Skip to content
Ghulistan-e-Adab Chapter-1

داستان


 داستان عام طور پر ایک ایسے طویل اورمسلسل قصّے کو کہتے ہیں جس میں واقعات کو پُرکشش انداز میں اس طرح پیش کیا گیاہوکہ پڑھنے والے کی دلچسپی اور تجسّس برقرار رہے،اوروہ یہ سوچتا رہے کہ اب کیا ہوگا؟داستان میں عام واقعات کے علاوہ مافوق الفطرت واقعات بھی پیش کیے جاتے ہیں۔اس میں جن، پری اوردیو وغیرہ کے حیرت انگیز کارنامے اور ایسے حادثات جوانسانی فطرت سے بعید ہوں بیان کیے جاتے ہیں۔ حسن وعشق کی رنگین باتیں، شہزادوں، پریوں کی ملاقاتیں، عشق کی باتوں میں چھوٹی بڑی وارداتیں،پیچیدگیاں،الجھنیں، حیرت واستعجاب کے طویل سلسلے، زبان و بیان کی دل کشی اور لطافت داستان کے وہ لازمی اجزا ہیں جوقاری کے لیے دلچسپی و دل بستگی اور مسرّت کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ عام طور سے داستانوں کے اندر قصّوں کے کئی سلسلے ہوتے ہیں، یا ایک قصّے کے اندر دوسرے کئی قصّے بیان کیے جاتے ہیں۔
تاریخی اعتبار سے داستانیں عہد وسطیٰ کی یادگار ہیں۔ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ عافیت کا ایسا گوشہ تلاش کرتی ہے جہاں اس کو تسکین اور مسرت کا سامان میسر ہو اور جو اُس کے خوابوں کی تعبیر ہو اور اسے دنیاکے تفکرات سے نجات دلا سکے اور یہ ضرورت داستان پوری کرتی تھی۔
قدیم زمانے میں داستان گو شاہی درباروں سے وابستہ ہوا کرتے تھے۔ وہ داستانیں سنا کر بادشاہوں کا دل بہلاتے تھے۔ داستانیں سننے اورسنانے کا رواج عوام میں عام تھا۔
اردو زبان کی بہت سی داستانیں سنسکرت سے ماخوذ ہیں۔ یہ داستانیں عرب وایران پہنچیں۔عربی و فارسی میں ان کے ترجمے ہوئے، پھر ہندوستان واپس آکر وہ اُردو کے قالب میں نمودار ہوئیں۔ بیتال پچیسی، کلیلہ ودمنہ، سنگھاسن بتیسی، طوطا کی کہانی اور گل بکاؤلی وغیرہ اسی قبیل کی داستانیں ہیں۔کچھ داستانیں ایسی بھی ہیں جو عرب و ایران میں پیدا ہوئیں، ہندوستان آئیں اور یہاں ان کے ترجمے ہوئے۔ مثلاً سب رس، الف لیلہ وغیرہ۔ان کے علاوہ کچھ داستانیں ایسی بھی ہیں جو شاید ایران سے آئی ہوں لیکن ہندوستان میں زبانی طور پر سنانے کے دوران بہت بدل گئیں اورانھوں نے مقامی رنگ اختیار کرلیا۔ ان میں ’’ داستان امیر حمزہ‘‘ اور خاص کر اس کی ایک طویل داستان’’ طلسمِ ہو شربا‘‘ بہت مشہور ومقبول ہے۔ میرا من کی’’ باغ وبہار‘‘ بھی اسی سے ماخوذ تھی لیکن دراصل اردو کی داستان بن کر بے حد مقبول ہوئی۔
کچھ داستانیں جیسے’’ فسانۂ عجائب‘‘،’’سروشِ سخن‘‘،’’ رانی کیتکی کی کہانی‘‘ وغیرہ اصلاً اردو ہی میں لکھی گئیں۔یہ کتابیں اگرچہ داستان کی تعریف پر کما حقہ پوری نہیں اترتیں، مگر داستانی عناصر کا غلبہ ہونے کی وجہ سے ان کو داستا ن ہی کہا جاتا ہے۔پنڈت رتن ناتھ سرشار کی ’’فسانۂ آزاد‘‘ نئے اورپرانے کے امتزاج کی ایک دلچسپ مثال ہے کیوں کہ یہ داستان کے طرز پر لکھی گئی لیکن اسے ناول ہی کہا جاتا ہے۔ 

میرامّن

(1750) تا  1837)

میرامن دہلی کے رہنے والے تھے۔ جب دہلی کے حالات خراب ہوگئے تو بہت سے ادیبوں اورشاعروں نے دلی چھوڑ دی اور تلاش معاش کے لیے کئی شہروں کا رخ کیا۔ میرامن نے بھی دلی چھوڑی، کولکاتہ (کلکتہ) پہنچے اور فورٹ ولیم کالج میں ملازم ہوگئے۔ یہاں انھوں نے فورٹ ولیم کالج کے اُردو کے استاد ڈاکٹرجان گلکرسٹ کی فرمائش پر انگریز طلبا کو اُردو سکھانے کے لیے قصہ چہاردرویش کا ترجمہ ’’باغ وبہار‘‘ کے نام سے کیا۔ یہ ترجمہ 1802 میں مکمل ہوا لیکن1804 میں شائع ہوا۔ اسی سال میرامّن نے’’گنج خوبی‘‘ نامی داستان بھی لکھی۔ میرامن نے لکھا ہے کہ ’’باغ وبہار‘‘کی زبان وہی ہے جو دلی کے بچے بوڑھے، جوان،مرد ،عورت اور ہندو مسلمان بولتے ہیں۔میر امن سے پہلے میر عطا حسین خاں تحسین بھی ’’نو طرز مرصع‘‘ کے نام سے اس قصے کا ترجمہ کر چکے تھے۔
 باغ وبہار میں پانچ قصے ہیں،چار درویشوں کے قصے اور پانچواں خواجہ سگ پرست کا قصہ۔ بادشاہ آزاد بخت کا قصہ در اصل سگ پرست کا قصہ ہے۔ باغ وبہار میں ہرقسم کے فوق فطری عناصرموجود ہیں۔ دیو،پری، بلائیں،جادوگراور عجیب الخلقت جانور۔اس میں اُس زمانے کی تہذیب ومعاشرت کی عکاسی بھی کی گئی ہے۔ میر امن کی زبان سادہ، سلیس اور بامحاورہ ہے۔ فارسی اور عربی الفاظ کے ساتھ ساتھ ہندی الفاظ بھی نگینے کی طرح جڑے ہوئے ہیں۔ قافیہ بندی اور کہاوتوں کے استعمال نے زبان کو مزید پر لطف بنادیا ہے۔ باغ وبہار میں اخلاقی رنگ بھی ہے اور حسن وعشق کی رنگینیاں بھی۔اس میں اچھی داستان کی ساری خوبیاں پائی جاتی ہیں لیکن یہ غالباً کسی مجمع میں داستان کے طور پرسنائی نہیں گئی۔

Ghulistan-e-Adab Chapter-1

سرگذشت، آزاد بخت بادشاہ کی


اَے شاہو! بادشاہ کا اب ماجرا سنو
جو کچھ کہ میں نے دیکھا ہے اور ہے سنا، سنو
کہتا ہوں میں فقیروں کی خدمت میں سر بہ سر
اَحوال میرا خوب طرح دل لگا، سنو

میرے قبلہ گاہ نے جب وفات پائی اور میں اِس تخت پر بیٹھا، عین عالم شباب کا تھا اور سارا یہ ملک روم کا میرے حکم میں تھا۔ اتفاقاً ایک سال کوئی سوداگر بدخشاں کے ملک سے آیا اور اسباب تجارت کا بہت سالایا۔ خبرداروں نے میرے حضور میں خبر کی کہ ایسا بڑا تاجر آج تک شہر میں نہیں آیا،میں نے اس کو طلب فرمایا۔
وہ تحفے ہر ایک ملک کے، لائق میری نذر کے، لے کر آیا۔فی الواقع ہر ایک جنس بے بہا نظر آئی۔ چناں چہ ایک ڈبیا میں ایک لعل تھا نہایت خوش رنگ اور آب دار، قدوقامت درست اور وزن میں پانچ مثقال کا۔ میں نے باوجود سلطنت کے ایسا جواہر کبھو نہ دیکھا تھا اور نہ کِسو سے سنا تھا، پسند کیا۔ سوداگر کوبہت سا اِنعام واِکرام دیا اور سند راہ داری کی لکھ دی کہ اس سے ہماری تمام قلمرو میں کوئی مزاحم محصول کا نہ ہو اور جہاں جاوے، اِس کو آرام سے رکھیں۔ وہ تاجر حضور میں دربار کے وقت، حاضر رہتااور آدابِ سلطنت سے خوب واقف تھا اور تقریر وخوش گوئی اُس کی لائق سننے کے تھی اور میں اُس لعل کو ہر روز جواہر خانے سے منگوا کر سرِدربار دیکھا کرتا۔
 ایک روز دیوانِ عام کیے بیٹھا تھا اور اُمرا، ارکانِ دولت اپنے اپنے پایے پر کھڑے تھے اور ہر ملک کے بادشا ہوں کے ایلچی، مبارک باد کی خاطر جو آئے تھے، وہ بھی سب حاضر تھے ۔اُس وقت میں نے موافق معمول کے اُس لعل کو منگوایا۔ جواہرخانے کا داروغہ لے کر آیا۔ میں ہاتھ میں لے کر تعریف کرنے لگا اور فرنگ کے ایلچی کو دیا۔ اُن نے دیکھ کر تبسم کیا اور زمانہ سازی سے صفت کی۔ اسی طرح ہاتھوں ہاتھ ہر ایک نے لیا اور دیکھا اور ایک زبان ہوکر بولے کہ قبلہ ٔعالم کے اقبال کے باعث یہ میسر ہوا ہے، والانہ کسو بادشاہ کے ہاتھ آج تک ایسا رقم بے بہا نہیں لگا۔ اُس وقت میرے قبلہ گاہ کا وزیر، کہ مردِ دانا تھا اور اسی خدمت پرسرفراز تھا، وزارت کی چوکی پر کھڑا تھا، آداب بجا لایا اور التماس کیا کہ کچھ عرض کیا چاہتا ہوں اگر جاں بخشی ہو۔
 میں نے حکم کیا کہ کہہ۔ وہ بولا: قبلۂ عالم! آپ بادشاہ ہیں اور بادشاہوں سے بہت بعید ہے کہ ایک پتھر کی اتنی تعریف کریں۔ اگرچہ رنگ، ڈھنگ، سنگ میں لاثانی ہے، لیکن سنگ ہے۔ اور اس دم سب ملکوں کے ایلچی دربار میں حاضر ہیں، جب اپنے اپنے شہر میں جاویں گے، البتہ یہ نقل کریں گے کہ عجب بادشاہ ہے کہ ایک لعل کہیں سے پایا ہے،اسے ایسا تحفہ بنایا ہے کہ ہر روز روبہ رو منگاتا ہے اور آپ اُس کی تعریف کرکر سب کو دِکھاتا ہے۔ پس جو بادشاہ یا راجا یہ احوال سنے گا، اپنی مجلس میں ہنسے گا۔ خداوند ایک ادنیٰ سوداگر نیشا پور میں ہے؛ اُس نے بارہ دانے لعل کے، کہ ہر ایک سات سات مثقال کا ہے،پٹے میں نصب کرکر کتّے کے گلے میں ڈال دیے ہیں۔ مجھے سنتے ہی غصہ چڑھ آیا اور کھسیانے ہوکر فرمایا کہ اِس وزیر کی گردن مارو۔
جلّادوں نے وو ں ہی اُس کا ہاتھ پکڑ لیا اور چاہا کہ باہر لے جاویں، فرنگ کے بادشاہ کا ایلچی دست بستہ روبہ رو آکھڑا ہوا۔ میں نے پوچھا کہ تیرا کیا مطلب ہے؟ اُس نے عرض کی: اُمیدوار ہوں کہ تقصیر سے وزیر کی واقف ہوں۔ میں نے فرمایا کہ جھوٹھ بولنے سے اور بڑا گناہ کون سا ہے، خصوصاً بادشاہوں کے رو بہ رو؟ اُن نے کہا: اِس کا دروغ ثابت نہیں ہوا؛ شاید جوکچھ کہ عرض کی ہے، سچ ہو۔ ابھی بے گناہ کا قتل کرنا درست نہیں۔ اس کا میں نے یہ جواب دیا کہ ہرگز عقل میں نہیں آتا، ایک تاجر کہ نفع کے واسطے شہر بہ شہر اور ملک بہ ملک خراب ہوتا پھرتا ہے اور کوڑی کوڑی جمع کرتا ہے؛ بارہ دانے لعل کے، جو وزن میں سات سات مثقال کے ہوں،کتّے کے پٹّے میں لگا دے۔ اُس نے کہا: خدا کی قدرت سے تعجب نہیں، شایدکہ باشد۔ ایسے تحفے اکثر سودا گروں اور فقیروں کے ہاتھ آتے ہیں، اس واسطے کہ یے دونوں ہر ایک ملک میں جاتے ہیں اور جہاں سے جو کچھ پاتے ہیں،لے آتے ہیں۔ صلاحِ دولت یہ ہے کہ اگر وزیر ایسا ہی تقصیر وار ہے تو حکم قید کا ہو، اس لیے کہ وزیر، بادشاہوں کی عقل ہوتے ہیں اور یہ حرکت سلاطینوں سے بد نما ہے کہ ایسی بات پر، کہ جھوٹھ سچ اس کا ابھی ثابت نہیں ہوا، حکم قتل کافرمائیں اور اس کی تمام عمر کی خدمت اور نمک حلالی بھول جائیں۔ بادشاہ سلامت! اگلے شہر یاروں نے بندی خانہ اسی سبب ایجاد کیا ہے کہ بادشاہ یا سردار اگر کِسو پر غضب ہوں، تو اُسے قید کریں۔ کئی دن میں غصہ جاتا رہے گا اور بے تقصیری اُس کی ظاہر ہوگی؛ بادشاہ خونِ ناحق سے محفوظ رہیں گے، کل کو روزِ قیامت میں ماخوذنہ ہوئیں گے۔
 میں نے جتنا اُس کے قائل کرنے کو چاہا، اُس نے ایسی معقول گفتگو کی کہ مجھے لاجواب کیا۔ تب میں نے کہا کہ خیر، تیرا کہنا پذیرا ہوا، میں خون سے اِس کے در گزرا؛ لیکن زنداں میں مقیّد رہے گا۔ اگر ایک سال کے عرصے میں اس کا سخن راست ہوا، کہ ایسے لعل کتّے کے گلے میں ہیں، تو اس کی نجات ہوگی! اور نہیں تو بڑے عذاب سے مارا جاوے گا۔


مشق

لفظ ومعنی

سرگذشت                    :        گذرا ہوا احوال ،  واقعہ
ماجرا                          :        قصّہ
سربہ سر                      :        شروع سے آخر تک، تمام تر
قبلہ گاہ                       :       کعبہ شریف کی طرح قابلِ احترام،مراد والد۔ اردو میں عام طور پر                                            باپ کو قبلہ گاہی،قبلہ ،کعبہ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔
اسباب                         :       سامان ،مال
فی الواقع                      :        حقیقت میں
بے بہا                        :        بہت قیمتی ، جس کی قیمت کا اندازہ نہ لگایا جاسکے
آب دار                       :        چمک دار
مِثقال                         :        ایک وزن جوساڑھے چار ماشہ کے برابر ہوتا ہے
کبھو                           :        کبھی
کِسو                           :        کسی 
سند ِراہ داری                  :        ملک میں آمدورفت کا اجازت نامہ
قلمرو                          :        سلطنت
مزاحم                         :        رکاوٹ ڈالنے والا، روکنے والا
خوش گوئی                    :        اچھی گفتگو، خوش کلامی
اُمرا                           :        امیر کی جمع ،دولت مند لوگ
ارکانِ دولت                  :        حکومت کے کارندے
ایلچی                           :        سفیر
نیشا پور                       :         ایران کا ایک مشہور شہر
 زمانہ سازی                   :       ظاہر داری، بناوٹ، تکّلف، خوشامد، مکّاری
قبلٔہ عالم                       :        بادشاہوں کا لقب
اقبال                          :        خوش نصیبی
وَاِلّانہ                          :        ورنہ، اور نہیں تو
رقم                           :         اصل معنی گنتی(نگ، عدد) لیکن یہاں پر یہ ہیرے جواہرات کے                                           عدد کے معنی میں آیا ہے 
اِلتماس                         :        درخواست
بعید                            :        دور
لاثانی                           :        بے مثال
روبہ رو                        :        آمنے سامنے
نصب کرنا                     :        گاڑنا، لگانا
تقصیر                           :         قصور، غلطی
دروغ                          :          جھوٹ
شاید کہ باشد                  :         شاید ایسا ہی ہو
صلاحِ دولت                   :         حکومت کی مصلحت، مناسب صلاح
شہریار                          :         بادشاہ
بندی خانہ                      :        قید خانہ
ماخوذ ہونا                       :       گرفتار ہونا، پکڑا جانا
پذیرا ہونا                       :        قبول ہونا، مان لیا جانا
درگذرکرنا                      :        معاف کرنا
زِنداں                          :        قید خانہ
راست                          :       ٹھیک، درست

غور کرنے کی بات

  • بدخشاں افغانستان کا مشہور شہر جہاں کے لعل مشہور ہیں۔ 
  • وَاِلّانہ اصل میں لفظ وَاِلّا ہے جسے اس زمانے میں والّا نہ بھی بولتے تھے۔ 
 میرامّن نے باغ وبہار میں یہ لفظ کئی جگہ استعمال کیا ہے۔
  • ’’کبھو‘‘  ’’کسو‘‘ باغ و بہار میں یہ لفظ بکثرت استعمال ہوئے ہیں ان کے معنی ہیں کبھی، کسی ۔کبھو، کسو اب نہیں بولے جاتے۔
  • ’’جھوٹھ‘‘ ، ’’یے‘‘ ان لفظوں کا املا جو اب رائج ہے وہ ہے ’’جھوٹ‘‘ ، ’’یہ‘‘۔ ’’کرکر‘‘  اب مستعمل نہیں۔زیادہ تر لوگ ’’کرکے‘‘ بولتے ہیں۔
  •  میرامّن کے اسلوب کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ کہیں کہیں انھوں نے ہم قافیہ الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ اس سبق میں بھی کئی جگہ ہم قافیہ الفاظ آئے ہیں۔ ان پر غور کیجیے جیسے: ملک سے آیا اور اسباب تجارت کا بہت سالایا۔
  • میرامن کے یہاں اکثر جملوں کی ساخت بھی آج کی زبان سے ذرا مختلف ہے۔ ان لفظوں اور جملوں پر غور کیجیے:
’’ سارا یہ ملک‘‘ ’’ اس وقت میں نے موافق معمول کے‘‘ ’’ بادشاہوں کے ایلچی مبارک بادی کی خاطر جو آئے تھے‘‘۔
    اِن جملوں کو آج کی زبان میں بالترتیب اس طرح لکھا جائے گا:یہ سارا ملک،اس وقت میں معمول کے موافق، بادشاہوں کے جو ایلچی مبارک باد کی خاطر آئے تھے۔
  • ’’سلاطینوں‘‘ اصل لفظ سلطان ہے جس کے کئی معنی ہیں ۔اردو میں عام طور پر حکمراں یا بادشاہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کی جمع سلا طین ہے۔ پُرانے زمانے میں ایسے بہت سے الفاظ کو دو بارہ جمع کی شکل میں بنا کر بولتے تھے جیسے سلاطین سے سلاطینوں، شکایات سے شکایاتوں، علما سے علماؤں۔
  •  باغ وبہار محض قصّہ گوئی نہیں اس میں ایک خاص زمانے کی تہذیب و معاشرت کی عکاسی بھی ہے۔ اس سبق کی عبارت کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ :
(1)   بادشاہ کو کسی بھی چیز کی زیادہ تعریف نہیں کرنی چاہیے۔
(2)   جھوٹ بولنا سخت گناہ کی بات ہے۔
(3)   بے گناہ کا قتل درست نہیں۔
(4 )   کسی کی نمک حلالی اور خدمت کو بھولنا نہیں چاہیے۔

سوالات

1۔   داستان کسے کہتے ہیں اور اس کی اہم خصوصیات کیا ہیں؟
2۔   میرامن کے طرزِ تحریر کی اہم خصوصیات کیا ہیں؟
3۔   بادشاہ نے سودا گر کو کیا کیا سہولتیں دے رکھی تھیں؟
4۔   وزیر نے بادشاہ کو کیا نصیحت کی؟
 5۔  بادشاہ نے وزیر کو سزا کیوں دی؟
6۔   فرنگ کے بادشاہ کے سفیر نے وزیر کو سزائے موت سے کیسے بچا لیا؟

عملی کام

  • اُردو کی اہم داستانوں کے نام معلوم کرکے لکھیے۔
  • سبق میں بہت سی تراکیب آئی ہیں جیسے ’’ارکانِ دولت‘‘ اور’’ قبلہ گاہ‘‘وغیرہ۔ کوئی پانچ تراکیب لکھیے۔
  • سبق سے کچھ ہم قافیہ الفاظ انتخاب کرکے لکھیے۔
  •  میرامّن کی زبان سادہ، سلیس اور بامحاورہ زبان ہے۔ اس خیال کی تصدیق میں سبق سے دوجملے   تلاش کرکے لکھیے۔



s