Skip to content

Hindustan_ki_maashi_taraqqi

ہندوستان کے ترقیاتی تجربات:

 ہمسایہ ملکوں کے ساتھ موازنہ

Comparative 

Development Experience of India 

 And its Neighbours

  اس باب کے مطالعہ کے بعد طلباء 

  • ہندوستان اور اسکے پڑوسیوں، چین اور پاکستان کے مختلف معاشی اور انسانی ترقیاتی اشاریوں میں تقابلی رجحانات کو سمجھیں گے؛
  •   ان حکمت عملیوں کی جانچ کرسکیں  گے جو ان ملکوں نے ترقی کی اپنی موجودہ حالت تک پہنچنے کےلئے اختیار کی ہیں۔

جغرافیہ نے ہمیں پڑوسی بنایا ہے۔ تاریخ نے ہمیں دوست، معاشیات نے ہمیں شریک کار اور ضرورتوں نے ہمیں ایک حلیف بنایا ہے۔ وہ جن کو خدا نے اس طرح باہم ملایا ہے کوئی شخص انھیں ایک دوسرے سے الگ نہ کرے۔ 

جان۔ ایف۔کنیڈی  

 10.1  تعارف

پچھلی اکائیوں میں ہم نے تفصیل کے ساتھ ہندوستان کے ترقیاتی تجربے کا مطالعہ کیا۔ ہم نے ان پالیسیوں کا بھی مطالعہ کیا جن کا اثر مختلف سیکٹروں میں کئی طرح سے پڑا، پچھلے دو دہوں میں معاشی کایا پلٹ جو پوری دنیا میں مختلف ملکوں میں واقع ہو رہا ہے، کسی حد تک عالم گیریت کے سبب ہے جس کا قلیل مدتی اور ساتھ ہی طویل مدتی نتیجہ ہر ملک مع ہندوستان کے ظاہر ہوگا۔ سرد جنگ کے دور کے بعد ممالک بنیادی طور مختلف ذرائع اپنانے کی کوشش کرتے آرہے ہیں جس سے ان کی اپنی داخلی معیشتیں مضبوط ہونگی۔ اس مفہوم میں وہ علاقائی اور عالمی گروپنگ کی تشکیل کررہے جیسے سارک، یوروپی یونین، ایسیان (Asean) G20, G8 وغیرہ۔ مزید برآں، مختلف ملکوں کی طرف سے ان کے پڑوسی ملکوں کے ذریعہ اختیار کیے گئے ترقیاتی عمل کاریوں کو پرکھنے اور سمجھنے کی بڑھتی خواہش سے بھی ان کی اپنی طاقت اور کمزوریوں کو جاننے اور اس کے بالمقابل اپنے پڑوسیوں کی طاقت اور کمزوریوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ گلوبلائزیشن کے پھیلتے عمل میں اسے ترقی پذیر ملک خاص طور پر ضروری سمجھتے ہیں۔ کیونکہ وہ نہ صرف ترقی یافتہ ملکوں سے مسابقت کا سامنا کرتے ہیں بلکہ ترقی پذیر دنیا کے ذریعہ استفادہ کی جانے والی نسبتاً محدود وسعت میں ان کے درمیان بھی مسابقت ہے۔ اپنے پڑوس میں دیگر معیشتوں کو سمجھنے کے علاوہ خطے کی کل اہم یکساں معاشی سرگرمیوںکو بھی سمجھا جائے جو مشترکہ ماحول میں مجموعی انسانی ترقی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
اس باب میں ہم ہندوستان اور اس کی سب سے بڑی دوہمسایہ معیشتوں یعنی پاکستان اور چین کے ذریعہ اختیار کی گئی ترقیاتی حکمت عملیوں کا موازنہ کریں گے۔ بہر حال یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ان کے طبعی خصوصیات سے مزین ہونے کے علاوہ ان کے اور ہندوستان کے سیاسی نظام کے درمیان شاید ہی کوئی بات مشترک ہو۔ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے جو پچھلے پچاس سالوں سے ایک سیکولر اور انتہائی آزاد خیال آئین کے ساتھ وابستہ ہے جبکہ پاکستان کا سیاسی ڈھانچہ آمرانہ عسکری سیاسی اقتدار پر مبنی ہے یا چین میں جو حاکمانہ معیشت (Command Economy)تھی،اسے ابھی حال ہی میں ازسر نو آزادانہ بنانے کی شروعات ہوئی ہے۔

10.2   ترقیاتی راہ- ایک سرسری جائزہ

کیا آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان، پاکستان اور چین کی ترقیاتی حکمت عملیوں میں بہت یکسانیت ہے؟ ان تینوں ملکوں نے اپنی ترقیاتی راہ ایک ساتھ شروع کی۔ ہندوستان اور پاکستان 1947 میں آزاد ہوئے۔ عوامی جمہوریہ چین 1949 میں قائم ہوا تھا۔ اس وقت ایک تقریر میں جواہر لعل نہرو نے کہا تھا۔ ’’چین اور ہندوستان میں یہ نئی اور انقلابی تبدیلیاں اگرچہ متن کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں تاہم یہ ایشیا کے اس نئے طرز ، فکر واحساس اور نئی قوت کی علامت ہیں جو ایشیا کے ممالک میں ظاہر ہورہی ہیں‘‘۔
ان تینوں ممالک نے اپنی ترقیاتی حکمت عملیوں کی منصوبہ بندی ایک ہی انداز میں شروع کی تھیں، جبکہ ہندوستان نے اپنے پہلے پنج سالہ منصوبے کا اعلان 1951 تا 1956 کے لیے کیا، پاکستان نے اپنا پہلا پنج سالہ منصوبہ جسے آج وسط مدتی ترقیاتی منصوبہ کہا جاتا ہے 1956میں شروع کیا۔ چین نے اپنے پہلے پنج سالہ منصوبے کا اعلان 1953 میں کیا۔2018  میں پاکستان نے بارھویں پنج سالہ ترقیاتی منصوبے (19-2018) کا آغاز کیا۔ جبکہ چین بھی اپنے چودصویں  پنج سالہ منصوبہ2025-2021 پر کام کررہا ہے ہے، ہندوستان میں حالیہ منصوبہ بندی بارھویں پنج سالہ منصوبے مارچ 2017 تک ہندوستان ڈیولپمنٹ ماڈل پر مبنی پنج سالہ منصوبہ پر عمل کر رہا ہے جوسال17-2012 پر مبنی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان نے ایک جیسی حکمت عملیاں اپنائیں جیسے وسیع پبلک سیکٹر کی تخلیق اور سماجی ترقی پر سرکاری اخراجات میں اضافہ کرنا۔ 1980 کے دہے تک سبھی تین ممالک میں یکساں شرح نمو اور فی کس آمدنیاں تھیں۔لیکن ایک دوسرے کے مقابل آج وہ کہاں کھڑے ہیں؟ اس سوال کا جواب دینے سے قبل ہمیں چین اور پاکستان میں ترقیاتی پالیسیوں کی تاریخی راہ تلاش کرنی ہوگی۔ پچھلی تین اکائیوں کے مطالعے کے بعد ہم پہلے ہی سے جانتے ہیں کہ ہندوستان نے اپنی آزادی کے بعد کون سی پالیسیاں اپنائی ہیں۔
چین:   ایک پارٹی کے زیر حکمرانی عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد معیشت کے سبھی اہم سیکٹروں، کاروباری اداروں، زمینوں کو جو افراد کی ملکیت اور زیر نگرانی تھیں، حکومت کے کنٹرول میں لایا گیا۔ آگے کی طرف عظیم حبست (Great Leep Forward)(GLF) مہم 1958 میں شروع ہوئی جس کا مقصد ملک میں بڑے پیمانے پر صنعت کاری کو انجام دینا تھا۔ لوگوں کی اپنے مکان کے عقبی صحن میں صنعتیں قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ دیہی علاقوں میں کمیونوں (Commune)  کی شروعات کی گئی۔ کمیون نظام کے تحت لوگ اجتماعی طور پر زمینوں کی کاشت کرتے ہیں۔1958 میں 26,000 کمیون تھے جو کہ تقریباً سبھی زرعی آبادی کا احاطہ کرتے ہیں۔
GLF مہم کے ساتھ متعدد وسائل سامنے آئے۔ شدید خشک سالی کے سبب چین میں زبردست تباہی ہوئی تقریباً 30 ملین لوگ مارے گئے۔ جب روس کا چین کے ساتھ تنازعہ شروع ہوا تب روس نے اپنے ان پیشہ ور ماہرین کو واپس بلالیا جو اس نے صنعتی عمل میں چین کی مدد کے لیے بھیجے تھے۔ 1965 میں ماؤ نے عظیم پرولتاری (عوام یا مزدور طبقہ) ثقافتی انقلاب (1966-76) متعارف کیا۔ طلباء اور ماہر پیشہ ور افراد کام کرنے اورسیکھنے کے لیے دیہی علاقوں میں بھیجے گئے۔
چین میں موجودہ تیز صنعتی افزائش کو 1978 میں شروع کی گئی اصلاحات کے پس منظر میںمعلوم کیا جاسکتا ہے۔ چین نے مراحل میں اصلاحات شروع کیں۔ ابتدائی مرحلے میں زراعت، غیر ملکی تجارت اور سرمایہ کاری سیکٹروں میں اصلاحات شروع کی گئیں۔ مثال کے طور پرزراعت میں کمیون کے تحت زمینوں چھوٹے قطعوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور انفرادی گھروں کے لئے مختص (استعمال کے لئے ملکیت کے لیے نہیں) کردیا گیا تھا۔ انھیں عائد ٹیکسوں کو ادا کرنے کے بعد زمین سے ہونے والی پوری آمدنی اپنے پاس رکھنے کی اجازت تھی۔ بعد کے مرحلے میں اصلاحات صنعتی سیکٹر میں شروع کی گئیں۔ پرائیویٹ سیکٹر فرمیں بالعموم اور چھوٹے شہروں اور دیہی انٹرپرائزز یعنی وہ انٹرپرائزز جو بالخصوص مقامی اجتماعی ملکیت میں تھے اور ان کے ذریعہ چلائے جاتے تھے، انھیں اشیاء تیار کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس مرحلے میں وہ انٹرپرائزز جن کی ملکیت حکومت کی تھی (جنھیں ریاستی ملکیت کے انٹرپرائزز SOES) کہا جاتا تھا، جسے ہم ہندوستان میں پبلک سیکٹر کہتے ہیں، انھیں مسابقتی بنادیا گیا۔ اصلاحی عمل میں دوہری قیمتوں کا تعین بھی شامل تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ قیمتوں کو دو طرح سے مقرر کیا جائے؛ کسان اور صنعتی اکائیوں کے لیے یہ مطلوبہ تھا کہ وہ حکومت کے ذریعہ مقرر کی گئی قیمتوں کی بنیاد پر درآمدیوںاور ماحصل کی مقررہ مقدار خریدیں یا فروخت کریں اور باقی بازار قیمتوں پر خریدیں اور فروخت کریں۔ چند سالوں میں جب پیداوار بڑھی بازار میں اشیا یا مادخل کے لین دین کاتناسب بھی بڑھا۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے خصوصی معاشی زون قائم کیے گئے۔
PIC_86
شکل 10.1. واگھا سرحد نہ صرف سیاحت کا مقام ہے بلکہ اس کا استعمال ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تجارت کے لئے بھی کیا جاتا  ہے۔

پاکستان:  مختلف معاشی پالیسیوں میں جو کہ پاکستان نے اپنائی تھیں، ان پر نظر ڈالنے پر آپ کو ہندوستان کے ساتھ کافی مماثلت نظر آئے گی۔ پاکستان پبلک اور پرائیویٹ سیکٹروں کے بقائے باہم کے ساتھ مخلوط معیشت کی پیروی کرتا ہے۔ 1950 کے دہے کے اواخر اور 1960 کے دہے میں پاکستان نے متنوع منضبط پالیسی کے نظام (درآمد کی متبادل صنعت کاری کے لیے) کی شروعات کی۔ اس پالیسی میں اشیاء صَرف کوٹیکسوں  سے تحفظ اورمسابقتی درآمدات پر راست درآمدکے کنٹرول کو یکجا کیا گیا۔ سبز انقلاب کی شروعات سے منتخب علاقوں میں مشینوں کے استعمال اور بنیادی سہولیات میں عوامی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا جس کے سبب آخر کار اناج کی پیداوار میں اضافہ ہوا۔ اس سے زراعتی ڈھانچے میں ڈرامائی طور پر تبدیلی واقع ہوئی۔ 1970 کے دہے میں بڑے سامان کی صنعتوں کو قومیایاگیا۔ پاکستان نے اس کے بعد 1970 کے دہے کے اواخر اور 1980 کے دہے کے دوران اپنی پالیسی کا رخ تبدیل کرلیا اور اہم شعبوں کو نجی ملکیت میں دینے اور نجی سیکٹر کی حوصلہ افزائی کا عمل شروع ہوا۔ اسی مدت کے دوران پاکستان نے مغربی ملکوں سے مالی امداد اور مشرق وسطیٰ جانے والے تارکین وطن کے ذریعہ بھیجی گئی رقمیں حاصل کیں۔ اس سے ملک کو معاشی نمو میں تحریک پیدا کرنے میں مدد ملی۔ تبھی حکومت نے پرائیویٹ سیکٹر کے لیے ترغیبات بھی پیش کیں۔ ان سب سے نئی سرمایہ کاریوں کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا ہوا۔ 1998 میں ملک میں اصلاحات شروع کی گئیں۔
چین اور پاکستان کی ترقیاتی حکمت عملیوں کے ایک مختصر خاکے کے بعد آیئے اب ہم ہندوستان، چین اور پاکستان کے کچھ ترقیاتی اظہاریوں کا موازنہ کریں۔

 10.3 آبادیاتی اظہاریئے

اگر ہم عالمی آبادی پر نظر ڈالیں، تب اس دنیا میں رہنے والے ہر چھ افراد میں ایک ہندوستانی اور دوسرا چینی ہے۔ ہم ہندوستان، چین اور پاکستان کی آبادی کے اشاریوں کا موازنہ کریں گے۔ پاکستان کی آبادی بہت کم ہے اور موٹے طور پر تقریباً چین یا ہندوستان کی آبادی کا دسواں حصہ ہے۔
اگر چہ چین تینوں میں سب سے بڑا ہے لیکن اس کا گھناپن سب سے کم ہے۔ یہ جغرافیائی طور پر کافی بڑے رقبے کا احاطہ کرتا ہے۔ جدول 10.1 یہ ظاہر کرتا ہے کہ آبادی کی افزائش پاکستان میں سب سے زیادہ ہے، اس کے بعد ہندوستان اور چین آتے ہیں۔ ماہرین بتاتے ہین کہ 1970 کے دہے میں چین میں ایک بچے کے معیار کو متعارف کیا گیا جو کہ آبادی میں کم اضافے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔  وہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ اس اقدام سے صنفی تناسب (یعنی 1000 مردوں پر عورتوں کا تناسب) کم ہوا ہے۔ تاہم جدول سے آپ دیکھیں گے کہ جنسی تناسب  تینوں ملکوںمیںعورتوں کے خلاف کم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان سبھی ملکوں میں بیٹے کو ترجیح دینے کا رجحان پایا جانا ہے موجودہ زمانے میں یہ تینوں ممالک اس صورتحال میں بہتری پیدا کرنے کے مختلف اقدامات اپنا رہے ہیں۔ ایک بچے کا معیار اپنانے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے آبادی کے اضافے کے رکنے کے دیگر بھی اثرات ہیں۔
مثال کے لئے کچھ دہوں کے لیے چین میں نوجوان لوگوں کے مقابل ضعیفوں کی تعداد زیادہ ہوگی۔ اس سے چین مجبور ہوگا کہ وہ اور کم کامگاروں کے ساتھ سماجی تحفظ کی تدابیر فراہم کرنے کے اقدامات کرے۔

جدول 10.1 

منتخب آبادیاتی اظہاریے،18-2017


شہر کاری بار آوری شرح صنعتی تناسب گھناپن
(فی مربع کلو میٹر
آبادی کا سالانہ اضافہ
آبادی کا تخمینہ
(ملین میں)
ملک
34
59
37
2-2
1-7
3-6
924
949
943
455
148
275
1-03
0-46
2-05
1352
1393
212
ہندوستان
چین
تاکستان

ماخذ: عالمی ترقیاتی اظہاریے،www.worldbank.org

استعمال ہونے والی زمین اور کھیتی
مویشی ،بکریاں کپاس،ماہی پروری، جوٹ چاول چائے

PIC_88
 شکل   10.2.ہندوستان، چین اور پاکستان میں زمین کا استعمال اور زراعت۔

چین میں بارآوری (Fertility) کی شرح بھی کم ہے جبکہ پاکستان میں یہ بہت زیادہ ہے۔ شہر کاری پاکستان اور چین دونوں میں ہی زیادہ ہے جبکہ ہندوستان میں شہری علاقوں میں رہنے والے اس کی آبادی کے 34 فی صد ہیں۔

10.4 مجموعی گھریلو پیداوار اور سیکٹر

چین کے بارے میں دنیا میں گفتگو کا ایک موضوع اس کی مجموعی گھریلو پیداوار میں اضافہ ہے۔ چین کی مجموعی گریلو پیداوار (GDP) (PPP) دوسری سب سے زیادہ یعنی 22.5کھرب (ٹریلین) ڈالرہے جبکہ ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار (PPP)(GDP)  66 کھرب ڈالراور پاکستان کا موٹے طور پر0.94کھرب ڈالرہے جو ہندوستان کے GDP کا تقریباً 11 فی صد ہے۔ہندوستان کی GDP چین کی GDP کا تقریباً     %41 ہے۔

PIC_2انھیں حل کریں

  •        کیا ہندوستان آبادی کے استحکام کے لیے کوئی اقدامات کرتا ہے؟ اگر ہاں، تو اس سلسلے میں تفصیلات جمع کیجئے اور اس پر کلاس روم میں مباحثہ کیجئے۔ اس کے لیے آپ تازہ ترین معاشی سروے، اور وزارت صحت وخاندانی بہبود کی سالانہ رپورٹوں سے یا ویب سائٹوں سے رجوع کرسکتے ہیں۔ (http://mohfw.nic.in)۔
  •        دانشور ہندوستان ، چین اور پاکستان سمیت بہت سے ترقی پذیر ملکوں میں بیٹے کے لیے ترجیح کو ایک عام مظہر پاتے ہیں۔ کیا آپ کو ایسا ہی مظہر اپنے خاندان یا پڑوس میں نظر آتا ہے۔ لوگ لڑکیوں اور لڑکوں کے درمیان کیوں امتیاز برتتے ہیں؟ اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کلاس روم میں اس پر بحث کیجئے۔ 

جدول 10.2 

مجموعی گھریلو پیداوار کی سالانہ نمو (%)   1980 تا 2015


2015-2017 1980-90 ملک
7-3
6-2
5-3
5-7
10-3
6-3
ہندوستان
 چین
پاکستان

ایشیا اینڈ پیسیفک کے کلیدی اشارے، 2016، ایشین ڈیولپمنٹ بینک ، فلپائن؛ ورلڈ ڈیولپمنٹ انڈیکیٹرس، 2018


جبکہ بہت سے ترقی یافتہ ممالک 5 فی صد کی شرح نمو کو برقرار رکھنا بھی مشکل پاتے ہیں وہیں چین تو دو دہوں سے زیادہ عرصے سے تقریباً دو عددی نمو برقرار رکھنے کا اہل تھا جیسا کہ جدول 10.2 سے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ بھی غور کرنے کی بات ہے کہ 1980 کے دہے میں پاکستان ہندوستان سے آگے تھا؛ چین کا نمود وعددی تھا اور ہندوستان نچلی سطح پر تھا۔ 17-2015 کے دہے میں پاکستان اور چین کے شرح نمو میں حاشیائی کمی پیدا ہوئی جبکہ ہندوستان میں غیر معمولی ترقی دیکھی گئی۔ کچھ دانشورپاکستان میں  شروع کیے اصلاحی عمل اور سیاسی عدم استحکام کو اس رجحان کی وجہ گردانتے ہیں۔ ہم بعد کے سیکشن میں اس رجحان کے بارے میں مزید مطالعہ کریں گے کہ ان ممالک میں اس رجحان میں کون سے سیکٹر نے اشتراک کیاہے۔
کار تیار شدہ گاڑی سیمنٹ، الیکٹرانکس ، انجیرنگ درلت، فوڈ پروسسنگ
تیل اور گیس، کپڑوں کی صنعت لوہا اور اسٹیل
PIC_89
 شکل. 10.3 :   ہندوستان ، چین اور پاکستان میں صنعت

جدول   10.3

روزگار اور GOPکے حلقہ وار شرکت (فی صد%)،17-2015

PIC_90
ماخذ: ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ،2018

پہلے نظر ڈالیں کہ کس طرح لوگ مختلف سیکٹروں میں مجموعی گھریلو پیداوار میں اشتراک کرتے ہیں۔ پچھلے سیکشن میں یہ بتایا گیا تھا کہ چین اور پاکستان میں ہندوستان کی نسبت شہری لوگوں کا تناسب زیادہ ہے، چین میں جغرافیائی خصوصیات اور آب وہوا کی صورتحال کے سبب کاشتکاری کیلیے موزوں علاقہ نسبتاً کم ہے جو کہ کل زمینی علاقے کا صرف تقریباً 10 فی صدہے چین میں کل قابل کاشت علاقہ ہندوستان میں قابل کاشت علاقے کا 40 فی صد ہے 1980 کے دہے تک چین میں 80  فی صدسے زیادہ لوگ اکیلے ذریعہ معاش کے طور پر کاشتکاری پر انحصار کرتے تھے۔ تب سے حکومت نے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنے کھیتوں کے علاوہ دیگر سرگرمیوں جیسے دستکاریاں، کامرس اور ٹرانسپورٹ پر توجہ دیں۔ 18-2015 میں18 فی صد کی ورک فورس (کار دستہ) کے ساتھ چین میں زراعت کا اشتراک GDP کے لیے 9 فی صد ہے (دیکھئے جدول.3  10)۔ 

PIC_2انھیں حل کریں

  •    کیا آپ کے خیال میں ہندوستان اور پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ مصنوعاتی سیکٹر پر اپنی توجہ مرکوز کریں جیسا کہ چین کررہاہے؟ کیوں؟ 
  •     ماہرین دلیل دیتے ہیں کہ خدماتی سیکٹر کو نمو کے انجن کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے جبکہ ہندوستان اور پاکستان نے بالخصوص اس سیکٹر میں پیداوار میں اپنے حصے کو بڑھایا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

ہندوستان اور پاکستان دونوں میں GDP کے تئیں زراعت کا حصہ علی الترتیب 17اور 25فی صد تھا لیکن ورک فورس کا تناسب جو اس سیکٹر میں کام کرتا ہے ہندوستان میں زیادہ ہے۔ پاکستان میں تقریباً 42 فی صد لوگ زراعت میں کام کرتے ہیں جبکہ ہندوستان میں یہ فی صد43ہے۔ پیداروار اور روزگار کا شعبہ جاتی حصہ بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ تین معیشتوںمیں ورک فورس صنعت اور خدماتی سیکٹروں کا تناسب کم ہے لیکن پیداوار کے لحاظ سے اس کا اشتراک زیادہ ہے۔ چین میں مصنوعاتی اشتراک کا بالترتیب 43اور48 فی صد سب سے زیادہ، جبکہ ہندوستان اور پاکستان میں یہ سروس سیکٹر کی حصے داری اور دین زیادہ ہے۔ ان دونوں ممالک میں سروس سیکٹر GDP،   50فی صد سے زیادہ اشتراک کرتا ہے۔
ترقی کے عام عرصے کے دوران میں ممالک  پہلے اپنے روزگار اور ماحصل کو زراعت سے مصنوعات اور اس کے بعد خدمات کی طرف منتقل کرتے ہیں۔ یہی چین میں واقع ہورہا ہے جیسا کہ ہم جدول 10.4 سے دیکھ سکتے ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان میں مصنوعاتی شعبے میں مشغول ورک فورس کا تناسب بہت کم علی الترتیب 24 اور27تھا۔ GDP کے تئیں صنعتوں کا تعاون ہندوستان میں 30 فی صد جبکہ پاکستان میں 21 فی صد ہے۔ ہندوستان اور پاکستان میں یہ منتقلی سیدھے طور پر خدماتی سیکٹر کی سمت واقع ہورہی ہے۔
اس طرح ہندوستان اور پاکستان دونوں میں خدماتی سیکٹر ترقی کے لیے اہم کردار نبھانے والے کے طور پر ابھر رہا ہے۔ یہ GDP کے تئیں زیادہ اشتراک کر رہا ہے اور ساتھ ہی ایک متوقع آج کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اگر ہم 1980 کے دہے ورک فورس کے تناسب پر نظر ڈالیں تب دیکھیں گے کہ ہندوستان اور چین کے مقابلے پاکستان کے ورک فورس زیادہ تیزی سے خدماتی سیکٹر میں منتقل ہورہی ہے۔ 1980 کے دہے میں ہندوستان، چین اور پاکستان نے خدماتی سیکٹر میں اپنی اپنی ورک فورس کے علی الترتیب 12,17 اور 27 فی صد لوگوں کو روزگار فراہم کیا۔2014 میں یہ علی الترتیب 56,34 اور4 5فی صد کی سطح پر پہنچ گیا۔

جدول  10.4 

مختلف حلقوں میں نمو پیداوار کے رجحانات، 2015-1980


2011-2015 1980-90 ملک
خدمات صنعت زراعت خدمات صنعت زراعت
8-4 5 2-3 6-9 7-4 3-1 ہندوستان
8-9 8-1 4-1 13-5 10-8 5-9 چین
4-4 3-4 2-7 6-8 7-7 4 پاکستان

 پچھلے چار دہوں میں زرعی سیکٹر کی افزائش جو کہ ان تینوں ممالک میں ورک فورس کے بڑے تناسب کو روزگار فراہم کرتا ہے، کم ہوئی ہے۔ صنعتی سیکٹر میں چین نے دو عددی شرح نمو برقرار رکھی ہے جبکہ ہندوستان اور پاکستان کی شرح نمو میں کمی آئی ہے۔ خدماتی سیکٹر کے معاملے میںچین اور ہندوستان 1980تا2015 کے دوران اپنی شرح نمو بڑھانے کے اہل ہوئے ہیں جبکہ پاکستان کی اپنی خدماتی سیکٹر کی رفتار جامد رہی ہے۔ اس طرح چین کی نمو میں بالخصوص مصنوعاتی سیکٹر کا اشتراک اور ہندوستان کی نمو میں خدماتی سیکٹر کا اشتراک شامل ہے۔ اس مدت کے دوران پاکستان نے ان تینوں سیکٹروں میں سست رفتاری کا مظاہرہ کیا ہے۔

 10.5  انسانی ترقی کے اظہاریے۔

آپ نے نچلی کلاسوں میں انسانی ترقی کے اظہاریوں کی اہمیت اور متعدد ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کی صورتحال کے بارے مین پڑھا ہوگا۔ آیئے ہم نظر ڈالیں کہ ہندوستان، چین اور پاکستان کی کارکردگی انسانی ترقی کے کچھ منتخب اظہاریوں میں کیسی رہی۔ جدول 10.5 پہ ایک نظر ڈالیے۔
 اگر ہم جدول10.5 میں دیے گئے اشاریوں کا موازنہ کریں پائیں گے کہ چین ہندوستان اور پاکستان سے آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ متعدد اظہاریوں -آمدنی اظہاریہ جیسے فی کس GDP، خط غریبی کے نیچے کی آبادی کے تناسب، یا صحت اظہاریوں جیسے شرح اموات، صفائی ستھرائی، خواندگی، امکان زندگی کے تئیں رسائی یا ناقص تعزیہ میں کمی کے معاملے میں پاکستان میں ہندوستان کی نسبت خط غربت کے نیچے رہنے والے لوگوں کے تناسب میں کمی پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ تعلیم وصحت میں اس کی کارکردگی اور پانی تک کی رسائی ہندوستان کے مقابلے بہتر ہے۔ لیکن یہ دونوں ممالک مادری شرح اموات سے عورتوں کو بچانے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ چین مین ایک لاکھ پیدائشوں پر صرف 27عورتیں موت کا شکار ہوتی ہیں جبکہ ہندوستان اور پاکستان میں  بالترتیب 140 اور133 سے زیادہ عورتیں جاں بحق ہوتی ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ تینوں ممالک کی رپورٹ کے مطابق وہاں بہتر آبی وسائل موجود ہیں۔  تینوں ممالک میں سب سے زیادہ ہندوستان کا ہے۔ خود دریافت کیجئے کہ یہ فرق کس طرح واقع ہوتے ہیں۔

جدول 10.5 

انسانی ترقی کے کچھ منتخب اظہاریے،19-2017


پاکستان چین ہندوستان مدیں
0-557
154
67-3
5-2
5-005
*24-3
57-2
140
60
91
37-6
0-761
87
76-9
8-1
16-057
1-7**
7-4
29
75
96
8-1
0-645
130
69-7
6-5
6-681
21-9
29-9
133
60
93
37-9

انسانی ترقی اشاریہ (قدر)
درجہ (ایچڈی آئی پر منحصر)
پیدائش پر امکانات زندگی (سال)
اسکولنگ کی مختلف سالوں کے مد نظر(فی صد عمر 15 سال اور زیادہ)
GDPفی کس (PPPامریکی ڈالر)
قومی خط غریبی کے نیچے کے لوگ
بچوں کی شرح اموات (فی 1000زندہ پیدائش پر)
مادری شرح اموات  (فی 1لاکھ پیدائش پر)
بہتر صفائی ستھرائی کو استعمال کرنے والی (فی صد)
بہتر آبی وسائل کو استعمال کرنے والی آبادی%(فی صدمیں)
کم تغذیہ والے بچوں کا فی صد(کم وزن والے 75سے کم)


  ماخذ:   انسانی ترقیاتی رپورٹ 2018 اورعالمی ترقیاتی اظہاریے (www.worldbank.org)

ایسے سوالات پر بات چیت کرنے  یا ان پر رائے قائم کرنے میں بہرحال حتمی رائے کے ساتھ اوپر دیئے گئے انسانی ترقیاتی اظہاریوں کے استعمال کرنے پر بھی غور کرنا چاہیے۔ ایسا اس لیے ضروری ہے کیونکہ یہ نہایت اہم اظہار یے ہیں لیکن یہ کافی نہیں ہیں۔ ان کے علاوہ ہمیں ضرورت ایسے اظہاریوں کی ہے ہم جنھیں  آزادی کے اظہاریئے کہہ سکتے ہیں۔ ایساایک اظہاریہ ہے۔ دراصل سماجی اور سیاسی فیصلہ سازی میں جمہوری شرکت کی حد کی پیمائش کے طور پر دراصل شامل کر لیا گیا ہے۔ لیکن اسے کو ئی زائد وزن نہیں دیا گیا ہے۔ ابھی تک آزادی کے واضح اظہاریوں کو جیسے شہریوں کے حقوق کی آئینی حد یا عدلیہ کی خود مختاری اور قانون کی بالا دستی کے آئینی تحفظ کی حد شامل نہیں کیئے گئے ہیں۔ ان کواور کچھ دیگر فہرست میں  نمایاں طور پر شامل کئے بغیر مقدم اہمیت دیے انسانی ترقیاتی اشاریہ کو ادھورا کہا جاسکتا ہے اور اس کی افادیت محدود ہوگی ۔

10.6   ترقیاتی حکمت عملیاں- ایک جائزہ

کسی ملک کی ترقیاتی حکمت عملیوں کو دوسروں کے لیے نمونے کے طور پر اورخود اپنی رہ نمائی اور ترقی کے لیے سمجھنا ایک عام بات ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں اصلاحی عمل کے شروع کیے جانے کے بعد یہ خاص طور پر ظاہر ہے۔ ہمارے پڑوسی ملکوں کی معاشی کارکردگی کو دیکھنے کے سلسلے میں یہ ضروری ہے کہ ان کی کامیابیوں اور ناکامیوں کی بنیادوں کو سمجھا جائے۔ یہ بھی ضروری ہے ان کی حکمت عملیوں کے درمیان فرق اور تضاد کو بھی سمجھا جائے۔ اگرچہ مختلف ممالک اپنے ترقیاتی مراحل مختلف طور پر انجام دیتے ہیں لیکن ہم اصلاحات کی ابتدا کو حوالے کے نکتے کے طور پر لے سکتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ چین میں 1978 میں، پاکستان میں 1988 اور ہندوستان میں 1991 میں اصلاحات کی شروعات کی گئی تھیں۔ آئیے اب اصلاحات سے پہلے اور بعد کے دور میں ان کی کامیابیوں اور ناکامیامیوں کا مختصر جائزہ لیں۔
چین نے ساختی اصلاحات 1978 میں کیوں شروع کیں؟ چین کی عالمی بنک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے حکم پراصلاحات لانے کے لیے کوئی مجبوری نہیں تھی جیسا کہ ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ تھا۔ چین میں اس وقت نئی قیادت ماؤ کی حکمرانی کے تحت شرح نمو کی دھیمی رفتار اور جدیدکاری کی کمی کے سبب خوش نہیں تھی۔ انھوں نے محسوس کیا معاشی ترقی کے لیے لا مرکزیت، خود کفالت اور غیر ملکی ٹکنالوجی، اشیاء اور پونجی سے متعلق ماؤ کا نظریہ ناکام ہواہے (آگے کی طرف عظیم جست) (The Leep Forward) وسیع زمینی اصلاحات، اور دیگر اقدامات کے باوجود 1978 میں فی کس اناج کی پیداوار وہی تھی جو کہ 1950 کے دہے کے وسط میں تھی۔
 یہ پایا گیا کہ صحت اور تعلیم کے میدانوں میں بنیادی ڈھانچوں کو قائم کرنے میں زمینی اصلاحات لامرکزی منصوبہ بندی کی طویل مدتی موجودگی اور چھوٹے کاروباری اداروں کی موجودگی مابعد اصلاحات کی مدت میں سماجی اور آمدنی کے اشاریوں کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوئی۔ اصلاحات کی شروعات سے قبل دیہی علاقوں میں بنیادی طبی خدمات کی بڑے پیمانے پر توسیع پہلے ہی کرلی گئی تھی۔ کمیون نظام کے ذریعہ اناجوں کی تقسیم زیادہ منصفانہ تھی۔ ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ ہر اصلاحی قدم پہلے چھوٹے پیمانے پر لاگو کیا گیا ااور اس کے بعد بڑے پیمانے پر اس کی توسیع کی گئی۔ حکومت میں غیر مرکوزیت کے تحت تجربے کے عمل کے ذریعہ کامیابی یا ناکامی کی معاشی، سماجی اور سیاسی قیمت کا جائزہ لینے میں حکومت اہل ہوئی۔ مثال کے لیے جب زراعت میں اصلاحات عمل میں لائی گئیں، جیسا کہ پہلے بتایاجاچکا ہے، قطعہ آراضی کو کاشتکاری کے لیے افراد کو سونپ دیا گیا تھا اس سے غریب لوگوں کی بڑی تعداد خوشحال ہوئی۔ اس سے آگے چل کر دیہی صنعتوں میں مظہری نمو اور مزید اصلاحات کے لیے مضبوط معاون بنیاد تیار کرنے کا سازگار ماحول تیار ہوا۔ دانشور ایسی  بہت سی مثالوں کا حوالہ دیتے ہیں کہ اصلاحات  کے سبب چین میں  کس طرح تیز رفتار فروغ ہوا۔
ماہرین دلیل دیتے ہیں کہ پاکستان میں اصلاحی عمل سے تمام معاشی اشاریوں میں ابتری پیدا ہوئی۔ ہم نے پہلے کے ایک سیکشن میں دیکھا کہ 1980 کے دہے کے مقابل GDP کی شرح نمو میں اب تک کوئی اصلاح نہیں ہوئی ہے
اگرچہ پاکستان کے لیے بین الاقوامی خط غربت کا ڈیٹا کافی صحت مند رہا ہے لیکن ماہرین پاکستان کے سرکاری اعداد وشمار کو استعمال کرتے ہوئے وہاں  بڑھتی ہوئی غربت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ 1960 کے دہے میں غریبوں کا تناسب 40فی صدی تھا جو 1980کے عشرے میں گھٹ کر 25فی صدی ہوگیا تھا لیکن 1990کے عشرے میں پھر بڑھنا شروع ہوا ۔ پاکستانی معیشت کی نمو میں گراوٹ اور غریبی کے از سرنو ابھرنے کے لیے ماہرین درج ذیل اسباب دیتے  ہیں۔ (i) زراعتی اور غذا کی رسد کی صورتحال تکنیکی تبدیلی کے ادارہ جاتی عمل پر مبنینہ ہوکر اچھی فصل پر تھی۔ جب فصل اچھی ہوتی تب معیشت اچھی حالت میں ہوتی جب نہیں تب معاشی اظہاریے جمود یا منفی رجحان دکھاتے تھے۔ (ii) آپ کو یاد ہوگا کہ ہندوستان کو IMF اور عالمی بینک سے اپنی ادائیگیوں کے بحران سے نکلنے کے لیے قرض لینا پڑاتھا؛ کسی ملک کے لیے زرمبادلہ ایک اہم جز ہے اور یہ جاننا اہم ہے کہ یہ کس طرح کمایا جاسکتا ہے۔ اگر کوئی ملک مصنوعاتی اشیاء کی پائیدار برآمد کے ذریعہ اپنے غیر ملکی زرمبادلہ بڑھانے کا اہل ہے تب فکر کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر زرمبادلہ مشرق وسطیٰ میں پاکستانی ورکرس کے ذریعہ بھیجی گئی رقم اور نہایت ناپائے دار زراعتی اشیاء کی برآمدات سے حاصل ہوتی تھی۔ جہاں ایک طرف غیر ملکی قرضوں پر بھی انحصار بڑھ رہا تھا وہیں دوسروں کو قرض واپس ادا کرنے کی  پریشانی بھی بڑھ رہی تھی۔

PIC_2انہیں حل کریں

  •       اگرچہ ہندوستان نے اقتصادی ترقی کے زمرے میں دیگر ترقی پذیر ملکوں (ایشیائی پڑوسی ملکوں سمیت) کے مقابلے نسبتاً بہتر کارگردگی دکھائی ہے لیکن ہندوستان میں انسانی ترقی کے اشاریے اب بھی دنیا میں کم تر نظر آتے ہیں۔ ہندوستان میں کہاں غلطی ہوئی ہے؟ ہم اپنے انسانی وسائل کی دیکھ بھال کیوں نہیں کر سکے؟ کلاس میں اس پر بحث کیجیے۔
  •        ہندوستان میں یہ ایک عام خیال گردش کررہا ہے کہ یہاں چین کی اشیا کے ڈھیر میں اچانک اضافہ ہوگیا ہے جس کا ہندوستان کے مصنوعاتی سیکٹر پر اثر پڑے گا اور یہ بھی کہ ہم اپنے پڑوسی ملکوں کے ساتھ تجارت میں خود کو مشغول نہیں رکھتے۔ درج ذیل جدول پر نظر ڈالیں جس سے ہندوستان سے ہونے والی برآمدات اور پاکستان اور چین سے آنے والی درآمدات کا پتہ چلتا ہے۔ نتائج کی تشریح کیجیے اور کلاس روم میں مذاکرہ کیجیے۔ اخباروں اور ویب سائٹوں اور خبروں کو سننے کے ذریعہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تجارت کرنے میں اشیاء اور خدمات کا لین دین کی تفصیلات جمع کیجیے۔ بین الاقوامی تجارت سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے آپ  ویب سائٹ http://doft.delhi.nic.in  لاگ کرسکتے ہیں۔

  • ہندوستان میں در آمدات (کروڑ روپیے میں) ہندوستان سے بر آمدات (کروڑ روپیے میں) ملک
    شرح نمو (فی صد 2015-2016 2004-2005 شرح نمو
    (فی صد)
    2015-2016 2004-2005
    52
    107
    2884
    404043
    427
    31-892
    46
    12
    14-286
    58932
    2-341
    25-232
    پاکستان
    چین

دونوں برسوں کے درآمدات کے فی صد میں برآمدات کا شمار کریں اور کلاس روم میں ممکنہ وجوہات پر گفتگو کریں۔


البتہ پچھلے چند برسوں میں پاکستان نے اپنی اقتصادی نمو کو بحال کیا ہے اور اسے برقرار رکھا ہے۔18-2017 میں سالانہ منصوبہ 20-2019 میں رپورٹ پیش کی گئی ہے کہ GDP میں 4.7 فی صد کی شرح نمو درج کی گئی جو پچھلے آٹھ برسوں کے مقابلے سب سے زیادہ ہے۔ اگرچہ زراعت کے شعبے میں نمو اطمینان بخش سطح سے بہت کم رہی لیکن صنعت اور خدمات کے شعبوں میں بالترتیب 4.9  فی صد اور5.7 فی صد کی ترقی ہوئی۔ دیگر کئی میکرواکنامک اشاریوں سے بھی مستحکم اور مثبت رجحان کا اظہار ہوتا ہے۔

10.7   اختتام

ہم اپنے پڑوسیوں کے ترقیاتی تجربات سے کیا سیکھ رہے ہیں؟ ہندوستان، چین اور پاکستان نے مختلف نتائج کے ساتھ پچھلے پانچ دہوں سے زیادہ عرصے کی ترقی کی راہ طے کی ہے۔ 1970 کے دہے کے آخر تک یہ سبھی کم یکساں طور پر  ترقی کی سطح پر تھے۔ پچھلے تین دہوںمیں یہ تینوں ملک مختلف سطحوں پر پہنچ گئے ہیں۔ جمہوری اداروں کی موجودگی میں ہندوستان نے معتدل کارکردگی انجام دی ہے لیکن اس کی آبادی کی اکثریت اب بھی زراعت پر منحصر ہے۔ ملک کے بہت سے حصوں میں بنیادی ڈھانچوں کا فقدان ہے۔ اسے ا بھی اپنی آبادی کے ایک چوتھائی لوگوں سے زیادہ کے معیار زندگی کو بڑھانا ہے جو کہ خط غریبی کے نیچے رہتے ہیں۔ دانشوروں کی رائے ہے کہ سیاسی عدم استحکام، زراعتی سیکٹر کی ناپائیدار کارکردگی کے ساتھ ترسیل رقم اور غیر ملکی امداد پر ضرورت سے زیادہ انحصار، پاکستانی معیشت کی سست رفتاری کی وجہ ہے۔ پھر بھی ماضی قریب میں GDP نمو کی اونچی شرح کو قائم رکھنے کے ذریعہ صورتحال میں بہتری کی امید ہے۔ البتہ پچھلے تین برسوں کے دوران کئی میکرو اکنامک اشاریوں سے مثبت اور اونچی شرح نمو کا اظہار ہوتا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ مثبت بحال ہو رہی ہے۔ چین میں سیاسی آزادی کا فقدان اور انسانی حقوق پراس کے اثرات ایک بڑا معاملہ ہے۔ تاہم پچھلے دہوں میں چین سیاسی وعدوں سے محروم ہوئے بغیر، مارکیٹ سسٹم یعنی کھلی منڈی کی معیشت کا استعمال کرتا رہا اور انسداد غریبی کے ساتھ ساتھ شرح نمو کے اضافے میں کامیاب رہا ہے۔ آپ غور کریں گے کہ ہندوستان اور پاکستان کے برعکس جو کہ اپنے پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کی نجی کاری کی کوشش کررہے ہیں چین نے اضافی سماجی اور معاشی مواقع کی تخلیق کرنے میں بازار کی میکانیت کا استعمال کیا ہے۔ زمین کی اجتماعی ملکیت کو برقراری اور قابل کاشت زمینوں کی انفرادی کاشت کی منظوری کے ذریعہ چین نے دیہی علاقوں میں سماجی تحفظ کو یقینی بنایا ہے۔ اصلاح سے قبل بھی سماجی بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے میں سرکاری مداخلت سے چین میں انسانی ترقی کے مثبت نتائج رونما ہوئے ہیں۔

PIC_9خلاصہ

  •         عالم گیریت کے عمل کے ظہور کے ساتھ، ترقی پذیر ممالک نے اپنے پڑوسیوں کے ترقیاتی عمل کو سمجھنے میں بڑی دلچسپی دکھائی ہے اور خواہش ظاہر کی ہے کیوں کہ انھیں ترقی یافتہ ملکوں کے ساتھ اور خودآپس میں مسابقت کا سامنا ہے۔
  •        ہندوستان، پاکستان اور چین کی ایک جیسی طبعی خصوصیات کے حامل ہیں لیکن سیاسی نظاموں میں کلی طور پر فرق پایا جاتا ہے۔
  •         یہ تینوں ممالک ترقی کے پنج سالہ منصوبوںکے راستے پر گامزن ہیں۔ تاہم ترقیاتی پالیسیوں کو نافذ کرنے کے طریقوں میں باہمی طور پر کافی مختلف ہیں۔
  •       1980  کے دہے کی ابتدا تک ان تینوں ملکوں کے ترقیاتی اشاریے جیسے شرح نمو اور قومی آمدنی کے تئیں شعبہ جاتی اشتراک ایک جیسے تھے۔
  •          چین میں 1978  پاکستان میں 1988 اور ہندوستان میں 1991 میں اصلاحات کی شروعات ہوئی۔
  •         چین نے خود اپنی پہل پر ساختی اصلاحات شروع کیں جبکہ بین الاقوامی ایجنسیوں کے دباؤ پر ہندوستان اور پاکستان میں اس کی شروعات ہوئی۔
  •           ان ملکوں میں پالیسی اقدامات کے اثرات مختلف تھے۔ مثال کے لیے ایک بچے کے اصول کے سبب چین میں اضافہ آبادی میں رکاوٹ پیدا ہوئی جبکہ ہندوستان اور پاکستان میں آبادی میں ایک بڑی تبدیلی اب بھی واقع ہورہی ہے۔
  •   منصوبہ بند ترقی کے 70 سال کے بعد ان سبھی ممالک میں کامگار قوت کی اکثریت زراعت پر منحصر ہے۔ ہندوستان میں یہ انحصاری زیادہ ہے۔
  •        گو کہ چین زراعت سے مصنوعاتی اور اس کے بعد خدمات تک کی تدریجی منتقلی کا کلاسیکی ترقیاتی انداز اپنایا ہے تاہم ہندوستان اور پاکستان میں یہ منتقلی زراعت سے سیدھے خدمات کی طرف ہوئی ہے۔
  •          چین کے صنعتی سیکٹر نے اونچی شرح نمو برقرار رکھی ہے جبکہ ہندوستان اور پاکستان دونوں میں کوئی تبدیلی نہیں واقع ہوتی ہے۔اس کے سبب چین کی فی کس GDP میں ہندوستان اور پاکستان کے مقابلے زبردست اضافہ ہوا۔
  •         چین، ہندوستان اور پاکستان سے متعدد انسانی ترقی کے اظہاریوں میں آگے ہے۔ تاہم یہ اصلاحات اصلاحی عمل سے منسوب نہیں ہیں بلکہ انھیں حکمت عملیوں سے منسوب کیا جاسکتا ہے۔جو اس نے اصلاحات سے پہلے اپنائی تھیں۔
  •          ترقیاتی اظہاریوں کا جائزہ لیتے وقت آزاد اشاریوں Liberty Indicators کو سمجھنا ہوگا۔

PIC_2مشقیں


1    علاقائی اور معاشی گروپنگ کی کچھ مثالوں کا ذکر کیجئے۔
2    وہ مختلف ذرائع کیا ہیں جس کے ذریعہ ممالک اپنی گھریلو معیشتوں کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
3    اپنی متعلقہ ترقیاتی راہوں کے لیے ہندوستان اور پاکستان نے کون سی یکساں ترقیاتی حکمت عملیاں اپنائی ہیں؟
4    چین میں Great Leep Forward (آگے کی طرف عظیم جیت) مہم جو کہ 1958 میں شروع ہوئی تھی اس کی وضاحت کیجئے۔
5    چین کی تیز صنعتی نمو کو 1978 میں اس کی اصلاحات میں تلاش کیا جاسکتا ہے کیا آپ اس سے متفق ہیں؟ تشریح کیجئے۔
6    اپنی معاشی ترقی کے لیے پاکستان کے ذریعہ اٹھائے گئے ترقیاتی اقدامات کی راہ کے بارے میں بتایئے۔
7    چین میں ایک بچے کے معیار کا خاص نتیجہ کیا ہے؟
8    چین، پاکستان اور ہندوستان کے نمایاں آبادیاتی اظہاریے بیان کیجئے۔
.9 GVA/GDPکےتئیں ہندوستان اور چین کا موازنہ کیجئے اور تضاد یا فرق بیان کیجئے اس سے کیا ظاہر ہوتا ہے۔
10    انسانی ترقی کے مختلف اظہاریے بیان کیجئے۔
11    آزاد اشاریہ (Liberty indicator) کی تعریف کیجئے۔ آزاد اشاریوں کی کچھ مثالیں پیش کیجئے۔
12    ان عوامل کا تجزیہ کیجئے جس سے چین میں معاشی ترقی میں تیز نمو پیدا ہوئی ۔
13    تین عنوانات کے تحت ہندوستان، چین اور پاکستان کی معیشتوں میں شامل درج ذیل خصوصیات کا گروپ بتایئے۔
  •   ایک بچہ پیدا کرنے کا اصول
  •   کم بار آوری شرح 
  •   شہر کاری کی اونچی سطح
  •   مخلوط معیشت
  •   انتہائی اونچی بار آوری شرح
  •   بڑی آبادی 
  •   آبادی کا زیادہ گھناپن
  •   مصنوعاتی سیکٹر کے سبب نمو
  •   خدماتی سیکٹر کے سبب نمو
14   پاکستان میں دھیمی نمو اور غریبی پھر ابھرنے کے اسباب بتایئے۔
15   ہندوستان، چین اور پاکستان کا موازنہ اور فرق بعض نمایاں انسانی ترقیاتی اشاریوں کے لحاظ سے کیجئے۔
16   پچھلے دو دہوں میں چین اور ہندوستان میں شرح نمو کے جو رجحانات دکھے ہیں ان پر تبصرہ کیجئے۔
17   خالی جگہیں پر کیجئے۔
 (a) ..............کاپہلا پنج سالہ منصوبہ سال 1956میں  شروع  ہوا تھا (پاکستان یا  چین)
(b)      ..............میں  مادری شرح اموات بہت زیادہ ہے (چین / پاکستان/ ہندوستان)
(c)      خط غریبی کے نیچے رہنے والے لوگوں کا تناسب ...............میں زیادہ ہے۔ (ہندوستان/ پاکستان)
 (d)    ..............میں 1978 میں اصلاحات شروع کی گئی تھیں (چین یا پاکستان) 

PIC_2مجوزہ اضافی سرگرمیاں


1       ہندوستا ن اور چین اور ہندوستان اور پاکستان کے درمیان آزاد تجارت کے لیے کلاس میں بحث کا اہتمام کیجئے۔
2     آپ واقف ہیں کہ سستی چینی اشیاء بازار میں دستیاب ہیں مثال کے لیے کھلونے، الکٹرانک اشیاء، کپڑے، بیڑیاں وغیرہ۔ کیا آپ کے خیال میں اس جیسی ہندوستانی اشیاء کے مقابلے یہ اشیاء کوالٹی اور قیمت کے لحاظ سے  مقابلے کے لائق ہیں؟ کیا یہ ہمارے گھریلو پیداکاروں کے لیے خطرہ پیش کرتی ہیں؟
3      کیا آپ کے خیال میں ہندوستان میں ایک بچے کا اصول شروع کیا جاسکتا ہے جیسا کہ چین نے اپنی آبادی کے اضافے میں کمی لانے کے لیے کیا ہے؟ ان پالیسیوں پر مذاکرات کا اہتمام کیجئے جو ہندوستان آبادی کے اضافے میں کمی لانے کے اپنا رہا ہے۔
4      چین کی معاشی نمو بالخصوص مصنوعاتی سیکٹر میں فروغ کا ایک چارٹ تیار کیجئے جو پچھلے دہوں میں متعلقہ ممالک میں ساختی تبدیلیوں کے لحاظ سے آپ کے بیان کی مناسبت ظاہر کرتاہو۔
5      انسانی ترقی کے اشاریوں میں چین کیوں آگے رہنے کا اہل ہے۔ کلاس روم میں بحث کیجئے۔ حالیہ سال کے لیے انسانی ترقی کی رپورٹ کا استعمال کیجئے۔

PIC_7حوالہ جات


کتابیں

ڈایز ، جین اور امرتیہ سین 1996۔ "India: Economic Development and Social Opportunity"   آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، دہلی

مضامین

اے ۔ آلوک۔2002 ‘The Chinese Economic Miracle: Lesson to be learnt’.
 Economic and Political Weekly, September 14. 
زیدی ،ایس۔ اکبر۔1999۔ Is Poverty now a permanent phenomenon in Pakistan
Economic and Political Weekly, اکتوبر 9، صفحہ 2543تا 2551

حکومتی رپورٹیں

انسانی ترقیاتی رپورٹ 2005 : اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، آکسفورڈ۔
پاکستان: انسانی ترقیاتی رپورٹ 2003، اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام، دوسری اشاعت 2004 
عالمی ترقیاتی رپورٹ 2003، عالمی بینک، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، نیویارک کے ذریعہ شائع کیا گیا۔
لیبرمارکیٹ اشاریے، شہری اشاعت بین الاقوامی لیبر تنظیم جینوا۔
Economic survry.2013-14 Minace Gov of india

 ویب سائٹیں

www.stats.gov.cn
www.statpak.gov.pk
www.un.org
www.ilo.org
www.planningcommission.nic.in
www.dgft.delhi.nic.in