
مضمون
اردو میں مختصر مضمون کی روایت کو انیسویں صدی کے دوران بہت ترقی ملی۔ مضمون نگاری نثر کی باضابطہ صنف نہیں ہے۔ بہت سے لکھنے والوں نے کسی خیال، تجربے، واردات کو مرتّب انداز میں اس طرح پیش کیا کہ اس سے خود بہ خود ایک شکل بن گئی اور مضمون کہلائی۔ سرسیّد اور ان کے معاصرین نے مضمون نگاری کو سماجی اصلاح کے ایک وسیلے کے طور پر استعمال کیا۔ سماجی موضوعات کے علاوہ علمی، ادبی، فلسفیانہ اورتہذیبی و معاشرتی موضوعات پر بھی مضامین لکھے گئے۔ حالی، شبلی، محمد حسین آزاد، نذیر احمد، میر ناصر علی، نیاز فتح پوری، رشید احمد صدیقی، مہدی افادی، سجاّد انصاری، خواجہ حسن نظامی، مرزا فرحت اللہ بیگ، محفوظ علی بدایونی، ابوالکلام آزاد اور خواجہ غلام السیّدین وغیرہ اردو کے اہم مضمون نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔
مختصر مضمون کی ہی ایک شکل انشائیہ بھی ہے۔ انشائیہ میں عام طور پر مزاح اور طنز یا خوش مزاجی کا رنگ ہوتا ہے۔ انشائیہ نگار اکثر اپنے حوالے سے، یا اکثر اپنے ہی بارے میں باتیں کرتا ہے۔ اچھے انشائیوں میں تخلیقیت کا عنصر نمایاں ہوتا ہے۔
شبلی ؔنعمانی
(1914 — 1857)
شبلی اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے ۔انھوں نے ابتدائی تعلیم وطن میں حاصل کی اور مولانا فاروق چریاکوٹی اوراس زمانے کے دوسرے ممتاز اہلِ علم سے فیض حاصل کیا۔ 1884 میں شبلی علی گڑھ آگئے۔ یہاں انھیں تدریس کے ساتھ ساتھ پڑھنے لکھنے کا خوب موقع ملا۔سرسیّد کے ساتھ رہنے اور کام کرنے کے باعث شبلی کے ذہن اور علم نے بہت ترقی کی اور وہ مسلمانوں کی قومی زندگی کے اہم مسائل سے روشناس ہوئے ۔انھوں نے روم وشام اور مصر کا سفر کیا۔ کچھ روز حیدرآباد کے دار الترجمہ میں بھی کام کیا۔پھر لکھنؤ میں ندوۃالعلما سے وابستہ رہے۔ آخری عمر میں اپنے آبائی وطن اعظم گڑھ چلے گئے ۔یہاں انھوں نے دار المصنفین قائم کیا جو شبلی اکیڈمی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
شبلی نے اُردو نثر ونظم کے مختلف شعبوں میں بہت وقیع خدمات انجام دی ہیں۔ تاریخ،فلسفہ، مذہبیات اور مختلف دینی ودنیوی علوم پر ان کی گرفت مضبوط تھی۔وہ اُردو اور فارسی کے بہت اچھے شاعر بھی تھے۔
فارسی زبان وادب کی مشہور تاریخ ’’شعر العجم‘‘ ان کا کارنامہ ہے۔ اُردو سوانح اور سیرت نگاری میں بھی شبلی نے اہم خدمات انجام دی ہیں۔اس میدان میں ان کی کتابیں سیرۃ البنی (جلد اول) سوانح مولانا روم، الغزالی، الفاروق اور النعمان بہت مشہور ہیں۔ سوانح اور تاریخ کے علاوہ تنقید کے میدان میں شبلی نے بعض نئے کام کیے۔ مثلاً ’’موازنۂ انیس ودبیر‘‘ اردو میں پہلی کتاب ہے جس میں اردو شاعروں کا تقابلی مطالعہ کیاگیا ہے۔ یہ شبلی کے تنقیدی شعور کی ترجمان ہے۔
شبلی کا اسلوب عالمانہ ہوتے ہوئے بھی بہت دل کش اور موثر ہے۔ ان کی نثر میں شگفتگی اور صلابت کے عناصر نمایاں ہیں۔
سرسیّدمرحوم اور اُردو لٹریچر
سر سیّدکے جس قدر کارنامے ہیں، اگرچہ ر فارمیشن اور اصلاح کی حیثیت ہر جگہ نظر آتی ہے، لیکن جو چیزیں خصوصیت کے ساتھ ان کی اصلاح کی بدولت ذرّے سے آفتاب بن گئیں، اُن میں سے ایک اُردو لٹریچر بھی ہے۔ سر سیّد ہی کی بدو لت اُردو اس قابل ہوئی کہ عشق و عاشقی کے دائرے سے نکل کر مُلکی،سیاسی،اخلاقی، تاریخی ہر قسم کے مضامین اس زوراور اثر، وُسعت و جامعیت ، سادگی اور صَفائی سے ادا کرسکتی ہے کہ خود اُس کی اُستاد یعنی فارسی زبان کو، آج تک یہ بات نصیب نہیں۔ مُلک میں آج بڑے بڑے انشا پرداز موجود ہیں جو اپنے اپنے مخصوص دائرۂ مضمون کے حُکمراں ہیں ، لیکن اُن میں سے ایک شخص بھی نہیں جو سر سیّد کے بارِ احسان سے گردن اُٹھاسکتا ہو۔بعض بالکل ان کے دامنِ تربیت میں پلے ہیں، بعضوں نے دور سے فیض اُٹھایا ، بعض نے مدّعیانہ اپنا الگ راستہ نکالاہے ۔ تا ہم سر سیّد کی فیض پذیری سے بالکل آزاد کیوں کررہ سکتے تھے؟
سر سیّد کی جس زمانے میں نشو و نما ہوئی ، دلی میں اہلِ کمال کا مجمع تھا، اُمرا اوررؤسا سے لے کر ادنیٰ طبقے تک علمی ذوق پھیلا ہوا تھا۔ سر سیّد جس سوسائٹی کے ممبر تھے، اس کے بڑے بڑے ارکان مفتی صدر الدین خاںآزردہؔ، مرزا غالبؔ اور مولانا صہبائیؔ تھے۔ ان میں سے ہر شخص تصنیف و تالیف کا مالک تھا،اور انھیں بزرگوں کی صحبت کا اثر تھا کہ سر سیّد نے ابتدا ہی میں جو مشغلۂ علمی اختیارکیا، و ہ تصنیف و تالیف کا مشغلہ تھا۔
اوّل وہ رواجِ عام کے اقتضاسے شاعر ی کے میدان میں آئے۔ آہیؔ تخلص اختیار کیا اور اُردو میں ایک چھوٹی سی مثنوی لکھی، جس کا ایک مصرع انھیں کی زبانی سنا ہوا مجھے یاد ہے:
نام میرا تھا، کام ان کا تھا
لیکن حقیقت یہ ہے کہ اُن کو شاعری سے مناسبت نہ تھی، اس لیے وہ بہت جلد اس کوچے سے نکل آئے اور نثر کی طرف توجہ کی۔ چوں کہ حقائق اور واقعات کی طرف ابتدا سے میلان تھا، اس لیے دلّی کی عمارتوں اور یادگاروں کی تحقیقات شروع کی اور نہایت محنت و کوشش سے اس کام کو انجام دے کر 1847ء میں ایک مبسوط کتاب لکھی جو آثار الصّنادیدکے نام سے مشہور ہے۔
اس وقت اگر چہ سر سیّد کے سامنے اُردو نثر کے بعض عمدہ نمونے موجود تھے خصوصاً میر امّن کی،’’ چہار درویش‘‘ جو1802ء میں تالیف ہوئی تھی،اور جس کی سادگی ، صفائی اور واقعہ طرازی آج بھی موجودہ تصنیفات کی برابری کادعویٰ کرسکتی ہے۔ اس کے ساتھ مضمون جواختیار کیا گیا تھا ،یعنی عمارت اور آثار کی تاریخ ، وہ تکلّف اور آورد سے اِ با کرتا تھا، تاہم ’’ آثارُ الصنادید‘‘ میں اکثر بیدلؔ اور ظہوریؔ کا رنگ نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سر سیّدکی رات دن کی صحبت مولانا امام بخش صہبائیؔ سے رہتی تھی اور مولانا ئے موصوف بیدلؔ کے ایسے دل دادہ تھے کہ ان کا کلمہ پڑھتے تھے اور جو کچھ لکھتے، اُسی طرز میں لکھتے تھے۔سر سیّدنے مجھ سے خود بیان کیا کہ آثار الصّنادید کے بعض بعض مقامات بالکل امام بخش صہبائی ؔکے لکھے ہوئے ہیں، جو انھوں نے میری طرف سے اور میرے نام سے لکھ دیے تھے۔
’’آثارالصّنادید‘‘ جس زمانے میں نکلی اس کے تھوڑے ہی دنوں کے بعد تقریباً 1850ء میں ،دلّی کے مشہور شاعر مرزا غالبؔ نے اردو کی طرف توجہ کی یعنی مکاتبات وغیرہ اردو میں لکھنے شروع کیے اور چونکہ وہ جس طرف متوجہ ہوتے تھے اپنا کوچہ الگ نکال کر رہتے تھے، اس لیے انھوں نے تمام ہم عصروں کے برخلاف مکاتبہ کو مکالمہ کردیا۔ مکاتبات میں وہ بالکل اسی طرح ادائے مطلب کرتے تھے جیسے دو آدمی آمنے سامنے بیٹھے باتیں کررہے ہوں۔ اس کے ساتھ بہت سے خطوط میں انسانی جذبات مثلاً رنج وغم ،مسرت وخوشی ،حسرت وبیکسی کو نہایت خوبی سے ادا کیا ہے۔ اکثرواقعات کو اس بے ساختگی سے ظاہر کیا ہے کہ واقعہ کی تصویر آنکھوں کے سامنے پھر جاتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ کہنا بے جا نہیں کہ اردو انشاپردازی کا آج جو انداز ہے اور جس کے مجدّد اور امام سر سیّدمرحوم تھے، اس کا سنگ ِبنیاددراصل مرزا غالبؔ نے رکھا تھا۔ سر سیّد کو مرزا غالبؔ سے جو تعلق تھا وہ ظاہر ہے۔ اس لیے کچھ شبہ نہیں ہوسکتا کہ سرسیّد ضرور مرزا کی طرز سے مستفید ہوئے۔
اسی زمانے میں ہندوستان کے ہر حصّے میں کثرت سے اُردو اخبارات جاری ہوگئے اور اُردو انشاپردازی کو روز بروز ترقی ہوتی گئی۔ اخبارات کو ہر قسم کے اخلاقی، تمّدنی، ملکی، مذہبی، تاریخی مسائل سے کام پڑتا تھا۔ اسی لیے ہر قسم کے مضامین لکھے گئے۔ تاہم انشاپردازی کا کوئی خاص اسٹائل متعین نہیں ہوا تھا۔ اس کے علاوہ جو کچھ تھا ابتدائی حالت میں تھا۔
1287ھ میں جس کو آج کم و بیش27 برس ہوئے سر سیّد نے قوم کی حالت کی اصلاح کے لیے ’’تہذیبُ الاخلاق‘‘ کا پرچہ نکالا، اور اُردو انشا پردازی کواُس رُتبے پر پہنچادیا جس کے آگے اب ایک قدم بھی بڑھنا ممکن نہیں۔ سر سیّدنے اردو میں جو باتیں پیدا کیں اُس کو وہ مختصراً ’’تہذیب الاخلاق‘‘ میں خود ایک مقام پر لکھتے ہیں ۔ اُن کی عبارت یہ ہے:
’’ جہاں تک ہم سے ہوسکا ہم نے اردو زبان کے علم وادب کی ترقی میں اپنے ان ناچیز پرچوں کے ذریعے سے کوشش کی۔ مضمون کے ادا کا ایک سیدھا اور صاف طریقہ اختیار کیا۔ رنگین عبارت سے ، جو تشبیہات اور استعاراتِ خیالی سے بھری ہوتی ہے اوردل پر اس کا کچھ اثر نہیں ہوتا، پرہیز کیا۔ اس میں کوشش کی کہ جو کچھ لُطف ہو، مضمون کے ادا میں ہو۔ جو اپنے دل میں ہو وہی دوسرے کے دل میں پڑے، تاکہ دل سے نکلے اور دل میں بیٹھے۔‘‘
اس آرٹیکل میں سر سیّد نے انشا پردازی کے اور بہت سے اصول بتائے ہیں جن کو اس موقع پر اختصار کی وجہ سے قلم انداز کرتے ہیں۔
سر سیّد کی انشاپردازی کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ ہر قسم کے مختلف مضامین پر کچھ نہ کچھ بلکہ بہت کچھ لکھا ہے اور جس مضمون کو لکھا ہے اس درجے پر پہنچادیا ہے کہ اس سے بڑھ کر ناممکن ہے۔ فارسی اور اردو میں بڑے بڑے شعرا اور نثّار گزرے ہیں لیکن ان میں ایک بھی ایسا نہ تھا جو تمام قسم کے مضامین کا حق ادا کرسکتا۔ فردوسیؔ بزم میں رہ جاتا ہے، سعدیؔ رزم کے مردِ میدان نہیں، نظامیؔ رزم وبزم دونوں کے استاد ہیں لیکن اخلاق کے کوچے سے آشنا نہیں، ظہوریؔ صرف مدحیہ نثر لکھ سکتا ہے، برخلاف اِس کے سر سیّد نے اخلاق ، معاشرت ، پالیٹکس، مناظرِ قدرت وغیرہ سب پر لکھا ہے اور جو کچھ لکھا ہے لا جواب لکھا ہے ۔مثال کے طور پر بعض مضامین کے جستہ جستہ فقرے نقل کرتے ہیں:
’’ دیکھ نادان! بے بس بچّہ گہوارے میں سوتا ہے۔اُس کی مصیبت زدہ ماں اپنے دھندے میں لگی ہوئی ہے۔ اور اُس کے گہوارے کی ڈوری بھی ہلاتی جاتی ہے۔ ہاتھ کام میں اور دل بچے میں ہے اور زبان سے اُس کو یوں لوری دیتی ہے؛ سورہ! میرے بچے! سورہ! اے اپنے باپ کی مورت! اور میرے دل کی ٹھنڈک ، سورہ! اے میرے دل کی کونپل، سورہ!تجھ پر کبھی خزاں نہ آئے، تیری ٹہنی میں کبھی کوئی خار نہ پھوٹے۔ کوئی کٹھن گھڑی تجھ کونہ آئے سورہ، میرے بچّے سورہ! میری آنکھوں کے نور، اور میرے دل کے سرور میرے بچے سورہ! تیرا مُکھڑاچاند سے بھی زیادہ روشن ہوگا تیری خصلت تیرے باپ سے بھی اچھی ہوگی۔ تیری شہرت، تیری لیاقت، تیری محبت جو تو ہم سے کرے گا ہمارے دل کوتسلی دے گی۔ سورہ، میرے بچے سورہ! سورہ، میرے بالے سورہ!‘‘
’’یہ اُمید کی خوشیاں ماں کو اُس وقت تھیں، جب کہ بچہ غوں غاں بھی نہیں کرسکتاتھا مگر جب وہ ذرا اور بڑا ہوا اور معصوم ہنسی سے ماں کے دل کو شاد کرنے لگا اور امّاں امّاں کہنا سیکھا، اس کی پیاری آواز، ادھورے لفظوں میں اُس کی ماں کے کان میں پہنچنے لگی، آنسوؤں سے اپنی ماں کی آتشِ محبت کو بھڑکانے کے قابل ہوا ۔ پھر مکتب سے اُس کو سروکار پڑا۔ رات کو ماں کے سامنے، دن کا پڑھا ہوا سبق غم زدہ دل سے سنانے لگا اور جب کہ وہ تاروں کی چھاؤں میں اُٹھ کر، منھ ہاتھ دھوکر، اپنے ماں باپ کے ساتھ صبح کی نماز میں کھڑا ہونے لگا اور اپنے بے گناہ دل،بے گناہ زبان سے ،بے ریا خیال سے خدا کا نام پکارنے لگا، تو امید کی خوشیاں اور کس قدر زیادہ ہوگئیں۔ آہ! ہماری پیاری امید تو ہی ہے جو مہد سے لحدتک ہمارے ساتھ ہے۔‘‘
’’وہ دلاور سپاہی لڑائی کے میدان میں کھڑا ہے۔ کوچ پر کوچ کرتے تھک گیا ہے۔لڑائی کے میدان میں جب کہ بہادروں کی صفیں کی صفیں چُپ چاپ کھڑی ہوتی ہیں، اور لڑائی کا میدان ایک سنسان کا عالم ہوتا ہے، دلوں میں ایک عجیب قسم کی خوف ملی ہوئی جُرأت ہوتی ہے اور جب کہ لڑائی کا وقت آتا ہے اور وہ آنکھ اُٹھا کر نہایت بہادری سے بالکل بے خوف ہوکر لڑائی کے میدان کودیکھتا ہے اور جب کہ بجلی سی چمکنے والی تلواریں اور سنگینیں اُس کی نظر کے سامنے ہوتی ہیں اور بادل کی سی کڑکنے والی اور آتشیں پہاڑ کی سی آگ برسانے والی تو پوں کی آواز سنتا ہے اور جب کہ اپنے ساتھی کو خون میں لتھڑا ہوا، زمین پر پڑا ہوا دیکھتا ہے تو اے بہادروں کی قوت بازو اور اے بہادروں کی ماں! تیرے ہی سبب سے فتح مندی کا خیال،اُس کے دل کوتقویت دیتا ہے۔اُس کا کان نقارے میں سے تیرے ہی نغمہ کی آواز سنتاہے۔‘‘
تم دیکھ سکتے ہو کہ ان چند سطروں میں کس طرح نیچر کی تصویر کھینچی ہے اور اس میں کس قدر درد واثر پیدا کیا ہے۔
پالیٹکس کا راستہ اس سے بالکل الگ ہے ۔پنجاب میں جب یونیورسٹی قائم ہورہی تھی، جس میں اور ینٹل تعلیم پر بہت زور دیا گیا تھا سر سیّد کو یہ خیال پیدا ہوا کہ اس سے پالیٹکس کی بنا پرہم کواعلیٰ تعلیم سے روکنا مقصود ہے ۔ اُس وقت سر سیّد نے پے درپے تین آرٹکل لکھے۔اُن تین آرٹکلوں نے یونیورسٹی کے بانیوں کو اس قدر گھبرادیا، کہ خاص ان آرٹکلوں کے جواب میں سیکڑوں مضامین لکھے گئے۔ اور اُن کا مجموعہ یک جا کرکے ایک مستقل کتاب تیار کی۔ افسوس ہے کہ اختصار کی وجہ سے ہم اُن آرٹکلوں کا کوئی حصّہ نقل نہیں کر سکتے۔
سر سیّدنے انشاپردازی کی ترقّی کے جو طریقے ایجاد کیے، ان میں سے ایک یہ تھا کہ بہت سے اعلیٰ درجے کے انگریزی مضامین کو اردو زبان کا قالب پہنایا لیکن ترجمے کے ذریعے سے نہیں، کیوںکہ یہ طریقہ اب تک بے سودثابت ہوا ہے ، بلکہ اس طرح کہ انگریزی کے خیالات اردو میں، اردو کی خصوصیات کے ساتھ ادا کیے۔ امید کی خوشی کا مضمون جس کے ہم نے بعض فقرات اوپر نقل کیے ، در اصل ایک انگریزی مضمون سے ماخوذ ہے ۔انگریزی میں اڈیسن اور اسٹیل بڑے مضمون نگار گزرے ہیں، سر سیّد نے ان کے متعدد مضامین کو اپنی زبان میں ادا کیا ہے۔
سر سیّد کی انشا پردازی کا بڑا کمال اس موقع پر معلوم ہوتا ہے جب وہ کسی علمی مسئلے پر بحث کرتے ہیں۔ اُردو زبان چونکہ کبھی علمی زبان کی حیثیت سے کام میں نہیں لائی گئی، اس میں علمی اصطلاحات ، علمی الفاظ اور علمی تلمیحات بہت کم ہیں، اس لیے اگر کسی علمی مسئلے کو اُردو میں لکھنا چاہو تو الفاظ مساعدت نہیں کرتے۔ لیکن سر سیّدنے مشکل سے مشکل مسائل کو اس وضاحت ، صفائی اور دل آویزی سے ادا کیا ہے کہ پڑھنے والا جانتا ہے کہ وہ کوئی دلچسپ قصہ پڑھ رہا ہے۔
تہذیب الاخلاق جب بند ہوا تو سر سیّدنے خاتمہ پر جو مضمون لکھا ہے اس کے ابتدائی فقرے یہ ہیں:
’’سوتوں کو جھنجوڑتے ہیں کہ جاگ اُٹھیں۔ اگر اُٹھ کھڑے ہوئے تو مطلب پورا ہوگیا اور اگر نیند میں اُٹھانے سے کچھ بڑبڑائے، کچھ جھنجھلائے ادھر ہاتھ جھٹک دیا، اُدھرپیر جھٹک دیا اور اینڈے پڑے سوتے رہے، تو بھی توقع ہوئی کہ تھوڑی دیر بعد جاگ اُٹھیں گے ۔ شاید ہمارے بھائیوں کی اس آخر درجے تک نوبت آگئی ہے۔ اگر یہ خیال ٹھیک ہو تو ہم کو بھی زیادہ نہ چھیڑنا چاہیے۔ بچّے اُٹھاتے وقت کہہ اُٹھتے ہیں کہ ہم کو اُٹھائے جاؤگے تو ہم اور پڑے رہیں گے ،تم ٹھہر جاؤ، ہم آپ ہی اُٹھ کھڑے ہوں گے۔ بچہ کڑوی دوا پیتے وقت منھ بسور کر ماں سے کہتا ہے کہ بی! یہ مت کہے جاؤ کہ شاباش بیٹا! پی لے ،پی لے،تم چپ رہو، میں آپ ہی پی لوں گا۔لو بھائیو! اب ہم بھی نہیں کہتے کہ اُٹھو پی لو، پی لو۔‘‘
حقیت یہ ہے کہ سر سیّدنے اردو انشا پر دازی پر جو اثر ڈالا ہے، اس کی تفصیل کے لیے دوچار صفحے کافی نہیں ہوسکتے۔ یہ کام در حقیقت مولانا حالیؔ کا ہے۔ وہ لکھیں گے اور خوب لکھیں گے، بلکہ یہ کہنا چاہیے لکھ چکے ہیں اور خوب لکھا ہوگا۔ میں کالج کی طرف سے مجبور کیا گیا تھا کہ اس وقت جب کہ تمام ملک میں سر سیّد کا آوازۂ ماتم گونج رہا ہے اور ہرشخص ان کے کارناموں کے سننے کا شائق ہے، کچھ نہ کچھ مختصر طور پر لکھنا چاہیے۔ میں نے اس کی تعمیل کی۔ ورنہ میں مولانا حالیؔ کی مقبوضہ سر زمین میں مداخلت کا کوئی حق نہیں رکھتا۔
مشق
لفظ ومعنی
رِفارمیشن(Reformation) : اصلاح
لِٹریچر
(Literature) : ادب
وسعت : پھیلاؤ، تفصیل
جامعیت : مکمّل،ہمہ جہتی
آثار : نشانیاں، باقیات
مُدعیانہ : دعویٰ کرتے ہوئے
فیض پذیری : فیض قبول کرنا
اِقتضا : تقاضا
مبسوط : تفصیلی،ضخیم
آورد : لانا، یہ لفظ آمد کے متضاد کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ لکھتے ہوئے کسی چیز کو بناوٹ کے طور پر لانا آورد کہلاتا ہے۔
اِبا کرنا : بچنا، چھوڑ دینا
دل دادہ : شوقین
مکاتبات : خطوط، مکاتب کی جمع
بے کسی : مجبوری
مُجدّد : نئے راستے دکھانے والا
تمدّنی : تہذیبی ،سماجی
مُستفید : فائدہ اُٹھانا
آرٹکل( Article) : مضمون
قلم اندازکرنا : چھوڑ دینا
اِسٹائل(Style) : انداز، طریقہ، طرز
نثّار : نثر لکھنے والا
بزم : محفل
رزم : جنگ،لڑائی
جستہ جستہ : تھوڑا تھوڑا، کچھ کچھ
قالب : جسم، بدن
مُساعدت : ساتھ دینا، مدد کرنا
خصلت : مزاج، عادت
تقویت : قوت ،مضبوطی
پالیٹکس(Politics) : سیاست
اورینٹل(Oriental) : دیسی
د ل آویزی : دل لبھانا، دل پسندی
مقبوضہ : قبضہ کی ہوئی
غور کرنے کی بات
- ’’ذرّے سے آفتاب بن جانے‘‘ کا مطلب ہے کسی معمولی چیز کو بہت ترقی حاصل ہونا۔
- ’’مخصوص دائرۂ مضمون کے حکمراں‘‘ ہونے کا مطلب ہے: لکھنے کے مخصوص میدان کے ماہر۔
- شبلی ؔ نے میرامّن کی چہار درویش کا حوالہ دیا ہے۔ حالانکہ اس کتاب کا نام ’’باغ و بہار‘‘ ہے جو فارسی کے مشہور قصّے ’’قصّۂ چہار درویش‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ اس لیے اس نام سے بھی مشہور ہے۔
- شبلی ؔ اِس مضمون میں جس بات کی طرف خاص طور سے ہماری تو جہ مبذول کرانا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ ایک فرد جب پختہ ارادے اور خلوصِ نیّت سے کچھ کرنا چاہے تو پھر اُس کی راہ میں کوئی مشکل حائل نہیں ہوسکتی۔ سر سیّد نے جب اُردو زبان وادب کی اصلاح کا بیڑا اُٹھایا اور اُسے سادگی کے ساتھ ساتھ وسعت وجامعیّت عطا کرنے کا کام شروع کیا تو دھیرے دھیرے اُردو کے شیدائیوں کا ایک ایسا گروہ اُن کے گِرد جمع ہوگیا جس نے اُردو ادب کے نئے علوم واسالیب اور اصناف کا وہ خزانہ عطا کیا جس کی مثال اُس سے پہلے نہیں ملتی۔
- اس مضمون میں کئی فارسی شاعروں کے نام آئے ہیں جیسے بیدلؔ ،ظہوریؔ،فردوسیؔ، سعدی ؔاور نظامیؔ وغیرہ۔
- مضمون کے آخرمیں شبلی ؔنے لکھا ہے کہ مولانا حالیؔ سرسیّد کے بہت قریبی ساتھی تھے اس لیے اُن پر مضمون لکھنے کا حق انھیں کا ہے۔ شبلی ؔ نے اس موضوع کو حالیؔ کی مقبوضہ سر زمین کہہ کر، شوخ انداز اختیار کیا ہے۔
- سر سیّد مرحوم نے کسی غیر ملکی زبان کے کسی ادبی تجربے کو اُردو میں منتقل کرنے کے لیے انگریزی کا براہِ راست ترجمہ کرنے کے بجائے اُن خیالات کو اپنی زبان کے مطابق منتقل کیا ہے۔
سوالات
1۔ شبلی ؔنے سرسیّد کی1847 میں لکھی جس کتاب کا ذکر کیا ہے اُس کا نام اور موضوع لکھیے۔
2۔ سرسیّد کی انشا پردازی کا کیا کمال بتایا گیا ہے؟
3۔ انگریزی مضامین کواُردو میں لکھنے کے لیے سرسیّد نے کیا طریقہ اختیار کیا؟
4۔ حالیؔ کی مقبوضہ سرزمین سے کیا مراد ہے؟
عملی کام
- انگریزی اخبار کی کسی رپورٹ کا ایسا ہی ترجمہ کیجیے جیسا اس سبق میں تجویز کیا گیا ہے۔