5
ہندوستان میں انسانی سرمایہ کی تشکیل
(HUMAN CAPITAL FORMATION IN INDIA)
اس باب کے مطالعہ کے بعد طلباء
- انسانی وسائل، انسانی سرمایہ کی تشکیل اور انسانی ترقی کے تصورات کو سمجھیں گے
- انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری، معاشی نمو اور انسانی ترقی کے درمیان رابطوں کو سمجھیں گے؛
- تعلیم اور صحت پر حکومت کے اخراجات کی ضرورت کو سمجھیں گے؛
- ہندوستان کی تعلیمی حصولیابی کی حالت کے بارے میں سمجھیں گے؛
’’ تعلیم پر عوامی اور نجی عطیات کوحکمت وعقلمندی (Wisdom)سے خرچ کرنے کی مقدار‘‘ اس کے راست نتائج سے نہیں کی جاسکتی؛ عوام الناس عموماً اپنے طور پر جن مواقع سے استفادہ کرتے ہیں۔ اس سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے ذریعہ صرف اصل کاری کے طور پر یہ زیادہ نفع بخش ثابت ہوگا، بہتوں کے لئے جو غیر معروف طور پر مر جاتے وہ اس کے ذریعہ اپنی پوشیدہ اہلیتیں ثابت کرنے کے لئے ضروری شروعات کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔
الفرڈمار
1 .5تعارف
ایک عنصر یا عامل کے بارے میں سوچئے جس نے نوع انسانی کے ارتقا میںزبردست اثرڈالاہے۔ غالباً یہ علم کا ذخیرہ کرنے اور ترسیل کرنے کی انسان کی اہلیت ہے جسے وہ بات چیت کے ذریعہ، گیتوں کے ذریعہ اور تفصیلی لکچر کے ذریعہ انجام دیتا رہا ہے۔ لیکن انسانوں نے جلد ہی دریافت کرلیا کہ ہمیں کاموں کو مؤثر طور پر انجام دینے کے لئے اچھی تربیت ومہارت کی ضرورت ہے۔ہم جانتے ہیں کہ کسی تعلیم یافتہ شخص کی کاوش پر مبنی مہارت ایک غیرتعلیم یافتہ فرد کی نسبت زیادہ ہوتی ہے اور اس لیے غیر تعلیم یافتہ شخص کے مقابلے تعلیم یافتہ شخص زیادہ آمدنی پیدا کرنے کا اہل ہوتاہے اور نتیجتاًمعاشی نمو کے تئیں اس کا اشتراک بھی زیادہ ہوتا ہے۔
زمین کا رقبہ برابر ہے تو یہ ایسا کیوں کیون ہےکہ اس کی پیداوار مجھہ سے زیادہ ہے

شکل 5.1 کسانوں کی مناسب تعلیم وتریت کھیتوںمیں پیداواری صلاحیت بڑھا سکتی ہے
تعلیم کا حصول نہ صرف اس لئے کیا جاتاکہ ہے اس سے لوگ اعلیٰ استعدادحاصل کرتے ہیں بلکہ اس کے دیگر قابل قدر فوائد بھی ہیں ۔ اس سے کسی کو بہتر سماجی حیثیت اور فخر بھی حاصل ہوتا ہے ۔ یہ انسان کو زندگی میں بہترچیزیں چننے کا اہل بناتی ہے۔ سماج میں واقع ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے کا علم فراہم کرتی ہے۔یہ نئے نئے کام کرنے کے لیے متحرک کرتی ہے ۔ مزیدبرآں، تعلیم یافتہ افراد ی قوت کی دستیابی نئی ٹکنالوجیوں کو اپنا نے کے عمل کو آسان بناتی ہے۔ ماہرین معاشیات ملک میں تعلیمی مواقع کو وسعت دینے کی ضرورت پر زرد دیتے ہیں کیونکہ یہ ترقیاتی عمل کو تیز کرتی ہے۔
5.2 انسانی سرمایہ کیا ہے؟
جس طرح کوئی ملک مادی و سائل، جیسے زمین کو ،مادی سرمایہ، جیسے فیکٹریوں میں تبدیل کر سکتا ہے ، اسی طرح یہ انسانی و سائل کو بھی، جیسے طلباء کو انسانی سرمایہ جیسے، انجینئر اور ڈاکٹر میں بھی تبدیلی کرسکتا ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ سماجوں کو قابل لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جنھوں نے خود کو پروفیسروں اور دیگر پیشہ ور افراد کے طور پر تعلیم اور تربیت سے آراستہ کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ،دیگر انسانی سرمایہ (جیسے نرسیں۔کسان اساتذہ ڈاکٹر، انجینئر) تیار کرنے کے لئے ہمیں بہتر انسانی سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں انسانی وسائل سے مزید انسانی سرمایہ تیار کر نے کے لئے انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
آیئے ہم درج ذیل سوالوں کو سامنے رکھ کرمزید سمجھیں کہ انسانی سرمایہ کا مطلب کیا ہے۔
(i) انسانی سرمایہ کے وسائل کیا ہیں؟
(ii) ملک کے انسانی سرمایہ اور معاشی نمو کے درمیان کیا کوئی تعلق ہے ؟
(iii) کیا انسانی سرمایہ کی تشکیل انسان کی ہمہ گیر ترقی سے وابستہ ہے یا جیسا کہ اب کہا جاتا ہے، انسانی ترقی؟
(iv) ہندوستان میں انسانی سرمایہ کی تشکیل میں حکومت کیا کردار ادا کرسکتی ہے؟
5.3 انسانی سرمایہ کے وسائل
تعلیم میں سرمایہ کاری کو انسانی سرمایہ کا ایک خاص وسیلہ سمجھا جاتا ہے۔ متعدد دیگر وسائل بھی ہوتے ہیں، صحت، کام کے دوران تربیت، نقل مکانی اور معلومات سرمایہ کاری انسانی سرمایہ کی تشکیل کے دیگر وسائل میں۔
ہمارے والدین تعلیم پر کیوں خرچ کرتے ہیں؟ افراد کے ذریعہ تعلیم پر خرچ کرنا، کمپنیوں کے ذریعہ کیپیٹل گڈس پر ایک مقررہ مدت میں مستقبل کے منافع کو پڑھانے کے لئے خرچ کرنا جیسا ہے، اسی طرح افراد تعلیم پر مستقبل میں آمدنی بڑھانے کے مقصد کے ساتھ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔
اسے حل کریں
- مختلف طبقات سے تین خاندان کا انتخاب کیجیے۔ (i) نہایت غربت(ii) مڈل کلاس اور (iii)خوشحال۔ لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم پر ان خاندانوں کے اخراجات کا مطالعہ کیجئے۔
تعلیم کی طرح صحت کو بھی ملک کی ترقی کے لئے ایک اہم لاگت(Input)کے طور پر سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ کسی فرد کی ترقی کے لئے اہم ہے۔
کون بہتر کام کرسکتا ہے۔ ایک بیمار آدمی یا وہ فرد جس کی صحت اچھی ہو؟ ایک بیمار محنت کش بغیر طبی سہولتوں کے کام سے غیر حاضر رہنے پر مجبور ہوتا ہے اور اس طرح پیداواریت کا نقصان ہوتا ہے۔ لہذا صحت پر اخراجات انسانی سرمایہ کی تشکیل کا اہم وسیلہ ہے۔

مرض سے بچاؤ کی دوا (ٹیکا لگائی)؛ شفا بخش دوا (بیماری کے دوران طبی علاج) سماجی دوا (صحت سے متعلق خواندگی کا پھیلاؤ) اور صاف پینے کے پانی اور بہتر صفائی کا اہتمام، صحت پر ہونے والے اخراجات کی مختلف شکلیں ہیں۔ صحت سے متعلق اخراجات سیدھے طور پر صحت مند افراد کی فراہمی کو بڑھاتے ہیں اور اس طرح انسانی سرمایہ کی تشکیل کا ماخذ ہیں۔

فرمیں اپنے کارکنوں کو کام کے دوران تربیت دینے پر خرچ کرتی ہیں۔ اس کی مختلف شکلیں ہوسکتی ہیں: ایک کا رکن کو خود فرم میں ہی کسی ماہر ورکر کی نگرانی میں تربیت دی جاسکتی ہے؛ دو ورکرس کو کیمپس سے دور تربیت کے لئے بھیجا جاسکتا ہے۔ ان دونوں معاملوں میں فرمیں کچھ اخراجات کرتی ہیں۔ اس طرح فرمیں تقاضا کرتی ہیں کہ ورکرس (کارکنان) کو دوران ملازمت تربیت کے بعد ایک مخصوص مدت کے لیے کام کرنا چاہئے جس کے دوران تربیت کے سبب بڑھی ہوئی پیداواری صلاحیت کے فوائد سے یہ بازیاب ہوسکتی ہے۔ کام کے دوران تربیت سے متعلق اخراجات بڑھی ہوئی لیبر پیداواری صلاحیت کی شکل میں (جو کہ اس کی لاگت کے مقابلے کہیں زیادہ ہوتی ہے) اس طرح کے اخراجات کے حاصل کے طور پر انسانی سرمایہ کی تشکیل ہے۔ کام کی تلاش میں جو لوگ نقل وطن کرتے ہیں ان کے لئے بڑی تنخواہیں باعث کشش ہوتی ہیں جو کہ آبائی مقام پر حاصل کی جانے والی تنخواہوں کی نسبت زیادہ ہوسکتی ہیں۔

ہندوستان میں بے روزگاری دیہی شہری نقل مکانی کی ایک وجہ ہے۔ تکنیکی اہلیتوں والے افراد جیسے انجینئر اور ڈاکٹر دیگر ملکوں کو بڑی تنخواہوں کے سبب ہجرت کرتے ہیں۔ ان دونوں معاملوں میں ہجرت ٹرانسپورٹ، نقل مکانی کے مقامات میں رہنے سہنے کی لاگتوں اور اجنبی سماجی وثقافتی ماحول میں رہنے کی ذہنی ونفسیاتی قیمت پر مشتمل ہے۔ نئے مقامات پر زیادہ آمدنی، ہجرت کی لاگتوں کے مقابلے قدروقیمت میں بڑھ جاتی ہیں لہذا نقل مکانی پر ہونے والے اخراجات بھی انسانی اصل کی تشکیل کا ایک ماخذ ہے۔
باکس : 5.1 مادی اور انسانی اصل
سرمایہ کاری کی تشکیل کی دونوں شکلیں شعوری سرمایہ کاری کے نتائج پر مبنی ہوتے ہیں۔ اصل پونچی میں سرمایہ کاری کرنے سے متعلق فیصلے متعلقہ شخص کے علم کی بنیاد پر لیے جاتے ہیں۔صنعتکار (Entrepreneur) سرمایہ کاری کی وسعت سے حاصل کی متوقع شرحوں کا حساب لگانے کا علم رکھتا ہے اور پھر معقول طور پر فیصلہ کرتا ہے کون سی سرمایہ کاریاں کی جانی چاہئیں۔ اصل پونجی کی ملکیت مالک کے شعوری فیصلے کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ اصل پونجی کی تشکیل بالخصوص ایک معاشی اور تکنیکی عمل ہے۔
کسی کی زندگی میں انسانی اصل کی تشکیل کا ایک بڑا حصہ اس وقت واقع ہوتا ہے جب وہ فیصلہ لینے کا اہل نہیں ہوتا/ ہوتی کہ آیا یہ ان کی یافت کو بیش ترین کرسکے گا۔ بچوں کو ان کے والدین اور سماج کے ذریعہ مختلف قسم کی اسکولی تعلیم اور صحت سے متعلق سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ ہمسر افراد، معلمین اور سماج انسانی اصل سرمایہ کاریوں سے متعلق فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں، حتی کہ تعلیم کے تیسرے مرحلے میںبھی یعنی کالج کی سطح پر۔ مزیدبرآں، انسانی اصل کی تشکیل اس مرحلے پر پہلے ہی سے اسکولی سطح پر تشکیل یافتہ انسانی سرمایہ کاری پر منحصر ہے۔ انسانی پونجی کی تشکیل جزوی طور پر ایک سماجی عمل ہے اور جزوی طور پر انسانی پونجی کے عمل کاروں کے شعوری فیصلے۔
آپ جانتے ہیں کہ اصل پونجی کے مالک کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ اسی مقام پر موجود ہو بالفرض ایک بس جہاں اس کو استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ اس بس کے ڈرائیور کو اس وقت موجود ہونا چاہیے جب بس کو سواری اور سامان کو نقل وحمل کے لئے استعمال کیا جانا ہوتا ہے اصل پونچی مرئی ہے اور دیگر شے کی طرح بازار میں آسانی سے فروخت کیا جاسکتا ہے۔ انسانی پونچی بازار میں نہیں فروخت کیا جاتا؛ صرف انسانی خدمات فروخت کی جاتی ہیں اور انسانی سرمایہ کی ضرورت پیداوار کی جگہ ہوتی ہے۔ مادی سرمایہ کو اپنے مالک سے الگ کیا جاسکتا ہے جبکہ انسانی سرمایہ اپنے مالک سے ناقابل جدائی ہوتا ہے۔
سرمایہ کی دونوں شکلیں ایک مقام سے دوسرے مقام تک حرکت پذیری کے معنی میں مختلف ہوتی ہیں۔ مادی سرمایہ کچھ مصنوعی تجارتی بندشوں کے علاوہ ممالک کے درمیان پوری طرح باآسانی منتقل ہوسکتی ہیں۔ انسانی سرمایہ ممالک کے درمیان پوری طرح نقل پذیرنہیں ہوتا کیونکہ اس کی نقل وحرکت قومیت اور ثقافت سے بندھی ہوتی ہے۔ اس لئے مادی سرمایہ کی تشکیل درآمدات کے ذریعہ بھی کی جاسکتی ہے جبکہ انسانی سرمایہ کی تشکیل کوسماج اور معیشت اور ریاست اور افراد کے ذریعہ اخراجات کی نوعیت کے موافق شعوری پالیسی کی وضع کے ذریعہ انجام دیا جانا ہوتا ہے۔
سرمایہ کی دونوں شکلوں کو وقت کے ساتھ فرسودگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن فرسودگی کی نوعیت دونوں کی الگ الگ ہوتی ہے۔ مشین کے متواتر استعمال سے فرسودگی پیدا ہوتی ہے اور ٹکنالوجی کی تبدیلی سے متروک کی جاسکتی ہے۔ انسانی سرمایہ کے معاملے میں فرسودگی بڑھتی عمر کے ساتھ ہوتی ہے لیکن بڑی حد تک تعلیم صحت وغیرہ میں مسلسل عمل کاری کے ذریعہ کم کی جاسکتی ہے۔ یہ سرمایہ کاری ٹکنالوجی میں تبدیلی کے ساتھ خود سامنا کرسکتی ہے جو مادی سرمایہ کے معاملے میں ایسا نہیں ہے۔
انسانی سرمایہ سے رواں فوائد کی نوعیت مادی اصل سے مختلف ہوتی ہے۔ انسانی سرمایہ سے نہ صرف مالک کو فائدہ پہنچتا ہے بلکہ بالعموم سماج کو بھی اس سے فائدہ پہنچتا ہے۔ اسے خارجی فائدہ کہا جاتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ شخص مؤثر طور پر جمہوری عمل میں حصہ لے سکتا ہے اور ملک کی سماجی ومعاشی ترقی میں اشتراک کرسکتا ہے۔ ایک صحت مند فرد ذاتی حفظان صحت کے علم اور صفائی کو برقرار رکھنے، چھوت سے لگنے والی بیماریوں اور وبائی امراض کے پھیلاؤ سے روکتا ہے۔ انسانی سرمایہ نجی اور سماجی فوائد دونوں کی تخلیق کرتا ہے، جبکہ مادی سرمایہ صرف نجی فائدے کی تخلیق کرتا ہے۔ یعنی مادی سرمایہ سے فوائد ان کو حاصل ہوتے ہیں جو پروڈکٹ اور اس کے ذریعہ پیش کی جانے والی خدمات کے لئے قیمت چکاتے ہیں۔
لوگ مزدوربازار،اور دیگر بازاروں جیسے تعلیم وصحت سے متعلق معلومات کوحاصل کرنے کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ مثال کے لئے لوگ مختلف قسم کے کاموں سے متعلق تنخواہ کے معیار کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، آیا تعلیمی ادارے قابل روزگار مہارتوں کی صحیح قسم فراہم کرتے ہیں اور کس لاگت پر، یہ بھی جاننا چاہتے ہیں۔ انسانی اصل میں اور حاصل انسانی پونجی اسٹاک کی مؤثر افادیت کے لئے سرمایہ کاری سے متعلق فیصلے لینے کے سلسلے میں یہ معلومات ضروری ہے۔ بازار محنت اور دیگر بازاروں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے کئے جانے والے اخراجات بھی انسانی سرمایہ تشکیل کا ماخذ ہیں۔
مادی سرمایہ کا تصور انسانی سرمایہ کی صورت گری یا نظریہ قائم کرنے کے لئے بنیاد ہے۔ سرمایہ کی دو شکلوں کے درمیان کچھ مماثلتیں ہیں؛ ساتھ ہی ساتھ کچھ نمایاں اختلافات بھی ہیں۔ دیکھیں باکس 5.1 ۔
انسانی سرمایہ اور معاشی نمو : قومی آمدنی میں کس کی دین زیادہ ہے ؟ فیکٹری کے مزدورکی یا سافٹ ویر کے پیشے سے منسلک فردکی؟ ہم جانتے ہیں کہ ایک تعلیم یافتہ فرد کی محنت یا کام کی ہنرمندی ایک غیر تعلیم یافتہ فرد کے مقابلے زیادہ ہوتی ہے اور تعلیم یافتہ فرد غیر تعلیم یافتہ کے مقابلے زیادہ آمدنی پیدا کرتا ہے۔ معاشی نمو کا مطلب ملک کی حقیقی قومی آمدنی میں اضافہ ہے؛ فطری طور پر معاشی نمو کے تئیں تعلیم یافتہ فرد کا اشتراک ناخواندہ افراد کے مقابلے زیادہ ہوتا ہے۔ ایک صحت مند فرد کا اشتراک بیمار افراد کے مقابلے زیادہ ہوتا ہے۔ اگر ایک صحت مند فرد طویل مدت کے لئے بلارکاوٹ محنت کی رسد فراہم کرسکتا ہے تب وہ معاشی نمو کے لئے ایک اہم عامل ہے۔ اس طرح بہت سے دیگر عوامل جیسے کام کے دوران تربیت، روزگار کے بازار کی معلومات اور نقل مکانی کے ساتھ تعلیم اور صحت وغیرہ کسی فرد کی آمدنی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں۔
نوع انسانی کی یہ بڑھی ہوئی پیداواری صلاحیت یا انسانی سرمایہ نہ صرف محنت کی پیداواریت بڑھانے کی جانب بڑی معقول حد تک اشتراک کرتا ہے بلکہ اختراعات کے لئے تحریک بھی پیداکرتا ہے اور نئی ٹکنالوجیوں کو جذب کرنے کی اہلیت پیدا کرتا ہے۔ تعلیم ،سماج اور سائنٹفک ترقی میں تبدیلیوں کو سمجھنے کا علم فراہم کرتی ہے، اس طرح ایجادات اور اختراعات میں آسانی پیدا کرتی ہے۔ اسی طرح تعلیم یافتہ قوت محنت نئی ٹکنالوجیوں کو اپنانے میں سہولت پیدا کرتی ہے۔
انھیں حل کریں
- ایک تعلیم یافتہ فرد آمدنی کے دھارے میں زیادہ اشتراک کرتا ہے۔ درج ذیل کے ذریعہ ماہانہ کمائی جانے والی تنخواہ دریافت کیجئے:
- راج ،مستری
- آپ کے اپارٹمنٹ یا اسکول کا چوکیدار
- گھریلو نوکر/ دھوبی
- آپ کے اسکول کے ٹیچر
- آفس میں کلرک
- پروفیسر
- ڈاکٹر/ انجینئر/ ایکزیکٹیو

شکل .5.2 انسانی سرمایہ پیدا کرنا: ایک گاؤں کا اسکول جس کی جگہ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔
عملی تجربے پر مبنی شہادت یہ ثابت کرتی ہے کہ انسانی سرمایہ میں اضافہ جو معاشی نمو کا موجب ہوتا ہے وہ کسی حد تک مبہم ہے۔ ایسا پیمائش کے متعلق مسائل کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ مثال کے لئے اسکول کا عرصہ، مدرس، شاگرد کا تناسب اور اندراج کی شرح کے اعتبار سے تعلیمی پیمائش تعلیم کے معیار کو ظاہر نہیں کرتی؛ زری اصطلاح میں پیمائش کی گئی صحت سے متعلق خدمات، متوقع زندگی اور شرح اموات ملک میں لوگوں کی صحت سے متعلق اصل حیثیت کا اظہار نہیں کرسکتیں۔ درج بالا اشار یہ کا استعمال کرتے ہوئے ترقی پذیر اور ترقی یافتہ دونوں صورتوں میں تعلیم اور صحت سے متعلق سیکٹر میں بہتری کا تجزیہ اور حقیقی فی کس آمدنی میں نمو ظاہر کرتا ہے کہ انسانی سرمایہ کی پیمائشوں میں ارتکاز (Convergance) ہے لیکن فی کس حقیقی آمدنی کے ارتکاز کی کوئی علامت نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں ترقی پذیر ممالک میں انسانی سرمایہ کا فروغ تیزترین رہا ہے لیکن فی کس حقیقی آمدنی اتنی زیادہ نہیں ہے۔ یہ یقین کرنے کے اسباب ہیں کہ انسانی سرمایہ اور معاشی نمو کے درمیان سبب ونتائج کا باہمی ربط (Causality) کسی بھی سمت میں رواں ہوتا ہے۔ یعنی اونچی آمدنی انسانی سرمایہ کی اونچی سطح کی تعمیر کا موجب ہوتی ہے یا اس کے برعکس۔اس کا مطلب ہے انسانی سرمایہ کی بلند سطح آمدنی کے فروغ کا سبب ہوتی ہے۔
ہندوستان نے معاشی نمو میں انسانی سرمایہ کی اہمیت کوبہت عرصہ پہلے تسلیم کرلیا تھا۔ ساتویں پنج سالہ منصوبے میں کہا گیا ہے کہ انسانی وسائل کی ترقی کو (انسانی سرمایہ سمجھیں) کسی بھی ترقیاتی حکمت عملی میں خاص طور پر ایک بڑی آبادی والے ملک کے ضمن میں ایک کلیدی رول تفویض کرنا لازمی ہے۔بہتر خطوط پر تربیت یافتہ اور تعلیم یافتہ، ایک بڑی آبادی معاشی نمو کی رفتار بڑھانے اور مطلوبہ سمتوں میں سماجی تبدیلی کو یقینی بنانے میں بذات ِخودایک اثاثہ بن سکتی ہے۔
معاشی نمو کے تئیں انسانی سرمایہ (تعلیم اور صحت) کی نمو سے سبب واثر (علت ومعلول) کا رشتہ قائم کرنا مشکل ہے لیکن ہم جدول 5.1 میں دیکھ سکتے ہیں کہ ان سیکٹروں کی بیک وقت نمو ہوئی ہے۔ ہر سیکٹر میں نمونے غالباً ہر دیگر سیکٹر کی نمو کو مزید تقویت پہنچائی ہے۔
ہندوستان میں مزید انسانی سرمایہ کی تشکیل سے اس کی معیشت اعلی فروغ کی راہ کی طرف منتقل ہو گی-

شکل .5.3 سائنسی اور تکنیکی افرادی قوت :
انسانی سرمایہ ایک قیمتی جز۔
جدول 5.1
تعلیم اور صحت سے متعلق سیکٹروں میں ترقی کے منتخب اظہاریئے
| تفصیلات | 9151 | 1981 | 1991 | 2001 | 17۔2016 |
| حقیقی فی کس آمدنی (روپے میں) | 5708 | 8594 | 11535 | 16172 | 77659 |
| خام شرح اموات شرح(000۔1فی آبادی پر) | 1۔25 | 5۔12 | 8۔9 | 1۔8 | 3۔6 |
| بچوں کی شرح اموات | 146 | 110 | 80 | 63 | 33 |
| شرح(فی000۔1 زندہ پیدائش مرد پر متوقع زندگی (سال میں) عورت |
2۔37 2۔36 |
1۔54 7۔54 |
7۔59 98۔60 |
9۔63 9۔66 |
67 70 |
| خواندگی شرح(٪) | 67۔16 | 67۔16 | 21۔65 | 20۔65 | 76 |
ماخذ: مختلف سالوں کا اکنامک سروے، وزارت مالیات ،اسٹیٹکل آفس کی رپورٹ۔وزرات اسٹیٹکس اینڈ پروگرام امپلیمنشن۔ حکومت ہند۔
عالمی بینک نے اپنی حال کی رپورٹ، ہندوستان اور علمی معیشت- حصول قوت اور مواقع کے ذرائع میں بیان کیا ہے کہ ہندوستان کو علمی معیشت کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور اگر اپنا علم اسی قدر استعمال کرے جتنا کہ آئرلینڈ کرتا ہے (یہ باور کیا گیا ہے آئرلینڈ اپنی علمی معیشت کو نہایت مؤثر طور پر استعمال کرتا ہے) تب ہندوستان کی فی کس آمدنی جو 2002 میں محض 1000امریکی ڈالرتھی وہ 2020 میں بڑھ کر3000 امریکی ڈالر ہوجائے گی۔ اس میں مزید بیان کیا گیا ہے کہ ہندوستان معیشت کے پاس اس منتقلی کے لئے سبھی اجزائے ترکیبی موجود ہیں جیسے ہنرمند لوگوں کی ضروری ومطلوبہ تعداد، ایک اچھی طرح سے کام کرتی، جمہوریت اور مختلف النوع سائنس اور ٹکنالوجی پر مبنی بنیادی ڈھانچہ۔ اس طرح دونوں رپورٹیں اشارہ کرتی ہیں کہ ہندوستان میں مزید انسانی سرمایہ کی تشکیل سے اس کی معیشت اعلیٰ فروغ کی راہ کی طرف منتقل ہوگی۔

شکل 5.4. ہر ہاتھ میں روزگار پیش جاب: ہندوستان کو علمی معیشت میں تبدیل کرتے ہوئے۔
باکس 5.2 علمی معیشت کے طور پر ہندوستان
ہندوستان کی سافٹ ویر صنعت پچھلے دہوں میں مؤثرریکارڈظاہر کرتی رہی ہے۔ صنعتکار (Entrepreneurs) نوکرشاہ اور سیاست داں اب یہ خیال پیش کررہے ہیں کہ کس طرح ہندوستان انفارمیشن ٹکنالوجی (IT) کا استعمال کرنے کے ذریعہ علم پر مبنی معیشت میں خود کو تبدیل کررہا ہے۔ گاؤں والوں کی کچھ مثالیں بھی پائی جاتی ہیں کہ وہ ای-میل کا استعمال کرہے ہیں جس سے اس طرح کے انقلاب کی مثالوں کا حوالہ پیش کرتی ہیں۔ اسی طرح ای-حکمرانی مستقبل کے انداز کے طور پر پیش ہورہا ہے۔ IT موجودہ اثاثوں اور عمل کاریوں کو زیادہ مؤثر اور کارگزار بناسکتی ہے لیکن سب سے پہلے ایک بنیادی ڈھانچے کو فروغ دیے جانے کی ضرورت ہے۔
5.4 انسانی سرمایہ اور انسانی ترقی
یہ دونوں اصطلاحات ایک جیسی ہونے کا تاثر پیدا کرتی ہیں لیکن ان دونوں میں واضح فرق ہے۔ انسانی سرمایہ تعلیم اور صحت کو محنت کی پیداواریت بڑھانے کے ذرائع کے طور پر باور کرتا ہے۔ انسانی ترقی اس تصور پر مبنی ہے کہ تعلیم اور صحت انسان کی فلاح وبہبود کی تکمیل کرنے والے اجزاء ہیں کیونکہ جب لوگوں کے پاس پڑھنے لکھنے کی صلاحیت اور طویل اور صحت مندانہ زندگی گزارنے کی اہلیت ہوتی ہے، تبھی وہ دوسرے انتخاب جسے وہ کارآمد یا قیمتی سمجھتے ہیں، اختیار کرنے کے اہل ہونگے۔ انسانی سرمایہ انسانوں کو کسی مقصد یا ہدف تک پہنچنے کا وسیلہ مانتا ہے، وہ مقصد یا نتیجہ جو پیداوری صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے۔ اس نظریے سے تعلیم اور صحت میں کوئی بھی سرمایہ کاری غیر پیداوری ہوگی اگر اس سے اشیاء اور خدمات کے ماحصل میں اضافہ نہیں ہوتا۔ انسانی ترقی کے تناظر میں انسان اپنے آپ میں مقاصد ہیں انسانی بہبود کو تعلیم اور صحت میں سرمایہ کاریوں کے ذریعہ بڑھایا جانا چاہیے بھلے ہی اس طرح کی سرمایہ کاریوں کا نتیجہ مزدور کی اونچی پیداواریت کی صورت میں نہ نکلے۔ لہذا بنیادی تعلیم اور بنیادی صحت ،محنت کی پیداواریت میں ان کے اشتراک کے لحاظ کے بغیر اپنے آپ میں اہمیت کی حامل ہیں۔ اس نظریے کے لحاظ سے ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بنیادی تعلیم اور بنیادی حفظان صحت خدمات حاصل کرے یعنی ہر فردکو خواندہ ہونے اور صحت مندانہ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔
انہیں حل کریں
- اگر تعمیراتی کام سے متعلق ورکر، گھریلو نوکر، دھوبی یا اسکول کا چپراسی خراب صحت کے سبب کافی عرصے تک کام سے غیر حاضر رہے، دریافت کیجئے کہ کس طرح:
(i) اس کے روزگار کے تحفظ
(ii) اجرت/ تنخواہ پر اثر پڑتا ہے۔
اس کے ممکنہ اسباب کیا ہوسکتے ہیں؟
5.5 ہندوستان میں انسانی سرمایہ کی تشکیل کی صورتحال
اس سیکشن میں ہم ہندوستان میں انسانی سرمایہ کی تشکیل کا تجزیہ کریں گے۔ ہم نے پہلے پڑھا کہ انسانی سرمایہ کی تشکیل تعلیم، صحت، کام کے دوران تربیت، نقل مکانی اور معلومات میں سرمایہ کاریوں کا نتیجہ ہے، ان میں تعلیم اور صحت انسانی سرمایہ کی تشکیل کے نہایت اہم ذرائع ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارا ملک مرکزی حکومت، ریاستی حکومتوں اور مقامی حکومتوں (میونسپل کارپوریشن، میونسپلٹیوں اور دیہی پنچاتیں) کے ساتھ ایک وفاقی ملک ہے۔ ہندوستان کے آئین میں ہر سطح کی حکومت کے ذریعہ انجام دیئے جانے والے کاموں کا ذکر ہے۔ اسی کے لحاظ سے تعلیم اور صحت دونوں پر اخراجات بیک وقت سبھی تینوں سطحوں کے ذریعہ انجام دیا جانا ہوتا ہے۔ صحت سے متعلق سیکٹر کا تجزیہ بنیادی ڈھانچے کے باب میں کردیا گیا ہے؛ لہذا ہم یہاں صرف تعلیم کے سیکٹر کا تجزیہ کریں گے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان میں تعلیم اور صحت کس کی نگرانی میں ہے؟ ہندوستان میں تعلیمی سیکٹر کا تجزیہ کرنے سے پہلے ہم تعلیم اور صحت کے سیکٹروں میںسرکاری مداخلت کی ضرورت پر نظر ڈالیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تعلیم اورحفظان صحت سے متعلق خدمات سے نجی اور سماجی دونوں فوائد حاصل ہوتے ہیں اور تعلیم اور صحت سے متعلق خدمات کی بازاروں میں نجی اور پبلک اداروں دونوں کی موجودگی کی یہی وجہ ہے۔ تعلیم اور صحت پر اخراجات ٹھوس طویل المدت اثر پیدا کرتے ہیں اور انھیں آسانی سے اُلٹا(Reversed) نہیں کیا جاسکتا۔ لہذاسرکاری مداخلت ضروری ہے۔ مثال کے لئے جب کوئی بچہ ایسے کسی اسکول یا طبی دیکھ بھال کے مرکز میں داخل ہوتا ہے جہاں مطلوبہ خدمات مہیا نہیں ہیںتو اس سے پہلے کہ بچے کو کسی دوسرے ادارے میں منتقل کیے جانے کا فیصلہ لیا جائے کافی نقصان ہوچکا ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں انفرادی صارفین کے پاس ان خدمات کے معیار اور ان کی لاگتوں کے بارے میں پوری معلومات نہیں ہوتی۔ ایسی صورت میں تعلیم اور طبی خدمات کے فراہم کار اجارہ دارانہ قوت حاصل کرلیتے ہیں اور استحصال کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اس صورت حال میں حکومت کا کردار یہ یقینی بنانا ہے کہ ان خدمات کے نجی فراہم کنندہ حکومت کے طے کردہ معیارات کی تعمیل کریں اور صحیح قیمت وصول کریں۔
ہندوستان میں مرکزی اور ریاستی سطح پر وزرائے تعلیم، تعلیم کے شعبہ جات اور مختلف تنظیمیں جیسے نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (NCERT) ، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) اور آل انڈیا کونسل آف ٹکنیکل ایجوکیشن (AICTE) تعلیم کے سیکٹر کو منضبط کرتی ہیں۔ اسی طرح، مرکزی اور ریاستی سطح پر وزرائے صحت، صحت کے شعبہ جات اور مختلف تنظیمیں جیسے انڈین کونسل فار میڈیکل ریسرچ (ICMR) ہیلتھ سیکٹر کو منضبط کرتی ہیں۔
ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ خط غریبی کے نیچے زندگی گزارتا ہے، بہت سے لوگ بنیادی تعلیم اور طبی دیکھ بھال کی سہولیات تک حاصل نہیں کرسکتے مزیدبرآں، ہمارے لوگوں کی بڑی تعداد اعلیٰ طبی دیکھ بھال اور اعلیٰ تعلیم تک رسائی کے مقدور نہیں ہوتی۔ مزید برآں، جب بنیادی تعلیم اور طبی دیکھ بھال کو شہریوں کے حقوق کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے تب یہ اور بھی ضروری ہے کہ حکومت مستحق شہریوں اور سماجی طور پر مظلوم طبقات کے لئے تعلیم اور طبی دیکھ بھال کی خدمات مفت فراہم کرے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتیں سوصد فی خواندگی حاصل کرنے اور ہندوستانیوں کی اوسط تعلیمی حصولیابیوں کو نمایاں طور پر بڑھانے کے مقصد کو پورا کرنے کے سلسلے میں سالوں سے تعلیمی سیکٹر میں اخراجات کو بڑھاتی رہی ہیں۔
انہیں حل کریں
- AICTE, UGC, NCERT, اور ICMP کے مقاصد اور کاموں کی شناخت کیجئے۔
5.6 ہندوستان میں تعلیمی سیکٹر
تعلیم پر سرکاری اخراجات میں اضافہ: کیا آپ جانتے ہیں کہ حکومت تعلیم پر کتنا خرچ کرتی ہے؟ حکومت کے ذریعہ کیے جانے والے اخراجات دو طرح سے ظاہر ہوتے ہیں۔(i) کل حکومتی اخراجات(ii) مجموعی گھریلو پیداوار (GDP) کے فیصد کے طور پر۔
کل سرکاری اخراجات میں تعلیمی اخراجات کا فی صد حکومت کے سامنے چیزوں کی اسکیم میں تعلیم کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ GDP کے تعلیمی خرچ کا فی صد ظاہر کرتا ہے کہ ہماری وہ آمدنی کتنی ہے جو ملک میں تعلیم کے فروغ کے لئے دی جارہی ہے۔ 1952 تا 2014 کے دوران کل حکومتی اخراجات کے فی صد کے طور پر تعلیمی اخراجات 7.92 سے بڑھ کر11.1 فیصد ہوگئے ہیں اور GDP کے فی صد کے طور پر 0.64 سے بڑھ4.13 فیصد ہوگئے ہیں۔ اس پوری مدت کے دوران تعلیمی اخراجات میں اضافہ یکساں نہیں رہا ہے اور بے ترتیب اتار چڑھاؤ آتے رہے۔ اس میں اگر ہم نجی اخراجات کوبھی شامل کریں جو کہ افراد اور فلاح کار اداروں کے ذریعہ کیے جاتے ہیں تب کل تعلیمی اخراجات کافی زیادہ ہوسکتے ہیں۔
تعلیمی اخراجات ابتدائی تعلیم کے لیے اخراجات کا ایک بڑا حصہ شامل ہوتا ہے اور اعلیٰ وتیسری سطح پر (اعلیٰ تعلیم کے ادارے جیسے کالج، پولی ٹیکنک اور یونیورسٹیاں) کاحصہ کم ہوتا ہے، اگرچہ اوسطاً سرکاری اخراجات تیسری سطح پر کم ہوتے ہیں لیکن فی طالب علم اخراجات تیسرے مرحلے کی تعلیم میں ابتدائی کے مقابلے زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مالیاتی وسائل تیسرے مرحلے کی تعلیم سے ابتدائی تعلیم کو منتقل کردیئے جائیں۔ جیسے جیسے ہم اسکولی تعلیم کو وسعت دیتے ہیں، ہمیں زیادہ اساتذہ کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں سے تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔ لہذا تعلیم کی تمام سطحوں پر اخراجات میں اضافہ ہونا چاہیے۔
2014-15 میںریاستوں کے درمیان فی کس تعلیمی اخراجات نمایاں طور پر مختلف ہوتے ہیں جیسا کہ ہماچل پردیش میں جتنا زیادہ 34651 روپے ہے اتنا ہی کم بہار میں4088 روپے ہے۔اس سے ریاستوں میں تعلیمی مواقع اور حصولیابیوں کے درمیان فرق پیدا ہوتا ہے۔

شکل5.5. تعلیمی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔
اگر ہم تعلیمی اخراجات کا موازنہ مختلف کمیشنوں کے ذریعہ سفارش کیے گئے تعلیمی اخراجات کی مطلوبہ سطح کے ساتھ کریں تب تعلیم پر اخراجات کے ناکافی ہونے کے بارے میں کوئی بھی سمجھ سکتا ہے۔ تعلیمی کمیشن (1966-1964) نے سفارش کی تھی کہ GDP کا کم سے کم 6 فی صد تعلیم پر خرچ کیا جائے تاکہ تعلیمی حصولیابیوں میں شرح افزائش قابل ستائش بن سکتے۔ 1998میں حکومت ہند کی مقرر کردہ تپاس مجمدار کمیٹی نے تخمینہ لگایا کہ دس برس کے دوران 99-1998)سے07-2006 تک( 1.37لاکھ کروڑ روپیہ خرچ کیا جائے۔ تب ہی 6-14سال کی عمر کے تمام بچے اسکولی تعلیم کے دائرے میں آسکیں گے۔ تعلیم پر خرچ کی اس سطح کے مقابلے میں، جو کل جی۔ ڈی۔ پی کا 6فی صدبنتا ہے، موجودہ 4فی صدسے کچھ زیادہ خرچ ناکافی رہا ہے ۔ اصولاً 6فی صد کے ہدف کو حاصل کرنا ضروری ہے۔اس کو آنے والے برسوں کے لئے لازمی مان لیا گیا ہے 2009 میں مرکزی حکومت نے حقِ تعلیم ایکٹ (Right to Education Act)منظور کیا جس کے ذریعے 6-14 برس کی عمر کے تمام بچوں کو مفت تعلیم پانے کا بنیادی حق حاصل ہوا۔
انھیں حل کریں
- اسکولی تعلیم کی مختلف سطحوں پر اسکول چھوڑنے والوں کا کیس مطالعہ تیار کیچئے جیسے!
(i) ابتدائی تعلیم میں چھوڑنے والے
(ii) کلاس viiiمیں چھوڑنے والے
(iii) کلاس xمیں چھوڑنے والے
درج ذیل کے اسباب دریافت کیجئے اور کلاس میں بحث کیجئے۔
- اسکول چھوڑنے والوں کے ذریعہ بچہ مزدوری کی راہ ہموار ہوتی ہے، بحث کیجئے کہ یہ کسی طرح انسان اصل نقصان میں ہے۔
جدول 5.2
ہندوستان میں تعلیمی حصول یابی
| نمبر شمار | تفصیلات | 1990 | 2000 | 2011 | 18-2017 |
| 1 2 3 |
بالغ شرح خواندگی (15 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کا فی صد) 1-1 مرد 2-2 عورت ابتدائی تعلیم پوری کرنے کی شرح(متعلقہ عمر گروپ کا فی صد) 2-1 مرد 2-2 عورت نوجوان شرح خواندگی (15 تا 24 سال کی عمر کے لوگوں کا فی صد) 3-1 مرد 3-2 عورت |
61-9 37-9 78 61 76-6 54-2 |
68-4 54-4 85 69 79-7 64-8 |
79 59 92 94 90 82 |
82 66 93 96 93 90 |
حال ہی میں مرکزی حکومت نے سبھی مرکزی ٹیکسوں پر دو فی صد تعلیم ٹیکس عائد کیا ہے۔ اس پوری رقم کو ابتدائی تعلیم کے لئے مختص کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے اور اعلیٰ تعلیم اختیار کرنے والے طلباء کے لئے نئی قرض اسکیموں کے ایک بڑے خرچ کی منظوری دی ہے۔
ہندوستان میں تعلیمی حصولیابیاں: کسی ملک میں عام طور پر تعلیمی حصولیابیاں بالغ شرح خواندگی، ابتدائی تعلیم پورا کرنے کی شرح اور نوجوانوں کی شرح خواندگی کی شکل میں ظاہر کی جاتی ہے۔پچھلی دو دہائیوں کی یہ شماریات جدول 5.2 میں دی گئی ہیں۔

شکل .5.6. بیچ میں ہی اسکول کی پڑھائی چھوڑنے والے بچے، بچہ مزدور ی کو فروغ دیتے ہیں، یہ انسانی وسائل کا نقصان ہے۔
5.7 مستقبل کے آثار
سب کے لئے تعلیم – اب بھی ایک دور کا خواب: اگرچہ خواندگی کی شرحیں بالغوں اور نوجوانوں میں بڑھی ہیں۔ پھر بھی ہندوستان میں ناخواندگان کی مطلق تعداد اتنی ہے جتنی کی ہندوستان کی آزادی کے وقت آبادی تھی۔ 1950 میں جب ہندوستان کا آئین، آئین ساز اسمبلی کے ذریعہ پاس کیا گیا تھا تب آئین کے رہنما اصولوں میں تحریر کیا گیاتھا کہ حکومت کو آئین کے نفاذ کے 10 سال کے اندر 14 سال تک کی عمر کے سبھی بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنا چاہیے۔ اگر یہ ہدف پورا ہوگیاہوتا تو ہمیں اب تک سو فی صد خواندہ ہوجانا چاہیے تھا۔
جنسی مساوات — پہلے سے زیادہ بہتر: مردوں اور عورتوں کے درمیان شرح خواندگی میں فرق کم ہورہا ہے جو جنسی مساوات میں مثبت ترقی کی علامت ہے؛ تاہم ہندوستان میں عورتوں کی تعلیم کو فروغ دینے کی ضرورت مختلف اسباب سے فوری طور پر ضروری ہے۔ ان کی معاشی آزادی اور سماجی حیثیت کو بہتر بنانے کے لیے اور اس لیے بھی ناگزیر ہے کہ بارآوری شرح اور عورتوں اور بچوں کی طبی دیکھ بھال پر موافق اثر ڈالتا ہے۔ لہذا ہم صرف شرح خواندگی میں اضافے سے مطمئن نہیں ہوسکتے۔ ہمیں صد فی صد بالغ خواندگی حاصل کرنے کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔

شکل 5.7. اعلی تعلیم حاصل کرنے والے کم لوگ
اعلیٰ تعلیم - حاصل کرنے والوں کی کم تعداد
ہندوستانی تعلیم کی شکل مخروطی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعلیٰ سطح تک پہنچنے والوں کی تعداد بہت کم رہ جاتی ہے۔ مزیدبرآں تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری بہت ہی زیادہ ہے۔ 12-2011 میں NSSOکے اعداد وشمار کے مطابق دیہی علاقوں کے گریجویشن اوراس سے زیادہ تعلیم یافتہ مرد نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح19فی صد تھی۔ شہری علاقوں کے ایسے ہی نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح نسبتاً کم 16فی صد تھی۔ بہت زیادہ متاثر ہونے والی دیہی گریجویٹ نوجوان خواتین تھیں کیوں کہ ان میں 30فی صد بے روزگار ہیں۔ اس کے برعکس دیہی اور شہری علاقوں میں ابتدائی سطح کے تعلیم یافتہ نوجوان صرف 3سے 6فی صد تک بے روزگار تھے۔ 18-2017کے پیریو ڈک لیبر فورس سروے کے مطابق ان حالات میں بہتری لائی جانی باقی ہے اس لیے حکومت یو اعلی تعلیم کے لیے زیادہ سے زیادہ رقم فراہم اکرنی چاہیے اور اعلی تعلیمی اداروں کے معیار کو بھی بہتر بنانا چاہیے تاکہ ایسے اداروں میں طلباء کو قابل روزگار مہارتیں فراہم کی جاسکیں۔اگر موازنہ کریں تو کم تعلیم یافتہ کے مقابلے زیادہ تعلیم یا فتہ افراد میں بے روزگاری کی شرح زیادہ ہے ۔کیوں؟
5.8 اختتام
انسانی سرمایہ کی تشکیل اور انسانی ترقی کے معاشی اور سماجی فوائد کافی جانے مانے ہیں۔ ہندوستان میں مرکزی اور ریاستی حکومتیں تعلیمی اور طبی سیکٹر کے فروغ کے لیے کافی رقم مختص کرتی رہی ہیں۔ سماج کے مختلف سیکٹروں میں تعلیمی اور صحت سے متعلق خدمات کے پھیلاؤ کو یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ معاشی نمو اورمساوات بیک وقت حاصل کی جاسکے۔ ہندوستان کے پاس دنیا کے سائنٹفک اور ٹکنیکل افرادی قوت کا ایک وافر ذخیرہ ہے۔ وقت کی ضرورت یہ ہے کہ معیاری کے لحاظ سے اسے بہتر بنایا جائے اور ایسی صورتحال پیدا کی جانی چاہیے کہ ہمارے اپنے ملک میں ان کا بھرپور استعمال کیا جاسکے۔
خلاصہ
- تعلیم میں سرمایہ کاری انسانوں کو انسانی سرمایہ میں تبدیل کرتی ہیں۔ انسانی سرمایہ بڑھی ہوئی محنت کی پیداواری صلاحیت کی نمائندگی کرتا ہے، جو کہ حاصل کی گئی اہلیت ہے اور اس توقع کے ساتھ کہ یہ مستقبل کی آمدنی و وسائل کو بڑھائے گا دانستہ سرمایہ کاری فیصلوں کا ایک نتیجہ ہے۔
- تعلیم کے دوران تربیت، صحت، نقل مکانی اور معلومات میں سرمایہ کاری انسانی سرمایہ کی تشکیل کے وسائل ہیں۔
- مادی سرمایہ کا تصور انسانی سرمایہ کی صورت گری کے لیے بنیاد ہے۔ تشکیل سرمایہ کی دوشکلوںمیں کچھ مماثلتیں اور ساتھ ہی ساتھ عدم مماثلت بھی ہیں۔
- انسانی سرمایہ کی تشکیل میں سرمایہ کاری کو اثر انگیز اور نمو کو تقویت دینے والا سمجھاجاتا ہے۔
- وقت کے ساتھ ساتھ تعلیم کی تقسیم پر ڈیٹا دنیا کے سبھی خطوں میں نابرابری کے ساتھ ہی ساتھ اوسطاً تعلیمی سطح کا بڑھنا بھی دکھاتا ہے۔
- انسانی ترقی اس تصور پر مبنی ہے کہ تعلیم اور صحت انسانی فلاح وبہبودی کی تکملہ ہیں کیونکہ صرف جب لوگوں کے پاس پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے تبھی وہ طویل وصحت مندانہ زندگی گزارتے ہیں اور وہ دیگر انتخابات، جن کی وہ قدروقیمت سمجھتے ہیں، کے اہل ہوں گے۔
- کل حکومتی اخراجات کے تعلیمی اخراجات کا فی صد حکومت کے سامنے چیزوں کی اسکیم کے مقابلے تعلیم کی اہمیت کی نشاندہی کرتا ہے۔
مشقیں
1 ملک میں انسانی سرمایہ کے دو بڑے وسائل کیا ہیں؟
2 ملک میں تعلیمی حصولیابی کے اشاریے کیا ہیں؟
3 ہندوستان میں تعلیمی حصولیابی میںہم کیوں علاقائی فرق دیکھتے ہیں؟
4 انسانی سرمایہ اور انسانی ترقی کے درمیان فرق ثابت کیجئے؟
5 انسانی سرمایہ کے مقابلے انسانی ترقی کس طرح ایک وسیع مفہوم پر ہے؟
6 انسانی سرمایہ کی تشکیل میں کون سے عوامل اشتراک کرتے ہیں؟
7 دو حکومتی تنظیموں کاذکرکیجئے جو صحت اور تعلیمی سیکٹروں کو منضبط کرتی ہیں۔
8 کسی ملک کی ترقی کے لیے تعلیم کو ایک اہم درآمدیئے کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ کس طرح؟
9 درج ذیل انسانی سرمایہ کی تشکیل کے ذرائع پر بحث کیجئے۔
(i)صحت سے متعلق بنیادی ڈھانچہ
(ii) نقل مکانی پر اخراجات
10 انسانی وسائل سے موثر استفادہ کے لئے صحت اور تعلیم کے اخراجات سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی ضرورت ثابت کیجئے۔
11 انسانی سرمایہ میں سرمایہ کاری نمو میں کس طرح اشتراک کرتی ہے؟
12 اوسط تعلیم کی سطح میں اضافے کے ساتھ عالمی پیمانے پر عدم مساوات میں نشیبی رجحان ہے، تبصرہ کیجئے۔
13 ایک ملک کی معاشی ترقی میں تعلیم کے رول کا جائزہ لیجئے۔
14 تعلیم میں سرمایہ کاری معاشی نمو کو کس طرح متحرک کرتی ہے؟ وضاحت کیجئے۔
15 کسی فرد کی کام کے دوران تربیت کی ضرورت ثابت کیجئے۔
16 انسانی سرمایہ اور معاشی نمو کے درمیان رشتہ دریافت کیجئے۔
17 ہندوستان میں عورتوں کی تعلیم (تعلیم نسواں) کو فروغ دینے کی ضرورت پر بحث کیجئے۔
18 تعلیم اور ہیلتھ سیکٹر میں حکومتی مداخلت کی مختلف شکلوں کی ضرورت کے حق میں دلیل دیجئے۔
19 ہندوستان میں انسانی سرمایہ کی تشکیل کے اہم مسائل کیا ہیں؟
20 کیا آپ کے خیال میں تعلیم اور صحت کے دیکھ بھال سے متعلق اداروں میں فیس کی ساخت کو منضبط کرنا حکومت کے لئے ضروری ہے؟ اگر ہے تو کیوں؟
مجوزہ اضافی سرگرمیاں
1 نشاندہی کیجئے کہ انسانی ترقی اشاریئے کو کس طرح شمار کیا جاتا ہے اور عالمی انسانی ترقیاتی اشاریئے میں ہندوستان کی کیا حیثیت ہے؟
2 مستقبل قریب میں کیا ہندوستان میں علم پر مبنی معیشت ہونے جارہی ہے؟ کلاس روم میں بحث کیجئے۔
3 جدول 5.2 میں دیئے گئے ڈٹیا کی ترجمانی کیجئے۔
4 تعلیم یافتہ شخص کی حیثیت سے تعلیم کے مسئلے میں آپ کا کیا اشتراک ہوگا؟ (مثال: ہر ایک کو تعلیم دو)
5 ان مختلف وسائل کو درج فہرست کیجئے جو تعلیم، صحت اور محنت سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں۔
6 مرکزی وزارت تعلیم وصحت کی سالانہ رپورٹوں کو پڑھئے اور خلاصہ کیجئے مرکزی وزارت مالیات کے ذریعہ ہر سال تیار کیے جانے والے معاشی سروے میں سماجی سیکٹر پر باب پڑھئے۔ انھیں مرکزی حکومت کی وزارتوں کی ویب سائٹوں سے ڈاون لوڈ کیا جاسکتا ہے-
حوالہ جات
کتابیں
بیکر گیرے ایس 1964 "Human Capital"دوسرے اشاعت ، کولمبیا یونیورسٹی پریس، نیویارک
فری مین رچرڈ ۔ 1976 "The Overeducated American" اکیڈمک پریس نیویارک
حکومتی رپورٹیں
انڈیا ہیومن ڈیولپمینٹ رپورٹ 2011:ٹو واڈس سےشل انکلوزن۔ پلاننگ کمیشن۔حکومت ہند
Education Statistice At a glance.وزارت تعلیم (مختلف برسےوں کی) حکومت ہند
Anuual Reports.وزارت تعلیم۔حکومت ہند۔
نئی قومی تعلیمی پالیسی، وزارت تعلیم ،حکومت ہند نئی دہلی
ڈرافٹ قومی تعلیمی پالیسی،2019۔ وزارت برائے فروغ انسانی وسائل، حکومت ہند نئی دہلی
ویب سائیٹیں
www.education.nic.in
www.cbse.nic.in
www.ugc.ac.in
www.aicte.ernet.in
www.ncert.nic.in
www.finmin.nic.in
www.mospi.nic.in