت کے ذریعہ 2,500 کروڑ روپے کی فراہمی کا ہدف مقرر کیا گیا۔ حکومت ہدف سے زیادہ 3,040 کروڑ روپے فراہم کرنے میں کامیاب ہوئی۔ 18-2017 میں تقریباً 1,00,000 کروڑ روپے کا ہدف تھااور تقریباً 1,00,075 کروڑ روپے حاصل کیا گیا۔ تنقیدی نکتہ یہ ہے کہ پبلک سیکٹر اکائیوں کے کمی کم قیمت آنکی گئی اورانھیں پرائیویٹ سیکٹرکے ہاتھوں فروخت کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کو کافی نقصان اٹھانا پڑا۔اور عوامی جائیداد کو یکمشت فروخت کرنا پڑرہا ہے

باکس 3.3:   سیری سیلا المیہ

نرم کاری، نجی کاری اور عالم گیریت کے جز کے طور پر حکومت نے پاور سیکٹر میں اصلاح کی شروعات کی۔ ان اصلاحات کا نہایت اہم اثر بجلی کے نرخ میں غیر معمولی اضافے کی صورت میں ہوا۔ چونکہ گھریلو اور چھوٹے پیمانے کے سیکٹر میں صنعتی ورکروں کی ایک بڑی تعداد پاور لوم پرمنحصر تھی جو کہ بجلی کے ذریعہ ہی چلائے جاتے تھے اس لیے اتنے اونچے محصولات کا خاصا اثر ان پر پڑا۔ مزید برآں، جبکہ پاور سیکٹر میں اصلاحات کے سبب ٹیرفوں میں اضافہ ہوا لیکن پاور (بجلی) پیداکار پاورلوم صنعت کو معیاری بجلی فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ چونکہ پاورلوم میں کام کرنے والوں کی اُجرت کپڑے کی پیداوار سے وابستہ تھی اس لیے بجلی میں کٹوتی کا مطلب بُنکروں کی اجرتوں میں کٹوتی تھا جو کہ ٹیرف میں اضافے سے پہلے ہی سے دقت میں تھے۔ اس سے بُنکروں کے ذریعۂ معاش میں ایک بحرانی صورتحال پیدا ہو گئی اور اس کے سبب آندھرا پردیش میں سیری سیلا نام کے ایک چھوٹے سے قصبے میں پچاس پاور لوم ورکروں نے خودکشی کر لی۔
  •      کیا آپ کے خیال میں بجلی کی شرح میں اضافہ نہیں ہونا چاہئے تھا؟ 
  •      بجلی پیداکرنے والی کمپنیوں کی منافع پذیری کو بہتر بنانے کے لیے آپ کیا تجاویز دے سکتے ہیں؟
علاوہ ازیں حصص کی فروخت سے حاصل رقم حکومتی محاصل میں کمی کو پورا کرنے کے لیے استعمال کی گئی اور اسے پبلک سیکٹر اکائیوں کی ترقی اور ملک میں سماجی بنیادی ڈھانچوں کی تعمیر میں استعمال نہیں کیا گیا۔
اصلاحات اور مالیاتی پالیسیاں :   معاشی اصلاحات نے عوامی اخراجات بالخصوص سماجی سیکٹروں میں اخراجات میں اضافہ کرنے کی حد قائم کرنے کا کام کیا۔ اصلاحات کی مدت میں ٹیکس میں ہونے والی کمیوں کامقصد محاصل میں اضافہ کرنا اور ٹیکس چوری کو روکنا تھا لیکن اس کا نتیجہ حکومت کے لیے ٹیکس محاصل بڑھنے کی صورت میں نہیں برآمد ہوا۔ اس کے علاوہ اصلاحی پالیسیوں میں ٹیرف کی کمی بھی شامل تھی جس سے کسٹم ڈیوٹی کے ذریعہ محاصل بڑھانے کا امکان بھی کم ہوگیا۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ٹیکس میں رعایتیں فراہم کی گئیں جس سے مزید ٹیکس محاصل بڑھانے کا دائرہ مختصر ہوا۔ اس سے ترقیاتی اور فلاح و بہبود سے متعلق اخراجات پر منفی اثر پڑا۔

3.7   اختتام

نرم کاری اور نجکاری کی پالیسیوں کے ذریعہ عالم گیریت کے عمل نے ہندوستان اور دیگر ممالک کے لیے مثبت کے ساتھ ساتھ منفی نتائج بھی پیش کئے۔ کچھ ماہرین یہ دلیل دیتے ہیں کہ گلوبلائزیشن کو عالمی بازاروں تک زیادہ رسائی، اعلیٰ ٹکنالوجی اور بین الاقوامی میدان میں ترقی پذیر ممالک کی بڑی صنعتوں کے ذریعہ اہم کردار ادا کرنے کے بڑھتے امکان کے لحاظ سے ایک موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔
اس کے برخلاف، ناقدین کی یہ دلیل ہے کہ گلوبلائزیشن ترقی یافتہ ملکوں کی ایک حکمت عملی ہے جس کے تحت وہ اپنے بازاروں کو دیگر ممالک میں پھیلانا چاہتے ہیں، ان کے مطابق یہ غریب ملکوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بہبود اور ان کی شناخت سے مصالحت کرنا ہے۔ مزید یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ مارکیٹ خاصی گلوبلائزیشن سے ملکوں اور لوگوں کے درمیان معاشی عدم مساوات میں اضافہ ہوا۔
ہندوستان کے سیاق و سباق میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کچھ مطالعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ 1990 کے ابتداء میں جو بحران پیدا ہوا تھا وہ بنیادی طور پر ہندوستانی سماج میں گہرائی سے جڑ جما چکی عدم مساوات کا نتیجہ تھا اور معاشی اصلاحات کی پالیسیوں کو حکومت کے ذریعہ بیرونی طور پر سوچے سمجھے پالیسی پیکیج کے ساتھ شروع کیا گیا تھا۔ جس سے عدم مساوات میں مزید اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ اس سے صرف اونچی آمدنی والے گروپوں کی آمدنی اور صرف کے معیار میں اضافہ ہوا اور بنیادی اور اہم سیکٹروں جیسے زراعت اور صنعت جو کہ ملک میں لاکھوں لوگوں کے لیے ذریعہ معاش فراہم کرتے ہیں کے بجائے خدماتی سیکٹر جیسے ٹیلی مواصلات، انفارمیشن ٹکنالوجی، مالیات، تفریح، سیاحت اور مسافر نوازی خدمات، حقیقی جائیداد اور تجارت میں کچھ منتخب شعبوں میں نمو پرتوجہ مرکوز کی گئی۔

PIC_9خلاصہ

  •        معیشت کو برآمدات اور افراطِ زر میں اضافے کو متناسب کیے بغیر درآمدات بڑھنے کے سبب غیر ملکی زرِ مبادلہ میں کمی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ہندوستان نے مالی بحران اور بین الاقوامی تنظیموں جیسے عالمی بینک اور بین الا قومی مالیاتی فنڈ (IMF)  کے دبائو کے سبب 1991 میں اپنی معاشی پالیسیوں کو تبدیل کیا۔
  •    گھریلو معیشت میں صنعتی او رمالیاتی سیکٹروں میں اہم اصلاحات کی گئیں، اہم بیرونی سیکٹر اصلاحات میں غیر ملکی زرِ مبادلہ سے متعلق ضوابط اور درآمد سے متعلق نرم کاری شامل ہیں۔
  •    پبلک سیکٹر کی کارکردگی میں بہتری کے خیال سے اس کے کردار کو کم کرنے اور اسے پرائیویٹ سیکٹر کے لیے کھولنے کے بارے میں اتفاقِ رائے تھا۔ اسے حصص کی فروخت اور نرم کاری اقدامات کے ذریعہ انجام دیا گیا۔
  •    گلوبلائزیشن نرم کاری اور نجکاری کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ اس کا مطلب عالمی معیشت کے ساتھ ملک کی معیشت کو مربوط کرنا ہے۔
  •     صنعتی اور سروس سیکٹر میں آوٹ سورسنگ ایک اُبھرتی ہوئی  سرگرمی ہے۔
  •       عالمی تجارتی تنظیم (WTO)  کا مقصد اُصول پر مبنی تجارتی نظام قائم کرنا ہے تاکہ عالمی وسائل کی زیادہ سے زیادہ  افادیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
  •         اصلاحات کے دوران زراعت اور صنعت کی نمو میں کمی پیدا ہوئی لیکن خدماتی سیکٹر میں نمو درج کی گئی۔
  •         اصلاحات سے زراعتی سیکٹر کو فائدہ نہیں ہوا۔ اس سیکٹر میںسرکاری سرمایہ کاری میں بھی کمی پیدا ہوئی ہے۔
  •         صنعتی سیکٹر میں فروغ سستی در آمدات ہونے اور کم ترسرمایہ کاری کے سبب سست رفتاری سے ہوا۔

PIC_8مشقیں


 1    ہندوستان میں اصلاحات کیوں شروع کی گئی تھیں؟
 2    عالمی تجارتی تنظیم ،WTO کا رکن بننا کیوں ضروری ہے؟
 3    ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے ہندوستان میں مالی کنٹرولر کا رول چھوڑ کر سہولت کار کا رول کیوں اپنایا؟
 4    ریزرو بینک آف انڈیا کمرشیل بینکوں کو کس طرح کنٹرول کرتا ہے؟
 5     روپے کی قدرمیں کمی سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
 6    درج ذیل میں امتیاز کیجئے۔
    (i)     کلیدی اور کم ترین فروخت (Strategic and Minority Sale) 
    (ii)    باہمی اور کثیر فریقی تجارت
(iii)   محصولاتی اور غیر محصولاتی رکاوٹیں
  7    محصولات کیوں عائد کیے گئے ؟
  8    مقداری پابندیوں کا کیا مطلب ہے؟
 9    ایسے پبلک سیکٹر کاروباری ادارے جو منافع حاصل کر رہے ہیں کیاان کی نجکاری کی جانی چاہئے؟ کیا آپ اس سے متفق ہیں؟ کیوں؟
 10    کیا آپ کے خیال میں ہندوستان کے لیے آوٹ سورسنگ اچھی ہے؟ ترقی یافتہ ممالک اس کی مخالفت کیو ں کرتے ہیں؟
11    ہندوستان کو اس سے بعض فوائد حاصل ہیں جو اسے آوٹ سورسنگ کے لیے پسندیدہ مقام بناتے ہیں۔ یہ فوائد کیا ہیں؟ 
12    کیا آپ کے خیال میں حکومت کی نورتن پالیسی ہندوستان میں پبلک سیکٹر کی کارکردگی کوبہتر بنانے میں مددگار ہے؟
13 خدماتی سیکٹر کے اعلیٰ نمو کے لیے ذمہ دار اہم عوامل کیا ہیں؟
14 زراعتی سیکٹر پر اصلاحی عمل کا خراب اثر پڑتا دکھائی دیتا ہے۔ کیوں؟
15 اصلاح کی مدت میں صنعتی سیکٹر کی کارکردگی کیوں ناقص رہی ہے؟
16 سماجی انصاف اور بہبود کی روشنی میں ہندوستان میں معاشی اصلاحات پر بحث کیجئے۔



PIC_2مجوزہ اضافی سرگرمیاں

      1درج ذیل جدول 2004-05کی قیمتوں پر GDP کی شرح نمو دکھاتا ہے۔ آپ نے معاشیات کے نصاب کے اپنے شماریات میں ڈاٹا کی پیشکش کی تکنیکوں کے بارے میں مطالعہ کیا ہے۔ جدول میں دئیے گئے ڈاٹا پر مبنی ٹائم سیریز لائن گراف بتائیے اور اس کی توضیح کیجئے۔

شرح نمو فی صدGDP سال
9،5
9،6
9،3
6،7
8،6
8،9
6،7
5،4
6،4
7،4
2005-06
2006-07
2007-08
2008-09
2009-10
2010-11
2011-12
2012-13
2013-14
2014-15

      2 اپنے آس پاس کا مشاہدہ کریں، آپ پائیں گے کہ ریاستی بجلی بورڈ (SEBs  (BSEs  اور دیگر پبلک اور نجی تنظیمیں شہر اور ریاستوں میں بجلی فراہم کر رہی ہیں۔ سڑکوں پربھی پرائیویٹ بسیں، سرکاری بس خدمات ایک ساتھ خدمات انجام دے رہی ہیں۔   
(i)    پبلک اور پرائیویٹ سیکٹروں کے ساتھ ساتھ موجود ہونے کے اس دوہرے نظام کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں۔
(ii) ایسے دوہرے نظام کی خوبیاں اور خامیاں کیا ہیں؟ بحث کیجئے۔
3 اپنے والدین اور دادا دادی کی مدد سے کثیر ملکی کمپنیوں کی فہرست تیار کیجئے جو کہ آزادی کے وقت ہندوستان میں موجود تھیں۔ اب ان کے مقابل نشان لگائیں جو اب بھی ترقی کر رہی ہیں اور ان کے مقابل (ü)  نشان لگائیں جو اب نہیں رہ گئی ہیں۔ کسی ایسی تین کمپنیوں کے بارے میں بتائیے جن کے نام تبدیل ہو گئے ہیں؟ نیا نام، اصل مالک، پروڈکٹ کی نوعیت، لوگو دریافت کریں اور اپنی کلاس کے لیے ایک چارٹ تیار کریں۔

4  درج ذیل کے لیے موزوں مثالیں دیجئے۔

غیر ملکی کمپنی کا نام
پروڈکٹ کی نوعیت

بسکٹ
جوتے
کمپیوٹر
کار
ٹی۔وی اور ریفریجیٹر
اسٹیشنری
اب دریافت کیجئے کہ آیا ہندوستان میں 1991 سے پہلے یہ درج بالا کمپنیاں موجود تھیں یا نئی اقتصادی پالیسی کے بعد آئیں۔ اس کے لیے آپ اپنے ٹیچر، والدین، دادا دادی اور دوکانداروں کی مدد کیجئے۔
  WTO      5 کی طرف سے  منعقد میٹنگوں کے موضوع پر کچھ متعلقہ اخبار کے تراشے جمع کیجئے۔ ان میٹنگوں میں بحث کیے جانے والے اُمور پر مذاکرہ کیجئے اور دریافت کیجئے کہ کس طرح یہ تنظیم عالمی تجارت کے لیے سہولت پیدا کرتی ہے۔
6       کیا ہندوستان کے لیئے عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مشورے اور خواہش پر معاشی اصلاحات شروع کرنا ضروری تھا؟ کیا ادائیگیوں کے توازن کے بحران کو حل کرنے کے لیے حکومت کے پاس کوئی متبادل موجود نہیں تھا؟ کلاس روم میں اس پر گفتگو کیجئے۔

PIC_7حوالہ جات


کتابیں

 آچاریہ ،ایس (2003)، ہندوستان کی معیشت: بعض اُمور اور جوابات،اکیڈمک فاؤنڈیشن، نئی دہلی۔
 الٹر نیٹو سروے گروپ (2005)، الٹرنیٹو اکنامک سروے، انڈیا 2004-05، ڈس اکیولائزنگ گروتھ، دانش بکس، دہلی۔
 اہلو والیہ آئی ۔ جے ۔ اور آئی ۔ ایم ۔ ڈی۔ لٹل 1998، انڈیا اکونامک ریفارمس اینڈ ڈیولپمنٹ، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، نئی دہلی۔
 بردھان پرنب (1998)، پولیٹیکل اکنامی آف ڈیولپمنٹ ان انڈیا:  آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، دہلی۔
 بھدوری ،امیت اور دیپک نیّر (1996)، دی انٹلی جنٹ پرسن گائیڈ ٹو لبرالائزیشن، پنگوئن، دہلی۔
 بھاگوتی جگدیش (1992)، انڈیا ان ٹرانسیشن: فرینگ دی اکنامی، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، دہلی۔
 بائرس، ٹیرنس جے (1997)، دی اسٹیٹ، ڈیولپمنٹ پلاننگ اینڈ لبرالائزیشن ان انڈیا، آکسفور یونیورسٹی پریس، دہلی۔
 چڈھا،جی۔ کے۔ (1994)، پالیسی پرسپیکٹیوس ان انڈین اکنامک ڈیولپمنٹ، ہرآنند، دہلی۔
 چیلیارا جہ جے۔ (1996)، ٹوورڈس سسٹینی بل  گروتھ، ایسسیز ان فسیکل اینڈ فناشیل سیکٹر ریوفارمرس ان انڈیا، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، دہلی۔
 دیپ رائے ، بی اینڈ رایل مکھرجی (ادارت) 2004، پولیٹکل ایکونامی آف ریفارمس بک ویل پبلی کیشن، نئی دہلی۔
 ڈریرجین اینڈ امرتیہ سین (1996)، انڈیا: اکنامک ڈیولپمنٹ اینڈ سوشل آپورٹنٹی، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، دہلی۔
 اشوک گوہا (اشاعت) (1990)، اکنامک لبرالائزیشن، انڈسٹریل اسٹرکچر اینڈ گروتھ ان انڈیا، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، دہلی۔
 دت رودر اینڈ کے۔ پی۔ ایم۔ سندام، 2005انڈین ایکونامی، ایس چاند اینڈ کمپنی، نئی دہلی۔
 گوہا ، اشوک (ادارت) 1990، ایکونامک لبرلایزیشن، انڈسٹریل اسٹرکچر اینڈ گروتھ ان انڈیا، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس دہلی۔
 جالان بمل(1993)، انڈیا اکنامک کرائسس، دی وے اہیڈ، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، دہلی۔
 جالان بمل(1996)، انڈیا اکنامک پالیسی: اکیسویں صدی کے لیے تیاری، وایکنگ، دہلی۔
 جوشی وجے اینڈ آئی۔ایم۔ڈی۔لٹل (1996)، انڈیا اکنامک ریفارمرس 1991-2001، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، دہلی۔
 سپیلا، اوما 2005انڈر اسٹینڈنگ دی پرابلم آف انڈین ایکونامی، اکیڈمک فاؤنڈیشن، نئی دہلی۔
 مہاجن وی۔ایس(1976)، انڈین اکنامی ٹوورڈس 2000 A.D.  دیپ اینڈ دیپ، دہلی۔
 پارکھ ، کیرتی اور رادھاکرشن 2002انڈیا ڈیولپمنٹ رپورٹ، 2001-02، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، نئی دہلی۔
  راؤ سی۔ایچ۔ ہنومنتھااینڈ ہنس لین مان (1996)، اکنامک ریفارم اینڈ پاورٹی ایلیویشن ان انڈیا، سیج پبلیکیشن، دہلی۔
  ساش ،  جیفری ڈی۔ آشوتوش ورشئے اور نروپیم واجپئی 1999، انڈیا ان دی اِرا آف ایکونامک ریفارم، آکسفورڈ یونیوسٹی پریس، نئی دہلی۔

سرکاری رپورٹیں اور ویب سائٹ

مختلف سالوں پر مبنی  اکنامک سروے وزارتِ مالیات، حکومت ہند۔مطبوعہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، نئی دہلی
  دسواں پنج سالہ منصوبہ2002-1997 جلد 1، حکومت ہند، پلاننگ کمیشن، نئی دہلی۔
نیتی آیوگ، حکومت ہند، تشخیصی دستاویز، پچیسواں پنچ سالہ منصوبہ (17-2012)
https://depam.gov.in
انڈین اکنامی، ریزرو بینک آف انڈیا کے متعدد برسوں کے اعدادو شمار کی ہینڈ بک،ممبئی،
ہندوستان کی معاشی ترقی