
عصمت چغتائی
(1915 —1991 )
عصمت چغتائی جودھ پور، راجستھان میں پیدا ہوئیں۔ بچپن آگرہ اور جے پور میں گزرا۔ اعلیٰ تعلیم علی گڑھ سے حاصل کی۔ بریلی کے ایک گرلز اسکول میں پرنسپل کی حیثیت سے پہلی ملازمت کی۔ اس کے بعد کئی اسکولوں سے وابستہ ہوئیں ۔ممبئی میں اسکولوں کی انسپکٹریس کی حیثیت سے تقرر ہوا۔ اسی دوران ممبئی کی فلمی دنیا سے رابطہ قائم ہوا اور وہ ملازمت ترک کرکے فلموں کے لیے لکھنے لگیں۔
عصمت چغتائی نے اپنے بڑے بھائی عظیم بیگ چغتائی کی تحریروں سے متاثر ہوکر لکھنا شروع کیا۔ لیکن ان کی تقلید کے بجائے اپنی الگ راہ نکالی۔ متوسط مسلمان گھرانوں کی لڑکیوں اور عورتوں کی نفسیات اور مشاغل پر افسانے لکھے۔ ان کے افسانوں میں متوسط طبقے کے کرداروں کی نفسیات کے ساتھ ساتھ اخلاقی، معاشرتی اور معاشی زندگی کے تمام گوشوں کی تصویر کشی ہے۔ خواتین کی نفسیات اور مسائل پر عصمت سے پہلے بھی افسانے اور ناول لکھے گئے لیکن ان میں سے بیشتر مردوں کی تحریریں تھیں۔ عصمت نے ان مسائل کو ایک عورت ہی کی حیثیت سے دیکھا، سمجھا اور بے باکی سے تحریر کیا۔ بحیثیت استاد، پرنسپل اور انسپکٹر آف اسکول انھوں نے لڑکیوں اور شادی شدہ خواتین کے ساتھ خاصا وقت گزارا تھا۔ اس لیے ان کے مشاہدے میں گہرائی تھی۔ انھوں نے اپنے ذاتی تجربوں اور محسوسات کو چھوٹے چھوٹے واقعات کی مدد سے مربوط اور دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے۔منٹو کی طرح عصمت نے بھی اپنی تحریروں میں بے باکی کا مظاہرہ کیا۔ عصمت کے افسانوں کی دوسری بڑی خوبی دلکش زبان اور طرزِ بیان ہے ۔ عورتوں کی زبان اورمحاوروں پر انھیں قدرت حاصل تھی۔ انھوں نے کرداروں کی مناسبت سے طنز و مزاح سے بھی کام لیا۔ عصمت نے افسانوں کے علاوہ ناول، ناولٹ، خاکے، ڈرامے، رپورتاژ اور ادبی مضامین بھی لکھے ۔
’’کلیاں‘‘، ’’چوٹیں‘‘، ’’چھوئی موئی‘‘،’’دوہاتھ‘‘، ’’دھانی بانکیں‘‘، ’’ضدّی‘‘، ’’ٹیڑھی لکیر‘‘، ’’سودائی‘‘، ’’دل کی دنیا‘‘،’’جنگلی کبوتر‘‘، ’’عجیب آدمی‘‘، ’’ایک قطرئہ خوں‘‘ اور’’معصومہ‘‘ ان کی قابلِ ذکر کتابیں ہیں۔’’کاغذی ہے پیرہن‘‘ کے عنوان سے ان کی خود نوشت سوانح بھی شائع ہوچکی ہے۔
چوتھی کا جوڑا
سہ دری کے چوکے پر آج پھر صاف سُتھری جازم بچھی تھی۔ ٹوٹی پھوٹی کھپریل کی جھریوں میں سے دھوپ کے آڑے تر چھے قتلے پورے دالان میں بکھرے ہوئے تھے۔ محلّے ٹولے کی عورتیں خاموش اور سہمی ہوئی سی بیٹھی تھیں۔ جیسے کوئی بڑی واردات ہونے والی ہو۔
آج کتنی آس بھری نگاہیں کبریٰ کی ماں کے متفکر چہرے کو تک رہی تھیں، چھوٹے عرض کی ٹول کے دوپاٹ تو جوڑلیے گئے تھے، مگر ابھی سفید گزی کا نشان بیونتنے کی کسی کو ہمّت نہ پڑی تھی۔ کاٹ چھانٹ کے معاملہ میں کبریٰ کی ماں کا مرتبہ بہت اونچا تھا ۔ ان کے سوکھے سوکھے ہاتھوں نے نہ جانے کتنے جہیز سنوارے تھے ‘کتنے چھٹی چھوچھک تیار کیے تھے اور کتنے ہی کفن بیونتے تھے۔ جہاں کہیں محلہ میں کپڑا کم پڑجاتا اور لاکھ جتن پر بھی بیونت نہ بیٹھتی ‘ کبریٰ کی ماں کے پاس کیس لایا جاتا ۔ کبریٰ کی ماں کپڑے کی کان نکالتیں، کلف توڑتیں، کبھی تکون بناتیں، کبھی چوکھنٹا کرتیں اوردل ہی دل میں قینچی چلاکر آنکھوں سے ناپ تول کر مسکراپڑتیں۔
’’آستین کے لیے گھیر تو نکل آئے گا ، گریبان کے لیے کترن میری بقچی سے لے لو۔‘‘ اورمشکل آسان ہوجاتی ۔کپڑا تراش کر وہ کترنوں کی پنڈی بناکر پکڑا دیتیں۔
پر آج تو سفید گزی کا ٹکڑا بہت ہی چھوٹا تھا اور سب کو یقین تھا کہ آج تو کبریٰ کی ماں کی ناپ تول ہار جائے گی ، جب ہی تو سب دَم سادھے ان کا منھ تک رہی تھیں۔کبریٰ کی ماں کے پُر استقلال چہرے پر فکر کی کوئی شکل نہ تھی، چار گرہ گزی کے ٹکڑے کو وہ نگاہوں سے بیونت رہی تھیں۔ لال ٹول کا عکس ان کے نیلگوں زرد چہرے پر شفق کی طرح پھوٹ رہا تھا۔ وہ اُداس اُداس گہری جھُرّیاں اندھیری گھٹاؤں کی طرح ایک دَم اُجاگر ہوگئیں، جیسے گھنے جنگل میں آگ بھڑک اٹھی ہو، اور انھوں نے مسکراکر قینچی اٹھالی۔
سہ دری کے آخری کونے میں پلنگڑی پر حمیدہ پیر لٹکائے ہتھیلی پر ٹھوڑی رکھے دورکچھ سوچ رہی تھی۔
دوپہرکا کھانا نمٹاکر اسی طرح بی اماں سہ دری کی چوکی پر جا بیٹھتی ہیں اور بقچی کھول کر رنگ برنگے کپڑوں کا جال بکھیر دیا کرتی ہیں۔ کونڈھی کے پاس بیٹھی برتن مانجھتی ہوئی کبریٰ کَن انکھیوں سے ان لال کپڑوں کو دیکھتی تو ایک سرخ جھپکی اس کے زردی مائل مٹیالے رنگ میں لپک اٹھتی۔رو پہلی کٹوریوں کے جال جب پولے پولے ہاتھوں سے کھول کر اپنے زانوؤں پر پھیلاتیں تو اُن کا مُرجھایا ہوا چہرہ ایک عجیب ارمان بھری روشنی سے جگمگا اٹھتا ۔ گہری صندوقوں جیسی شکنوں پر کٹوریوں کا عکس ننھّی ننھّی مشعلو ں کی طرح جگمگانے لگتا۔ ہر ٹانکے پر زری کا کام ہلتا اور مشعلیں کپکپا اُٹھتیں۔
اس چہل پہل سے دور کبریٰ شرم کی ماری ‘ مچھّروں والی کوٹھری میں سر جھکائے بیٹھی رہتی۔اتنے میں کتر بیونت نہایت نازک مرحلے میں پہنچ جاتی۔ کوئی کلی اُلٹی کٹ جاتی اور اس کے ساتھ بیویوں کی مت بھی کٹ جاتی۔ کبریٰ سہم کر دروازے کی آڑ سے جھانکتی ۔
یہی تو مشکل تھی۔ کوئی جوڑا اللہ مارا چین سے نہ سلنے پایا۔ جو کلی اُلٹی کٹ جائے تو جان لو نائن کی لگائی ہوئی بات میں ـضرور کوئی اڑنگا لگے گا۔جو گوٹ میں کان آجائے تو سمجھ لو یا تو مہر پر بات ٹوٹے گی یا بھرت کے پایوں کے پلنگ پر جھگڑا ہوگا۔ چوتھی کے جوڑے کا شگون بڑا نازک ہوتا ہے ۔بی اماں کی ساری مشّاقی اور سگھڑاپا دھرا رہ جاتا نہ جانے عین وقت پر کیا ہوجاتاکہ دھنیا برابر بات طول پکڑ جاتی۔ بسم اللہ کے روز سے سگھڑماں نے جہیز جوڑنا شروع کردیا تھا۔ ذرا سی کترن بھی بچتی تو تِلے دانی یا شیشی کا غلاف سی کر دھنک گو کھروسے سنوارکر رکھ دیتیں۔ لڑکی کا کیا ہے کھیرے ککڑی کی طرح بڑھتی ہے۔ جو برات آگئی تو یہی سلیقہ کام آئے گا۔
اور جب سے ابّاگزرے۔ سلیقہ کا بھی دَم پھوٗل گیا۔ حمیدہ کو ایک دم ابّا یاد آگئے ۔ ابّا کتنے دبلے پتلے لمبے جیسے محرّم کا عَلم۔ ایک بار جھُک جاتے تو سیدھے کھڑا ہونا دشوار تھا ۔ صبح ہی صبح اٹھ کر نیم کی مسواک توڑ لیتے او رحمیدہ کو گھٹنے پر بٹھاکر نہ جانے کیا سوچا کرتے۔اور ابّا کبریٰ کی جوانی کی طرف رحم طلب نگاہوں سے دیکھتے ۔
کبریٰ جوان تھی۔ کون کہتا تھا کہ جوان تھی۔ وہ تو جیسے بسم اللہ کے دن سے ہی اپنی جوانی کی آمد کی سناؤنی سن کر ٹھٹھک کر رہ گئی تھی۔ نہ جانے کیسی جوانی آئی تھی کہ نہ تو اس کی آنکھوں میں کرنیں ناچیں نہ اس کے رخساروںپر زلفیں پریشان ہوئیں ۔۔۔۔ وہ جھُکی جھُکی سہمی سہمی جوانی جو نہ جانے کب دبے پاؤں اس پر رینگ آئی، ویسے ہی چُپ چاپ نہ جانے کدھر چل دی۔
ابّا ایک دن چوکھٹ پر اوندھے منھ گرے اور انھیں اٹھانے کے لیے کسی حکیم یا ڈاکٹر کا نسخہ کام نہ آسکا اور حمیدہ نے میٹھی روٹی کے لیے ضدکرنی چھوڑدی۔ اور کبریٰ کے پیغام نہ جانے کدھر راستہ بھول گئے۔ جانو کسی کو معلوم ہی نہیں کہ اس ٹاٹ کے پردے کے پیچھے کسی کی جوانی آخری سسکیاں لے رہی ہے ۔ اور ایک نئی جوانی سانپ کے پھَن کی طرح اُٹھ رہی ہے۔
مگر بی امّاں کا دستور نہ ٹوٹا، وہ اسی طرح روز دو پہر کو سہ دری میں رنگ برنگے کپڑے پھیلاکر گڑیوں کاکھیل کھیلا کرتی ہیں۔ کہیں نہ کہیں سے جوڑ جمع کرکے شبرات کے مہینے میں کریب کا دوپٹہ ساڑھے سات روپے میں خرید ہی ڈالا۔ بات ہی ایسی تھی کہ بغیر خریدے گزارہ نہ تھا۔ منجھلے ماموں کا تار آیا کہ ان کا بڑا لڑکا راحت پولیس کی ٹریننگ کے سلسلے میں آرہا ہے ۔ بی امّاں کو تو بس جیسے اک دم گھبراہٹ کا دورہ پڑ گیا۔ جانو چوکھٹ پر برات آن کھڑی ہوئی اور انھوں نے ابھی دلہن کی مانگ کی افشاں بھی نہیں کتری۔ ہَول سے تو ان کے چھکّے چھوٹ گئے۔ جھَٹ اپنی منھ بولی بہن بندو کی ماںکوبُلا بھیجا کہ’’ بہن میرا مَری کا منھ دیکھو جو اسی گھڑی نہ آؤ۔‘‘
اور پھر دونوں میں کھُسر پھُسر ہوئی۔ بیچ میں ایک نظر دونوں کبریٰ پر بھی ڈال لیتیں جو دالان میں بیٹھی چاول پھٹک رہی تھی۔ وہ اس کانا پھوسی کی زبان کو اچھی طرح سمجھتی تھی۔
اسی وقت بی امّاں نے کانوں کی چار ماشہ کی لونگیں اتار کر منھ بولی بہن کے حوالے کیں کہ جیسے تیسے کرکے شام تک تولہ بھر گو کھرو ‘ چھ ماشہ سلمہ ستارا اور پاؤ گز نیفے کے لیے ٹول لادیں۔ باہر کی طرف والا کمرہ جھاڑ پونچھ کر تیار کیا۔ تھوڑا سا چونامنگاکر کبریٰ نے اپنے ہاتھوں سے کمرہ پوت ڈالا ۔کمرہ تو چٹّا ہوگیا مگر اس کی ہتھیلیوں کی کھال اُڑ گئی اور جب وہ شام کو مسالہ پیسنے بیٹھی تو چکّر کھاکر دوہری ہوگئی۔ ساری رات کروٹیں بدلتے گزری ۔ ایک تو ہتھیلیوں کی وجہ سے، دوسرے صبح کی گاڑی سے راحت آرہے تھے۔
’’اللہ!میرے اللہ میاں! اب کے تو میری آپا کا نصیبہ کھل جائے ۔میرے اللہ میں سو رکعت نفل تیری درگاہ میں پڑھوں گی ۔‘‘ حمیدہ نے فجر کی نمازپڑھ کر دعا مانگی۔ صبح راحت بھائی آئے تو کبریٰ پہلے ہی سے مچھّروں والی کوٹھری میں جاچھپی تھی۔جب سیویّوں اور پراٹھوں کا ناشتہ کرکے بیٹھک میں چلے گئے تو دھیرے دھیرے نئی دلہن کی طرح پیر رکھتی کبریٰ کوٹھری سے نکلی اور جھوٹے برتن اٹھالیے۔’’لاؤ میں دھوؤں بی آپا۔‘‘ حمیدہ نے شرارت سے کہا ۔
’’نہیں ۔‘‘ وہ شرم سے جھک گئی ۔
حمیدہ چھیڑتی رہی، بی امّاں مسکراتی رہیں اور کریب کے دوپٹہ میں لپّاٹانکتی رہیں۔ جس راستے کان کی لونگیں گئی تھیں اسی راستے پھول پتہ اور چاندی کی پازیب بھی چل دی اور پھر ہاتھوں کی دودو چوڑیاں بھی جو منجھلے مامو ں نے رنڈاپا اُتارنے پر دی تھیں۔ روکھی سوکھی خود کھاکر آئے دن راحت کے لیے پراٹھے تلے جاتے ، کوفتے،بھُنا پلاؤ مہکتے۔ خود سوکھا سا نوالہ پانی سے اتار کر وہ ہونے والے داماد کو گوشت کے لچھّے کھلاتیں۔
’’زمانہ بڑا خراب ہے بیٹی۔‘‘ وہ حمیدہ کو مُنھ پھُلاتے دیکھ کر کہا کرتیں۔ اور وہ سوچا کرتی۔ ہم بھوکے رہ کر داماد کو کھلارہے ہیں۔ بی آپا صبح سویرے اٹھ کر جادو کی مشین کی طرح جُٹ جاتی ہے۔ نہار منھ پانی کا گھونٹ پی کر راحت کے لیے پر اٹھے تلتی ہے۔ دودھ اونٹاتی ہے تاکہ موٹی سی ملائی پڑے۔ اس کا بس نہیں تھا کہ وہ اپنی چربی نکال کر ان پر اٹھوں میں بھردے۔ اورکیوں نہ بھرے ۔ آخر کو وہ ایک دن اس کا اپنا ہوجائے گا۔ جو کچھ کمائے گا اس کی ہتھیلی پر رکھ دے گا۔ پھل دینے والے پودے کو کون نہیں سینچتا؟ پھر جب ایک دن پھول کھلیں گے اور پھلو ں سے لدی ہوئی ڈالی جھکے گی تو یہ طعنہ دینے والیوں کے مُنھ پر کیسا جو تا پڑے گا اور اس خیال ہی سے میری بی آپا کے چہرے پر سہاگ کھِل اٹھتا۔ کانوںمیں شہنائیاں بجنے لگتیں۔ اور وہ راحت بھائی کے کمرے کو پلکوں سے جھاڑتیں۔ ان کے کپڑوںکو پیار سے تہ کرتیں۔ جیسے وہ کچھ ان سے کہتے ہوں۔ وہ ان کے بدبودار چوہوں جیسے سڑے ہوئے موزے دھوتیں۔ بساندی بنیان اور ناک سے لتھڑے ہوئے رومال صاف کرتیں۔ ان کے تیل میں چپچپاتے ہوئے تکیے کے غلاف پر سوئٹ ڈریم کاڑھتیں ۔ پر معاملہ چاروں کونے چوکس نہیں بیٹھ رہا تھا۔ راحت صبح انڈے پر اٹھے ڈٹ کر کھاتا ۔اور شام کو آکر کوفتے کھاکر سوجاتا ۔ اور بی امّاں کی منھ بولی بہن حکیمانہ انداز میں کھُسر پھُسر کرتیں۔
’’بڑا شرمیلا ہے بے چارہ۔‘‘ بی امّاں تاویلیں پیش کرتیں۔’’ ہاں یہ تو ٹھیک ہے پر بھئی کچھ توپتا چلے رنگ ڈھنگ سے، کچھ آنکھوں سے۔‘‘
’’اے نوج، خدا نہ کرے میری لونڈیا آنکھیں لڑائے۔ اس کا آنچل بھی نہیں دیکھا ہے کسی نے۔‘‘ بی امّاں فخر سے کہتیں۔
’’اے تو پردہ توڑوانے کو کون کہے ہے۔‘‘ بی ا ٓپا کے پکّے مہاسوں کو دیکھ کر انھیں بی امّاں کی دور اندیشی کی داد دینی پڑی۔
’’اے بہن، تم تو سچ میں بہت بھولی ہو۔ یہ میں کب کہوں ہوں۔ یہ چھوٹی نگوڑی کون سی بکرید کو کام آئے گی؟‘‘ وہ میر ی طرف دیکھ کر ہنستی۔
’’اری او نک چڑھی! بہنوئی سے کوئی بات چیت ، کوئی ہنسی مذاق ،اونہہ واری چل دیوانی۔‘‘
’’اے تو میں کیاکروں خالہ؟‘‘
’’راحت میاں سے بات چیت کیوں نہیں کرتی؟‘‘
’’ بھئی ہمیں تو شرم آتی ہے۔‘‘
’’اے ہے ، وہ تجھے پھاڑہی تو کھائے گا۔‘‘ بی امّاں چِڑ کر بولیں۔
’’نہیں تو۔ مگر …‘‘ میں لاجواب ہوگئی اور پھر مسکوٹ ہوئی۔ بڑی سوچ بچار کے بعدکھَل کے کباب بنائے گئے ۔ آج بی آپا بھی کئی بار مسکراپڑیں۔چپکے سے بولیں۔
’’دیکھو ہنسنا نہیں،نہیں تو سارا کھیل بگڑ جائے گا۔‘‘
’’نہیں ہنسوں گی۔‘‘ میں نے وعدہ کیا۔
’’کھانا کھا لیجئے۔‘‘ میں نے چوکی پر کھانے کی سینی رکھتے ہوئے کہا۔پھر جوپٹی کے نیچے رکھے ہوئے لوٹے سے ہاتھ دھوتے وقت میری طرف سرسے پاؤں تک دیکھا تو میں بھاگی وہاں سے۔ میرا دل دَھک دَھک کرنے لگا۔ اللہ تو بہ کیا خنّاس آنکھیں ہیں۔’’جانگوڑی ماری اری دیکھ تو سہی، وہ کیسا مُنھ بناتاہے۔ اے ہے سارا مزا کِرکِراہوجائے گا۔‘‘
آپا بی نے ایک بار میری طرف دیکھا ۔ ان کی آنکھوں میں التجا تھی۔ لَوٹی ہوئی براتوں کا غبار تھا اور چوتھی کے پرانے جوڑوں کی مانند اداسی۔میں سرجھکائے پھر کھمبے سے لگ کر کھڑی ہوگئی۔
راحت خاموش کھاتے رہے، میری طرف نہ دیکھا۔کھلی کے کباب کھاتے دیکھ کر مجھے چاہیے تھا کہ مذاق اڑاؤں ۔ قہقہہ لگاؤں کہ ’’واہ جی واہ دولھا بھائی !کھلی کے کباب کھارہے ہو۔‘‘ مگر جانو کسی نے میرانرخرہ دبوچ لیا ہو۔
’’کیا ہمارے یہاں کا کھانا آپ کوپسند نہیں آتا؟‘‘ میں نے جَل کر کہا۔
’’یہ بات نہیں۔ کچھ عجیب سا معلوم ہوتا ہے ۔کبھی کھلی کے کباب تو کبھی بھوٗسے کی ترکاری۔‘‘
’’میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ ہم سو کھی روٹی کھاکے اسے ہاتھی کی خوراک دیں۔ گھی ٹپکتے پراٹھے ٹھنسائیں۔میری بی آپا کو جو شاندہ نصیب نہیں اور اسے دودھ مَلائی نگلوائیں۔‘‘میں بھنّا کر چلی آئی۔
راحت نے پھر کسی بہانے سے مجھے پکارا۔’’اونہہ!‘‘ میں جل گئی۔ پربی آپا نے کٹی ہوئی مرغی کی طرح جو پلٹ کر دیکھا تو مجھے جانا ہی پڑا۔
’’آپ ہم سے خفا ہوگئیں؟‘‘ راحت نے پانی کا کٹورا لے کر میری کلائی پکڑلی۔ میرا دم نکل گیا اور بھاگی توہاتھ جھٹک کر۔‘‘
’’کیا کہہ رہے تھے؟‘‘ بی آپا نے شرم و حیا سے گھُٹی ہوئی آواز میں کہا۔ میں چُپ چَاپ ان کا منھ تکنے لگی۔
’’کہہ رہے تھے کس نے پکایا ہے کھانا ۔ واہ واہ! جی چاہتا ہے کھاتا ہی چلا جاؤں ۔ پکانے والی کے ہاتھ کھا جاؤں…اوہ نہیں… کھانہیں بلکہ چوم لوں۔‘‘
میں نے جلدی جلدی کہنا شروع کیا اوربی آپا کا کھُردرا ہلدی دھنیاکی بساند میں سَڑا ہوا ہاتھ اپنے ہاتھ سے لگالیا ۔ میرے آنسو نکل آئے۔ ’’یہ ہاتھ‘‘ میں نے سوچا جو صبح سے شام تک مسالہ پیستے ہیں، پانی بھرتے ہیں، پیاز کاٹتے ہیں، بستر بچھاتے ہیں، جوتے صاف کرتے ہیں۔ یہ بے کس غلام صبح سے شام تک جُٹے ہی رہتے ہیں ان کی بیگارکب ختم ہوگی؟ کیا ان کا کوئی خریدار نہ آئے گا؟ کیا انھیں کبھی کوئی پیار سے نہ چومے گا؟ کیا ا ن میں کبھی مہندی نہ رچے گی؟ کیا ان میں کبھی سہاگ کا عطر نہ بسے گا ؟ جی چاہا زور سے چیخ پڑوں۔
’’اور کیا کہہ رہے تھے ؟‘‘ بی آپا کے ہاتھ تو اتنے کھُردرے تھے، پرآواز اتنی رسیلی اور میٹھی تھی کہ اگر راحت کے کان ہوتے تو… مگر راحت کے نہ کان تھے نہ ناک بس دوزخ جیسا پیٹ تھا۔
’’اور کہہ رہے تھے کہ اپنی بی آپا سے کہنا کہ اتنا کام نہ کیاکریں اور جو شاندہ پیا کریں۔‘‘
’’چل جھُوٹی۔‘‘
’’ارے واہ جھُوٹے ہوں گے آپ کے وہ …‘‘
’’اری چپ مُردار‘‘! انھوں نے میرامنھ بند کردیا۔
’’دیکھ تو سوئٹر بُن گیا ہے انھیں دے آ۔ پر دیکھ تجھے میری قسم میرا نام نہ لیجیو۔‘‘
’’نہیں بی آپا۔انھیں نہ دو وہ سوئٹر ۔ تمھاری ان مٹھّی بھر ہڈّیوں کو سوئٹر کی کتنی ضرورت ہے؟‘‘ میں نے کہنا چاہا پر کہہ نہ سکی۔
’’آپا بی تم خود کیا پہنوگی؟۔
’’ارے مجھے کیاضرورت ہے؟ چولھے کے پاس تو ویسے ہی جھُلس رہتی ہے۔‘‘
سوئٹر دیکھ کر راحت نے اپنی ایک ابرو شرارت سے اوپر تان کرکہا۔
’’کیا یہ سوئٹر آپ نے بُنا ہے؟‘‘
’’نہیں تو۔‘‘
’’تو بھئی ہم نہیں پہنیں گے۔‘‘
میرا جی چاہا کہ اس کا منھ نوچ لوں کمینے۔ مٹّی کے تودے۔یہ سوئٹر ان ہاتھوں نے بُنا ہے جو جیتے جاگتے غلام ہیں۔ اس کے ایک ایک پھندے میں کسی نصیبوں جلی کے ارمانوں کی گردنیں پھنسی ہوئی ہیں، یہ ان ہاتھوں کا بُنا ہوا ہے جو ننھّے پنگورے جھلا نے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ان کو تھام لو۔ اور یہ دو پتوار بڑے سے بڑے طوفان کے تھپیڑوں سے تمھاری زندگی کی ناؤ کو بچا کر پار لگا دیں گے۔ یہ ستارکے گَت نہ بجا سکیں گے۔ منی پوری اوربھارت ناٹیم کے مدرانہ دکھا سکیں گے۔ انھیں پیانوپر رقص کرنا نہیں سکھایا گیا۔ انھیں پھولوں سے کھیلنا نہیں نصیب ہوا۔ مگر یہ ہاتھ تمھارے جسم پر چربی چڑھانے کے لیے صبح سے شام تک سلائی کرتے ہیں۔ صابن اور سوڈے میں ڈبکیاں لگاتے ہیں چولھے کی آنچ سہتے ہیں۔تمھاری غلاظتیں دھوتے ہیں تاکہ تم اُجلے چِٹّے بگلا بھگتی کا ڈھونگ رچائے رہو۔ محنت نے ان میں زخم ڈال دیے ہیں۔ان میں کبھی چوڑیاں نہیں کھنکتی ہیں۔ انھیں کبھی کسی نے پیار سے نہیں تھاما۔۔۔۔
’’یہ سوئٹر تو آپ ہی پہن لیجیے۔ دیکھیے نا آپ کا کرتا کتنا باریک ہے؟‘‘
جنگلی بِلّی کی طرح میں نے اس کا منھ، ناک، گریبان اور بال نوچ ڈالے۔ اور اپنی پلنگڑی پر جاگری۔ بی آپا نے آخری روٹی ڈال کر جلدی جلدی تسلے میں ہاتھ دھوئے۔ اورآنچل سے پونچھتی میرے پاس آبیٹھی۔
’’وہ بولے؟‘‘ ان سے نہ رہا گیا۔تو دھڑکتے ہوئے دل سے پوچھا۔
’’بی آپا۔ یہ راحت بھائی بڑے خراب آدمی ہیں۔‘‘ میں نے سوچا کہ میں آج سب کچھ بتادوں گی۔
’’کیوں؟‘‘ وہ مسکرائیں۔
’’مجھے اچھّے نہیں لگتے …دیکھیے میری ساری چوڑیاں چورہ ہوگئیں۔‘‘ میں نے کاپنتے ہوئے کہا۔
’’بڑے شریر ہیں۔‘‘ انھوں نے رومانٹک آواز میں شرماکے کہا۔
’’بی آپا…سنو بی آپا ۔ یہ راحت اچھّے آدمی نہیں۔‘‘ میں نے سلگ کر کہا۔
’’آج میں امّاں سے کہہ دوں گی۔‘‘
’’کیا ہوا؟‘‘ بی امّاں نے جا نمازبچھا تے ہوئے کہا۔
’’دیکھو میری چوڑیاں بی امّاں ۔‘‘
’’راحت نے توڑ ڈالیں۔‘‘ بی امّاں مسرّت سے بولیں۔
’’ہاں‘‘!
’’خوب کیا۔ تو اسے ستاتی بھی تو بہت ہے۔ اے ہے تو دَم کا ہے کو نکل گیا۔ بڑی موم کی بنی ہوئی ہو کہ ہاتھ لگایا اور پگھل گئیں۔‘‘ پھر چمکار کربولیں۔‘‘ خیر تو بھی چوتھی میں بدلہ لے لیجیو۔ وہ کسر نکالیو کہ یاد ہی کریں میاں جی۔‘‘ یہ کہہ کر انھوں نے نیت باندھ لی۔
منھ بولی بہن سے پھر کا نفرنس ہوئی۔
’’اے ہے تو بڑی ہی ٹھَس ہے۔ اے ہم تو اپنے بہنوئیوں کا خدا کی قسم ناک میں دم کردیا کرتے تھے۔‘‘۔
’’یہ بات نہیں ہے بہن، آجکل کے لڑکوں کا دل بس تھالی کا بیگن ہوتا ہے۔ جدھر جھُکا دو اُدھر ہی لڑھک جائے گا۔‘‘
مگر راحت تو بینگن نہیں اچھّا خاصا پہاڑ ہے ۔جھکاؤ دینے پر کہیں میں ہی نہیں پِس جاؤں۔ میں نے سوچا ۔پھر میں نے آپا کی طرف دیکھا ۔ وہ خاموش دہلیز پر آبیٹھیں، آٹا گوندھ رہی تھیں اورسب کچھ سنتی جارہی تھیں۔ ان کا بس چلتا تو زمین کی چھاتی پھاڑ کر ا پنے کنوارپنے کی لعنت سمیت اس میں سما جاتیں۔
مگر اشاروں کنایوں کے باوجود راحت میاں نہ تو خود منھ سے پھوٹے اور نہ ہی ان کے گھر ہی سے پیغام آیا۔ تھک ہار کربی امّاں نے پیروں کے توڑے گروی رکھ کر پیر مشکل کُشاکی نیاز دلا ڈالی ۔ دوپہر بھر محلّے ٹولے کی لڑکیاں صحن میں اودھم مچاتی رہیں۔ بی آپا شرمائی لجائی مچھّروں والی کوٹھری میں اپنے خون کی آخری بوندیں چُسانے کو جا بیٹھیں۔بی آپا کی سہیلیاں ان کو چھیڑ رہی تھیں اور وہ خون کی بچی کھُچی بوندوں کو تاؤ میں لارہی تھیں۔ آج کئی روز سے ان کا بخار نہیں اُترا تھا۔ تھکے ہارے دِیے کی طرح ان کا چہرہ ایک بار ٹمٹماتا اور پھر بجھ جاتا۔ اشارے سے انھوں نے مجھے اپنے پاس بُلایا۔ اپنا آنچل ہٹا کر نیاز کے ملیدے کی طشتری مجھے تھمادی۔
’’اس پر مولوی صاحب نے دَم کیا ہے۔‘‘ ان کی بخار سے دہکتی ہوئی گرم گرم سانس میرے کان میں لگی۔۔۔۔
’’یہ… یہ ملیدہ۔‘‘ اس نے اُچھلتے ہوئے دل کو قابو میں رکھتے ہوئے کہا۔ اس کے پیر لرز رہے تھے۔ جیسے وہ سانپ کی بانبی میں گھس آئی ہو۔ اور پھر پہاڑ کھسکا…! اور منھ کھول دیا ۔ وہ ایک دم پیچھے ہٹ گئی۔ مگر دورکہیں بارات کی شہنائیوں نے چیخ لگائی۔جیسے کوئی ان کا گلا گھونٹ رہا ہو۔ کانپتے ہاتھوں سے مقدّس ملیدے کانوالہ بناکر اس نے راحت کے منھ کی طرف بڑھادیا۔
ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ پہاڑ کی کھوہ میں ڈوبتا چلا گیا۔ نیچے تعفّن اور تاریکی کے اتھاہ غار کی گہرائیوں میں اورایک بڑی سی چٹان نے اس کی چیخ کو گھونٹ دیا۔
نیازکے ملیدے کی رکابی ہاتھ سے چھٹ کر لالٹین کے اوپر گری اور لالٹین نے زمین پر گرکر دو چار سسکیاں بھریں اور گُل ہوگئی۔ باہر آنگن میں محلّے کی بہو بیٹیاں مشکل کُشا کی شان میں گیت گارہی تھیں۔
صبح کی گاڑی سے راحت مہمان نوازی کاشکریہ ادا کرتا ہو ا روانہ ہوگیا۔ اس کی شادی کی تاریخ طے ہوچکی تھی اور اسے جلدی تھی۔
اس کے بعد اس گھر میں کبھی انڈے نہ تلے گئے ۔ پراٹھے نہ سِکے اور سوئٹر نہ بُنے گئے۔ دِق نے جو ایک عرصے سے بی آپا کی تاک میں بھاگی پیچھے پیچھے آرہی تھی ایک ہی جَست میں انھیں دبوچ لیا اور انھوں نے چُپ چاپ اپنا نامراد و جود اس کی آغوش میں سونپ دیا۔
اور پھراس سہ دری میں چوکی پر صاف ستھری جازم بچھائی گئی۔ محلّے کی بہو بیٹیاں جڑیں۔کفن کا سفید سفید لٹھّا ۔ موت کے آنچل کی طرح بی امّاں کے سامنے پھیل گیا۔ تحمّل کے بوجھ سے ان کا چہرہ لرزرہا تھا ۔بائیں ابرو پھڑک رہی تھی گالوں کی سنسان جھُرّیاں بھائیں بھائیں کررہی تھیں۔ جیسے ان میں لاکھوں اژدہے پھنکار رہے ہوں۔
لٹھّے کی کان نکال کر انھوں نے چَوپرتہ کیا اور ان کے دل میں اَن گنت قینچیاں چل گئیں۔ آج اُن کے چہرے پر بھیانک سکون اور ہرا بھرا اطمینان تھا۔ جیسے انھیں پکّا یقین ہوکہ دوسرے جوڑوں کی طرح چوتھی کا یہ جوڑا سینتا نہ جائے گا۔
ایک دم سہ دری میں بیٹھی لڑکیاں، بالیاں میناؤں کی طرح چہکنے لگیں۔ حمیدہ ماضی کو دور جھٹک کر ان کے ساتھ جا ملی۔ لال ٹول پر…سفید گزی کا نشان! اس کی سرخی میں نہ جانے کتنی معصوم دلہنوں کا سہاگ رَچا ہے اور سفیدی میں کتنی نامراد کنواریوں کے کفن کی سفیدی ڈوب کر اُبھری ہے اور پھر سب ایک دم خاموش ہوگئے۔ بی امّاں نے آخری ٹانکا بھرکے ڈورہ توڑ لیا۔ دو موٹے موٹے آنسو ان کے روئی جیسے نرم گالوں پر دھیرے دھیرے رینگنے لگے۔ ان کے چہرے کی شکنوں میں سے روشنی کی کرنیں پھوٹ نکلیں اور وہ مسکرادیں۔ جیسے آج انھیں اطمینان ہوگیا کہ ان کی کبریٰ کا سوہا جوڑا بن کرتیار ہوگیاہو اور کوئی دم میں شہنائیاں بج اٹھیں گی۔
مشق
لفظ ومعنی
سہ دری : تین دروازوں والا دالان
جازم : فرش پر بچھائی جانے والی گُل بوٹے والی بڑی چادر یا چاندنی
واردات : واقعہ ، جو بات پیش آئے۔ اسی لیے جرم کو ہی واردات کہتے ہیں مثلاً فلاں جگہ ایک واردات ہوگئی
ٹول : لال رنگ کا سوتی کپڑا
پاٹ : چوڑائی خاص کر کپڑے یا ندی کی
چھَٹی : بچّے کی پیدائش کے چھٹے دن کی تقریب
چھوچھک : دودھ پلانے والی دائی، وہ سامان جو چھَٹی کے دن بچے اوراس کی ماں کے لیے ماں کے گھر سے آتا ہے
بیونت : کاٹ ، تراش
پنڈی : کترنوں کو ایک ساتھ لپیٹنا
استقلال : مستقل مزاجی ، ٹھہراؤ
گرہ : گز کا سولہواں حصّہ
چار گرہ : گز کا چوتھائی حصّہ
نیلگوں : نیلے رنگ کا
کونڈی : چھوٹا کونڈا جو اکثر مٹی یا پتھر کا بنا ہوتا ہے
روپہلی : چاندی یا چاندی کے رنگ کی
مَت کٹ جانا : عقل ماری جانا
شگون لینا : کسی کام کو شروع کرنے سے پہلے یہ معلوم کرنے کی کوشش کہ اس کا کرنا ٹھیک ہوگا یا نہیں ،ایسی بات جس سے آئندہ ہونے والی بات کا اندازہ ہوسکے
مشّاقی : مہارت
دھنک گو کھرو : دوپٹے کے کنارے پر لگایا جانے والا گوٹا ، گوٹا جس میں ہلکے ہلکے کانٹے ہوتے ہیں
عَلم : جھنڈا
سناونی : موت کی خبر
لَپّا : دوپٹے پر ٹانکی جانے والی کرن
پھول، پتہ، پازیب : مختلف زیورات کے نام۔ پھول اورپتہ کان کے زیور ہیں پازیب ایک زنجیرہے جسے ٹخنوں کے اوپر باندھتے ہیں
رنڈاپا اتارنا : عِدّت کی مدّت ختم ہونا
حکیمانہ : دانش مندانہ
تاویل : بہانہ، توجیہہ
مسکوٹ : خفیہ صلاح و مشورہ
خنّاس : شیطان
نرخرہ : سانس کی نالی
مٹی کے تودے : مٹی کے مادھو
گَت : دھُن
مُدرا : بھاؤ بتانا
بانبی : بِل
تحمّل : برداشت کی طاقت
چوپرتہ کرنا : چار تہیں بنانا
غور کرنے کی بات
- اس افسانے میں بہت سے ایسے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے جو زیادہ تر عورتیں استعمال کرتی ہیں۔ جیسے: چھٹی چھوچھک۔ لپا چھپ ۔ آگ لگے موئے کو ۔ خاک پڑے ۔ اری چل دیوانی۔ مسکوٹ۔ مجھ مَری کا منہ دیکھو۔ نگوڑی۔ کم بخت۔ نامراد۔
- شادی بیاہ اور بچوں کی پیدائش وغیرہ کے موقع پر عموماً طرح طرح کے وہموں میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ مثال کے طور پر اس افسانے میں چوتھی کے جوڑے کی تیاری کے سلسلے میں کہا گیا ہے کہ اگر اس جوڑے کی کتر بیونت میں کہیں غلطی ہوجائے تو کس کس طرح کی رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں۔اگر چہ تعلیم کے عام ہوجانے کی وجہ سے اس میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ تاہم گاؤں دیہات میں اب بھی ساعت، شگون اوررسم و رواج کی بڑی پابندی کی جاتی ہے۔اور اگر ان میں کسی طرح کی کمی ہوجائے یا کوئی کسر باقی رہ جائے تو اسے بدشگونی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
- اس افسانے میں محاوروں اور کہاوتوں کا بر محل استعمال کیا گیا ہے۔
سوالات
1. کبریٰ سہ دری کی چہل پہل سے دور کیوں رہتی تھی؟
2. راحت کے آنے کی خبر سن کر بی امّاں کے چھکّے کیوں چھوٹ گئے؟
3. ’’جس راستے کان کی لونگیں گئی تھیں، اسی راستے پھول، پتہ اور چاندی کی پازیب بھی چل دی۔‘‘اس جملے کا کیا مطلب ہے اور اس سے کبریٰ کے گھر یلو حالات پہ کیاروشنی پڑتی ہے؟
4. راحت کے کردار کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اپنے الفاظ میں لکھیے۔
عملی کام
- اس افسانے میں ایسے بہت سے بامحاورہ جملوں کا خوب صورت استعمال کیاگیا ہے آپ ان جملوں کی نشان دہی کیجیے، اور ان محاوروں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔
- اس افسانے میں آپ کو کون سا کردار سب سے زیادہ پسند آیا اور کیوں؟دلیلوں کے ساتھ بیان کیجیے۔
- اس افسانے کا موضوع ہمارے موجودہ حالات کی کیا ترجمانی کرتاہے؟