غزل
کیا مج عشق نے ظالم کوں آب آہستہ آہستہ
کہ آتش گل کوں کرتی ہے گلاب آہستہ آہستہ
وفا داری نے دلبر کی بجھایا آتش غم کوں
کہ گرمی دفع کرتا ہے گلاب آہستہ آہستہ
مرے دل کوں کیا بے خود تری انکھیاں نے آخر کوں
کہ جیوں بے ہوش کرتی ہے شراب آہستہ آہستہ
ادا و ناز سوں آتا ہے وہ روشن جبیں گھر سوں
کہ جیوں مشرق سوں نکلے آفتاب آہستہ آہستہ
ولیؔ مُج دل میں آتا ہے خیال یار بے پروا
کہ جیوں انکھیاں منیں آتا ہے خواب آہستہ آہستہ
مشق
لفظ ومعنی
دفع کرنا : دور کرنا
ادا : انداز، اشارہ
ناز : نخرہ، غمزہ
روشن جبیں : چمکتی ہوئی پیشانی والا، مراد معشوق
مج دل میں : میرے دل میں
جیوں : جیسے
منیں : میں
غور کرنے کی بات
- اس غزل کا ایک امتیاز یہ ہے کہ پوری غزل کو پڑھ کر غم یا مایوسی کی کیفیت پیدا نہیںہوتی بلکہ شگفتگی کا احساس ہوتا ہے۔
- اس غزل کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ اس کے ہر شعر کا مصرع ثانی لفظ ’’کہ‘‘ سے شروع ہوتا ہے جو کہیں استعارہ اور کہیں تشبیہہ کی بنیاد بنتا ہے۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ولی کی شاعری (غزل) میں حسن اور لطف کا ایک بڑا ذریعہ ان کی تشبیہات ہیں۔
سوالات
1۔ مطلعے میں ’’ظالم‘‘ کس کے لیے استعمال کیا گیا ہے؟
2۔ غزل کے تیسرے شعر میں ’’انکھیاں‘‘ اور ’’شراب‘‘ میں شاعر نے کیا تعلق پیدا کیا ہے؟
3۔ مقطعے کے دوسرے مصرع میں لفظ ’’میں‘‘ کی جگہ ’’منیں‘‘ کیوں استعمال کیا گیا ہے؟
عملی کام
- مطلعے میں آتش، آب،گل اور گلاب کے باہمی تعلق پر اظہار خیال کیجیے۔
- مقطعے میں ’’خیال یار بے پروا‘‘ کی ترکیب تین الفاظ پر مشتمل ہے۔ اسی طرح کیدو تراکیب بنائیے۔