دیہی ترقی
(RURAL DEVELOPMENT)
اس باب کے مطالعہ کے بعد طلباء
- دیہی ترقی اور اس کے ساتھ وابستہ اہم مسائل کو سمجھیں گے؛
- ہندوستان کی ہمہ گیر ترقی کے لیے دیہی علاقوں کی ترقی کتنی زیادہ اہم ہے اس کا احساس کریں گے؛
- دیہی ترقی میں قرض اور بازاری نظام کے کردار کی اہمیت کو سمجھ سکیں گے۔
- ذریعہ معاش کو جاری رکھنے میں پیداوار ی سرگرمیوں کے تنوع کی اہمیت کے بارے میں سیکھیں گے؛
- پائیدار ترقی میں نامیاتی کاشتکاری کو سمجھیں گے۔
صرف زمین کو جوتنے والے اپنے حق کے ساتھ جیتے ہیں، باقی اپنا سلسلہ قائم کرتے ہیں اور دست نگری کی روٹی کھاتے ہیں۔
تھرو والوار
1 .6تعارف
باب۴ میں‘ ہم نے مطالعہ کیا کہ غربت کس طرح ہندوستان کو در پیش ایک بڑا چیلنج ہے۔ ہم نے یہ بھی جانا کہ غریبوں کی اکثریت دیہی علاقوں میں رہتی ہے جہاں ان کی رسائی زندگی کی بنیادی سہولتوں تک نہیں ہوتی۔
زراعت دیہی سیکٹر میں ذریعہ معاش کا اہم وسیلہ ہے۔ مہاتما گاندھی نے ایک بار کہا تھا کہ ہندستان کی حقیقی ترقی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ محض صنعتی شہری مراکز کی فروغ اور توسیع ہو۔ بلکہ خاص طورپر گاؤں کی ترقی ہے۔ گاؤں کی ترقی کا یہ خیال ملک کی مجموعی ترقی کے مرکز کے طور پر آج بھی اتنا ہی اہم ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ ہمیں دیہی ترقی کو اتنی اہمیت دینے کی ضرورت کیوں ہے جب کہ ہم اپنے آس پاس بڑی صنعتو ں کے ساتھ تیزی سے بڑھتے شہروں اور جدید انفارمیشن ٹیکنا لوجی مرکز دیکھتے ہیں؟ ایسا اس لیے ہے کہ ہندوستان کی آبادی کا دو تہائی سے زیادہ حصہ زراعت پر انحصار کرتا ہے جو کہ اتنا پیداواری نہیں ہے کہ ان کی ضرورتوں کو پورا کرسکے؛ دیہی ہندوستان کا ایک تہائی حصہ اب بھی بدحال ہے اور غربت میں گزر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرہمارے ملک کو حقیقی ترقی حاصل کرنی ہے تو ہمیں ایک ترقی یافتہ دیہی ہندوستان دیکھنا ہوگا ۔ تو پھر دیہی ترقی کا کیا مطلب ہے؟
6.2 دیہی ترقی کیا ہے؟
دیہی ترقی ایک جامع اصطلاح ہے۔ یہ ان علاقوں کی ترقی کے لئے کارروائی پر لازماً توجہ مرکوز کرتی ہے جو دیہی معیشت کی مجموعی ترقی میں بہت پسماندہ رہ گئے ہیں۔ ہندوستان میںترقی کے لیے کچھ علاقے ،جو Challenging ہوں اور جہاں تازہ اقدامات کیے جانے کی ضرورت ہے، ان میں شامل ہیں
- انسانی وسائل کی ترقی میںمندرجہ ذیل شامل ہیں:
– خواندگی، زیادہ تخصیص، عورتوں کی خواندگی، تعلیم اور ترقی مہارت۔
– صحت، صفائی او ر عوامی صحت دونوں پر توجہ
- زمینی اصلاحات
- ہر مقام کے پیداواری وسائل کی ترقی
- بنیادی ڈھانچے جیسے بجلی، آبپاشی، قرض کی سہولتیں، فروخت کاری ‘ نقل و حمل کی سہولیات‘ جن گاؤں میںکی سڑکوں کوقریبی شاہراہ سے جوڑنا گاؤں میں سڑکیں اور دوسرے مقامات سے ملانے والی سڑکوں کی تعمیر شامل ہیں۔
- غریبی کے خاتمے اور آبادی کے کمزور طبقات کے رہن سہن کی حالت میں نمایاں بہتری پیدا کرنے کے لیے خصوصی اقدامات جن کے ذریعہ پیداواری روزگارکے مواقع تک رسائی ہوسکے اور آبادی کے کمزور طبقات کی حالت میں نمایاں بہتری لانے پر خاص طور پر زور دینا ضروری ہے۔
ان سبھی کا مطلب یہ ہے کہ کاشتکارطبقے کو مختلف وسائل فراہم کیے جائیں جو کہ اناجوں،دالوں، سبزیوں اور پھلوں کی پیداواریت بڑھانے میں ان کی مدد کرسکیں۔ انھیں مختلف غیر کاشت کاری پیدا واری سرگرمیوں جیسے خوراک کی ڈبہ بندی (food processing)کی صورت میں متنوع بنانے کے مواقع دیئے جانے کی بھی ضرورت ہے۔ تیز رفتار دیہی ترقی کے لیے انھیں کام کے مقامات اور گھروں میںصحت سے متعلق دیکھ بھال، صفائی ستھرائی کی سہولیات تک رسائی اور سب کے لیے تعلیم فراہم کیئے جانے کو اعلیٰ ترجیح دئیے جانے کی ضرورت ہے۔
پچھلے باب میں یہ دیکھاکیا گیا تھا کہ اگرچہ زراعتی سیکٹر کا GDP میںاشتراک تنزلی پر تھا لیکن اس سیکٹر پر آبادی کے انحصار میںکوئی خاص تبدیلی نہیں دکھائی دی۔ مزیدیہ کہ اصلاحات کی شروعات کے بعد زراعتی سیکٹر کی نمو کی رفتار 2012-1991کے دہے کے دوران 2.3 فی صد سالانہ کم ہوگئی تھی جو کہ پچھلے سالوں کے مقابلے کم تھی۔ ماہرین اس کا اہم سبب 1991 سے سرکاری سرمایہ کاری میں کمی کو مانتے ہیں۔ وہ یہ بھی دلیل دیتے ہیں کہ ناکافی بنیاد ی ڈھانچہ، صنعت یا خدماتی سیکٹر میں متبادل روزگار کے مواقع میں کمی‘ روزگار کے عارضی ہونے اور بے ضابطگی میں اضافہ وغیرہ دیہی ترقی میں مزید رکاوٹ ڈالتی ہیں۔ اس مظہر کے اثر کو ہندستان کے مختلف حصوں میں کسانوں میں بڑھتی بدحالی کی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے۔اس پس منظر میں ہم دیہی ہندستان کے کچھ نہایت اہم پہلوؤں جیسے قرض، فروخت کاری کے نظام، زراعتی تنوع اور قابل برقراری ترقی کو آگے بڑھانے میں نامیاتی کاشتکاری کی اہمیت پرتنقیدی نظر ڈالیں گے۔
انھیں حل کریں
- ماہانہ بنیاد پر، اپنے خطے کے اخباروں کو ترتیب وار دیکھیں اور دیہی علاقوں کے تعلق سے ان کے ذریعہ اٹھائے جانے والے مسائل اور پیش کیے گیے حل کی شناخت کریں، یا قریبی گاؤں کا دورہ کریں اور وہاں کے لوگوں کو درپیش مسائل کی شناخت کریں۔
- حکومت کی ویب سائٹ http://www. rural .nic.inسے حالیہ اسکیموں اور ان کے مقاصد کی ایک فہرست تیار کریں اپنے علاقے / دہی پڑوس کے علاقوں میں ان پروگرامون میں سے کسی ایک کو کیسے چلایا جا سکتا ہے اس کی تفصیل جمع کریں۔کلاس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔
6.3 دیہی علاقوں میں قرض اور فروخت کاری (مارکیٹنگ)
قرض: بنیادی طور پر دیہی معیشت کی نمو،زراعت اور غیر زرعی سیکٹروں میں اونچی پیداواریت کوحاصل کرنے کے لیے وقتاً فوقتا سرمایہ لگاتے رہنے پر منحصر ہوتی ہے۔ فصل اگانے اور پیداوار کے بعد آمدنی سے نفع کمانے کے درمیان کا وقفہ کافی طویل ہوتا ہے اس لیے کسان بیجوں کھاد، اور اوزاروں پر اپنی ابتدائی سرمایہ کاری کی ضرورت کو پورا کرنے اور شادی‘ موت‘ مذہبی تقریبات وغیرہ سے متعلق دیگر اخراجات کے لیے مختلف وسائل سے قرض حاصل کرتے ہیں۔
آزادی کے وقت مہاجن،چھوٹے حاشیائی کسانوں اور بے زمین مزدوروں کو اونچی شرح سودوصول کرکے اور ان کے کھاتوں میں ہیرپھیر کرکے ان کو قرض کے جال میں پھنسا کر استحصال کرتے تھے۔ 1969 کے بعد ایک بڑی تبدیلی اس وقت واقع ہوئی جب ہندوستان نے دیہی قرض کی ضرورتوں کو مناسب طورپر پورا کرنے کے لیے سماجی بینک کاری اور کثیر ایجنسی طریقہ اپنایا۔بعدمیں، قومی بینک برائے زراعت اور دیہی ترقی (NABARD) 1982 میں، دیہی مالیاتی نظام میں شامل سبھی اداروں کی سرگرمیوں میں تال میل رکھنے کے مقصد سے ایک اعلی ادارے کے طورپر قائم کیاگیا۔قرض کے نظام میں سبز انقلاب ایک پیش خیمہ ثابت ہوا کیونکہ اس سے پیداوار رخی قرض کے تئیں دیہی قرض کی حدودمیں وسعت پیداہونا۔
باکس 6.1 : غریب عورتوں کا بینک
کُدُمب شری خواتین رخی کمیونٹی پر مبنی غریبی میں کمی لانے کا پروگرام ہے جو کیرل میں نافذ کیا گیا۔ 1995 میں بچت کی حوصلہ افزائی کے مقصد کے ساتھ غریب عورتوں کے لیے ایک چھوٹے بچت بینک کے طورپر ایک کفایت شعار اور کریڈٹ سوسائٹی شروع کی گئی۔ کفایت شعار اور کریڈٹ سماج نے باکفایت بچتوں کے طورپر کروڑ روپیے کا فنڈ جمع کیا۔ بچت جٹانے کے لحاظ سے ایشیا میں بڑے غیر رسمی بینکوں کے طورپر ان سوسائٹیوں کو سراہا گیا۔
ماخذ: www.kudumbashree.org
اس ویب سائٹ پر جائیں اور اس تنظیم کے ذریعہ اٹھائے گیے مختلف دیگر اقدامات کو دریافت کریں۔ ان بعض عوامل کی شناخت کرسکتے ہیں جو ان کامیابیوں میں شریک رہے ہیں۔اور کلاس روم میں ان پر بحث کیجیے۔
انھیں حل کریں
- اپنے محلے پڑوس میں،آپ نے غور کیا ہوگا کہ خود امدادی گروپ قرض فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح کے خود امدادی گروپوں کے ساتھ ملاقات کیجئے۔ خود امدادی گروپ کے تعارفی خاکے(profile) پر ایک رپورٹ تحریر کیجئے اس تعارفی خاکے میں یہ شامل کیا جاسکتا ہے کہ کب اسے شروع کیاگیا تھا ممبران کی تعداد‘ بچت کی مقدار اور ادھار کی قسم جو وہ فراہم کرتے ہیں اور ادھار لینے والے کس طرح قرض کو استعمال کرتے ہیں۔
- آپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو خود روزگار سرگرمیوں کو شروع کرنے کے لیے قرض لیتے ہیں لیکن دوسرے مقاصد کے لیے اسے استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح کے کچھ ادھار لینے والوں کے ساتھ بین عمل کیجئے اور خود روزگار سرگرمیوں کو شروع کرنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کے امکانات دریافت کیجئے۔
آج کل دیہی بینک کاری کا ادارتی ڈھانچہ کثیر ایجنسی اداروں جیسے کمرشیل بینکوں، علاقائی دیہی بینکوں(RRBS)،کو آپریٹیو اور زمینی ترقیاتی بینکوں کے مجموعے پر مشتمل ہے۔ اس کثیر ایجنسی نظام کو وضع کرنے کا ایک اہم مقصد کفایتی شرح پر مناسب قرض تقسیم کرنا ہے۔ حال ہی میں رسمی کریڈٹ نظام میں خلا کو پرکرنے کے لیے خود امدادی گروپوں (SHGs) کی شروعات ہوئی ہے۔ رسمی طور پرقرض دینے کا طریقہ نہ صرف ناکافی ثابت ہواہے بلکہ یہ مجموعی طورپر دیہی سماجی اور کمیونٹی ترقی میں پوری طرح سے اس کا حصہ بھی نہیں بنا ہے۔ چونکہ اس میں کسی ضمانت کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے غریب دیہی گھروں کی خاصی تعدادقرض کے اس نیٹ ورک سے باہر ہوتی ہے۔ خود امدادی گروپ ہر ممبر سے کم سے کم اشتر اک کے ذریعہ چھوٹے پیمانے پر کفایت کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ یکجا کی ہوئی رقم سے ضرورت مند ممبروں کوادھار دیا جاتا ہے جو چھوٹی چھوٹی قسطوں میں معقول شرح سود پر واجب الادا ہوتا ہے۔ اس طرح کے کریڈٹ کے اہتمام عام طورپر چھوٹے قرض پروگراموں کے طورپر جانے جاتے ہیں۔ خود امدادی گروپ عورتوں کے اختیارات کو بڑھانے میں کافی مددگار ثابت ہوئے ہیں لیکن قرض لینے کا معاملہ بالخصوص صرف کے مقصد تک محدود ہے اور زراعتی مقصد کے لیے ادھار برائے نام تناسب میں لیا گیا ہے۔
دیہی بینک کاری – ایک تنقیدی جائزہ : بینک کاری نظام کے تیز رفتارپھیلاؤنے دیہی کاشت کاری اور غیر کاشتکاری ماحصل، آمدنی اور روزگار پر ایک مثبت اثر ڈالا ہے خاص طورپر سبز انقلاب کے بعد۔ قحط سالی ماضی کے واقعات بن چکی ہے۔ ہم نے اب خوراک کا تحفظ حاصل کرلیا ہے جو کہ اناج کے وافر ذخیروں سے ظاہرہوتا ہے۔ پھر بھی ہمارے بینک کاری نظام میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے۔
انھیں حل کریں
- پچھلے کچھ سالوں میں‘ آپ نے غور کیا ہے– اگر آپ دیہی علاقوں میں رہ رہے ہیں تب اپنے پڑوس میں یا اخباروں میں پڑھا ہوگا یا ٹی وی میں دیکھا ہوگا کہ کسان خود کشی کررہے ہیں۔ بہت سے ایسے کسانوں نے کاشتکاری اور دیگر مقاصد کے لیے رقم ادھار لی تھی۔ یہ دریافت کیا گیا تھا کہ جب وہ فصل میں ناکامی‘ ناکافی آمدنی اورروزگار کے مواقع کے سبب وہ قرض واپس کرنے کے اہل نہیں تھے اور اس سبب انھوں نے یہ قدم اٹھائے۔ اس طرح کے معاملوں سے متعلق معلومات جمع کیجئے اور کلاس روم میں بحث کیجئے۔
- ان بینکوں کا دورہ کیجئے جو دیہی علاقوں میں قرض مہیاّ کراتے ہیں۔ یہ ابتدائی زراعتی کو آپرکتنے یٹیو بینک‘ زمین ترقیاتی بینک‘ علاقائی دیہی بینک یا ضلع کو آپریٹیو بینک ہوسکتے ہیں۔ تفصیلات اکھٹا کیجئے جیسے کہ ان سے کتنے دیہی خاندانی ادھار لیتے ہیں‘ عام طورپر کتنی رقم ادھار لی جاتی ہے‘ ضمانتی شے جو استعمال کی جاتی ہے اس کی قسم‘ سود کی شرح اور واجبات۔
- اگر کسان جو کوآپریٹیو بینکوں سے ادھار لیتے ہیں اور فصل میں ناکامی اور دیگر وجوبات سے واپس نہیںکرتے‘ ان کے قرض معاف کردئے جانے چاہئے ورنہ وہ خود کشی کرنے جیسے سخت فیصلے لے سکتے ہیں کیا آپ اس سے متفق ہیں؟
تجارتی بینکوں کے ممکنہ استثنیٰ کو چھوڑ کر دوسرے رسمی ادارے جمع رقم کے استعمال کی روایت اور عادت پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یعنی مستحق قرض خواہ کو ادھار دینا اور پھر قرض کی موثر وصولیابی نہیں کر پائے ہیں۔ زرعی قرضوں کو وقت پر واپس نہ کرنے کی شرح بہت زیادہ رہی ہے بہت سے مطالعات سے اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ نادہندوں یا قرض واپس نہ کرنے والوں میں تقریباً پچاس فی صدی ایسے تھے جنھوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا۔ یہ بینک کاری کے کام کوخوش اسلوبی سے چلانے کی راہ میں ایک بڑا خطرہ ہے جس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔
اس طرح دیہی بینک کاری سیکٹر کی توسیع اور فروغ اصلاحات کے بعد پس پشت ہوکر رہ گیا ہے۔ اس طرح کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے حالیہ برسوں میں تمام نوجوانوں کو ’جن دھن یوجنا‘ نامی اسکیم کے ایک جز کے طورپر بینک میں کھاتہ کھولنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ ان بینک کھاتہ داروں کو 1-2 لاکھ روپے میں ناگہانی بیمہ کوریج اور 10,000 روپے میں اوورڈرافٹ (Over Draft) سہولتیں مل سکتی ہیں اور وہ اپنی تنخواہ ،بڑھاپا پنشن اور حکومت کے دیگر سماجی حفاظتی ادائیگی کھاتے میں بھیجے جا سکتے ہیں۔کم سے کم جمع رقم بھی رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس سے 40کروڑ سے زیادہ لوگوں نے بینک کھاتے کھلوائے ہیں۔ بلاواسطہ طورپر اس نے بالخصوص دیہی علاقوں میں بچت کی عادت اور مالی ذرائع کی صحیح ادائیگی کو بڑھاوا دیا ہے۔بینک ان کھاتوں کے ذریعہ 1,40,000 کروڑ روپے سے زیادہ کے فنڈ کو بھیج سکتا ہے۔ بینکوں کو محض قرض دینے والے کے بجائے قرض لینے والوں کے ساتھ بینک کاری رشتے قائم کرنے کے لیے اپنے انداز نظر میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔کسانوں میں کفایت شعاری اور مالی وسائل سے مؤثر استفادہ حاصل کرنے کی عادت کو فروغ دیا جانا چاہیے۔

شکل 6.1. منضبط کھلے میدانوں کے بازار کسانوں اور صارفین دونوں کے لئے فائدہ مند ہوتے ہیں۔
6.4 زراعتی بازار نظام
کیا آپ نے کبھی اپنے آپ سے پوچھا ہے کہ اناج، سبزیاں اور پھل جو ہم روازانہ استعمال کرتے ہیں، کس طرح ملک کے مختلف حصوں سے آتی ہیں؟ وہ طریقۂ کار جس کے ذریعہ یہ اشیا مختلف مقامات تک پہنچتی ہیں ، بازار کے ذرائع پر منحصر ہے ۔ زرعی فروخت کاری (مارکیٹنگ) وہ عمل ہے جس میں جمع کرنا‘ ذخیرہ کرنا‘ نقل و حمل‘ پیکنگ‘ درجہ بندی اور پورے ملک میں مختلف زرعی اشیاکی تقسیم شامل ہے۔
آزادی سے پہلے‘ کسان جب تاجروں کو اپنی اشیا فروخت کرتے تھے تو ان کے ساتھ ناقص وزن اور کھاتوں میں ہیر پھیر کا معاملہ ہوتاتھا۔ کسان جن کو مطلوبہ معلومات نہیںہوتی تھی وہ بازار میں رائج قیمت سے کم قیمت پر فروخت کرنے کے لئے اکثر مجبور کیے جاتے تھے۔ بعد میں بہتر قیمت پر فروخت کرنے کے مقصد سے اپنی اشیا کو رکھنے کے لیے گودام کی مناسب سہولتیں بھی نہیں تھیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ آج کل کھیتوں میں تیار کی جانے والی 10 فی صد سے زیادہ اشیا اسٹور یج کی کمی کے سبب ضائع ہوجاتی ہیں؟ لہذا سرکاری مداخلت‘ نجی تاجروں کی سرگرمیوں کو منضبط کرنے کے لیے ضروری ہوجاتی ہیں۔
انھیں حل کریں
- سبزیوں اور پھل کے قریبی بازار جائیں۔ بازار کی مختلف خصوصیات کا مشاہدہ اور شناخت کریں۔ کم سے کم دس مختلف پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار کے مقام کا پتہ لگائیں اور یہ بھی معلوم کریں کہ وہ کتنی دور سے بازار پہنچتی ہیں۔مزید‘ٹرانسپورٹ کے طریقوں اور قیمتوں پر اس کو ماخوذ کرنے کے عمل کے بارے میں ایک نظر ڈالیں۔
- زیادہ تر چھوٹے قصبوں میں باضابطہ بازار کے مقامات ہوتے ہیں۔ کسان ان بازاروں میںجاکر اپنی اشیاء فروخت کرسکتے ہیں۔ وہ ان مقامات میں اشایاء کا ذخیرہ کرسکتے ہیں۔ اس طرح کے کسی ایک منضبط بازار کا دورہ کریں؟ اس کے کام کرنے‘ مقام تک آنے والی اشیاء کی قسم اور کس طرح قیمتیں مقرر ہوتی ہیں‘ ان کے بارے میں تفصیلات جمع کریں۔ تفصیلی رپورٹ تیار کریں اور کلاس روم میں اس پر مباحثہ کیجیے۔
آئیے اب چار ایسے اقدامات پر بحث کریں جو مارکٹنگ پہلو کو بہتر بنانے کے لیے شروع کئے گئے تھے۔ پہلا قدم منظم اور شفاف فروخت کاری کی تخلیق کے لیے بازاروں کی باضابطگی تھی۔ مجموعی طورپر اس پالیسی سے کسانوں کے علاوہ صارفین کو بھی فائدہ پہنچا۔ تاہم دیہی بازاروں کی مکمل امکانی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے باضابطہ بازار مقامات کے طورپر اب بھی27,000 دیہی (ہفتہ وار بازار) کو فر وغ دینے کی ضرورت ہے۔ دوسرا جز مادی بنیادی ڈھانچے سے متعلق سہولیات جیسے سڑکیں‘ ریلوے گودام‘ ویرہاؤس‘ کولڈ اسٹوریج اور پراسسنگ اکائیو ں کا اہتمام ہے۔ تاہم موجودہ بنیادی ڈھانچہ کی سہولیات بڑھتی مانگ اور ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے بالکل ناکافی ہیں جنھیں بہتر بنائے جانے کی ضرورت ہے۔ کسانوں کے پروڈکٹ کے لیے مناسب قیمتوں کو بروئے کار لانے میں کوآپریٹیو مارکٹنگ کے لیے سرکاری اقدام کا تیسرا پہلو ہے۔ گجرات اور ملک کے کچھ دوسرے حصوں کابدلا ہوا معاشی منظر کو آپریٹیو یا امداد باہمی اداروں کے کردار کا شاہد ہے۔ تاہم کسانوں کے ممبروں کی ناکافی شمولیت، مارکٹنگ اور پراسسنگ کوآپریٹیو اور غیر مؤثر مالیاتی نظام کے مناسب ربط کی کمی کے سبب حال میں کافی رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ چوتھا عنصر پالیسی دیتاویزات جیسے 24 زرعتی اشیاء کے لیے کم سے کم معاون قیمتوں (MSP) کی یقین دہانی۔ (ii) فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کے ذریعہ گیہوں اور چاول کے احتیاطی وافر ذخیروں کی برقراری اور (iii) PDS (عوامی تقسیم نظام) کے ذریعہ اناج اور شکر کی تقسیم ان رسمی دستاویزات کا مقصد علی الترتیب کسانوں کی آمدنی کا تحفظ اور غریبوں کو رعایتی قیمت پر اناج فراہم کرناہے۔ تاہم‘ سرکاری اقدامات کے باوجود نجی تجارت (مہاجن، دیہی سیاسی ممتاز طبقات‘ بڑے کاروباری اور امیر کسان) زرعی بازاروں پر حاوی ہیں۔ زرعی پروڈکٹس کی مقدار حکومتی ایجنسیوں اور صارف کوآپریٹو کے ذریعہ جو برتی جارہی ہے وہ صرف 10 فی صد کی تشکیل کرتی ہے جب کہ باقی نجی سیکٹر کے ذریعہ انجام دی جاتی ہے۔
زرعی مارکیٹنگ نے مختلف شکلوں میں سرکاری اقدامات کے ساتھ ایک لمبا راستہ طے کیاہے۔ گلوبلائیزیشن کے دور میں زراعت کا تیز کمرشیلائزیشن (محض تجارت)، پراسسنگ (ڈبہ بندی) کے ذریعہ زراعت پر مبنی اشیا کی قدرمیں اضافے (value) کا زبردست موقع پیش کرتی ہے‘ اور ضرورت اس بات کی ہے کہ کسانوں کی فروخت کاری صلاحیت میں بہتری پیدا کرنے کے لیے ان کی آگہی اور تربیت کے علاوہ حوصلہ افزائی کی جائے۔
متبادل فروخت کاری (مارکیٹنگ)کی ظہور پذیر راہیں
متبادل فروخت کاری (مارکیٹنگ)کی ظہور پذیر راہیں
یہ محسوس کیاگیا ہے کہ اگر کسان سیدھے طور پر اپنی اشیاء یا پیداوار صارفین کو فروخت کریں تب صارفین کے ذریعہ ادا شدہ قیمت میں کسانوں کا حصہ بڑھتا ہے۔ ان ذرائع کی کچھ مثالیں ہیں۔ اپنی منڈی (پنجاب‘ ہریانہ ‘ راجستھان) ہداس پور منڈی (پونے)‘ ریتھو بازار (آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں سبزی اور پھل بازار) اور ازھاور پور سینڈیز (تملناڈ میں کسانوں کی بازار)۔ مزید بر آں، متعدد قومی اور بین الاقوامی فاسٹ فوڈ ( پھُرتی سے تیار کرکے پیش کیا جانے والا کھانا) سلسلوں کی کسانوں کے ساتھ معاہدے یا اتحاد میں شمولیت کے بڑھتے اضافے سے نہ صرف بیجوں اور دیگرلاگت (inputs) بلکہ پیش متعین یا طے شدہ قیمتوں پر اشیاء یقینی حصول کے ساتھ ان کی فراہمی کے ذریعہ مطلوبہ کوالٹی کے فارم پروڈکٹوں کی کاشت کرنے کے لیے ان کا حوصلہ بڑھے گابلکہ اس طرح کے بندوبست سے کسانوں کے قیمت سے متعلق جو کھموں کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی اور ساتھ ہی ساتھ کھیتوں پر پیدا کی ہوئی اشیاء کے بازاروں کی توسیع بھی ہوگی۔2020ہندوستانی پارلیمنٹ نےایگری کلچرمارکیٹنگ سسٹم (Agriculture Marketing System)میں اصلاح کے لیے تین قانون لاگو کیے تھے۔کسانوں کے کچھ طبقے ان اصلاحات کی حمایت کرتے ہیں اور باقی کسان اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ان قوانین پر ابھی بھی بحث چل رہی ہے۔ان قوانین کی تفصیل جمع کریں جماعت میں بحث ومباحثہ کریں۔
انھیں حل کریں
- اپنے محلے یاپڑوس میں ایک ایسے متبادل مارکٹنگ نظام کا دورہ کریں جس کا استعمال دیہی علاقوں کے کسان کرتے ہیں۔ یہ منضبط بازار مقامات سے کس طرح مختلف ہیں؟ کیا حکومت کے ذریعہ ان کی حوصلہ افزائی اور پشت پناہی کی جانی چاہئے؟ کیوں اور کس طرح؟ بحث کیجیے۔
6.5 پیداواری سر گرمیوں میں تنوع پیدا کرنا
تنوع میں دو پہلو شامل ہیں۔ ایک کا تعلق فصلوں کی پیداوار میں تنوع یا نیاپن لانے سے اور دوسرے کا تعلق زراعت کے علاوہ دیگر متعلقہ سرگرمیوں جیسے مویشی پالنا، مچھلیاں پالنا وغیرہ اور غیر زراعتی شعبے میں کام کرنے والوں کی جانب منتقلی سے ہے ۔ متنوع بنانے کی ضرورت اس حقیقت سے پیدا ہوتی ہے کہ ذریعہ معاش کے لیے محض کاشتکاری پر انحصار کرنے میں بڑا خطرہ موجود ہوتا ہے۔ نئے شعبوں کے تئیں تنوع نہ صرف زراعتی سیکٹر کے جو کھم کم کرنے کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے دیہی لوگوں کی پیداوار کو برقرار رکھنے کامتبادل بھی فراہم ہوتا ہے۔ زراعتی روزگار سرگرمیاں زیادہ تر خریف موسم میںمرکوز ہوتی ہیں لیکن ربیع کے موسم میں وہ علاقے جہاں آبپاشی کی ناکافی سہولیات ہیں، نفع بخش روزگار پانا مشکل ہوجاتاہے۔ اس لیے نفع بخش اضافی روزگار فراہم کرنے کے لیے اور غریبی اور دیگر مصیبتوں پر قابو پانے میں دیہی لوگوں کے لئے آمدنی کی اونچی سطح کو حقیقت آفریں بنانے میں دیگر سیکٹروں میں توسیع ضروری ہے، یہاں صرف معاون سرگرمیوں‘ غیر کاشتکاری روزگار اور ذریعہ معاش کے دیگر ابھرتے متبادلات پر توجہ مرکوز کی جانی چاہئے، حالانکہ دیہی علاقوں میں قابل برقراری ذریعہ معاش فراہم کرنے کے لیے بہت سے دیگر متبادلات دستیاب ہیں۔

شکل. 6.2دیسی گُڑ تیار کرنا، کا شت کاری شعبے کی ایک ذیلی سرگرمی ہے۔
چونکہ زراعت میں پہلے سے ہی ضرورت سے زائد لوگ ہیں اس لیے بڑھتی لیبر فورس کے ایک بڑے حصے کو دیگر غیر زرعی سیکٹروں میں متبادل روزگارکے مواقع دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں غیر زرعی معیشت کے متعدد حصے ہیں یہ کچھ متحرک (Dynamic) رابطوں پر مشتمل ہیں جن میں صحت مند افزائش ہوسکتی ہے جب کہ دیگر گزارے لائق کم پیداواریت کی شکل میں ہیں۔ متحرک ذیلی سیکٹروں میں ایگروپراسسنگ صنعتیں،خوراک کی ڈبہ بندی صنعتیں، چمڑے کی صنعت اور سیاحت وغیرہ شامل ہیں۔ وہ سیکٹر جن میں امکانی صلاحیتیں تو موجود ہیں لیکن بنیادی ڈھانچے اور دیگر معاون چیزوں کی زبردست کمی ہے ان میں روایتی گھریلو صنعتیں جیسے مٹی کے برتن بنانا، دستکاری، ہینڈ لوم وغیرہ شامل ہیں۔ اگر چہ دیہی عورتوں کی اکثریت زراعت سے روزگار حاصل کرتی ہے۔ جبکہ مرد غیرکاشت کاری روزگار کی تلاش میں رہتے ہیں۔ موجودہ دور میں اب عورتوں نے بھی غیر کاشتکاری کاموں کی تلاش شروع کردی ہے (دیکھئے باکس 6.2)
باکس 6.2 : زراعت میں تملناڈو کی عورتیں (TANWA)
زراعت میں تملناڈ کی عورتیں یعنی 'TANWA' ایک پروجیکٹ ہے جسے جدید زراعتی تکنیکوں میں عورتوں کی تربیت کے لیے تملناڈ میں شروع کیا گیا تھا۔ یہ زرعی پیداواریت اور فیملی آمدنی بڑھانے میںسرگرم شرکت کے لیے عورتوں کو ترغیب دیتی ہے۔ تھیرو چر اپلی میں فارم وومن گروپ جو کہ اینتھو نیامل کے ذریعہ چلایا جاتا ہے‘ تربیت یافتہ عورتیں کامیابی کے ساتھ کرمی یا نامیاتی ملی جلی کھاد بنا بنا کر فروخت کررہی ہیں اور اس تجارتی پروجیکٹ (venture) سے رقم کمارہی ہیں۔ بہت سے دیگر فارم وومن گروپ خورد ادھأر نظام(Micro cridet system) کے ذریعہ چھوٹے بینکوں کے طورپر کام کر کے اپنے گروپ میں بچتوں کی تخلیق کررہے ہیں۔ جمع کی گئی بچتوں کے ساتھ وہ صماروغ(mushrom) کی کاشتکاری ، صابن بنانا، گڑیاں بنانا یا دیگر آمدنی پیدا کرنے والی سرگرمیوں جیسی چھوٹے پیمانے کی گھریلو سرگرمیوں کو فروغ دیتے ہیں۔
آپ کے علاقے یا آپ کے پڑوس میں دیہی علاقوں میں بھی ایسی ہی پہل ہو سکتی ہے۔ کسی انجمن کو چلانے والے لوگوں یا خاتون کامگاروں سے بات کریںاور کلاس میں تفصیلات پر بحث کریں۔
مویشی پالن: ہندوستان میں کاشتکار طبقہ مخلوط فصل ومویشی کاشتکاری نظام کا استعمال کرتا ہے۔ مویشی (کھیتوں میں کام کرنے والے)، بکریاں مرغیاں وغیرہ استعمال کی جانے والی زیادہ تر قسمیںہیں۔مویشی پروری کے ذریعہ آمدنی میں اضافی استحکام اور دیگر غذا پیدا کرنے والی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالے بغیر غذائی تحفظ، نقل وحمل، ایندھن اور تغذیہ فراہم ہوتا ہے۔ آج کل مویشی سیکٹر اکیلے ہی 70 ملین (سات کروڑ) چھوٹے اور حاشیائی کسانوں بشمول بے زمین مزدوروں کو متبادل ذریعہ معاش فراہم کرتا ہے۔ عورتوں کی خاصی تعداد مویشی سیکٹر سے اپنا روزگارحاصل کرتی ہیں۔
چارٹ 6.1 : ہندوستان میں مرغی پالن اور مویشیوں کی تقسیم ،2012

چارٹ 6.1 میں ہندستان میں مویشیوں کی تقسیم دکھائی گئی ہے۔ مرغی پالن کا حصہ سب سے زیادہ یعنی55 فی صد ہے اس کے بعد دیگر ہیں۔ دیگر جانوروں جن میں اونٹ‘ گدھے‘ گھوڑے، ٹٹو، خچر شامل ہیں کم مستعمل ہیں۔ ہندستان میں2019میں تقریبا304 ملین مویشی تھے جس میں 110 ملین بھینس وبھینسا شامل تھے۔ ہندوستانی ڈیری سیکٹر کی کارکردگی پچھلے تین دہوں میں کافی اثر انگیز رہی ہے۔ ملک میں دودھ کی پیداوار 1951سے 2016 کے درمیان بڑھ کر 10 گنا سے زیادہ ہوگئی ہے۔ اسے بالخصوص ’آپریشن فلڈ‘ کے کامیاب نفاذ سے منسوب کیا جاتا ہے۔ آپریشن فلڈ‘ وہ نظام ہے جہاں سبھی کسان اپنے دودھ مختلف درجہ بندی (کوالٹی پر مبنی)کے لحاظ سے جمع کرتے ہیں اور اسے پراسس کیا جاتا ہے اور کوآپریٹیو کے ذریعہ شہری مراکز میں فروخت کاری کی جاتی ہے۔ اس نظام میں کسان مناسب قیمت اور شہری بازاروں کو دودھ کی سپلائی سے ہونے والی آمدنی سے مطمئن ہوتے ہیں۔ ملک میں کو آپریٹیو کے موثر نفاذ میں گجرات ریاست کی ایک کامیاب کہانی ہے جس کی متعدد ریاستوں میں تقلید کی گئی ہے۔ گوشت‘ انڈے‘ اون اور دیگرڈیری پروڈکٹ بھی تنوع (Diversification) کے لیے اہم پیداواری سیکٹروں کے طورپر ابھررہے ہیں۔

شکل6.3. بھیڑ پالن – دیہی علاقوں میں آمدنی بڑھانے والی ایک اہم سرگرمی۔
مچھلی پالن: ماہی گیر یا مچھیرے آبی وسائل کو ’ماں‘ یا ’کفیل‘ کا درجہ دیتے ہیں۔ آبی وسائل سمندر، بحر، ندیوں، جھیلوں، قدرتی پانی کے تالابوں اور چھوٹی ندیوں وغیرہ پر مشتمل ہیں۔ لہذاماہی گیر طبقہ کے لیے جزو لازمی اور حیات بخش وسلیہ ہے۔ ہندوستان میں بجٹ کے تعین میںتدریجی اضافے اور مچھلی پالن اور آبی کاشت میں نئی ٹکنالوجیوں کے متعارف ہونے کے لیے مچھلی پالن نے ترقی کا ایک طویل راستہ طے کیا ہے۔ اس وقت داخلی وسائل میں مچھلی کی پیداوار میں تقریبا65 فی صد کاتعاون ہوتاہے اور باقی 35 فی صد بحری سیکٹر (سمندر ) سے آتا ہے۔ آج مچھلی پیداوار کل گھریلو مجموعی پیداوار کا9۔0فی صد ہے ہندوستان میں مغربی بنگال، آندھرا پردیش، کیرل، گجرات، مہاراشٹر اور تمل ناڈو مچھلی پیدا کرنے والی اہم ریاستیں ہیں۔ مچھیروں کی مجموعی سماجی ومعاشی حیثیت ہماری معیشت کے دیگر پسماندہ سیکٹروں کے مقابلے نسبتا کمزور ہے۔ وسیع پیمانے پر پھیلی بے روزگای، کم فی کس آمدنی، مزدوروں کے دیگر سیکٹروں کی طرف نہ جانے اور ناخواندگی کی اونچی شرح اور مقروضیت ان کمیونٹیوں کو درپیش کچھ بڑے مسئلے ہیں۔ اگرچہ عورتیں سرگرم مچھلی پالن میں نہیں لگی ہوئی ہیں پھر بھی بر آمدی فروخت کاری میں تقریبا ورک فورس کی60 فی صد اور داخلی فروخت کاری میں تقریبا 40 فی صدعورتیں لگی ہوئی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ماہی گیر خواتین کے لیے قرض کی سہولیات، کو آپریٹیو اور خودامدادی گروپ میں اضافہ کیا جائے تاکہ فروخت کاری کے لیے رواں سرمایہ (working capital) کی ضرورت پوری کی جاسکے۔
باغبانی: متنوع آب و ہوا اور مٹی کی خصوصیت سے سرشار ہونے کی وجہ سے ہندستان میں متنوع باغبانی فصلیں جیسے پھل، سبزیاں، جڑ والے پودے (آلو وغیرہ)،ادویاتی بوٹیاں اور خوشبودار پودے، مسالے اور روئی وتمباکو وغیرہ کے پودوں کو اگایا جاتا ہے۔ یہ فصلیں روزگار پر مرکوز ہونے کے علاوہ غذا اور تغذیہ فراہم کرنے میں بھی نہایت اہم کرار نبھاتی ہیں۔ باغبانی سیکٹر سے زراعت کی مجموعی پیداوار کی تقریباً ایک تہائی اور ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار کل چھے فی صد رقم حاصل ہوتی ہے ۔یہ سیکٹر ایک قابل برقرار ی ذریعہ معاش کے طورپر ابھرا ہے۔ ہندستان مختلف قسم کے پھل جیسے آم، کیلا، ناریل، کاجو اور متعدد مسالے پیدا کرنے میں دنیا میں اولین مقام پر آگیا ہے اوراب پھلوں اور سبزیوں کا دوسرا سب سے بڑا پیداکار ہے۔ باغبانی میں لگے ہوئے بہت سے کسانوں کی معاشی حالت بہتر ہوئی اور یہ بہت سے غیر مراعات یافتہ طبقات کے لیے بھی ذریعہ معاش بہتر بنانے کا وسیلہ بنا۔ پھولوں کی کاشت‘ پو دگھر (نرسری) کی دیکھ بھال‘ مخلوط بیجوں کی پیداوار اور پھلوں اور پھولوں کے بافتی افزائشی عمل اور فوڈپراسسنگ دیہی علاقوں میں عورتوں کے لیے بہت زیادہ معاوضے والا روزگارہے۔ یہ اندازہ کیاگیا ہے کہ یہ سیکٹر کل قوت محنت کا تقریباً 19 فی صدروزگار فراہم کرتا ہے۔

شکل. 6.4 ہندوستان کے کل مویشیوں کا ایک بڑا حصہ مرغیوں پر مشتمل ہے۔

شکل. 6.5 دیہی گھروں کی عورتیں شہد کی مکھیاںپالنے کو ایک کاروباری سرگرمی کے طورپر اختیار کرتی ہیں۔
اگر چہ تعداد کے لحاظ سے ہماری مویشی آبادی خاصی اثر انگیز ہے لیکن اس کی پیداواریت دوسرے ملکوں کے مقابلے کافی کم ہے۔ اس میں بہتر ٹکنالوجی اور جانوروں کی اچھی نسلوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو۔ مویشیوں کی بہتر طبی دیکھ بھال اور چھوٹے وحاشیائی کسانوں اوربے زمین مزدوروں کو قرض کی سہولیات سے مویشی پیداوار کے ذریعہ معاش میںپائیدار اضافہ ہوگا۔ مچھلی پالن کے کاروبار میں پہلے ہی بڑی معقول حد تک اضافہ ہوا ہے۔ تاہم بے تحاشا مچھلیاں پکڑنے کے اور آلودگی سے متعلق مسائل کو منضبط اور قابو کیے جانے کی ضرورت ہے۔ماہی گیرطبقے کے لیے فلاحی پروگراموں کو اس انداز میں نئے سرے سے اس طرح شروع کیے جانے کی ضرورت ہے جس سے طویل مدتی نفع اور ذریعہ معاش مہیا کیا جاسکے۔ باغبانی ایک پائیدار ذریعۂ معاش کے طور پر ابھرا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کی نمایاں طورپر حوصلہ افزائی کی جائے۔ اس کے کردار کو بڑھانے کے لئے بجلی، کولڈ اسٹوریج نظام، فروخت کاری رابطوں، چھوٹے پیمانے کی عمل کاری اکائیوں اور ٹکنالوجی میں بہتری اور پھیلاؤ جیسے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
دیگر متبادل ذریعہ معاش کے امکانات: ہم جانتے ہیں کہ انفارمیشن ٹکنالوجی (IT)نے ہندوستانی معیشت کے متعدد سیکٹروں میں ایک انقلاب سا پیدا کردیا ہے۔ یہ متفقہ رائے ہے کہ انفارمیشن ٹکنالوجی (IT) پائیدار ترقی اور غذائی تحفظ حاصل کرنے کے لیے اکیسویں صدی میں ایک نہایت اہم کردار نبھائے گا۔ اس مشاہدے کا جواز بہت سی مثالیں ثابت کرتی ہیں۔جیسے مناسب معلومات اور سافٹ ویر لوازمات کا استعمال کرتے ہوئے غذائی عدم تحفظ اور ضرر پذیری کے میدانوں میں پیش بینی کرنے کی حکومت کی اہلیت جس سے ہنگامی صورتحال کو روکنے یا کم کرنے کے لیے کارروائی کی جاسکے۔ اس سے زراعتی سیکٹر پر بھی مثبت اثرپڑا ہے کیوں کہ اس سے ابھرتی ٹکنالوجیوں سے متعلق معلومات کی نشرو اشاعت ہوتی ہے اور اس کے اطلاق مختلف فصلوں کے اگانے کے لیے قیمتوں‘ موسم اور مٹی کے حالات کے بارے میں بھی معلومات کی اشاعت ہوتی ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ علم پر مبنی معیشت کا پیش خیمہ ہے جو کہ صنعتی انقلاب کے مقابلے ہزار گنا زیادہ طاقت ور ہے۔ اگر چہ انفارمیشن ٹکنالوجی بذات خود کسی تبدیلی کا محرک نہیں ہے لیکن یہ ہمارے لوگوں کی تخلیقی امکانی صلاحیت اور ان میں سمائے ہوئے علم جاری کرنے کے ایک لوازم کے طورپر کام کرسکتی ہے۔ یہ دیہی علاقوں میںروزگار کی تخلیق کی امکانی صلاحیت بھی ہے۔ ہندوستان کے مختلف حصوں میں دیہی ترقی کے لیے اس کو استعمال کیا جا رہا ہے۔(دیکھیں باکس6.3)
باکس 6.3 : اراکین پارلیمنٹ کے ذریعے گاؤں گود لینا
حکومتِ ہند نے اکتوبر 2014 میں سانسد آدرش گرام یوجنا (SAGY)کے نام سے ایک نئی اسکیم متعارف کرائی ہے۔ اس اسکیم کے تحت ہندوستانی پارلیمنٹ کے اراکین کوا پنے انتخابی حلقوں سے ایک گاؤں کی نشاندہی کرکے اسے ترقی دینا ضروری ہے۔ اس کی شروعات کرتے ہوئے2016 تک اراکین پارلیمنٹ ایک گاؤں کو مثالی گاؤں کی حیثیت سے ترقی دے سکتے ہیں اور 2019 تک 2500گاؤوں کا احاطہ کرتے ہوئے مزید دو گاؤں اس اسکیم کے مطابق میدانی علاقوں میں گاؤں کی آبادی تین سے پانچ ہزار اور پہاڑی علاقوں میں ایک سے تین ہزار کی ہونی چاہیے اور یہ رکن پارلیمنٹ کا اپنا گاؤں یا ان کے شوہر/بیوی کا گاؤں نہیں ہونا چاہیے۔ اراکین پارلیمنٹ سے گاؤں کی ترقیاتی منصوبے کو آسانیاں فراہم کرنے، سرگرمیوں کو شروع کرنے کے لیے دیہی باشندوں کی حوصلہ افزائی کرنے اور صحت، تغذیہ اور تعلیم کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کرنے کی امید کی جاتی ہے۔
6.6 پائیدار ترقی اور نامیاتی کاشتکاری
حالیہ سالوںمیں کیمیائی کھادوں اور کیڑے مار ادویات کے نقصان دہ اثرات کے بارے میں آگاہی بڑھی ہے۔ مروجہ زراعت کیمیکل فرٹلایزر اور زہریلی کیڑے مار ادویات وغیرہ پر زیادہ انحصار کرتی ہے‘ جوغذائی اشیا میں داخل ہوجاتے ہیں‘ آبی وسائل میں گھس جاتے ہیں‘ مویشیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور قدرتی ماحولیاتی نظام کو تباہ کرتے ہیں۔ ایسی ٹکنالوجیوں کے ارتقا کی کوشش لازمی ہے اور جوپائیدار ترقی کے لیے ماحول دوست ہوں۔ ایک اسی طرح کی ٹکنالوجی جو ماحول کے موافق ہے وہ ہے نامیاتی کاشتکاری۔ مختصراً نامیاتی کاشتکاری ایک ایسا مجموعی نظام ہے جو کہ ماحولیاتی توازن کو بحال کرتاہے، برقرار رکھتا ہے اور اس میں اضافہ کرتا ہے۔ پوری دنیا میں غذائی تحفظ کو بڑھانے کے لیے نامیاتی طورپر اگائی گئی غذا کے لیے مانگ بڑھتی جارہی ہے۔
باکس 6.4 : نامیاتی غذا (Organic Food)
نامیاتی غذا کی مقبولیت پوری دنیا میں بڑھتی جارہی ہے۔ نامیاتی کاشتکاری بہت سے ممالک کے اپنے غذائی نظام کا تقریباً 10 فی صد ہے۔ نامیاتی غذا فروخت کرنے کے سلسلے میں بہت سے خردہ فروشی سلسلے اور سوپر بازراوں کو گرین اسٹیٹس یعنی سبز رقبہ سے نوازا گیا ہے۔ مزید برآں نامیاتی غذاؤں کی روایتی غذاؤں کے مقابلے تقریباً 10.00 فی صدزیادہ قیمتیں ہوتی ہیں۔
فطری یا نامیاتی کاشتکاری کے فوائد : نامیاتی کاشت مہنگی زرعی لاگت (Agricultural inputs) (جیسےHYV بیج،کیمکل کھاد، کیڑے مار ادویات وغیرہ) کو مقامی طورپر تیار کردہ نامیاتی لاگت سے تبدیلی کرنا ہے جس مقامی طور پر تیار کی جاتی ہے اور نسبتاً سستی ہوتی ہے۔ اس طرح سرمایہ کاری پر اچھا منافع حاصل ہوتا ہے نامیاتی کاشت سے زیادہ آمدنی ہوتی ہے جو بین الاقوامی برآمدات کے ذر یعہ حاصل ہوتی ہے کیوں کہ نامیاتی طورپر اگائی گئی فصلوں کی مانگ بڑھتی جارہی ہے۔ ملکوں میںکیے گئے مطالعات سے پتہ چلتاہے کہ نامیاتی طورپر اگائی گئی غذا میں کیمکل کاشت کاری کی نسبت زیادہ تغذئی قدر ہوتی ہے اس طرح ہمیں صحت بخش غذائیں حاصل ہوتی ہیں۔ چونکہ نامیاتی کاشتکاری میں روایتی کاشتکاری کے مقابلے زیادہ مزدوروں کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے ہندستان کے لئے نامیاتی کاشتکاری ایک پرکشش تجویز ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ پیداوار کیڑے مار ادویات سے پاک ہوتی ہے اور ماحولیاتی طورپرپائیدار انداز میں تیار کی جاتی ہے۔
نامیاتی کاشتکاری کو مقبول بنانے کے لیے کسانوں کی جانب سے نئی ٹکنالوجی اپنانے کے بارے میں آگہی اور اس کے لیے آمادگی کی ضرورت ہے۔ پیداوار ناکافی بنیادی ڈھانچے اور مارکیٹنگ کے مسئلے کے ساتھ جڑی رہتی ہے۔ جس کے لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے حل کرنے کے علاوہ نامیاتی کاشت کو فروغ دینے کی مناسب زرعی پالیسی اپنائی جائے۔ یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ ابتدائی سالوں میں نامیاتی کاشتکاری سے حاصل پیداوار جدید زراعتی کاشتکاری کی نسبت کم ہوتی ہے۔ لہذا چھوٹے اور حاشیائی کسانوں کے ذریعہ بڑے پیمانے کی پیداوارکے لیے اسے اپنانا مشکل ہوسکتا ہے۔ نامیاتی پیداوار اسپرے کی گئی پیداوار کی نسبت ممکن ہے زیادہ ناقص ہو اوراس کی قابل استعمال مدت کم ہو۔ مزید برآں، نامیاتی کاشتکاری میں بے موسم فصلوں کی پیداوار کاانتخاب کافی محدود ہے۔ اس کے باوجود نامیاتی کاشتکاری زراعت کی پائیدار ترقی میں مددگار ہوتی ہے اور ہندوستان کو گھریلو اور بین الاقوامی بازار دونوں کے لیے نامیاتی اشیاء تیار کرنے میں صاف طورپر فائدہ دکھائی دیتا ہے۔
باکس 6.5 : مہاراشٹر میں نامیاتی طورپر پیدکی گئی کپاس
1995 میں، جب پراکروتی (ایک NGO ) کے کشن مہتا نے پہلی بار یہ تجویز پیش کی کہ کپاس جس میں کیمکل کیڑے مار ادویات کا کافی استعمال کیا جاتا ہے،اسے نامیاتی طورپر اگایا جاسکتاہے، تب سنٹرل انسٹی ٹیوٹ فار کاٹن ریسرچ ناگپور کے اُس وقت کے ڈائرکٹر نے تبصرہ کیا جو کہ بہت مشہور ہوا، ’’کیاآپ ہندستان کو ننگا رکھنا چاہتے ہیں؟‘‘ آج 130 کسانوں نے 1,200 ہیکٹر زمین میں کپاس نامیاتی زراعت تحریک کے بین الاقوامی فیڈریشن کے معیارات پر نامیاتی طورپر کپاس اگانے کا کام کیا ہے۔ پیداوار کی بعد میںجرمنی کی تسلیم شدہ ایجنسی AGRECO نے جانچ کی اوراسے عمدہ کوالٹی کا پایا۔ کشن مہتا محسوس کرتے ہیں کہ تقریباً 78 فی صدہندوستانی کسان حاشیائی کسان ہیں جو کہ 0.8 ہیکٹر سے کم کے مالک ہیں لیکن یہ ہندوستان قابل کاشت زمین کے 20 فیصد پر مشتمل ہے۔ لہذا طویل مدتی لحاظ سے پیسہ اور مٹی کے تحفظ کے اعتبار سے نامیاتی زراعت زیادہ منافع بخش ہے۔اپنے علاقے کے کسی ایسے کھیت میں جائیے جہاں نامیاتی کھاد کا استعمال کیا جاتا ہے اور زراعت سے متعلق طریقوں سے جڑے معاملات پر گفتگو کیجیے اور اپنی جماعت میں رپورٹ پیش کیجیے۔
ماخذ: لائیلا باودم کے آرٹیکل 'A Green Alternative' سے لیا گیا اقتباس‘ فرنٹ لائن‘ جولائی 29,2003 میں شائع۔
6.7 اختتام
یہ بات واضح ہے کہ جب تک کچھ قابل دید یا نمایاں تبدیلیاں نہ ہوں، دیہی سیکٹر پسماندہ ہی رہے گا۔ آج کی اہم ضرورت یہ ہے کہ پیداوار کے لیے کی گئی سرمایہ کاری پر اونچی آمدنی کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ڈیری صنعت، مرغی پالن، مچھلی پالن، سبزیوں اور پھلوں میں تنوع پیدا کر کے دیہی پیداوار مراکز کو شہری اور غیر ملکی (برآمدات) بازاروں سے جوڑا جائے۔ مزید برآں ، بنیادی ڈھانچے سے متعلق عناصر جیسے قرض اور فروخت کاری، کسانوں کے موافق زرعی پالیسیوں اور مستقل تشخیص اور کسانوں کے گروپوں اور زرعی محکموں کے درمیان مذاکرات، سیکٹر کی مکمل امکانی صلاحیت کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ضروری ہیں۔
انھیں حل کریں
- پانچ معروف اشیاکی فہرست تیار کیجئے۔ جنھیں ہندوستان میں نامیاتی طورپر پیدا کیا جاتاہے۔
- ایک قریبی سوپر بازار‘ سبزی کی دوکان یا ڈپارٹمنٹل اسٹور پر جائیں بعض مصنوعات کی شناخت کریں۔ کچھ ایسی اشیاء جو نامیاتی طورپر پیدا کی جاتی ہیں اور کچھ عام طریقوں سے ان کے درمیان ان کی قیمتوں کی قابل استعمال مدت‘ کوالٹی اور اشتہار کی قسم جس کے ذریعہ انھیں مقبول بنایا جاتا ہے‘ موازنہ کرتے ہوئے چارٹ تیار کریں۔
- قریبی محلے میں باغبانی فارم کا دورہ کریں۔ ان اشیاء کی تفصیل اکھٹا کریں جو کہ فارم میں کاشت ہوتی ہیں۔ وہ اپنے فصل اگانے کے طریقوں میں متنوع ہوسکتی ہیں۔ تنوع کی خوبیوں اور کمیوں کا ان کے ساتھ موازنہ کریں۔
آج ہم ماحولیات اور دیہی ترقی کو دو جدا موضوعات کے طور پر نہیں دیکھ سکتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ماحولیات موافق ٹکنالوجی کا اختراع یا حصول کیا جائے جس سے مختلف حالات میں پائیدار ترقی حاصل ہوسکے گی۔ اس طرح سے ہر دیہی طبقہ اپنے مقصد کے لیے موزوں طریقہ چن سکتا ہے۔ جب ہمیں بہتر عمل کی توضیحی مثالوں کے دستیاب مجموعے سے کوئی عمل برمحل لگے تب ہمیں سب سے پہلے اسے سیکھنے کی ضرورت ہے اور پھر اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ عمل کرنے کے ذریعہ سیکھنے کے اس عمل کی رفتار کو تیز کیا جاسکے (توضیحی مثال سے مطلب دیہی ترقی کے تجربات کی کامیاب کہانیاں جو کہ ہندوستان کے مختلف حصوں میں اسی صورتحال میں پہلے ہی انجام دی جاتی رہی ہیں)۔
خلاصہ
- دیہی ترقی کافی جامع اصطلاح ہے لیکن اس کا لازماً مطلب ان علاقوںکی ترقی کے لیئے عملی منصوبہ ہے جوسماجی ومعاشی ترقی میں پسماندہ رہ گئے ہیں۔
- دیہی علاقوں میں بنیادی ڈھانچوں جیسے بینک کاری، فروخت گاری، اسٹوریج، نقل وحمل اور موصلات وغیرہ کی مقدار اور معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی حقیقی صلاحیت کو بروئے عمل لایاجاسکے۔
- نئے شعبوں جیسے مویشی پالن، مچھلی پالن اور دیگر غیرزرعی سرگرمیوں کو متنوع بنانے کا عمل نہ صرف زراعتی سیکٹرکے جوکھم کوکم کرنے بلکہ ہمارے دیہی لوگوں کے لیے پائیدار ذریعہ ٔ معاش اختیارات فراہم کرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔
- نامیاتی کاشتکاری کی اہمیت ماحولیاتی طورپر پائیدار عمل کے طور پر بڑھتی جارہی ہے اور اسے فروغ دئیے جانے کی ضرورت ہے۔
مشقیں
1 دیہی ترقی سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ دیہی ترقی کے اہم امور کے بارے میں بتائیے۔
2 دیہی ترقی میں قرض کی اہمیت پر بحث کیجئے۔
3 غریبوں کی ادھار کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں خردہ قرض (Micr. Cradit کے کردار کی وضاحت کیجئے۔
4 دیہی بازاروں کو فروغ دینے میں حکومت کے ذریعہ اٹھائے گیے اقدامات کی وضاحت کیجئے۔
5 پائیدار ذریعہ معاش کے لیے زرعی تنوع کیوں ضروری ہے؟
6 ہندوستان میں دیہی ترقی کے عمل میں دیہی بینک کاری نظام کے کردار کا تنقیدی تجزیہ کیجئے۔
7 زرعی فروخت کاری سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
8 ان بعض رکاوٹوں کا ذکر کیجئے جو زرعی فروخت کاری(marketing) کے نظام میں حائل ہوتی ہیں۔
9 زرعی مارکیٹنگ کے لیے دستیاب متبادل ذرائع کیا ہیں؟ کچھ مثالیں دیجئے۔
10 سنہرا انقلاب (Golden Revolution) کی اصطلاح کی وضاحت کیجئے۔
11 زرعی مارکیٹنگ کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کے ذریعہ اٹھائے گیے چار اقدامات کی وضاحت کیجئے۔
12 دیہی تنوع کو فروغ دینے میں غیر کاشتکاری روزگار کے کردار کی وضاحت کیجئے۔
13 مویشی پروری‘ مچھلی پالن اور باغبانی کو متنوع بنانے کے ایک ذریعہ کے طورپر اہمیت بیان کیجئے۔
14 پائیدارترقی اور غذائی تحفظ حاصل کرنے میں انفارمیشن ٹکنالوجی ایک نمایاں کردار نبھاتا ہے‘ تبصرہ کیجئے۔
15 نامیاتی کاشتکاری کیا ہے اورپائیدارترقی کو یہ کس طرح بڑھاتی ہے؟
16 نامیاتی کاشتکاری کے فوائد اور حدود کی شناخت کیجئے۔
17 نامیاتی کاشتکاری کے ابتدائی سالوں کے دوران کسانوں کو درپیش کچھ مسائل کے بارے میں تحریر کیجئے۔
18 جن دھن یوجنا ‘‘دیہی ترقی میں مدد کرتی ہے،کیا آپ اس قول سے متفق ہیں؟سمجھائیے۔
حوالہ جات
اچاریہ ، ایس۔ ایس۔2004، "Agricultural Marketing, State of the Indian Farmer" ملینیم اسٹڈی اکیڈمک فاؤنڈیشن ، نئی دہلی
الگ، وائی۔ کے۔ "State of the Indian Farms, a Millennium Study 2004، ایک جائزہ ، اکیڈمک فاؤنڈیشن، نئی دہلی۔
چاؤلہ، این کے۔ایم۔ پی۔ جی۔ کروپ اور وی ۔ پی شرما .2004 "Animal Husbandry, State of the Indian Farmer"ملینیم اسٹڈی، اکیڈمک فاؤنڈیشن ، نئی دہلی۔
دیہا درائے ، پی۔ وی۔ اور وائی ،ایس ، یادو"Fishess Development", 2004 ہندوستانی کسانوں کی حالت، ایک ملینیم مطالعہ ، اکیڈمک فاؤنڈیشن، نئی دہلی۔
جالان بمل (ادارت)، 1992۔ دی انڈین ایکونامی: پرابلمس اینڈ پرسپکٹیو ۔ پنگوئین پبلی کیشن، نئی دہلی۔
نارائنن، ایس۔2005، آگنک فارمنگ ان انڈیا NBARD اوکیشنل پیپر نمبر8 3شعبہ زراعت اور دیہی ترقی، ممبئی۔
سنگھ، ایچ۔ پی، پی پی دتہ اور ایم سدھا 2006، ہارٹیکلچر ڈیولپمنٹ، اسٹیٹ آف دی انڈین فارمر، اے ملینیم اسٹڈی، اکیڈمک فاؤنڈیشن ، نئی دہلی۔
سنہا، وی۔ کے۔ 1998، چیلنچز ان رورل ڈیولپمنٹ ، ڈسکوری پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی۔
ٹوڈارو، مائیکل، پی۔1987ایکونامک ڈیولپمنٹ ان تھرڈورلڈ،اورینٹ لانگ مین لمٹڈ، حیدرآباد۔
ٹوپو،ای۔2001، آرگنک ویجٹیل گارڈننگ: گرو یور اون ویجٹیل یونٹ فار لیبر اسٹڈیز، ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل ساینسز ، ممبئی ۔
سرکاری رپورٹیں
Successful Governance Initiatives and Best Practices: Experiences from Indian States, فروغ انسانی وسائل اور UNDPارتباط کے ساتھ حکومت ہند، پلاننگ کمیشن، نئی دہلی ۔
سالانہ رپورٹیں، وزارت دیہی ترقی، حکومت ہند، نئی دہلی۔
Basic Animal Husbandry and Fisheries Statistes (for various year), Agriculture and Farmer's welfare ministry حکومت ہند
www.dahd.nic.in