مشتاق احمد یوسفی
(پیدائش – 1925)
مشتاق احمدیوسفی ہمارے دَور کے مشہورطنزومزاح نگار ہیں۔وہ الفاظ کے انوکھے اور دلچسپ استعمال سے مزاح پیدا کرنے کے فن میں بڑی مہارت رکھتے ہیں۔بات میں بات پیدا کرنے کے علاوہ اشعار اورمصرعوں کے برمحل اوربرجستہ استعمال سے ہنسنے ہنسانے کا سلیقہ انھیں خوب آتا ہے۔وہ اکثروبیشترسنجیدہ اشعار اور مصرعوں،کہاوتوں،محاوروں اور ضرب الامثال میں تھوڑی سی تبدیلی کرکے یا اپنی اصلی صورت میں ایسے سیاق وسباق کے ساتھ استعمال کرتے ہیں کہ پڑھنے والا پھڑک اُٹھتا ہے۔مشتاق احمد یوسفی کا یہی عمل ان کے انشائیوں میں شگفتگی اوردلآویزی پیدا کرتا ہے۔ان کی تحریرمیں ایسی اپنائیت ہوتی ہے کہ قاری بلاتکلّف اُن کے قہقہوں میں شریک ہوجاتا ہے۔مشتاق احمد یوسفی الفاظ کے مزاج داں ہیں۔لہجے کے اُتارچڑھاؤ اور نزاکتوں سے خوب کام لیتے ہیں۔’چراغ تلے‘،’خاکم بدہن‘،’زرگزشت‘، ’آبِ گم‘ ان کی مشہور کتابیں ہیں۔ذیل کا مضمون اُن کی کتاب ’چراغ تلے ‘ سے لیا گیا ہے۔
یادش بخیریا
یادش بخیر!مجھے وہ شام کبھی نہ بھولے گی جب آخر کار آغاتلمیذالرحمٰن چاکسوی سے تعارف ہوا۔سنتے چلے آئے تھے کہ آغا اپنے بچپن کے ساتھیوں کے علاوہ جواب ایک ہاتھ کی اُنگلیوں پر گنے جاسکتے تھے، کسی سے نہیں ملتے اور جس سہمے سہمے انداز سے انھوں نے مجھ سے مصافحہ کیا، بلکہ کرایا، اس سے بھی یہی ہویداتھا کہ ہر نئے ملاقاتی سے ہاتھ ملانے کے بعد وہ اپنی اُنگلیاں ضرورگن لیتے ہوں گے۔دشمنوں نے اُڑا رکھی تھی کہ آغا جن لوگوں سے ملنے کے متمنّی رہے ان تک رسائی نہ ہوئی اورجولوگ اُن سے ملنے کے خواہش مند تھے، اُن کو منھ لگانا انھوں نے کسرِشان سمجھا۔انھوں نے اپنی ذات ہی کو انجمن خیال کیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مستقل اپنی ہی صحبت نے اُن کو خراب کردیا۔لیکن وہ خوداپنی کم آمیزی کی توجیہہ یوں کرتے تھے کہ جب پرانی دوستیاں نباہنے کی توفیق اور فرصت میسرّنہیں تو نئے لوگوں سے ملنے سے فائدہ؟ رہے پرانے دوست سوان سے بھی نہ ملنے میں زیادہ لطف وعافیت محسوس کرتے۔اس لیے کہ وہ نفسیات کے کسی فارمولے کی گمراہ کن روشنی میں اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ مل کر بچھڑنے میں جو دُکھ ہوتا ہے، وہ ذرادیر مل بیٹھنے کی وقتی خوشی سے سات گُنا شدید اور دیرپا ہوتا ہے۔اور وہ بیٹھے بٹھائے اپنے دکھوں میں اِضافہ کرنے کے حق میں نہیں تھے۔سُنا یہ ہے کہ وہ اپنے بعض دوستوں کو محض اس بنا پر محبوب رکھتے تھے کہ وہ اِن سے پہلے مرچکے تھے۔اور ازبس کہ ان سے ملاقات کا امکان مستقبل قریب میں نظرنہیں آتا تھا۔لہٰذا اُن کی یادوں کو حنوط کرکے انھوں نے اپنے دل کے ممی خانے میں بڑے قرینے سے سجا رکھا ہے۔
لوگوں نے اتنا ڈرا رکھا تھا کہ میں جھجکتا ہوا آغا کے کمرے میں داخل ہوا۔یہ ایک چھوٹا سا نیم تاریک کمرہ تھا جس کے دروازے کی تنگی سے معاًخیال گزرا کہ غالباً پہلے موروثی مسہری اور دوسری بھاری بھرکم چیزیں خوب ٹھسا ٹھس جمادی گئیں،اس کے بعد دیواریں اُٹھائی گئی ہوں گی۔میں نے کمالِ احتیاط سے اپنے آپ کو ایک کونے میں پارک کرکے کمرے کا جائزہ لیا۔سامنے دیوار پر آغا کی ربع صدی پرانی تصویرآویزاں تھی جس میں وہ سیاہ گاؤن پہنے ڈگری ہاتھ میں لیے، یونیورسٹی پرمسکرارہے تھے۔اُس کے عین مقابل، دروازے کے اُوپر دادا جان کے وقتوں کی ایک کاواک گھڑی ٹنگی ہوئی تھی جو چوبیس گھنٹے میں صرف دو دفعہ صحیح وقت بتاتی تھی۔(یہ پندرہ سال سے سوا دو بجارہی تھی) آغا کہتے تھے کہ اس گئی گزری حالت میں بھی یہ ان ’’ماڈرن‘‘ گھڑیوں سے بدرجہابہتر ہے جو چلتی تو چوبیس گھنٹے ہیں مگرایک دفعہ بھی ٹھیک وقت نہیں بتاتیں جب دیکھوایک منٹ آگے ہوں گی یا ایک منٹ پیچھے۔
دائیں جانب ایک طاقچے میں جو فرش کی بہ نسبت چھت سے زیادہ نزدیک تھا، ایک گراموفون رکھا تھا، جس کی بالانشینی پڑوس میں بچوں کی موجودگی کا پتا دے رہی تھی۔ٹھیک اُس کے نزدیک چیڑکا ایک لنگڑا اسٹول پڑا تھا، جس پر چڑھ کر آغا چابی دیتے۔اورچھپّن چھُری اور بھائی چھیلاپٹیالے والے کے گھسے گھسائے ریکارڈ سنتے۔(سننے میں کانوں سے زیادہ حافظے سے کام لیتے تھے)۔اس سے ذراہٹ کر برتنوں کی الماری تھی جس میں کتابیں بھری پڑی تھیں۔ان کے محتاط انتخاب سے ظاہر ہوتا تھا کہ اردو میں جو کچھ لکھا جانا تھا، وہ پچیس سال قبل لکھا جاچکا ہے۔اُسی زمانے میں سُنا تھا کہ آغاجدید شاعری سے اس حد تک بیزار ہیں کہ نئے شاعروں کو ریڈیوسیٹ پر بھی ہُوٹ کرنے سے بازنہیں آتے۔اکثرفرماتے تھے کہ ان جوان رگوں میں روشنائی دوڑ رہی ہے۔آتشدان پرسیاہ فریم میں جڑا ہوا الوداعی سپاس نامہ رکھا تھا جو اُن کے ماتحتوں نے پندرہ سال قبل پرانی دِلّی سے نئی دِلّی تبادلہ ہونے پر پیش کیا تھا۔اس تقریب میں یادگار کے طور پر آغا نے اپنے ماتحتوں کے ساتھ گروپ فوٹو بھی کھنچوایا جس میں آغا کے علاوہ ہرشخص نہایت مطمئن ومسرورنظرآتا تھا۔یہ پائینتی ٹنگا تھا تاکہ رات کو سونے سے پہلے اور صبح اُٹھنے کے بعد آئینہ ایّام میں اپنی ادا دیکھ سکیں۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس وقت آغا تین درویش صورت بزرگوں کے حلقے میں مہابلی اکبرکے دَور کی خوبیاں اوربرکتیں نہایت وارفتگی سے بیان کررہے تھے۔گویا سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔ابوالفضل کے قتل تک پہنچے تو ایسی ہچکی بندھی کہ معلوم ہوتا تھا کہ انھیں اس واردات کی اطلاع ابھی ابھی ملی ہے۔اِس حرکت پر وہ شیخوکو ڈانٹ ڈپٹ کر ہی رہے تھے کہ اتنے میں پہلا درویش بول اُٹھا : ’’اماں چھوڑو بھی، بھلا وہ بھی کوئی زمانہ تھا، جب لوگ چار گھنٹے فی میل کی رفتارسے سفر کرتے تھے۔اور رؤسا تک جمعہ کے جمعہ نہاتے تھے۔‘‘اس کا منہ آغا نے یہ کہہ کر بندکردیا کہ حضرت اس سنہری زمانے میں ایسی سڑی گرمی کہاں پڑتی تھی۔
یہ نوک جھونک چل رہی تھی کہ پہلادرویش پھر گمبھیر لہجے میں بولا’’قاعدہ ہے کہ کوئی دَور اپنے آپ سے مطمئن نہیں ہوتا۔آج آپ اکبرِاعظم کے دَور کو یاد کرکے روتے ہیں۔لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر آپ اکبرکے عہد میں پیدا ہوتے تو علاء الدین خلجی کے وقتوں کو یادکرکے آبدیدہ ہوتے اپنے عہد سے غیرمطمئن ہونا بجائے خود ترقی کی نشانی ہے۔‘‘
’’سچ تو یہ ہے کہ حکومتوں کے علاوہ کوئی بھی اپنی موجودہ ترقی سے مطمئن نہیں ہوتا۔‘‘ چگّی داڑھی والے درویش نے کہا۔
میں نے پہلے درویش کو سہارا دیا،’’آپ بجا فرماتے ہیں۔اسی بات کو ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اگر کوئی باپ اپنے بیٹے سے سوفی صدمطمئن ہے تو سمجھ لیجیے کہ یہ گھرانا رو بہ زوال ہے۔برخلاف اس کے،اگر کوئی بیٹا اپنے باپ کو دوستوں سے ملانے میں شرمانے لگے تو یہ علامت ہے اس بات کی کہ خاندان آگے بڑھ رہا ہے۔‘‘
’’مگر اس کو کیا کیجیے کہ آج کل کے نوجوان مطلب کی خاطرباپ کو بھی باپ ہی مان لیتے ہیں!کیا سمجھے؟‘‘ آغا نے کہا۔
سب کو بڑا تعجب ہوا کہ آغا پہلی ملاقات میں مجھ سے بے تکلّف ہوگئے۔——اِتنے کہ دوسری صحبت میں انھوں نے مجھے نہ صرف اپنا پہلونٹی کا شعر بڑے لحن سے سنایا بلکہ مجھ سے اپنے وہ اِداریے بھی پڑھواکرسُنے جوسترہ اٹھارہ سال پہلے انھوں نے اپنے ماہ نامے’’سُرودِرفتہ‘‘ میں پرانی نسل کے بارے میں مندرجہ ذیل نوٹ کے ساتھ شائع کیے تھے :
’’قارئین کا ایڈیٹر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔‘‘
یہ ربط ضبط دن بہ دن بڑھتا گیا۔میں اس تقرّبِ خاص پر نازاں تھا۔گوکہ حاسدوں کو——اور خود مجھے بھی —— اپنی سیرت میں بظاہر کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی تھی جو آغا کی پسندیدگی کا باعث ہو۔آخر ایک روز انھوں نے خود یہ عقدہ حل کردیا۔فرمایا تمھاری صورت عین مَین ہمارے ایک ماموں سے ملتی ہے جو میٹرک کا نتیجہ نکلتے ہی ایسے رُوپوش ہوئے کہ آج تک مفقود الخبرہیں۔
انگریزوں کا وطیرہ ہے کہ وہ کسی عمارت کو اس وقت تک خاطرمیں نہیں لاتے جب تک وہ کھنڈرنہ ہوجائے۔اسی طرح ہمارے یہاں بعض محتاط حضرات کسی کے حق میں کلمۂ خیر کہنا روا نہیں سمجھتے تاوقتیکہ ممدوح کا چہلم نہ ہوجائے۔آغا کو بھی ماضی بعید سے خواہ اپنا ہویا پرایا، والہانہ وابستگی تھی۔جس کا ایک ثبوت ان کی 1927ماڈل کی فورڈ کار تھی جو انھوں نے 1955 میں ایک ضعیف العمرپارسی سے تقریباً مفت لی تھی۔اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ چلتی بھی تھی اور وہ بھی اس میانہ روی کے ساتھ کہ محلّے کے لونڈے ٹھلولے جب اور جہاں چاہتے چلتی گاڑی میں کود کر بیٹھ جاتے۔آغا نے کبھی تعرض نہیں کیا۔کیوں کہ اگلے چوراہے پر جب یہ دَھکڑدَھکڑکرکے دم توڑ دیتی تو یہی سواریاں دھکّے لگا لگاکرمنزلِ مقصود تک پہنچا آتیں۔اس صورت میں پٹرول کی بچت توخیر تھی ہی، لیکن بڑا فائدہ یہ تھا کہ انجن بند ہوجانے کے سبب کارزیادہ تیز چلتی تھی۔واقعی اس کار کا چلنا اور چلانا معجزۂ فن سے کم نہ تھا۔اس لیے کہ اس میں پٹرول سے زیادہ خون جلتا تھا۔آغا دل ہی دل میں کڑھتے اور اپنے مصنوعی دانت پیس کر رہ جاتے۔لیکن کوئی یہ کارہدیتہ لینے کے لیے بھی رضا مند نہ ہوتا۔کئی مرتبہ تو ایسا ہوا کہ تنگ آکر آغا کار کو شہر سے دُور کِسی پیپل کے نیچے کھڑا کرکے راتوں رات بھاگ آئے۔لیکن ہر مرتبہ پولیس نے کارسرکاری خرچ پرٹھیل ٹھال کر آغا کے گھر بحفاظت ِ تمام پہنچا دی۔
غرضیکہ اس کار کو علیحدہ کرنا اتنا ہی دشوار نکلا جتنا اس کو رکھنا۔پھریہ بات بھی تھی کہ اس سے بہت سے تاریخی حادثوں کی یادیں وابستہ تھیں جن میں آغا بے عزتی کے ساتھ بری ہوئے تھے۔انجام کار، ایک سہانی صبح فورڈ کمپنی والوں نے اُن کو پیغام بھیجا کہ یہ کار ہمیں لوٹا دو۔ہم اس کو پبلسٹی کے لیے اپنے قدیم ماڈلوں کے میوزیم میں رکھیں گے اور اس کے بدلے سالِ رواں کے ماڈل کی بڑی کارتمھیں پیش کریں گے۔شہر کے ہر کافی ہاؤس میں آغا کی خوش نصیبی اور کمپنی کی فیاضی کے چرچے ہونے لگے۔اور یہ چرچے اس وقت ختم ہوئے جب آغا نے اس پیش کش کو حقارت کے ساتھ مسترد کردیا۔
کہنے لگے، ’’دو لوں گا۔‘‘
کمپنی خاموش ہوگئی اور آغا مدّتوں اُس کے مقامی کارندوں کی نااہلی اور ناعاقبت اندیشی پر افسوس کرتے رہے۔ کہتے تھے۔لالچی کہیں کے! پانچ سال بعد تین دینی پڑیں گی! دیکھ لینا!‘‘
وہ خلوصِ نیت سے اس دَور کو کلجگ کہتے اور سمجھتے تھے، جہاں کوئی نئی چیز، کوئی نئی صورت نظرپڑی اور انھوں نے کچ کچا کے آنکھیں بند کیں اور یادِرفتگاں کے اتھاہ سمندر میں غڑاپ سے غوطہ لگایا اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کندھے پر ایک آدھ لاش لادے برآمد نہ ہوئے ہوں۔کہیں کوئی بات بارِ خاطر ہوئی اور انھوں نے’’یادش بخیر‘‘ کہہ کر بیتے سمے اور بچھڑی ہوئی صورتوں کی تصویر کھینچ کر رکھ دی۔ذرا کوئی امریکی طور طریق یاوضع قطع ناگوار گزری اور انھوں نے کولمبس کو گالیاں دینی شروع کیں۔وہ فی الواقع محسوس کرتے کہ ان کے لڑکپن میں گنّے زیادہ میٹھے اور ملائم ہوا کرتے تھے۔میرے سامنے بارہا اتنی سی بات منوانے کے لیے مرنے مارنے پر تُل گئے کہ اُن کے بچپنے میں چنے ہرگزاتنے سخت نہیں ہوتے تھے۔کہتے تھے آپ نہ مانیں یہ اور بات ہے، مگر یہ ٹھوس حقیقت ہے کہ گذشتہ پندرہ بیس سال میں قطب مینار کی سیڑھیاں گھِسنے کی بجائے اور زیادہ اونچی ہوگئی ہیں۔اور اس کے ثبوت میں اپنے حالیہ سفرِدہلی کا تجربہ ہانپ ہانپ کر بیان کرتے۔چو نکہ ہم میں سے کسی کے پاس پاسپورٹ تک نہ تھا، اس لیے اس منزل پر بحث کا پلہ ہمیشہ ان کے حق میں جھک جاتا۔
قدیم نصاب تعلیم کے وہ بے حد معترف ومداح تھے۔اکثر کہتے کہ ہمارے بچپن میں کتابیں اتنی آسان ہوتی تھیں کہ بچّے تو بچّے، اُن کے والدین بھی سمجھ سکتے تھے۔اسی رَو میں اپنی یونیورسٹی کا ذکر بڑی للک سے کرتے اور کہتے کہ ہمارے وقتوں میں ممتحن اتنے لائق ہوتے تھے کہ کوئی لڑکا فیل نہیں ہوسکتا تھا۔قسمیں کھاکھاکر ہمیں یقین دلاتے کہ ہماری یونیورسٹی میں فیل ہونے کے لیے غیرمعمولی قابلیت درکار تھی۔جس شہر میں یہ یونیورسٹی واقع تھی، اسے وہ عرصے سے اجڑا دیار کہنے کے عادی تھے۔ایک دن میں نے آڑے ہاتھوں لیا۔’’آغا! خدا سے ڈرو! وہ شہر تمھیں اُجاڑ دکھائی دیتا ہے؟ حالاں کہ وہاں کی آبادی پانچ ہزار سے بڑھ کر ساڑھے تین لاکھ ہوگئی ہے۔‘‘
’’مسلمان ہو؟‘‘
’’ہوں تو‘‘
’’دوزخ پر ایمان ہے؟‘‘
’’ہے۔‘‘
’’وہاں کی آبادی بھی تو روز بروز بڑھتی جارہی ہے! کیا سمجھے؟‘‘
اخترشیرانی کی ایک بڑی مشہور نظم ہے جس میں انھوں نے یارانِ وطن کی خیروعافیت پوچھنے کے بعد، دیس سے آنے والے کی خاصی خبرلی ہے۔اس بھولے بھالے سوال نامے کے تیورصاف کہہ رہے ہیں کہ شاعر کو یقین واثق ہے کہ اس کے پردیس سدھارتے ہی نہ صرف دیس کی ریت رسم بلکہ موسم بھی بدل گیا ہوگا۔اور ندی نالے اور تالاب سب ایک ایک کرکے سوکھ گئے ہوں گے۔آغا کو اپنے آبائی گاؤں چاکسو(خورد) سے بھی کچھ اِسی نوع کی توقعات وابستہ تھیں۔
آغا کی عمرکا بھید نہیں کھلا۔لیکن جن دِنوں میرا تعارف ہوا، وہ عمرکی اس کٹھن گھاٹی سے گذر رہے تھے جب جوان ان کو بوڑھا جان کر کتراتے اور بوڑھے کل کا لونڈا سمجھ کر منھ نہیں لگاتے تھے۔جن حضرات کو آغا اپنا ہم عُمربتاتے رہے، اُن میں سے اکثر اُن کو مُنھ درمنُھ چچا کہتے تھے۔خیر، اُن کی عُمر کچھ بھی ہو مگر میرا خیال ہے کہ وہ اُن لوگوں میں سے تھے جو کبھی جوان نہیں ہوتے۔
اُن کی شادی کے متعلق اتنی ہی روایتیں تھیں جتنے اُن کے دوست! بعضوں کا کہنا تھا کہ بی۔اے۔کے نتیجے سے اِس قدر بددل ہوئے کہ خودکشی کی ٹھان لی۔بوڑھے والدین نے سمجھایا کہ بیٹا خودکشی نہ کرو، شادی کر لو۔چنانچہ شادی ہوگئی۔مگرا بھی سہرے کے پھول بھی پوری طرح نہ مُرجھائے ہوں گے کہ یہ فکرلاحق ہوگئی کہ بچپن انھیں’’اسیرپنجۂ عہدشباب‘‘ کرکے کہاں چلا گیا اور وہ اپنی آزادی کے ایّام کو بے طرح یاد کرنے لگے۔حتیٰ کہ اس نیک بخت کو بھی رحم آگیا اور وہ ہمیشہ کے لیے اپنے میکے چلی گئی۔
اس سے مہربخشوانے کے ٹھیک پندرہ سال بعد ایک مُسِن خاتون کو محض اس بنا پر حبالہ ٔ نکاح میں لائے کہ پینتیس سال اور تین شوہرقبل موصوفہ نے چاکسومیں اُن کے ساتھ اماوس کی رات میں آنکھ مچولی کھیلتے وقت چٹکی لی تھی جس کا نیل اُن کے حافظے میں جوٗں توٗںمحفوظ تھا۔لیکن آغا اپنی عادت سے مجبور تھے۔اس کے سامنے پہلی بیوی کی اٹھتے بیٹھتے اس قدر تعریف کی کہ اُس نے بہت جلدطلاق لے لی۔اتنی جلد کہ ایک دن اُنگلیوں پر حساب لگایا تو بچاری کی ازدواجی زندگی، عدت کی میعاد سے بھی مختصرنکلی! آغا ہر سال نہایت پابندی اور دھوم دھام سے دونوں طلاقوں کی سالگرہ منایا کرتے تھے۔پہلی طلاق کی سلورجوبلی میں راقم الحروف کو بھی شرکت کا اتّفاق ہوا۔
دوسری خانہ بربادی کے بعد شادی نہیں کی۔اگرچہ نظرمیں آخری دم تک سہرے کے پھوٗل کھلتے اور مہکتے رہے۔
گوآغا تمام عمر’’رہینِ ستم ہائے روزگار‘‘ رہے لیکن چاکسو کی یاد سے ایک لحظہ غافل نہیں رہے۔چنانچہ اُن کی میّت آخری وصیّت کے مطابق سات سو میل دُورچاکسو (خورد) لے جائی گئی اور چاکسو کلاں کی جانب پاؤں کرکے اُسے قبر میں اُتارا گیا۔
لاریب وہ جنّتی تھے، کیوں کہ وہ کسی کے بُرے میں نہیں تھے۔انھوں نے اپنی ذات کے علاوہ کبھی کسی کو گزند نہیں پہنچایا۔اُن کے جنّتی ہونے میں یوں بھی شبہ نہیں جنّت واحد ایسی جگہ ہے جس کا حال اور مستقبل اُس کے ماضی سے بہترنہیں ہوسکتا!
لیکن نہ جانے کیوں میرا دل گواہی دیتا ہے کہ وہ جنّت میں بھی خوش نہیں ہوں گے اور یادش بخیرکہہ کر جنّیتوں کو اسی جہانِ گزراں کی داستانِ پاستان سناسنا کر للچاتے ہوں گے جسے جیتے جی وہ دوزخ سمجھتے رہے۔
مشق
لفظ ومعنی
ہویدا : ظاہر
متمنّی : تمّنا کرنے والا
رسائی : پہنچ
کسرِشان : وہ بات یا کام جس سے عزّت وآبرو میں کمی آجائے
کم آمیزی : کم ملنا جلنا
توجیہہ : وجہ بیان کرنا
توفیق : حوصلہ، صلاحیت،جو خدا کی طرف سے عطا ہو
دیرپا : دیرتک قائم رہنے والا
حنوط : ایک قسم کا مسالہ جو مردے کو غسل دینے کے بعد اس کی لاش کو محفوظ رکھنے کے لیے اس پر ملاجاتا تھا۔یہ قدیم مصر میں رائج تھا۔ایسی لاشو ں کو جنھیں حنوط کیا گیا ہو، ممی (mummy) کہتے ہیں
موروثی : وراثت میں ملی ہوئی
ربع صدی : چوتھائی صدی (پچیس سال)
آویزاں : لٹکا ہوا
کاواک : کھوکھلا ،جو پوری طرح کارآمد نہ ہو
ہوٹ کرنا : انگریزیHoot ،مشاعرہ یا تقریروغیرہ پر ناپسندیدگی کا اظہار کرنے کے لیے شور مچانا
سپاس نامہ : وہ تحریر جو کسی جلسے میں کسی شخص کی خدمات کے اعتراف اور تعریف کے لیے پڑھی جائے
تقریب : کوئی موقع جہاں لوگ ملنے جلنے کے لیے جمع ہوں
وارفتگی : بے خودی
آبدیدہ : آنکھوں میں آنسو بھرا ہوا
روبہ زوال : پستی کی طرف مائل
لحن : سریلی آواز
تقربِ خاص : خاص نزدیکی
عقدہ : پیچیدہ یا مشکل بات، گِرہ
عین مَین:ہوبہو
مفقودالخبر : لاپتہ، وہ شخص جس کی کوئی خبرنہ ہو
وطیرہ : ڈھنگ
ممدوح : جس کی تعریف کی جائے
والہانہ : جذبات سے بھرپور، عاشقوں کی طرح
وابستگی : تعلق
تعرّض : روک ٹوک
ہدیتہ : تحفے کے طور پر، نذرانے کے طور پر
مسترد کرنا : واپس کرنا، نا منظورکرنا
ناعاقبت اندیشی : انجام کی فکر نہ کرنا
یادِ رفتگاں : رفتگاں، رفتہ کی جمع ہے یعنی گذرے ہوئے لوگ، یادِرفتگاں سے مراد ہے گذرے ہوئے لوگوں کی یاد
بارِ خاطر : دل کا بوجھ،یعنی ناپسندیدہ بات یا چیز یا کام
فی الواقع : دراصل، واقعی
مدّاح : تعریف کرنے والا
رَو : بہاؤ
للک : اُمنگ، شوق
ممتحِن : امتحان لینے والا
درکار : ضروری
دِیار : شہر،علاقہ
یقینِ واثق : پکّا یقین
نَوع : قسم
کوا : وہ غلاف جسے ریشم کا کیڑا اپنے لعاب سے اپنے گردبنالیتاہے۔
جوہڑ : چھوٹا تالاب یا حوض جس میں پانی رک کر گندگی یا کائی سے ڈھک گیا ہو
مُسِن : زیادہ عمر کا
حِبالہ : رسی، حبالہ ٔ نکاح کا مطلب ہے نکاح کی قید
عِدّت : شوہر کی موت ہوجانے یا طلاق لے لینے کے بعد ایک مدت جس میں عورت نکاح ثانی نہیں کرسکتی
راقم الحروف : لکھنے والا، یعنی خود مصنف
رہینِ ستم ہائے روزگار : زمانے کی مصیبتوںمیں گرفتار،یہ فقرہ غالب کے شعر سے ماخوذ ہے
گومیں رہا رہینِ ستم ہائے روزگار
لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
لاریب : بے شک، بلاشبہ
گزند : نقصان
داستانِ پاستان : پرانی داستان، پرانا قصّہ
غورکرنے کی بات
- اس مضمون کا عنوان ’’یادش بخیریا‘‘ ہے جو ’یادش بخیر،کی بدلی ہوئی شکل ہے۔’یادش بخیر‘ ایک دعائیہ کلمہ اس کے معنی ہیں ’’اس کی ان کی یاد اچھی رہے۔‘‘ یہ اس وقت استعمال کرتے ہیں جب کسی غائب شخص یا وقت کے بارےمیں ہمیں اپنی محبت، عقیدت یا وابستگی کا اظہار کرنا ہو۔مشتاق احمدیوسفی نے’یادش بخیر‘ کو ’’یادش بخیریا‘‘کہہ کر مزاح کا پہلو پیدا کیا ہے، یعنی جس طرح مالیخولیا اور ہسٹیریا امراض کے نام ہیں اُسی طرح ’’یادش بخیریا‘‘ بھی آغا کے لیے ایک مرض بن گیا ہے۔یوسفی نے nostalgiaکا ترجمہ یادش بخیریا کیا ہے۔nostalgiaکسی زمانے یا جگہ یا وطن سے دوری کے نتیجے میں رنجیدگی کے احساس کو کہتے ہیں۔عربی میں اسے ’حتیّٰ للوطن‘‘ کہتے ہیں جو بہت لطف انگیز ہے۔
’’اسیرِپنجہ ٔ عہدشباب‘‘ کا مطلب ہے عہدِ جوانی ایک طرح کا پنجہ ہے جس نے قیدی بنا لیا ہے۔یہ ترکیب مضطرخیرآبادی کے مشہورشعر سے ماخوذ ہے :
اسیر پنجۂ عہد شباب کرکے مجھے
کہاں گیا مرا بچپن خراب کرکے مجھے
یوں تو یہ مضمون طنزومزاح کی بہت اچھی مثال ہے لیکن درج ذیل جملے یوسفی کے مخصوص انداز کی بطورخاص نمائندگی کرتے ہیں۔
- ’’اپنے عہد سے غیرمطمئن ہونا بجائے خودترقی کی نشانی ہے۔‘‘
- ’’ آپ بجا فرماتے ہیں ۔۔۔کہ خاندان آگے بڑھ رہا ہے۔‘‘
- ’’۔۔۔ ہمارے بچپن میں کتابیں اتنی آسان ہوتی تھیں کہ بچے تو بچّے ان کے والدین بھی سمجھ سکتے تھے۔‘‘
- ’’ ۔۔۔ ہماری یونیورسٹی میں فیل ہونے کے لیے غیرمعمولی قابلیت درکار تھی۔‘‘
- ’’بوڑھے والدین نے سمجھایا کہ بیٹا خود کُشی نہ کروشادی کرلوچنانچہ شادی ہوگئی۔‘‘
- ’’ لیکن آغا اپنی عادت سے مجبور تھے ۔۔۔ اس نے بہت جلد طلاق لے لی۔‘‘
- ’’ انھوں نے اپنی ذات کے علاوہ کبھی کسی کو گزند نہیں پہنچایا۔‘‘
سوالات
1. مشتاق احمدیوسفی نے ’’یادش بخیریا‘‘ میں جس کردار کا خاکہ پیش کیا ہے اس کے بارے میں ایک نوٹ لکھیے۔
2. یوسفی نے آغا کے کمرے کا نقشہ کس طرح کھینچا ہے؟
3. اس مضمون کی اہم خوبیاں کیا ہیں؟ وضاحت کیجیے۔
عملی کام
نیچے دیے ہوئے جملوں کی وضاحت کیجیے
- ’’انھوں نے اپنی ذات ہی کو انجمن خیال کیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مستقل اپنی ہی صحبت نے ان کو خراب کردیا۔‘‘
- ’’لہٰذا ان کی یادوں کو حنوط کرکے انھوں نے اپنے دل کے ممی خانے میں بڑے قرینے سے سجا رکھا ہے۔‘‘
- ’’واقعی اس کار کا چلنا اور چلانا معجزۂ فن سے کم نہ تھا اس لیے کہ اس میں پٹرول سے زیادہ خون جلتا تھا۔‘‘
- ’’جوان ان کو بوڑھا جان کر کتراتے اور بوڑھے کل کا لونڈا سمجھ کر منھ نہیں لگاتے تھے۔‘‘