Skip to content
Ghulistan-e-Adab Chapter-3

طنزو مزاح


لغت میں طنز کے معنی ’’طعنہ‘‘ کے ہیں۔ ادبی اصطلاح میں اس لفظ کے لیے ہجو یا تنقیص اور عام بول چال میں تمسخر اور لعن طعن وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے، مگر ان تمام اصطلاحوں میں طنز ہی ایک ایسا لفظ ہے جو انگریزی زبان کے SATIREکی صحیح عکّاسی کرتا ہے۔ اس کے لیے اردو ادب میں یہی اصطلاح رائج ہے۔ اپنے مقصد کے اعتبار سے سچا اور اچھا طنز اصلاح کی غرض سے کیا جاتا ہے ، اس سے کسی کو تکلیف پہنچانا مقصود نہیں ہوتا۔
 مزاح، خوش طبعی کو کہتے ہیں۔ لغت میں اس کے یہی معنی درج ہیں۔انگریزی میں اس لفظ کو  HUMOURکہا جاتا ہے۔ طنز کی طرح مزاح کی بھی کئی قسمیں ہیں۔ بہترین مزاح  وہ ہے جس میں لطافت اور شائستگی ہو،پھکّڑپن نہ ہو۔
 اُردو ادب میں طنز و مزاح کو عموماً اظہار کا ایک ہی اسلوب سمجھا جاتا ہے۔ حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ دونوں کی الگ الگ پہچان ہے جب کہ اوپر کی گفتگوسے واضح ہوچکا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اردو کے بیشتر لکھنے والوں نے طنز ومزاح کو ایک ہی دھاگے میں پرو کر پیش کیا ہے اس لیے دونوں کوایک ہی سمجھا جانے لگا ہے۔ اُردو ادب میں طنز ومزاح کی روایت بہت پرانی ہے۔ سترہویں صدی کے آخری دور میں جب دلّی کے شاعر اردو زبان کوشعر وشاعری کے لائق نہیں سمجھتے تھے اور فارسی میں اردو کے پیوند لگا کر تفنّن طبع کے لیے کچھ کہہ لیا کرتے تھے ، طنز و مزاح کی ابتدا ہوئی۔ اسی زمانے میں جعفر زٹلی نام کے ایک شاعر گزرے ہیں جنھیں اردو طنز و مزاح کا پہلا باقا عدہ شاعر کہا جاتا ہے۔ جعفر زٹلی کی شاعری میں طنز کا عنصر زیادہ ہے اور ان کا طنز بڑا دل دُکھانے والا ہوتا ہے۔ وہ ایک باغی اور انقلابی شاعر تھے۔ ان کے مزاح میں بھی خوش دلی کی جگہ پھکّڑپن اور مذاق کرنے سے زیادہ مذاق اڑانے والا انداز ملتا ہے۔ اس اعتبار سے انھیں اُردو کا بڑا طنز و مزاح گو تو نہیں کہا جاسکتا مگر وہ پہلے باقاعدہ شاعر ضرور ہیں۔ ان کے بعد کے کئی شعرا کے یہاں طنزومزاح کے عناصر پائے جاتے ہیں جن میں میر،ؔ سودا ؔاور غالبؔ کے نام خاص طور پر لیے جاسکتے ہیں۔غالب کے کلام میں شوخی کے ساتھ ساتھ گہرا طنز ملتا ہے۔ غالب کی نثر میں بھی، جس کا زیادہ حصہ خطوط پر مشتمل ہے، شوخی اور مزاح کے اعلیٰ ترین نمونے پائے جاتے ہیں۔ ان کے بعد بھی کئی لوگوں نے یہ روش اختیار کی مگر یہ سب انفرادی کوششیں تھیں۔ اردو میں طنز ومزاح کا باقاعدہ آغاز لکھنؤ کے ہفتہ وار اخبار ’’اودھ پنچ‘‘ کے اجرا سے ہوا۔ یہ اخبار منشی سجاد حسین نے جاری کیا تھا اور اس سے اردو کے کئی اہم لکھنے والے وابستہ تھے۔
 طنز ومزاح کی تاریخ میں شاعر کی حیثیت سے اکبرؔالہ آبادی، مجیدؔلاہوری، ظریفؔ لکھنوی، سیّدمحمد جعفری اور دلاور فگارؔ کے نام مشہور ہیں۔ نثرنگاروں میں منشی سجاد حسین، پنڈت رتن ناتھ سرشار، عبد المجید سالک، چراغ حسن حسرت، شوکت تھا نوی، پطرس بخاری، مرزا فرحت اللہ بیگ، مرزا عظیم بیگ چغتائی، ملّا رموزی، ابراہیم جلیس، کنھیا لال کپور، فکر تونسوی، ابن انشا، کرنل محمد خاں، فرحت کاکوروی، تخلص بھوپالی،مشفق خواجہ، یوسف ناظم اور مجتبیٰ حسین کے نام معروف ہیں۔


پطرس بخاری

(1958 —1898)

سیّداحمد شاہ بخاری اصل نام تھا۔ پطرس بخاری کے قلمی نام سے مشہور ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی کے استاد کی حیثیت سے ملازمت کا آغاز کیا۔ اس کے بعد آل انڈیا ریڈیو کے ڈائریکٹر جنرل مقرر ہوئے۔ تقسیمِ وطن کے بعد وہ اقوام متحدہ سے وابستہ ہوئے اور ایک بلند عہدے پر فائز ہوئے۔
پطرس بخاری اردو کے بہترین مزاح نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے لکھا تو بہت کم لیکن جو بھی لکھا بہت اچھا لکھا۔ اُن کے مزاحیہ مضامین کا مجموعہ ’’مضامینِ پطرس‘‘ دس مزاحیہ مضامین پر مشتمل ہے لیکن معیار کے اعتبار سے اُردو طنزو مزاح کی تاریخ میں اس کتاب کوایک  بلند مرتبہ حاصل ہے ۔
 پطرس کے مضامین پر انگریزی مزاح کی گہری چھاپ ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ان کی زبان میں اردو ادب ، خاص کر شاعری کی شگفتگی اور شائستگی اور عالمانہ نثر کی شان بھی پائی جاتی ہے۔ اُن کی تحریر میں شوخی، روانی اور بے ساختگی ہے۔ سیدھی سادی بات سے مزاح پیدا کرنا، لفظوں کے اُلٹ پھیر سے نئے جملے تیار کر نا اور خود کو مزاح کا نشانہ بنا کر دوسروں کوہنسنے کا موقع دینا اُن کا خاص انداز ہے۔ ان کی تحریروں کو خالص مزاح کا نام دینا صحیح نہیں۔ وہ اکثر عام انسانی کمزوریوں کوطنز کا نشانہ بناتے ہیں۔ ان کا کمال یہ ہے کہ وہ تلخی کا احساس پیدا کیے بغیر طنز کا وار کرجاتے ہیں۔
Ghulistan-e-Adab Chapter-3


سویرے جو کل آنکھ میری کھلی


گیدڑ کی موت آتی ہے تو شہر کی طرف بھاگتا ہے،ہماری جو شامت آئی تو ایک دن اپنے پڑوسی لالہ کرپا شنکر جی برہم چاری سے بر سبیلِ تذکرہ کہہ بیٹھے کہ لالہ جی! امتحان کے دن قریب آئے جاتے ہیں، آپ سحر خیزہیں،ذرا ہمیں بھی صبح جگادیجیے گا۔
وہ حضرت بھی معلوم ہوتا ہے بھوکے بیٹھے تھے، دوسرے دن اُٹھتے ہی انھوں نے ہمارے دروازے پر مکّے بازی شروع کردی۔ کچھ دیر ہم سمجھے کہ خواب ہے، ابھی سے کیا فکر کرنا، جب جاگیں گے لاحول پڑھ لیں گے، لیکن گولہ باری لمحہ بہ لمحہ تیز ہوتی گئی اور صاحب، جب کمرے کی چوبی دیواریں لرزنے لگیں،صراحی پر رکھاہوا گلاس جل ترنگ کی طرح بجنے لگا اور دیوار پر لٹکا ہوا کیلنڈر پنڈولم کی طرح ہلنے لگا تو بیداری کا قائل ہونا ہی پڑا۔ مگر اب دروازہ ہے کہ لگاتار کھٹکھٹایا جارہا ہے۔ میں کیا، میرے آباواجداد کی روحیں اور میری قسمتِ خوابیدہ بھی جاگ اٹھی ہوگی۔ بہتیری آوازیں دیتا ہوں۔۔۔ ا چّھا۔۔ ۔ اچّھا۔۔۔تھینک یو۔۔۔جاگ گیا ہوں۔۔۔بہت اچّھا۔۔۔نوازش۔۔۔آں جناب ہیں کہ سنتے ہی نہیں۔ خدایاکس آفت کا سامنا ہے! یہ سوئے ہوئے کوجگارہے ہیں یا مُردے کوجِلارہے ہیں۔ اور حضرت عیسیٰؑ بھی تو واجبی طور پر ہلکی سی آواز میں’’قُم‘‘ کہہ دیا کرتے ہوں گے۔زندہ ہوگیا تو ہوگیا، نہیں تو چھوڑ دیا۔ مُردے کے پیچھے لٹھ لے کر تھوڑے ہی پڑ جاتے تھے؟ توپیں تھوڑی داغتے تھے؟ یہ ہم سے کیسے ہوسکتا تھا کہ اٹھ کر دروازے کی چٹخنی کھول دیتے؟ پیشتر اس کے کہ بستر سے باہر نکلیں، دل کو جس قدرسمجھانا بجھانا پڑتا ہے، اُس کا اندازہ بس اہلِ ذوق ہی لگا سکتے ہیں۔ آخرکار جب لمپ جلایا اور اُن کو باہر سے روشنی نظر آئی تو طوفان تھما۔اب جو ہم نے کھڑکی اور روشن دان میں سے چاروں طرف دیکھا اور بزرگوں سے صبحِ کاذب کی جتنی نشانیاں سنی تھیں،اُن میں سے ایک بھی نظر نہ آئی، تو فکر سا ہوگیا کہ آج سورج گرہن نہ ہو! سمجھ میں نہ آیا تو پڑوسی کو آواز دی:لالہ جی !۔۔۔ لالہ جی! جواب آیا ’’ہوں‘‘
میں نے کہا: ’’ آج کیا بات ہے کہ اندھیر اندھیرا سا ہے۔‘‘
کہنے لگے: ’’تو اور کیا تین ہی بجے سے سورج نکل آئے۔‘‘
تین بجے کا نام سُن کر ہوش اُڑگئے، چونک کر پوچھا: ’’کیا کہا تم نے؟ تین بجے ہیں؟‘‘
کہنے لگے : ’’تین ۔۔ ۔ تو ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ کچھ۔۔ ۔سات۔۔۔ ساڑھے۔۔۔ منٹ اوپر تین ہیں۔‘‘
میں نے کہا: ’’ ارے او کم بخت، خدائی فوج دار، بد تمیز کہیں کے! میں نے تجھ سے یہ کہا تھا کہ صبح جگادینا، یا یہ کہا تھا کہ سرے سے سونے ہی نہ دینا؟تین بجے جاگنا بھی کوئی شرافت ہے؟ ہمیں تو نے کوئی ریلوے گارڈ سمجھ رکھا ہے؟ تین بجے ہم اُٹھ سکا کرتے تو آج دادا جان کے منظورِ نظر نہ ہوتے؟ تین بجے اُٹھ کر ہم زندہ رہ سکتے ہیں؟ امیرزادے ہیں  کہ کوئی مذاق ہے، لاحول ولاقُوۃ۔‘‘
دل تو چاہتا تھا کہ عدمِ تَشدُّد کو خیر باد کہہ دوں، مگر پھر خیال آیا کہ بنی نوعِ انسان کی اصلاح کا ٹھیکا تو کوئی ہم نے لے نہیں رکھا ہے، ہمیں اپنے کام سے غرض۔لمپ بجھایا اور بڑبڑاتے ہوئے پھرسوگئے اور پھر حسبِ معمول نہایت اطمینان کے ساتھ بھلے آدمیوں کی طرح دس بجے اُٹھے، بارہ بجے تک منھ ہاتھ دھویا اورچار بجے چائے پی کر ٹھنڈی سڑک کی سیر کو نکل گئے۔
شام کو واپس ہوسٹل میں وارِد ہوئے، شام کاارمان انگیز وقت، ہوا بھی نہایت لطیف تھی، طبیعت بھی ذرا مچلی ہوئی تھی، ہم ذرا ترنگ میں گاتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے کہ اتنے میں ایک پڑوسی کی آواز آئی: ’’مسٹر!‘‘
ہم اس وقت ذرا چٹکی بجانے لگے تھے، بس انگلیاں وہیں پر رُک گئیں اورکان آواز کی طرف لگ گئے۔ ارشاد ہوا : ’’آپ گارہے ہیں؟‘‘ زور ’’آپ‘‘ پر۔
میں نے کہا: ’’اجی میں کس لائق ہوں، لیکن خیر، فرمائیے؟‘‘
بولے ’’ذرا۔۔۔وہ۔۔۔میں ڈسٹرب ہوتاہوں۔۔۔‘‘
بس صاحب موسیقیت کی رُوح ہم میں فوراً مرگئی، دل نے کہا ’’اونابکارانسان! دیکھ پڑھنے والے یوں پڑھتے ہیں۔‘‘
صاحب! خدا کے حضور میں گڑگڑا کر دعا مانگی کہ ’’خدایا ہم بھی اب باقاعدہ مطالعہ شروع کرنے والے ہیں، ہماری مدد کر اور ہمیں ہمت دے۔‘‘
آنسو پونچھے اور دل کو مضبوط کرکے میزکے سامنے آبیٹھے، دانت پیس لیے،نکٹائی کھول دی، آستینیں چڑھا لیں، لیکن کچھ سمجھ میں نہ آیاکہ کریں کیا؟ سامنے سُرخ، سبز،زرد، سبھی قسم کی کتابوں کا انبار پڑا تھا، اب اُن میں سے کون سی پڑھیں؟فیصلہ یہ ہوا کہ پہلے کتابوں کو ترتیب سے میز پر لگادیں کہ باقاعدہ مطالعے کی پہلی منزل یہی ہے۔
بڑی تقطیع کی کتابوں کو علحدہ رکھ دیا،چھوٹی تقطیع کی کتابوں کوسائز کے مطابق الگ کھڑا کردیا، ایک نوٹ پیپر پر کتاب کے صفحوں کی تعداد کو دنوں کی تعداد پر منقسم کیا، ساڑھے پانچ سو جواب آیا۔ لیکن اضطراب کی کیا مجال جو چہرے پر ظاہر ہونے پائے۔ دل میں کچھ تھوڑا سا پچھتائے کہ صبح تین ہی بجے کیوں نہ اُٹھ بیٹھے، لیکن کم خوابی کے طبی پہلو پر غور کیا تو فوراً اپنے آپ پر ملامت کی۔ آخرکار اِس نتیجے پر پہنچے کہ تین بجے تو لغوبات ہے، البتہ پانچ چھ سات بجے کے قریب اٹھنا نہایت معقول ہوگا۔صحت بھی قائم رہے گی اور امتحان کی تیاری بھی باقاعدہ ہوگی، ہم خرما وہم ثواب۔
یہ تو ہم جانتے ہیں کہ سویرے اٹھنا ہے تو جلدی ہی سونا چاہیے۔ کھانا باہرہی کھا آئے تھے، بسترے میں داخل ہوگئے۔
چلتے چلتے خیال آیا کہ لالہ جی سے جگانے کے لیے کہہ ہی نہ دیں۔ یوں تو ہماری قوتِ ارادی کافی زبردست ہے، جب چاہیں اٹھ سکتے ہیں، لیکن پھر بھی کیاحرج ہے ،ڈرتے ڈرتے آوازدی : ’’لالہ جی‘‘!
انھوں نے پتھر کھینچ مارا : ’’یس‘‘!
ہم اور بھی سہم گئے کہ لالہ جی کچھ ناراض معلوم ہوتے ہیں۔تتلا کے درخواست کی کہ ’’لالہ جی!  صبح آپ کو بڑی تکلیف ہوئی، میں آپ کا بہت ممنوں ہوں، کل ذرا مجھے چھے بجے، یعنی جس وقت چھے بجیں۔
جواب ندارد۔
میں نے پھر کہا : ’’جب چھے بج چکیں۔۔۔ سنا آپ نے؟‘‘
چُپ۔
’’لالہ جی!‘‘
کڑکتی ہوئی آواز نے جواب دیا: ’’سن لیا۔ چھے بجے جگادوں گا۔‘‘
ہم نے کہا : ’’ب،ب،ب، اچھا،یہ بات ہے۔‘‘
توبہ، خدا کسی کو محتاج نہ کرے!
لالہ جی آدمی بہت شریف ہیں، اپنے وعدے کے مطابق دوسرے دن صبح چھے بجے انھوں نے دروازے پر گھونسوں کی بارش شروع کردی۔اُن کا جگانا تو محض ایک سہارا تھا، ہم خود ہی انتظار میں تھے کہ یہ خواب ختم ہولے تو ابھی جاگتے ہیں۔ وہ نہ جگاتے تو میں خود ہی ایک دو منٹ کے بعد آنکھیں کھول دیتا۔ بہر صورت جیسا کہ میرا فرض تھا، میں نے اُن کا شکریہ ادا کیا اور انھوں نے اس صورت میں قبول کیا کہ گولہ باری بند کردی۔
اُس کے بعد واقعات ذرا بحث طلب سے ہیں اور اُن کے متعلق روایات میں ذرا اختلاف ہے۔ بہر حال اِس کا تو مجھے یقین ہے اور میں قسم بھی کھا سکتا ہوں کہ آنکھیں میں نے کھول دی تھیں، پھر یہ بھی یاد ہے کہ ایک نیک اور سچے مسلمان کی طرح کلمۂ شہادت بھی پڑھا اور پھریہ بھی یاد ہے کہ اٹھنے سے پہلے دیباچے کے طورپرایک آدھ کروٹ بھی لی اور پھر کا نہیں پتا۔ شاید لحاف اوپر سے اتاردیا،یا شاید سرکو اس میں لپیٹ لیا، یا شاید کھانسا، کہ خدا جانے خرّاٹا لیا۔ یہ یقینی امر ہے کہ دس بجے ہم بالکل جاگ رہے تھے۔ لیکن لالہ جی کے جگانے کے بعد اور دس بجے سے پیشتر خدا جانے ہم پڑھ رہے تھے، یا شاید سورہے ہوں۔ بہر صورت یہ نفسیات کا مسئلہ ہے،جس میں نہ آپ ماہر نہ ہم۔ کیا پتا لالہ جی نے جگایا ہی دس بجے ہو، یا اُس دن چھے دیر میں بجے ہوں۔ خدا کے کاموں میں ہم آپ کیا دخل دے سکتے ہیں! لیکن ہمارے دل میں دن بھر یہ شبہ رہا کہ قصور کچھ اپنا ہی معلوم ہوتا ہے۔ جناب!شرافت ملاحظہ ہو، محض اس شبہے کی بنا پر صبح سے شام تک ضمیر کی ملامت سُنتا رہااور اپنے آپ کو کوستا رہا، مگر لالہ جی سے ہنس ہنس کر باتیں کیں،اُن کا شکریہ ادا کیا اوراس خیال سے کہ اُن کی دل شکنی نہ ہو،حد درجہ کی طمانیت ظاہر کی کہ آپ کی نوازش سے میں نے صبح کا سہانا اور رُوح افزا وقت بہت اچھی طرح صرف کیا ورنہ آج بھی اور دنوں کی طرح دس بجے اٹھتا۔ لالہ جی! صبح کے وقت دماغ کیا صاف ہوتا ہے، جو پڑھو خدا کی قسم فوراً یاد ہوجاتا ہے۔ بھئی خدا نے صبح بھی کیا عجب چیز پیدا کی ہے، یعنی اگر صبح کے بجائے شام ہوجایا کرتی تو دن کیا بری طرح کٹا کرتا!‘‘
لالہ جی نے ہماری اس جادو بیانی کی داد یوں دی کہ آپ پوچھنے لگے: ’’تو میں آپ کو چھے بجے جگا دیا کروں نا؟‘‘
میں نے کہا: ’’ ہاں ہاں، یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے؟ بے شک۔‘‘
شام کے وقت آنے والی صبح کے مطالعے کے لیے دو کتابیں چھانٹ کر میز پر علحدہ   رکھ دیں، کرسی کو چار پائی کے نزدیک سرکا لیا، اور کوٹ اور گلوبند کو کرسی کی پشت پر آویزاں کردیا، کنٹوپ اور دستانے پاس ہی رکھ لیے، دیا سلائی کو تکیے کے نیچے ٹٹولا، تین دفعہ آیۃَالکرسی پڑھی اور دل میں نہایت ہی نیک ارادہ کرکے سو گئے۔
صبح لالہ جی کی پہلی دستک کے ساتھ ہی آنکھ کھل گئی، نہایت خندہ پیشانی کے ساتھ لحاف کی ایک کھڑکی میں سے ان کو ’’گڈمارننگ‘‘ کہا اور نہایت بیدارانہ لہجے میں کھانسا۔ لالہ جی مطمئن ہو کر واپس چلے گئے۔
 ہم نے اپنی ہمت اور اولو العزمی کو بہت سراہا کہ آج ہم فوراً ہی جاگ اُٹھے، دل سے کہا کہ ’’دل، بھیّا! صبح اُٹھنا تو محض ذراسی بات ہے، ہم یوں ہی اِس سے ڈرا کرتے تھے۔‘‘ دل نے کہا: ’’اور نہیں تو کیا، تمھارے یوں ہی اوسان خطا ہوجایا کرتے ہیں۔‘‘ ہم نے کہا: ’’سچ کہتے ہو یار! یعنی اگر ہم سُستی اور کسالت کو خود اپنے قریب نہ آنے دیں تو ان کی مجال کیا ہے کہ ہماری باقاعدگی میں خلل انداز ہوں۔ اس وقت لاہور میں ہزاروں ایسے کاہل لوگ ہوں گے جودنیا اور مافیہا سے بے خبر نیند کے مزے اڑاتے ہوں گے، اور ایک ہم ہیں کہ ادائے فرض کی خاطر نہایت شگفتہ طبعی اور غنچہ دہنی سے جاگ رہے ہیں۔ بھئی کیا برخوردار اورسعادت آثار واقع ہوئے ہیں۔‘‘
ناک کو سردی سی محسوس ہونے لگی تو اُسے ذرا یوں ہی سا لحاف کی اوٹ میں کر لیا اور پھر سوچنے لگے۔۔۔ ’’ خوب، تو ہم آج کیا وقت پرجاگے ہیں، بس ذرا اس کی عادت ہوجائے تو باقاعدہ قرآنِ مجید کی تلاوت اور فجر کی نماز بھی شروع کردیں گے۔ آخر مذہب سب سے مقدم ہے، ہم بھی کیا روز بروز اِلحاد کی طرف مائل ہوتے جاتے ہیں۔ نہ خدا کا ڈر نہ رسول کا خوف۔ سمجھتے ہیں کہ بس اپنی محنت سے امتحان پاس کرلیں گے۔ اکبرؔ بے چارا یہی کہتے کہتے مرگیا، مگر ہمارے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ (لحاف کانوں پر سرک آیا)۔۔۔  تو گویا آج ہم اور لوگوں سے پہلے جاگے ہیں۔۔۔بہت پہلے۔۔۔  کیا بات ہے؟ خداوندانِ کالج بھی کس قدر سُست ہیں! ہر ایک مستعد انسان کو چھے بجے تک قطعی جاگ اٹھنا چاہیے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کالج سات بجے کیوں نہ شروع ہوا کرے ۔۔۔ (لحاف سر پر)۔۔۔ ! بات یہ ہے کہ تہذیبِ جدید ہماری تمام اعلیٰ قوتوں کی بیخ کنی کررہی ہے، عیش پسندی روز بروز بڑھتی جاتی ہے ۔۔۔ ( آنکھیں بند) ۔۔۔  تو اب چھے بجے ہیں، تو گویا تین گھنٹے متواتر مطالعہ کیا جاسکتا ہے، سوال صرف یہ ہے کہ پہلے کو ن سی کتاب پڑھیں، شیکسپیئریا ورڈز ورتھ ؟ ’’ میں جانوں شیکسپیئر بہتر ہوگا، اس کی عظیم الشّان تصانیف میں خدا کی عظمت کے آثار دکھائی دیتے ہیں اور صبح کے وقت اللہ میاں کی یاد سے بہتر کیا چیز ہو سکتی ہے!‘‘ پھر خیال آیا کہ دن کو جذبات کے محشرستان سے شروع کرنا ٹھیک فلسفہ نہیں۔ ورڈ ز ورتھ پڑھیں۔ اس کے اوراق میں فطرت کو سکون و اطمینان میسر ہوگا اور دل ودماغ نیچر کی خاموش دل آویزیوں سے ہلکے ہلکے لطف اندوز ہوں گے ۔۔۔ لیکن شیکسپیئر۔۔۔ نہیں ورڈز ورتھ ہی ٹھیک رہے گا ۔۔۔ مگر شیکسپیئر ۔۔۔ ہیملٹ ۔۔۔ لیکن ورڈز ورتھ ۔۔۔ لیڈی میکبتھ ۔۔۔ دیوانگی ۔۔۔ سبزہ زار ۔۔۔ بادِ بہاری ۔۔۔صیدِ ہوس ۔۔۔کشمیر ۔۔۔ میں آفت کا پرکالہ ہوں ۔۔۔۔‘‘
یہ معّما اب فلسفے ہی سے تعلق رکھتا ہے کہ پھر جو ہم نے لحاف سے باہر سر نکالا اور ورڈ ز ورتھ پڑھنے کا ارادہ کیا تو وہی دس بج رہے تھے ، اس میں نہ معلوم کیا بھید ہے۔
کالج ہال میں لالہ جی ملے، کہنے لگے: ’’مسٹر! صبح میں نے آپ کو آواز د ی تھی آپ نے کوئی جواب نہ دیا؟‘‘
میں نے زور کا قہقہہ لگا کر کہا : ’’ اوہو لالہ جی! یاد نہیں میں نے آپ کو گڈمارننگ کہا تھا؟ میں تو پہلے ہی سے جاگ رہا تھا۔‘‘
بولے: ’’ وہ تو ٹھیک ہے، لیکن بعد میں۔۔۔ اس کے بعد ۔۔۔ کوئی سات بجے کے قریب میں نے آپ سے تاریخ پوچھی تھی، آپ بولے ہی نہیں۔‘‘
ہم نے نہایت تعجب کی نظروں سے ان کو دیکھا، گویا وہ پاگل ہو گئے ہیں اورپھر متین چہرہ بنا کر ماتھے پر تیوری چڑھائی اور غور وفکر میں مصروف ہوگئے۔ ایک آدھ منٹ تک ہم اس تعمق میں رہے۔ پھر یکایک ایک محجوبانہ انداز سے مسکرا کر کہا: ’’ہاں ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔‘‘ میں ا س وقت ۔۔۔ اے ۔۔۔ نماز پڑھ رہا تھا۔‘‘ لالہ جی مرعوب سے ہوکر چل دیے اور ہم اپنے زُہد واتقا کی مسکینی میں سر نیچے ڈالے کمرے کی طرف چلے آئے۔
اب یہ ہمارا روز مرّہ کا معمول ہوگیا۔ جاگنا نمبر ایک چھے بجے۔جاگنا نمبر دو دس بجے۔ اس دوران میں لالہ جی آوازدیں تو نماز۔


مشق

 لفظ ومعنی 

 بھوکے بیٹھے تھے              :        بس انتظارمیں تھے کہ موقع ملے اور وہ اپنا کام کریں
 نابکا                           :        جوکسی کام کے لائق نہ ہو
 ہم خرماوہم ثواب             :        (فارسی) کسی چیز سے بیک وقت دو فائدے حاصل کرنا
بر سبیلِ تذکرہ                :        تذکرے کے طور پر،باتوں باتوں میں
سحرخیز                        :        صبح سویر ے جاگنے والا
 جل ترنگ                 :     ایک باجا ( پانی سے بھری بہت سی پیالیوں سے جن پر ہلکی چھڑضرب                                        لگا کر راگ پیدا کیا جاتا ہے)
پنڈولم                        :        انگریزی (Pendulum)دیوار گھڑی کا لٹکن
قسمتِ خوابیدہ                 :       سوئی ہوئی قسمت، بد نصیبی
جِلانا                          :        زندہ کرنا
 قُم                          :        (عربی)اُٹھ! حضرت عیسیٰ مُردوں کو ’’قُم بِاذْنِ اللہ (اُٹھ اللہ کے حکم                                         سے ) کہہ کر زندہ کردیا کرتے تھے
اہلِ ذوق                      :        ادب کاذوق رکھنے والے ، ادب کوسمجھنے اور پسند کرنے والے 
صبحِ کاذب                     :        صبح  کے اجالے سے پہلے کی ہلکی روشنی
خدائی فوجدار                   :         ایسا شخص جودوسروں کے کام میں خواہ مخواہ اور بے وجہ دخل دے 
قوّتِ ارادی                    :        کسی کام کا ارادہ کرنے کے بعد اسے کر ڈالنے کی قوّت
 برخور دار                     :       پیاری اولاد یعنی بہت نیک لڑکی یا لڑکا، عام طور پر اچھے لڑکوں کو                                            پیار سے برخوردار کہتے ہیں، اقبال مند، خوش بخت
اکبر                           :        اکبر سے مراد، اکبر ؔ الہ آبادی جو اردو کے مشہور طنزیہ  و  مزاحیہ         شاعرتھے      
 عدمِ تشدّد                      :        طاقت کا استعمال نہ کرنا
وارد ہونا                         :       آنا، پہنچنا
ارمان انگیز                       :       ارمانوں کو ابھارنے والا
تقطیع                            :       سائز،ورق کی لمبائی چوڑائی
اضطراب                         :        پریشانی، بے چینی، الجھن
لغو                              :       فضول ، بے معنی
کلمۂ شہادت                     :      مذہب اسلام میں دوسراکلمہ جس میں گواہی دی جاتی ہے کہ اللہ ایک                                        ہے اور محمدؐ اس کے بندے اور رسول ہیں، اصل عربی کلمہ ہے اشہد ان لا اِلٰہ اِلا اللّٰہ واشہد ان محمداً عبدہٗ ورَسولَہٗ
طمانیت                          :       اطمینان، تسلی
جادو بیانی                        :      بیان کی خوبی جو جادو کا اثر رکھتی ہو
آیتہ الکرسی                     :       قرآن شریف کی ایک مشہور آیت جوعام طور پر خوف یا گھبراہٹ                                         کے موقع پر پڑھی جاتی ہے کہ دل مضبوط ہوجائے اور خطرہ دور                                            ہوجائے
اولوالعزمی                      :      ہمت وحوصلہ
اوسان خطا ہونا                :       ہوش جاتا رہنا، پریشان ہونا
کسالت                       :       کاہلی، سستی
دنیا اور مافیہا                  :       (عربی) دنیا میں جو کچھ ہے
شگفتہ طبعی                   :       خوش مزاجی
غنچہ دہنی                    :      کلی کی طرح منھ ہونا،خوش مزاج ہونا
سعادت آثار                 :      جس کی باتوں سے سعادت ظاہر ہوتی ہو
تلاوت                      :      پڑھنا، خاص کر قرآن مجید کا پڑھنا
الحاد                         :      خدا کا انکار کرنا
مستعد                      :      تیار، ہوشیار
 فطرت                    :       انسان کی طبیعت، مزاج
نیچر                     :    (انگریزی)Nature، یہ انگریزی لفظ فطرت اور قدرت دونوں کے لیے یکساں                             بولا جاتا ہے   
شیکسپیئر                    :     (1564-1616) (William Shakespear)
             انگریزی کا سب سے بڑا ڈرامہ نگار اور شاعر   
ورڈزورتھ                  :    (William Wordsworth)(1770-1850)
              انگریزی کا مشہور شاعر جو فطرت کا دلدادہ تھا          
ہیملٹ                     :      (Hamlet)،شیکسپیئر کا ایک ڈرامہ
لیڈی میکبتیھ              :     شیکسپیئر کے ڈرامےMacbethمیں میکبیتھ کی بیوی
بیخ کنی                     :     جڑ سے اکھاڑپھینکنا
عظمت                        :بڑائی
صیدِہوس                   :     اردو ڈرامہ نگار آغا حشر کے ایک ڈرامے کا نام ہے 
تعمق:                          گہرائی
محجوبانہ                      :      شرماتے ہوئے 
زہد                        :      گناہوں سے دور رہنا
اِتّقا                         :      ڈرنا، خاص کر خدا سے ڈرنا
زہد واتقاکی مسکینی          :     گناہوں سے بچنے اور خدا سے ڈرنے کے نتیجے میں پیدا  ہونے والا عجز                                      (یہاں یہ فقرہ طنزیہ ہے )
روایات                    :      روایت کی جمع، یعنی کہی ہوئی بات۔ وہ بات جوشروع سے چلی آرہی ہے۔                                                             


غور کرنے کی بات

  • اس مضمون میں کاہلوں اور دل لگا کر نہ پڑھنے والوں پر طنز ہے جو مزاح میں بھی شدت پیدا کرتا ہے اور ہمیں غور وخوض کی ترغیب بھی دتیا ہے۔
  • ’’گیدڑ کی موت آتی ہے توشہر کی طرف بھاگتا ہے‘‘ یہ کہاوت ہے اور اُس موقع پر بولی جاتی ہے جب کوئی ایسا قدم اٹھائے جس سے مصیبت کودعوت ملتی ہو۔
  •  صبحِ صادق سورج نکلنے سے پہلے کا وقت ہے کہ جب آسمان پر اُجالا پھیلنے لگتا ہے۔ اس سے پہلے بھی ایک صبح، صبحِ کاذب ہوتی ہے۔
  •  ’’ہم خرماوہم ثواب‘‘ ایک فارسی کہاوت ہے۔ مذہبی محفلوں میں اکثرخرما (ایک طرح کی مٹھائی یا کھجور) تقسیم ہوتی ہے اور ایسی محفلوں میں جانے سے ثواب بھی ملتا ہے یعنی اسے نیکی میں شمار کیا جاتا ہے۔ لہٰذا ہم خرما وہم ثواب کے معنی ہوئے کسی مذہبی محفل میں جائیں تو خرما بھی ملتا ہے اور نیکی بھی لکھی جاتی ہے یعنی دو فائدے حاصل ہوئے۔ اس معنی میں ہم ’’آم کے آم گٹھلیوں کے دام‘‘ اور ’’ایک پنتھ دوکاج‘‘ بھی بولتے ہیں۔
  •  ’’بسترے میں داخل ہوگئے‘‘ یہاں بستر کی جگہ بسترا قرار دے کر اس سے ’’بستر ے میں‘‘ بنا لیا گیا ہے۔ بستر کی جگہ ’’بسترا‘‘ اب بہت کم بولتے ہیں لیکن پہلے بہت عام تھا۔ میرؔ کا شعر ہے۔
بسترا تھا چمن میں چوں بلبل
نالہ سرمایۂ توکل تھا
  • ’’جذبات کا محشرستان‘‘ کا مطلب ہے وہ جگہ جہاں جذبات نے حشربپاکر رکھا ہو یعنی کہ دل۔
  • پطرس خوبصورت فقرے لکھنے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ یہ فقرے ملاحظہ کیجیے۔’’گلاس جل ترنگ کی طرح بجنے لگا‘‘۔’’شگفتہ طبعی اور غنچہ دہنی سے جاگ رہے ہیں‘‘ ان دونوں فقروں میں گلاس اور جل ترنگ اور غنچہ اور شگفتہ میں مناسبت ہے۔

سوالات

1۔  ’’سویرے جوکل آنکھ میری کھلی‘‘ میں مصنف نے کیا پیغام دیا ہے؟
2۔   لفظ ’’قُم‘‘ اورحضرت عیسیٰ میں کیا تعلق ہے؟
3۔  لالہ جی نے مصنف کو جگانے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا؟
4۔   سبق کے آخر میں مصنف نے صبح اُٹھنے کا مسئلہ کس طرح طے کیا 

عملی کام

  • عدم تشّدد سے مراد ہے کسی مقصد کوحاصل کرنے کے لیے پُرامن طریقے استعمال کرنا، جنگ اور خون خرابے سے پرہیز کرنا۔ ہمارے زمانے میں کس ہستی نے اس اصول کو بہت قوت اور کامیابی سے استعمال کیا ہے؟ اور انھیں کیا کامیابی حاصل ہوئی؟اسے بھی لکھیے۔