مختصرافسانہ
مختصرافسا نہ جدید دور کی اہم نثری صنف ہے۔ اِ س کے ذریعے کسی شخص کی زندگی کے ایک اہم پہلو یا کسی واقعہ کابیان اس طرح کیا جاتا ہے کہ پڑھنے والے کے دل و دماغ پر اُس کا اثر گہرا پڑے۔
افسانے کی متعدد تعریفیں کی گئی ہیں۔ ایک نقّاد کا کہنا ہے کہ افسانہ ایسی نثری کہانی ہے جو ایک ہی نشست میں پڑھی جاسکے۔ ایک اور نقّاد کا کہنا ہے کہ افسانہ ان کہانیوں سے بالکل مختلف ہے جو اتّفاق سے کہانی ہونے کے علاوہ مختصر بھی ہوتی ہیں۔ یہ کہانی کی ا یک واضح فنّی صورت ہے۔ ایجازو اختصار، جدّت، فنّی حُسن اور تخیّل کی چاشنی اِس کی امتیازی خصوصیات ہیں۔ افسانہ سیدھی سادی کہانی نہیں بلکہ ایسی فنّی تخلیق ہے جس میں فن کار کے ارادے اور حکمت کو دخل ہوتا ہے۔ کسی مخصوص واقعے یاصورت حال یا کسی مخصوص کردار کا نقش اس طرح ابھارا جاتا ہے کہ پلاٹ یعنی واقعات کی ترتیب و تنظیم پڑھنے والے کو متاثر کرسکے۔
افسانے کے ماہروں نے اس کی جو تعریفیں بیان کی ہیں اُن سے واضح ہوتا ہے کہ افسانہ بیانیہ تخلیقی تحریر ہے ۔ افسانے میں کسی ایک کردار یا کرداروں کے ایک مخصوص گروہ کے نقوش یا ذہنی کشمکش کو نمایاں کیا جاتا ہے ۔ افسانے میں واقعات کی تفصیل، کرداروں کی گفتگو اور منظر و ماحول کی پیشکش بہت نپی تلی ہوتی ہے۔
ہر افسانے کے لیے پلاٹ ، کردار اور زمان و مکان لازمی اجزا کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی لحاظ سے افسانے کی اقسام بھی بیان کی گئی ہیں یعنی پلاٹ کا افسانہ، کردار کا افسانہ یا پس منظر کا افسانہ ۔
افسانے کی کامیابی کے لیے کچھ ناقدین، افسانہ نگار کے نقطۂ نظر کو بھی اہم قرار دیتے ہیں۔ افسانہ نگار کے اسلوب میں رمز، کنایے اورتاثیر کو بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔
اردو میں مختصر افسانے کا آغاز بیسویں صدی کے ساتھ ہوا۔ ہندوستان میں کتھا کہانی کا رواج تو صدیوں پرانا ہے، اسی طرح عربی اور فارسی میں داستان اور قصص کی روایت ملتی ہے لیکن مختصر افسانے کی صنف اردو میں مغرب کے اثرات کی دین ہے۔اردو میں سب سے پہلے پریم چنداور یلدرم نے افسانے لکھے۔ ان کے فوراً بعد کئی افسانہ نگار مختلف طرزوں میں نمایاں ہوئے مثلاً ل۔ احمد اکبر آبادی، نیاز فتح پوری، حجاب امتیاز علی وغیرہ نے اردو افسانے کو نئی جہت عطا کی ۔ دیکھتے ہی دیکھتے افسانہ اردو فکشن کی مقبول ترین صنف بن گئی۔
1936 میں ترقی پسند تحریک کا آغاز ہوا۔ اس سے چند برس پہلے’’ انگارے‘‘ کے نام سے باغیانہ کہانیوں کا ایک مجموعہ شائع ہوچکا تھا۔ان کہانیوں نے موضوع اور فن دونوں اعتبار سے نئے تجربوں کی بنیاد ڈالی۔ اس کے بہت پہلے پریم چند (1880 تا 1936 )نے اردو افسانہ نگاری کو عروج پر پہنچا دیا تھا۔ پریم چند نے حقیقت نگاری اور نفسیاتی کردار نگاری کے ساتھ مشرقی یوپی کے دیہاتوں کی زندگی اور قومی زندگی میں نمایاں ہونے والے سیاسی اور حُرّیتی جذبات کو بھی نمایاں کیا۔ چند ہی برسوں میں سعادت حسن منٹو، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی، غلام عبّاس، احمد ندیم قاسمی اور بلونت سنگھ کے ہاتھوں اردو افسانے نے بہت ترقی کی۔ زندگی کے گوناگوں مسائل اور موضوعات پر لکھا جانے لگا۔ اس کے ساتھ ساتھ انسان دوستی، سماجی اصلاح اور قومی شعور کے اظہارکا چلن بھی عام ہوا۔
آزادی کے بعد اُبھرنے والے افسانہ نگاروں میں قرّۃ العین حیدر نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ 1960 کے لگ بھگ اردو میں علامتی افسانے کا آغاز ہوا۔ اس رنگ کے نمائندہ افسانہ نگار : انتظار حسین، سریندر پرکاش، انور سجّاد، بلراج مین را اور خالدہ حسین ہیں۔ حقیقت نگاری کی روایت کو آگے بڑھانے والوں میں حیات اللہ انصاری، خواجہ احمدعباس، احمد ندیم قاسمی، شوکت صدیقی، اشفاق احمد، رام لال اورجوگندر پال قابلِ ذکر ہیں۔ نئی نسل کے کئی افسانہ نگاروں نے براہ راست طرزِ بیان کے بجائے علامتی طرزِ بیان کو ترجیح دی۔لیکن علامتی اور تجریدی افسانوں کی مقبولیت اب پہلی جیسی نہیں رہی۔
سیّدرفیق حسین
(1894) — 1946)
سیّدرفیق حسین لکھنؤ کے رہنے والے تھے۔ملازمت کے سلسلے میں ہندوستان کے مختلف مقامات پرمقیم رہے۔شکار کے شوق کے ساتھ ساتھ انھیں حیوانوں کی فطرت کے مطالعے کا ذوق بھی تھا۔انھوں نے جانوروں کی نفسیات پرمتعدد افسانے لکھے۔ جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے مختلف اورمنفرد ہیں۔اُن کے افسانوں کا مجموعہ ’’آئینہ حیرت‘‘ کے نام سے شائع ہوا تھا۔یہی مجموعہ ’’شیرکیا سوچتا ہوگا‘‘ کے نام سے بھی طبع ہوا۔ان کی زیادہ ترتحریریں، جانوروں کی فطرت اورعمل کی عکاسی کرتی ہیں۔
رفیق حسین کے افسانوں میں مناظرِفطرت کی ایسی حسین اورسچّی تصویریں ملتی ہیں جن کی نظیراردو میں کہیں اور نظرنہیں آتی۔الفاظ کے صوتی آہنگ سے تاثرپیدا کرنے میں رفیق حسین کوکمال حاصل ہے۔مختلف جانوروں کی آوازیں، پرندوں کی بولیاں، پانی کے بہنے کا شور، ہوا کے چلنے کی دھیمی اورتیز آوازیں، جنگل کی سائیں سائیں سب کچھ اُن کے افسانوں میں موجود ہے۔موزوں الفاظ کے توسط سے رفیق حسین اپنے قاری کو جنگل کی دُنیا میں لے جاکر تمام آوازیں سُناتے ہیں۔
افسانہ’’گوری ہوگوری‘‘ کا بنیادی کردار گوری نام کی ایک گائے ہے جو وفاداری اور ایثار کا پیکر ہے۔رفیق حسین نے سیلاب کے پس منظرمیں گوری کا کردار اس طرح اُبھارا ہے کہ وہ محبت اور مامتا کی علامت بن کر دل پر اثر کرتی ہے۔
گوری ہو گوری
چوما سے کی اندھیاری رات تھی۔بھیگی بھیگی ٹھنڈی ہوا چلتی تھی۔جھینگروں نے جھنکار مچا رکھی تھی۔مینڈک بول رہے تھے: ٹر، ٹر،ٹر۔پیپل کے سوکھے ڈگالے پر الّوکہتا تھا :ہک ہوٗ ہک ہوٗ۔
بسنتی نے کروٹ لی، پھرمنھ پر تھپّڑمارا۔بولی: ’’ہائے رے۔ارے رام کیسے ڈانس لاگیں۔‘‘
چھ مہینے کا بچّہ پاس لیٹا تھا، اس پر ہاتھ رکھ لیا اور بسنتی بولی: ’’مری جائے، پھر آئے بیٹھا، بولت کیسے ناس پیٹا۔‘‘
’’ہک ہوٗ، ہک ہوٗ‘‘
’’اجی ، اوجی اٹھونا۔گھگوبولے۔موہے ڈرلاگے۔تنی اُڑائے دے۔‘‘
مادھوآنکھیں ملتا ہوا اُٹھ بیٹھا۔کھٹیا سے نیچے پیر لٹکایا، جلدی سے پھراوپر کھینچ لیا۔گھبراکر پھرنیچے دیکھا۔پھراِدھراُدھردیکھا۔چھوٹا سا کچّا گھرتھا۔پھوٹی چمنی کے دھوئیں سے کالی لالٹین تھی۔دھیمی روشنی میں آنگن بھرجھل جھلارہا تھا۔گھربھرمیں پانی بھرا تھا۔
مادھوبولا: ’’جوکاہُوارے۔‘‘
بسنتی گھبراکراُٹھی۔بولی: ’’اجی دیکھت کا ہو۔ہر ے رام بھیکا کو جگالو۔ارے رم کلیا کو جگالو۔پانی آئے گیارے۔ارے اوبھیکا۔رام کلیا ہو۔اری او رم کلیا۔‘‘
آٹھ برس کی دُبلی پتلی رم کلیا جاگی۔چھ برس کا بھیکا جاگا، دودھ پیتا پاس لیٹا بچّہ جاگا۔یہ رویا، وہ چلّائے۔
’’چُپ کروچُپ۔‘‘مادھونے ڈانٹا۔خاموشی میں مادھونے کان لگائے۔بسنتی نے دھیان دیا۔دورکہیں سے آواز آرہی تھی :گڑپ شل شل شل۔گڑپ شل شل شل۔
گھگوبولا:’’ہک ہوٗ!‘‘
کھٹولے سے کود، پانی میں چھپ چھپاتے بچّے ماں سے چمٹے۔مادھواُٹھا۔ دیکھنے کو دروازے کی طرف چلا۔بسنتی روئی۔’’اجی جاوت کہاں ہو جی۔‘‘
باہر سے آواز آئی ’’مادھوبھیّا ہو۔اومادھو۔ارے باڑھ آئی۔اُٹھ رے اُٹھ۔‘‘
’’شڑپ گڑپ،شل شل شل۔‘‘پانی کے بہنے کی آواز تیزی سے بڑھ رہی تھی۔
’’مم ۔۔۔ مم۔۔۔ میں۔‘‘بکری بولی۔ہاں ہاں آں۔کہیں گئیاں چِلّارہی تھیں۔بارہ گھرکے گوجر پروے میں ہل چل مچ گئی۔سب جاگ اُٹھے۔سب بھاگنے لگے۔کوئی پکارتا تھا۔کوئی چِلّاتا تھا۔کوئی روتا تھا۔
مادھونے رم کلیا کو کوٹھے کی سیڑھیوں پرکھڑا کردیا۔بھیکاکو گود میں لیا اور سامان رکھنے اور اُٹھانے میں لگ گیا۔بسنتی نے گود والی لڑکی کو دبائے دبائے تیرتی ہنڈیا پکڑلی۔مٹکا کترایا ہُوا پرے سے نکلا جاتا تھا۔اسے پیرسے روکا۔
گھرکے باہر آدمی اورجانور چلاّرہے تھے۔گھرکے اندر رم کلیا اور بھیکا رو رہے تھے۔پانی کا شور اندر اور باہر سب جگہ تھا۔بسنتی اور مادھو گھر کے سامان میں لگے تھے۔شور ہُوا:’’بھاگو۔اوبسنتی نکل۔ارے مادھو بھاگ۔‘‘
پانی نے ہچکولا لیا۔پنڈلی سے اُچکا۔رانوں تک آیا۔
’’بھاگو، بھاگو۔مادھو بھیّا بھاگورے۔ارے کا ہوئے گیا۔نِکلت کا ہے ناہیں۔‘‘
باہر سے آوازیں آئیں۔پانی نے پھرہچکولا لیا۔آگے بڑھا ۔پیچھے ہٹااور ران سے کمرتک آیا۔
بسنتی روئی۔’’ارے مورے کڑوے، اری موری ہنسلی تو نکال لے رے۔‘‘
’’چل چل تو چل نکل۔میں لایا۔ارے نون چون تولیے لوں۔اوڑھنا بچھورا تو دبائے لوں۔‘‘
پانی کا شورتھا۔چارآدمیوں کا چلانا تھا۔دروازے پر دھکے تھے۔وہ کھل گیا۔آدمی گھرمیں آگئے۔مادھو اوربسنتی کو پکڑکر گھسیٹا۔’’چالو چالو سب چھوڑو، جان ہی بچائے لو، چالو چالو۔‘‘
اس گڑبڑمیں، جلدی میں، گھبراہٹ میں، اندھیرے میں، دری، بچھورے کپڑوں کے لیے پکارتی، برتنوں اور زیوروں کے لیے پھڑکتی، بسنتی نے یہ بھی کہا :’’بھیارے رم کلیا کو لے لے رے۔‘‘ لالٹین ڈوب چکی تھی۔اندھیرے میں کسی نے جواب دیا: ’’موں اُٹھائے لوں۔ توتوچل۔اری نکس باہرے۔‘‘
پانی کی شل شل، رات اندھیری، بادل کی گرج۔کمرکمر، سینے سینے پانی میں بیس تیس آدمی، پچاس ساٹھ مویشی چلے۔ہرآدمی بول رہا تھا۔ہر جانور چِلّا رہا تھا۔کوئی گرتا تھا، سنبھالتا تھا۔کوئی ڈوبتا تھا،دوسرا اُبھارتا تھا۔شروع میں تو سب جتھا بنائے ایک دوسرے کو سنبھالتے پُروے سے باہر چلے۔آموں کے باغ کے اندرسے آکرپون میل کے فاصلے پر ریل کی پٹری کا رُخ کیا۔لیکن جوں جوں آگے بڑھتے گئے اندھیرے میں ایک دوسرے سے الگ ہوتے گئے۔
اندھیری رات تھی۔ہاتھ کو ہاتھ دکھائی نہ دیتا تھا۔پانی کمرکمراونچا تھا۔ساتھی سب بچھڑبچھڑکر الگ ہوگئے تھے۔اِدھراُدھر۔دوٗراور نزدیک آوازیں ان کی آرہی تھیں:
’’جانکی ہو جانکی!‘‘
’’آئے رہوں دادا!‘‘
’’مُرلی ہو مُرلی!‘‘
’’بھلارے بھلا۔چالے چالو!‘‘
ڈکراتی بھینسیں، چلاتی گائیں، ممیاتی بکریاں، روتے بچّے، سہمی عورتیں، پکارتے مرد، سب بھیگے، سب پانی ٹپ ٹپاتے ریل کی پٹری پر چڑھے۔اندھیری رات میں سوٗنی پٹری آباد ہوگئی۔لوگوں نے گلے پھاڑ پھاڑ کر پوچھنا شروع کردیا کہ کون کون آگیا ہے اور کون کون رہ گیا۔ہر کسی کو کسی نہ کسی کی فکر تھی۔چھوٹے سے پروے کی پوری آبادی کی مردم شماری کی گئی۔آدمیوں اور جانوروں دونوں کی گنتی کی گئی۔جانور سب موجود تھے۔آدمیوں میں ایک ۔۔۔کا لڑکا اور بچّوں میں رم کلیاکم تھی۔
بسنتی نے رم کلیا کے واسطے بِلک بِلک کر رونا شروع کردیا۔مادھو بھی چپکاکھڑا روتا تھا۔وہیں پر اُن کی گوری گائے کھڑی ارّاتی تھی : ’’تو کاں آں ھ۔تو کاں آں ھ۔‘‘ یہ بھی دُکھ پیٹی ماں ہے۔ارے کوئی جانے یا نہ جانے بچھڑا اِس کا بھی نہیں ملتا ہے۔دُکھیا روتی ہے : ’’تو کاں آں ھ۔‘‘
روتی ہچکیاں لیتی بسنتی کے پاس بولتی ہوئی گائے آئی۔بسنتی نے اس کی گردن میں باہیں ڈال دیں اور روئی:
’’گوری رے موری رم کلیا ۔۔۔۔۔۔ ایھ ایھ ایھ ایھ‘‘
’’گوری رے اب تو ہے کون چَرائے ۔۔۔۔۔۔ ایھ ایھ ایھ ایھ‘‘
’’گوری توری رم کلیاتو گئی رے۔۔۔۔۔۔ ایھ ایھ ایھ ایھ‘‘
’’گوری توری رم کلیا ۔۔۔۔۔۔ ابھ ابھ ابھ ابھ۔‘‘
گائے نے وہی لمبی آواز نکالی ۔۔۔۔۔۔ ’’توکاں آں ھ‘‘
کوئی جانے نہ جانے۔دل کی لگی رام جانے۔ گائے نے چِلّا چِلّاکر اور بسنتی نے سسکیاں لے کر آخر صبح کر ہی دی۔نکلتے دن کی پہلی روشنی میں سب کی آنکھیں گوجر پروے کی طرف اُٹھ گئیں : سامنے چھوٹا سا آموں کا باغ تھا۔اسی کے برابر اور کچھ اس کی آڑ میں گوجر پروا آباد تھا۔لیکن اب وہاں کچھ نہ تھا۔اگر کوئی بچا کھُچا مکان ہوگا تو درختوں کی آڑ میں ہوگا۔سامنے تو باغ ہی باغ تھا جس کے درخت اپنے ہرے ہرے ہاتھ پانی پر پھیلائے مل رہے تھے اور پھران کے پارمیلوں میلوں جہاں جہاں تک نظرجاتی پانی ہی پانی تھا۔
جب تک اندھیرا رہا ہڑپ، گڑپ گڑاپ کرتے پانی نے رم کلیا کو خوب ہی ڈرایا اور روتے روتے بے دم، گزبھرکی لڑکی کا آنے والے دن نے بھینی بھینی روشنی پھیلاکر دل ہی دہلا دیا۔ایک دفعہ ہی چونک کر دیکھتی ہے، تو نہ مکان ہیں نہ گاؤں ہے۔آدھے سے زیادہ کوٹھابہہ چکا ہے۔ایک کونے پر خود بیٹھی ہے۔دوسرے کونے پر کالا سانپ کنڈلی مارے، بل کھایا بیٹھا دُہری زبان نکال رہا ہے۔سامنے چاروں طرف پانی ہی پانی ہے۔
رم کلیا نے دونوں ہاتھوں سے آنکھیں موندلی تھیں اور ’’اری میّاری ۔۔۔ اومیری میّا۔‘‘ کہہ کر بلک رہی تھی کہ اس کے کان میں آواز آئی: ’’تو کاں آں ھ۔‘‘ رم کلیا چونکی۔ہاتھ آنکھوں پر سے ہٹے۔آنسوبہتے مُردہ چہرے پر ہلکی مسکراہٹ آئی۔
’’تو کاں آں ھ۔‘‘ آواز پھر آئی۔
رم کلیا نے ’’ہرے رام گوری بولے۔‘‘کہتے ہوئے چاروں طرف دیکھا۔گائے دکھائی تو دی نہیں لیکن رم کلیا نے اپنی پوری طاقت سے پکارا’’گوری، ہو گوری!‘‘
جواب آیا : ’’تو کاں آں ھ‘‘
اور پھرباغ میں سے تیرتی ہوئی گائے نکلی۔رم کلیا نے پھرپکارا۔وہ اسی کی طرف بولتی ہوئی بڑھی۔لیکن دوٗرسے ایک اور آواز آئی : ’’اوماں آں ھ۔‘‘
باغ کی آڑ سے بچھڑے کی آواز تھی۔گائے اُس آواز کی طرف گھوم پڑی۔رم کلیا کا ننّھا سا دل بیٹھنے لگا۔وہ رات بھررونے اور ہچکیاں لینے سے تھک چکی تھی۔پھر بھی اپنی سکت بھرچِلّائی:
’’گوری، ہو گوری!‘‘
’’گوری، ہو گوری!‘‘
’’ارے گوری رے، آئے جا!‘‘
’’گوری میّا، آئے جاری!‘‘
لیکن گوری نے رُخ نہ بدلا۔البتہ دو چار دفعہ سر گھماکر رم کلیا کی طرف دیکھا۔ ارّاکر بولی اور پھراُدھر ہی تیرتی چلی گئی جدھرسے بچھڑے کی آواز آرہی تھی۔
باغ کی آڑ سے نکلتے ہی گائے کو بچھڑا، اسی جگہ تیرتا ہوا نظرآیا، جہاں سرِشام وہ، اس کا بچھڑا اور بیل باندھے گئے تھے۔اب وہاں نہ کھیت تھا نہ جھونپڑی۔جگہ وہی تھی۔لیکن اب سوائے پانی کے کچھ نظرنہ آتا تھا۔بچے کی آواز کا جواب دیتی، تیرتی تیرتی اس کے پاس گئی۔چاروں طرف گھومی۔اسے سونگھا۔ایک دفعہ اس کی تھوتھنی بھی چاٹ لی اور پھرایک طرف کو تیرتی چلی گئی مگر بچّہ نہ چلا۔وہیں تیرتا رہا۔گائے پھرلوٹ آئی۔چاروں طرف گھومی۔برابر آکراپنی کمراورپیٹ سے اسے ڈھکیلا۔ایک طرف چلی، بچّہ ساتھ نہ آیا تو پھر لوٹ آئی۔اب وہ کچھ سمجھ گئی۔بچّہ چھ فٹ زمین میں گڑے ہوئے گھونٹے میں رسّی سے بندھا ہوا تھا۔اور رسّی بس اس قدر لمبی تھی کہ اب تک تو کسی نہ کسی طرح بچھڑے کی ناک پانی سے باہر تھی۔لیکن اگر پانی ایک انچ بھی اور بڑھ جائے تو رسّی کی وجہ سے ناک ڈوب ہی جائے۔گائے نے مایوس ہوکر، چِلّاتے بچّے کو وہیں چھوڑا اور پھررم کلیا کی طرف رُخ کیا۔
رم کلیا، رونے چلانے کی تھکن، ڈر، خوف اور آخر میں انتہائی نا اُمیدی کا اب تک مقابلہ کرتی رہی تھی۔لیکن آخر آٹھ برس کی ننّھی جان ہی تو تھی۔گائے جب اس کے پاس آئی تو وہ گرتی ہوئی چھت کے کنارے بے ہوش پڑی تھی۔گوری نے آکر کئی آوازیں دیں اور جب بھی رم کلیا کو ہوش نہ آیا توکھردری گرم گرم زبان سے اس کا منھ چاٹا۔لڑکی کو ہوش آگیا۔پہلے تو ڈری، پھرگوری کو دیکھا۔’’گوری میّا۔گوری میّا‘‘ کہتی ہوئی اس کے گلے میں چِمٹی۔گوری نے دوپیرمارے، آگے بڑھی۔رم کلیا چھت سے گھسٹ کر پانی میں آگئی۔اس نے ڈر کے مارے پیرچلائے اور چمٹ چمٹاکر گوری کی پیٹھ پر آگئی اور وہیں چھپکلی کی طرح لیٹی لیٹی چِمٹ گئی۔گوری پھر بچھڑے کے پاس آئی۔وہی حرکتیں پھرکیں۔کئی دفعہ اس کے گرد چکّرلگائے اور چلی۔جب بچھڑا ساتھ نہ چلا تو لوٹ آئی۔اب رم کلیا کی بھی سمجھ میں آگیا کہ کیا بات ہے۔جیسے ہی ایک دفعہ پھر گائے تیرتی ہوئی بچھڑے کے پاس گئی،رم کلیا نے اوندھے منھ لیٹے لیٹے، ایک ہاتھ بڑھا کر بچھڑے کے گلے سے رسّی کی گانٹھ نکال دی۔بچھڑا آزاد ہوگیا۔گائے اور بچھڑا دونوں تیرتے ہوئے چلے۔رم کلیاگائے پر چمٹی ہوئی تھی۔باغ اورریل کی پٹری کی طرف سے دھارچل رہی تھی۔اس لیے یہ دونوں بہا ؤہی کی طرف تیرتے چل دیے اور ڈھائی گھنٹے کے بعد بہت چکّرکھاکر پھر،اسی ریل کی پٹری پر چڑھ آئے۔
دن کے بارہ بجے جس وقت آگے آگے گوری، پیٹھ پر رم کلیا، پیچھے بچھڑا ’’او ماں آں ھ‘‘ کے سوال جواب کرتے گاؤں والوں میں پہنچے تو ہل چل مچ گئی۔لوگ مارے خوشی کے کو ٗدتے تھے۔بسنتی خوشی کے مارے دھاروں دھار روتی ہوئی، کبھی رم کلیا کو گلے لگاتی تھی، کبھی بچھڑے کو اور کبھی گوری کے چمٹتی تھی اور گائے کہتی تھی :
’’تم ماں آں ھ۔ہم ماں آں ھ‘‘ — آواز آئی۔
’’بول گوری میا کی جے‘‘
’’بول گئوماتا کی جے۔‘‘
مشق
لفظ ومعنی
چوما سا : برسات کے چار مہینے
ڈگالا : درخت کی موٹی ٹہنی
ڈانس : بڑا مچھّر
مری جائے پھرآبیٹھا : مرجائے پھرآبیٹھا
گھُگھو : بڑااُلّو
تنی اُڑائے دے : ذرا اُڑا دے
جوکا ہوارے : یہ کیا ہوا
اجی دیکھت کا ہو : اجی دیکھتے کیا ہو
کھٹولا : چھوٹی چارپائی
گئیاں : گائیں
ارے کائے ہوگیا
نکلت کاہے ناہیں : ارے کیا ہوگیا نکلتے کیوں نہیں
کڑوے : کڑا کی جمع کڑے اودھی اور پوری طرز میں زورِ بیان کی خاطرالفاظ یا اسما کے بعد الف یا و الف یا ے سے الف لگاتے ہیں۔لہٰذا کڑا سے کڑوا اور کڑوا سے کڑوے۔
نون چون : نمک آٹا
اوڑھنا بچھورا : اوڑھنا بچھونا
موں اٹھائے لوں : میں اُٹھا لیتا ہوں
نِکس باہرے : نکل باہر
آئے رہوں : آرہی ہوں
بھلا رے بھلا : سب ٹھیک ہے
دُکھ پیٹی : دُکھیاری
دھاروں دھار رونا : پھو ٗٹ پھوٹ کر رونا
غورکرنے کی بات
- رفیق حسین کی کہانیوں میں انسان، حیوان، قدرتی طاقتوں اور مناظر کے آپس میں متاثر ہونے کی سچّی عکاسی ملتی ہے۔اُردو افسانہ نگاری میں یہی ان کی انفرادیت ہے۔
- اِس کہانی میں مامتا کے جذبے کی عکاسی کی گئی ہے۔یہ ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان تو کیا جانوروں میں بھی موجود ہوتا ہے۔گوری جو ایک گائے ہے وہ اپنے مالکن کی ممتا کو سمجھتی ہے اور سیلاب میں پھنسے اپنے بچھڑے کو بچانے سے پہلے اُس کی لڑکی رم کلیاکی جان بچاتی ہے۔
- افسانہ نگار نے اودھی کے برمحل الفاظ بکثرت استعمال کیے ہیں۔
سوالات
1. مادھواور بسنتی موسلا دھار بارش میں اپنا گھرچھوڑ کر کیوں بھاگ رہے تھے؟
2. بسنتی کی بات سُن کر گوری نے کیا کیا؟
3. گوری نے رم کلیا کو کس طرح بچایا؟
4. رم کلیا نے گوری کے بچھڑے کو بچانے کے لیے کیا کیا؟
5. مامتا کے جذبے کے آگے تمام جذبات ہیچ ہیں۔وضاحت کیجیے
6. گوری کے کردار پر مختصراً لکھیے
عملی کام
- اگرآپ گوری کی جگہ ہوتے تو اس وقت کیا کرتے؟ اپنے لفظوں میں لکھیے
- ہم نے کڑا۔کڑے۔کڑوے کے بارے میں اوپر لکھا ہے۔آپ اپنی طرز سے سوچ کر اس طرح کے لفظ لکھیں۔مثلاً کتاب سے کتب وغیرہ