Skip to content
Ghulistan-e-Adab Chapter-10

حصہ نظم 

غزل

لفظ’’غزل‘‘ کے کئی معنیٰ ہیں: محبوب سے باتیں کرنا، عورتوں کی باتیں کرنا، عورتوں سے باتیں کرنا۔ اس سے معلوم ہوا کہ بنیادی طور پر غزل میں عشقیہ باتیں بیان کی جاتی ہیں لیکن آہستہ آہستہ غزل میں اور طرح کے مضامین بھی داخل ہوتے گئے۔ آج یہ کہا جاسکتا ہے کہ غزل میں تقریباًہر طرح کی باتیں بیان ہوسکتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ غزل آج بھی اُردو کی سب سے زیادہ مقبول صنف سخن ہے۔
کہا جاتاہے کہ غزل کی ابتدا قصیدے سے ہوئی۔ قدیم عربی شاعری میں قصیدے کے شروع میں کچھ اشعار معشوق کی یاد میں یا موسم بہار کی آمد وغیرہ پر لکھے جاتے تھے۔ان اشعار کو ’’تشبیب‘‘ کہتے ہیں۔ آہستہ آہستہ تشبیب کے مضامین پر مبنی اشعار قصیدے کے علاوہ آزادانہ بھی کہے جانے لگے اور اس طرح غزل وجود میں آئی۔
غزل دنیا کی تمام شاعری میں لاثانی اور سب سے زیادہ لچک دار صنف سخن ہے۔ دنیا کی شاعری میں کسی ایسی صنف کا وجود نہیں جس میں غزل کی مانند بحر اور ردیف وقافیہ کی وحدت ہو لیکن ہر شعر اپنا الگ وجود بھی رکھتا ہو۔
جیسا کہ ہم اوپر پڑھ چکے ہیں ، غزل کی ابتدا عربی شاعری کے اثر سے ہوئی لیکن فارسی شاعروں نے غزل کو واقعی غزل بنایا۔ گیارھویں صدی کے آتے آتے غزل ایک مشہور اور مضبوط صنف سخن بن گئی۔ فارسی کے ذریعے یہ کئی زبانوں تک پہنچی جن میں ترکی اور اُردو سب سے زیادہ اہم ہیں۔ انیسویں صدی کے بعض جرمن شاعروں نے بھی اسے قبول کیا اور آج کل ہندوستان کی کئی زبانوں میں غزل لکھی جارہی ہے۔
جس طرح غزل میں مضامین کی قید نہیں، اسی طرح اشعار کی تعداد بھی مقرر نہیں ہے۔ عام طور پر پانچ سے انیس اشعار تک کی غزلیں ہوتی ہیں لیکن کئی غزلوں میں انیس سے زیادہ اشعار بھی ملتے ہیں۔ کبھی کبھی ایک ہی بحر اور ردیف و قافیہ میں شاعر ایک سے زیادہ غزلیں کہہ دیتا ہے۔ اس کو ’’دوغزلہ‘‘،’’سہ غزلہ‘‘اور ’’چارغزلہ‘‘ وغیرہ کہا جاتا ہے۔
غزل کا پہلا شعر ’’مطلع‘‘ کہلاتا ہے اس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں۔ مطلعے کے بعد بھی مطلع ہوسکتا ہے۔ اس طرح کے مطلعے کو ’’مطلع ثانی‘‘ اور اگر اس کے بعد بھی مطلع ہو تو اس کو ’’مطلع ثالث‘‘ کہتے ہیں۔ جس طرح غزل کے اشعارکی تعداد مقرر نہیں ہے، اسی طرح مطلعوں کی تعداد بھی مقرر نہیں ہے۔مطلعے کے فوراً بعد آنے والے شعر کو ’’حسن مطلع‘‘ یا ’’زیب مطلع‘‘ کہتے ہیں۔ غزل کے آخری شعر میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے، اس شعر کو’’مقطع‘‘ کہتے ہیں۔ جس غزل میں ردیف نہ ہواور صرف قافیے ہوں، اس کو ’’غیرمردّف‘‘ کہتے ہیں۔ وہ بحر اور ردیف و قافیہ جس کے لحاظ سے غزل کہی جاتی ہے، اسے غزل کی ’’زمین‘‘ کہتے ہیں۔
اُردو غزل کے نمائندہ شاعروں میں ولیؔ، سراجؔ اورنگ آبادی، دردؔ ، سوداؔ، میرؔ، مصحفیؔ، ناسخؔ، آتشؔ ، غالبؔ، ذوقؔ، مومنؔ،بہادر شاہ ظفرؔ، داغؔ، حسرتؔ، اصغرؔ،جگرؔ، فانیؔ، فراقؔ، یگانہؔ، فیضؔ، ناصرؔ کاظمی اور خلیل الرحمن اعظمی وغیرہ شامل ہیں۔


ولیؔ دکنی 

(1707-1667) 

ولی کا وطن اورنگ آباد تھا۔ان کے زمانے میں گجرات دکن کے علاقے میں شامل تھا اسی لیے وہ ولی دکنی کے نام سے مشہور ہوئے۔ولی ایک معزز صوفی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ مشہور صوفی شاہ سعداللہ گلشن کے مرید ہوئے۔ انھوں نے بیرون گجرات کے کئی سفر کیے جس کی وجہ سے ان کی شاعری کی شہرت ملک کے مختلف حصوںمیں پھیل گئی۔ وہ دوبار دہلی بھی آئے، دوسری بار میں اپنا اُردو دیوان بھی ساتھ لائے۔
 ولی نے غزل میں تصوف کے موضوعات اور عشقیہ مضامین کو نہایت خوب صورتی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اُن کی زبان قدیم اُردو (دکنی) ہوتے ہوئے بھی مشکل نہیں معلوم ہوتی بلکہ اس کو دکنی اور دہلوی اُردو کے درمیانی رابطے کی زبان کہا جاسکتا ہے۔
ولی سے پہلے دکن میں مثنوی کی صنف زیادہ مضبوط تھی۔ ولی نے غزل کو اولیت دی اور اس طرح دکن کے شعری ادب میںغزل کو ایک ممتاز درجہ دیا۔ یوں تو اُن سے پہلے بھی دکن م میں زلیں کہی جاتی رہیں لیکن انھوں نے غزل کوجس خوبصورتی اور جس طرزاظہار سے آشنا کیا وہ انھیں کا حصہ ہے۔

Ghulistan-e-Adab Chapter-10


 غزل



شراب شوق سیں سرشار ہیں ہم 
کبھو بے خود، کبھو ہشیار ہیں ہم 
دورنگی سوں تری اے سرو رعنا
کبھو راضی کبھو بیزار ہیں ہم
ترے تسخیر کرنے میں سر یجن
کبھو ناداں، کبھو عیار ہیں ہم
صنم! تیرے نین کی آرزو میں
کبھو سالم کبھو بیمار ہیں ہم
ولیؔ وصل و جدائی سوں صنم کی 
کبھو صحرا، کبھو گلزار ہیں ہم

مشق

لفظ ومعنی

سیں                                :         سے
سرشار                               :        مست
بے خود                             :       بے خبر، مدہوش
دورنگی                               :       دوروئی،مکاری
سوں                                :       سے
سرورعنا                             :      سروکاخوب صورت درخت ،مراد خوش قامت معشوق
کبھو                                 :      کبھی
تسخیر                                :     قابو میں کرنا، رام کرنا
سریجن                               :      معشوق
عیار                                 :      چالاک،مکار
سالم                                 :      تندرست
صنم                                  :     بت، معشوق
وصل                                :     ملاقات
صحرا                                 :      ریگستان، بیابان،جنگل
گلزار                                 :      چمن، باغ

غور کرنے کی بات

  • دکنی کوئی الگ زبان نہیں بلکہ یہ اُردو کی ہی ایک پرانی شکل ہے ۔ بہت پہلے شمالی ہند میں بھی اس سے ملتی جلتی زبان بولی جاتی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ زبان میں تبدیلی آتی گئی اور آج دکنی اور شمالی ہند کی اُردو میں اچھا خاصا فرق ہے۔ ولیؔ کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے قدیم اُردو یعنی دکنی اور میرؔوسوداؔ کی اُردو یعنی دہلوی اُردو کے درمیان ایک خوبصورت ربط پیدا کیا۔ ولیؔ کی زبان میں ایک طرح کی مٹھاس پائی جاتی ہے جو ہندی اور فارسی کے الفاظ تناسب اور توازن کے ساتھ استعمال کرنے سے پیدا ہوئی ہے۔ انھوں نے ٹھیٹ دکنی زبان کا استعمال کم کیا ہے۔
  • غزل کے دوسرے شعر میں دورنگی کی رعایت سے معشوق کو سرو رعنا کہا گیا ہے رعنا ایک پھول کا نام ہے جس میںدو رنگ ہوتے ہیں۔ وہ اندر سے سرخ اور باہر سے زرد ہوتا ہے۔

سوالات

1۔    دکنی، اُردو زبان کی ہی ایک شکل ہے یا کوئی دوسری زبان ہے؟
2۔   دکن میںغزل سے پہلے کس صنف سخن کوزیادہ مقبولیت حاصل تھی؟
3۔   بے خود، ہشیار، راضی، بیزار،نادان اورعیار جیسے الفاظ کے استعمال سے اشعار میں کون سی صنعت پیدا         کی گئی ہے؟

عملی کام

  • اس غزل میں جو متضاد الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان کی فہرست بنائیے۔
  • غزل کے مقطع کا مفہوم اپنے الفاظ میں لکھیے۔