8
بنیادی ڈھانچہ
(INFRASTRUCTURE)
اس باب کے مطالعہ کے بعد طلباء
- سماجی اور معاشی بنیادی ڈھانچے کے میدانوں میں ہندوستان کو درپیش اہم چیلنجوں کو سمجھیں گے؛
- معاشی ترقی میں بنیادی ڈھانچے کے کردار کو جانیں گے؛
- بنیادی ڈھانچے کے انتہائی اہم جز کے طور پر توانائی کے کردار کو سمجھیں گے؛
- توانائی اور صحت کے سیکٹروں کے مسائل اور امکانات کو سمجھیں گے؛
- ہندوستان میں بنیادی طبی سہولیات کے بارے میں سمجھیں گے؛
’’متعدد چیزیں جن کی ہمیں ضرورت ہے ملتوی ہوسکتی ہیں ،بچہ صبر نہیں کرسکتا، اس کے لیے ہم ’کل‘ نہیں کہہ سکتے۔ اس کا نام آج ہے ‘‘
بنیادی ڈھانچہ بھی ایسا ہی ہے۔
گیبریلا مسٹرال – چِلی شاعرہ ۔
8.1 تعارف
کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ہندوستان میں کچھ ریاستیں دیگر ریاستوں کے مقابلے بعض میدانوں میں کیوں زیادہ بہتر کام انجام دے رہی ہیں؟پنجاب، ہریانہ اور ہماچل پردیش زراعت اورباغبانی میں خوشحال کیوں ہیں؟ مہاراشٹر اور گجرات صنعتی طور پر دوسروں کی بہ نسبت زیادہ ترقی یافتہ کیوں ہیں؟ کیرل جسے عام طور پر ’’خدا کا اپنا ملک‘‘(God's own country)کہاجاتا ہے، خواندگی ، طبی دیکھ بھال اور صفائی ستھرائی میں اوروں سے بہتر اور اتنی بڑی تعداد میں سیاحوں کے لیے باعث کشش کیوںہے؟ کیوں کرناٹک کی انفارمیشن ٹکنالوجی صنعت دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرتی ہے؟
یہ سب اس لیے کہ ان ریاستوں میں ان شعبوں میں بہتر بنیادی ڈھانچہ (بنیادی سہولیات) موجود ہے جن میں وہ ہندوستان کی دیگر ریاستوں سے بہتر ہے۔ کچھ میں آبپاشی کی سہولیات بہت بہتر ہیں۔ دیگر میں نقل و حمل کی بہتر سہولیات ہیں یا وہ بندرگاہوں کے قریب واقع ہیں جس کی بناء پر مختلف مصنوعاتی صنعتوں کے لیے مطلوبہ خام مال آسانی سے پہنچایا جاسکتا ہے۔ کرناٹک میں بنگلور جیسے شہر متعدد بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے باعث کشش ہیں، کیونکہ وہ عالمی معیار کی مواصلاتی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ یہ سبھی معاون ڈھانچے جو کسی ملک کی ترقی میں سہولت پیدا کرتے ہیں، اس کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل کرتے ہیں۔ تو پھر بنیادی ڈھانچہ کس طرح ترقی کو تیز رفتار اور آسان بناتا ہے؟

شکل. 8.1 سڑکیں نمو کے ساتھ گمشدہ کڑی ہیں
8.2 بنیادی ڈھانچہ کیا ہے؟
بنیادی ڈھانچہ صنعتی اور زرعی پیداوار میں، گھریلو اور بیرونی تجارت اور کامرس کے اہم شعبوں میں معاون خدمات فراہم کرتا ہے۔ ان خدمات میں سڑکیں، ریلوے، بندرگاہیں، ہوائی اڈے، باندھ، پاور اسٹیشن، تیل اور گیس کی پائپ لائنیں، ٹیلی مواصلاتی سہولیات، ملک کا تعلیمی نظام بشمول اسکول اور کالج، طبی نظام بشمول اسپتال، صفائی ستھرائی کانظام بشمول پینے کے صاف پانی جیسی سہولیات، زری نظام بشمول بینک، بیمہ اور دیگر مالیاتی ادارے شامل ہیں۔ ان سہولتوں میں سے بعض کا اثر سیدھے طور پر پیداوار کے نظام عمل پر پڑتا ہے جبکہ دیگر معیشت کے سماجی سیکٹر کی تعمیر کے ذریعہ بالواسطہ معاونت کرتی ہیں۔

شکل 8.2 اسکول کسی قوم کے ایک اہم بنیادی ڈھانچہ
بعض لوگ بنیادی ڈھانچے کو دو زمروں میں تقسیم کرتے ہیں۔ معاشی اور سماجی بنیادی ڈھانچے کوجو کہ توانائی، نقل و حمل اور مواصلات سے منسلک ہیں انھیں معاشی زمرے میں رکھا جاتاہے جب کہ وہ جن کا تعلق تعلیم ، صحت اور مکانوں کی تعمیر سے ہے سماجی زمرے میں شامل کی جاتی ہیں۔
اسے حل کریں
- اپنے علاقے یا پڑوس میں آپ مختلف بنیادی ڈھانچہ کا استعمال کرتے ہونگے۔ ان سبھی کی فہرست بنائیے۔ آپ کے علاقے میں کچھ مزید بنیادی ڈھانچوں کی ضرورت ہوسکتی ہے ان کی فہرست الگ بنائیے۔ان کی بعض پیمانوں پر درجہ بندی کیجیے اور کلاس روم میں ان کی تفصیلات پر گفتگو کیجیے-
8.3 بنیادی ڈھانچے کی موزو نیت
بنیادی ڈھانچہ ایک معاون نظام ہے جس پر جدید صنعتی معیشت کی موثر کارکردگی منحصر ہے۔ جدید زراعت بھی بیجوں، کیمائی کھادوں، کیڑے مار دواؤں اور پیداوار کی تیز رفتار اور بڑے پیمانے کے ذرائع نقل وحمل کے لیے بنیادی ڈھانچے پر جدید شاہراہوں، ریلوے اور جہازرانی کی سہولتوں کے استعمال کے ذریعے بنیادی ڈھانچے پر کام کرنے کی ضرورت کی بناء پر ہی انحصار کرتی ہے۔جدید زراعت کو بڑے پیمانے پر بیمہ اور بینک کاری کی سہولتوں پر بھی انحصار کرنا ہوتا ہے۔
بنیادی ڈھانچہ پیداوار کے عوامل کی پیداواریت کو بڑھانے اور ملک کے لوگوں کی معیار زندگی کو بہتر بنانے کے ذریعہ بھی اس کی معاشی ترقی میں اشتراک کرتا ہے۔ ناکافی بنیادی ڈھانچہ صحت پر خراب اثر ات کا موجب ہوسکتا ہے۔ پانی کی سپلائی اور صفائی ستھرائی میں بہتری پیداکرنے سے آلودہ پانی سے ہونے والی خاص بیماریوں اور بیماریوں کی مرضیت (morbidity) (بیمار پڑنے کا میلان) میں کمی کے ذریعہ کافی اثر پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، پانی اور صفائی و ستھرائی و صحت کے درمیان نمایاں تعلق، نقل و حمل اور مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کا معیار، طبی دیکھ بھال کی رسائی پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ فضائی آلودگی، محفوظ و مامون ہونے سے متعلق خطرات جن کا سیدھا تعلق نقل و حمل سے ہے، اس سے بھی مرضیت بالخصوص گنجان آبادی والے علاقوں کی مرضیت پر اثر پڑتا ہے۔
8.4 ہندوستان میں بنیادی ڈھانچے کی حالت
روایتی طور پر، ملک کے بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے کی اکیلی ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے لیکن یہ پایا گیا کہ بنیادی ڈھانچے میں حکومت کی سرمایہ کاری ناکافی تھی ۔آج، پرائیوٹ سیکٹر نے خود اور پبلک سیکٹر کے ساتھ مشترکہ حصہ داری کے توسط سے بنیادی ڈھانچے کے فروغ میں کافی اہم کردار اداکرنے کی شروعات کی ہے۔
ہمارے عوام کی اکثریت دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔ دنیا میں اتنی زیادہ تکنیکی پیش رفت ہو نے کے با وجو د، دیہی عورتیں اب بھی حیا تیاتی ایندھنوں جیسے فصلوں کی بچی ہوئی بیکار چیزیں ، گو بر اور ایندھن کی لکڑی اپنی توانائی کی ضرورتوں کو پو را کر نے کے لیے استعمال کر تی ہیں ۔انھیں ایندھن، پانی اوردیگر بنیا دی ضرورتوں کو پورا کر نے کے لئے دور دور تک کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ 2001 کی مردم شماری سے پتہ چلتا ہے کہ دیہی ہندوستان میں صرف 56فی صد گھروں میں بجلی لگی ہوئی تھی اور 43 فی صد اب بھی مٹی کا تیل استعما ل کر تے ہیں ۔ تقریباً 85فی صد دیہی گھر کھانا پکانے کے لیے حیا تیاتی ایندھن کا استعما ل کرتے ہیں نل کے پانی کی دستیابی 31فی صدی گھرانوں تک ہی محدود ہے۔ 69فی صد آبادی تالاب، جو ہڑ، جھیلوں ، ندیوں، نہروں وغیرہ کا پانی پیتی ہے۔ یہ بھی پا یا گیا کہ دیہی علاقوں میں بہتر صفائی تک رسائی صرف30فی صد تھی۔
جدول8.1 پر نظر ڈالیں جن میں ہندستان میں بعض بنیا دی ڈھانچوں کی حالت کا موازنہ کچھ دیگر ملکوں کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اگر چہ بڑی حد تک یہ سمجھا جا تا ہے کہ بنیا دی ڈھانچے ترقی کی بنیا د ہیں لیکن ہندستان کو اب بیدار ہو نے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان اپنی مجموئی گھریلو پیداوار(GDP) کا صرف 30فیصد بنادی ڈھانچے کے لیے استعمال کرتا ہے جو کہ چین اور انڈونیشیا سے بھی کہیں کم ہے۔

شکل. 8.3 بند Dams)) ترقی کے معابد
بعض ماہرین معاشیات پیشین گوئی کرتے ہیں کہ ہندوستان اب سے کچھ عشروں کے بعد دنیاکی بڑی معیشت بنے گی۔ ایساہونے کے لیے ہندوستان کو بنیادی ڈھانچے میں اصلکاری کو خوب بڑھاوا دیناہوگا۔ جوں جوںکسی ملک میں آمدنی بڑھتی ہے بنیادی ڈھانچے کی ضروریات کی ترکیب یا بناوٹ میں نمایاں تبدیلی واقع ہوتی ہے ۔کم آمدنی والے ملکوں کی بنیادی ڈھانچے یا سہولیات سے متعلق خدمات سے جیسے آبپاشی ،نقل وحمل اور بجلی زیادہ اہم ہیں ۔ جب معیشتوں میں پختگی آتی ہے اور بنیادی صرف سے متعلق زیادہ ترمانگیں پوری ہوتی ہیں، تب معیشت میں زراعت کا حصہ سکڑتاہے اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق زیادہ خدمات کی ضرورت ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ بجلی اورٹیلی مواصلات بنیادی ڈھانچہ کا حصہ اعلی آمدنی والے ملکوں میں زیادہ ہے۔

شکل8.4. پکے گھر کے ساتھ محفوظ پینے کاپانی اب بھی ایک خواب جیسا ہے
جدول 8.1
ہندوستان اور دیگر ممالک میں کچھ بنیادی ڈھانچے
| ایندھن کی کھپت (ملین ٹن تیل کے مساوی) |
موبائل استعمال کرنے والے لوگ فی 1000میں |
محفوظ طریقے سے صفائی سے متعلق خدمات استعمال کرنے والے (فی صد) |
محفوظ طریقے سے پینے کے محفوظ پانی کا استعمال کرنے والے (فی صد) |
مجموعی گھریلو پیداوار کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کا فی صد |
ملک |
3274
31
809
301
85
88
186
|
115
259
87
130
73
146
120
|
77
92
40
64
100
61
|
96
100
94
98
98
100
87
|
44
22
30
31
16
28
34
|
چین
ہانگ کانگ
ہندوستان
جنوبی کوریا
پاکستان
سنگاپور
انڈونیشیا
|
ماخذ: عالمی ترقیاتی اشارے،عالمی بینک ویب سائٹ www.world bank.org
اس طرح بنیادی ڈھانچہ کی ترقی اور معاشی ترقی دوش بدوش چلتی رہتی ہیں۔ زراعت کا فی حدتک آبپاشی کی سہولیات کے مناسب پھیلاو اور ترقی پر منحصر ہوتی ہے ، صنعتی ترقی، توانائی کی ترقی اور بجلی پیدا کرنے اورنقل وحمل اور مواصلات کی ترقی پر مبنی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے اگر بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی طرف مناسب توجہ نہیں دی جاتی ۔ تویہ بھی ممکن ہے کہ اس سے معاشی ترقی پر سخت دباؤ یا بندشیں پیدا ہوجائیں۔ اس باب میں ہم صرف دو قسم کے بنیادی ڈھانچوں پر توجہ مبذول کریں گے یعنی توانائی اور صحت کے بنیادی ڈھانچے۔
انہیں حل کریں
اخباروں کو پڑھتے وقت آپ بھارت نرمان ‘ مخصوص مقصد گاڑی (SPV),(Special Purpose Vhicle) مخصوص معاشی زون (SEZ) , (Special Economic Zones) BOT), ( (Build Operate Transfer)پرائیوٹ پبلک شراکت (Private Public Partnership) (PPP) وغیرہ جیسی اصلاحات سے واقف ہوئے ہونگے۔ ایک تراشہ نامہ نئے مدوں کا جو ان اصطلاحات پر مشتمل ہوبنا ئیں ۔یہ اصطلاحات بنیادی ڈھانچے سے کس طرح متعلق ہیں ؟
• باب کے آخر میں حوالوں کا استعمال کرتے ہوئے دیگر بنیادی ڈھانچوں کی تفصیلات جمع کریں۔
8.5 توانائی
ہمیں توانا ئی کی ضرورت کیوں ہے ؟ یہ کن شکلوں میں دستیاب ہے ؟ توانائی ملک کے ترقیاتی عمل کا ایک نازک اور نہایت ہی اہم ایک پہلو ہے یہ بلاشبہ صنعتوں کے لیے لازمی ہے۔ اب یہ زراعت اورمتعلقہ شعبوں جیسے پیداوار اورکیمیاوی کھاد، کیڑے مار ادویات اور کاشت کاری سازوسامان میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے اس کا استعمال کھانا بنانے، گھر کی روشنی اورگرم کرنے کے لیے مطلوب ہوتا ہے ۔ کیا آپ توانائی کے استعمال کے بغیرکوئی شے یا خدمات تیار کرنے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟

شکل8.5. توانائی کا اہم وسیلہ ایندھن لکڑی ہے
توانائی کے وسائل: توانائی کے تجارتی اور غیرتجارتیذرائع ہیں۔کمرشیل وسائل ہیں کوئلہ، پیٹرولیم اور بجلی کیونکہ یہ خریدے اور فروخت کئے جاتے ہیں۔ ہندوستان میں صرف کی جانے والی توانائی کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ اِنھیں کاہے۔ غیر کمرشیل ذرائع ہیں جلانے کی لکڑی، زرعی فضلہ او ر خشک گوبر یا اُپلے۔ یہ غیر کمرشیل ( غیر تجارتی) اس لیے ہے کیونکہ یہ بڑے پیمانے پر بازار میں موجود نہیں ہیں۔

شکل 8.6. دیہی نقل وحمل میں بیل گاڑی ایک اہم کر دار ادا کرتی ہے۔
جبکہ توانائی کے کمرشیل وسائل،بجُز آبی توانائی، عام طور پر ختم ہوسکنے والے ہوتے ہیں غیر کمرشیل ذرائع عام طورپر قابل تجدید ہوتے ہیں۔ 60 فیصد سے زیادہ ہندوستانی خاندان کھانا پکانے اور حرارت کاری کی ضرورتوں کو باقاعدہ اور مسلسل پورا کرنے کے لیے توانائی کے روایتی ذرائع پر انحصارکرتے ہیں۔
غیر روایتی توانائی کے ذرائع : کمرشیل اور غیر کمرشیل توانائی کے دونوں وسائل توانائی کے روایتی ذرائع کے طور پر جانے جاتے ہیں توانائی کے تین دیگر ذرائع ہیں جن کو عام طور پر غیر روایتی ذرائع کے طور پر منسوب کیا جاتاہے وہ ہیں : شمسی توانائی (Solar Energy) اور بادی توانائی (Wind energy) مدو جزری قوت (Tidal Power)ہندوستان میں ایک ٹراپیکی (گرم سیر) ملک ہونے کے سبب ہندوستان میں توانائی کی ان سبھی تین قسموں کو تیار کرنے کی لیے تقریباً غیر محدود امکانی صلاحیت موجود ہے اگر چند مناسب اور کم خرچ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے جو کہ پہلے ہی سے دستیاب ہیں یا کسی کفایتی ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جاسکتاہے۔

شکل 8.7. پون چکی : پاور کی تخلیق کا ایک اور وسیلہ
کمرشیل توانائی کاانداز صرف: ہندوستان میں کمرشیل توانائی کا صرف ملک میں صرف کی جانے والی توانائی کا تقریباً 74 فی صد کیا جاتا ہے اس میں74 فی صد کے حصے کے ساتھ کوئلے کا حصہ سب سے بڑا ہے ۔ اس کے علاوہ تیل 10 فی صد، قدرتی گیس 9فی صد اور آبی توانائی 7فی صد ہے۔ غیر کمرشیل توانائی کے ذرائع جلانے کی لکڑی ، گوبر اور زرعی فضلات پر مشتمل ہیں۔ اور یہ کل توانائی کے صرف کا 26 فی صد حصہ ہے۔ ہندوستان کے توانائی سیکٹر کی اہم خصوصیت اور معیشت سے اس کی وابستگی خام تیل اور پٹرول سے تیار کردہ اشیاء کی درآمد پر انحصار ہے جو کہ عین ممکن ہے مستقبل قریب میں اور زیادہ بڑھ جائے۔
شکل8.8. شمسی توانائی کے عظیم آثار ہیں
کمرشیل توانائی کے صرف کا حلقہ وار اندا ز جدول 8.2. میں دیا گیا ہے ٹرانسپورٹ سیکٹر 1953.54 میں کمرشیل توانائی کا سب سے بڑا صارف تھا۔تاہم ٹرانسپورٹ سیکٹر کے حصے میںمستقل گراوٹ ہوئی جبکہ گھریلو سامان، زراعت اور صنعتی سیکٹر کا حصہ بڑھتاجارہاہے تیل اور گیس کا حصہ بھی کمرشیل توانائی میں سب سے زیادہ ہے معاشی نموکی تیز شرح کے ساتھ توانائی کے استعمال میں اسی کے لحاظ سے اضافہ ہواہے-
پاور / بجلی : توانائی کی سب کے زیادہ نظر آنے والی شکل، جسے جدید تہذیب و تمدن میں اکثر ترقی کے ساتھ شناخت کیا جاتا ہے، وہ ہے، پاور یا قوت جسے عام طور پر بجلی کہا جاتا ہے ، یہ بنیادی ڈھانچے کا ایک نہایت اہم جز ہے جو ملک کی معاشی ترقی متعین کرتا ہے۔ پاور یا بجلی کی مانگ کی شرح افزائش کل گھریلو پیداوار کی شرح افزائش کے مقابلے عموماً بہت زیادہ رہتی ہے۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ GDP.کی سالانہ نمو 8. فی صد حاصل کرنے کے لیے پاور سپلائی کی نمو تقریباً 12 فی صد سالانہ ہونی چاہئے۔
جدول 8.2
کمرشیل توانائی صرف کا شعبہ جاتی حصے میں رجحانات ہے
| 1017-18 | 1990-91 | 1970-71 | 1953-54 | سیکٹر |
| 24 | 12 | 12 | 10 | گھر |
| 18 | 08 | 03 | 01 | زراعت |
| 42 | 45 | 50 | 40 | صنعت |
| 1 | 22 | 22 | 28 | ٹرانسپورٹ |
| 15 | 13 | 07 | 5 | دیگر |
| 100 | 100 | 100 | 100 | میزان |
بجلی توانائی کی ثانوی شکل ہے جو ابتدائی توانائی وسائل بشمول کوئلہ ہائیڈروکاربن ، آبی توانائی ، نیوکلیر توانائی اورقابل تجدید توانائی وغیرہ سے پیدا کی جاتی ہے ۔ ابتدائی توانائی کی کھپت میں ایندھنوں کی کھپت کا بالواسطہ اور بلاواسطہ لحاظ رکھاجاتا ہے اس سے صارفین کے توانائی کے حتمی صرف کی پوری تصویر سامنے نہیں آسکتی۔ ہندوستان میں ثانوی وسائل کوئلہ ، تیل، بجلی اور قدرتی گیس پرمشتمل ہیں۔
جدول8.1: ہندوستان میں بجلی پیداوار کے مختلف ذرائع، 2013
حرارتی، ہاڈرو کاربن، نیو کلیر، قابل تجدید توانائی

ہندوستان میں 2018، میں حرارتی (تھرمل) ذرائع سے بجلی کی پیداوار کی استعداد کے تقریباً 82 فی صد حصے پر مشتمل تھی آبی، ہوائی اور نیوکلیر ذرائع کا حصہ علی الترتیب8-5 اور 2-5فی صد ہے ہندوستان کی توانائی پالیسی توانائی کے دو ذرائع کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور وہ ہیں آبی اوربادی وسائل۔ چونکہ یہ رکازی ایندھن پر انحصار نہیں کرتے اور اس بناپر کاربن کے اخراج سے بچتے ہیں نتیجتاًان دو ذرائع سے تیار کی جانے والی بجلی میں تیز رفتار افزائش ہوئی ہے۔
انہیں حل کریں
- توانائی کے دیگر وسائل میں آپ نے غور کیا ہوگا کہ توانائی کا ایک معمولی حصہ نیوکلیر پاور سے آتا ہے کیوں؟ ماہرین بتاتے ہیں کہ تیل اور کوئلے کی لاگتوں کو بڑھنے کے سبب نیوکلیر پاور بہتر اختیاری یا پسند ہے اپنی کلاس میں بحث کریں ۔
- شمسی توانائی ،بادی توانائی اور مدّو جزر ۔ تیار کیے جانے والے پاور توانائی کے مستقبل کے ذرائع ہوتے جارہے ہیں ۔ ان کی تقابلی خوبیاں اور خرابیاں کیا ہیں کلاس میں بحث کیجئے
ایٹمی توانائی بجلی کی قوت حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس کے ماحولیاتی فائدے ہیں اور ممکنہ طور پر طویل عرصے میں یہ کفایتی بھی ہوسکتا ہے۔ آج کل ایٹمی توانائی توانائی کی کُل بنیادی کھپت کا صِرف 2فی صد ہے۔ جب کہ دنیا میں اس کا اوسط 13فی صد ہے۔ لہٰذا یہ بہت ہی کم ہے۔
بجلی کے شعبے کے کچھ چیلنج : مختلف پاور اسٹیشنوں کے ذریعہ جو بجلی پیداکی جاتی ہے وہ پوری طرح آخری صارفین کے ذریعہ خرچ نہیں کی جاتی : ایک حصہ ذیلی بجلی اسٹیشن صرف کرتے ہیں اس کے علاوہ بجلی کی ترسیل کے دوران اس کا ایک حصہ ضائع ہوجاتا ہے ہم اپنے گھروں، دفتروں اور فیکٹریوں میںجو حاصل کرتے ہیں وہ خالص دستیابی ہوتی ہے۔
کچھ چیلینج جو آج کل ہندوستان کے بجلی کے شعبے کو درپیش ہیں وہ ہیں (i) سالانہ 8-7فی صد معاشی نمو کو برقرار رکھنے کے لیے ہندوستان میں بجلی پیدا کرنے کی موجودہ استعداد کافی نہیں ہے۔ہندوستان کے تجارتی توانائی سپلائی میں تقریباً 7فی صد اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ فی الحال ہندوستان صرف 20.000MW کا اضافہ کرنے کااہل ہے حتی کہ تنصیبی صلاحیت کا استعمال بھی پوری طرح نہیں ہورہا ہے کیونکہ پلانٹ صحیح طور پرنہیں چل رہے ہیں ۔(ii) ریاستی بجلی بورڈ (SEBS) جو بجلی کی تقسیم کرتے ہیں انھیں نقصان ہورہا ہے جوکہ20000کروڑروپیہ سے بھی تجاوز کر با تا ہے ۔یہ نقصانات بجلی کی ترسیل وتقسیم کے نقصان ، قیمتوں کا غلط تعین اور دیگر وجوہات سے ہوتے ہیں۔کچھ دانشوروں کا کہنا ہے کہ کسانوں کو بجلی کی تقسیم کے نقصانات کی خاص وجہ ہے۔ مختلف علاقوں میں بجلی کی چوری بھی کی جاتی ہے جس سے ریاستی بجلی بورڈوں کے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔ (iii) نجی سیکٹر میں بجلی پیدا کرنے والوں کو اب بھی بڑے پیمانے پر اپنا کردار نبھاناہے۔یہی حال غیر ملکی سرمایہ کاروں کا ہے (iv)ملک کے مختلف حصوں میں بجلی کی قیمت کے بہت زیادہ شرح اور کافی طویل بجلی کی کٹوتیوں کے سبب عام لوگوں میں بے چینی پائی جاتی ہے اہم تھر مل پاور پلانٹ جو کہ ہندوستان کے پاور سیکٹر کا خاص سہاراہیں انھیں خام مال اور کوئلے کی سپلائی میں قلت کا سا منا کرنا پڑتا ہے۔
باکس 8.1 فرق پیدا کرنا
تھا نے شہر ایک بالکل نئی شبیہ حاصل کررہاہے ۔ یعنی ایک ماحول دوست یا ماحول موافق تبدیلی ۔ شمسی توانائی کا بڑے پیمانے پر استعمال ، جسے کسی حد تک دوردرازکاتصور سمجھاجاتا تھا، توانائی کی بچت کے حقیقی فوائد لاگت اور توانائی کی بچت کی شکل میں سامنے آیا اس کااستعمال پانی گرم کرنے ۔ یا پاور ٹریفک لائیٹوں اور اشتہاروں کے لیے کیا جارہاہے ۔ اور تھانے میونسپل کارپوریشن اس منفرد تجربے میں اولین ہے ۔ اس نے شہر میں سبھی نئی عمارتوں کے لیے شمسی آبی حراری نظام (Soler water heating system) کو تنصیب کرنا ضروری بنادیا ہے ۔ (کالمMakinga Differenceآوٹ لوک یکم اگست 2005. میں شائع ہوا )
- کیا آپ غیر روایتی توانائی کو بہترڈھنگ سے استعمال کرنے کی ایسے دیگر تصورات کی تجویز رکھ سکتے ہیں ؟
باکس 8.2 : پاور تقسیم : دہلی کامعاملہ
آزادی کے وقت سے راجدھانی میں بجلی کا انتظام چار بار بدلاہے ۔دہلی ریاستی بجلی بورڈ(DESB ) 1995 میں قائم ہوا تھا۔ اس کے بعددہلی بجلی سپلائی انٹر ٹیکنگ (DESU )کاقیام 1958 میں عمل میں آیا۔دہلی ودیوت بورڈ (DUB)ریاستی بجلی بورڈ کے طور پر فروری 1997میں وجود میں آیا DVB کی نجی کاری کے سبب ملک اب ہے مینجمینٹ کے دور اولین پاور کی بڑی کمپنیوں کے پاس ہے ریلائنس انرجی لمیٹیڈ کے BSES کی ملکیت ہے جو اپنی دو کمپنیوں کے ذریعہ (جن میں DICOMS کے طور پر جاناجاتاہے ) دہلی کے دو تہائی حصوں میں پاور کی تقسیم کاانتظام کرتی ہے جنوبی اور مغربی علاقے ۔BSES راجدھانی پاور لمٹیڈ کی زیر نگرانی میں جبکہ BSES یموناپاور لمٹیڈ مرکزی اور مشرقی علاقوں کی دیکھ بھال کرتی ہے ٹاٹاپاور لمٹیڈNDPL راجدھانی کے شمال اور شمال مغرب میں پاور کی تقسیم کرتی ہے دونوں کے پاس مزید 23 (220KV ) گرڈ ہیں جو راجدھانی خطے کے تقریباً43 لاکھ صارفین پاور سپلائی کرتے ہیں ٹریف کی ساخت اور دیگر ریگولیٹری امور کی نگرانی دہلی الکٹری سٹی ریگولیٹری کمیشن (DERC ) کے ذریعے چلائی جاتی ہے اگر چہ یہ تو قع کی گئی تھی کہ پاور کی تقسیم میں کافی بہتری ہوگی اور صارفین کو اس سے کافی فائدہ پہنچے گا۔ لیکن تجربے سے غیرتسلی بخش نتائج کا پتہ چلتاہے
اس طرح مسلسل معاشی ترقی اور بڑھتی آبادی کی وجہ سے بجلی کی موجودہ پیداوار کی رفتار کے مقابلے توانائی کی مانگ تیز تر ہوتی جارہی ہے۔ زیادہ سرکاری سرمایہ کاری ، بہتر تحقیق اور ترقیاتی کوشیش ، چھان بین اختراعات اور قابل تجدید توانائی کے وسائل کا استعمال بجلی کی اضافی سپلائی کو یقینی بنا سکتا ہے اگر چہ نجی سیکٹر نے کچھ پیش رفت کی ہے تاہم یہ ضروری ہے کہ اس سیکٹر کو آگے لانے اور اس ذریعہ بڑے پیمانے پر بجلی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس سلسلے میں جو کوششیں کو گئی ہیں ان کی بھی قدر شناسی کی جانی چاہئے ۔مثال کے لیے ،ہندوستان جو پہلے ہی سے ہوائی توانائی کا پانچواں سب سے پڑا پیدا کارہے اس کا95 فی صد سرمایہ کاری نجی سیکٹر کے ذریعہ ہوتی ہے قابل تجدیدتوانائی کے وسائل پر انحصار زبردست معاشی ، سماجی اور ماحولیاتی فوائد کا موجب ہوتاہے ۔
باکس 8.3 : توانائی کی بچت : کمپیکٹ فلورسنٹ لیمپ (CFL ) اور LED بلب کا فروغ
ان دنوں ایل ای ڈی (Light Emitting Diode) لیمپ توانائی کو بچانے کی خاطر ملک بھر میں پرموٹ کیا جا رہا ہے۔ ایک ہی مقدار کی روشنی پیدا کرنے کے لیے ایل ای ڈی (LED) بلب ان کینڈسینٹ بلب کا دسواں اور CFLبلب کی توانائی کا آدھا حصہ ہی استعمال کرتا ہے۔ انرجی ایفیسینی سروس لمیٹیڈ کے مطابق اجالا(UJALA) اسکیم جس کا مقصد ان کینڈسنٹ بلب کو LED بلب سے بدلنا ہے۔ جس سے 5905mw توانائی کی پیداوار کو بچایا جا سکے گا، اس کی کم قیمت میں تبدیل اور بہتر بافت کی وجہ سے ایک متوسط خاندان کے سالانہ 4000 روپیہ کی بچت کی ترجمانی کرتا ہے۔
ماخذ: تہلکہ ایکم اکتوبر 2005 میں نریش مینوچا، پاور بحران کو حل کرنے لیے فہم عامہ کا استعمال کریں
انھیں حل کریں
- اپنے گھرمیں آپ کس طرح کی توانائی کا استعمال کرتے ہیں ؟ اپنے والدین سے معلوم کیجئے کہ توانائی کی مختلف اقسام پر ایک مہینے میں وہ کتنی رقم خرچ کرتے ہیں ؟
- آپ کو پاور کون سپلائی کرتاہے اور کہاںاس کی تخلیق کی جاتی ہے ؟ کیا آپ دیگر سستے متبادل ذرائع کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جو آپ کے گھر کی روشنی میں مددگار ہویاکھانا بناتے یا دورو دراز کے مقامات پر سفر کرنے کے لیے معاون ثابت ہو سکے ۔
- مندرجہ ذیل جدول پر نظر ڈالیئے کیا آپ کے خیال میں توانائی کی کھپت ترقی کا ایک موثر اظہاریہ ہے؟
| توانائی کی فی کس کھپت 2018 میں (تیل کے کلو گرام کے برابر) |
امریکی ڈالر میں فی کس آمدنی میں(پی -پی-پی) 2018 |
ملک |
| 637 884 828 2777 3471 6961 |
6899 605 11013 40158 294 58681 |
ہندوستان انڈونیشیا مصر یو-کے جاپان یو ایس اے |
ماخذ : عالمی ترقیاتی اشارےwww.worldbank.org 2019
- دریافت کیجئے کہ کس طرح آپ کے علاقے میں بجلی تقسیم ہوتی ہے یہ بھی معلوم کیجئے کہ آپ کے شہر کی بجلی کی کل مانگ کیاہے اور اسے کیسے پوراکیاجاتا ہے ؟
- آپ نے غور کیا ہوگا کہ بجلی اور دیگر توانائی کی بچت کے لیے لوگ مختلف طریقوں کااستعمال کرتے ہیں مثال کے لیے گیس اسٹووکااستعمال کرتے وقت گیس ایجنسیوں کے ذریعہ گیس کو موثر اور کفایتی عدد پر استعمال کرنے کے لیے تجاویز پیش کی جاتی ہیں اپنے والدین اور بڑوں سے بات کیجئے اور نکات تحریر کیجئے اور اپنی کلاس میں بحث کیجئے
8.6 صحت
2020 سے کووڈ 19 - وباکے سبب ہمارے مستقل ہاتھ دھونے، ماسک پہننے اور جسمانی دوری کا اہتمام کرنے کی اہمیت سے آپ واقف ہیں۔ صحت صرف بیماری کاموجود ہونا نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب کسی کی امکانی صلاحیت کو برسرکار لانا بھی ہے ۔ یہ کسی کی بہبود کی پیمائش کا ذریعہ بھی ہے صحت ملک کی مجموعی نمو اورترقی سے متعلق مجموعی عمل ہے۔ اگر چہ بیسوی صدی میںانسانی صحت کے شعبے میں ایک زبردست تبدیلی آئی ہے جس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی اس کے باوجود کسی ملک کی صحت سے متعلق حیثیت یا صورتحال کی تعریف کرنا مشکل ہوسکتا ہے ۔دانشور عام طور پر بچوں کی شرح اموات ، مادری شرح موات ، امکانات زندگی اور تغذیاتی سطح کے اشاریوں کے ساتھ متعدی اور غیر متعدی امراض کے واقع ہونے کو پیش نظر رکھتے ہوئے لوگو ں کی صحت کی حالت کا جائزہ لیتے ہیں۔

شکل8.9 : ملک کے ایک بڑے حصے میں صحت سے متعلق بنیادی سہولیات کی اب بھی کمی ہے۔
صحت سے متعلق بنیادی ڈھانچے میں ماہرین دلیل دیتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں لوگوں کو طبی دیکھ بھال کی سہولیات حاصل کرنے کاحق ہے۔ صحت مندانہ زندگی کے حق کو یقینی بناناحکومت کی ذمہ داری ہے طبی بنیادی ڈھانچے میں اسپتال، ڈاکٹر ،نرسیں اور دیگرپیرا میڈیکل کے (طبی امداد کے سلسلے میں ضمنی خدمات وغیرہ انجام دینے والے) پیشہ ور افراد ، بیڈ ، اسپتالوں میں مطلوبہ ساز و سامان اور بخوبی ترقی یافتہ دواسازی کی صنعتیں شامل ہیں ۔یہ بھی صحیح ہے کہ لوگوں کے صحت مند ہونے کے لیے طبی بنیادی ڈھانچے کی محض موجودگی ہی کافی نہیں ہے ، بلکہ یہ تمام لوگوں کے لیے قابل رسائی ہونی چاہیے ۔ منصوبہ بند ترقی کے ابتدائی مراحل سے ، پالیسی سازوں نے یہ تصور کیا تھاکہ کوئی بھی شخص طبی دیکھ بھال، خواہ وہ شفا بخش یا روک تھام کرنے والی، پیسہ ادا نہ کرسکنے کی وجہ سے محروم نہ ہو۔ اس بات کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ماناگیا تھا۔ لیکن کیا ہم اس واضح تصور کو حاصل کرنے کے اہل ہیں ؟ اس سے پہلے کہ ہم مختلف طبی بنیادی ڈھانچے پر بحث کریں ، آیئے ہندوستان میں صحت کی حیثیت پر بات کریں۔
صحت سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی حالت :حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ صحت سے متعلق تمام مسائل جیسے طبی تعلیم، کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ، نشہ آور دوائیں اور زہر، ڈاکٹری پیشہ اہم اور بنیادی اعدادو شمار، ذہنی کمزوری اور پاگل پن وغیرہ کو منضبط کرے اوراس سلسلے میں ضروری رہ نمائی کرے۔ مرکزی حکومت موٹے طور پر پالیسیاں اور منصوبے تیار کرنے کا کام صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی کاؤ نسل کی وساطت سے انجام دیتی ہے۔ یہ معلومات اکٹھا کرتی ہے اور ریاستی حکومتوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور دیگر اداروں کو ملک میں صحت سے متعلق اہم پروگراموں کے لئے مالی اور تکنیکی امداد بہم پہنچاتی ہے۔صحت سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی ترقی کسی ملک میں اشیاء اور خدمات تیار کرنے کے لیے صحت مند انسانی وسائل کو یقینی بناتی ہے۔
گذشتہ چند سالوں کے دوران ہندوستان نے صحت سے متعلق مختلف سطحوں پر ایک بڑا اور وسیع بنیادی ڈھانچہ اور افرادی قوت تیار کرلی ہے۔ دیہات کی سطح پر حکومت نے مختلف النوع اسپتال قائم کیے ہیں۔ ہندوستان میں رضاکار ایجنسیوں اور نجی شعبے کی طرف سے چلائے جانے والے اسپتالوں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود ہے۔ ان اسپتالوں میں کام کرنے والے لوگ پیشہ ور اور نیم طبی پیشہ ور ہیں جن کی تربیت طبیہ، فارمیسی، اور نرسنگ کالجوں میں ہوئی ہے ۔
آزادی کے بعدسے صحت سے متعلق خدمات فراہمی میں نمایاں اضافہ ہواہے ۔2018-1951کے دوران سرکاری اسپتالوں اور ڈسپنسریوں کی مجموعی تعداد 9300 سے 53800 اور اسپتال کے بیڈ کی تعداد 1.2 سے 7.1 لاکھ ہوگئی ساتھ ہی نرسنگ عملہ 18000 سے بڑھ کر 30 لاکھ اور ایلو پیتھی ڈاکٹر وںکی تعداد 62000 سے بڑھ کر11.5 لاکھ ہوگئی ۔ طبی بنیادی ڈھانچے کی توسیع کا نتیجہ چیچک، گنی کیڑے ختم ہونے کی صورت میں نکلا جبکہ پولیو اور جذام ( کوڑھ) بھی ختم ہونے کے قریب ہے۔ کووڈ 19 سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومتی اقدامات کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ۔کلاس روم میں گفتگو کیجیے۔
باکس 8.5 ہندوستان میں نظام صحت
ہندوستان کا طبی بنیادی ڈھانچہ اور طبی دیکھ بھال تین سطحی نظام ہے جو ابتدائی ، ثانوی اور ثلاثی پر مبنی ہے ۔ ابتدائی طبی دیکھ بھال میں صحت سے متعلق موجودہ مسائل اور شناخت کر نے کے طریقوں ، ان کو روکنے اور قابوکرنے سے متعلق تعلیم ، غذا کی سپلائی میں افزائش اور موزوں تغذیہ اور پانی اور بنیادی صفائی و ستھرائی ، ماؤں اور بچوں کی طبی دیکھ بھال، بڑے متعدی امراض اوروباؤں کے خلاف ٹیکہ کاری ، دیہی صحت میں ترقی اور ضروری ادویات کے اہتمام شامل ہے۔ معاون نرسنگ مڈوائف (ANM ) وہ اولین فرد ہے جو دیسی علاقوں میں ابتدائی طبی دیکھ بھال فراہم کرتی ہے ۔ ابتدائی طبی دیکھ بھال فراہم کرنے کے سلسلے میں گاؤں اور چھوٹے قصبوں میں اسپتال قائم کیے گئے ہیں جن کا انتظام عام طور پر ایک ڈاکٹر ، ایک نرس اور محدود مقدار میں دواؤں کے ذریعے ہوتا ہے ۔ انہیں ابتدائی مراکز صحت (PHC )کمیونٹی ہیلتھ سنٹر (CHC ) اور ذیلی مراکز کہا جاتا ہے۔ جب کسی مریض کیPHC کے ذریعہ دیکھ بھال نہیں ہو پاتی تب اسے ثانوی یا ثلاثی اسپتالوں کو بھیج دیاجاتا ہے ۔

Heelth awareness meeting
اسپتال جہاں بہتر سہولیات مہیا ہیں جیسے سرجری یا جرّاحی، X-ray ، الکٹرو کارڈ یو گرام (ECG )انہیں ثانوی طبی دیکھ بھال کے ادارے کہا جا تا ہے ۔ یہ ابتدائی صحت دیکھ بھال فراہم کار کے طور پر کام کرتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ بہترطبی دیکھ بھال سہولیات بھی فراہم کرتے ہیں ۔ یہ زیادہ تر ضلع ہیڈ کوارٹر ( صدر دفاتر ) اور بڑے شہروں میں واقع ہوتے ہیں۔ یہ سبھی ہسپتال، جن میں ترقی یافتہ سطح کے ساز و سامان اور ادویات مہیا ہوتی ہیں ان سبھی صحت سے متعلق پیچیدہ مسائل کی ذمہ داری لئے ہیں جنھیں ابتدائی اور ثانوی اسپتال انجام دینے کی حیثیت میں نہیں ہوتے انہیں ثلاثی سیکٹر میں رکھا جا تا ہے۔

تصویر میں ایک بچے کو پولیو کی دوا پلائی جارہی ہے۔
ثلاثی سیکٹر میں بہت سے اولین ادارے شامل ہوتے ہیں جو نہ صرف معیاری طبی تعلیم فراہم کرتے ہیں اور تحقیق کا اہتمام کرتے ہیں بلکہ مخصوص طبی دیکھ بھال فراہم کر تے ہیں ۔ ان میں سے کچھ ہیں : آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس،نئی دہلی، پوسٹگریجویٹ انسٹی ٹیوٹ ، چنڈی گڑھ، جواہر لعل انسٹی ٹیوٹ آف پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن اینڈ رسرچ ، پانڈ پانڈپچیری ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہائی جین ، اینڈ پبلک ہیلـتھ ، کولکاتہ۔
ماخذ: نیشنل کمیشن آف میکرو ایکونامکس اینڈ ہیلتھ 2005
پرائیوٹ سیکٹر کا صحت سے متعلق بنیادی ڈھانچہ: حال کے برسوں میں ، جبکہ سرکاری صحت کا شعبہ اتنا کامیاب نہیں رہا ہے جس کے بارے میں ہم اگلے حصے میں مطالعہ کریں گے،دوسری طرف پرائیویٹ سیکٹر کئی گنا بڑھا ہے۔ ہندوستان میں70 فی صدی سے زیادہ اسپتال پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعہ چلا ئے جارہے ہیں ۔اسپتالوں میں دستیاب تقریباً 2/5بستران کے بندوبست کے تحت آتے ہیں۔ تقریباً 60 فی صد ڈسپنسریاں اسی نجی شعبے کے ذریعہ چلائی جاتی ہیں ۔ وہ 80فی صد باہر کے مریضوں اور 46 فی صد داخل ہونے والے مریضوں کوصحت کی دیکھ بھال فراہم کرتے ہیں۔
جدول 3-8
ہندوستان میں عوامی صحت کا بنیادی ڈھانچہ2018-1951
| 2018 | 2000 | 1981 | 1951 | مدیں |
| 25-778 7-13-986 27-951 25-743 1-58-417 5-624 |
15-888 7-19-861 23-065 22-842 1-37-311 3-043 |
6-805 5-04-538 16-745 9-115 84-736 761 |
2-694 1-17-000 6-600 725 - - |
اسپتال(سرکاری) بستر (سرکاری) دواخانہ پی ایچ سی ذیلی مراکز سی ایچ سی |
نوٹ: اعداد وشمار محض سرکاری اسپتالوں تک محدو د ہیں۔
ماخذ: کلی معاشیات اور صحت پر قومی کمیشن، وزارت صحت و فیملی بہبود ، حکومت ہند ، نئی دہلی 2005
باکس 8.6 : معالجاتی یامیڈیکل سیاحت ۔ ایک عظیم موقع
آپ نے ٹی وی کی خبروں میں دیکھا اور سناہوگا یا اخباروں میں ان غیر ملکی لوگوں کے بارے میں پڑھا ہوگا جو سرجری (جراحی ) جگر کی پیوند کاری(Lever transplant )دانتوں اور حتی کہ آرائش حسن کی دیکھ بھال کے لئے ہندوستان آتے ہیں ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ ہماری صحت سے متعلق خدمات ماہر پیشہ ور افراد کی ساتھ جدید طبی ٹکنالوجیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور اس کی لاگت غیر ملکیوں کے لئے ان کے اپنے ملک میں طبی دیکھ بھال کی خدمات کی لاگتوں کے مقابلے کافی سستی ہے2016میں 2,01,000کی تعداد میں غیر ملکی ہندوستان آئے ۔ اور عین ممکن ہے یہ تعداد ہر سال 15 فی صد مزید بڑھ جائے ۔ ماہر ین پیشن گوئی کرتے ہیں کہ 2020 تک ہندوستان اس طرح کی طبی سیاحت (Medical tourism ) کے ذریعہ 500 بلین روپے کما سکے گا۔
ماخذ: وزارت برائے سیاحت، حکومت ہند؛www.grantthornton.in
موجودہ دور میں پرائیویٹ سیکٹر طبی تعلیم اور تربیت ، طبی ٹکنالوجی اور تشخیص و دواسازی سے متعلق مصنوعات اور فروخت ، اسپتالوں کی تعمیر اور طبی خدمات کے اہتمام میں غالب کردار ادا کرتا رہا ہے ۔ 02-2001 میں13 لاکھ سے زیادہ میڈیکل کاروباری ادارے تھے جس میں 22لاکھ لوگ ملازمت میں تھے ، ان میں 80 فی صد سے زیادہ واحد فرد کی ملکیت ہیں اور ایک فرد کے ذریعہ چلائے جاتے ہیں جو کبھی کبھار کسی کو ملازمت پر رکھ لیتا ہے ۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ ہندوستان میں پرائیویٹ سیکٹر کی افزائش بغیر کسی اہم ضابطہ بندی کے آزاد انہ طور پر ہوئی ہے ۔ کچھ نجی معالج رجسٹرشدہ ڈاکٹر بھی نہیں ہیں۔ اور انہیں نیم حکیم ، نقلی ڈاکٹر یا جھولا چھاپ ڈاکٹر کہا جاتا ہے۔
باکس 8.7 : حفظان صحت میںسماج اور بلامنافع کام کرنے والی تنظیمیں
حفظان صحت کے کسی اچھے نظام کا ایک اہم پہلو اس میں سماج کے لوگوں کی شرکت ہوتی ہے۔ یہ اس خیال کے پیش نظر کام کرتا ہے۔ کہ بنیادی حفظان صحت کے نظام کے لیے لوگوں کی تربیت کی جاسکتی ہے اور وہ اس میں شامل ہوسکتے ہیں۔ ہمارے ملک کے کچھ حصوں میں یہ طریقہ پہلے ہی سے استعمال کیا جارہا ہے۔ احمدآباد میں ’’سیوا‘‘ اور نیل گری میں ’’اکارڈ‘‘ ہندوستان میں کام کرنے والی ایسی چند غیرسرکاری تنظیموں کی مثالیں ہوسکتی ہیں۔ ٹریڈ یونینوں یعنی مزدوروں کی تنظیموں نے اپنے اراکین کے لیے متبادل حفظان صحت کی خدمات تیار کی ہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے آس پاس کے دیہات کے لوگوں کے لیے بھی کم خرچ اورمعقول دیکھ بھال کا انتظام اس میں شامل کیا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے معروف پہلے شہید ہسپتال ہے جو 1983میں تعمیر کیا گیا اور جسے چلانے کا کام مدھیہ پردیش کے درگ میں چھتیس گڑھ کھان شرمک (مزدور) سَنگھ کرتا ہے۔ دیہی تنظیموں نے بھی متبادل حفظان صحت کی تعمیر کی شروعات کی کچھ کوششیں کی ہیں۔ اس کی ایک مثال مہاراشٹر کے تھانے نام کے مقام میں ملتی ہے جہاں قبائلی لوگوں کی تنظیم ’’کاشتکاری سنگٹھن ‘‘ حفظان صحت کا کام کرنے والی کی تربیت گاؤں کی سطح پر کرتی ہے۔ اس کا مقصد معمولی بیماریوں کا کم سے کم خرچ پر علاج کرنا ہے۔
جدول 8.4
دیگر ملکوں کے مقابلے ہندوستان میں صحت کے اشاریے17-2015
| سری لنکا | یو ایس | چین | ہندوستان | اظہار |
| 6-4 8-8 99 99 3-9 50 |
6 6-5 99 94 17 11-1 |
7-4 6-5 100 99 5-7 36و |
30 37 81 89 3-7 65 |
نومولودبچوں کی شرح اموات فی 1000زندہ پیدائشوں پر(2018) 5سال سے کم عمر کے بچوں کی شرح اموات فی 1000زندہ پیدائشوں پر(2016) ماہر معاونین کے ذریعے انجام دی جانے والی پیدائش(2016) بچوں کی ٹیکہ کاری(2016) جی ڈی پی کے 95فی صد کی شکل میں کل سرکاری اخراجات کا طبی خرچ (فی صد)(2016) اپنی جانب سے صحت پر ذاتی خرچ کا فی صد(2016) |
ماخذ: ہیومن ڈیولپمنٹ انڈکس اینڈ انڈیکیٹرس، 2018؛ اسٹیٹی کل اپڈیٹس اینڈ ورلڈ ڈیولپمنٹ اسٹیٹکس https://apps.who.int 2018
1990 کے دہے سے نرم کاری اقدامات کے سبب بہت سے غیر مقیم ہندوستانیوں( NRI) اور صنعتی اور دواسازی سے متعلق کمپنیوں نے امیروں اور معالجاتی سیاحوں کی کشش کے مقصد سے جدید تکنیک پر مبنی ، اعلی ترین خاص الخاصSuper Speciality اسپتال قائم کیے ہیں ( دیکھئیے باکس 8.5 )۔ لیکن چونکہ غریب صرف سرکاری اسپتالوں پر انحصار کرتے ہیں ۔ اس لیے طبی دیکھ بھال فراہم کرنے میں حکومت کے کردارکی اہمیت ہوتی ہے۔
ادویہ کے ہندوستانی نظام(ISM ): اس میں چھ نظام : آیوروید ، یوگ ، یونانی، سِدّھا، نیچر و پیتھی اور ہومیو پیتھی یعنیAYUSH شامل ہیں ، ہندوستان میں اس وقت AYVSH 4095 ا سپتال ہیں، 27,951 ڈسپنسریاں اور8 لاکھ رجسٹرڈ معالج ہیں ۔ لیکن تعلیم کی معیار بندی یا تحقیق کو فروغ دینے کے ایک فریم ورک (بنیادی ساخت یا نظام) قائم کرنے کی خاطر نہ ہونے کے برابر ہی کام کیا گیا ہے۔ISM ہندوستانی طریقۂ علاج کے لیے کافی امکانات ہیں اور یہ ہمارے طبی دیکھ بھال سے متعلق مسائل کو کافی حدتک حل کر سکتے ہیں کیونکہ یہ موثر ، محفوظ اور کفایتی ہوتے ہیں۔
صحت اور طبی بنیادی ڈھانچے کے اشار یے— ایک تنقیدی جائزہ : جیساکہ پہلے بتایا گیا ہے کہ ملک کی صحت سے متعلق جائزہ جیسے بچوں کی شرح اموات اور مادری شرح اموات ، امکانات زندگی اور تغذیہ کی سطح ، ساتھ ہی ساتھ متعدی اور غیر متعدی بیماریوں کے واقع ہونے جیسے اظہاریوں کے ذریعہ لیا جا سکتا ہے۔کچھ طبی اشاریوں اور ہندوستان کی حیثیت جدول 8.4 میں دکھا ئی گئی ہے ۔ ماہرین دلیل دیتے ہیں کہ ہیلتھ سیکٹر میں حکومت کے کردار کی کافی گنجائش موجود ہے۔ مثال کے طور پر جدول میں ہیلتھ سیکٹر پر کل GDPکا 3.7فی صد خرچ دکھایا گیا ہے۔ یہ دیگر ملکوں خواہ وہ ترقی یافتہ ہوں یا ترقی پزیر، دونوں کے مقابلے بہت زیادہ کم ہے ۔
انھیں حل کریں
- اپنے پڑوس یا علاقے میں واقع ابتدائی اسپتالوں کا دورہ کیجئے۔ اس کے علاوہ نجی اسپتالوں کی تعداد، طبی لیباریٹریوں ، (Scan)اسکین کے مرکزوں، دواؤں کی دوکانوں اور اپنے محلے کی ایسی دیگر سہولتوں کی تفصیلات اکٹھا کیجئے۔
- کلاس میں ایک مباحثہ منعقد کیجئے جس کا موضوع ہو ’’کیا ہمیں ان غریب لوگوں کی دیکھ بھال کے لیے دائیوں کی ایک فوج تیار کرنی چاہیے‘‘ جن کے پاس طب کے ان ہزاروں گریجویٹوں کی خدمات حاصل کرنے کے وسائل نہیں ہیں جو ہر سال میڈیکل کالجوں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں؟
- ایک مطالعہ سے یہ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ محض طبی اخراجات ہی خط غریبی سے نیچے رہنے والے لوگوں کی آبادی میں ہر سال 2.2فی صد کی کمی کردیتے ہیں۔ کس طرح؟
- اپنے علاقے میں چنداسپتالوں کا دورہ کیجئے اور یہ پتہ چلائیے کہ کتنے بچے وہاں سے بیماریوں سے تحفظ کے ٹیکے یا دوائیں حاصل کررہے ہیں۔اسپتال کے عملے سے دریافت کیجئے کہ پانچ سال پہلے کتنے بچوں کو بیماریوں سے بچاؤ کی دوا دی گئی تھی یا ٹیکے لگائے گئے تھے۔ ان تفصیلات پر کلاس میں بات چیت کیجئے۔
- آسام میں دوطالب علموں لینا تعلق دار (16سال )سُشانتا مہنتا (16سال)کو مقامی طور پر دستیاب چند ادویاتی پودوں ، دھان کی بھوسی، اور کوڑے کرکٹ کا استعمال کرکے مچھروں کو بھگانے کے لیے جڑی بوٹیوں کا (جیگت) یا مرہم بنایا۔ ان کا تجربہ کامیاب رہا (شودھ یاترا(اختراع) ، یوجنا ، ستمبر 2005)۔ اگر آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جس کے اختراعی طریقوں کی مدد سے لوگوں کی صحت بہتر ہوجاتی ہے یا آپ اگر کسی ایسے شخص سے واقف ہیں جسے ادویاتی پودوں کا علم ہے اور وہ ان کے ذریعے لوگوں کا علاج کرتا ہے تو ایسے اشخاص سے بات کیجئے اور انھیں کلاس میں لے کر آئیے یا معلومات حاصل کیجئے کہ وہ کیوں اور کیسے بیماریوں کا علاج کرتے ہیں۔ اس معلومات کو اپنے ساتھیوں تک پہنچائیے۔ آپ مقامی اخباروں اور رسالوں کی بھی اس بارے میں لکھ سکتے ہیں۔
- کیا آپ کے خیال میں ہندوستانی شہروں کو عالمی معیار کے صحت سے متعلق بنیادی ڈھانچہ مہیاکرایاجاناچاہیے تاکہ وہ طبی سیاحت کے لیے پسندیدہ بن سکیں یا حکومت دیہی علاقوں کے لوگوں کے لیے صحت کا بنیادی ڈھانچہ مہیا کرنے پر توجہ مرکوز کرے۔ حکومت کی ترجیح کیا ہونی چاہیئے؟ مباحثہ کیجئے۔
- اپنے علاقے میں کام کرنے والے مختلف طرح کے ایک یا دو سرکاری اسپتالوں کا پتا لگائیں،نرسوں اور ڈاکٹروں کومدعو کرکے ان طریقوں اور وسائل کے بارے میں کلاس میں گفتگو کریں، جن کے ذریعے انھوںنے کووڈ 19- کی صورت حال کو منظم کیا۔
ایک مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان کی آبادی دنیا کی آبادی کا تقریباً 17 فی صد ہے لیکن یہ بیماریوں کے عالمی بار یا وزن (GBD ) کے خوفناک20 فی صد کا حا مل ہے۔(Global Burden of Diseases) بیماریوں کے عالمی بارکا ایک اشاریہ ہے جس کا استعمال ماہرین لوگوں کی اس تعداد کااندازہ لگانے کے لیے کرتے ہیں، جو کسی مخصوص بیماری کے سبب قبل ازوقت مرنے والوں کی ہوتی ہی اور بیماری کے سبب معذوری ، کی حالت میں ان کے گزارے سالوں کی تعداد ہوتی ہے۔
اس وقت 20فی صد سے بھی کم آبادی پبلک ہیلتھ سہولیات سے استفادہ کرتی ہے۔ ایک مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ صرف 38فی صد ابتدائی ہیلتھ مراکز (PHCs)میں ڈاکٹروں کی مطلوبہ تعداد ہے اور صرف 30فی صدPHCمیں دواؤں کا کافی ذخیرہ موجود ہے۔
شہری و دیہی اور غریب و امیر کی تفریق: اگرچہ ہندوستان کی 70فی صد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے، لیکن کُل اسپتالوں بشمول پرائیویٹ اسپتال کا صرف 1/5حصہ ہی دیہی علاقوں میں ہے۔ دیہی ہندوستان میں کل ڈسپنسریوں کی محض آدھی تعدادہے۔ 7.3لاکھ بستروں میں سے تقریباً 30فی صد ہی دیہی علاقوں میں دستیاب ہیں۔ گویا دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے ضروری طبی بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں ہے ۔ اس سے لوگوں کی صحت سے متعلق صورتحال میں کافی فرق پایا جاتاہے۔ جہاں تک اسپتالوں کا تعلق ہے دیہی علاقوں میں ہر ایک لاکھ لوگوں کے لیے صرف 0.36ہسپتال ہیں۔ ابتدائی ہیلتھ مراکز جو دیہی علاقوں میں واقع ہیں، وہاں X-rayیاخون جانچ کی سہولیات فراہم نہیں کی جاتی ہیں، شہر کے رہنے والوں کے لیے یہ بنیادی دیکھ بھال کی تشکیل کرتے ہیں۔ بہار، مدھیہ پردیش، راجستھان اور اترپردیش جیسی ریاستیں طبی دیکھ بھال سہولتوں میں نسبتاً کافی پیچھے رہ گئی ہیں۔ دیہی علاقوں میں، لوگوں کا فی صد جن کی مناسب دیکھ بھال تک رسائی نہیں تھی ان میں گزشتہ چند سالوں میں اضافہ ہوا۔
گاؤں والوں کی خصوصی دیکھ بھال جیسے رسائی، معالجہ اطفال، امراض نسواں، تخدیر(بے ہوشی پیدا کرنے کا انتظام اور زچگی سے متعلق مخصوص طبی سہولیات تک نہیں ہے۔ اگرچہ 530منظور شدہ میڈیکل کالج تقریباً50000 میڈیکل گریجویٹ ہرسال تیار کررہے ہیں، لیکن دیہی علاقوں میں ڈاکٹروں کی قلت اب بھی برقرار ہے۔ ان گریجویٹ ڈاکٹروں کا 1/5حصہ بہتر مالی توقعات کے لیے ملک چھوڑدیتا ہے۔ بہت سے دوسرے نجی اسپتالوں میں لگ جاتے ہیں جو کہ زیادہ تر شہری علاقوں میں واقع ہیں۔اس کی کیا وجوہات ہوسکتی ہے؟ اپنے علاقے کے ایک یا دو ڈاکٹروں سے بات چیت کیجیے اور کلاس روم میں اس سے متعلق گفتگو کیجیے۔
تحقیق کے مطابق ہندوستان کے 20فی صد غریب ترین افراد جو شہری اور دیہی علاقوں دونوں میں رہتے ہیں وہ طبی دیکھ بھال پر اپنی آمدنی کا 12فی صد خرچ کرتے ہیں جبکہ امیر صرف 2فی صد خرچ کرتے ہیں۔ جب کوئی غریب بیمار پڑتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟ بہت سے تو اپنی زمین بیچ دیتے ہیں یا علاج کے لیے اپنے بچوں تک کو گروی رکھ دیتے ہیں۔ چونکہ حکومت جو اسپتال چلاتی ہے اس میں کافی سہولیات دستیاب نہیں ہوتی ہیں۔ اس سے غریب غرباء پرائیوٹ اسپتال کو جانے کو مجبور ہوتے ہیں اور زندگی بھر کے لیے قرض دار ہوجاتے ہیں بصورت دیگر مرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔حال ہی میں ہندوستان کی حکومت نے کئی اقدامات کیے ہیں تاکہ صحت کی نگہداست کو بہتر بنایا جاسکے۔ تفصیلات جمع کیجیے اور کلاس روم میں اس پر تبصرہ کیجیے۔
انھیں حل کریں
- سالوں کے دوران صحت سے متعلق کا مجموعی درجہ یقینی طور پر بہتر ہوا ہے۔ عمر کا اوسط بڑھا ہے۔ بچوں کی اموات کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔چیچک کا خاتمہ کردیاگیا ہے، اور کوڑھ اور پولیوکو جڑ سے مٹانے کا ہدف بھی قابل حصول نظر آرہا ہے۔ یہ اعداد وشمار صرف اسی وقت اچھے نظر آتے ہیں جب آپ ان کو الگ سے یا علیحدہ کرکے تنہا طور پر دیکھیں۔ باقی دنیا سے ان کا موازنہ کیجئے۔ آپ کیا پاتے ہیں؟
- اپنی کلاس کا ایک ماہ تک مشاہدہ کیجئے اور معلوم کیجئے کہ کچھ طلباء کیوں غیر حاضر رہتے ہیں۔ اگر صحت کے مسائل کی وجہ سے ایسا ہے تو پتہ لگائیے کہ انھیں صحت سے متعلق کیا مشکلات درپیش تھیں۔ ان مشکلات کی تفصیلات ، کیئے ہوئے علاج کی نوعیت اور ان کے والدین کی علاج پر خرچ ہونے والی رقم کے بارے میں بھی معلومات جمع کیجئے۔ اس معلومات پر کلاس میں گفتگوکیجئے۔

شکل 8.10. مختلف طبی دیکھ بھال سے متعلق اقدامات کے ذریعہ مدد پہونچنے کے باوجود عورتیں اب بھی ناموافق صورتحال کا شکار ہیں ۔
عورتوں کی صحت : ہندوستان میں عورتیں کل آبادی کے تقریباً نصف حصہ کی تشکیل کر تی ہیں ۔ انہیں تعلیم ، معاشی سر گرمیوں اور طبی دیکھ بھال کے شعبوںمیں شرکت کے لیے مردوں کے مقابلے زیادہ ناموافق صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ 2011کی مردم شماری سے انکشاف ہوتا ہے کہ ملک میں بچوں کے صنفی تناسب میں گراوٹ آئی ہے۔2001 میں صنفی تناسب 927 تھا جو 2011 میں کم ہو کر914 ہو گیا اس سے ملک میں مادہ جنین کشی میں اضافے کا اظہار ہوتا ہے۔15سے19 سال کی تقریباًپانچ فی صد لڑکیاں نہ صرف شادی شدہ ہیں بلکہ کم سے کم ایک بار ماں بن چکی ہیں ۔ 15 اور 49 کی عمر کی50 فی صد سے زیادہ شادی شدہ عورتیں آئیرن کی کمی کے سبب ہونے والی خون میں سرخ زرات کی کمی کی شکار ہیں اور اس میں 2005 سے کمی نہیں واقع ہوئی ہے۔ 2019 کی جی بی ڈی تحقیق رپورٹوں کے مطابق 2007 اور 2017 دونوں سالوں میں اسقاط حمل اموات سب سے زیادہ ہوئی ہیں۔
صحت ایک اہم اچھائی اور بنیادی انسانی حق ہے ۔ سبھی شہری بہتر طبی سہولیات حاصل کرسکتے ہیں اگر صحت عامہ خدمات کوغیرمرکزی کردیا جائے ۔ امراض کے خلاف طویل مدتی جنگ میں کامیابی تعلیم اور موثر طبی بنیادی سہولیات پرمنحصر ہے ۔ لہذا صحت اور حفظان صحت کے بارے میں آگہی پیدا کرنا اور موثر نظام فراہم کرنا نہایت ضروری ہے ۔ ٹیلی کام اور انفارمیشن ٹکنالوجی(IT )کو اس عمل میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ ہیلتھ کے پروگراموںکی اثر پذیری ابتدائی حفظان صحت پر مبنی ہے۔ حتمی ہدف بہتر معیار زندگی کیطرف لوگوں کو آگے بڑھنے میں مدد فراہم کرنا ہونا چاہئے ۔ نجی و پبلک شراکت سے موثر طور پر دوا ؤں اور طبی دیکھ بھال دونوں کی معتبری ، کوالٹی، استطاعت پزیری کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔ ہندوستان میں شہری اور دیہی حفظان صحت کے درمیان نمایاں فرق پایا جاتا ہے ۔ اگر ہم مسلسل اس بڑھتے ہوئے فرق کو نظر انداز کرتے رہے توہم اپنے ملک کے سماجی و معاشی تانے بانے کو غیر مستحکم کرنے کا خطرہ لیں گے ۔ سبھی کو بنیادی حفظان صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے رسائی پذیری اور استطاعت پذیری کو صحت کے بنیادی ڈھانچے میں ضم کرنے کی ضرورت ہے ۔
8.7 اختتام
بنیادی ڈھانچے،معاشی اور سماجی دونوں، کسی ملک کی ترقی کے لئے لازمی ہوتے ہیں۔ یہ معاون نظام کے طور پر عوامل کی پیداوار یت بڑھانے اور معیار زندگی کو بہتر بنانے کے ذریعہ سبھی معاشی سرگرمیوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں ۔ آزادی کے چھ عشروں میں ہندوستان نے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں نمایاں پیش رفت کی ہے تا ہم اس کی تقسیم غیر یکساں ہے ۔ دیہی ہندوستان کے متعدد حصوں میں اب بھی اچھی سڑکوں اور ٹیلی مواصلتی سہولتوں ، بجلی، اسکولوں اسپتالوں کی ضرورت ہے ۔ جوں جوں ہندوستان جدید کاری کی طرف بڑھ رہا ہے ، معیاری ماحولیاتی اثر کو پیش نظر رکھتے ہوئے بنیادی ڈھانچہ کی مانگ میں اضافہ کی طرف توجہ دینی ہوگی۔ مختلف رعایتیں اور ترغیبات دینے کے ذریعہ اصلاحی پالیسیوں کا مقصد بالعموم پرائیویٹ سیکٹر اور بالخصوص غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ہندوستان کی جانب راغب کرنا ہے دو بنیادی ڈھانچوں یعنی توانائی اور صحت کا جائزہ لیتے وقت یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ سب کے لیئے بنیادی ڈھانچوں تک مساوی رسائی کی گنجائش اور مواقع موجود ہیں۔
خلاصہ
- بنیادی ڈھانچہ مادی سہولیات اور عوامی خدمات کا ایک نٹ ورک ہے اور اس کے ساتھ سماجی بنیادی ڈھانچہ بھی اسے سہارا دینے کے لیے اتنا ہی اہم ہے۔ ملک کی معاشی ترقی کے لیے ایک اہم بنیادہ ہے۔
- بنیادی ڈھانچے کا وقتاً فوقتاً درجہ بڑھائے جانے کی ضرورت ہے تاکہ معاشی ترقی کی اونچی شرح کو برقرار رکھا جاسکے۔ بنیادی ڈھانچے سے متعلق بہتر سہولیات کے سبب ہندوستان میں حال ہی میں زیادہ غیر ملکی سرمایہ کار اور سیاح راغب ہوئے ہیں۔
- دیہی بنیادی ڈھانچے سے متعلق سہولیات کو فروغ دینا ضروری ہے۔
- بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے پبلک اور پرائیوٹ شراکت میں ضخیم فنڈ مہیا کیا جانا ضروری ہے۔
- تیز معاشی نمو کے لیے توانائی نہایت اہم ہے۔ ہندوستان میں بجلی کی مانگ اور سپلائی( رسد) میں کافی وسیع خلا موجود ہے۔
- توانائی کے غیر روایتی ذرائع کو توانائی کی قلت دور کرنے کے لیے کافی تعاون فراہم کیا جاسکتا ہے۔
- بجلی کی سیکٹر کو بجلی پیدا کرنے، اس کی ترسیل کرنے اور تقسیم کرنے کی سطح پرمتعدد مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
- صحت انسان کی مادی اور ذہنی فلاح و بہبود کاآلۂ پیمائش ہے۔
- صحت عامہ نظام اور سہولیات آبادی کی اکثریت کے لیئے کافی نہیں ہیں(یہ علیحدہ پوائنٹ ہے) آزادی کے وقت سے صحت سے متعلق خدمات اور طبی اشار یوں میں بہتری نظر آئی ہے۔ اور طبی خدمات کے مادی اہتمام میں قابل ذکر توسیع ہوئی ہے۔
- دیکھ بھال سے استفادہ کرنے میں دیہی و شہری علاقوں کے درمیان اور غریب و امیر کے درمیان وسیع خلا پایا جاتا ہے۔
- پورے ملک میں دختر جنین کشی اور اموات کے بڑھتے معاملوں کی رپورٹ کے ساتھ عورتوں کی صحت سے متعلق امور باعث تشویش بن چکے ہیں۔
- منضبط نجی سیکٹر کی طبی خدمات صورتحال کو بہتر بناسکتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ NGOغیر سرکاری تنظیمیں اور لوگوں کی شراکت بھی طبی دیکھ بھال سہولیات اور صحت سے متعلق بیداری فراہم کرنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔
- طب کے قدرتی نظاموں کی تلاش ہونی چاہیے اور صحت عامہ کی پشت پناہی کے لیے استعمال کیئے جانے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان میں طبی سیاحت کی ترقی کے لیے کافی گنجائش موجود ہے۔
مشقیں
1 بنیادی ڈھانچے کی اصطلاح کی وضاحت کیجیے۔
2 ان دو زمروں کی وضاحت کیجیے جس میں بنیادی ڈھانچے کو تقسیم کیا جاتا ہے؟
3 بنیادی ڈھانچے سے متعلق سہولیات پیداوار کو کس طرح بڑھاتی ہیں؟
4 بنیادی ڈھانچہ کسی ملک کی معاشی ترقی میں اشتراک کرتا ہے۔ آپ کیا اس سے متفق ہیں؟ توضیح کیجیے۔
5 ہندوستان میں دیہی بنیادی ڈھانچے کی کیا حالت ہے؟
6 ہندوستان میں توانائی (energy)کی کیا اہمیت ہے؟ توانائی کے کمرشیل اور غیر کمرشیل ذرائع کے درمیان فرق کیجئے۔
7 بجلی تیار کرنے کے تین بنیادی ذرائع کیا ہیں؟
8 ترسیل اور تقسیم کے نقصانات سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ انھیں کیسے کم کیا جاسکتا ہے؟
9 توانائی کے مختلف غیر کمرشیل وسائل کیا ہیں؟
10 کیاتوانائی کے قابل تجدید وسائل کے استعمال سے توانائی کے بحران پر قابو پایا جاسکتا ہے؟ ثابت کیجئے۔
11 توانائی کا انداز صَرف پچھلے سالوں میں کسی طرح تبدیل ہواہے؟
12 توانائی کی شرح صَرف اور معاشی نمو کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں؟
13 ہندوستان میں پاور سیکٹر کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے؟
14 ان اصطلاحات پر بحث کیجئے جو ہندوستان میں توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے حال ہی میں شروع کی گئیں ہیں۔
15 ہمارے ملک کے لوگوں کی صحت سے متعلق اہم خصوصیات کیا ہیں؟
16 بیماری کا عالمی بار کیا ہے؟
17 ہمارے حفظان صحت کے نظام کی اہم خامیوں پر بحث کیجئے
18 عورتوں کی صحت کس طرح زیادہ باعث تشویش بن چکی ہے؟
19 عوامی صحت کے معنی بیان کیجئے۔ بیماریوں کو قابو کرنے کے سلسلے میں حالیہ سالوں میں حکومت کے ذریعہ اہم عوامی صحت سے متعلق اٹھائے جانے والے اقدامات پر بحث کیجیے۔
20 ہندوستانی طب کے چھ نظاموں کو درج فہرست کیجیے۔
21 ہم حفظان صحت کے پروگراموں کی اثر پزیری کوکس طرح بڑھاسکتے ہیں؟
مجوزہ اضافی سرگرمیاں
1کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے گھروں میں ایک میگاواٹ بجلی پہنچانے کے لیے 40ملین روپے خرچ ہوتے ہیں؟ ایک نئے پاور پلانٹ کی تعمیر میں لاکھوں کی لاگت آئے گی۔ کیا یہ وجہ کافی نہیں ہے کہ آپ اپنے گھر میں توانائی کی بچت شروع کریں ؟ بجلی کی بچت رقم بچاتی ہے؟ درحقیقت بجلی پیداکرنے کی نسبت بجلی کی بچت زیادہ قابل قدر ہے۔ہر بار جب بجلی کا بل آپ کے گھروں میں پہنچتا ہے، آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کو اتنی ساری بتیوں اور پنکھوں کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو تھوڑا اور زیادہ چوکس اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور سب سے بہتر بات یہ ہے کہ آپ فوری شروعات کرسکتے ہیں۔ اس کوشش میں آپ خاندان کے اور لوگوں بھی شامل کرسکتے ہیں اور پھر فرق دیکھیے۔ ایسے گھر میں بجلی کی ماہانہ کھپت تحریر کیجیے۔ توانائی کی بچت کرنے کی حکمت عملیوں کو لاگو کرنے کے بعد بل کی رقم میں فرق دیکھیے۔
2دریافت کیجیے کہ آپ کے علاقے کی ترقی میںکون سے بنیادی ڈھانچے چل رہے ہیں۔ اس کے بعد دریافت کیجئے کہ:
(i)پروجکٹ کے لیے مختص کیا گیا بجٹ کتنا ہے؟
(ii)اس کے لیے مالیات کی فراہمی کے ذرائع کیا ہیں؟
(iii)یہ کتنا روزگار پیدا کرے گا؟
(iv)اس کی تکمیل کے بعد مجموعی فوائد کیا ہونگے؟
(v) اسے پورا کرنے کے لیے کتنا وقت لگے گا؟
(vi)پروجکٹ میں کون سی کمپنی /کمپنیاںشامل ہیں؟
3 .کسی قریبی گوبر گیس پلانٹ ، تھرمل پاور اسٹیشن ، ہائیڈرو پاور اسٹیشن، نیوکلیر پاور پلانٹ کا دورہ کیجیے۔ مشاہدہ کیجیے کہ یہ پلانٹ کیسے کام کرتے ہیں؟
4اپنے پڑوس میں استعمال کی جانے والی توانائی کا سروے انجام دینے کے لیے کلاس کو گروپوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ سروے کا مقصد یہ دریافت کرنا ہونا چاہیے کہ کون سا مخصوص ایندھن آپ کے پڑوس میں زیادہ تر استعمال کیا جاتا ہے اور اس کی کتنی مقدار استعمال کی جاتی ہے۔ مختلف گروپوں کے ذریعہ گراف بنائے جاسکتے ہیں۔ اور کسی مخصوص ایندھن کو ترجیح دینے کے ممکن اسباب کا پتہ لگانے کے لیے کہاجاسکتا ہے؟
5 ڈاکٹر ہومی بھابھا جو کہ جدید ہندوستان میں توانائی کی تنصیبات کے معمار تھے ان کی زندگی اور کاموں کے بارے میں مطالعہ کیجیے۔
6آپس میں جنگ کرنے والے ممالک غیر صحت مندانہ دنیا کے موجب ہوتے ہیں، اسی طرح گمراہ کن (کج رو) رویے اوربند دماغ ذہنی عارضے کا سبب بنتے ہیںـ‘‘ کلاس روم میں اس پربحث یا مذاکرہ کیجیے۔
کتابیں
جالان ، بمل (ادارت)۔ دی انڈین ایکونامی–پرابلمس اینڈ پراسپکٹس، پنگوئین بکس، دہلی، 1993۔
کلام ، اے۔ پی۔ جے۔ عبدل اور وائی ۔ایس۔ راجن ۔ 2002۔ انڈیا 2020: اے ویزن فار دی نیو ملینیم ، پنگوئین بکس، دہلی۔
پارکھ ، کیرتی ایس۔ اور رادھا کرشنا (اشاعت) 2005۔ انڈیا ڈیولپمنٹ رپورٹ05-2004 آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، دہلی۔
حکومتی رپورٹیں
The World Health Report 2002. Reduding Risks, Promoting Healthy Life, World health Organisation, Geneva.
Report of the National Commission on Macroeconomics and health:وزارت صحت وفیملی بہبود، حکومت ہند، نئی دہلی، 2005۔
دسواں پنج سالہ منصوبہ جلد 2، پلاننگ کمیشن، حکومت ہند، نئی دہلی۔
The Indian Infrastructure Report: Policy Imperatives for Growth and Welfare 1996. Expert Group on the Commercialisation of Infrastructure Projects.جلد 1، 2اور 3، وزارت مالیات، حکومت ہند، نئی دہلی۔
ورلڈ ڈیولپمنٹ رپورٹ 2004، عالمی بینک، واشنگٹنDC۔
انڈیا انفراسٹریکچر رپورٹ 2004آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، نئی دہلی۔
ایکونامک سروے 2005-2004۔ وزارت مالیات، حکومت ہند۔
ورلڈ بینک واشنگٹن ورلڈ ہیلتھ اسٹیٹسٹک، 2014ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، جنیوا۔
نیشنل فیملی ہیلتھ سروے 16-2015 ، وزارت برائے صحت اور خاندانی بہبود، حکومت ہند
(2017) ICMR ہندوستان: Health of the Nation States: The India State Level Disease Burden Initiative, Indian Coucil of Medical Research, Public Health Foundation of India and, Institute for Health Metrics and Evaluation, New Delhi.
ویب سائٹ
توانائی سے متعلق امور پر
www.pcra.org
www.bee-india.com
www.edugreen.teri.res.in
http://powermin.nic.in
صحت سے متعلق امور پر
http://www.aiims.edu
http://www.whoindia.org
http://mohfw.nic.in
www.apollohospitalsgroup.com
www.cbhidghs.nic.in
نیشنل ہیلتھ پروفائل (NHP)آف انڈیا فار ویریس ایرس، سینٹرل بیورو آف ہیلتھ انٹلی جنس، گورنمنٹ آف انڈیا، نئی دہلی۔
