Skip to content

Hindustan_ki_maashi_taraqqi

روزگار: نمو، غیر رسمیت کاری اور دیگر امور

EMPLOYMENT: GROWTH, INFORMALISATION

AND OTHER ISSUES

  اس باب کے مطالعہ کے بعد طلباء


  •  روزگار سے متعلق کچھ بنیادی تصورات جیسے معاشی سرگرمی، کامگار (ورکر)افرادی قوت (ورکر فورس) اور بے روزگاری کو سمجھیں گے؛
  • مختلف شعبوں کی مختلف اقتصادی سرگرمیوں میں مردوں اور عورتوں کی حصہ داری کی نوعیت سمجھیں گے۔
  •  بے روزگاری کی نوعیت اورحدود سمجھیں گے؛
  • مختلف سیکٹروں اور علاقوں میں روزگار کے مواقع پیداکرنے کے لئے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کاجائزہ لیں گے۔
مجھے بذات خود مشینری پراعتراض نہیں ہے بلکہ مشینری کے لیے جو ’خبط‘ پایا جاتا ہے اس پر اعتراض ہے۔یہ خبط ان کے بقول مزدوربچانے والی مشینری کاہے۔ لوگ،مزدوروں کی بچت اس وقت تک کرتے ہیں جب تک ہزاروں بے کار نہ ہوجائیں اور انھیں فاقہ کشی سے مرنے کے لیے کھلی سڑکوں پر چھوڑدیاجائے...
مہاتماگاندھی


 

7.1  تعارف

لوگ کئی طرح کے کام کرتے ہیں۔ کچھ کھیتوں پر، فیکٹریوںمیں، بینکوںمیں، دوکانوں پر اور دیگر کام کرنے کے مقامات پر تاہم کچھ ایسے بھی ہیں جو گھر پر کام کرتے ہیں۔ گھر پر کام کرنے میں نہ صرف روایتی کام جیسے بنائی، فیتہ سازی(Lace making)یا مختلف قسم کی دستکاریاں شامل ہیں بلکہ جدید کام جیسے انفارمیشن ٹکنالوجی میں پروگرامنگ کاکام بھی شامل ہیں۔ پہلے فیکٹری میںکام کرنے کا مطلب شہروں میں واقع فیکٹریوں میں کام کرناہوتا تھا۔ جبکہ اب ٹکنالوجی نے لوگوں کو اس لائق  بنادیا ہے کہ وہ فیکٹری میں تیار ہونے والی اشیا گاؤں میں اپنے گھر بیٹھ کر تیار کر سکتے ہیں۔۔ کووڈ 19 - وبا کے دوران 2020 میں لاکھوں ملاز موں نے گھر سے کام کے ذریعہ اپنی مصنوعات اور خدمات فراہم کیں۔
 لوگ کام کیوں کرتے ہیں؟ کام بحیثیت ایک فرد اور سماج کے ایک رُکن کے طورپر ہماری زندگیوں میں اہم کردار نبھاتا ہے۔ لوگ گزربسر کے لیے کام کرتے ہیں۔ کچھ لوگ وراثت میں دولت حاصل کرتے ہیں یا ان کے پاس ہوتا ہے۔ جو انھیں  کام کرنے کے بدلے میں نہیں حاصل ہوتا۔ یہ کسی شخص کو پوری طرح مطمئن نہیں کرسکتا۔ کام میں لگے رہنے کے سبب ہمیں خود قدری یا اپنی قدروقیمت  کا شعور حاصل ہوتا ہے اور ہم کودوسروں کے ساتھ رابطہ یا تعلق قائم کرنے کے قابل بناتا ہے۔ ہر کام کرنے والا آدمی قومی آمدنی میں سرگرم اشتراک کرتا ہے اور اس لیے مختلف معاشی سرگرمیوں میں مشغول رہ کر ملک کی ترقی میں شریک ہوتا ہے یعنی زندگی گزارنے کے لیے کمائی کا یہی حقیقی مطلب ہے۔ ہم صرف اپنے لیے کام نہیں کرتے ؛بلکہ ہمیں حصولیابی کا احساس ہوتا ہے جب  ہم ان لوگوں کی ضروریات پورا کرتے ہیں جو ہمارے دست نگر ہیں۔ کام کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے مہاتماگاندھی نے دست کاری سمیت مختلف کاموں کے ذریعہ تعلیم اور تربیت پر زور دیا تھا۔
PIC_47
شکل : 7.1   جالندھر ، ہندوستان کے گھروں میں بنائے گئے فٹ بال کو ملٹی نیشنل کمپنیاں فروخت کرتی ہیں۔

 کام کرنے والے لوگوں کے بارے میں مطالعہ کرنے پر  ملک میں روزگار کے معیار اور نوعیت کی بصیرت حاصل ہوتی ہے اوراپنے انسانی وسائل کو سمجھنے اور ان کی منصوبہ بندی میں مدد ملتی ہے۔ یہ مختلف صنعتوں اور سیکٹروں کے قومی آمدنی کے تئیں اشتراک کاتجزیہ کرنے میں بھی ہمارا مددگار ہوتا ہے ۔اس مطالعہ سے ہمیں بہت سے سماجی مسائل ، جیسے سماج کے حاشیائی محروم طبقات کے ناجائز استحصال اور بچہ مزدوری وغیرہ پر توجہ دینے میں بھی مدد حاصل ہوتی ہے۔

7.2   کامگار اور روزگار

روزگار کیا ہے؟ کامگار کون ہوتا ہے؟ جب کوئی کسان کھیتوں میں کام کرتا ہے، تب وہ اناج اور صنعتوں کے لیے خام مال پیدا کرتا ہے۔ کپاس ٹکسائل ملوں اور مشینی کرگھے میں کپڑے کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ لاریاں ایک جگہ سے دوسری جگہ اشیاء کی نقل و حمل کرتی ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ایسی تمام اشیا اور خدمات کی کل زری قدر جو ملک میں سالانہ طور پر پیدا یا تیار ہوتی ہیں انھیں اس سال کی مجموعی گھریلو پیداوار کہا جاتا ہے۔ جب ہم اس پر بھی غور کرتے ہیں کہ ہم اپنی درآمدات کے لیے کیا ادا کرتے ہیں اور اپنی برآمدات سے کیا حاصل کرتے ہیں تو پاتے ہیں کہ یہ ملک کے لیے خالص آمدنی ہے (اگر ہم نے در آمدات کے مقابلے قدر کے لحاظ سے زیادہ برآمدات کی ہیں) تو یہ مثبت ہوسکتی ہے اوراگر قدرکے طور پر درآمدات زیادہ ہوں تو یہ منفی ہوسکتی ہے یا صفر(اگر برآمدات اور درآمدات ایک ہی حالت کی ہوں)ہوسکتی ہے۔ جب ہم غیر ملکی لین دین سے ہونے والی اس آمدنی کو شامل کرتے ہیں (مثبت یا منفی)، تب ہم جو حاصل کرتے ہیں اسے سال کے لیے مجموعی قومی پیداوار (gross national product)کہا جاتا ہے۔

    PIC_2 انھیں حل کریں

  •    اپنے گھر یا  پڑوس میں آپ نے بہت سی ایسی عورتوں کو دیکھا ہوگا جن کے پاس ٹیکنکل ڈگریاں اور ڈپلوما ہوتا ہے اور ان کے پاس کام پر جانے کا وقت بھی ہوتا ہے لیکن وہ کام پر نہیں جاتیں۔ ان سے کام پر نہ جانے کا سبب پوچھیں۔ ان سب کی فہرست بنائیں اور کلاس روم میں بحث کریں کہ آیا انھیں کام پر جانا چاہیے۔ کیوں اور کس طرح انھیں کام پر بھیجا جانا چاہیے۔ کچھ سماجی سائنس دانوں کی دلیل ہے کہ وہ گھریلو عورتیں جو گھر پر بغیر کوئی اجرت حاصل کیے کام کرتی ہیں ان کو بھی مجموعی قومی پیداوار میں اشتراک کے طور پر مانا جانا چاہیے اور اس لیے معاشی سرگرمی میں انھیں شامل کرناچاہیے۔

 سرگرمیاں جو مجموعی قومی پیداوار میں اشتراک کرتی ہیں، انھیں معاشی سرگرمیاں کہا جاتا ہے۔ وہ سبھی لوگ جو معاشی سرگرمیوں میں مشغول تمام لوگ خواہ کسی بھی حیثیت میں زیادہ خواہ یا کم کامگار کہلاتے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر ان میں سے بعض بیماری، چوٹ یا دیگر جسمانی معذوری، خراب موسم، تیوہاروں، سماجی یا مذہبی تقریبات کی بنا پر غیر حاضر ہوتے ہیںوہ بھی کامگار ہوتے ہیں۔ کامگاروںمیں وہ تمام لوگ بھی شامل ہیں جو ان سرگرمیوں میں  بڑے یا اصل کامگاروں کی مدد کرتے ہیں۔ ہم عام طور پر صرف ان لوگوں کے بارے میں سوچتے ہیں جنھیں آجر تنخواہ یا اجرت کے طورپردیتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ جو لوگ خود روزگار میں  لگے ہوتے ہیں، وہ بھی کامگارہیں۔ 
ہندوستان میں روزگار کی نوعیت کثیر رخی (Multi Faceted) ہے۔ کچھ کو پورے سال روزگار ملتا ہے، کچھ دوسرے لوگ  سال میں چند مہینوں کے لیے روزگار میں لگتے ہیں۔ بہت سے کامگاروں اپنے کام کے لیے مناسب اجرت نہیں ملتی۔ ورکرس کی تعداد کا تخمینہ لگاتے وقت وہ سبھی لوگ جو معاشی سرگرمیوں میں شامل ہیں  برسرروزگار کے طورپر شامل کئے جاتے ہیں۔ مختلف سرگرمیوں میں عملی  طور پر شامل وہ سبھی لوگوں  کی تعداد جاننے میں آپ کی دلچسپی ہوگی۔18-2017میں ہندوستان کے پاس تقریبا471ملین مضبوط افرادی قوت (ورک فورس) تھا۔ چوں کہ کامگاروں کی اکثریت دیہی علاقوں میں رہتی ہے اس لیے وہاںافرادی قوت کا تناسب بھی زیاہ ہے۔ 471ملین افرادی قوت کا تین چوتھائی حصہ دیہی کامگاروں پر مشتمل ہے۔  ہندوستان میںافرادی قوت کی اکثریت مردوں پر مشتمل تھی۔ تقریباََ 77فی صدکامگار مرد ہیں اور باقی عورتیں ہیں(مردوں اور عورتوں میں متعلقہ جنس کے بچہ مزدور شامل ہیں)۔ دیہات میں خواتین افرادی قوت کا ایک چوتہائی حصہ اور شہری علاقوں میں افرادی قوت کا محض پانچواں حصہ ہیں۔ عورتیں کھانا پکانے، پانی لانے اور ایندھن لکڑی چننے اور کھیتی کے کام میں حصہ لیتی ہیں۔ انھیں کبھی کبھارکچھ بھی نہیں حاصل ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان عورتوں کو ورکرس کے زمرے میں نہیں رکھا جاسکتا۔ ماہرین معاشیات کی دلیل ہے کہ ان عورتوں کو بھی ورکرس سمجھنا اور کہا جانا چاہئے۔

7.3   روزگار میں لوگوں کی شرکت

کامگار  آبادی کا تناسب ایک اشاریہ ہے جو کہ ملک میں روزگار کی صورتحال کا تجزیہ کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔یہ نسبت (Ratio) ملک میں  اشیا اور خدمات کی پیداوار میں سرگرم اشتراک کے تناسب کو  جاننے کے لئے مفید ہوتاہے۔ نسبت اگرزیادہ ہے تب اس کا مطلب ہے کہ لوگوں کی مشغولیت زیادہ ہے، اگر ملک کے لیے نسبت اوسط یا کم ہے تب اس کا مطلب ہے کہ اس کی آبادی کا بہت زیادہ تناسب سیدھے طور پر معاشی سرگرمیوں میں شامل نہیں ہے۔

جدول 7.1

ہندوستان میں کامگار آبادی کاتناسب، 2011-2012


ورکو آبادی کا تناسب جنس
شہری
دہی

کل
53-0
14-2
51-7
17-5
52-1
16-5
مرد
عورتیں
33-9 35-0 47-7 کل


 ’آبادی‘ کی  اصطلاح کے مطلب کے بارے میں نچلی کلاسوں میں آپ نے پہلے ہی پڑھاہوگا۔ آبادی کی تعریف لوگوں کی کل تعداد کے طور پر کی جاتی ہے جو ایک مخصوص عرصے میں ایک مخصوص مقام میں رہتے ہیں۔ اگر آپ ہندوستان میں کامگار -آبادی کاتناسب جاننا چاہتے ہیں تب آپ ہندوستان کے کامگاروں کی کل تعداد کو ہندوستان کی آبادی سے تقسیم کریں، اور اسے 100سے ضرب کریں۔ آپ ہندوستان میں ورکر- آبادی کا تناسب حاصل کرلیں گے۔
 آپ جدول 7.1پر نگاہ ڈالیں یہ معاشی سرگرمیوں میں لوگوں کی شرکت کی مختلف سطحیں دکھاتا ہے ہندوستان میں ہر 100افراد میں تقریبا35(7-34کو سالم عدد بنانے کے ذریعہ) کامگار ہیں۔ شہری علاقوں میں یہ تناسب تقریبا 34ہے جبکہ دیہی ہندوستان میں یہ نسبت تقریبا 35فی صد ہے۔ اس طرح کا فرق کیوں ہے؟ دیہی علاقوں میں لوگوں کے پاس اونچی آمدنی کمانے کے لیے محدود وسائل ہیں اوروہ روزگار بازار میں زیادہ شریک ہوتے ہیں۔ بہت سے اسکول، کالج اور دیگر تربیتی اداروں میں نہیں جاتے۔ اگر کچھ جاتے بھی ہیں تو وہ بیچ ہی میں ورک فورس میں شامل ہونے کے لیے چھوڑدیتے ہیں جبکہ شہری علاقوں میں ایک خاصہ طبقہ مختلف تعلیمی اداروں میںمطالعہ کرنے کا اہل ہے۔ شہری لوگوں کے پاس مختلف قسم کے روزگار کے مواقع ہوتے ہیں۔ وہ مناسب کام تلاش کرتے ہیں جو ان کی اہلیتوں اور مہارتوں کے لحاظ سے موزوں ہوں۔ دیہی علاقوں میں لوگ گھر پر نہیں ٹھہر سکتے کیونکہ ان کی معاشی حالت ایسی نہیں ہوتی کہ وہ ایسا کرسکیں۔

PIC_2انھیں حل کریں

  •  روزگارکا کوئی مطالعہ کامگار-آبادی کے تناسب کے جائزے کے ساتھ شروع ہونا چاہئے۔ کیوں؟
  •  کچھ طبقوںمیں آپ نے غور کیا ہوگا کہ اگرچہ مرد بڑی آمدنی نہیں کماتے پھر بھی وہ عورتوں کو کام پر نہیں بھیجتے۔ کیوں؟

عورتوں کے مقابلے زیادہ مرد کام کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ شہری علاقوں میں یہ شرح بہت زیادہ ہے: ہر 100شہری عورتوں میں صرف تقریبا 14ہی بعض معاشی سرگرمیوں میں مشغول ہوتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں ہر100دیہی عورتوںمیں تقریبا26روزگار بازار میں شریک ہوتی ہیں۔ بالعموم عورتیں اور خاص طور پر شہری عورتیں کیوں کام نہیں کررہی ہیں؟ عام طور پر پایا جاتا ہے کہ جہاں مرد اونچی آمدنی کماتے ہیں وہاں خاندان والے ملازمت کرنے کے لئے عورتوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔
جیسے کہ  ذکرکیا جاچکا ہے اس موضوع پر بات کریں، گھروں کی بہت سی سرگرمیاں جن میں عورتیں مشغول ہوتی ہیں، انھیں پیداواری کام کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ کام کی اس محدود تعریف کا مطلب ہے کہ  عورتوں کے کام کو مانا نہیں جاتا ہے اور اس لئے ملک میں کام کرنے والی خواتین کی تعداد کاکم تخمینہ لگایا جاتا ہے۔ ان عورتوں کے بارے میں سوچیئے جو گھر اور خاندان کے کھیتوں میں بہت سی سرگرمیوں میں سرگرم طورپر مصروف ہیں اور جنھیں ایسے کاموں کے لیے کوئی پیسہ بھی نہیں  ملتا۔ چونکہ وہ یقینی طور پر گھر اور کھیتوں کی دیکھ بھال میں حصہ لیتی ہیں تواس صورت میں کیا آپ سوچتے ہیں کہ ان کی تعداد کو خواتین ورکرس کی تعداد میں شامل کیا جانا چاہیے؟

7.4  خود روزگار اوراجرت پر کام کرنے والے کامگار

کامگار-آبادی کا تناسب سماج میں کامگاروں کی حیثیت یا کام کرنے کے حالات کے بارے میں کچھ معلومات مہیا کرتا ہے؟ ان کی حیثیت کو جاننیسے کہ کون ساتھی کس کاروبار ی ادارے میں رکھاگیا ہے، ملک میں روزگار کے معیار کا ایک پہلو جاننا ممکن ہوسکتا ہے اس میں  کام کرنے والوں کی اپنے کام سے وابستگی اور انٹرپرائز میں اور دیگر ساتھی کامگاروں پر ان کے اختیار کے بارے میں جاننا بھی ممکن ہوتاہے۔
PIC_49
شکل7.2.    اتفاقی کام کی شکل میں اینٹیں بنانے کا کام

آئیے تعمیراتی صنعت سے تین قسم کے لوگوں کا معاملہ لیجیے۔ سیمنٹ کی دوکان کا مالک، ایک تعمیراتی مزدور اور تعمیراتی کمپنی کا انجینئر۔ چونکہ ان میں سے ہر ایک کی حیثیت ایک دوسرے سے مختلف ہے اس لیے انھیں مختلف نام دیا جاتا ہے۔ورکرس جو اپنی روزی کمانے کے لیے کسی کاروباری ادارے کے مالک ہوتے ہیں اور اسے خود چلاتے ہیں انھیں خود روزگار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس طرح سیمنٹ کی دوکان کا مالک خود روزگارہے۔ ہندوستان میں  افرادی قوت کا تقریباً نصف حصہ اسی زمرے سے تعلق رکھتی ہے تعمیراتی ورکرس کوجزوقتی اجرتی مزدور کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ان کا حصہ ہندوستان کی ورک فورس کا34 فی صدہے۔ ایسے مزدور اتفاقی یا عارضی طور پر دوسروں کے کھیتوں میں کام کرتے ہیں اور کام کے بدلے معاوضہ حاصل کرتے ہیں۔ تعمیراتی کمپنی میں کام کرنے والے سول انجینئر کی طرح کے کامگار ہندوستان کی ورک فورس کا تقریبا 16فی صد ہیں۔ جب کوئی ورکر کسی شخص یا کسی کاروباری ادارے کے یہاں ملازم ہوجاتاہے اور اسے باضابطہ بنیاد پراجرت بھی ادا کی جاتی ہے تب ایسے کامگاروں کوباضابطہ تنخواہ یافتہ ملازمین کہا جاتا ہے۔

چارٹ  7.1:   جنس کے لحاظ سے روزگار کی تقسیم

خواتین کارکن ۔مرد کارکن،   باضابطہ تنخواہ یافتہ  ۔ خود روزگار یافتہ، اتفاقیہ اجرتی ملازمین
PIC_50

چارٹ 7.1پر نظر ڈالیں توآپ غور کریں گے کہ خود روزگاری مردوں اور عورتوں دونوں کیلیے ذریعہ معاش کا ایک بڑا وسیلہ ہے کیونکہ اس زمرے کے تحت دونوں ڈائیگراموں میں ورک فورس کے50فی صد سے زیادہ لوگ آتے ہیں۔ اتفاقی اجرتی کام مردوں اور عورتوں کے لیے دوسرا بڑا وسیلہ ہے لیکن عورتیں اتفاقی اجرتی کام میں زیادہ (37فی صد) لگی ہوتی ہیں۔ جہاں تک باضابطہ تنخواہ یافتہ روزگار کی بات ہے، اس میں مرد بہت زیادہ تناسب میں پائے جاتے ہیں۔ وہ 23فی صد کی تشکیل کرتے ہیں جبکہ عورتیں صرف 21 فی صد ہیں۔  اس کی مردوں اور عورتوں کے درمیان تناسب کا فرق بہت کم ہے۔
جب ہم چارٹ7.2میں دیہی اور شہری علاقوں میں ورک فورس کی تقسیم کا موازنہ کرتے ہیں توآپ دیکھیں گے کہ خود روزگار اور اتفاقی اجرتی مزدور شہری علاقوں کے مقابلے دیہی علاقوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔شہری علاقوں میں خود روزگار اور باضابطہ اجرت یاتنخواہ یافتہ کام زیادہ ہیں۔ دیہی علاقوں میں خود روزگاراور باضابطہ اجرتی کام زیادہ ہیں۔ دیہی علاقوں میں چونکہ اکثریت کاشتکاری پر انحصار کرتی ہے، زمین کے ان کے اپنے پلاٹ ہوتے ہیں اور وہ آزادانہ طور پر کاشتکاری کرتے ہیں، لہٰذاخود روزگارلوگوں کا حصہ زیادہ ہے۔
شہری علاقوں میں کام کی نوعیت مختلف ہے۔ ظاہر ہے ہر شخص فیکٹریاں، دوکانیں اور مختلف قسم کے دفتر نہیں چلاسکتا۔مزید برآں شہری علاقوں میں کاروباری اداروں کو باضابطہ بنیاد پر کامگاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔


چارٹ. 7.2  علاقے کے اعتبار سے روزگار کی تقسیم

دہی کارکن ، شہری کارکن ، باضابطہ تنخواہ یافتہ ، اتفاقی اجرتی ملازمین ، خود روزگار یافتہ
PIC_51


PIC_2انھیں حل کریں

  •    عام طور پرہم سوچتے ہیں  کہ صرف وہ لوگ جو باضابطہ طور پر یا اتفاقی طور پر تنخواہ یا اجرت والے کام کررہے ہیں جیسے زرعی مزدور، فیکٹری ورکرس، جو بینکوںاور دیگر دفتروں میں اسسٹنٹ، کلرک کے طور پر کام کرنے والے کامگار ہیں۔ درج بالا بحث سے آپ سمجھ چکے ہوں گے کہ خود روزگار لوگ جیسے گلی گلی سبزی بیچنے والے، پیشہ ور لوگ جیسے وکیل، ڈاکٹر اور انجینئر بھی کامگار ہیں۔ ذیل میں خود روزگار یافتہ، باضابطہ تنخواہ یافتہ، اور اتفاقی اجرتی مزدوروں کے سامنے علی الترتیب(a)،(b)اور (c)تحریر کریں۔
1   کسی سیلون کا مالک
2   چاول کے مل میں ور کر جسے یومیہ بنیاد پر اجرت دی جاتی ہے لیکن باقاعدہ روزگار یافتہ ہوتا ہے
3     اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں  خزانچی یاکیشیر
4    یومیہ اجرت پر ریاستی حکومت کے دفتر میں ٹائیپسٹ کے طورپر کام کرنے والا جسے ادائیگی ماہانہ کی جاتی ہے
5    ایک ہینڈلوم بنکر
6   تھوک سبزی کی دوکان میں لدائی کرنے والا مزدور۔
7   ٹھنڈے مشروب کی دوکان کا مالک جو پیپسی، کوکا کولا اور میرنڈا فروخت کرتا ہے۔
8     پرائیویٹ اسپتال میں نرس جو ماہانہ تنخواہ حاصل کرتی ہے اور پچھلے5  سالوں سے باضابطہ طورپر کام کرتی آرہی ہے۔
  •     ماہرین معاشیات بتاتے ہیں  کہ اتفاقی اجرتی مزدور ان تینوں زمروں میں زیادہ پریشان حال ہیں۔ کیا آپ ان ورکروں کے بارے میں پتہ کر سکتے ہیں کہ یہ ورکرس کون ہیں اور عام طور پر کہاں کام کرتے ہیں اور کیوں؟
  •    کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ خود روز گار لوگ اتفاقی اجرتی مزدوری یا باقاعدہ تنخواہ یافتہ ملازمین سے زیادہ کماتے ہیں، روزگار کے معیار کے کچھ دیگر اشار یوں کی شناخت کیجیے۔

 7.5  فرموں، فیکٹریوں اور دفتروں میں روزگار

کسی ملک کی معاشی ترقی کے دوران مزدور زراعت اور دیگر متعلقہ سرگرمیوں سے صنعت اور خدمات کی طرف منتقل ہونے لگتے ہیں۔ اس عمل میں ورکرس دیہی علاقے سے شہری علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ بالآخر، بہت بعد کے مرحلے میں صنعتی سیکٹر کل روزگار میں اپنا حصہ کھونا شروع کرتا ہے کیونکہ خدماتی سیکٹر ایک تیز ترین پھیلاؤ کے دور میں داخل ہوتا ہے۔ اس منتقلی کو صنعت کے ذریعہ ورکرس کی تقسیم پر نظر ڈالنے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ عام طور پر ہم تمام معاشی سرگرمیوں کو آٹھ مختلف صنعتی شاخوں میں تقسیم کرتے ہیں، یہ ہیں۔(i) زراعت (ii) کان کنی اور پتھر کی  کھدائی(iii)صنعتکاری (iv)بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی(v)تعمیرات(vi) تجارت (vii)نقل و حمل اور اسٹوریج (viii)اورخدمات آسانی کی خاطر ان شاخوں میں مشغول سبھی مزدوروں کو تین بڑے سیکٹروں میں یکجاکیا جا سکتا ہے۔یعنی (a)بنیادی سیکٹر جس میں(i)اور (ii)شامل ہوتے ہیں۔(b)ثانوی سیکٹروں جس میں(iii)، (iv)اور (v)شامل ہوتے ہیں اور (C) خدماتی سیکٹر جس میں (vi) ،(vii)اور (viii)شامل کیا جا سکتا ہے۔ پچھلے صفحہ پر دیاگیا جدول7.2 سال 12-2011کے دوران مختلف صنعتوں میں کام کرنے والے افراد کی تقسیم دکھاتا ہے۔
PIC_52
شکل  7.3کپڑوں کے ورکرس : فیکٹری میں عورتوں کے لیے ابھرتے روزگار

جدول 7.2

صنعت کے ذریعہ ورک فورس کی تقسیم 18-2017 (فی صد میں)


کل جنس رہائش کی جگہ صنعتی زمرہ
عورت مرد شہری دہی
44-6
24-4
31-0
57-2
17-7
25-2
40-7
26-4
32-8
59-8
20-4
19-8
ابتدئی سیکٹر
ثانوی سیکٹر
ثلاثی-خدماتی سیکٹر


اسے حل کریں

  •      سبھی اخباروں میں ملازمتوں کے مواقع کے لئیایک الگ حصہ ہوتا ہے۔ کچھ اخبار روزانہ یا ہر ہفتے ایک پورا ضمیمہ نکالتے ہیں جیسے ’’دی ہندو‘‘ میں Opportunities اور ٹائمز آف انڈیا میں  Ascentبہت سی کمپنیاں مختلف عہدوں کے لئے خالی جگہوں کی تشہیر کرتی ہیں، ان سیکشنوں کو کاٹیے۔ ایک جدول تیار کیجئے جو چار کالموں پر مشتمل ہو۔ آیا کمپنی پرائیویٹ ہے یا پبلک، عہدوں کا نام، عہدے کی تعداد، سیکٹر ابتدائی، ثانوی یا ثلاثی اور مطلوبہ اہلیتیں۔ اخباروں میں تشہیر کی گئی ملازمتوں کے بارے میں اس جدول کا کلاس روم میں تجزیہ کیجئے۔

پرائمری یا ابتدائی سیکٹر ہندستان میں کامگاروں کی اکثریت کے لئے روزگار کا ایک اہم وسیلہ ہے۔ ثانوی سیکٹرافرادی قوت کے تقریباً 24 فی صد کوروزگار فراہم کرتا ہے۔ تقریباً 31فی صد ورکرس خدماتی سیکٹر میں ہیں۔ جدول 7.2 یہ بھی دکھاتا ہے کہ دیہی ہندوستان میں کامگار قوت کے 60 فی صد سے زیادہ لوگ زراعت،فارسٹری اور مچھلی پالن پر انحصار کرتے ہیں، دیہی ورکروں کا تقریباً20  فی صد مصنوعاتی صنعتوں، تعمیرات اور دیگر شاخوں میں لگا ہوا ہے۔ خدماتی سیکٹر دیہی ورکروں کے صرف تقریباً 20 فی صد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ شہری علاقوں میں زراعت اورکان کنی ایک بڑا وسیلہ نہیں ہے جہاں لوگ زیادہ تر خدماتی سیکٹر میں لگے ہوتے ہیں۔ شہری ورکروں کا تقریباً 60 فی صد خدماتی سیکٹر میں ہے۔ ثانوی سیکٹر شہری ورک فورس کا تقریباً ایک تہائی روزگار فراہم کرتا ہے۔
اگرچہ مرد اور خواتین ورکرس دونوں ابتدائی سیکٹر میں مرتکز ہیں لیکن خواتین ورکرس کا ارتکاز یہاں بہت زیادہ ہے۔ خواتین ورک فورس کا 63 فی صد  حصہ ابتدائی سیکٹر میں لگا ہوا ہے جبکہ مرد ورکرس کا نصف سے کم حصہ اس سیکٹر میں کام کرتا ہے۔ مرد ثانوی اور خدماتی سیکٹر دونوں میں مواقع حاصل کرتے ہیں۔

7.6   روزگار کی نمو اور بدلتی ساخت

باب 2 اور3 میں آپ نے منصوبہ بندی حکمت عملیوں کے ضمن میں تفصیلی مطالعہ کیا ہوگا۔ یہاں ہم دو ترقیاتی اشاریوں روزگار کی نمو اور GDP پر نظر ڈالیں گے۔ منصوبہ بند ترقی کے 70 سالوں کا ہدف قومی پیداوار اورر وز گار میں اضافہ کے ذریعہ معیشت کی توسیع رہاہے۔
 1950-2010 کی مدت کے دوران، ہندوستان کی مجموعی گھر یلو پیداوار (GDP) مثبت انداز سے بڑھی ہے اور روز گار نمو کے مقابلے زیادہ تھا۔ تاہم GDP کی نمو میں ہمیشہ اتار چڑھاؤ رہا۔ اسی مدت کے دوران روزگار تقریباً 2 فی صد کی مستحکم شرح کے  ساتھ بڑھا ہے۔ 
چارٹ 7.3 ، 1990 کے عشرے کے آخر میں ایک دیگر حوصلہ شکن واقعہ کا اظہار بھی کرتا ہے۔ روزگارکی نموکم ہونی شروع ہوگئی اور نمو اس سطح پر پہنچ گئی جس پر وہ ہندوستان میں منصوبہ بندی کے ابتدائی مراحل میں تھی۔ ان سالوں کے دوران ہم GDP اور روزگار کے نمو کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج یا فرق دیکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستانی معیشت میں بغیر روزگار کی تخلیق کے ہم زیادہ اشیاء اور خدمات تیار کرنے کے اہل ہوئے ہیں۔ دانشور اس  مظہر کو روزگار کے بغیر نمو قرار دیتے ہیں۔
ابھی تک ہم نے دیکھا کہ روزگار GDP کے مقابلے کس طرح بڑھا ہے۔ اب یہ جاننا ضروری ہے کہ روزگار کا انداز نمو اور GDP کسی طرح افرادی قوت کے مختلف پہلوؤں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس سے ہم یہ سمجھنے کے اہل ہونگے کہ ہمارے ملک میں روزگار کی کون سی قسم تخلیق کی جارہی  ہے۔
آیئے ہم ان دو اشاریوں پر نظر ڈالیں جو ہم پچھلے سیکشنوں  میں  مختلف صنعتوں میں لوگوں کے روزگار اور ان کی حیثیت میں دیکھ چکے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہندوستان ایک زرعی ملک ہے، آبادی کا ایک بڑا طبقہ دیہی علاقوں میں رہتا ہے اور خاص ذریعہ معاش کے طور پر زراعت پر منحصر ہوتا ہے۔ متعدد ملکوں بشمول ہندوستان ترقیاتی حکمت عملیوں کا مقصد زراعت پر لوگوں کے انحصار کے تناسب کو گھٹا نا ہے۔
صنعتی سیکڑوں کے ذریعہ افرادی قوت کی تقسیم بڑی حد تک کاشتکار ی کے کام سے غیر کا شتکاری کام کی طرف منتقلی دکھاتی ہے (دیکھیں  جدول7.3 ) 73-1972 میں تقریباً 74 فی صد لوگ ابتدائی سیکٹر میں لگے ہوئے تھے اور 12-2011 میں یہ تناسب گھٹ کر 50 فی صد ہوگیا۔ ثانوی خدماتی سیکٹر ہندوستانی کامگاروں کا امید افزا مستقبل ظاہر کرتا ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ان سیکٹروں کے حصے 11 تا24 فی صد اور15 تا 27 فی صد علی الترتیب بڑھے ہیں۔

چارٹ    : 7.3 روزگار کا نمو اور مجموعی گھریلو پیداوار1951-2012(فی صد)*

4
روزگار             مجموعی گھریلو پیداوار
یہ وہ سال ہے جس کے لیے 12-2010 تک کے موازناتی اور مستند اعدادو شمار


جدول 7.3

 روز گار کے طرز میں رجحانات(حلقہ وار اور حیثیت کے اعتبار سے) ، 2012-1972 ( فی صد میں)


20147-18 2011-12 1983 73-1927 مد

حلقہ

44-6
24-4
31-0
48-9
24-3
26-8
64
16
20
68-6
11-5
16-9
74-3
10-9
14-8
ابتدائی
ثانوی
خدمات
100-0 100-0 100-0 100-0 100-0 کل

حیثیت

52-2
22-8
25-0
52-0
18-0
30-0
54-6
13-6
31-8
57-3
13-8
28-9
61-4
15-4
23-2
خود روزگار یافتہ
باضابطہ تنخواہ یافتہ ملازمین
اتفاقیہ اجرتی مزدور
100-0 100-0 100-0 100-0 100-0 کل
مختلف حیثیتوں میں ورک فورس کی تقسیم نشان دہی کرتی ہے کہ پچھلے پانچ دہوں (2018-1972کے دوران لوگ خود روزگار اور باضابطہ تنخواہ یافتہ روزگارسے اتفاقی اجرتی کام کی طرف منتقل ہوئے ہیں۔ پھر بھی، خود روزگار اب بھی روزگار فراہم کرنے کا بڑا ذریعہ ہے۔جدول 7.3 کو دیکھیے 2012-18 کے دوران ثانوی سیکٹر میں پائیداری ہے اور خود روزگار میں درمیانی اضافہ کیا ظاہر کرتا ہے۔ کلاس روم میں گفتگو کیجیے۔ دانشور خود روزگار ی اور باضابطہ تنخواہ یا فتہ روزگار سے جزوقتی اجرتی کام94-1972کے دوران کی طرف منتقلی کے عمل کو ورک فورس کو جزوقتی بنانا کہتے ہیں۔ اس سے ورکرس کے لئے انتہائی غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ کیسے؟ پچھلے سیکشن میں احمد آباد کا کیس مطالعہ دیکھیں۔آپ نے مستقل تنخواہ پانے والے ملازموں کے حصے میں معمولی اضافے پر غورکیاہوگا ۔آپ اس تصور کی وضاحت کس طرح کریں گے؟

PIC_2 انہیں حل کریں

  •      کیا آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان جیسے ملک کے لئے 2  فی صد پر روزگار نمو کو برقرار رکھنا آسان بات نہیں ہے؟ کیوں؟
  •   اگر معیشت میں اضافی روزگار تشکیل نہیں پاتا ہے اگر چہ ہم معیشت میں اشیاء اور خدمات تیار کرنے کے اہل ہیں تب اس صورت میں کیا واقع ہوگا؟ بغیر روزگار کے نمو کس طرح واقع ہو سکے گی؟
  •   ماہرین معاشیات کہتے ہیں کہ جزوقتی روزگار کو بڑھانے سے لوگوں کی کمائی میں اضافہ ہوتا ہے، تب اس طرح کے مظہر کی پذیرائی کی جانی چاہیے۔ مان لیجئے ایک حاشیائی کسان کل وقتی زرعی مزدور بن جاتا ہے۔ تب آپ کے خیال میں وہ تب بھی خوش ہوگا جب  وہ اپنے یومیہ اجرتی کام میں زیادہ کماتا ہے یا کسی دوا سازی کی صنعت کا مستقل اور باضابطہ کارکن ہوکر خوش ہوگا اگروہ یومیہ اجرتی مزدور بن جاتا ہے اس صورت میں اس کی مجموعی کمائی بڑھ جاتی ہے؟ کلاس روم میں بحث کیجیے۔

7.7   ہندوستانی ورک فورس کی غیررسمیت کاری

پچھلے سیکشن میں ہم نے پا یاہے کہ جزوقتی مزدوروں کا تناسب بڑھ رہا ہے۔ ہندوستان میں  آزادی کے وقت سے ترقیاتی منصوبہ بندی کے مقاصد میں سے ایک، اپنے لوگوں کو بہتر ذریعہ معاش فراہم کرنا رہا ہے۔ یہ تصور کیا گیا ہے کہ صنعت کاری کی حکمت عملی بہتر معیار زندگی کے ساتھ زراعت سے زائد ورکرس کو صنعت کی طرف  منتقل کرنا ہے جیساکہ ترقی یافتہ ملکوں میں ہوتا ہے۔ ہم نے پچھلے سیکشن میں دیکھا کہ منصوبہ بند ترقی کے 70 سالوں کے بعد بھی ہندوستانی افرادی قوت کانصف سے زیادہ حصہ ذریعہ معاش کے ایک بڑے وسیلے کے طور پر کا شتکاری پر انحصار کرتا ہے۔
ماہرین معاشیات دلیل دیتے ہیں کہ سالوں کے دوران روزگار کا معیار ابتر ہوا ہے 10-20سالوں سے زیادہ کام کرنے کے بعد بعض کامگار زچگی سے متعلق فوائد، پراویڈنٹ فنڈ، سبکدوشی صلہ(gratuity)اور پنشن کیوں حاصل نہیں  کر پاتے؟ پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والا فرد سرکاری سیکٹر میں اسی کے کام کو کرنے والے دیگر فرد کے مقابلے کم تر تنخواہ پاتا ہے۔

باکس 7.1 :  رسمی سیکٹر روزگار 

رسمی سیکٹر میں روزگار سے متعلق معلومات ملک کے مختلف حصوں میں واقع روزگار دفتروں کے ذریعے مرکزی وزارت میں جمع کی جاتی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان میں رسمی سیکٹر میں سب سے بڑا آجرکون ہے؟ 2012 میں تقریباً30 ملین رسمی سیکٹر ورکروں میں تقریباً 18 ملین ورکر س سرکاری سیکٹر میں ملازمت کر رہے تھے۔ یہاں بھی مردوں کی اکثریت ہے کیونکہ عورتیں رسمی سیکٹر ورک فورس کا محض چھوٹا سا حصہ ہیں۔ ماہرین معاشیات بتاتے ہیں کہ اصلاحی عمل جو 1990 کے دہے کی ابتدا میں شرو ع کیے گیے تھے ان کی وجہ  رسمی سیکٹر میں  کام کررہے کامگاروں کی تعداد میں کمی پیدا ہوئی ہے آپ کاکیا خیال ہے؟ 


آپ دیکھ سکتے ہیں  کہ ہندوستانی افرادی قوت کا ایک چھوٹا طبقہ با ضابطہ آمدنی حاصل کررہا ہے۔ حکومت اپنے لیبر قوانین کے ذریعہ ان کا مختلف ذرائع سے تحفظ کر رہی ہے۔ ورک فور س کا یہ طبقہ ٹریڈ یونینوں کی شکل میں آجروں سے بہتر اجرتوں اور دیگر سماجی تحفظ کے اقدامات کے لیے معاملات طے کرتا ہے۔ یہ کون لوگ ہیں؟ یہ جاننے کے لئے ہم افرادی قوت کو دو زمروں میں درجہ بند کرتے ہیں:ورکرس جو رسمی سیکٹر میں ہیں  اور وہ جو غیر رسمی سیکٹر میں ہیں۔ ان کو  منظم اور غیر منظم سیکٹروں کے طورپر بھی منسوب کیا جاتا ہے۔ سبھی پبلک سیکٹر ادارے اور نجی سیکٹر ادارے جو 10یا اس سے زیادہ بھرتی کامگاروں کو ملازمت پر رکھتے ہیں انہیں رسمی سیکٹر کی تنصیبات کہاجاتا ہے اور جو اس طرح کے اداروں میں کام کرتے ہیں انہیں رسمی سیکٹر ورکرس کہا جاتا ہے۔ دیگر تمام ادارے اوریہاں کام کرنے والے لوگ غیر رسمی سیکٹرکی تشکیل کرتے ہیں۔ اس طرح غیر رسمی سیکٹر میں لاکھوں کسان، زرعی مزدور چھوٹے کا روباری اداروں کے مالکان اور ان اداروں میں کام کرنے والے لوگ اور خو د روزگار یافتہ جن کے یہاں کوئی اجرتی ورکر نہیں ہوتا، اس میں شامل ہوتے ہیں۔آپ غور کیجیے کہ یہ کامگاروں /ورکروں کی درجہ بندی کا ایک طریقہ ہے۔ درجہ بندی کئی اور طریقے ہوسکتے ہیں۔ کلاس روم میں ممکنہ طریقوں کے بارے میں گفتگو کیجیے
PIC_56
شکل 7.4سڑک کے کنارے خردہ فروش غیر رسمی سیکٹر میں روزگار کی بڑھتی قسم


وہ لوگ جو رسمی سیکٹر میں کام کر رہے ہیں وہ سماجی تحفظ سے متعلق فوائد سے استفادہ کرتے ہیں۔ وہ غیر رسمی سیکٹر میں کام کرنے والوں کے مقابلے زیادہ کماتے ہیں۔ ترقیاتی منصوبہ بندی میں تصور کیا گیا ہے کہ جوں جوں معیشت کی افزائش ہوتی  ہے، زیادہ سے زیادہ ورکر رسمی سیکٹر کے ورکرس بن سکیں گے اور غیر رسمی سیکٹر میں مشغول ورکروں کا تناسب گھٹتا جائے گا۔ لیکن ہندوستان میں کیا ہوا ہے ؟ درج ذیل چارٹ پر نظر ڈالیں جو رسمی اور غیر رسمی سیکٹر وں میں ورک فورس کی تقسیم ظاہر کرتا ہے۔

 چارٹ 7.4  رسمی اور غیر رسمی سیکٹر میں ورکرس2011
ورکرس کی تعداد (ملین میں)
غیر رسمی       رسمی
مرد   عورت
PIC_57
سیکشن . 7.2 میں ہم نے پـڑھا کہ ملک میں تقریباً 471 ملین ورکر س ہیں۔ رسمی سیکٹر میں تقریباً 47ملین ورکر س ہیں۔ کیا آپ ملک میں رسمی سیکٹر وں میں روزگار یافتہ لوگوں کے فی صد کا تخمینہ لگا سکتے ہیں ؟ صرف 6 فی صد (37x471x100 ) اس طرح باقی 90 فی صد غیر رسمی سیکٹر میں ہیں۔12-2011 میں، جس برس کے لیے جنس پر مبنی رسمی اور غیر رسمی سیکٹروں میں روزگار کا ڈیٹا موجود ہے۔ (گراف 7.4) ۔اس کے مطابق رسمی سیکٹر میں 20 فی صد اور غیر رسمی سیکٹر میں 30 فی صد خواتین ہیں۔
 

باکس 7.2:   احمدآباد میں عدم ضابطگی ہونا 

احمدآباد ایک خوشحال شہر ہے یہاں 60 ٹیکسٹائیل ملوں کی پیداوار پر مبنی دولت ہے ان ملوں میں 150.000 ورکر س کی لیبر فورس ہے یہاں ان ورکرس نے سوسال کے عرصے کے دوران آمدنی کا ایک خاص درجہ حاصل کر لیا تھا۔ ان کا جاب رواں اجر توں کے ساتھ محفوظ تھا۔ان کی صحت اور بڑھاپے کے تحفظ کے لئے سماجی تحفظ اسکیموں کے ذریعہ احاطہ کیا جاتا تھا۔ ان کی ایک مضبوط ٹریڈ یونین ہوا کرتی تھی جونہ صرف ان کی نمائندگی تنازعے کے دوران کرتی تھی بلکہ ورکرس اور ان کی فیملیوں کی فلاح و بہبود کے لئے سرگرمیاں انجام دیتی تھی 1980 کے دہے کی ابتداء میں پورے ملک میں ٹیکسٹائل کی ملیں بند ہونی شروع ہو گئیں کچھ مقامات جیسے ممبئی میں ملیں تیزی سے بند ہوئیں۔احمداباد میں بند ہونے کا عمل طویل ہوا اس میں 10سال کی مدت لگ گئی۔اس مدت کے دوران تقریباً  80,000 مستقل ورکر س 50,000 غیر مستقل ورکر س اپنے جاب سے محروم ہوچکے تھے اور وہ غیر رسمی سیکٹر کی طرف جانے پر مجبور ہوئے۔ شہر کو ایک معاشی کسادبازاری (Economics Recession)کا اور عوامی انتشار کا خاص طور پر فرقہ وارانہ فسادات کا سامنا کرنا پڑا۔ ورکرس کا پورا طبقہ مڈل کلاس سے غیر رسمی سیکٹر میں غربت کا شکار ہوگئے۔ بڑے پیمانے پر شراب کی لت پڑی اور خود کشی واقع ہوئیں۔ بچے اسکولوں سے نکال لیے گئے اور کام پر بھیج دیئے گئے۔
ماخذ :    رینانا جھاب والا،  رتن ایم سدرشن اور جیمول انی (اشاعت، مرکز مرحلے پر غیر رسم معیشت۔ روزگار کی نئی ساخت، راج پبلی کیشن، نئی دہلی 2003صفحہ 265
PIC_58
ایک گھر میں اقتدار کے توازن میں تبدیلی: ایک بے روزگار مل ورکر لہسن چھیل رہا ہے جب کہ اس کی بیوی کو بیڑی بنانے کا نیا کام ملا۔

PIC_2انہیں حل کریں 

ان کے سامنے نشان ) (üلگا ئیں جو کہ غیر رسمی سیکٹر میں ہیں۔ 
  •     ایسے ہوٹل میں کام کرنے والا جس میں سات اجرتی کامگار ہیں اور تین فیملی ورکرس ہیں۔
  •   ایک ایسے اسکول میں ایک پرائیویٹ اسکول ٹیچر جس میں 25 ٹیچر ہیں۔
  •     ایک پولس کا نسٹیبل ۔
  •    سرکاری اسپتال میں نرس ۔
  •   سائیکل رکشہ چلانے والا ۔
  •   کپڑے کی ایسی دوکان کا مالک جس میں  نو کامگار ہیں۔
  •   کسی بس کمپنی کا ڈرائیور جس میں 10  بسیں اور 20 ڈرائیور، کنڈیکٹر اور دیگر ورکرس ہیں۔
  •   سول انجینئر جوایسی تعمیرات کمپنی میں کام کررہاہے جس میں 10  ورکرس ہیں ۔
  •   کمپیوٹر آپریٹر جو کہ ریاستی حکومت کے دفتر میں کام کررہاہے اور عارضی بنیادپر ہے ۔
  •   بجلی دفتر میں کلرک 

1970 کے عشرے کے آخرسے متعدد ترقی پذیر ممالک بشمول ہندوستان نے غیر رسمی سیکٹر میں کا روباری اداروں اور ورکروں پر توجہ دینے کی شروعات کی تھی کیونکہ غیر رسمی سیکٹر میں روزگار نہیں بڑھ رہاہے۔غیر رسمی سیکٹرمیں ورکر س اور کاروباری ادارے باضابطہ آمدنی نہیں حاصل کرتے۔ انھیں حکومت سے کوئی تحفظ اور ضابطہ بھی حاصل نہیں ہے۔ ورکر س کو بغیر کسی معاوضے کے برطرف کر دیا جاتا ہے۔ غیر رسمی سیکٹر کے کاروباری اداروں میں جو ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے وہ پرانی پڑ چکی ہے یہ کوئی اکاونٹ بھی نہیں رکھتے۔ اس سیکٹر کے ورکر س جھونپڑیوں اور سرکاری یا خالی زمینوں پر ناجائز قبضہ جما کر رہتے ہیں۔ بعد میں بین الاقوامی مزدور تنظیم (ILO ) کی کوششوں کے سبب حکومت ہند نے غیر رسمی سیکٹر کے کا روباری اداروں کی جدید کاری اور غیر رسمی ورکرس کے لئے سماجی حفاظتی اقدامات کا اہتمام کیا۔

 7.8 بے روزگاری 

آپ نے لوگوں  کواخباروںمیں نوکریاں تلاش کرتے دیکھا ہوگا۔ کچھ دوستوں اور رشتہ داروں کے ذریعہ نوکری تلاش کرتے ہیں۔ بہت سے شہروں میں آپ لوگوں کو کچھ منتخبہ علاقوں میں کھڑے دیکھ سکتے ہیں جو ان لوگو ں  کو تلاش کرتے ہیں جو اس ایک دن کے لیے انھیںکا م پرلگاسکتے ہیں۔ کچھ لوگ فیکٹریوں اور دفاتر تک جاتے ہیں اوریہ معلوم کرنے کے لئے اپنے بایو ڈیٹا دیتے ہیں کہ آیا ان کی فیکٹری یا دفتر میں کوئی جگہ خالی ہے۔ دیہی علاقوںمیں بہت سے لوگ کام کی تلاش میں  باہر نہیں جاتے اور جب  کام نہیں ہوتا تب گھر پر رہتے ہیں کچھ روزگار دفاتر جاتے ہیں اور ان کے ذریعہ اعلان شدہ خالی جگہوں کے لئے اپنے نام لکھواتے ہیں نیشنل اسٹیٹکل آفس(جسے پہلے نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن کے نام سے جانا با تا تھا) بے روزگاری کی توضیح ایسی صورتحال کے طور پر کرتی ہے جس میں وہ سبھی جو کام کی کمی کے سبب کام نہیں کررہے ہیں لیکن روزگار دفاتر، دلالوں، دوستوں یا رشتہ داروں کے ذریعے کام تلاش کرتے ہیں یا متوقع آجروں کو درخواستیں دیتے ہیں یا کام اور معاوضے کی مروجہ  شرائط کے تحت کام کے لیے اپنی خواہش یا دستیابی کا اظہار کرتے ہیں۔کئی قسم کے  طریقے ہیں جن کے ذریعہ بے روزگار فرد کی شناخت ہوتی ہے۔ ماہرین معاشیات بے روزگار فرد کی تعریف اس فرد کے طور پر کرتے ہیں جو آدھے دن میں بھی ایک گھنٹے کا روزگار حاصل کرسکتا۔
PIC_59
شکل. 7.5   بے روزگار مِل مزدورجزوقتی روزگار کے لئے انتظار کرتے ہوئے۔

بے روزگاری پر ڈیٹا کے تین ماخذ دستیاب ہیں: ہندوستان کی مردم شماری کی رپورٹیں، نیشنل اسٹیٹکل آفس کی روزگار اور بے روزگاری کی صورتحال پر رپورٹیں، روزگار دفاتر کے ساتھ ڈائریکٹریٹ جنرل آف ایمپلائمنٹ اینڈ ٹریننگ ڈیٹا آف رجسٹریشن۔ اگرچہ یہ  روزگار کے مختلف تخمینے فراہم کرتے ہیں۔ ہمیں بے روزگارلوگوںاور ملک میں موجود مختلف قسم کی بے روزگاری سے متعلق نمایاں باتیں فراہم کرتے ہیں۔
PIC_61
شکل 7.6  گنا کاٹنے والے، کاشتکاری کاموں میں چھپی بے روزگاری ایک عام بات ہے۔ 

کیا ہماری معیشت میں بے روز گاری کی مختلف قسمیں ہیں؟ اس سیکشن کے پہلے گراف میں بیان کی گئی صورتحال کو کھلی بے روزگاری کہا جاتا ہے۔ ماہرین معاشیات ہندوستان کے کھیتوں میں پھیلی بے روزگاری کو چھپی یا پوشیدہ بے روزگاری (Disguised employment)کہتے ہیں۔ چھُپی بے روزگاری کیا ہے؟ فرض کیجئے کہ کسی کے پاس چار ایکڑ زمین ہے اور اسے حقیقت میں اپنے ساتھ صرف دو ورکرس کی ضرورت ہے جو سال کے دوران اس کے  کھیت پر خود مختلف کاموں کو انجام دےسکتے ہیں لیکن اگر وہ پانچ لوگوں اور اپنے کنبے کے لوگوں  جیسے اپنی  بیوی اور بچوں کو لگاتا ہے، تو اس صورتحال کو چھپی بے روزگاری کہاجائے گا۔ 1950کے دہے کے آخر میں ایک مطالعہ کا اہتمام کیا گیا جس سے پتہ چلا کہ ہندوستان میں زرعی ورکروں کا تقریبا ایک تہائی حصہ پوشیدہ بے روزگارہے۔
آپ نے غور کیا ہوگا کہ بہت سے لوگ کسی شہری علاقے کی طرف ہجرت کرتے ہیں اور وہاں نوکری کرلیتے ہیں اور کچھ عرصے کے لیے وہیں رکتے ہیں لیکن جیسے ہی بارش کا موسم شروع ہوتا ہے وہ اپنے آبائی گاؤں واپس آجاتے ہیں۔ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟اس لیے کہ زراعت میں کام موسمی ہوتا ہے۔ سال میں بارہ مہینوں کے لیے گاؤں میں روزگار کے مواقع نہیں ہیں۔ جب کھیتوں میں کوئی کام نہیں تب مرد شہری علاقوں میں جاتے ہیں اور کام تلاش کرتے ہیں۔ بے روزگاری کی اس قسم کو موسمی بے روزگاری کے طور پر جانا جاتا ہے۔ 
ہندوستان میں رائج بے روزگاری کی یہ ایک عام شکل ہے۔
حالانکہ ہم نے روزگارکی نمومیں سست روی دیکھی ہے، لیکن کیا آپ نے ایک کافی طویل عرصے تک لوگوں کو بے روزگاررہتے  ہوئے دیکھا ہے؟ ماہرین کہتے ہیں کہ ہندوستان میں لوگ بہت لمبے عرصے تک پوری طرح بے روزگار نہیں رہ سکتے اس کی وجہ ان کے انتہائی خراب معاشی حالات ہیں جو انھیں ایسا کرنے نہیں دیں گے۔ کسی قدرآپ پائیں گے کہ انھیں ایسے کام کو قبول کرنے لیے مجبور ہونا پڑتا ہے جسے کرنے کے لئے کوئی اورتیار نہ ہوگا۔ اور جو کام ناگوار یا گندہ یا غیر صحتمندانہ ماحول میں خطرناک ہی کیوں نہ ہو۔ حکومت نے کم سے کم تحفظ اور اطمینان بخش کام کو یقینی بناتے ہوئے قابل قبول روزگار کی تخلیق کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان کے بارے میں اگلے سیکشن میں بات کی جائیگی۔

 7.9   حکومت اور روزگار کی تخلیق

حال ہی میں حکومت نے پارلیمنٹ میں ایک ایکٹ پاس کیا ہے جسے مہاتماگاندھی قومی دیہی روزگار ضمانت ایکٹ 2005کے طور پر جاناجاتا ہے۔ اس کے تحت0 10 دنوں کی اجرتی روزگار کی ضمانت دیہی گھروں کے ان سبھی بالغ ممبران کے لیے کیا گیا ہے جو رضاکارانہ طور پر غیر ہنرمندانہ جسمانی کام کرنا چاہتے ہیں۔ وہ خاندان جو خط غریبی کے نیچے رہ رہے ہیں ان سب کا احاطہ اسکیم کے تحت کیا جائیگا۔ یہ اسکیم ان بہت سے اقدامات میں سے ایک ہے جو حکومت نے ان لوگوں کے لیے روزگار کی تخلیق کے لیے اٹھائے ہیں جو دیہی علاقوں میں کام کے ضرورتمند ہیں۔ 
PIC_60
شکل 7.7  بند کا تعمیراتی کام جو حکومت کے ذریعہ  راست روزگار کی تخلیق کا ایک ذریعہ ہے۔

آزادی کے وقت سے مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے روزگارکی تخلیق میں یاروزگارکے لیے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار نبھایا ہے۔ ان کی کوششوں کو موٹے طور پر بلاواسطہ اور بالواسطہ دو زمروں میں رکھاجاسکتا ہے پہلے زمرے میں جیسا کہ آپ نے سابقہ سیکشن میں دیکھا ہے، حکومت انتظامی مقاصد کے لیے مختلف محکموں میں لوگوں کو ملازم رکھتی ہے۔ وہ صنعتیں، ہوٹل اور ٹرانسپورٹ کمپنیاں بھی چلاتی ہیں اور لہذا براہ راست  ورکرس کو روزگار فراہم کرتی ہیں۔ جب حکومت کے کاروبای اداروں میں اشیاء اور خدمات کی پیداوار بڑھتی ہے تب پرائیوٹ کاروباری ادارے جو حکومتی کاروباری اداروں کو مال فراہم کرتے ہیں وہ بھی اپنے ماحصل بڑھائیں گے اور معیشت میں روزگار کے مواقع کی تعداد بھی بڑھے گی۔ مثال کے لیے جب حکومت کی کوئی  اسٹیل کمپنی اپنی پیداوار بڑھاتی ہے تب اس کا نتیجہ اس سرکاری کمپنی میں روزگار میں سیدھے اضافے کی شکل میں برآمد ہوگا۔ ساتھ ہی ساتھ نجی کمپنیاں جو حکومت کی اسٹیل کمپنی کو درآمدیئے فراہم کرتی ہیں اور اس سے اسٹیل (فولاد) خریدتی ہیں وہ بھی اپنی پیداوار بڑھائیں گی اور اس طرح روزگار بھی بڑھے گا۔ یہ معیشت میں روزگار کے مواقع کی بالواسطہ تخلیق ہے۔
باب چار میں آپ نے غور کیا ہوگا کہ حکومت کے نافذ کردہ بہت سے پروگرام ،جن کا مقصد انسداد غربت ہوتا ہے، وہ روزگار تخلیق کے ذریعہ بروئے کارلائے جاتے ہیں۔ انھیں روزگارکی  تخلیق کے پروگراموں کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ ان سبھی پروگراموں کا ہدف نہ صرف روزگار فراہم کرنا ہے بلکہ یہ بنیادی صحت، ابتدائی تعلیم، دیہی رہائش، دیہی پینے کا پانی، تغذیہ، لوگوں کی آمدنی اور روزگار تخلیق کرنے والے اثاثوں کی خرید ، اجرتی روزگار کی تخلیق کے ذریعہ کمیونیٹی اثاثوں کی ترقی، گھروں کی تعمیر اور صفائی، گھروں کی تعمیر کے لیے مدد، دیہی سڑکیں تعمیر کرنے اور   بنجر زمینوں کی بہتری کی خدمات بھی فراہم کرتے ہیں۔

7.10   اختتام

ہندوستان میں  افرادی قوت کی ساخت میں تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔ نئے ابھرتے کام اور ملازمتیں زیادہ تر خدمات سیکٹر میں پائے جاتے  ہیں۔ خدماتی سیکٹر کا پھیلاؤ اور اعلیٰ ٹکنالوجی کی آمد کے سبب اب عموماً کارگزار چھوٹے پیمانے کے اور اکثر انفرادی کاروباری اداروں یا ماہرکامگاروں کے لیے بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ دوش بدوش انتہائی مسابقتی صورت حال کا سامنا کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ کام کی آؤٹ سورسنگ (باہر والوں سے کام کا معاہدہ) ایک عام سا عمل بنتا جارہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بڑی فرم اگریہ سمجھتی  ہے کہ اس کے لیے یہ منافع بخش ہے توکچھ خصوصی شعبوں  کو بند کردیتی ہے،(مثال کے لیے قانونی یا کمپیوٹر پروگرامنگ یا صارف خدمات سیکشن، اور بڑی تعداد میں چھوٹے چھوٹے کام بہت چھوٹے کاروباری اداروں یا ماہر افراد کوٹکڑوںمیں سونپ دیتی ہیں، کبھی کبھی یہ دوسرے ملکوں میں واقع ہوتے ہیں  نتیجتاً جدید فیکٹری یا دفتر کا روایتی تصور اس طرح بدل رہا ہے کہ بہت سے لوگوں کے لیے گھر کام کی جگہ بنتا جارہا ہے۔ یہ سبھی تبدیلیاں انفرادی کامگار کے حق میں نہیں ہیں۔ روزگار کی نوعیت کامگاروں  کے لیے سماجی تحفظ کے اقدامات کی محض محدود دستیابی کے ساتھ زیادہ غیر رسمی بن گئی ہے۔ مزید برآں، پچھلے دودہوں میں مجموعی گھریلو پیداوار میں تیز نمو ہوئی ہے لیکن روزگار کے مواقع میں ہمہ وقت اضافے کے بغیراس سے حکومت کو مجبور ہونا پڑا ہے کہ وہ روزگار کے مواقع خاص طور پر دیہی علاقوں میں تخلیق کرنے کے اقدامات کرے۔

PIC_9خلاصہ

  •    سبھی کامگار مختلف معاشی شرگرمیوں میں مشغول ہیں اس بناپر وہ قومی پیداوار میں اشتراک کرتے ہیں۔
  •    ملک میں کل آبادی کا تقریباً 2/5حصہمختلف معاشی سرگرمیوں میں مشغول ہے۔
  • مرد، اور بالخصوص دیہاتی مرد ہندوستان میں افرادی قوت کے ایک بڑے حصے کی تشکیل کرتے ہیں۔
  •   ہندوستان میں ورکرس کی اکثریت خودروزگار ہے۔ اتفاقی اجرتی مزدور اور باضابطہ تنخواہ یافتہ ملازمین مجموعی طور پر ہندوستان کی ورک فورس کے آدھے سے کم کے تناسب میں ہیں۔
  • ہندوستان کی ورک فورس کاتقریباً 3/5زراعت اور دیگر معاون سرگرمیوں پر ذریعہ معاش کے اہم وسائل کے لیئے انحصار کرتا ہے۔ 
  •    حالیہ سالوں میں روز گار کی نمو کی رفتار کم ہوئی ہے۔ 
  • اصلاحات کے بعد ہندوستان خدماتی سیکٹر میں روزگار کے مواقع کا شاہد ہے۔ یہ نئے کام زیادہ تر غیررسمی شعبوں میں پائے جاتے ہیں اورکام کی نوعیت اکثر اتفاقی ہوتی ہے۔
  • حکومت ملک میں رسمی سیکٹر کی سب سے بڑی آجر ہے۔
  •    روزگار حاصل کرنے کے لیے مہارتیں حاصل کرنا اور تربیت پانا اہم ہے۔
  •    چھپی بے روزگاری دیہی علاقوں میں بے روزگاری کی ایک عام شکل ہے۔ 
  •   ہندوستان میں ورک فورس کی ساخت میں تبدیلی واقع ہوئی ہے۔
  •    مختلف اسکیموں اور پالیسیوں کے ذریعہ حکومت راست یا بالواسطہ روزگار کی تخلیق کے اقدامات کرتی ہے۔

PIC_8مشقیں


1     ورکر کون ہے؟
2   کامگار-  آبادی کے تناسب (Ratio)کی تعریف کیجئے۔
 3     کیا درج ذیل کامگار ہیں؟ بھکاری، چور، اسمگلر، جواری اوراگر ہیں توکیوں؟
4      درج ذیل میںمنفرد شخصیت دریافت کیجئے۔ (i)  سیلون کا مالک    (ii)  موچی   (iii)  مدر ڈیری یا آپ کے علافے کے دودھ کو آپریٹو سوسائٹی میں خزانچی   (iv)  ٹیوشن ماسٹر   (v)  ٹرانسپورٹ آپریٹر تعمیراتی مزدور۔
5      نئی ابھرتی ملازمتیں زیادہ ترکس سیکٹر میں پائی جاتی ہیں (خدماتی/مینوفیکچرنگ)
6      چار اُجرتی ملازموں والے  کسی ادارے کو کس طور پر جانا جاتا ہے (رسمی ادارہ ؍غیر رسمی سیکٹر ادارہ)
7      راج اسکول جارہا ہے۔ جب وہ اسکول میں نہ ہو تب آپ اسے کھیت میں کام کرتے ہوئے پائیں گے۔ کیا آپ اسے ورکر سمجھ سکتے ہیں؟ کیوں؟
8      شہری عورتوں کے مقابلے دیہی عورتیںزیادہ کام کرتی پائی جاتی ہیں۔ کیوں؟
9      مینا ایک گھریلو عورت (خاتون خانہ) ہے۔ گھر کے کاموں کی دیکھ بھال کے علاوہ وہ ایک کپڑے کی دوکان میں کام کرتی ہے جس کا مالک اس کا شوہر ہے اوروہی اسے چلاتا ہے۔ کیا آپ مینا کو کامگار سمجھ سکتے ہیں؟ کیوں؟
10    درج ذیل میں متفرق شخص دریافت کیجئے (i)رکشہ چلانے والا جو رکشہ مالک کے تحت کام کرتا ہے (ii)راج مستری(iii) میکنک کی دوکان میں کام کرنے والا  (iv)جوتے پر پالش کرنے والا لڑکا
11    درج ذیل جدول سال 73-1972کے لیے ہندوستان میںورک فورس کی تقسیم دکھاتا ہے۔ اس کا تجزیہ کریں اور ورک فورس کی تقسیم کی نوعیت کے لیے اسباب  بتا ئیں۔ آپ غور کریں گے کہ یہ ڈیٹا ہندوستان میں30سال پہلے کی صورتحال پر مشتمل ہے۔

کل عورتیں ورک فورس (ملین میں)
مرد
رہائش کا مقام
795
39
69
7
125
321
دہی
شہری

.12    درج ذیل جدول 1999-2000میں ہندوستان کے لیے آبادی اور ورکر آبادی کا تناسب دکھاتا ہے۔ کیا آپ ہندوستان کے لیے (شہری اور کل) ورک فورس تخمینہ لگاسکتے ہیں؟

ور کر کا تخمینہ (کڑوڑون میں) ور کر آبادی نسبت آبادی کا تخمینہ (کڑوڑوں میں) خطہ
30-12=41-9 +5 41-9 71-88 دہی
؟ 33-7 28-52 شہری
؟ 39-9 100-40 کل

    13باضابطہ تنخواہ یافتہ ملازمین دیہی علاقوں کے مقابلے شہری علاقوں میں کیوں زیادہ ہیں؟
    14باضابطہ تنخواہ یافتہ روزگار میں  عورتیں کیوں کم تعداد میں پائی جاتی ہیں؟
    15ہندوستان میں ورک فورس کی حلقہ جاتی تقسیم میں حالیہ رجحانات کا تجزیہ کیجئے۔
16    .1970کے دہائی میں کے مقابلے مختلف صنعتوں میں ورک فورس کی تقسیم میں شاید ہی کوئی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ تبصرہ کیجئے۔
   17کیا آپ کے خیال میں پچھلے سو سال میں ملک میں روزگار کی تخلیق ہندوستان میں مجموعی گھریلو پیداوار (GDP)کی نمو کے ساتھ حسب حال یا مناسبت سے ہوئی ہے؟ کس طرح؟
    18کیا غیر رسمی سیکٹر کے بجائے رسمی سیکٹر میں روزگار کی تخلیق ضروری ہے؟ کیوں؟
    19وکٹر دن میں صرف دو گھنٹے کے لیے کام حاصل کرنے کا اہل ہے، باقی دن کے لیے وہ کام تلاش کررہا ہے۔ کیا وہ بے روزگار ہے؟ کیوں؟ وکٹر جیسے افراد کس طرح کے کام انجام دے رہے ہیں؟
   20آپ ایک گاؤں میں رہ رہے ہیں۔ اگر آپ سے گاؤں کی پنچایت کو صلاح دینے کے لیے کہا جائے، تو آپ گاؤں کی بہتری کے لیے کس طرح کی سرگرمیوں کی تجویز دیں گے، جن سے روزگار کی تخلیق بھی  ہوسکے۔
    21جزوقتی اجرتی مزدور کون ہے؟
    22آپ کس طرح جانیں گے کہ ایک کامگار غیر رسمی سیکٹر میں کام کررہا ہے؟

PIC_2مجوزہ اضافہ سرگرمیاں


     1   کسی ایک خطے کا انتخاب کیجئے اور اسے 3 - 4ذیلی  خطوں میں تقسیم کیجئے۔ ایک سروے کا اہتمام کیجئے جس کے ذریعہ آپ ہر فرد کی سرگرمی کی جو اس میں شامل ہے تفصیلات جمع کرسکتے ہیں۔ سبھی ذیلی خطوں کے کامگار اور آبادی نسبت اخذ کیجئے۔ مختلف ذیلی خطوں کے لیے ورکر اورآبادی کی نسبت میں پائے جانے والے فرق کے لیے نتائج کی توضیح کیجئے۔
    2   فرض کیجئے طلباء کے تین سے چار گروپوں کو کسی ریاست کے مختلف خطے دیے گئے ہیں۔ ایک خطہ بالخصوص دھان کی کاشتکاری میں لگا ہوا ہے۔ دوسرے خطے میں ناریل اہم شجر کاری ہے۔ تیسرا خطہ ساحلی خطہ ہے جہاں ماہی گیری خاص سرگرمی ہے۔ چوتھے خطے میں قریب ہی ندی ہے جہاں مویشی پالنے سے متعلق کافی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔ سبھی چار گروپوں سے کہیے کہ ایک رپورٹ تیار کریں کہ چاروں خطوں میں کس طرح کے روزگار کی تخلیق کی جاسکتی ہے۔ 
     3  ایک مقامی لائبریری جائیں اور وہاں پچھلے دو مہینے کا روزگار سماچار(employment news)طلب کریں جو کہ ہرہفتے دارالحکومت ہند کے ذریعہ شائع کیا جاتا ہے۔ یہ سات اشاعتیں ہونگی۔25اشتہار منتخب کریں اور درج ذیل جدول کو پُرکریں (اگر ضروری ہوتو جدول کی توسیع کریں) کلاس روم میں کاموں کی نوعیت کے بارے میں بحث کریں ۔

اشتہار2
اشتہار1
   مدیں


 1    دفتر کا نام
2    محکمہ /کمپنی
3    پرائیوٹ/پبلک/ مشترکہ کاروباری
4    عہدے کا نام
5     سیکٹر۔ (ابتدائی /ثانوی/خدماتی مہم جوئی (venture)
6   عہدوں پر  اسامیوں کی تعداد
7   مطلوبہ اہلیت

    4    آپ نے غور کیا ہوگا کہ آپ کے علاقے میں حکومت کے ذریعہ مختلف قسم کے کام کیے جاتے ہیں مثال کے لیے سڑکیں بنانا، اسکولی عمارتوں کی تعمیر، اسپتالوں اور دیگر حکومتی دفتروں کی تعمیر،تالابوں  سے مٹی نکالنا، بندباندھنے اور غریبوں کے لیے گھر کی تعمیر وغیرہ ان میں سے کسی ایک سرگرمی پر تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے رپورٹ تیار کیجئے ۔ان مسائل میں  درج ذیل امور کا احاطہ کیا جاسکتا ہے (i)کام کی شناخت کی گئی تھی(ii)منظور شدہ رقم (iii)مقامی لوگوں کا اشتراک، اگر ہے (iv)اس میں شامل افراد کی تعداد۔ مرد اور عورتیں دونوں (v)اداشدہ اجرتیں(vi)کیا اس علاقے میں اس کی واقعی ضرورت تھی اور اسکیم جس کے تحت کام کو انجام دیا جارہا ہے اس کے نفاذ پر تنقیدی تبصرہ کریں۔
5        حالیہ برسوں میں آپ غور کرسکتے ہیں کہ بہت سی رضاکار تنظیمیں بھی پہاڑی اور خشک علاقوں میں روزگار تخلیق کرنے کے قدم اٹھاتی آرہی ہیں۔ اگر آپ اپنے علاقے میں ایسے اقدامات دریافت کرتے ہیں تو وہاں جائیں اور ایک رپورٹ تیار کریں۔

PIC_7حوالہ جات


چڈھا، جی۔ کے۔ اور پی۔ پی۔ ساہو ،2002۔ پوسٹ ریفارم سٹ بیکس ان رورل امپلائمنٹ ایشوز ڈیٹ نیڈ فردر سکروٹی: ایکونامک اینڈ پولیٹکل ویکلی، مئی 25صفحہ 1998تا 2021۔
ڈیسائی ، ایس اینڈ ایم ۔ بی ڈاس 2004: اِز امپلائمنٹ ڈرائیونگ انڈیا گروتھ ، سرچ : ایکونامک اینڈ پولیٹکل ویکلی، جولائی 3صفحہ 3045تا 3051۔
گھوس اجیت کے 1999۔ کرنٹ ایشوز آف امپلائمنٹ  پالیسی ان انڈیا۔ ایکونامکس اینڈ پولیٹکل ویکلی، ستمبر4صفحہ 259تا 2608۔
ہیروئے، اندرا2002امپلائمنٹاینڈ ان امپلائمنٹ سچویشن ان 1990۔ ہاؤ گڈ آر NSSڈیٹا۔ ا۔یکونامک اینڈ پولیٹکل ویکلی، مئی 25صفحہ 2027تا 2036۔
جیکب پال 1986۔ کنسپٹ آف ورک، اینڈاسٹیمیٹ آف ورک فورس غیر تسویق شدہ پیداوار سے متعلق سرگرمیوں کے برتنے کا ایک جائزہ سرویکشن، جلدIXصفحہ نمبر6، اپریل۔
کل شریسٹھ اے۔ سی۔ گلاب سنگھ، آلوک کار اور آر۔ایل۔ مشرا  2000، ورک فورس ان دی انڈین نیشنل اکاونٹس اسٹیٹ بکس، دی جرنل آف انکم اینڈ ویلتھ، جلد 22نمبر2 ، جولائی صفحہ 3035۔
پردھان، بی۔ کے۔ اور ایم ۔ آر سالوجا، 1996، لیبر اسٹیٹ بکس ان انڈیا: 
ایک جائزہ ، مارمن۔ جولائی؍ستمبر جلد 28نمبر4صفحہ 319تا 345۔
رتھ نل کنٹھ، 2001،ڈیٹا آن امپلائمنٹ، ان امپلائمنٹ اینڈ ایجوکیشن ۔ وہیر ٹو گو فرام ہیر؟ ایکونامک اینڈ پولیٹکل ویکلی، جون 9صفحہ2081تا 2082۔
سند رم، کے۔ 2001، امپلائمنٹ ۔ ان امپلائمنٹ سچویشن ان دی ناینٹیز: سم رزلٹس فرام این ایس ایس 55واں راؤنڈ سروے؛ایکونامک اینڈ پولیٹکل ویکلی، مارچ 17صفحہ 931تا 960۔
سندرم کے 2001: امپلائمنٹ اینڈ پاورٹی ان 1990:55 NSSویں روزگار غیر روزگار سروے سے حاصل مزید نتائج 1999-2000۔ایکونامک اینڈ پولیٹکل ویکلی، اگست1/صفحہ 3039تا 3049۔
ویساریہ پروین 1996، اسٹرکچر آف دی انڈین ورک فورس 1961تا 1994، دی انڈین جرنل آف لیبر ایکونامکس، جلد 39نمبر4صفحہ 725تا 740۔

حکومتی رپورٹیں

سالانہ رپورٹیں، وزارت محنت، حکومت ہند، دہلی ، ہندوستان 2001میں مردم شماری، ابتدائی مردم شماری خلاصہ، مردم شماری عملیات کے رجسٹرار جنرل ، وزارت داخلہ، حکومت ہند، دہلی، ایکونامک سروے، وزارت مالیات، حکومت ہند، ہندوستان میں روزگار اور بے روزگاری کی صورتحال، وزارت شماریات اور منصوبہ بندی، حکومت ہند۔
پیریڈک لیبر فورس سروے کی سالانہ رپورٹیں 2017-18 ، نیشنل اسٹیٹسٹیکل آفس، منسٹری آف اسٹیٹسٹکس اینڈ پروگرام امپلمنٹیشن، حکومت ہند، نئی دہلی۔

ویب سائٹ

www. censusofindia.nic.in
www.mspi.nic.in