Skip to content
Ghulistan-e-Adab Chapter-9

کہاوت


کسی بھی زبان کے ادب میں ضرب الامثال یا کہاوتوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ ان کہاوتوں کا تعلق ہماری زندگی کے روز مرّہ واقعات سے ہوتا ہے۔ یہ کہاوتیں یا ضرب الامثال علم ودانش کے خزانے ہیں۔ کہاوتیں کہاں سے آتی ہیں، انھیں کون تصنیف کرتا ہے، یہ بتانا مشکل ہے۔ کوئی فرد یا ادارہ کہاوتیں تصنیف نہیں کرتا۔ یہ کسی ایک سماجی یا تہذیبی واقعے کے زیرِ اثر خود بہ خود وجود میں آجاتی ہیں اور پھر ایک نسل سے دوسری نسل اور بعض اوقات ایک ملک سے دوسرے ملک تک پہنچ جاتی ہیں۔
کہاوتوں کا تعلق عوام سے ہے۔ اس لیے ضروری نہیں کہ ان کا استعمال کرنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں۔ اَن پڑھ، شہری، دیہاتی، گھروں میں رہنے والی عورتیں، ملازمت پیشہ لوگ سبھی برجستہ طور پر کہاوتوں کا استعمال کرتے ہیں۔ کہاوتوں کے بارے میں ایک مصنّف نے لکھا ہے کہ:
’’کہاوت ایسے اقوال اور جملوں کو کہنا چاہیے جو کسی کتاب یا رسالے سے نہ لیے گئے ہوں۔ چوں کہ کہاوتوں کی تخلیق اور اُن کی نشوونما عام آدمی کے ذریعے ہوتی ہے، اس لیے عام آدمی انھیں برجستہ طور پر استعمال کرتے ہیں‘‘۔

شان الحق حقّی

(2005 — 1917)

شان الحق حقّی کا تعلق دہلی کے ایک قدیم اور ممتاز گھرانے سے تھا۔ اس خاندان نے ملک میں علم وفضل کی روشنی پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ حقّی کے جدِّ اعلیٰ شیخ عبدالحق محدّث دہلوی فارسی اور عربی کی تقریباً سولہ کتابوں کے مصنف تھے۔ اُن کے بیٹے مولانا نور الحق بھی اعلیٰ پایے کے مصنف تھے۔ مرزا غالبؔ کے ایک ممتاز شاگرد سیف الحق ادیب کا بھی اسی خاندان سے تعلق تھا۔ شان الحق حقّی کے والد بھی بڑے عالم تھے۔ قدیم اور جدید علوم پر اُن کی گہری نظر تھی۔ وہ شاعری کا بھی بہت اچھا مذاق رکھتے تھے۔ اُنھوں نے ’دیوانِ حافظ‘ کا اُردو میں ترجمہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ اُن کی دوکتابوں ’’افسانۂ پدمنی‘‘ اور ’’ مطالعۂ حافظ‘‘ کو اپنے زمانے میں بہت شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔
 فارسی اور اُردو پراُن کی گہری نظر تھی۔ اُنھیں ادب کے ساتھ ساتھ زبان سے بھی بہت دلچسپی تھی۔ وہ ادب اور زبان دونوں کا بہت ستھرا مذاق رکھتے تھے۔
حقّی صاحب کی ابتدائی تعلیم دہلی میں ہوئی۔ اعلیٰ تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہوئی۔ اُنھوں نے مختلف اصنافِ ادب میں کارہائے نمایاں انجام دیے۔ شاعری، افسانہ، ڈراما، تنقید، تحقیق، ترجمہ نگاری اور لغت سازی اُن کی دلچسپی کے خاص میدان ہیں۔ انھوں نے بچو ّں کے لیے بھی بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ سنسکرت اور انگریزی سے ان کے بعض ترجموں کو بہت شہرت ملی۔ تھیسارس (مترادف الفاظ کی لغت) اور لغات کی ترتیب وتدوین کے میدان میںحقّی صاحب کا مرتبہ بہت بلند ہے۔ ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ’’ نکتۂ راز‘‘ اردو شعر وادب کے کئی نامعلوم گوشوں کا احاطہ کرتا ہے۔ حقی صاحب اردو کے ممتاز عالموں اور زبان دانوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

ہماری کہاوتیں


یوں تو سارے جان دار اپنی بولیاں بولتے ہیں، لیکن با معنی لفظوں میں بات کرنا انسان ہی کا حصہ ہے۔ اسی لیے انسان کو حیوانِ ناطق کہا جاتا ہے۔ نطق کے معنی بولنا اور ناطق بولنے والا۔ انسان لفظوں اور جملوں سے بھی کام لیتا ہے۔ اشاروں کنایوں کا سہارا بھی لیتا ہے۔ اُنگلی ، گردن یا سر کی جنبش، آنکھیں ، تیور سبھی مطلب ادا کرنے میں کام آتے ہیں۔ آواز کا اتار چڑھاؤ بھی معنی رکھتا ہے۔ غرض بات کو ادا کرنے کے بہت سے ڈَھب ہیں۔ جسمانی حرکت، اشارے، اچھل کود وغیرہ تو حیوان بھی کرتے ہیں، لفظوں میں بات کرنا آدمی ہی سے مخصوص ہے۔ بات کو موثر طریقے سے ادا کرنے کا ایک طریقہ کہاوت یا مَثل کا استعمال بھی ہے جسے ضرب المثل کہتے ہیں۔
ان مثلوں یا کہاوتوں میں بڑے گُر کی باتیں، زندگی کے تجربات کا نچوڑ اور ایک طرح کی شاعری بھی ملتی ہے یعنی نازک یا لطیف بات۔
مثل کی جمع امثلہ بھی آتی ہے۔ جیسے سلاح (ہتھیار) کی جمع اسلحہ۔ اب اردو امثلہ کی کچھ مثالیں پڑھیے:
آنکھوں پر پلکوں کا بوجھ :  جب کوئی احسان یا بھلائی یا سلوک کا شکریہ ادا کرے یا شرمندگی محسوس کرے تو اس کا دل رکھنے کے لیے کہتے ہیں جیسے تم تو ہمارے اپنے ہو۔ ہمارے ساتھ رہے تو کیا ہوا۔ آنکھوں پر بھی کہیں پلکوں کا بوجھ ہوتا ہے، یا آنکھوں پر پلکوں کا کیا بوجھ۔
آپ کاج مہا کاج :   اپنا کام اپنے آپ ہی کرنا چاہیے۔ دوسرے کا محتاج نہیں ہونا چاہیے۔ نصیحت کے طور پر کہتے ہیں یا اپنا کام کرتے وقت دوسرے کو زحمت سے بچانے کے لیے۔ مہا کے معنی بڑا جیسے مہاراج، مہاپاپ۔
آگ پانی کا کیا میل :  دو مختلف مزاج کے لوگ یا دو چیزیں جو ایک دوسرے کی ضد ہوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتیں۔ یوں بھی کہتے ہیں کہ آگ اور پھونس کا کیا میل۔ ایک جگہ آگ کے پانی سے بجھ جانے کا ذکر ہے۔ دوسری جگہ پھونس کے آگ سے بھسم ہوجانے کا۔
تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی:  جھگڑے کی تہہ میں دیکھیے تو اکثر دونوں فریقوں کا کچھ نہ کچھ قصور نکلے گا۔ اگر کسی کی وقتی زیادتی کا جواب زیادتی سے نہ دیا جائے تو جھگڑا نہیں ہوسکتا۔
بھینس کے آگے بین بجانا :  ناقدروں سے قدردانی کی توقع کرنا۔ نہ کہ سچ مچ بھینس کے آگے باجالے کر بیٹھ جانا۔
پانچوں انگلیاں ایک سی نہیں ہوتیں:   ہر آدمی کی طبیعت، مذاق، مزاج، صلاحیت دوسرے سے قدرتی طور پر مختلف ہوتے ہیں۔ اس کا لحاظ رکھنا چاہیے یا کسی ایک کی بُرائی یا کسی کو دیکھ کر پورے گروہ یا قوم کو ویسا ہی نہیں سمجھ لینا چاہیے۔ یوں بھی کہتے ہیں کہ آدمی آدمی انتر کوئی ہیرا کوئی کنکر۔ انتر کے معنی مختلف کے ہیں۔
ٹھنڈا لوہا گرم لوہے کو کاٹتا ہے:   لوہے کو ڈھالنے کے لیے پہلے اسے تَپا کر پگھلایا یا نرم کیا جاتا ہے۔ پھر ٹھنڈے اوزاروں کے ذریعے سے کاٹا یا ڈھالا جاتا ہے۔ مرادیہ ہے کہ نرا جوشیلا پن نہیں بلکہ ٹھنڈے دل سے سوچی ہوئی تدبیر کام آتی ہے۔ بعض لوگ ناحق طیش میں آکر نقصان اٹھاجاتے ہیں۔
کیا مرغانہ ہوگا تو سویرا بھی نہ ہوگا:   کسی بات کو ضرورت سے زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ مرغا صبح کو اذان دیتا ہے تو اس کو صبح کے ہونے کا سبب نہیں کہہ سکتے۔
چنے چابو یا نفیری بجالو :  ایک وقت میں ایک کام ہی اچھی طرح انجام دیا جاسکتا ہے۔
سوتا سوتے کو نہیں جگا سکتا:   جو خود غافل یا بھٹکا ہوا ہو وہ دوسرے کو نہیں سُدھار سکتا۔
شیر کی پیٹھ پر کاٹھی کسنا:  سرکش آدمی کورام کرنے کی کوشش کرنا جس کا قابو میں آنامحال ہو۔
لکھتم کے آگے بکتم کیا چیز ہے:  زبانی بات یا دعویٰ لکھی ہوئی بات کے سامنے اہمیت نہیں رکھتا۔ قرآن شریف میں بھی یہ ہدایات کی گئی ہیں کہ آپس میں کوئی معاہدہ کرو تو اسے لکھ لو اور جو لکھنا نہ جانتے ہوں وہ کسی سے لکھوالیں اور گواہ بنالیں تاکہ اختلاف یا جھگڑے کا امکان نہ رہے۔
سفیدی پر سیاہی چڑھنا :    بات پکّی ہوجانا۔ کسی بات کا تحریر میں آجانا۔ بہادر شاہ ظفرؔ کا شعر ہے:
کھلے گا خط کے لکھنے سے مرا حال اور بھیدی پر
سیاہی چڑھ گئی اے نامہ بر اب تو سفیدی پر
جب زبان زندگی میں ہر طرف سب کاموں کے لیے استعمال ہو تو خوب پھلتی پھولتی ہے۔ اپنی قوم کی ذہنی صلاحیتوں اور تجربات سے پورا فائدہ اٹھاتی اور ان کی عکاسی کرتی ہے ، ورنہ ٹھٹھر کر رہ جاتی ہے۔ ہماری زبان کے الفاظ کا سرمایہ ، محاورات اور کہاوتیں اس زمانے کی یادگار ہیں جب کہ یہ آزاد تھی۔ اس کے پر بند ھے ہوئے نہیں تھے، جیسے کہ اب ہم نے اپنے اوپر انگریزی زبان کو مسلّط کرلیا ہے۔ انگریزی بڑی اہم زبان ہے۔ ضرور اچھی طرح سیکھنی چاہیے، لیکن یہ ہماری زبان نہیں بن سکتی۔ دیکھیے سر سیّد احمد خاں نے جو ہماری قوم میں جدید تعلیمی تحریک کے بانی تھے، اب سے سوبرس پہلے کیا سچّی بات کہی تھی:
’’انگریزی قو م نے جو اس قدر ترقی کی ہے وہ صرف اس بات کا نتیجہ ہے کہ تمام علوم وفنون اسی زبان میں ہیں جووہ لوگ بولتے ہیں۔ اگر انگریزی زبان میں تمام علوم وفنون نہ ہوتے بلکہ لیٹن یا گریک میں یا فارسی عربی میں ہوتے تو تمام انگریز ایسے ہی جاہل اور بے علم اور ناخواندہ ہوتے جیسے کہ بد نصیبی سے ہم لوگ ہندوستانی ہیں اور آئندہ کو بھی جب تک کہ تمام علوم وفنون ہماری زبان میں نہ ہوں گے ہم جاہل اور نالائق ہی رہیں گے اور کبھی عام تربیت نہ ہوگی۔‘‘ (تہذیب الاخلاق)

مشق

لفظ ومعنی

ناطق                        :          بولنے والا    
کنایہ (کنایوں)              :         پوشیدہ بات ، جب ہم کسی بات کو کھل کر نہیں کہنا چاہتے تو اصل                                         لفظ کی جگہ اس کے لیے کنایوں کا استعمال کرتے ہیں۔
جنبش                       :         حرکت
ڈَھب                       :          طریقہ
لطیف                       :          نرم، پاکیزہ
طیش                        :          غصّہ
سرکش                      :         مغرور،نافرمان
معاہدہ                       :         سمجھوتہ
نامہ بر                      :         خط پہنچانے والا، ڈاکیا
مسلّط                        :         حاوی، چھایا ہوا
رام کرنا                     :         فرماں برداربنانا
ناخواندہ                      :          اَن پڑھ

غور کرنے کی بات

  • بولنے کے لیے ہم لفظوں اور جملوں سے تو کام لیتے ہی ہیں۔ اس کے علاوہ اشاروں اور کنایوں کا سہارا بھی لیتے ہیں۔ جسم کے مختلف حصّوں کی جنبش اور تیور بھی مطلب ادا کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ بات میں اثر پیدا کرنے کے لیے کہاوتیں اور مثلیں بھی ہمارا بہت ساتھ دیتی ہیں۔
  • زبان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی زبان میں اتنی طاقت پیدا کریں کہ زیادہ  تر علوم وفنون تک دوسری زبانوں کے ذریعے پہنچنے کے بجائے اپنی زبان کے ذریعے پہنچیں۔

سوالات

1.    کہاوت یا مثل کسے کہتے ہیں؟
2.   ’’آپ کاج مہا کاج‘‘ اس کہاوت کا مطلب اپنے لفظوں میں لکھیے۔
3.    زبان کس طرح پھلتی پھولتی اور پھیلتی ہے؟
4    کہاوتیں اور محاورات کس زمانے کی یاد گار ہیں؟
5.   ’’پانچوں انگلیاں ایک سی نہیںہوتیں‘‘ اس کہاوت کا مطلب لکھیے۔

عملی کام

  • ’’بھینس کے آگے بین بجانا‘‘ اس کہاوت کے مطابق اپنی زندگی کا کوئی واقعہ لکھیے۔