Skip to content

باب 9

ماحول اورپائیدارترقی

Hindustan_ki_maashi_taraqqi

  اس باب کے مطالعہ کے بعد طلباء

  •   ماحولیات کا تصور سمجھیں گے:
  • ماحولیاتی تنزلی اور تقلیل وسائل کے اسباب اور اثرات کا تجزیہ کرسکیں گے:
  • ہندوستان کو درپیش ماحولیاتی چیلنجوں کی نوعیت سمجھیں گے :
  • ماحولیاتی مسائل پائیدار ترقی کے وسیع ترسیاق وسباق کے ساتھ رشتہ قائم کرسکیں گے۔

’’ماحولیات کو ایسے ہی تنہا چھوڑ دیا جائے تو یہ لاکھو ں برس تک زندگی کو سہارا پہنچاتا رہ سکتا ہے۔ ا س پوری اسکیم میں نوع انسان سب سے زیادہ غیر مستحکم اور طاقتور خلل انداز عنصر ہے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ انسان کے پاس ماحول میں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر دورس اور ناقابل تنسیخ تبدیلیاں پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے‘‘   

نامعلوم 

 9.1  تعارف

پچھلے ابواب میں ہم نے ہندوستانی معیشت کو درپیش اہم معاشی امور کے بارے میں بات کی ہے معاشی ترقی جو ہم نے ابھی تک حاصل کی ہے اس کے لیے ہمیں بھاری قیمت چکانی پڑی ہے یعنی ماحولیاتی معیار کی قیمت ۔ اب جب کہ ہم عالم گیریت (Globlisation) کے دور میں داخل ہوچکے ہیں، جس سے اعلیٰ معاشی نمو کے بارے میں بڑی توقعات وابستہ کی جاتی ہیں، اس لیے ہمیں یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ترقی کی راہ سے گزرتے ہوئے اپنے ماحول پر کوئی خراب نتائج مرتب نہ ہوں اور شعوی طور قابل برقراری یاترقی کا راستہ اختیار کرنا چاہئے ترقی کی نا پائیدار راہ جسے ہم نے اختیار کیا ہے اور پائیدارترقی کی مشکلات اور مسائل کو سمجھنے کے لیے ہمیں پہلے معاشی ترقی کے تئیں ماحول کے اہمیت اور اشتراک کو سمجھنا ہوگا۔ ذہن میں یہ بات رکھتے ہوئے اس باب کو تین سیکشن میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصے میں ماحول کے عمل اور کردار کے بارے میں بات کی گئی ہے، دوسرے سیکشن میں ہندوستان کے ماحول سے متعلق صورت حال اور تیسرے سیکشن میں پائیدار ترقی کو حاصل کرنے کے اقدامات اور حکمت عملیوں پر بات کی گئی ہے۔

 9.2   ماحولیات  –  تعریف اور عمل

ماحولیات کو کل ارضی میراث اور تمام وسائل کی کلیت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے اس میں حیاتیاتی اور غیر حیاتیاتی عوامل شامل ہیں جو ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ سبھی جاندار عناصر جیسے پرندے ، حیوانات، پودے، جنگلات، اور ماہی پروری وغیرہ حیاتیاتی عناصر ہیں۔ غیر حیاتیاتی عناصر میں ہوا، پانی، زمین وغیرہ شامل ہیں۔ چٹان اور سورج کی روشنی وغیرہ سب ماحول کے غیر حیاتیاتی عناصر کی مثالیں ہیں۔ اس طرح ماحول کے مطالعہ کو ماحول کے ان حیاتیاتی اور غیر حیاتیاتی اجزاء کے درمیان باہمی رشتوں کا مطالعہ کہا جاتا ہے۔

ماحولیات کے منصبی کام:   ماحول چار انتہائی اہم عمل انجام دیتا ہے (i)اس سے وسائل فراہم ہوتے ہیں جس میں قابل تجدید اور ناقابل تجدید وسائل شامل ہوتے ہیں۔ قابل تجدید وسائل وہ ہیں جنہیں قلیل یا ختم ہونے کے امکان کے بغیر استعمال کیا جاتا ہے یعنی وسائل کے مسلسل فراہم ہونے کے لیے دستیابی باقی رہتی ہے ۔قابل تجدید وسائل کی مثالیں ہیں جنگلات کے درخت اور سمندروں میں مچھلیاں جب کہ دوسری طرف ناقابل تجدید وسائل وہ ہیں جو استحصال اور استعمال کے ساتھ ختم ہونے لگتے ہیں۔ مثال کے لیے رکازی ایندھن (ii)یہ کچرے کو اپنے میں  جذب کرلیتی ہیں(iii)جیناتی اور حیاتی تنوع فراہم کرکے یہ زندگی کوبرقرار رکھتاہے۔(iv) اوریہ منظر وغیرہ جیسی جمالیاتی خدمات بھی فراہم کرتا ہے۔

PIC_81
شکل 9.1.

PIC_2انہیں حل کریں

  •      پانی کیوں ایک کاروباری شے بن گئی ہے؟ بحث کیجیے
  •      درج ذیل جدول میں امراض اور بیماریوں کے کچھ ان عام اقسام کو پُر کیجیے۔ جو ہوا ،پانی اور صوتی آلودگی کے سبب ہوتی ہے۔

  • شورآلودگی آبی آلودگی ہوائی آلودگی 
    ہیضہ دمہ


باکس9.1  :   عالمی حدت

عالمی حدت، کرہ ارض کے نچلے درجہ حرارت میں گرین ہاؤس گیسوں میں اضافے کے نتیجے میں ہونے والا اضافہ ہے۔ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج صنعتی انقلاب کے نتیجے میں ہوا ہے ۔ حال ہی میں مشاہدہ کی گئی اور تخمینہ شدہ ارضی افزائش زیادہ تر انسانی تحریص کا نتیجہ ہے رکازی ایندھنوں کے جلانے اور جنگلات کے کٹاؤ (Deforestation)کے ذریعہ کاربن ڈائی آکسائڈ اور دیگر گرین ہائوس گیسوں میں انسانوں کے ذریعہ اضافہ کیے جانے کے سبب یہ واقع ہوتی ہے دیگر تبدیلیوں کے نہ ہونے کے ساتھ کاربن ڈائی آکسائیڈ ، میتھین اور ایسی دیگر گیسوں (جن میں حرارت کو جذب کرنے کی امکانی صلاحیت ہوتی ہے) فضا میں شامل ہونے پر ہمارے کرہ ارض کی سطح گرم ہوجاتی ہے 1750سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور CHکا فضائی ارتکاز قبل صنعتی سطحوں کے اوپر الترتیب 31فی صد 1.41فی صد بڑھا ہے۔پچھلی صدی کے دوران فضائی درجہ حرارت (o.cc.)1.IFبڑھا ہے اور سمندری سطح کچھ انچ تک بڑھ گئی ہے ۔ گلوبل وارمنگ کے کچھ طویل مدتی نتائج سمندری سطح اور ساحلی پانی کے بہائو میں اضافے کے ساتھ قطبی برف کا پگھلاؤ؟ برف کے پگھلنے پر موقوف پینے کے پانی کی فراہمی میں خلل اندازی؟ خصوصی ماحولیاتی کردار کے ختم ہونے کے طور پر انواع کی معدوی بار بار آنے والے سرطانی طوفان اور سرطانی بیماریوں کے بڑھتے واقعات ہیں۔
گلو بل وارمنگ بڑھانے والے عوامل میں کوئلے اور پٹرولیم اشیا (کاربن ڈائی آکسائیڈ ،سیتھین نائٹری آکسائیڈ اوزون کے ذرائع) کو جلانا، ازالہ جنگلات (جنگلات کاصفایا) ان سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھتی ہے ۔ میتھین گیس جانوروں کے فضلے سے نکلتی ہے اورمویشیوں کی پیداوار میں اضافے کی وجہ سے جنگلات کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ میتھین گیس رکازی ایندھن کے استعمال سے بھی خارج ہوتی ہے۔1997میں آب وہوائی تبدیلی پر اقدام متحدہ کا کانفرنس کویٹو ،جاپان میں منعقد ہوئی جس کے نتیجے میں عالمی حدت سے نمٹنے کا بین الاقوامی معاہدہ ہوا جس میں  صنعتی ملکوں کے ذریعہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کی بات کہی گئی ۔
ماخذ:   www.wikipedia.org 





باکس9.2  :  تقلیل اوزون

فضاکی بالائی سطح میں اوزون کی مقدار میں کمی کو تقلیل اوزون کہتے ہیں۔ اوزون کی تقلیل کا مسئلہ فضائے قائمہ میں گلورین اور برومین مرکبات کی اونچی سطحوں کے سبب پیدا ہوتا ہے ان مرکبات کے ماخذ گلور وفلور کاربن (CFC)ہیں ۔ جو کہ ایر کنڈیشنوں اور ریفریجریٹروں ، ٹھنڈا کرنے والی اشیاء یا ایروسول پراپلینٹس کے طور پر اور برموکلورو کاربنوں (Halons)کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ اور برموفلور کاربن (ہلیوفس) آتش فرد میں استعمال کیا جاتا ہے اور زون سطح کی تقلیل کے نتیجے میں زیادہ بالائے بنفشی (UV)شائع کرہ ارضی پر زیادہ پہونچتی ہیں اور جاندار عضویات کو نقصان پہنچنے کا موجب ہوتی ہیں۔ بالائے بنفشی شعاع انسانوں میں بظاہر جلد کے کینسر کے لیے ذمہ دار ہیں۔ یہ نبات تیرا کہ (پانی پر تیرتے ہوئے نہیں خورد نبات(Phytoplankton)کی پیداوار کو کم کرتے ہیں ۔اور اس طرح دیگر آبی عضویات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ ارضیاتی پودوں کی نمو پر بھی اثر ڈالتے ہیں 1979تا 1990اوزون پرت میں تقریباً 5فیصد کی کمی کا پتہ لگاہے چونکہ اوزون پرت ارضی فضا کے ذریعہ گزرنے سے بالائے بنفشی روشنی کی زیادہ نقصان دہ طول موج کوروکتے ہیں اوزون میں مشاہدہ کی گئی اور پروجکٹ کی گئی کمی پوری دنیا کے لیے باعث تشویش ہے۔ اس کلوفولوروکاربن (CFS) مرکبات ساتھ ہی ساتھ دیگر اوزون تقلیل کرنے والے کیمیکل جیسے کابن ٹیڑا کلورائیڈ ٹرائی کلورتھن (جیسے میتھابل کلوروفارم کے طور پربھی جانا جاتا ہے) اور برومائی مرکبات جسے بیلون کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ کہ استعمال پر بندش لگاتے ہوئے روی طور طریقے اپنائے جانے کی ضرورت ہے۔
ماخذ:   www.ceu.hu


ماحول اس وقت تک یہ عمل بلا رکاوٹ کے انجام دیتا رہتا ہے جب تک کہ ان کاموں کی مانگ کو پورا کرنے کی استعداد اس میں موجود ہو۔ اس کے معنی ہیں کہ وسائل کا استحصال یا استخراج وسائل کی بازتخلیق کی شرح سے اوپر نہ ہو اور جو فضلات بنتے ہوں وہ ماحولیات کی جذب کرنے کی گنجائش کے تحت ہی ہوں اگر ایسا نہیں ہوتا تب ماحول اپنے تیسرے اور زندگی کو برقرار رکھنے کے اپنے نازک واہم کام میں ناکام ہوجاتا ہے اور اس کا نتیجہ ماحولیاتی بحران کی صورت میں نکلتا ہے۔آج پوری دنیا میں یہی صورت حال ہے۔ ترقی پذیر ممالک کی بڑھتی آبادی اور ترقی یا فتہ ملکوں کے فراواں صرف اور پیداوار کے معیارات کے سبب اس کے پہلے دو عمل کے لحاظ سے ماحولیات پر زبردست دباؤ پڑا ہے۔ بہت سے وسائل معدوم ہوتے جارہے ہیں اور کچرا یا فضلات جونکلتے ہیں ،وہ ماحول کی انجذابی استعداد کے بس کے باہر ہیں انجذابی استعداد یا گنجائش (Absorptive capacity)انجذاب تحلیل کے تئیں ماحول کی اہلیت۔ آج نتیجہ یہ ہے کہ ہم ماحولیاتی بحران کے دہلیز پر کھڑے ہیں۔ موجودہ ترقی کے سبب ندیاں اور دیگر آبی ذخائر آلودہ اور خشک ہوگئے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہواہے  کہ پانی ایک معاشی (کاروباری) شے بن چکی ہے اس کے علاوہ قابل تجدید اور  ناقابل  تجدید وسائل دونوں کے ہی انتہائی اور وسیع استحصال کے سبب ان سے کچھ اہم وسائل ختم ہوگئے ہیں اور ہم ٹکنالوجی اور نئے وسائل کو تلاش کرنے میں کافی رقم خرچ کرنے پر مجبور ہیں ۔ ان میں تنزل شدہ ماحولیاتی کوالٹی کے وسیع مصارف شامل ہوجاتے ہیں۔ فضائی معیار اور آبی معیار(ہندوستان میں70فی صد پانی آلودہ ہوچکا ہے) میں تنزلی کا نتیجہ سانس کی بیماریوں اورآلودہ پانی سے ہونے والے بیماریوں میں اضافے کی شکل میں ہوا ہے ۔ لہذا صحت پر ہونے والے اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں۔ معاملات کو مزید ابتر بنانے میں عالمی ماحولیاتی امور جیسے گلوبل وارمنگ (عالمی حدت) اور اوزون تقلیل بھی حکومت کے لیے ماحولیاتی ذمہ داریوں کو بڑھانے میں شامل ہیں اس طرح یہ بات صاف ہے کہ منفی ماحولیاتی اثرات کا لاگت بدل(Opportunity Costs)بہت زیادہ ہوتا ہے۔
سب سے بڑا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ماحولیاتی مسائل اس صدی کے لیے نئے ہیں، اگر ایسا ہے تو کیوں؟ اس سوال کے جواب کے لیے کچھ تفصیل میں جانے کی ضرورت ہے۔ابتدائی دنوں میں جب محض تہذیب وتمدن کی شروعات ہوئی تھی یا آبادی میں اس غیر معمولی اضافے سے پہلے اور ملکوں میں صنعت کاری اپنائے جانے سے پہلے ماحولیاتی وسائل اور خدمات کے لیے مانگ ان کی رسد سے کافی کم تھی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آلودگی ماحول کی انجذابی اہلیت وگنجائش کے اندر تھی اور وسائل کے استخراج کی شرح ان وسائل کی تخلیق کی شرح سے کافی کم تھی۔ لہذا ماحولیاتی مسائل نہیں پیداہوتے تھے۔ لیکن صنعتی انقلاب کی آمد اور آبادی میں غیر معمولی اضافے کے ساتھ بڑھتی آبادی کی بڑھتی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے چیزیں تبدیل ہوئیں۔ اس کا نتیجہ پیداوار اور صرف دونوں کے لیے وسائل کی ما نگ ،وسائل کی باز تخلیق کی شرح سے کافی آگے نکل گئی۔ ماحول کی انجذابی استعداد پر دباؤ زبردست طریقے سے بڑھا۔ یہ رجحان آج بھی جاری ہے اس طرح جو واقع ہوا وہ یہ کہ ماحولیاتی معیار کے لیے رسد ومانگ کا رشتہ الٹا ہوگیا۔ اب ہم ماحولیاتی وسائل اور خدمات میں بڑھتی مانگ کا سامنا کررہے ہیں اور ان کی سپلائی ضرورت سے زیادہ استعمال اور غلط وناجائز استعمال کی وجہ سے محدود ہوگئی ۔لہذا فضلے کی تخلیق اور آلودگی سے متعلق ماحولیاتی امور آج بہت نازک بن چکے ہیں۔
PIC_82
شکل. 9.2     دامودر گھاٹی ہندوستان کے انتہائی صنعتی خطوں میں سے ایک ہے۔ دامودر ندی کے کناروں پر بھاری صنعتوں سے آلودگی کرنے والے مادے ماحولیاتی تباہی میں منتقل ہورہے ہیں۔

9.3   ہندوستان میں ماحولیات کی حالت

ہندوستان کے پاس مٹی کی بہتر کوالٹی ،سیکڑوں ندیوں اور معاون ندیوں ،ہرے بھرے جنگلات ،زمینی سطح کے نیچے معدنی ذخائر کی بہتات ،بحر ہند کے وسیع پھیلاؤ ، پہاڑوں وغیرہ کے سلسلوں کی شکل میں کافی قدرتی وسائل موجود ہیں۔ دکن پٹھار کی کالی مٹی کپاس کی کاشت کے لیے خاص طور پر موزوں ہے اس سے اس خطے میں ٹکسٹائل صنعتوں کا ارتکاز ہوتا ہے ہند گنگا میدان بحر عرب سے خلیج بنگال تک پھیلا ہوا ہے وہ دنیا میں نہایت زرخیز، کستی یا غالی کاشت کئے جانے والے اور گھنی آبادی والے خطے ہیں۔ ہندوستان کے جنگلات کی تقسیم حالانکہ غیر یکساں ہے لیکن اس کی آبادی کی اکثریت کے لیے سبز پوشش اور اس کی جنگلی حیات کو قدرتی پوشش فراہم کرتے ہیں ملک میں کچھ صاف کوئلہ اور قدرتی گیس کے بڑے ذخیرے پائے جاتے ہیں۔ ہندوستان کے پاس دنیا کے کل معدنی کچے دھات کا اکیلے تقریباً 20فی صد ذخیرہ پایا جاتا ہے باکسائیٹ ،تانبہ ،کروسیٹ ، ہیرا ،سونا ،جستہ ، لگنایت، مینگانیز، زنک،یورنیم وغیرہ بھی ملک کے مختلف حصوں میں دستیاب ہیں تاہم ہندوستان میں ترقیاتی سرگرمیوں کا نتیجہ انسانی صحت وبہبود پر پڑ نے والے اثرات پیدا کرنے کے علاوہ اس کے محدود قدرتی وسائل پر دبائو کی صورت میں نکلتا ہے۔ ہندوستان کو دونوعی یعنی غربت حائل ماحولیات میں تنزلی اور ساتھ ہی ساتھ افراط اور تیزی سے بڑھتے صنعتی شعبے سے پیدا ہونے والی آلودگی کے خطرات در پیش ہیں ۔فضائی آ لودگی، آبی آلودگی، مٹی کا کٹاؤ،  ازالہ جنگلات کا کٹاؤ اور جنگلی حیات کا اختتام ہندوستان کی بعض انتہائی دبائو والی ماحولیاتی تشویش ہے ترجیحی امور کی جوشناخت کی گئی ہے وہ ہیں:(i)زمین تنزلی (ii)حیاتیاتی تنوع کا نقصان (iii)شہری علاقوں میں گاڑیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی کے خصوصی حوالے کے ساتھ فضائی آلودگی (iv)تازے پانی کا مینجمنٹ ہندوستان کو زمین کی مختلف درجوں اور اقسام بالخصوص غیر مستحکم استعمال اور غیر مناسب مینجمنٹ سے پیدا ہونے والی تنزلی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
زمین کی تنزلی کے لیے جو عوامل ذمہ دار ہیں وہ ہیں (i)ازالہ جنگلات کے سبب واقع ہونے والے نباتات کا نقصان(ii)ناپائیدار ایندھن لکڑی اور چارے کے لیے استحصال(iii)انتقالی زراعت (iv)جنگلات کی زمینوں پر قبضہ (v)جنگل کی آگ اور حد سے زیادہ چرائی (vi)غیر مناسب فصل گردانی(vii)زرعی کیمکلوں جیسے فرٹلائیزروں اور کیڑے مار ادویات کا غیر موزوں استعمال(ix)غیر مناسب منصوبہ بندی اور آبپاشی نظاموں کا مینجمنٹ (x)بارآور کرنے کی صلاحیت سے زیادہ زیر زمین پانی کا نکالا جانا(xi)وسائل کی کھلی رسائی(xii)زراعت پر منحصر لوگوں کی غربت۔
PIC_83
شکل9.3.      ازالہ جنگلات سے زمین کی تنزلی ،حیاتی تنوع کانقصان اور ہوائی آلودگی واقع ہوتی ہے۔

ہندوستان دنیا کے تقریباً 17فی صد انسانوں اور20فی صد مویشیوں کی آبادی کی کفالت کرتا ہے جب کہ اس کے پاس دنیا کے جغرافیائی علاقے کا صرف 2.5فی صد ہے آبادی اور مویشیوں کا بہت زیادہ گھناپن اور جنگل بانی زراعت، چراگاہوں، انسانی آبادیوں کے لیے زمین کے مسابقتی استعمال اور صنعتیں ملک کے محدود زمین وسائل پر زبردست دبائو پیدا کرتے ہیں۔
ملک فی کس جنگلاتی زمین مطلوبہ بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے0.47سیکٹر کے مقابلے صرف 0.07ہیکڑ  ہے۔ اس کا نتیجہ قابل اجازت مقررہ حد سے تقریباً15ملین مکعب میٹر زائد کٹائی کی صوت میں نکلا ہے۔
مٹی کے کٹاؤ سے پتہ چلتا ہے کہ ہرسال پورے ملک میں5.3بلین ٹن کی شرح سے مٹی کا کٹاؤ ہو رہا ہے اس کے نتیجے میں ملک میں 0.8ملین ٹن نائیٹروجن، 1.8ملین ٹن فاسفورس اور26.3ملین ٹن پوٹاشیم کا ہرسال نقصان ہوتا ہے۔ حکومت ہند کے مطابق ہر سال مٹی کے کٹاؤ سے تغذی نقصان 5.8تا8.4ملین ٹن ہے۔

باکس9.3چیکو یا اپیکو۔ نام میں کیا ہے؟

آپ چپکو تحریک سے واقف ہونگے جس کا مقصد ہمالیہ میں جنگلات کا تحفظ ہے کرناٹک میں ایک اسی طرح کی تحریک نے ایک مختلف نام اپیکو(Appico)اختیار کیا۔ جن کا مطلب گلے لگانا ہے ۔ 8ستمبر1983میں جب سرسی ضلع میں سلکانی جنگلی میں پیڑوں کا کاٹا جانا شروع ہوا تھا ،160مرد عورتیں اور بچے پیڑوں سے لپٹ گئے اور پیڑ کاٹنے والوں کو اسے چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ انہوں نے اگلے چھ ہفتوں تک جنگل میں نگرانی رکھی۔ محکمہ جنگلات کے افسروں نے جب رضاکاروں کو یقین دلایا کہ پیڑ سائنٹفک طریقے سے اور ضلع کے ورکنگ منصوبے کے لحاظ سے کاٹے جائیں گے تبھی انہوں نے پیڑوں کو چھوڑا۔
PIC_84
جب ٹھیکداروں کے ذریعہ پیڑوں کو کاروباری لحاظ سے گرائے جانے سے قدرتی جنگلات کو کافی مقدار میں نقصان اٹھانا پڑا تبھی لوگوں کے پیڑ وں کو گلے لگانے کے تصور نے ان کے اندر امیداور اعتماد پیدا کیا کہ وہ جنگلات کی حفاظت کرسکتے ہیں۔ اس خاص واقعے پر پیڑوں کا کاٹنا رک گیا۔ لوگوں نے12,000درخت بچائے۔ کچھ ہی مہینے میں یہ تحریک بہت سے متصل اضلاع میں پھیل گئی ۔
ایندھن کی لکڑی اور صنعتی استعمال کے لیے پیڑوں کو کاٹے جانے کا نتیجہ بہت سے ماحولیاتی مسائل کی شکل میں نکلا۔ اتر کنارا علاقے میں ایک کاغد مل قائم کرنے کے بارہ سال بعد اس علاقے سے بانس بالکل ختم ہوگئے۔ ’’چورے پتیوں والے پیڑ جو بارش کی بھر پور یورش سے مٹی کی راست حفاظت کرتے تھے وہ ختم ہوگئے مٹی بہہ گئی اور محض لیٹرائیٹ مٹی رہ گئی۔ اب گھاس پھوس کے علاوہ کچھ نہیں اگایا جاسکتا ۔ ایک کسان کا کہنا ہے کسانوں کی یہ بھی شکایت تھی کہ ندیاں اور چھوٹے دریا تیزی سے خشک ہوتے جارہے ہیں اور بارش غیر یقینی اور غیر مستقل ہوتی جا رہی ہے بیماریاں یا کیڑے جو پہلے نامعلوم تھے اب فصلوں پر حملہ کررہے ہیں۔
اپیکو رضا کارچاہتے ہیں کہ ٹھیکے دار اور محلہ جنگلات کے عہدیداروں کو بعض ضوابط وبندشوں کی پابندی کرنی چاہیے۔ مثال کے طور پر پیڑ کاٹنے سے پہلے مقامی لوگوں سے صلاح لی جانی چاہیے اور آبی وسائل سے 100 میٹر تک کے فاصلے پر آنے والے یا 30ڈگری سے زیادہ کی ڈھلان پر کھڑے پیڑوں کو نہیں کاٹا جائے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ حکومت صنعتوں کو جنگلاتی زمین صنعتی خام مواد کے طور پر جنگلاتی مواد کا استعمال کرنے کے لیے مختص کرتی ہے اگر کوئی کاغذ کی مل 10000ورکروںکوملازمت دیتی ہے یا پلائی ووڈ فیکٹری 800 لوگوں کو ملازمت دیتی ہے لیکن اگر اس سے 10 لاکھ لوگوں کو اپنی یومیہ ضروریات سے محروم ہونا پڑتا ہے ، تو کیا یہ قابل قبول ہے؟ آپ کیا سمجھتے ہیں۔

 ماخذ:    State of India's Environment 2: The Second Citizens' Report 1984-85; Centre for Science and Environment, 1996, New Delhi.


ہندوستان میں ہواکی آلودگی شہری علاقوں میں بڑے پیمانے پر ہے جہاں گاڑیاں اس کی زیادہ بڑی وجہ ہیں اور کچھ دیگر علاقے جہاں صنعتوں اورحرارتی بجلی پلانٹوں کا زیادہ ارتکاز ہے گاڑیوں سے نکلنے والے دھویں اس کی خاص وجہ ہیں کیونکہ یہ بنیادی سطح کے وسائل ہیں اور ا س طرح عام آبادی پر اس کا خاص اثر پڑتا ہے۔ موٹر گاڑیوں کی تعداد1951میں تقریباً 3لاکھ تھی جو2016میں23کروڑ ہوگئی۔2016میں ذاتی ٹرانسپورٹ گاڑیاں (صرف دو پہیوں والی اور کاریں )کل رجسٹرڈ گاڑیوں کی تقریباً80فی صد کی تشکیل کرتی ہیں اس طرح کل ہوائی آلودگی بار میں نمایاں طور پر اشتراک کرتی ہیں۔

PIC_2انہیں حل کریں

  •        معاشی ترقی میں ماحول کے اشتراک کے قدرشناسی کے سلسلے میں طلبا کو اہل بنانے کے لحاظ سے درج ذیل کھیل کا تعارف کرایا جاسکتا ہے ایک طالب علم کسی انٹرپرائیز کے ذریعہ استعمال کیے جانے والے پروڈکٹ کا نام لے سکتا ہے۔ اور دیگر طالب علم اس فطرت اور کرہ ارضی میں اس کے ماخذ کا پتہ لگاسکتا ہے۔

  • فولاد    اور   ربڑ  ٹرک
    زمین معدن لوہا  اسٹیل
    زمین جنگلات پیڑ ربڑ
    زمین
    پھل
    پیڑ کاغذ کتابیں
    فطرت پودے کپاس کپڑے
    زمین پٹرول 
    زمین معدن لوہا مشینری
  •         ایک ٹرک ڈرایئیور کوچالان کے طور پر 1,000روپے ادا کرنے تھے کیونکہ اس کا ٹرک کالا دھواں چھوڑ رہا تھا۔ آپ کے خیا ل میں کیوں اس پر جرمانا لگایا گیا تھا؟ کیا اس کا جواز تھا؟ بحث کیجیے۔

باکس9.4   :   آلودگی کنٹرول بورڈ

ہندوستان میں دو بڑے ماحولیاتی مسائل یعنی آبی اورہوائی یافضائی آلودگی کے حل کے سلسلے میں حکومت نے 1975میں مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (CPCB)قائم کیا اسی طرح ریاستوں نے ریاستی سطح پر سبھی ماحولیاتی امور کے حل کے سلسلے میں بورڈ قائم کیے۔ وہ پانی ،فضائی اور زمینی آلودگی سے متعلق معلومات کی تفتیش کرتے ہیں ،جمع اور تشہیر کرتے ہیں سیویج (گندے پانی کی نکاسی) تجارتی یا صنعتی فضلات اور خارج ہونے والی اشیاء کے لیے معیارات نافذ کرتے ہیں۔ یہ بورڈ آبی آلودگی کی روک تھام ،کنٹرول اور تخفیف کے ذریعہ نالوں اور کنوئوں کی صفائی ستھرائی کو فروغ دینے اور ملک میں فضائی معیار کو بہتر بنانے اور فضائی آلودگی کی روک تھام، کنٹرول یا تخفیف میں حکومتوں کوتکنیکی مدد فراہم کرتے ہیں۔
یہ بورڈ آبی اور ہوائی آلودگی سے متعلق مسائل کی تفتیش اور تحقیق اور ان کی روک تھام کنٹرول یا تخفیف کو انجام دیتے ہیں اور ان کی سرپرستی کرتے ہیں یہ ماس میڈیا (ابلاغ عامہ) کے ذریعہ اس کے لیے ایک جامع عوامی آگہی پر وگرام کا بھی انعقاد کرتے ہیں یہ سیویج اور صنعتی فضلات سے کچھ سے نمٹنے اور برتنے سے متعلق مینوئل کوڈ رہنما اصول تیار کرتے ہیں۔
صنعتوں کے لیے ضابطہ بندی کے فضائی معیار کا جائزہ لیتے ہیں۔ درحقیقت اپنے ضلعی سطح کے عہدیداروں کے ذریعہ ریاستی بورڈ اپنے دائرہ اختیار میں وقتاً فوقتاً ہر صنعت کی جانچ پرکھ کرتے ہیں تاکہ فضلات اور گیس کے اخراج سے نمٹنے کے لیے تدبیر سے متعلق اقدامات کے متناسب ہونے کا جائزہ لے سکیں۔ یہ صنعتی مقام اور شہری منصوبہ بندی کے لیے ضروری فضائی کوالٹی ڈیٹا کے لیس منظر بھی فراہم کرتے ہیں۔
آلودگی کنٹرول بورڈ آبی آلودگی سے متعلق تکنیکی اور شماریاتی ڈیٹا کو جمع کرتے ہیں ،جانچ اور تشہیر کرتے ہیں125ندیوں (بشمول معاون دریا) کنوئوں ،جھیلوں ،چھوٹی کھاڑی، تالابوں ،چھوٹے تالابوں ،نکاسی اور نہروں میں پانی کوالٹی کی نگرانی کرتے ہیں۔
  •          ایک قریبی فیکٹری  کے  آبپاشی محکمہ کا دورہ کیجیے اور ان کی اقدامات کی تفصیل جمع کیجیے جو وہ آبی اور ہوائی آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لیے اپنا تے ہیںـــــ۔ 
  •          آپ نے آبی اور ہوائی آلودگی سے متعلق آگہی پروگراموں پر اخباروں ،ریڈیو اور ٹیلی ویژن یا بل بورڈوں (اشتہار کے لیے بورڈ) پر اشتہار دیکھے ہونگے ۔ خبروں کے کچھ تراشوں ،پمفلٹ اور دیگر معلومات کو جمع کیجیے اور اس پر کلاس روم میں بحث کیجیے۔

ہندوستان دنیا کے دس اہم صنعتی ملکوں میں سے ایک ہے ۔ لیکن یہ حیثیت غیر مطلوبہ اور ناگہان صورتحال ، جیسے غیر منصوبہ بند شہرکاری، آلودگی اور حادثات کو اپنے ساتھ لائی ہے مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ(CPCB)نے صنعتوں کے سترہ زمروں کے (بڑے منجھلے پیمانے کے) کی شناخت کی ہے جونمایاں طور پر آلودگی پھیلانے والے ہیں۔(دیکھیں باکس 45-9)
درج بالانکات ہندوستان کے ماحول کے لیے چیلنج پر روشنی ڈالتے ہیں ۔وزارت ماحولیات اور مرکزی اور ریاستی کنٹرول بوڈروں کے ذریعہ اس سلسلے میں اٹھائے گئے متعد اقدامات اس وقت تک کوئی نتیجہ نہیں پیدا کرسکتے جب تک ہم شعوی طور پر  پائیدار ترقی کاراستہ نہ اپنائیں۔ آئندہ نسلوں کا خیال رکھنے سے ہی ترقی کو ہمیشہ جاری رکھاجا سکتا ہے بعد کی نسلوں کا خیال رکھے بغیر ہماری موجودہ طرز زندگی کا معیار بڑھانے کے لیے ترقی وسائل کو ختم کردے گی اور اس رفتار سے ماحولیاتی تنزلی ہوگی جس کا یقینی نتیجہ ماحولیاتی اور معاشی بحران کی شکل میں نکلے گا۔

PIC_2انہیں حل کریں

  •         کسی قومی روزنامہ میں فضائی آلودگی کی پیمائش پر ایک کالم دیکھ سکتے ہیں نیوز مدوں کو دیوالی سے پہلے ایک ہفتے پہلے اور دیوالی کے ایک دن کے بعد اور دیوالی کے دوران کے بعد کا ٹیں کیا آپ قدرمیں کسی نمایاں فرق کا مشاہدہ کرتے ہیں؟ کلاس میں بحث کیجیے۔

9.4    پائیدار ترقی

ماحولیات اور معیشت ایک دوسرے پر منحصر ہیں اور دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے لہذا وہ ترقی جو ماحولیات پراس کے رد عمل یعنی بالواسطہ اثر  کو نظر انداز کردیتی ہے وہ ماحول کو تباہ کردے گی جو کہ زندگی کی مختلف شکلوں کو سہارا دیتا ہے لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ  پائیدار ترقی اپنائی جائے : ترقی جس میں  بعد کی نسلوں کے لیے اس اوسط معیار زندگی کا امکان ہوسکتا ہے یعنی کم از کم اتنا زیادہ جتنا کہ موجودہ نسلیں اس سے استفادہ کررہی ہیں۔ پائیدارترقی کے تصور کے بارے میں ماحولیات اور ترقی پر اقوام متحدہ کی کانفرنس میں زور دیا گیا تھا جس میں اس کی توضیح اس طرح کی گئی تھی: ترقی جو موجودہ نسلوں کی ضرورت کو بعد کی نسلوں کی ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی اہلیت سے سمجھوتہ کیے بغیر پورا کرتی ہے۔ 
اس تعریف کو پھر پڑھیے آپ غور کریں  گے کہ تعریف میں اصطلاح ضرورت، اور محاورہ ’بعد کی نسلیں‘ کلیدی الفاظ ہیں۔ تعریف میں، ضرورتوں ،کے تصور کا استعمال وسائل کی تقسیم سے وابستہ ہے بنیادی رپورٹ ، ہمارا مشترکہ مستقبل جس میں اوپر کی رپورٹ کی تعریف دی گئی ہے اس میں تحفظ پسندانہ ترقی کی توضیح بھی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے اور بہتر زندگی کے لیے ان کی آرزوئوں کی تسکین کے تمام مواقع فراہم کرنے کے طور پر کی گئی ہے لیکن تقسیمی وسائل کے لیے بھی مطلوبہ ضرورتوں کو پورا کرنا اس طرح ایک اخلاقی امر ہے ایڈورڈ بار بیر نے تحفظ پسندانہ ترقی کی تعریف اس طرح کی ہے کہ وہ جو بالکل بنیادی سطح پر غریبوں کے مادی معیار زندگی میں اضافہ کرتی ہے اس کی پیمائش اضافی آمدنی ،اصل آمدنی ،تعلیمی خدمات ،طبی دیکھ بھال، صفائی ستھرائی پانی کی سپلائی وغیرہ کی حوالے سے کی جاسکتی ہے۔ زیادہ مخصوص معنوں میں تحفظ پسندانہ ترقی کا ہدف جاری اور محفوظ ذریعہ معاش فراہم کرنے کے ذریعہ غریبوں کی مطلق غریبی کو کم کرنا ہے جس سے وسائل کا ختم ہونا ماحولیاتی تنزلی، ثقافتی انتشار اور سماجی عدم استحکام کم ترین ہوسکتے ہیں۔ اس مفہوم میں تحفظ پسندانہ ترقی وہ ترقی ہے جو سبھی کی خاص طور پر غریب اکثریت کی روزگار ،غذا ، توانائی ،پانی ،اقامت کاری کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرے۔ اور ان ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے زراعت، صنعتکاری ،پاور اور خدمات کی افزائش کو یقینی بنائے۔
برنٹ لینڈ کمیشن نے بعد کی نسلوں کے تحفظ پر زیادہ زور دیا ہے یہ ماہرین کی ماحولیات کی دلیلوں کے عین مطابق ہے جو زور دیتے ہیں کہ ہماری اخلاقی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم کرہ ارض کو آنے والی نسلوں کو بہتر حالت میں سونپیں یعنی موجودہ نسلو ںکو بعد کی نسلوں کے لیے بہتر ماحول منتقل کرنا چاہئے۔ کم سے کم ہمیں اگلی نسلوں کے لیے معیار زندگی کے اثاثوں کا ذخیرہ اس حالت میں چھوڑ نا چاہئے جیسا ہم نے خود وراثت میں پایا ہے۔
موجودہ نسلوں کو ترقی کو اس طرح آگے بڑھانا چاہئے جو کہ قدرتی اور بنائے ہوئے ماحول کی قدروں میں اضافہ درج ذیل توافق کے ساتھ کرے۔ (i)قدرتی اثاثوں کا تحفظ(ii)دنیا کے قدرتی ماحولیاتی نظام کی باز تخلیقی صلاحیت کا تحفظ(iii)بعد کی نسلوں پر اضافی نقصان یا جو کمیوں کے عائد کرنے سے احتراز۔ 
ایک ممتاز ماحولیاتی ماہر معاشیات ہرمن ڈلی کے مطابق  پائیدار ترقی حاصل کرنے کے لیے درج ذیل چیزیں کرنے کی ضرورت ہے۔ (i)ماحول کارکردگی انجام دینے کی صلاحیت واستعداد کے اندر ہی انسانی آبادی کو محدو د کرنا۔ ماحول کی کارکردگی انجام دینے کی اہلیت جہاز کے پانی میں اترنے کے مقررہ حد کو ظاہر کرنے والے نشان کی طرح ہے جو کہ اس کے بارکی گنجائش کی حد ہے۔ معیشت کی عدم موجودگی میں انسانی پیمانہ ززین کی کار کردگی کی گنجائش سے اوپر بڑھتا ہے اور تحفظ پسندانہ ترقی سے انحراف کرتا ہے ۔(ii)تکنیکی ترقی مادخل کارگزار ہونی چاہئے نہ کہ مادخل صرف کرنے والی۔(iii)قابل تجدید وسائل کو قابل برقراری یا تحفظ پسندانہ بنیاد پر استعمال کیا جانا چاہئے۔ یعنی استحصال کی شرح باز تخلیق کی شرح سے تجاوز نہ کرے۔ (v)آلودگی سے پیدا ہونے والے مسائل کودرست کیا جانا چاہئے۔(vi)2015 میں اقوام متحدہ (UN) نے سال 2030 تک حاصل کیے جانے والے17 مستقل ترقی پذیر ہدف تیار کیا تھا - ان اھداف کی تفصیل جمع کریں اور ہندوستان کے پس منظر میں اس پر گفتگو کریں-

9.5   پائیدار ترقی کے لیے حکمت عملی

توانائی کے غیر روایتی وسائل کا استعمال :    ہندوستان جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اپنی بجلی سے متعلق ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے حرارتی اورپن بجلی پلانٹوں پر کافی انحصار کرتا ہے۔ یہ دونوں ضررساں ماحولیاتی اثرات پیدا کرتے ہیں۔ پاور پلانٹ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کافی مقدار خارج کرتے ہیں۔ جو کہ گرین ہائوس گیس ہے یہ دھواں بھی پیدا کرتے ہیں۔ اگر مناسب طور پر ان کا استعمال نہ کیا جائے تو یہ آبی ذخائر، زمین ، اور ماحول کے دیگر اجزائی آلودگی کا سبب بن سکتے ہیں ہائیڈروالکٹرک پروجکٹ جنگلات پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اور آبگیر ہ  علاقوں اور ندی کے طاسوں اور قدرتی بہائو میں خلل اندازی کرتے ہیں بادی اور شمسی توانائی روایتی بجلی کی اچھی مثالیں ہیں حالیہ سالوںمیں ان توانائی وسائل کا فائدہ اٹھانے کی کچھ کوششیں کی جارہی ہیں۔ اپنے علاقے میں موجود کسی بھی اکائی کی تفصیل جمع کریںاور کلاس میں گفتگو کریں۔

دیہی علاقوں میں ایل پی جی اور گوبر گیس :   دیہی علاقوں کے گھروں میں عام طور پر ایندھن کے طور پر لکڑی ،گوبر یا دیگر بایوماس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس عمل کے کئی خراب اثرات مرتب ہوتے ہیں جیسے جنگلات کی کٹائی ،سبز پوشش میں کمی مویشیوں کے فضلے کا  زیاں  اور فضائی آلودگی اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے معاونت یافتہ ایل ڈی جی فراہم کی جارہی ہے مزید برآں گوبر گیس پلانٹ آسان قرضوں اور سبسڈی (اعانت) کے ذریعہ فراہم کیے جارہے ہیں۔ جہاں تک مائع میں تبدیل پیٹرولیم گیس (L.P.G)کا تعلق ہے یہ صاف ستھرا یندھن ہے یہ کافی حد تک گھریلو آلودگی میں کمی پیدا کرتا ہے اس کے علاوہ توانائی کے زیاں کو بھی کم ترین کیا جاتاہے گوبرگیس پلانٹ کے عمل کے لیے مویشی کے گوبر پلانٹ میں بھرے جاتے ہیں اور گیس تیار کی جاتی ہے جس کا استعمال ایندھن کے طور پر کیا جاتا ہے جب کہ گیلی کھاد جوبچ جاتی ہے وہ نہایت عمدہ نامیاتی فرٹلائیزر اور مٹی کو ہموار کرنے والا مادہ ہے۔

شہری علاقوں میں سی این جی:    دہلی میں کمپریسڈ نیچرل گیس (CNG) کا پبلک ٹرانسپورٹ نظام میں ایندھن کے طور پر استعمال نے ہوائی آلودگی میں نمایاں طور پر کمی پیدا کی ہے اور پچھلے کچھ سالوں ہوا زیادہ صاف ہوگئی ہے۔کئی ہندوستانی شہروں میں CNG کا استعمال شروع ہو چکا ہے۔

PIC_85
شکل9.4.    گوبرگیس پلانٹ جس میں ایندھن پیدا کرنے کے لیے مویشی کا گوبر استعمال کیا جاتا ہے۔

انہیں حل کریں

  •    دہلی کی بسوں اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں میں پٹرول یا ڈیزل کے بجائے ایندھن کے طور پر CNGکا استعمال کیا جاتا ہے : بعض گاڑیوں میں تبدیل پذیر انجن کا استعمال کیا جاتا ہے شمسی توانائی کا استعما ل گلیوں کی روشنی لیے کیا جاتا ہے ان تبدیلیوں کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں ؟ ہندوسان میں پائیدار ترقی کی ضرورت پر کلاس میں مذاکرہ کرنے کا اہتمام کیجیے۔

بادی قوت :   وہ علاقے جہاں ہواکی رفتار عام طور پر زیادہ ہوتی ہے وہاں پون چکیاں ماحول پر بغیر کسی خراب اثر کے بجلی فراہم کرتی ہیں ہواکے زور سے چلنے والی چرخی ہوا کے ساتھ حرکت کرتی ہیں اوربجلی پیدا کی جاتی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی ابتدائی لاگت بہت زیادہ ہوتی ہے لیکن فوائد بھی اس لحاظ سے اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ اونچی لاگتوں کو آسانی سے جذب کرلیتے ہیں۔

فوٹووولٹک سیل کے ذریعہ شمسی توانائی:  ہندوستان میں سورج کی روشنی کی شکل میں شمسی توانائی کی بڑی مقدار قدرتی طور پر موجود ہے ہم اسے مختلف طریقے سے استعمال کرتے ہیں مثال کے ہم کپڑے اور اناج سکھاتے ہیں روز مرہ کے استعمال کے لیے دیگر زرعی پیداوار اور ساتھ ہی ساتھ مختلف اشیاتیار کرتے ہیں سردیوں میں ہم گرمی پانے کے لیے دھوپ کا استعمال کرتے ہیں ضیائی تالیف انجام دینے کے لیے پودے شمسی توانائی کااستعمال کرتے ہیں۔ اب فوٹووولٹائی سیلوں کی مدد سے شمسی توانائی کو بجلی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے یہ سیل شمسی توانائی کو تصر ف میں لینے کے لیے مختلف قسم کے مواد کا استعمال کرتے ہیں اور اس کے بعد توانائی کو بجلی میں تبدیل کرتے ہیں یہ ٹکنالوجی دور دراز کے علاقوں کے لیے جہاں گرد یہا پاور لاینوں کے ذریعہ پاور کی سپلائی ممکن نہیں ہے یا زیادہ مہنگی ثابت ہوتی ہے۔ وہاں کے لیے نہایت مفید ہے ۔یہ ٹکنالوجی آلودگی سے بھی بالکل پاک ہے۔ حالیہ برسوں میں ہندوستان شمشی توانائی کے ذریعے بجلی کی پیداوار میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہندوستان عالمی شمشی اتحاد (ISA) نام کے ایک عالمی کارپوریشن کی بھی رہنمائی کر رہا ہے۔

چھوٹے ہائیڈل پلانٹس:  پہاڑی خطوں میں جہاں تقریباً ہرجگہ چشمے پائے جاتے ہیں اس میں چشموں کا ایک بڑا فی صد دوامی ہے ۔چھوٹے ہائیڈل پلانٹ چھوٹے چرخیوں کو حرکت دینے کے ذریعہ اس طرح کے چشموں کی توانائی کا استعمال کرتے ہیں ٹربائن (چرخیاں)بجلی پیدا کرتی ہیں جن کا استعمال مقامی طور پر کیا جاسکتا ہے اس طرح کے پاورپلانٹ کم وبیش ماحول موافق ہوتے ہیں کیونکہ یہ ان علاقوںمیں زمین کے استعمال کے انداز کو تبدیل نہیں کرتے وہ مقامی مانگ کو پورا کرنے کے لیے کافی بجلی (توانائی) کی تخلیق کرتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بڑے پیمانے کے ٹرانسمیشن ٹاوروں اور تاروں کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں اور ٹرانسمیشن سے بچتے ہیں ۔

روایتی علم اور عمل:   روایتی طور پر ہندوستان کے لوگ ماحولیات کے قریب رہتے ہوئے اس کے جز بنے رہے ہیں  نہ کہ اس کے کنٹرولر (اس پر اختیار رکھنے والے) اگر ہم ماضی میں اپنے زرعی نظام پر طبی دیکھ بھال کے نظام اوراقامت کاری وغیرہ پر نظر ڈالیں تب ہم پاتے ہیں کہ سبھی رواج ماحولیات کے موافق اور دوستانہ رہے ہیں۔صرف ابھی ہم نے روایتی نظاموں سے انحراف کیا ہے اور ماحولیات اوراپنی دیہی میراث کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کے موجب ہوئے ہیں اب وقت ہے کہ ہم اس نظام پر واپس جائیں ۔ایک اچھی مثال طبی دیکھ بھال کی ہے۔ ہندوستان اس لحاظ سے بہت فائدے میں ہے کہ یہاں تقریباً15000 قسم کی جڑی بوٹیاں موجود ہیں جن میں تقریباً 8000 جڑی بوٹیاں لوک روایت والی دواؤں سمیت مختلف دوائیں بنانے میں مستقل استعمال ہوتی ہیں۔ علاج کے مغربی نظام کی اچانک یورش کے سبب اہم اپنے روایتی نظاموں جیسے آیوروید،یونانی، تبتی اور لوک نظاموں کو نظر انداز کررہے ہیں ان طبی دیکھ بھال کے نظاموں کی مانگ دائمی صحت سے متعلق مسائل کے علاج کے لیے پھر بڑھ رہی ہے آج کل سنگار کے سامان کے جیسے ہیرآئل ،ٹوٹھ پیسٹ ،باڈی لوشن ،چہرے کی کریم وغیرہ وغیرہ کی ترکیب میں جڑی بوٹیاں شامل ہوتی ہے یہ اشیا نہ صرف ماحول موافق ہوتی ہیں بلکہ نسبتاً ضمنی اثرات (ذیلی تاثیر ) سے پاک ہوتی ہیں اور اس میں بڑے پیمانے پر صنعتی اور کیمیکل عمل کاری نہیں شامل ہوتی ہے ۔

نامیاتی اجزاء کی ملی جلی کھاد:   زرعی پیداوار کو بڑھانے کی جستجو میں تقریباً پچھلے پانچ دہوں میں ہم نے ملی جلی کھاد سے استعمال کو تقریباًپوری طرح نظر انداز کیا ہے اور اس کی جگہ مکمل طور پر کیمیکل فرٹلایزروں نے لے لی ہے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پیداوار ی زمین کے وسیع خطوں پر اس کا خراب اثر پڑا ہے۔کیمیاتی آلودگی کے سبب آبی ذخائر بشمول زیر زمین پانی نظام کو نقصان پہنچا ہے اور آبپاشی کے لیے مانگ سال درسال بڑھتی  جارہی ہے۔ 

پورے ملک میں بڑی تعداد میں کسانوں نے مختلف قسم کی نامیاتی تضیع یا فضلات سے مبنی ملی جلی کھاد کا استعمال شروع کردیا ہے ملک کے بعض حصوں میں مویشیوں کی دیکھ بھال اس لیے کی جاتی ہے کیونکہ ان سے گوبر حاصل ہوتا ہے جو کہ اہم کھاد اور مٹی کوزرخیرکرنے والی شے ہے۔
کیچوے نامیاتی مادے کو عام کمپوسٹ ملی جلی کھاد بنانے کے عمل کی نسبت کمپوسٹ میں بڑی تیزی سے منتقل کردیتے ہیں اس عمل کو اب بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے بالواسطہ طور پر اس سے شہری انتظامیہ کو بھی فائدہ پہنچتا ہے کیونکہ انہیں فضلات کی کم مقدار کو نمٹانا ہوتا ہے۔

بایوپیسٹ کنٹرول:   سبز انقلاب کے ظہور کے ساتھ پورا ملک بہت زیادہ پیداوار کے لیے کیڑے مار دواؤں کے استعمال کے جنون میں مبتلا ہوگیا۔ جلدہی خراب اثرات دکھنا شروع ہوئے غدائی اشیا آلودہ ہوگئی مٹی،آبی ،ذخائر اور زیر زمین پانی بھی حشرات کش اور ادویات سے آلودہ ہوگیا دوھ ،گوشت اور مچھلیوں میں بھی آلودگی پائی گئی۔

اس چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے پیسٹ کنٹرول کے بہتر طریقوں کے کوششیں کی جارہی ہیں ایک اسی طرح کی شروعات پودوں ،نیم کے درختوں پر مبنی کیڑے مار دواؤں کا استعمال جو کہ کافی مفید ثابت ہورہی ہیں پیسٹ کنٹرول کرنے کی مختلف اقسام کیمیکلوں کو نیم کے ذریعہ جدا کردیا جاتا ہے اور انہیں استعمال کیا جاتاہے۔ ایک ہی زمین میں متواتر کئی برسوںتک مخلوط فصلوں اور مختلف فصلوں کو اگانے سے بھی کسانوں کو مدد ملی ہے۔
مزید برآں مختلف جانور او رپرندے جو پیسٹ کنٹرول کرنے میں مددگار ہیں ان کے بارے میں بھی معلومات وسیع ہورہی ہیں مثال کے لیے سانپ جانوروں کا سب سے اہم گروپ ہے جو چوہوں ،چھچھوندر ،جنگلی چوہے اور دیگر حشرات کا شکار کرتا ہے اسی طرح پرندوں کی مختلف اقسام جیسے الو اور مور ضروریاں کیڑے مکوڑوں کا شکار کرتے ہیں اگر انہیں زراعتی علاقوں کے آس پاس رہنے دیا جائے تب یہ حشرات کی بڑی اقسام جن میں کرم بھی شامل ہیں کو صاف کرسکتے ہیں گرگٹ اور چھپکلی بھی اس لحاظ سے اہم ہیں ہمیں ان کی قدر کرنے اور انہیں بچانے کی ضرورت ہے۔
پائیدار ترقی آج کا عام محاورہ بن چکا ہے ترقیاتی فکر وعمل میں ایک مثالی تبدیلی کی واقعی ضرورت ہے اگر چہ مختلف طریقوں سے اس کی توضیح کی گئی ہے لیکن اس راہ کی پیروی بھی پائیدار ترقی اور بہبود کو یقینی بناتی ہے۔

9.6    اختتام

معاشی ترقی جس کا مقصد اشیا اور خدمات کو بڑھانا ہوتا ہے تاکہ بڑھتی آبادی کی ضرورتوں کو پورا کیا جاسکے، اس کا زبردست دباؤ ماحولیات پر پڑتا ہے ۔ترقی کے ابتدائی مراحل میں ماحولیاتی وسائل کے لیے مانگ اس کی رسد کے مقابلے کم تھی ۔ اب پوری دنیا کو ماحولیاتی وسائل کے لیے بڑھی مانگ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ جب کہ ان کی رسد ضرورت سے زیادہ استعمال اور ناجائز استعمال کے سبب کافی محدود ہے ۔پائیدار ترقی کا مقصد اس طرح کی ترقی کو آگے بڑھانا ہے جو ماحولیاتی مسائل کو کم تر کرسکے اور موجودہ نسل کی ضرورتوں کو آئندہ کی نسلوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی استعداد کے ساتھ کوئی سمجھوتا کیے بغیر پورا کرسکے۔

PIC_9خلاصہ

  •         ماحولیات چار عمل انجام دیتا ہے :وسائل فراہم کرتا ہے ،فضللات کو جذب کرتا ہے، جینی اور حیاتی تنوع کی فراہمی کے ذریعہ زندگی کو تقویت دیتا ہے اور جمالیاتی خدمات فراہم کرتا ہے۔
  •        آبادی میں غیر معمولی اضافہ ،فراواں صرف اور پیداوار کے سبب ماحولیات پر زبردست دباؤ پڑا ہے۔
  •         ہندوستان میں ترقیاتی سرگرمیاں انسانی صحت وبہبود پر اثر انداز ہونے کے علاوہ اس کے محدود قدرتی وسائل پر بھی زبردست دباؤ پیدا کرتی ہیں۔
  •        ہندوستان کے ماحولیات کے لیے خطرات دو جہتی ہیں ۔غریبی مائل ماحولیاتی تنزلی کا خطرہ اور کثیر اور تیزی سے بڑھتے صنعتی سے ہونے والی آلودگی کا خطرہ۔
  •           مختلف اقدامات کے ذریعہ حالانکہ حکومت نے ماحولیات کے تحفظ کے لیے کوشش کی ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ پائیدار ترقی کی راہ اپنائی جائے۔
  •           پائیدار ترقی وہ ہے جو بعد کی نسلوں کی ہونے والی ضرورتوں کو پورا کرنے کی اہلیت سے سمجھوتا کیے بغیر موجودہ نسلوں کی ضرورت پوری کرسکے۔
  •         قدرتی وسائل کے فروغ تحفظ ،ماحولیاتی نظام کی مکرر تخلیقی صلاحیت کو محفوظ کرنے اور مستقبل کی نسلوں پر ماحولیاتی جوکھم عائد کرنے سے بچنے کے ذریعہ ہی پائیدارترقی جاری رہ سکے گی۔

PIC_8مشقیں



 1    ماحولیات سے کیا مراد ہے؟
2    کیا واقع ہوتاہے جب وسائل کے استحصال کی شرح اس کی باز تخلیق کی شرح سے تجاوز کرجائے؟
3    درج ذیل کو قابل تجدید اور ناقابل تجدید وسائل میں درجہ بند کیجیے۔
      (i) درخت (ii)   مچھلی (iii)   پیٹرولیم(iv)   کوئلہ (v)   خام لوہا (iv)  پانی۔
4    آج دنیا کو دو بڑے ماحولیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے––––––––  
      اور––––––––  
5    درج ذیل عوامل کس طرح ہندوستان میں ماحولیاتی بحران پیدا کرنے میں معاون ہوتے ہیں؟ حکومت کے لیے وہ کیا مسئلہ پیدا کرتے ہیں؟
    (i)  بڑھتی آبادی
    (ii) ہوامیں آلودگی
    (iii) آبی آلودگی
    (iv) کثیر صرفی معیارات
    (v) ناخواندگی
    (vi) صنعت کاری
    (vii) شہر کاری
    (viii) جنگلاتی پوشش میں کمی
    (ix) خلاف قانون شکا
    (x) عالمی حدت(گلوبل وارمنگ )
6    ماحولیات کے عمل کیا ہیں؟
7    ہندوستان میں زمینی تنزلی میں اشتراک کرنے والے چھ عوامل کی شناخت کیجیے۔
8    منفی ماحولیاتی اثر ات کی لاگت بدل(Opportunity Cost)کیوں زیادہ ہوتی ہے وضاحت کیجیے۔
9    ہندوستان میں پائیدار ترقی حاصل کرنے میں شامل اقدامات کا خانہ بنا ہے۔
10    ہندوستان کے پاس فراواں قدرتی وسائل ہیں اس بیان کے لیے دلائل دیجیے۔
11    کیا ماحولیاتی بحران ایک حالیہ مظہر ہے ؟اگر ایسا ہے تو کیوں؟
12    درج ذیل کی دومثالیں دیجیے۔
(a)      ماحولیاتی وسائل کا زائد استعمال
(b)      ماحولیاتی وسائل کا ناجائز استعمال
13    ہندوستان کے کوئی چار فوری توجہ طلب ماحولیاتی مسائل بیان کیجیے۔ چار ماحولیاتی نقصانات جس میں لاگت بدل شامل ہو اس کی ا صلاح۔ وضاحت کیجیے۔
14    ماحولیاتی وسائل کی رسد ومانگ کا معاملہ اب الٹا ہوگیا ہے اس کی وضاحت کیجیے۔
15    موجودہ ماحولیاتی بحران ماحولیاتی مسائل کے کیسے ذمہ دار ہیں ،سمجھائیے۔
16    ہندوستان میں ترقی کے دو شدید مخالف ماحولیاتی مضمرات پر روشنی ڈالیے۔ ہندوستان کے ماحولیاتی مسائل دو نوعی زمرہ بندی میں سامنے آتے ہیں  - غریبی مسائل اور ساتھ ہی ساتھ معیارات زندگی میں فراوانی کے سبب کیا یہ صحیح ہے؟
17    پائیدار ترقی کیا ہے؟
18    اپنے محلے کو ذہن میں رکھتے ہوئے پائیدارترقی کی کوئی چار حکمت عملیاں بیان کیجیے۔
19    پائیدار ترقی کی تعریف میں بین نسلی مناسبت کی وضاحت کیجیے۔

PIC_2مجوزہ اضافی سرگرمیاں


 1     فرض کیجیے بڑے شہروں کی سڑکوں پر ہر سال70لاکھ کاریں شامل ہوجاتی ہیں کسی قسم کے وسائل آپ کے خیال میں ختم ہوتے جارہے ہیں؟بحث کیجیے
 2      ان مدوں کی فہرست بنایے جن کے باز گردانی کی جاسکتی ہے۔
 3       ہندوستان میں مٹی کی فرمائش کے اسباب اور تدابیر پر ایک چارٹ تیار کیجیے۔
 4      آبادی میں غیر معمولی اضافہ کس طرح ماحولیاتی بحران میں معاون ہوتا ہے ؟ کلاس روم میں بحث کیجیے۔
 5      ماحولیاتی نقصانات کی اصلاح کے لیے فلک کو بھاری قیمت چکانی ہے بحث کیجیے۔
6       ایک پیپر فیکٹری آپ کے گائوں میں قائم کی جانی ہے ایک سرگرم کارکن ایک صنعت کار اور گاؤں والوں کے گروپ پر مشتمل کرداروں سے متعلق ڈرامے کی مشق کا اہتمام کیجیے۔

PIC_7حوالہ جات


کتابیں

اگر وال ، انیل اور سنیتا نارائین، 1996، گلوبل وارمنگ ان اَین اکیول ورلڈ سنٹر فارسائنس اینڈ انوائرنمنٹ ، مکرر اشاعت، نئی دہلی۔
بھروچا، ای۔ 2005 ٹکسٹ بک آف انوائرنمنٹل اسٹڈیز فار انڈر گریجویٹ کورسز، پریس ، یونیوورسٹیز(انڈیا) پرائیویٹ لمٹیڈ۔
سنٹر فار سائنس اینڈ انوائرنمنٹ،1996اسٹیٹ آف انڈیا انوائرنمنٹ
 1:دی فرسٹ سٹیزن رپورٹ 1985۔ مکرر اشاعت ، نئی دہلی۔
سنٹر فار سائنس اینڈ انوائرنمنٹ، 1996، اسٹیٹ آف انڈیا انوائرنمنٹ
 2:دی سیکنڈ سٹیزن رپورٹ 1985، دوبارہ اشاعت، نئی دہلی۔
کارپاگم ، ایم۔2001انوائرنمنٹل ایکونامکس: اے ٹکسٹ بک، اسٹرلنگ پبلشر، نئی دہلی۔
رام گوپالن۔ آر۔ 2005، انوائرنمنٹل اسٹڈیز : فرام کرائسس ٹوکیور۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، نئی دہلی۔
اسکومیکر، ای۔ ایف۔ اسمال اِز بیوٹیفُل، اباکس پبلشرس، نیویارک ۔

رسائل

سائنٹیفک امریکن، انڈیا، اسپیشل ایشو، ستمبر2005
ڈاؤن ٹو ارتھ ، سنٹر فار سائنس اینڈ انوائرنمنٹ، نئی دہلی۔

ویب سائٹیں

http://envfor.nic.in
http://cpcb.nic.in
http://www.cseindia.org