Skip to content


Hindustan_ki_maashi_taraqqi

غربت

(Poverty)

  اس باب کے مطالعہ کے بعد طلباء:

  •   غربت کی مختلف وجوہات کو سمجھیں گے؟
  •      غریبی کے تصور سے متعلق مختلف پہلوؤں کو ذہن نشیں کریں  گے۔
  •      غریبی کا اندازہ لگانے کے طریقے کو تنقیدی نظر سے جانچ سمجھ سکیں  گے۔
  •         انسداد غربت کے موجودہ پروگراموں کا جائزہ لینے اور تشخیص کرنے کے اہل ہوں  گے۔
کوئی بھی سوسائٹی یقینی طور پر پھل پھول نہیں سکتی اور خوش نہیں رہ سکتی جس کے ارکان کی ایک بڑی تعداد غریب اور بدحال ہو۔ 
ایڈم اسمتھو  

1 .4تعارف

پچھلے ابواب میں آپ نے پچھلی چھے دہائیوں سے ہندوستان نے معاشی پالیسیاں اپنائیں اور مختلف ترقیاتی اشاروں (Indicators) کے تعلق سے ان پالیسیوں کے نتائج کے بارے میں مطالعہ کیا۔ لوگوں کو کم سے کم بنیادی ضرورتیں فراہم کرنا اور غریبی کو کم کرنا آزاد ہندوستان کا ایک بڑا مقصد رہا ہے، ترقی کا جو انداز متواتر پنج سالہ منصوبہ کے لئے ذہن  میں رکھاگیا اس میں غریب سے غریب لوگوں کی زیادہ سے زیادہ بہتری کے ذریعہ اونچا اٹھانے (انتیودیا)، اصل دھارے (mainstream) میں غریبوں کو جوڑنے اور سبھی کے لئے کم سے کم معیار زندگی حاصل کرنے پر زیادہ توجہ دی گئی۔
1947 میں دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے وقت جو اہر لعل نہرو نے کہا تھا: ’’یہ حصولیابی (آزادی) مواقع کی راہیں کھلنے کے لیے محض ایک قدم ہے ان عظیم کا سیابیوں اور حصولیابیوں کے لئے جو کہ ہمارے انتظار میں ہیں ۔۔۔ غربت وجہالت اور بیماری ومواقع کی غیر برابری  کا خاتمہ‘‘۔
تاہم، ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ آج ہم کس حال میں ہیں۔ غریبی صرف ہندوستان کے لئے ایک چیلنج نہیں ہے، جہاں کہ دنیا کے پانچویں حصے سے بھی زیادہ غریب رہتے ہیں؛ بلکہ یہ پوری دنیا کے لئے بھی ایک چیلنج ہے جہاں تقریباً 300ملین زیادہ لوگ اپنی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے اہل نہیں ہیں۔
غریبی کے کئی چہرے ہیںجو مقام اور وقت کے لحاظ سے بدلتے رہتے ہیں اور انھیں کئی طرح سے بیان کیا جاتا ہے۔ اکثر وبیشتر صورتوں میں غریبی وہ صورتحال ہے جس سے لوگ بچنا چاہتے ہیں۔ لہذا جہاں، غریبی میں غریب کے لئے کارروائی کیے جانے کی ضرورت ہے وہیں امیروں کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ دنیا میں اس طرح تبدیلی لائیں کہ بیشتر لوگوں کے پاس حسب ضرورت کھانے کو ہو، مناسب رہائش ہو، تعلیم اور صحت تک آسان رسائی ہو، تشدد سے حفاظت ہو اور ان کی کمیونٹیوں میں کیا واقع ہوتا ہے اسے ظاہر کرنے کا حق ہو۔
یہ جاننے کے لئے کہ غریبی گھٹانے میں کیا چیز مددگار ہوتی ہے، کیا کام کیا جاتا ہے اور کیا نہیں، وقت کے ساتھ کیا تبدیلیاں ہوتی ہیں، غریبی کی توضیح، پیمائش اور مطالعہ کیا جاتا ہے اور یہاں تک کہ تجربہ کیا جاتا ہے۔ چونکہ غریبی کے کئی پہلو ہوتے ہیں اس لئے اسے مختلف طرح کے اشاریوں، آمدنی اور صرف کی سطحوں، سماجی اشاریوں اور جوکھموں اور سماجی/ سیاسی رسائی کی ضرر رسانی  کے ذریعہ دیکھا جاسکتا ہے۔

 4.2  غریب کون ہیں؟

آپ نے غورکیا ہوگا کہ سبھی مقامات اور قرب وجوار میں خواہ دیہی علاقے یا شہری علاقے ہوں ہم میں سے کچھ غریب ہیں اور کچھ امیر ہیں، انو اور سدھا کی کہانی پڑھیں، ان کی زندگیاں انتہائی صورتوں کی مثالیں ہیں (دیکھئے باکس 4.1)۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو ان کے درمیان کے متعدد مراحل سے تعلق رکھتے ہیں۔

باکس 4.1  :  انو اور سدھا

انو اورسدھا دونوں ایک دن ہی پیدا ہوئیں، انو کے ماں باپ تعمیرات کے کام میں مزدور تھے اور سدھا کے والد ایک کاروباری تھے اور اس کی ماں ڈیزائنر تھی۔
 انو کی ماں نے اینٹیں سر پر ڈھوکر اس وقت تک کام کیا جب تک کہ اسے دردِزہ نہیں ہوا۔ وہ تعمیرات کے مقام پر آلات کے گودام کے پیچھے گئی اور وہاں اس نے بچے کو جنم دیا اس کے ساتھ کوئی نہیں تھا۔ وہ اپنے بچے کو دودھ پلاتی تھی اور اس کے بعد ایک پرانی ساڑی میں لپیٹ دیتی تھی۔ٹاٹ کے بورے کا پنگورا (جھولنے والا جھولا) بنالیتی تھی، اس میں ننھی انو کو لٹاتی اور پیڑ سے لٹکادیتی۔ وہ کام ہوجانے کی عجلت میں ہوتی تھی کیونکہ اسے ڈر تھا کہ کہیں وہ اپنے کام سے ہاتھ نہ دھوبیٹھے، اسے امید تھی کہ انو شام تک سوتی رہے گی۔
سدھا شہر کے ایک بہترین نرسنگ ہوم میں پیدا ہوئی تھی۔ ڈاکٹروں کے ذریعہ اس کی پوری طرح جانچ کی گئی۔ اسے نہلایا گیا اور صاف ملائم کپڑے پہنائے گئے اور اسی کی ماں کے پاس ہی ایک پنگورے میں لٹایا گیا۔ جب بھی اسے بھوک لگتی اس کی ماں دودھ پلاتی، گلے لگاتی اور اسے چومتی اور سونے کے لئے اسے لوری سناتی اس کے خاندان والوں اور دوستوں نے اس کی پیدائش پر خوشیاں منائیں۔
ظاہر ہے انو اور سدھا کا بچپن بالکل ہی مختلف تھا۔ انونے بہت ہی چھوٹی عمر میں اپنی دیکھ بھال کرنا سیکھ لیا۔ وہ جانتی تھی کہ بھوک کیا ہوتی ہے اور محرومیوں کا کیا مطلب ہے، اس نے دریافت کیا کہ کس طرح کوڑے دان سے غذا چننا پڑتا ہے، کس طرح سردی کے موسم میں اپنے کو گرم رکھنا پڑتا ہے اور بارش کے موسم میں کیسے پناہ لینی پڑتی تھی اور کیسے اسی کے ٹکڑے، پتھروں اور درخت کی ٹہنیوں سے کھیلنا ہوتا تھا۔ انو اسکول نہیں جاسکی کیونکہ اس کے والدین نقل مکانی کرنے والے مزدور تھے جو شہر در شہر کام کی تلاش میں بھٹکتے رہتے تھے۔
انو کو رقص بہت پسند تھا۔ جب کبھی وہ موسیقی سنتی وہ بے ساختہ گانے لگتی۔ وہ بے حد خوبصورت تھی اور اس کی نقل وحرکت ولآویز اور خیال انگیزی ابھارنے والی تھی۔ کسی نہ کسی دن اسٹیج پر رقص کرنا اس کا خواب تھا۔ انو ایک عظیم رقاصہ بن سکتی تھی لیکن اس نے 12 سال کی عمر میں کام کرنا شروع کردیا تھا۔ اسے اپنے ماں باپ کے ساتھ کمانا ہوتا تھا، امیروں کے لئے گھر بنانا وہ گھر جس میں اس کو کبھی رہنا نہیں نصیب ہوسکتا تھا۔
سدھا ایک بہت ہی اچھے پلے اسکول میں جاتی تھی جہاں وہ سیکھتی تھی کہ کس طرح پڑھا سکھا اور شمار کیا جاتا ہے، وہ سیرسپاٹے سے لے کر وہ سیارگاہ (Planetariam) میوزیم اور قومی پارکوں تک گئی۔ بعد میں ایک بہت اچھے اسکول میں داخل ہوئی۔ اسے پینٹنگ سے پیار تھا اوراس نے ایک مشہور آرٹسٹ سے نجی تعلیم حاصل کی۔ اس نے بعد میں ایک ڈیزائن اسکول میں داخلہ لیا اور ایک مشہور پینٹر بنی۔
PIC_18
شکل . 4.2 کچے گھروں میں بہت سے غریب خاندان رہتے ہیں۔

 ریڑھی (ہاتھ سے ڈھکیلنے کا ٹھیلا) پرسامان  بیچنے والے، گلی میں بیٹھنے والے موچی،پھول بیچنے والی عورتیں، ردی چننے والے، فروخت کار اور بھکاری شہری علاقوں میں غریب اور عاجز یا بے دست وپا کی کچھ مثالیں ہیں۔ ان کے پاس معمولی سے اثاثے ہوتے ہیں۔ وہ کچی جھونپڑیوں میں رہتے ہیں جن کی دیواریں مٹی کی بنی ہوتی ہیں اور چھتیں گھاس پھوس، چھپر، بانس اور لکڑی کی بنی ہوتی ہیں۔ ان میں جو بہت زیادہ غریب ہوتے ہیں ان کے پاس اس طرح کی رہائش گاہ بھی نہیں ہوتی۔ دیہی علاقوں میں ان میں بہت سے بے زمین ہوتے ہیں۔ حتی کہ اگر کچھ کے پاس زمین بھی ہوتی ہے تو وہ بھی خشک اور بنجر، بہتوں کے پاس تو دن میں دو وقت کا کھانا بھی نہیں ہوتا۔ غریب ترین گھروں کی سب سے بڑی خاصیت فاقہ کشی اور بھوک ہے، غریبوں میں ابتدائی خواندگی اور ہنرمندی کی کمی ہوتی ہے اور اس لیے ان کے پاس بہت محدود معاشی مواقع ہوتے ہیں۔ غریب لوگوں کے ساتھ غیر مستحکم روزگار کا معاملہ بھی درپیش ہوتا ہے۔

 ناقص یا ناکافی غذا سے پیدا ہونے والی خرابی بھی غریبوں میں خطرناک حد تک پائی جاتی ہے۔ خراب صحت، معذوری یا کوئی بڑی بیماری انھیں جسمانی طور پر کمزور بنادیتی ہے۔ وہ مہاجنوں سے قرض لیتے ہیں جو زیادہ سودوصول کرتے ہیں اسی سے انھیں مستقل قرض میں ڈوبے رہنا پڑتا ہے۔ غریب نہایت بے دست وپا ہوتے ہیں، وہ اس لائق نہیں ہوتے کہ اپنے آجروں سے قانونی اجرتوں کے بارے میں بات چیت کرسکیں لہذا ان کا خوب استحصال ہوتا ہے۔ زیادہ تر غریب گھروں میں بجلی نہیں  ہوتی ہے۔ ان کا کھانا لکڑی جلاکر یا گوبرکے اپلوں  پر پکتا ہے جو ان کا بنیادی ایندھن ہے۔ غریب لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے پاس صاف پینے کا پانی نہیں ہوتا۔ ایسا بھی دیکھا جاتا ہے کہ منفعت بخش روزگار، تعلیم اور فیملی میں فیصلہ سازی کے معاملے میں شرکت میں انتہائی جنسی عدم مساوات ہوتی ہے۔ غریب عورتوں پر ان کی امومت (mother hood) کے دوران کم توجہ دی جاتی ہے۔ ان کے بچوں کے بچ جانے کا یا صحت مند پیدائش کا امکان کم ہوتا ہے۔

PIC_19
شکل 4.1.  زیادہ تر زراعتی مزدور غریب ہیں۔

باکس 4.2     : غریبی کیا ہے؟

دوماہرین، شاہین رفیع خاں اور ڈیمین کلین نے غریبی کی شرائط مختصراً پیش کی ہے: غریبی بھوک ہے، غریبی میں بیمار ہونے پر ڈاکٹر کو دکھانے کی اہلیت نہیں ہوتی، غریبی میں اسکول نہیں جایا جاسکتا اور کس طرح تعلیم حاصل کی جائے یہ نہیں معلوم ہوتا۔ غریبی میں روزگار کے مواقع نہیں حاصل ہوتے ۔غریبی میں مستقبل کے لئے خوف ہوتا ہے، دن میں ایک بارہی کھانا ملتا ہے۔ غریبی میں بیمار ہونے پر بچے سے محروم ہوناپڑتا ہے، اس میں صاف پانی نہیں ملتا۔ غریبی بے قوتی ہے، نمائندگی اور آزادی کی کمی ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

ماہرین معاشیات غریبوں کی شناخت ان کے پیشے اور اثاثوں کی ملکیت کی بنیاد پر کرتے ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ دیہی غریب وہ لوگ ہیں جو بالخصوص بے زمین زرعی مزدوروں کے طور پر کام کرتے ہیں، وہ کاشتکار جن کے پاس بہت ہی کم اراضی ہے، بے زمین مزدور جو مختلف غیر زراعتی روزگار میں لگے ہوتے ہیں اور چھوٹی اراضی والے مزارع۔ شہری غریبوںمیں شامل ، زیادہ تر دیہی غریبوں کا وہ غول ہے جو شہری علاقوں میں متبادل روزگار اور ذریعہ معاش کی تلاش میں آتا ہے، وہ مزدور جو مختلف قسم کے عارضی کام انجام دیتے ہیں اور خود روزگار کرنے والے لوگ جو سڑکوں پر مختلف چیزیں بیچتے ہیں اور مختلف سرگرمیوں میں مصروف ہوتے ہیں۔

4.3   غریب لوگوں کی شناخت کیسے کی جاتی ہے؟

اگر ہندوستان کو غریبی کے مسئلے کو حل کرنا ہے تو غریبی کے اسباب سے نمٹنے کی قابل عمل اورپائیدار حکمت عملی دریافت کرنی ہونگی اور غریبوں کو ان کے حالات سے نکالنے میں مدد کے لئے اسکیموں کو وضع کرنا ہوگا۔ تاہم ان اسکیموں کے لئے جنھیں نافذ کیا جاتا ہے، حکومت کے ذریعہ اس بات کی شناخت کئے جانے کی ضرورت ہے کہ غریب کون ہیں۔ اس سلسلے میں غریبی کی پیمائش کے لیے ایک پیمانہ تیار کرنے کی ضرورت ہے اور ان عوامل کوجو اس پیمائش یا میکانیت کے لئے کسوٹی تیار کرتے ہیں،  محتاط طور پر منتخب کئے جانے کی ضرورت ہے۔
ہندوستان کی آزادی سے قبل دادا بھائی نوروجی وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے خط افلاس کے تصور پر بحث کی تھی۔ انھوں نے ایک قیدی کے لئے مینو (کھانوں کی فہرست) کا استعمال کیا اور اس نتیجے پر پہنچنے کے لئے جنھیں’’جیل میں زندگی کی لاگت‘‘ کہا جاسکتا ہے، مناسب رائج قیمتوں کا استعمال کیا۔ تاہم جیل میں صرف بالغ ہی ہوسکتے ہیں جبکہ اصل سماج میں بچے بھی ہوتے ہیں۔ لہذا انھوں نے خط افلاس کے نتیجے پر پہنچنے کے لئے ان اخراجات زندگی کا تطابق مناسبت کے ساتھ کیا اس تطابق یا مطابقت کے لئے انھوں نے فرض کیا کہ ایک تہائی آبادی بچوں پر مشتمل ہے اور ان میں سے آدھے بہت تھوڑا صرف کرتے ہیں جبکہ دیگر آدھے بالغوں کی آدھی خوراک لیتے ہیں۔ اس طرح وہ تین چوتھائی کے عمل کے نتیجے پر پہنچے؛  (1/6) (صفر) + (1/6)  (نصف) + (2/3) (پورے) = (3/4) (پورے)۔ تین حصوں کے صرف کاوزنیاتی اوسط خط افلاس کا اظہارکرتاہے جو جیل کے بالغ اخراجات زندگی کی تین چوتھائی ظاہر کرتا ہے۔

چارٹ:4.1 خط غریبی

مطلق غریب  بہت  غریب غریب اتنے زیادہ غریب نہیں مڈل کلاس اپرمڈل کلاس امیر بہت امیر بڑا دولتمند ارب پتی


مطلق ‏‏غریب  بہت  غریب  غریب   اتنے زیادہ غریب نہیں  مڈل کلاس  اپرمڈل  کلاس
امیر  بہت امیر  بڑا دولت مند   ارب پتی

غریب                             امیر

آزادی کے بعد کے ہندوستان میں ملک کے غریبوں کی تعداد کی شناخت کے لیے ایک میکانزم تیار کرنے کی متعدد کوششیں کی گئی ہیں۔ مثال کے لیے 1962 میں پلاننگ کمیشن نے ایک مطالعہ گروپ کی تشکیل کی۔ 1979 میں ایک دوسرا ادارہ  ’’کم سے کم اور حقیقی طلب صرف کی کم سے کم ضرورتوں پر ٹاسک فورس‘‘ مستقبل کا تخمینہ لگانے کے لیے قائم کیا گیا۔ 1989 اور 2005میںبھی ایک ماہر گروپ کی تشکیل اسی مقصد کے لیے کی گئی تھی۔ پلاننگ کمیشن کے علاوہ انفرادی طور پر بہت سے ماہرین معاشیات نے بھی اس طرح کی میکنزم کو تیار کرنے کی کوشش کی۔
غریبی کی توضیح کے مقصد سے ہم لوگوں کو دوزمروں میں تقسیم کرتے ہیں: غریب اورامیر اور خط غریبی دونوں کو علاحدہ کرتا ہے۔ تاہم، غریبوں کی بہت سی قسمیں ہیں؛ مطلق غریب، بہت غریب اور غریب۔ اسی طرح امیروں کی کئی قسمیں ہیں: مڈل کلاس، اپر مڈل کلاس اور امیر، بہت امیر اور مطلق امیر۔ اسے غریب سے امیر کو الگ کرتے ہوئے خط غریبی کے ساتھ انتہائی غریب سے مطلق امیر تک ایک خط (Line) یا تسلسل کے طور پر سمجھیں۔

غریبی کی زمرہ بندی :   غربت کی زمرہ بندی کے کئی طریقے ہیں۔ ان میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو ہمیشہ غریب رہتے ہیں اور وہ لوگ جو عام طور پر غریب ہیں لیکن کبھی کبھی ان کے پاس کچھ زیادہ رقم ہوتی ہے (مثال: عارضی ورکرس) کی درجہ بندی مجموعی طور پر دائمی غریب کے طور پر کی جاتی ہے۔ دوسرا گروپ کبھی کبھار غریب ہے جوباقاعدگی کے ساتھ کبھی غریب ہوجاتا ہے اور کبھی اس سے باہر آجاتا ہے(مثال: چھوٹے کسان اور موسمی مزدور) اور عارضی یا کبھی کبھار غریب جو زیادہ تر وقت امیر ہوئے لیکن بدنصیبی کے برے دور سے گزرتے ہیں۔ انھیں وقتی غریب  (Transient Poors) کہا جاتا ہے اور اس کے بعد وہ لوگ ہیں جو کبھی غریب نہیں ہوتے اور غیرمفلس ہوتے ہیں (چارٹ4.2)۔

 خط غریبی: اب آیئے ہم جائزہ لیں کہ خط غریبی کا تعین کیسے کیا جائے۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ کم سے کم کیلوری خوراک جس کا تخمینہ ایک دیہی فرد کے لئے 2,400 کیلوری کا کیا گیا تھا اور شہری علاقوں میں رہنے والے فرد کے لئے 2,100 کیلوری کا کیا گیا تھا، اس کی زری قدر (Monetary Velane) (فی کس اخراجات) کے ذریعہ تعین کیا جاتا ہے12-2011 میں اس پر مبنی خط غریبی کی توضیح دیہی علاقوں کے لئے 816 روپے فی شخص ایک مہینے کے صرف کے طور پر کی گئی تھی جبکہ شہری علاقوں کے لئے یہ قدر1000 روپے تھی

چارٹ 2-4؛  دائمی یا انتہائی غریب،وقتی غریب اور غیر غریب
خط غریب1
(مخصوص زمرہ)  ہمیشہ غریب      عام طور پر غریب      جزو وقتی غریب     عارضی           غریب  کبھی غریب نہیں
(مجموعی زمرہ)                دائمی غریب                                 وقتی غریب                غیر غریب

اگرچہ حکومت غریب کی شناخت کے لئے گھروں کی آمدنی کونمائندگی (Proxy) کے طور پر ماہانہ فی کس اخراجات  (MPCE) استعمال کرتی ہے، کیا آپ کے خیال میں یہ طریقہ ہمارے ملک میں غریب گھروں کی اطمینان بخش شناخت کرتا ہے ؟  
ماہرین معاشیات بیان کرتے ہیں کہ اس طریقے کے ساتھ بڑی مشکل یہ ہے کہ یہسب ہی غریبوںکوایک گروپ میں شامل کرتا ہے اور بہت غریب اور دیگر غریب کے درمیان امتیاز نہیں کرتی۔ اگرچہ یہ طریقہ غذا اور کچھ منتخب مدوں کو آمدنی کے لئے نمائندگی کے طور پر صرفی اخراجات اختیار کرتا ہے، ماہرین معاشیات اس کی بنیاد پر سوال اٹھاتے ہیں۔ یہ میکانزم گروپ کے طور پر غریب کی شناخت کرنے میں مددگار ہے جس کا خیال حکومت کوکرنا ہوتا ہے لیکن یہ شناخت کرنا مشکل ہوگا کہ ان غریبوں میں وہ کون ہیں جن کو مدد کی سب سے زیادہ ضروت ہے۔ 
آمدنی اور اثاثے کے علاوہ بہت سے عوامل ایسے ہیں جن کا تعلق غریبی سے ہے؛ مثال کے لئے بنیادی تعلیم تک رسائی،  حفظان صحت، پینے کا پانی اور صفائی۔ خط غریبی کے موجودہ تعین کے طریقے میں سماجی عوامل کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا جو کہ غریبی کا محرک ہوتے ہیں اور اسے دوام بخشتے ہیں، جیسے ناخواندگی، خراب صحت، وسائل تک رسائی میں کمی، شہری اور سیاسی آزادیوں میں امتیاز یا کمی۔ انسداد غربت سے متعلق اسکیموں کا مقصد ان چیزوں کے دائرے میں وسعت فراہم کرکے انسانی طرز زندگی میں بہتری پیدا کرنی ہوناچاہیے جس سے کسی فرد کو صحت مندی اور بہتر تغذیہ حاصل ہوسکتا ہو۔ وہ باخبر ہو اور کمیونٹی کی زندگی میں شریک ہو۔ اس نقطہ نظر سے ترقی کا مطلب ان رکاوٹوں کو دور کرنا ہے جو ایک شخص اپنی زندگی میں انجام دے سکتا ہے، جیسے ناخواندگی ، خرابی صحت اور وسائل تک رسائی یا سول اور سیاسی آزادی کی کمی۔
PIC_21
شکل. 4.3 محفوظ پینے کا پانی اور صفائی سبھی کے لئے ضروری ہیں۔

اگرچہ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ اعلیٰ شرح نمو، زرعی پیداوار میں اضافے، دیہی علاقوں میں روزگار فراہم کرنے اور 1990 کے دہے میں معاشی اصلاحی پیکجوں کے شروع کیے جانے کے نتیجے میں غریبی کی سطح میں  کمی آئی ہے لیکن ماہرین معاشیات حکومت کے اسی دعوے پر شبہ ظاہر کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح سے ڈاٹا جمع کیا گیا ہے اوراُن کو صرفی مجموعے میں شامل کیا گیا ہے، خط غریبی اور غریبوں کی تعداد کے تخمینے کے لئے جو طریقے استعمال کئے گئے ہیں ہندوستان میں غریبوں کے کم اعداد وشمار کے نتیجے پر پہنچنے کے لئے ان میں ہیرا پھیری کی گئی ہے تاکہ غریبوں کی تعداد کم دکھائی جاسکے۔

انھیں حل کریں

  •    سیکشن 4.2 اور 4.3 میں آپ غور کریں گے کہ غریبوں کی شناخت نہ صرف اظہاریوں سے متعلق ان کی آمدنی اور اخراجات کے ساتھ ہوتی ہے بلکہ اس میں دیگر مدیں جیسے زمین، مکان، تعلیم، صحت، صفائی کی دسترس بھی شامل ہوتی ہے۔ امتیازی عمل ورواج کو بھی ملحوظ رکھنا ہوتا ہے۔ بحث کیجئے کہ کس طرح ایک متبادل خط غریبی اس طرح بنائی جاسکے گی کہ اس میں سبھی دیگر اشاریہ سے شامل کیے جاسکیں۔
  •       خط غربت کی دی گئی تعریف کی بنیاد پر دریافت کریں کہ آیا لوگ جو گھریلو ملازم، دھوبیوں اور اخبار بیچنے والوں کے طور پر آپ کے محلے یا پڑوس میں کام کرتے ہیں وہ خط غربت سے اوپرہیں یا نیچے۔
غریبی کی سرکاری تخمینہ کاری میں مختلف حدود کے سبب دانشوروں نے متبادل طریقے دریافت کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثال کے لئے امرتیہ سین نے جو کہ معروف نوبل انعام یافتہ ہیں ، ایک اشاریہ (Index) کو فروغ دیا ہے جسے سین اشاریہ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ دیگر ذرائع بھی ہیں جیسے غریبی کے فرق کااشاریہ اور مربع غریبی خلا، ان ذرائع کے بارے میں آپ اعلیٰ کلاسوں میں مطالعہ  کریں گے۔

4.4  ہندوستان میں غریبوں کی تعداد:

جب خط غریبی سے نیچے کے لوگوں کے تناسب کے طور پر غریبوں کی تعداد کا تخمینہ کیا جاتا ہے تب اسے فی کس شمار نسبت (Head Count Ratio) کے طور پر جانا جاتا ہے۔
چارٹ 4،3:ہندوستان میں غربیکے رجحانات،2012-1937
فی کس شمار تناسب                     غریبوں کی تعداد(ملین میں)
2
آپ کو ہندوستان میں رہنے والے غریب افراد کی کل تعداد کے بارے میں جاننے میںدلچسپی ہوگی ۔ وہ کہاں رہتے ہیں اور کیا ان کی تعداد یا تناسب گزرے سالوں میں کم ہوا ہے یا نہیں؟جب تناسب اور فی کس کے اعتبار سے  غریب لوگوں کا اس طرح کا تقابلی تجزیہ کیا جائے تب ہم کولوگوں کو مختلف سطح غریبی اور ریاستوں کے درمیان اور دوران مدت ان کی تقسیم اور مدت کے بارے میں اندازہ ہوگا ۔
غریبی پر سرکاری ڈاٹا پلاننگ کمیشن کے ذریعہ دستیاب کرایا جاتا ہے ۔ نیشنل سیمپل سروے آرگنایزیشن (NSSO) کے ذریعہ جمع کیے گئے صرفی اخراجات ڈاٹا کی بنیادپر اس کا تخمینہ کیا جاتا ہے ۔ چارٹ 4.3 سال 2012 1973-کے لیے ہندوستان میں
 غریبوں کی تعداد اور آبادی سے ان کے تناسب کا اظہار کرتا ہے۔ 74-1937 میں خط غریبی کے نیچے رہنے والے لوگ 320ملین سے زیادہ تھے ۔12-2011 میں یہ تعداد کم ہوکر تقریباً  270  ملین ہوگئی ۔ تناسب کے اعتبار سے 74-1937 میں خط غریبی کے نیجے کل   آبادی   کے   تقریبا   55   فی صد لوگ تھے ۔12-2001میں یہ کم ہوکر 22 فی صد ہو گئی۔ 74-1937میں غریبوں کے 80 فی صد سے زیادہ لوگ دیہی علاقوں میں رہتے تھے  اور12-2011میں بھی یہ اس صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں واقع ہوئی۔اس کا مطلب ہے کہ ہندوستان میں تین چوتھائی سے زیادہ غریب دیہاتوں میں رہتے ہیں ۔ اس کے علاوہ غربت جو کہ دیہی علاقوں میں چھائی ہوئی تھی وہ شہری علاقوں کی طرف منتقل ہوگئی۔
1990 کے دہے میں دیہی علاقوں میں غریبوں کی مطلق تعداد کم ہوئی ہے جبکہ شہری علاقوں میں غریبوں کی تعداد تھوڑی بڑھی ہے۔ غریبی کا تناسب شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں لگاتار کم ہوا ہے۔ چارٹ 4.3 میں آپ غور کریں گے کہ1937-2012کے دوران غریبوں کی تعداد اور ان کے تناسب میں کمی آئی ہے لیکن دو حدود یا میدانوںمیں اس کمی کی نوعیت حوصلہ افزا نہیں ہے۔ ملک کے غریبوں کی مطلق تعداد کے مقابلے شرح کی گراوٹ بہت کم رفتار سے ہوئی ہے۔ آپ یہ بھی غور کریں گے کہ دیہی اور شہری علاقوں میں غریبوں کی مطلق تعدادمیں کمی آئی  ہے جبکہ فرق کے تناسب کے معاملے میں 12-2011 تک یہ فاصلہ جوں کا توں برقرار رہا۔اور12-2011میں اس میں توسیع ہوئی ہے۔

چارٹ 4،4: کچھ بڑی ریا ستوں میں خط غریبی سے نیچے کی آبادی2012-1937 (فی صد)

3
مشرقی بنگال ۔اتر پردیش،تمل ناڈو،راجستھان،اڈیسہ مہاراشٹر،مدھیہ پردیش،کرناٹک گجرات،بہار،آندھراپردیش
نوٹ: 1937 کے لیے موجودہ اتر پریش میں اترا کھنڈ، مدھیہ پردیش میں چھتیس گڑھ اور بہار میں جھارکھنڈ شامل ہے۔

غریبی میں ریاستی سطح کے رجحانات چارٹ 4.4 میں دکھائے گئے ہیں۔ چارٹ میں دو لائنیں قومی غریبی سطح کو ظاہر کرتی ہیں۔ نیچے سے پہلی لائن 12-2011 کی غریبی کی سطح کو ظاہر کرتی ہے اور دوسری لائن 74-1973 کی غریبی سطح کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کا مطلب ہندوستان میں 1973سے 2012کے دوران غریبوں کا تناسب 55فی صد سے گھٹ کر 22فی صد ہوگیا ہے۔ چارٹ سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ 74-1973 میں چھ ریاستیں تمل ناڈو، اتر پردیش، بہار، مدھیہ پردیش، مغربی بنگال اور اڈیشہ غریبوں کے بڑے حصے پر مشتمل تھیں۔1973 سے2012تک بہت سی ہندوستانی ریاستوں نے غریبی کی سطح کو کافی حد تک کم کیا ہے۔ پھر بھی چار ریاستوں اڈیشہ، مدھیہ پردیش، بہار اور اتر پردیش میں غریبی کی سطح قومی غریبی سطح سے اب بھی کہیں اوپر ہے۔ آپ نے غور کیا ہوگا کہ مغربی بنگال اور تمل ناڈو نے غریبی سطح کو دوسری ریاستوں کے مقابلے میں بہتر طریقے سے کم کیا ہے۔ دوسری ریاستوں کے مقابلے وہ بہتر کارکردگی کے قابل کس طرح تھیں؟

4.5   غریبی کے اسباب کیا ہیں

غریبی کی وجوہات کے لیے غریبوںکی زندگی پر اداراجاتی اور سماجی عوامل سے پڑنے والے اثرات شامل ہوتے ہیں۔ غریب معیاری تعلیم سے محروم رہتے ہیں اور بہتر صلاحیت حاصل نہیں کر پاتے جس سے زیادہ بہتر آمدنی حاصل ہو سکتے ہے۔ غریبوں کو معیاری حفظان صحت تک رسائی بھی حاصل نہیںذات پات، مذہب اور دیگر امتیازات کا شکار بھی غریب ہی ہوتے ہیں۔ کچھ مثالیں ہیں: (i) تعلیم اور ہنرمندی یا مہارتوں کی کم سطح (ii)کمزوریاں، خراب صحت، بیماریاں(iii) امتیاز۔جو(i)سماجی، معاشی اور سیاسی عدم مساوات (ii)سماجی افراد (iii)بے روزگاری (iv)مقروضیت (v)دولت کی غیر مساوی تقسیم کے نتیجے میں واقع ہوسکتی ہیں۔ مجموعی طور پر غریبی محض انفرادی غربت کا مجموعہ ہوتا ہے۔ غریبی کی توضیح عام طور پر معیشت میں موجود مسائل جیسے (i)کم پونجی کی تشکیل (ii)بنیادی ڈھانچے کی کمی (iii) مانگ میں کمی (iv)آبادی کا دباؤ (v)سماجی بہبود کے عملی اقدامات میں کمی کے ذریعہ کی جاتی ہے۔
باب 1 میں آپ نے ہندوستان میں برطانوی راج کے بارے میں پڑھا۔ اگرچہ برطانوی راج کے ہندوستانی معیارات زندگی پر پڑنے والے حتمی اثرات، اب بھی بحث کا موضوع ہیں تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستانی معیشت اور لوگوں کے معیار زندگی پر بڑی حد تک اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے تھے۔ ہندوستان میں برطانوی راج کے تحت صنعت کاری بڑی حد تک ختم کی گئی۔ انگلینڈ میں لنکاشائر سے بنے ہوئے سوتی کپڑوں کی درآمدات نے زیادہ تر مقامی پیداوار کو بالکل اُجاڑ دیااور ہندوستان کو تیار کپڑے کی جگہ صرف سوتی دھاگے کے برآمد کنندہ (exporter) کے طور پر پیچھے واپس چلا گیا۔
چوں کہ پورے برطانوی راج کے دور میں تقریباً 70فی صد ہندوستانی زراعت میں تھے اس سیکٹر میں کسی اورشعبے کے مقابلے معیار زندگی پر اثر زیادہ نمایاں تھا۔ برطانوی پالیسیوں میں تیزی سے بڑھتے دیہی ٹیکس بھی شامل تھے جس سے سوداگر اورمہاجن بڑے پیمانے پر زمین کی ملکیت حاصل کرنے کے اہل ہوئے۔ برطانیہ کے تحت ہندوستان نے اناج کی برآمد شروع کی اور نتیجے کے طور پر 1875 اور 1900 کے درمیان 26 ملین سے زیادہ لوگوں کی موت فاقہ کشی سے ہوئی۔
برطانیہ کا خاص مقصد راج سے برطانوی برآمدات کے لئے ایک بازار فراہم کرانا، برطانیہ کو اپنی قرض ادائیگیوں کے لئے ہندوستان کی خدمات حاصل کرنا اور ہندوستان میں برطانوی شاہی افواج کے لئے افرادی قوت فراہم کرنا تھا۔
برطانوی راج نے ہندوستان میں لاکھوں لوگوں کو مفلس بنادیا۔ ہمارے قدرتی وسائل لوٹ لئے گئے، ہماری صنعتوں نے برطانیہ کے لئے کم ترین قیمتوں پر اشیا تیار کرنے کے لئے کام کیا اور ہمارے اناج برآمد کیے گئے ۔ قحط سالی اور فاقہ کشی سے بہت سے لوگوں کی موت ہوگئی 58۔1857 میں متعدد مقامی رہنماؤں کو اقتدار سے ہٹانے، کسانوں پر انتہائی زیادہ ٹیکسوں کو لگانے پر غصہ بھڑک اٹھنے اور دیگر ناراضگیوں کے سبب برطانوی فوج کے ہندوستانی سپاہیوں نے جن کی کمان برطانوی افسروں کے ہاتھ میں تھی، برطانوی راج کے خلاف مشتعل ہوکر بغاوت کردی۔
 آج بھی زراعت دیہی لوگوں کی روزی روٹی کا ایک اہم ذریعہ ہے اور زمین بنیادی اثاثہ ہے؛ زمین کی ملکیت مادی فلاح وبہبودایک کا اہم اورفیصلہ کن عنصر ہے اور وہ لوگ جو زمین کی ملکیت رکھتے ہیں ان کو رہن سہن کے حالات کو بہتر بنانے کا عمدہ موقع حاصل رہتا ہے۔
PIC_24
شکل. 4.4کم درجے کی خود روزگاری غریبی کو برقرار رکھتی ہے

آزادی ملنے کے بعد حکومت نے زمین کو ازسرنو تقسیم کرنے کی کوشش کی اور ان لوگوں سے زمینیں لیں جن کے پاس کافی مقدار میں زمینیں تھیں تاکہ انھیں ان لوگوں میں تقسیم کرسکے جن کے پاس کوئی زمین نہیں تھی اور وہ زمین پر اجرتی مزدوروں کے طور پر کام کرتے تھے۔ تاہم یہ کارروائی صرف ایک محدود حد تک کامیاب رہی ۔ کیونکہ زراعتی مزدوروں کا ایک بڑا طبقہ چھوٹی آراضی پر جن کے اب وہ مالک تھے کاشتکاری کرنے کے قابل نہیں تھا۔ کیونکہ ان کے پاس نہ رقم (اثاثہ) تھی نہ ہنرمندی کہ وہ زمین کو پیداواری بناسکتے اور منافع بخش ہونے کے لائق آراضی بھی بہت کم تھی۔
ہندوستان میں دیہی غریبوں کا ایک بڑا طبقہ چھوٹے کسانوں کا ہے۔ جو زمین ان کے پاس ہوتی ہے وہ عام طور پر کم زرخیز ہوتی ہے اور بارش پر منحصر رہتی ہے۔ ان کی بقا گزارے کے لائق فصل پر اور کبھی کبھی مویشیوں پر منحصر ہوتی ہے۔ آبادی کی تیز افزائش کے ساتھ اور روزگار کے متبادل کے بغیر کاشتکاری کے لئے زمین کی دستیابی مسلسل کم ہوتی جارہی ہے کیونکہ آراضی ٹکڑوں میں تقسیم ہورہی ہے۔ ان چھوٹے زمین کے قطعوں سے آمدنی اتنی کافی نہیں ہوتی کہ کُنبے کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کیا جاسکے۔
PIC_25
شکل 4.5  غریب کے لئے معیاری روزگار اب بھی ایک خواب کی طرح ہے

آپ نے ان کسانوں کے بارے میں سنا ہوگا جنھوں نے کاشتکاری یا دیگر گھریلو ضرورتوں کے لئے قرض لیا تھا کیونکہ وہ خشک سالی یا دیگر قدرتی آفا ت کے شکار ہوگئے تھے اور یہ قرض واپس چکانے میں معذوری کے سبب انھوں نے خودکشی کرلی تھی۔ (دیکھئے باکس 4.3)
درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل شہری اور دیہی معیشت کے مختلف سیکڑوں میں ابھرتے روزگار کے مواقع سے استفادہ کرنے کے اہل نہیں ہیں کیونکہ ان کے پاس ایسا کرنے کے لئے نہ ضروری علم ہے اور نہ ہی مہارتیں یا ہنرمندی۔

PIC_2انھیں حل کریں 

  •      جب آپ بازار جاتے ہیں یا مذہبی مقامات اور تاریخی یادگاروں کی زیارت کرتے ہیں توآپ نے اکثر عورتوں کو اپنے بچوں کے ساتھ بھیک مانگتے دیکھا ہوگا۔ کچھ وقت انھیں دیجئے اور ان میں کسی سے بات کیجئے۔ تفصیلات اکٹھا کیجئے اس کام کے لئے انھیں کیسے مجبور ہونا پڑا۔ وہ اپنی فیملی والوں کے ساتھ ہی رہتی ہیں، ایک دن میں کتنے وقت کا کھانا کھاسکنے کی اہل ہوتی ہیں، آیا ان کے پاس مادی اثاثے ہیں اور وہ کوئی کام کیوں نہیں کرسکتیں۔ ان تفصیلات پر جو آپ نے جمع کی ہیں اس پر کلاس روم میں بحث کیجئے۔
  •      آپ غور کریں گے کہ آپ کے محلے یا پڑوس میں بہت سے غریب گھر میں  جن کے بارے میں اوپر بیان کیا گیاہے، دویا تین ایسے گھر منتخب کیجئے اور ان خاندانوںکا تعارفی خاکہ تیار کیجئے جس میں پیشے، خواندگی، اثاثے کی ملکیت کی تفصیلات اور دیگر معلومات شامل ہوں، اس پر کلاس میں بحث کیجئے۔
  •        دیہی اور شہری علاقوں میں لوگوں کی الگ الگ سرگرمیوں کی فہرست بنایئے۔ آپ امیر لوگوں کی سرگرمیوں کی بھی فہرست بنایئے اور کلاس میں بحث کیجئے کہ غریب کیوں اس طرح کی سرگرمیوں کے اہل نہیں ہیں۔

باکس  4.3  :  کپاس کی کھیتی کرنے والے کسانوں  کی مصیبت

بہت سی چھوٹی زمینوں کے مالک کسان اور کاشتکار خاندان اور بنکر گلوبلائزیشن سے متعلق صدمے اور ہندوستان میں نسبتاً بہتر کارگزار ریاستوں میں مدرک آمدنی کمانے کے مواقع کی کمی کے سبب غریبی میں مبتلا ہورہے ہیں۔ جہاں پر خاندان اثاثے فروخت کرنے، قرض لینے یا متبادل روزگار کے مواقع سے آمدنی تخلیق کرنے کے اہل ہوئے ہیں۔ اس طرح کے صدمے کے اثرات ان پر وقتی ہوسکتے ہیں۔ تاہم اگر خاندان کے پاس فروخت کرنے کے لئے اثاثے نہیں ہیں، ادھار نہیں لے سکتے یا پھر سود کی استحصالی شرح پر ہی صرف ادھار لے سکتے ۔ اور وہ قرض کے گہرے دلدل میں پھنس جاتے ہیں، خط غربت کے نیچے خاندانوں کو ڈھکیلنے کے معنی میں ان شورش کا ناخوشگوار نتیجہ طویل مدتی ہوتا ہے۔ اس بحران کی سب سے بدترین صورت خودکشی ہے۔2001سےہندوستان میں خاص طور پرمہاراشٹر اور آندھرا پردیش میں 1200سے زیادہ  کسان خودکشی کرچکے ہیں
PIC_26
شانتا بائی نیل کنٹھ سیتارام کھوکے کی بیوی۔ نیل کنٹھ نے یاواتما، مہاراشٹر میں خودکشی کرلی تھی۔

ہندوستان میں دنیا کی کپاس کاشتکاری کے تحت ایک بہت بڑا رقبہ ہے جو کہ 18-2017 میں 125لاکھ بیکٹر کا احاطہ کرتا ہے۔ 476 کلوگرام فی ہیکٹر کی کم ترین پیداوار کے سبب یہ پیداوار میں تیسرے مقام پر پہنچادیا۔ اونچی لاگتیں، کم تر اور غیرمستحکم پیداوار، عالمی قیمتوں میں گراوٹ،  
      یو۔ ایس۔ اے۔ اور دیگر ملکوں کے ذریعہ دی جانے والی اعانتوں کے سبب پیداوار میں عالمی سطح پر زبردست اضافہ ، گلوبلائزیشن کے سبب گھریلو بازار کو کھولنے کے سبب کسانوں کا عدم تحفظ بڑھ گیا اور اس سے زرعی طور پر تکلیف دہ صورتحال پیدا ہوگئی اور بالخصوص آندھراپردیش اور مہاراشٹر کی کپاس پٹی میں خود کشی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ یہ معاملہ کسی کے لئے منافع اور اونچی فروخت کا نہیں تھا بلکہ لاکھوں چھوٹے کسانوں اور حاشیہ پر رہنے والے کسانوں کے ذریعہ معاش اور بقا کا تھا جو کہ اس زراعت پر انحصار کرتے تھے۔
ماہرین بہت سے عوامل کا حوالہ دیتے ہیں جن کے سبب کسانوں نے خودکشی کی(i) کاشتکاری ٹکنالوجی، درپیش مسائل پر مشاورت فراہم کرنے میں زراعتی توسیعی خدمات کے میدان میں ریاست کے الگ تھلگ رہنے کے فوری اصلاحی اقدامات اور کسانوں کو وقت پر صلاح دینے میں کوتاہی کے ساتھ ساتھ موزوں تکنیکی امداد کے بغیر روایتی کاشتکاری سے اعلیٰ پیداوار والی کمرشیل فصلوں کی کاشتکاری کی منتقلی۔ (ii) پچھلے دو دہوں میں زراعت میں عوامی سرمایہ کاری میں کمی (iii)بڑی عالمی فرموں کے ذریعہ فراہم کیے جانے والے بیجوں کے اگانے کی کم تر شرح، نجی ایجنٹوں کے ذریعہ جعلی بیج اور کپڑے مار ادویات (iv) فصل کی ناکامی، حشرات کاحملہ اور خشک سالی (v) نجی مہاجنوں سے بہت اونچی شرح 36 فی صد تا 120 فی صد پر قرض (vi) سستی برآمدات جن کی وجہ سے قیمتوں اور  نفع میں گراوٹ پیدا ہوئی۔(vii) فصلوں کے لئے پانی کی رسائی کا فقدان جس سے بورویلس (کنواں) کھودنے کے لئے جو کہ ناکام ہو سود کی مہنگی شرح پر کسانوں کا رقم ادھار لینے پر مجبور ہونا۔

     ماخذ:   اے۔ کے۔ مہتا اور سوربھ گھوش کی معاونت کے ساتھ رینو ایلوادھی کی گلوبلائزیشن، لاس آف لیوی ہوڈس اینڈ انٹری ان ٹو پاورٹی‘‘۔الٹرنیٹو اکانامک سروے انڈیا 05-2004 الٹرنیٹو سروے گروپ۔ ڈینیل بکس، دہلی 2005 اور پی سائی ناتھ کی بوپلنگ رجسٹر آف ڈیتھس، دی ہندو 29 دسمبر 2005 ساکشی آریا،ٹائمزآف انڈیا۔25ستمبر2019۔گزشتہ پارج برسوں میں40 فی صد سے زیادہ کسانوں نے خود کشی کی ہے لیکن یہ ابھی بھی انتخابی موضوع نہیں بنا ہے-



ہندوستان میں شہری غریب بڑے پیمانے پر دیہی غریبوں کا ایک سیلاب ہے جو روزگار اور ذریعہ معاش کی تلاش میں شہری علاقوں کو نقل مکانی کرکے آتے ہیں۔ صنعت کاری ان تمام لوگوں کو جذب کرنے کی اہل نہیں ہے۔ زیادہ ترشہری غریب یا تو بے روزگارہیں یا وقفے وقفے سے جزوی مزدوروں کے طور پر روزگار حاصل کرتے ہیں۔ اتفاقی یا بے قاعدہ مزدور سماج میں سب سے زیادہ تکلیف دہ حالت میں ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس نہ کسی ملازمت کی ضمانت ہے، نہ اثاثے ہیں، ان کی مہارتیں محدود ہیں اور مواقع قلیل ہیں اور انھیں سہارا دینے کے لئے کوئی بچت بھی نہیں ہے۔
لہٰذا  دیہی اور شہری دونوں  علاقوںمیں غریبی کا روزگار،بے روزگاری یا کم روزگاری، کام کی اتفاقی اور غیر مسلسل نوعیت سے بھی گہرا تعلق ہے جو مقروضیت پر مجبور کرتی ہے اور نتیجتاً غریبی کو مزید تقویت پہنچاتی ہے۔ مقروضیت غریبی کا ایک اہم عامل یا سبب ہے۔
اناج اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمت میں آسائشی اشیاکے مقابلے تیز اضافہ کم آمدنی والے گروپوں کی خستہ حالی اور محرومی مزید شدت پیدا کردیتا ہے۔ آمدنی اور اثاثے کی غیر مساوی تقسیم کے سبب بھی ہندوستان میں غربت قائم ہے۔
ان سب سے سماج میں دو امتیازی گروپوں کی تخلیق ہوئی ہے ایک وہ جن کے پاس پیداوار کے ذرائع ہیں اور اچھی آمدنی ہے اور دوسرے وہ جن کو بقا کے لئے داؤ پر لگانے کو صرف ان کی محنت ہے، سال گزرنے کے ساتھ ہندوستان میں امیر اور غریب کے درمیان کھائی اور بھی چوڑی ہوتی جارہی ہے۔ ہندوستان کے لئے غریبی ایک کثیر جہتی چیلنج ہے جس کا سامنا کرنا ایک جنگ لڑنے کے برابر ہے۔

4.6   انسداد غریبی کے تئیں پالیسیاں اور پروگرام

ہندوستان کے آئین اور پنج سالہ منصوبوں میں سماجی انصاف کو حکومت کی ترقیاتی حکمت عملیوں کے بنیادی مقصد کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ پہلے پنج سالہ منصوبے (56-1951)کا اقتباس، ’’موجودہ حالات کے تحت معاشی اور سماجی تبدیلی کے لئے اصرار غربت اور آمدنی، دولت اور مواقع میں عدم مساوات کے سبب کیاجاتا ہے‘‘۔ دوسرے منصوبے (61-1956) میں اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ ’’معاشی ترقی کے فوائد سماج کے نسبتاً کم مراعات یافتہ طبقات کو زیادہ سے زیادہ حاصل ہونا چاہیے۔ کوئی بھی دیکھ سکتا ہے کہ سبھی پالیسی دستاویزوں میں انسداد غربت اور ان مختلف حکمت عملیوں پر زور دیا گیا ہے جنھیں اس مقصد کے لئے حکومت کے ذریعہ اپنائے جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
غریبی کو کم کرنے کے لئے حکومت کا طریقۂ فکر سہ پہلوئی تھا۔ اول نمو پر مبنی رسائی ۔یہ اس امید پر مبنی ہے کہ معاشی نمو یعنی مجموعی گھریلو پیداوار اور فی کس آمدنی میں تیز اضافے کے اثرات سماج کے سبھی طبقات تک پہنچیں  گے اور غریب طبقات کے لئے بھی ظاہر ہوں  گے۔ 1950 کے دہے اور ابتدائی 1960 کے دہے میں منصوبہ بندی میں اس پر خاص توجہ دی گئی تھی۔ یہ محسوس کیا گیا تھاکہ تیز صنعتی ترقی اور منتخب علاقوں میں سبز انقلاب کے ذریعہ زراعت میں انقلاب کم ترقی یافتہ یا پسماندہ علاقوں میں اور کمیونٹی کے زیادہ پسماندہ طبقات کو فائدہ پہنچائے گا۔ آپ نے باب2  اور باب 3 میں پڑھا ہے کہ مجموعی نمو اور زراعت اور صنعت میں نمو اتنی موثر نہیں رہی۔ آبادی میں اضافے کے سبب فی کس آمدنی میں بہت کم اضافہ ہوا۔ درحقیقت غریب اور امیر کے درمیان کھائی اور چوڑی ہوگئی۔ سبز انقلاب نے علاقائی اور بڑے اور چھوٹے کسانوں کے درمیان عدم مساوات کو اور بھی بڑھادیا۔ ازسرنو تقسیم کی گئی زمین کے تئیں تامل اور معذوری پائی جاتی تھی۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ معاشی نمو کے فوائد غریبوں تک نہیں پہنچے۔
غریبوں پر خصوصی طور پر توجہ دینے کے لئے متبادلات کی تلاش میں پالیسی سازوں نے سوچنا شروع کیا کہ غریبوں کے لئے آمدنی اور روزگار اضافی اثاثوں کے ذریعہ اور کام کی تخلیق کے ذریعے سے بڑھائی جاسکتے ہیں۔ اسے مخصوص انسداد غربت پروگراموں کے ذریعہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس دوسرے طریقۂ فکر کی شروعات تیسرے پنج سالہ منصوبے (66-1961) سے ہوئی اور اس کے بعد تدریجی طور پر اس میں اضافہ کیا گیا۔ ایک قابل ذکر پروگرام جو1970 کے دہے میں شروع کیا گیا تھا وہ کام کے بدلے اناج پروگرام تھا۔
2015سے پہلےبیشتر لاگو کیے جانے والے انسداد غریبی کے پروگرام پنج سالہ منصوبے کے تناظر پر مبنی تھے۔ خود روزگاری  پروگراموں اور اجرتی روزگار پروگراموں کی توسیع کو غریبی کی طرف توجہ دینے کے اہم طریقوں کے طور پر سمجھا جارہا ہے۔وزیر اعظم کی روزگار یوجنا (PMRY)خود روزگاری پروگرام کی مثال ہے۔ اس نوعیت کے پرو گرام کا مقصد شہری علاقوںمیں خود روزگاری کے مواقع پیدا کرناتھا۔ کھادی اور دیہی صنعتوں کا کمیشن اسے نافذ کررہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت کوئی فرد چھوٹی صنعتی قائم کرنے کے لئے بینک کے قرضوں کی شکل میں مالی امداد حاصل کرسکتا تھا۔ دیہی اور شہری علاقوں میں کم آمدنی والے کنبوں کے تعلیم یافتہ بے روزگار کسی بھی طرح کا کاروباری ادارہ جو کہ PMRY کے تحت روزگار کی تخلیق کرتا تھا، اس کی تشکیل کے لئے مالی امداد حاصل کرسکتا ہے۔ بعض پرو گراموں کا مقصد شہری علاقوں میں خود روزگاری اور اجرتی روزگاری دونوں طرح کے روزگار مواقع پیدا کرتا ہے۔
خود روزگاری پروگراموں کے تحت مالی امداد کُنبوں یا افراد کو دی جاتی تھی۔ 1990 سے یہ انداز نظر بدل دیا گیا، وہ لوگ جو ان پروگراموں سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں انھیں خود امدادی گروپوں کی تشکیل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ابتدائی طور پر انھیں کچھ رقم بچانے کے لئے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور ان کو چھوٹے چھوٹے قرض دیئے جاتے ہیں۔ بعد میں بینکوں کے ذریعہ حکومت خود امدادی گروپوں (SHG) کو جزوی مالی امداد فراہم کرتی ہے اور یہ فیصلہ کرتی ہے کہ خود روزگار سرگرمیوں کے لئے قرض کسے دیا جانا ہے۔ اپنے علاقے میں چلائے جارہے پروگراموں کی تفصیلات معلوم کیجیے اور کلاس روم میں ان پر بحث و مباحثہ کیجیے-

PIC_27
شکل 4.6   کام کے بدلے اناج، پروگرام کے تحت اجرتی روزگار

PIC_2انھیں حل کریں

  •       منریگا(MANREGA) اور (ii) خودروزگاری کے تحت تین روزگار مواقع جو کہ ساحلی علاقوں، ریگستانی، پہاڑی قبائلی علاقوں میں پیدا ہوسکتے ہیں ان پر بحث کیجئے اور اس کے بعد ان کی فہرست تیار کیجئے۔
  •         آپ کے علاقے یا پڑوس میں آپ ترقیاتی کاموں جیسے سڑکوں کو بنانا، سرکاری اسپتالوں، سرکاری اسکولوں میںعمارتوں کی تعمیر وغیرہ سے واقف ہونگے۔ اس طرح کے مقامات کا دورہ کریں اور کام کو نوعیت کتنے لوگوں کو روزگار حاصل ہورہا ہے، مزدوروں کو دی جانے والی اجرت کے بارے میں دو تین صفحات کی رپورٹ تیار کریں۔

دیہی علاقوں میں رہنے والے غریب غیر ہنرمند لوگوں کے لئے اجرتی روزگار پیداکرنے کے کئی طرح کے پروگرام ہیں۔  اگست 2005میں پارلیمنٹ نے ہر گھر کے ہربالغ رضاکار کو ایک سال میں کم سے کم 100 دنوں کے لیے غیر ہنرمندانہ جسمانی کام کے لیے اجرتی روزگار فراہم کرنے کی ضمانت دینے کا ایک نیا ایکٹ(MANREGA) پاس کیا ہے اس ایکٹ کو مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی ایکٹ(MANREGA) کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت غریبوں میں وہ سبھی لوگ جو کم سے کم اجرت پر کام کرنے کے لئے تیار ہوں ہو ان علاقوں میں جہاں پر پروگرام نافذ ہوا ہے،پہنچ کر حاضری دے سکتے ہیں۔اس قانون کے تحت  تقریباً  5کروڑ لوگوں کو روزگار کا موقع مل چکا ہے۔
 غریبی پر توجہ دینے کامقصد لوگوں کو کم سے کم بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ہندوستان دنیا میں ان اولین ملکوںمیں ایک تھا جس نے اس بات پر توجہ دی کہ سماجی صرفی ضرورتوں پر عوامی اخراجات اَعانتی شرح پر اناجوں کے اہتمام، تعلیم، صحت، پانی کی سپلائی اور صفائی کے ذریعہ لوگوں کی معیار زندگی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ اس نظریئے اور طریقے کے تحت پروگراموں کے ذریعہ غریبوں کے لئے کھپت میں  اضافہ ہونے، روزگار کے مواقع کی تخلیق اور صحت وتعلیم میں بہتری پیدا کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ کوئی بھی پانچویں پنج سالہ منصوبے میں اس طرزفکر کی جھلک دیکھ سکتا ہے۔ توسیعی روزگار مواقع کے باوجود غریب لوگ  سبھی ضروری اشیاء اور خدمات کے خریدنے کے اہل نہیں ہونگے۔ ان کے لئے ضروری اناج، تعلیم، صحت، تغذیہ، پینے کے پانی، گھر، مواصلات اور بجلی کی شکل میں سماجی خرچ اور اصل کاری کے ذریعہ چند کم ترین معیارات کی تکمیل کرنی ہوگی۔ تین اہم پروگرام جن کا مقصد غریبوں کی غذا اور تغذیاتی حیثیت کو بہتر بنانا ہے: عوامی تقسیمی نظام، پوشن ابھیان، دوپہر کے کھانے کی اسکیم، پردھان منتری گرام سڑک یوجنا،اور والمیکی امبیڈکر آواس یوجنا بھی اسی سمت میں کی جانے والی کوششیں ہیں۔ مختصراً یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ ہندوستان نے متعدد پہلوؤں سے اطمینان بخش پیش رفت کی ہے۔
کچھ مخصوص گروپوں کی مدد کے لئے حکومت کے پاس کئی طرح کے دیگر سماجی تحفظ کے پروگرام ہیں، قومی سماجی امداد پروگرام اسی طرح کا ایک پروگرام ہے اس پروگرام کے تحت ایسے بزرگ لوگوں کی دیکھ بھال کی جاتی ہے جن کی دیکھ بھال کے لئے کوئی نہیں ہوتااور ان کی گذربسر کے لئے پنشن دی جاتی ہے مفلس عورتوں اور بیواؤں کو بھی اس اسکیم کے تحت شامل کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے بھی غریب لوگوں کو صحت بیمہ مہیا کرانے کی اسکیمیں شروع کی گئی ہے۔2014سے پردھان منتری جن دھن یوجنا نامی اسکیم دستیاب ہے جس کے تحت ہندوستانی شہریوں کی بینک کھاتے کھولنے کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ اس کا مقصد لوگوں میں بچت کرنے کی عادت کو فروغ دینے کے علاوہ سرکاری اسکیموں کے فوائد کو براہ راست فیض حاصل کرنے والے کے کھاتے میں منتقل کرنا ہے بینک کھاتہ رکھنے والا ہر شخص ایک لاکھ روپے کے حادثاتی بیمہ اور 30000 روپے کے لائف انشورینس کا بھی حقدار ہوگا۔

4.7  انسداد غربت پروگرام- ایک تنقیدی جائزہ

انسداد غربت کی کوششوں کا نتیجہ آزادی کے بعد سے پہلی بار اب نکلا، کچھ ریاستوں میں  مطلق غریبوں کا فی صد قومی اوسط سے بھی کافی کم ہے۔ غربت، بھوک، ناقص تغذیہ، ناخواندگی اور بنیادی سہولتوں میں کمی دور کرنے کے لئے مختلف طرح کی طریقوں، پروگراموں اور اسکیموں کے باوجود ہندوستان کے بہت سے حصوں میں یہ اب بھی جاری ہے۔ اگرچہ انسداد غربت کے تئیں پالیسی کا ارتقاء پچھلے پچپن سالوں میں تدریجی انداز میں ہوا ہے، پھر بھی اس میں کوئی بنیادی اورانقلابی تبدیلی نہیں آئی۔ آپ پروگراموں کی مخصوص اصطلاحیں، تکمیل یا تبدیلیوں کا عمل دریافت کرسکتے ہیں۔ تاہم، ضرورتمندوں کے لئے اثاثوں کی ملکیت پیداواروں کے عمل اور بنیادی سہولیات کی بہتری میں کوئی بنیادی تبدیلی کا نتیجہ حاصل نہیں ہوپایا۔ ماہرین جب ان پروگراموں کا جائزہ لیتے ہیں تب ان سے متعلق تین ایسے اہم شعبوں کا بیان کرتے ہیں جو ان کے کامیاب نفاذ میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔ زمین اور دیگر اثاثوں کی غیر مساوی تقسیم کے سبب انسداد غریبی پروگراموں کے سیدھے فوائدغیر مفلسوں نے ہڑپ لئے ۔ غریبی کے حجم کے مقابل ان پروگراموں کے لئے مختص وسائل کی مقدار کافی نہیں ہے۔ مزید برآں، یہ پروگرام نافذکرنے کے لیے بالخصوص حکومت اور بنک کے عہدیداروں پر منحصر ہیں۔ چونکہ ان عہدیداروںمیں محرکات کی کمی ہے، وہ مناسب طور پر تربیت یافتہ نہیں ہیں، بدعنوانی کی طرف مائل ہیں اور مختلف مقامی اعلیٰ طبقوں کے دباؤ سے مجبور ہوتے ہیں، وسائل کو غیر مؤثر طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے اور ضائع کیا جاتا ہے۔ پروگرام کے نفاذ میں مقامی سطح کے اداروں کی شرکت بھی نہیں ہوئی ہے۔

باکس  4.4  :   رام داس کوروا کی سڑک نامعلوم مقام تک

کسی سبب سے کیتھا گاؤں کا رام داس کوروا یہ معلوم کرکے خوش نہیں تھا کہ حکومت کے لیے اس کی قیمت 17.44 لاکھ روپے کے برابر تھی۔ 1993 کے آخر میں حکام نے پروجیکٹ کے تئیں 17.44 لاکھ روپے مختص کر کے قبائلی ترقی کے نام پر رج کیتھا گاؤں کو جانے والی تین کلومیٹر لمبی سڑک بنانے کا فیصلہ کیا۔
  سرگوجا میں قبائلی 55 فی صد کے ساتھ اکثریت میں ہیں۔ یہ ہندوستان کے سب سے غریب اضلاع میں  سے ایک ہے اور پہاڑی کوروا جو کہ حکومت کے ذریعہ قدیم قبیلے کے طور پر درج فہرست ہیں، وہ 50  فی صد ہیں۔ ان کی ترقی کے لئے خصوصی کوششیں جاری رہتی ہیں جن میں اکثر کافی رقم شامل ہوتی ہے۔ محض مرکزی فنڈ یافتہ اسکیم جو کہ پہاڑی کو روا پروجیکٹ کے لئے ہے پانچ سال کی مدت کے دوران بقدر 42 کروڑ روپے ہے۔
  یہاں تقریباً 15,000 پہاڑی کو روا ہیں ان کی سب سے زیادہ تعداد سرگوجا میں ہے تاہم سیاسی وجوہات کی بنا پر پروجیکٹ کی خاص بنیاد رائے گڑھ ضلع میں ہے۔ رچ کیتھا میں پہاڑی کو ردامارگ کی تعمیر محض ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے۔ یہ گاؤں پہاڑی کو رواؤں سے تقریباً پوری طرح خالی ہے۔ صرف رام داس کا خاندان درحقیقت تنِ تنہا ہے جو وہیں رہتا ہے۔
اگر ان سے پہاڑی کورواؤں کو کوئی فائدہ بالکل نہ ہو اور پوری طرح لاحاصل ہوں تو بھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہاں پر اگر آپ نے سوئمنگ پول (تیراکی کے لئے تیار کردہ تالاب) اور بنگلہ بھی تیار کرنا چاہتے ہیں تو اسے قبائلی ترقی کے نام پر انجام دے سکتے ہیں، جیسا کہ ایک NGO (غیر سرکاری تنظیم) کے سرگرم عمل کارکن (Activist) کا کہنا ہے۔ کسی کو یہ پرواہ نہیں کہ وہ جانچ کرے کہ آیا حقیقت میںیہاں رچ کیٹھا گاؤں میں پہاڑی کو روارہ رہے ہیں اور یہاں کچی سڑک پہلے سے بنی ہوئی ہے۔ روام داس کا بیٹا رام اوتار کوروا کہتا ہے۔ انھوں نے اس میں صرف لال مٹی ڈالی ہے۔ 17.44 لاکھ خرچ کرنے کے بعد آج بھی یہ پکی سڑک نہیں ہے۔
رام داس کی خود کی مانگیں اثرانگیز طور پر سیدھی سادی سی تھیں۔ ہم بھی تھوڑا پانی چاہتے ہیں؛ وہ کہتا ہے۔ ہم پانی کے بغیر زراعت کیسے کرسکتے ہیں؟ باربار دہراتے ہوئے وہ مزید کہتا ہے: 17.44 لاکھ روپے اس سڑک پر خرچ کرنے کے بجائے اگر وہ کچھ ہی ہزار میری زمین پر ناقص کنویں کی مرمت میں خرچ کردیتے تب کیا یہ بہتر نہ ہوتا؟ زمین کو کچھ بہتر بنانا بھی ضروری ہے، بلکہ انھیں تھوڑا سا پانی ہمیں فراہم کر کے ذریعہ شروعات کردینی چاہیے۔
رام داس کے مسائل کو نظرانداز کردیا گیا۔ حکومت کا مسئلہ، مقرر نشانہ پورا کرنا تھا۔ اگر یہ رقم محض بنک کے فکسڈ جمع کھاتے (Bank Fixed Deposite) میں ر کھ دی جاتی تب ان پہاڑی کوروا خاندانوں کو کیا کبھی پھر کام کرنا پڑتا؟ اکیلے سود کے ذریعہ سرگوجا کے معیارات کے اعتبار سے انھیں آسودہ حال بنایا جاسکتا تھا۔ ایک عہدیدار نے پھبتی کسنے کے انداز میں کہا:
کسی بھی شخص کو رام داس سے پوچھنے کا خیال نہیں آیاکہ آخر اس کی واقعی ضرورت کیا تھی، اس کے کیا مسائل تھے یا ان کے سلجھانے میں اسے بھی شامل کرلیاجاتا۔ بلکہ اس کے بجائے اس کے نام پر انھوں نے ایک سڑک بنائی جس کی لاگت 17.44 لاکھ روپے تھی جس کا وہ استعمال نہیں کرتا۔ براہ کرم میرے پانی کے مسئلے کے بارے میں کچھ کیجئے جناب؛ رام داس کہتا ہے کیونکہ ہم میدان پار کرکے دو کلومیٹر کا سفر اس سڑک تک پہنچنے کے لئے کرتے ہیں جو کہیں نہیں لے جاتی ۔

     ماخذ:     پی سائی ناتھ کی Every body loves a good Drought ہندوستان کے غریب ترین اضلاع کی کہانیوں سے اقتباس۔


PIC_28
شکل 4.7  ردی چننے والے- روزگار سے متعلق منصوبہ بندی کی بدنظمی کے سبب لوگ نہایت کم اجرت والے جاب انجام دینے پر مجبور ہوتے ہیں۔

حکومت کی پالیسیاں ان مصیبت زدہ لوگوں کی طرف خصوصی توجہ دینے میں ناکام رہی ہیں جو خط غریبی سے تھوڑا ہی اوپر اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں۔ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اعلیٰ نمو کے لیے غریبی کم کرنا کافی نہیں ہے۔ غریبوں کی سرگرم شرکت کے بغیر کسی پروگرام کا کامیاب نفاذ ممکن نہیں ہے۔ غریبی کو صرف اسی وقت مؤثر طور پر ختم کیا جاسکتا ہے جب نمو یا افزائش کے عمل میں غریبوں کی سرگرم شمولیت کے ذریعہ نمو میں ان کی شرکت بھی شروع ہو۔ یہ سماجی حرکت پذیری، شرکت کے لئے غریب لوگوں کی حوصلہ افزائی کے عمل اور انھیں باختیار بنانے کے ذریعہ ممکن ہے۔ اس سے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بھی مدد ملے گی جس سے آمدنی کی سطحوں میں اضافہ، ہنر میں ترقی اور صحت اور خونداگی کی سطحوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ مزید برآں غریبی میں مبتلا علاقوں کو شناخت کرنا اور بنیادی ڈھانچوں جیسے اسکول، سڑک، بجلی، ٹیلی کام، انفارمیشن ٹکنالوجی خدمات، تربیتی ادارے وغیرہ فراہم کرناضروری ہیں۔

4.8   اختتام:(Conclusion)   

ہم نے آزادی سے اب تک تقریباً سات دہائیوں تک کا سفر طے کیا ہے۔ ہماری تمام پالیسیوں کا مقصد مساوات اور سماجی انصاف کے ساتھ تیز اور متوازی معاشی ترقی کا فروغ بیان کیا گیا ہے۔ انسداد غربت کوپالیسی سازہمیشہ ایک خاص  چیلنج سمجھتے آئے ہیں خواہ کوئی بھی حکومت اقتدار میں رہی ہو۔ ملک میں غریبوں کی مطلق تعداد میں کمی آئی ہے اور کچھ ریاستوں میں غریبوں کااوسط قومی اوسط سے بھی کم ہے تاہم ناقدین بتاتے ہیں کہ حالاں کہ وسیع وسائل مختص اور خرچ کئے گئے ہیں، ہم اب بھی منزل مقصود سے بہت دور ہیں۔ فی کس آمدنی اور اوسط معیار زندگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اور بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کی جانب کچھ پیش رفت ہوئی ہے لیکن بہت سے دوسرے ممالک نے جو ترقی کی ہے اس کو دیکھتے ہوئے ہماری کارکردگی موثر نہیں رہی ہے۔ اس کے علاوہ ترقی کے فائدے آبادی کے تمام حصوں تک نہیں پہنچے ہیں۔ حالاں کہ کچھ لوگ، معیشت کے کچھ حصے، ملک کے کچھ علاقے سماجی اور معاشی ترقی کے معاملے میں ترقی یافتہ ممالک سے بھی مقابلہ کرسکتے ہیں، تاہم ابھی تک دوسرے بہت سے ایسے لوگ ہیں جو غربت وافلاس کے چکّرسے باہر نہیں نکل پائے ہیں۔

PIC_9خلاصہ

  •         غریبی کو کم کرنا، ہندوستان کی ترقیاتی حکمت عملی کا ایک اہم مقصد رہا ہے۔
  •        فی کس صرفی اخراجات کی سطح، جو دیہی علاقوں میں 2,400 کیلوریوں اور شہری علاقوں میں 2,100 کیلوریوں کی فی کس یومیہ ضروریات ساتھ ہی ساتھ کم سے کم غیر غذائی اخراجات کی تکمیل کرتی ہے اسے خط غریبی یا مطلق غریبی کہا جاتا ہے۔
  •      جب غریبوں کی تعداد ادوران کے تناسب کا موازنہ کیا جاتا ہے تب ہمیں لوگوں کی غربت کی مختلف سطحوں اور ریاستوں اوروقت کے درمیان ان کی تقسیم کا پتہ چلتا ہے۔
  •    ہندوستان میں غریبوں کے تعداد اور کل آبادی میں ان کا تناسب بتدریج کم ہوا ہے۔ 1990 کی دہائی میں پہلی بار غریبوں کی مطلق تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔
  •      آمدنی اور اخراجات رخی اندازفکر غریبوں کے بہت سے دیگر اوصاف پر توجہ نہیں دی گئی۔غریبوں کی اکثریت دیہی علاقوں میں رہتی ہے اور خود کوجزوقتی اور غیرہنر مندانہ روزگار میں لگائے رکھتی ہے۔
  •      آمدنی اور اخراجات پر مبنی حکمت عملی میں غریبوں کے بہت سے دیگر اوصاف پر توجہ نہیں دی گئی ہے۔ 
  •       گزرے سالوں کے دوران ہندوستان میں غربت کو کم کرنے کے درج ذیل تین طریقے اپنائے جاتے رہے ہیں؛  نمو یا افزائش رخی پروگرام، مخصوص انسداد غربت پروگرام اور غریبوں کی کم سے کم ضرورتوں کی تکمیل۔
  •    حکومت کے اقدامات میں اب بھی اثاثوں کی ملکیت میں تبدیلی پیدوار کی عمل کاری اور غریبوں کے لئے بنیادی سہولیات مہیا کرانا باقی ہے۔ 

PIC_8مشقیں


1         کیلوری پر مبنی ضابطہ غریبی کی شناخت کے لیے کیوں کافی نہیں ہے؟
2      (MANREGA) کا کیامطلب ہے؟
3      ہندوستان میں غریبی کے خاتمے کے لیے روزگار پیدا کرنے والے پروگرام کیوں اہم ہیں؟
4      آمدنی کمانے والے اثاثوں کی تخلیق کس طرح غریبی کے مسئلے سے نمٹتی ہے؟
5     حکومت کے ذریعہ اپنائے جانے والے تین سطحی انسداد غربت پروگرام ہندوستان میں غریبی کے خاتمے کے لیے کامیاب نہیں ہوتے ہیں ۔وضاحت کریں۔
6      حکومت نے بزرگ لوگوں، غریبوں اور مفلس عورتوں کی مدد کے لئے کون سے پروگرام اپنائے ہیں؟
7     بے روزگاری اور غربت کے درمیان کیا کوئی رشتہ ہے؟ وضاحت کیجئے۔
8     مان لیجئے آپ ایک غریب فیملی- متعلق ہیں اور آپ ایک چھوٹی دوکان کھولنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے حکومت سے مدد حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔ کس اسکیم کے تحت آپ مدد کے لئے درخواست دیں گے اور کیوں؟
 9       دیہی اور شہری غریبی کے درمیان فرق واضح کیجئے۔ کیا یہ کہنا صحیح ہے کہ غریبی دیہی علاقوں سے شہری علاقوں کو منتقل ہوتا ہے؟ اپنے جواب کے حق میں غریبی کے تناسب میں رجحانات کا استعمال کیجئے۔
10    فرض کیجئے کہ آپ کسی گاؤں کے باشندے ہیں، غریبی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے کچھ اقدامات کی تجویز پیش کیجئے ۔
11  فرض کیجیے آپ کی شہری علاقے میں رہتے ہیں۔آپ دیکھ سکتے ہیں کہ غریب لوگ سںکوں۔ریلوے اسٹیشنوں اور بس اڈوں کے پاس جھکی بسپیوں میں رہتے ہیں۔
ان کے رہنے کے حالتوں میں بہتری لانے کی تدابیر تجویز کیجیے۔

PIC_2مجوزہ اضافی سرگرمیاں:


1       مختلف اشیاء کے اپنے یومیہ صرف کے بارے میں اپنے محلے کے 30  افراد سے ڈیٹا اکٹھا کیجئے۔ نسبتاً زیادہ بہتر اور بدتر کی بنیاد پر افراد کی درجہ بندی اضافی غربت کا درجہ حاصل کرنے کے لئے کیجئے۔
2       معلومات اکٹھا کیجئے اور مختلف اشیاء پر چار کم آمدنی والی فیملیوں کے ذریعہ روپیوں کی اصطلاح میں خرچ کی جانے والی رقم کی مقدار کے ساتھ درج ذیل جدول میں پرکیجئے۔ تحقیق کا تجزیہ کیجئے اور دریافت کیجئے کہ دیگر فیملیوں کے مقابلے کون سی فیملی نسبتاً زیادہ غریب ہے۔ اگر خط غریبی 500 روپے فی ماہ فی شخص کا اخراجات مقررہ ہے تب دریافت کیجئے کہ کون غریب ہے۔


فیملی D فیملی C فیملی B فیملیA اشیا
گیہون/چاول
بناسپتی یا خوردنی تیل
شکر
بجلی
گھی
کپڑے
گھر کا کرایہ

3         درج ذیل جدول فی صد کی اصطلاح میں ہندوستان اور دہلی کی پسماندہ بستی میں صرف کی مدوں پر اوسط ماہانہ اخراجات فی شخص کا اظہار کرتا ہے۔ دیہی علاقوں میں 25 فی صد پر چاول اور گیہوں کا مطلب یہ ہے کہ ہر خرچ کئے گئے 100 روپے کے لئے 25 روپے اکیلے چاول اور گیہوں کی خریداری پر جاتے ہیں۔
          جدول کا مزید مطالعہ کریں اور درج ذیل سوالات کے جواب دیں۔


دہلی کی پسماندہ بستیاں شہری دیہی چیزیں
7۔28
9۔9
3۔10
6۔19
1۔13
0۔4
1۔8
4۔6

9۔35
1۔6
1۔14
7۔12
3۔5
8۔3
8۔10
3۔11
0۔25
7۔5
4۔17
1۔15
3۔6
3۔3
8۔10
5۔16
چاول اور گیہوں
دالیں اور ان کے پروڈکٹ
دودھ اور دودھ سے بنی اشیا
سبزیاں اور پھل
گوشت مچھلی اور انڈے
شکر
نمک اور مسالے
دیگر غذائی چیزیں
100 100 100 کل:کل غذا
8۔72

2۔72 9۔62 کل مدوں کے فی صد کے طور پر غذائی مدوں
کے اخراجات
  •       مختلف گروپوں اور ان کی ترجیحات میں غذائی مدوں پر اخراجات کے فی صد کا موازنہ کیجئے۔
  •       کیا آپ کے خیال میں پسماندہ بستیوں کے خاندان اناجوں اور دالوں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں؟
  •       کس مد پر مختلف علاقوں میں رہنے والے لوگ کم خرچ کرتے ہیں۔ ان کا موازنہ کیجئے۔ 
  •       کیا آپ کے خیال میں پسماندہ بستی میں رہنے والے لوگوں نے گوشت، مچھلی اور انڈوں پر زیادہ زور دیا ہے۔ 

PIC_7حوالہ جات 


کتابیں

ابھچیت۔بنرجی پی بردھان آرسومانا تھن اور ٹی این سرینواسن۔زولا۔Poverty and income distribution in india جگر نا وٹ۔ نئی دہلی
ڈانڈیکر، وی۔ایم ۔ اور نیلی کنٹھ رتھ "Poverty in India" - 1971انڈین اسکول آف پولیٹکل اکانامی، پونے ۔
 ڈریز، جین، امرتیہ سین اور اختر حسین (اشاعت)۔ -1995 دی پولیٹکل اکانامی آف ہنگر، کلارینڈن پریس، آکسفورڈ۔ 
ایستھرڈ فلو اور اے وی بنرجی،2019۔Good Economics for hard times.Answers to our biggest problem جگر ناوٹ نئی دہلی
نوروجی، دادا بھائی'Poverty and Un-British Rule in India 1996'پبلی کیشن دویزن ، وزارت اطلاعات ونشریات، حکومت ہند، دوسری اشاعت، نئی دہلی۔
سائی ناتھ، پی'Everybody Loves a good Drought' 1995 : ہندوستان کے غریب ترین اضلاع کی کہانیاں ، پنگوئین بکس ، نئی دہلی۔
سین، امرتیہ Poverty and Famines: An assay on Entitlement and Deprivation 1999 آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، نئی دہلی۔ 
سیرا منیم، ایس India's Development Experience: Selected Writings S.Gchan. , 2001, (ed.)  آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، نئی دہلی۔

منہاس، بی ۔ایس۔ ایل ۔ آر۔ جین اینڈ ایس۔ ڈی ٹینڈولکر1991

Declining in Incidence of Poverty in the 1980s – Evidence versus Artefacts, Economic and Political Weekly جولائی 6تا 13

حکومتی رپورٹیں:

Reported of the  Expert-Group of the Estimation of Proportion and Nunber of poor Perspective مختلف سالوں پر مبنی ایکونامک سروے وزارت مالیات ، حکومت ہند۔
دسواں پنج سالہ منصوبہ 2002تا 2007، جلدII، Sectoral Politics and Programmes، پلاننگ کمیشن ، حکومت ہند، نئی دہلی۔
بارھواں پنج سالہ منصوبہ (2012-17)، جلد III,II,I، سیج (Sage)پبلیکیشن پرایو یٹ لمیٹیڈ، نئی دہلی (ہندوستان گورنمنٹ کی پلاننگ کمیشن کے لیے) ۔
اسٹیٹ آف انڈین ایگری کلچر۔2017۔وزرات برائے زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود حکومت ہند نئی دہلی،