Skip to content
Ghulistan-e-Adab Chapter-5

خاکہ


اصطلاحی معنی میں لفظ’’خاکہ‘‘ انگریزی لفظ اسکیچ(Sketch)  کا ترجمہ ہے۔شخصی خاکے کے لیے انگریزی میں Pen Portrait  یاPersonal Sketch  کی اصطلاحیں بھی استعمال کی گئی ہیں۔آج کل ’’خاکہ ‘‘ ہی کی اصطلاح رائج ہے۔خاکے سے مراد ایک ایسی نثری تحریر ہوتی ہے جس میں کسی شخصیت کی منفرد اور نمایاں خصوصیات کو اس اندازسے بیان کیا جاتا ہے کہ اس کی مکمّل تصویر آنکھوں کے سامنے آجائے۔اس میں جس شخص کی تصویر کشی کی جاتی ہے اس کے خیالات و افکار، سیرت وکردار، عادات واطوار سب کی جھلکیاں نظرآتی ہیں۔خاکے کا مقصدہی یہ ہوتا ہے کہ متعلقہ شخصیت کی ظاہری اورباطنی خصوصیات میں سے ایسے نمایاں اوصاف کا بیان کیا جائے جو اس کی انفرادیت اور پہچان کا ذریعہ ہوں۔اس کے لیے خاکہ لکھنے والے کا اُس انسان کی شخصیت سے نہ صرف متاثّرہونا ضروری ہے بلکہ اُس سے واقفیت اور قربت بھی ضروری ہے۔خاکہ نگاری سوانح نگاری سے مختلف ہے۔اس میں سوانح حیات کی طرح واقعات ترتیب وار نہیں لکھے جاتے اور نہ ہی تمام حالات و واقعات کا بیان کرنا ضروری ہے بلکہ خاکہ نگاری میں حالات و واقعات کا بیان ضمنی طور پر کیا جاتا ہے جو شخصیت کے کسی پہلو کو اُجاگر کرتے ہیں۔خاکہ نگار کسی شخصیت سے متاثر ہوکر اس کا خاکہ ضرور لکھتا ہے، لیکن اس کی تحریر سے مرعوبیت کا اظہار نہیں ہونا چاہیے۔اُس کا بیان ایسا ہونا چاہیے کہ وہ غیرجانبدار نظرآئے۔اس لیے یہ ـضروری ہے کہ خاکے میں شخصیت کی خوبیوں اور خامیوں دونوں کو بیان کیا جائے، ورنہ شخصیت کی مکمّل تصویر سامنے نہ آسکے گی جو خاکہ نگاری کا اصل مقصد ہے۔جس طرح خوبیوں کا بیان مرعوبیت سے پاک ہونا چاہیے، اسی طرح خامیوں کے بیان میں ذاتی دشمنی وعناد کا پہلو نہیں آنا چاہیے۔خامیوں کے بیان میں بھی اپنائیت کا احساس نمایاں ہونا چاہیے۔



شاہد احمد دہلوی

(1967  —  1906)

شاہد احمد دہلی میں پیدا ہوئے۔وہ اردو کے ممتازنثرنگار مولوی نذیراحمد کے پوتے تھے۔ انھوں نے دہلی سے ’’ساقی‘‘ کے نام سے ایک ماہنامہ جاری کیا جو بہت مشہور ہوا۔رسالہ ’’ساقی‘‘ کی بدولت ان گنت شاعر اور ادیب منظرعام پر آئے۔
ستمبر1947ء میں شاہد احمد پاکستان چلے گئے۔وہاں سے رسالہ’’ساقی‘‘ جاری کیا۔پاکستان میں انھوں نے ناول ، افسانے،ڈرامے اور نفسیاتی کتابوں کے انگریزی سے اردو میں ترجمے کیے۔
شاہد احمد دہلوی کو اپنے دادا کی طرح دلّی کی زبان پر غیرمعمولی قدرت حاصل تھی۔وہ کم سے کم اور موزوں ترین الفاظ میں اپنی بات کہہ جاتے ہیں۔
شاہد احمد دہلوی نے اردو کے کئی مشہورومقبول ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ ساتھ اپنے بزرگوں، دوستوں اور عزیزوں پر انتہائی دلچسپ اور معلوماتی خاکے لکھے ہیں۔ اُن کا لکھا ہوا ایک خاکہ دلّی کے آخری داستان گو میرباقرعلی کا ہے۔اس خاکے میں شاہد احمد دہلوی نے میرباقرعلی کی شخصیت، سیرت اور ان کے داستان سنانے کے انداز کو اس طرح بیان کیا ہے کہ لگتا ہے ہم خودمیرباقر علی کے روبرو موجود ہیں۔

میرباقرعلی داستان گو


داستان گوئی کا فن اب ہمارے ہاں بالکل ختم ہوچکا ہے۔دلّی کے آخری داستان گومیرباقرعلی تھے جن کے انتقال کو اب بیس برس سے اوپر ہوئے۔دُبلے پتلے سے آدمی تھے۔سفیدچھوٹی سی داڑھی، سر پر دو پلّی، پاؤں میں دیسی جوتی، انگرکھا اور چُست پاجامہ پہنتے تھے۔عمرساٹھ اور ستّرکے درمیان، کھلتا ہوا رنگ، سُوا سی ناک، میانہ قد، باتیں کرتے تو منھ سے پھول جھڑتے۔داستان سُنانے دوٗر دوٗر جاتے تھے۔رجواڑوں اور نوابوں میں بُلائے جاتے۔ایک زمانے میں ریاست پٹیالہ میں داستان سُنانے کے لیے ملازم بھی رہے۔رئیس مرگیا تو دلّی واپس آگئے۔اِملی کی پہاڑی پر گھرتھا۔آخری وقت میں افلاس نے گھیرلیا تھا۔سنیما ایسا چلا کہ میرصاحب کی پرُسش ختم ہوگئی۔دلّی کے ہندو رئیس چھُنّامل کے ہاں کسی وقت میں چالیس پچاس روپے ماہوار پر ملازم تھے۔چھُنّامل والوں کا بیان ہے کہ ہم میرصاحب سے بچپن سے داستان سُن رہے ہیں۔بیس پچیس سال ہوگئے، ایک داستان ہی ختم ہونے میں نہیں آتی۔میرے بچپن میں میرصاحب فراش خانہ میں داستان سنایا کرتے تھے۔ہفتے میں ان کا ایک دن مقرر تھا۔گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ داستان کہتے۔برسوں یہ سلسلہ جاری رہا۔داستان کا ایک حصّہ سنانے پائے تھے کہ یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔میرصاحب ہمیشہ ’داستانِ امیرحمزہ‘ ہی سنایا کرتے تھے۔ایک نے ان سے پوچھا کہ میرصاحب! یہ داستان کبھی آپ نے ختم بھی کی ہے؟ بولے ’’عمربھرمیں ایک دفعہ۔‘‘
میرصاحب کے آباواجداد شاہی داستان گو تھے۔غالباً ان ہی میں سے کسی کے متعلق یہ روایت مشہور تھی کہ بادشاہ کو روزانہ داستان سنایا کرتے تھے۔ایک موقع ایسا آیا کہ عاشق ومعشوق کے درمیان صرف ایک پردہ حائل تھا۔پردہ اُٹھ جائے تو وصال ہوجائے۔مگرداستان گو نے احساسات، خیالات اور کیفیات کے بیان میں بارہ سال گزاردیے اور پردہ نہ اُٹھا۔آخر بادشاہ کا اشتیاق بے قابو ہوگیا اور اس نے تنگ آکر کہا۔’’آج پردہ اُٹھ جانا چاہیے‘‘ تب کہیں وہ پردہ اُٹھا۔میر صاحب کا بھی اسی سے کچھ مِلتا جُلتا حال تھا۔بیگم کے بناؤ سنگھار میں ایک نشست ختم کردیتے تھے۔آراستہ ہونے کی تفصیل، زیورات کی قِسمیں ، لباس کی قِسمیں،زیورات کی تفصیل شروع ہوتی تو میرصاحب سیکڑوں نام گِنا جاتے۔پھر یہ بھی بتاتے کہ شاہی بیگمات کے زیور کیا ہوتے تھے، درمیانہ طبقے کی خواتین کون کون سے زیورپہنتی تھیں۔بھٹیارنیاں،سقنیاں اور مہترانیاں کیا کیا پہنتی تھیں۔
میرصاحب بزم اور رزم کو اس انداز سے بیان کرتے کہ آنکھوں کے سامنے پورا نقشہ کھینچ جاتا۔داستان کہتے جاتے اور موقع بہ موقع ایکٹنگ کرتے جاتے۔آواز کے زیروبم اور لب ولہجے سے بھی اثر بڑھاتے۔امیرحمزہ اور عیّاروں کا جب بیان کرتے تو ہنساتے ہنساتے لٹادیتے۔ہتھیاروں کے نام گنانے شروع کرتے تو سو ڈیڑھ سو نام ایک سانس میں لے جاتے۔پھرکمال یہ کہ نام صرف طوطے کی طرح رٹے ہوئے نہیں تھے بلکہ آپ جب چاہیں، ٹوک کر کسی ہتھیار کی شکل اور اس کا استعمال دریافت کرسکتے تھے۔میرصاحب پوچھنے سے چِڑتے نہ تھے بلکہ خوش ہوتے اور تفصیل سے بتاتے۔مثلاًمنجنیق کو بیان کرنے ہی میں پندرہ منٹ صَرف کردیتے۔عورت کا حُسن بیان کرنے پر آئیں تو زمین آسمان کے قلابے ملادیں اور کچھ نہیں تو چال کی ہی سیکڑوں قِسمیں بتاتے۔بیگم بن سنور کر ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں آرہی ہیں۔ڈیڑھ گھنٹہ ہوگیا، بیگم دہلیزنہیں پھلانگتیں۔پھرکیا مجال کہ آپ میر صاحب کے بیان سے اُپرانے یا اُکتانے لگیں۔انھوں نے یہ وسیع معلومات بڑی محنت سے حاصل کی تھیں۔ہر علم کا انھوں نے باقاعدہ مطالعہ کیا تھا۔استادوں سے باقاعدہ سیکھا تھااور تو اور جب دلّی میں طبیّہ کالج کھلا تو میرصاحب نے ساٹھ سال کی عمر میں اس میں داخلہ لیا اور لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر پڑھنے لگے اور وہاں سے فارغ التحصیل ہونے کی سند بھی حاصل کی۔
میرصاحب کی داستان جہاں ہوتی وہاں اُجلی چاندنیوں کے فرش بچھ جاتے ۔ میرصاحب کے لیے ایک چھوٹا سا تخت بچھادیا جاتا۔اس پرقالین اور گاؤتکیہ ہوتا۔سامعین گاؤتکیوں سے لگ کر بیٹھ جاتے۔پان اور حقے کا دور چلتا رہتا۔گرمیوں میں شربت اور جاڑوں میں چائے سے تواضع کی جاتی۔میرصاحب تخت پر براجمان ہوتے۔کٹورے یا گلاس میں پانی منگواتے ۔ جیب میں سے چاندی کی ڈبیا اور چاندی کی چھوٹی سی پیالی نکالتے۔ڈبیا میں سے افیون کی گولی نکالتے۔اسے روئی میں لپیٹتے۔پیالی میں تھوڑا سا پانی ڈال کر اَنٹے کو اس میں گھولتے رہتے اور دوستوں سے باتیں کرتے رہتے۔جب ساری افیون گھُل کرپانی میں آجاتی تو روئی اُگال دان میں پھینک دیتے اور گھولوے کی چُسکی لگالیتے۔اس کے بعد چائے کا ایک گھونٹ پیتے۔فرماتے ’’چائے کی خوبی یہ ہے کہ لب بند، لب ریز اور لب سوز ہو۔‘‘ پھر داستان شروع کردیتے۔
دلّی میں کہیں داستان کہنے جاتے تو دو روپے لیا کرتے۔پھرایک دور ایسا آیا کہ لوگوں کو دو روپے بھی اکھرنے لگے تو میر صاحب نے اپنے گھرپر داستان کہنی شروع کردی اور ایک آنہ ٹکٹ لگادیا۔دس بیس شائقین آجاتے اور میرصاحب کو روپیہ سوا روپیہ مل جاتا۔بعض دفعہ سامعین کی حسبِ فرمائش کسی ایک پہلو کو بیان کرتے۔کوئی کہتا میر صاحب، آج تو لڑائی کا بیان ہوجائے اورمیرصاحب رزم کو اس تفصیل کے ساتھ پیش کرتے کہ آنکھوں کے سامنے میدانِ جنگ کا نقشہ آجاتا۔کوئی کہتا، میرصاحب آج تو عیاّریاں بیان ہوجائیں اورمیرصاحب عیّاروں کے کارنامے بیان کرنے لگتے۔میرمحمودعلی صاحب نے بتایا کہ کلکتہّ میں ایک دفعہ لکھنؤ کے ایک داستان گو کی دھوم مچی۔ایک دن ہم بھی سُننے گئے تو دیکھا کہ داستان گو کے آگے کتاب کھلی دھری ہے۔ اس میں سے پڑھتے جاتے ہیں اور بہت جوش میں آتے ہیں تو ایک ہاتھ اُونچا کرلیتے ہیں۔طبیعت بڑی مکدّرہوئی۔جی چاہا کہ کسی طرح میرباقرعلی یہاں آجاتے تو کلکتّے والوں کو معلوم ہوتا کہ داستان گوئی کسے کہتے ہیں۔ نہ سان نہ گمان، اگلے دن کیا دیکھتے ہیں کہ کولوٗ ٹولہ میں میرصاحب سامنے سے چلے آتے ہیں۔معلوم ہوا اپنے کسی کام سے آئے ہیں۔قصّہ مختصر،میرصاحب کی داستان ہوئی اور لکھنوی داستان گوہاتھ جوڑجوڑ کر کہتا تھا :  ’’حضور یہ اعجاز ہے۔حضور یہ آپ ہی کا حصّہ ہے۔‘‘
جب داستان سُننے والوں کا قحط ہوگیا تو میر صاحب نے چند کتابیں لکھیں۔مثلاً گاندھی جی کی کھادی تحریک کے زمانے میں ایک کتابچہ ’’گاڑے خاں نے ململ جان کو طلاق دے دی‘‘ ’’پاجی پڑوس‘‘، ’’مولابخش ہاتھی‘‘ اور ایسی ہی چھوٹی چھوٹی کتابیں کئی لکھی تھیں۔جو ایک بارچھپنے کے بعد پھرنہیں چھپیں۔اکثر رسالوں میں ان کے مضامین بھی شائع ہوئے۔مگرجولُطف ان کی تقریرمیں تھا، تحریر میں نہ آسکا۔
میرباقرعلی اپنے نانا میر پیڑا کے شاگرد تھے۔جن بزرگوں نے میرپیڑا کی داستانیں سنی تھیں، کہتے تھے کہ باقرعلی کی داستان ان کی پاسنگ بھی نہیں تھی۔غالباً فرق یہی ہوگا کہ وہ بارہ سال تک پردہ پڑا رہنے دیتے ہوں گے، میرباقرعلی سال دوسال میں پردہ اُٹھادیتے تھے۔
بڑھاپے میں ناقدری اورکس مُپرسی کے ہاتھوں میرصاحب کو بڑی تکلیف پہنچی۔دلّی کا کامِل الفن آخری داستان گواپنا پیٹ پالنے کے لیے چھا لیا بیچتا تھا۔

اے کمال افسوس ہے، تجھ پر کمال افسوس ہے



مشق

لفظ ومعنی

داستان گو                  :           داستان سنانے والا
افلاس                     :          غریبی، مفلسی
پرسش ختم ہوگئی          :          مانگ ختم ہوگئی
حائل ہونا                 :           رُکاوٹ پیدا کرنا
رزم                      :           معرکہ، جنگ
زیروبم                    :          نیچا اور اُونچا سُر، اُتارچڑھاؤ
عیّار                       :          مکّار، فریبی، شعبدہ باز
مِنجنیق                    :         ایک آلہ جس سے جنگ کے دوران دشمنوں پربڑے بڑے پتھرپھینکے                                         جاتے تھے
زمین آسمان کےقلابے ملانا :         مبالغہ کرنا
فارغ التحصیل              :          جوعلم حاصل کرچکا ہو، تعلیم سے فارغ ہونے والا
سامعین                    :         سننے والے، سامع کی جمع
تواضع                      :   خاطرداری، دعوت،عاجزی، انکسار
اَنٹے                       :          افیون کی بڑی گولی
لَب بند                    :         شیرینی سے ہونٹوں کا چپکانے والا
لب سوز                   :         ہونٹوں کو جلادینے والا
لبریز                       :          لبالب، بھرا ہوا
مکدّر                       :         غمگین، ناراض، ناخوش
اکھرنا                      :         ناگوارگزرنا، بُرالگنا،کھلنا
اعجاز                       :         معجزہ کرشمہ
پاسنگ                     :      معمولی چیز، کم حیثیت
ترازوکے پلڑوں کو برابرکرنے کے لیے جو فالتوچیزرکھی                                    جائے  
کس مپرسی                :        وہ حالت جس میں کوئی پوچھنے والا نہ ہو، بے بسی
کامِل ُ الفَن                :        فن کا ماہر

غورکرنے کی بات

  • شاہد احمد دہلوی نے اس خاکے میں میرباقرعلی داستان گوسے متعلق اپنے ذاتی تاثرات کا اظہار کیا ہے۔وہ دِلّی کی زبان اور محاورے پر غیرمعمولی قدرت رکھتے تھے۔ دلّی میں مروج عام بول چال کے لفظوں مثلاً اُپرانے، اکتانے، اکھرنے اور پاسنگ وغیرہ کا استعمال انھوں نے عمدگی سے کیا ہے۔

سوالات

1.  مصنّف نے میر باقرعلی کا جو حلیہ بیان کیا ہے اُسے اپنے لفظوں میں لکھیے۔
2.  میرباقرعلی داستان کس طرح سنایا کرتے تھے؟
3.  میرباقرعلی کی داستان سننے کے لیے کیا کیا اہتمام کیا جاتا تھا؟
4.  میرباقرعلی نے اپنے گھرپرداستانیں کہنی کیوں شروع کیں؟
5.  میرباقرعلی نے کون کون سی کتابیں لکھیں؟
6.  چائے کی خوبی یہ ہے کہ وہ لب بند،لب ریز اور لب سوز ہو، ان الفاظ کی وضاحت کیجیے۔

عملی کام

  • اپنے کسی قریبی دوست کا خاکہ لکھیے۔