خواجہ میر دردؔ
(1785-1721)
خواجہ میر نام اور درد تخلص۔اُن کے اجداد بخارا سے آکر دہلی میں آباد ہوئے۔ خواجہ بہاء الدین نقشبندی سے نسبی تعلق کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ تصوف انھیں ورثے میں ملا۔ درد طبعاً بہت سادہ مزاج او رقناعت پسند تھے۔ دلّی کی تباہی کے دنوں میں بھی وہ ترک وطن پر آمادہ نہ ہوئے جب کہ اس وقت کے سیاسی اور سماجی حالات کی وجہ سے شعرا کی اکثریت دوسرے شہروں کا رخ کررہی تھی۔ ان کے کلام میں تصوف کا رنگ نمایاں ہے۔ وہ زندگی کے پیچیدہ معاملات اور نادر خیالات کو کا میابی کے ساتھ ادا کرنے پر قادر تھے۔ شعری صنعتوں کے غیر ضروری استعمال سے پرہیز کرتے تھے لیکن استعارات وتشبیہات کے برمحل استعمال سے شعرکے حسن اور اس کی معنویت میں اضافہ کرنے کا فن ان کوخوب آتا تھا۔ ان کے کلام میں خیالات کی پاگیزگی اوربلندی،زبان کی سادگی، الفاظ کی موزونیت اور بندشوں کی چستی کا بہ طورخاص ذکر کیا جاتاہے۔دردنے چھوٹی بحروں میں بہت رواںاور پُر اثر غزلیں کہی ہیں۔
غزل
ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے
میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
وحدت میں تیری حرف دوئی کا نہ آسکے
آئینہ کیا مجال تجھے منھ دکھا سکے
قاصد! نہیں یہ کام ترا، اپنی راہ لے
اُس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے
یارب! یہ کیا طلسم ہے، ادراک و فہم یاں
دوڑے ہزار آپ سے باہر نہ جاسکے
مست شراب عشق وہ بے خود ہے جس کو حشر
اے دردؔ! چاہے لائے بہ خود پھر نہ لا سکے
مشق
لفظ ومعنی
ارض وسما : زمین اور آسمان
وحدت : ایک ہونا
دوئی : دو سمجھنا، غیریت
قاصد : پیغام لانے والا، ایلچی
طلسم : جادو
ادراک و فہم : عقل اورسمجھ، شعور
مست شراب عشق : محبت کے نشے میں چور
بے خود : اپنے آپ سے بے خبر، مدہوش
غور کرنے کی بات
- خواجہ میر درد کو تصوف کا اہم شاعر کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری کا بڑا حصہ عشق حقیقی کے عناصر سے لبریز ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ عشق مجازی کی جھلک بھی ان کے کلام میں دیکھی جاسکتی ہے۔ خدا کی محبت کو عشق حقیقی اور دنیا والوں سے عشق کو عشق مجازی کہا جاتا ہے۔
- مطلعے میں عشق حقیقی کی عظمت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ خدا سے عشق کرنے والا اس قدر وسیع القلب ہوتا ہے کہ زمین وآسمان کی وسعتیں بھی اس کے مقابلے میں ہیچ نظر آتی ہیں۔
سوالات
1۔ درد کے دلّی چھوڑ کر نہ جانے کا ذکر کیوں کیا جاتا ہے؟
2۔ مطلعے میں لفظ ’’تری‘‘ کس کے لیے استعمال ہوا ہے؟
3۔ دوسرے شعر میں ’’وحدت‘‘ اور ’’دوئی‘‘ نیز ’’آئینہ‘‘ اور ’’ منھ دکھا سکے‘‘ کے لفظوں میں کیا تعلق ہے؟
4۔ ’’مست شراب عشق‘‘ کی ترکیب میں زیر کا جو استعمال ہوا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟
عملی کام
- چوتھے شعر میں دردؔ نے کہا کہ ’’دوڑے ہزار آپ سے باہر نہ جاسکے‘‘۔ غالبؔ نے بھی اپنے ایک شعرمیں رگوں میں دوڑنے پھرنے کا ذکر کیا ہے۔ وہ شعر کون سا ہے اور وہاں کس کے دوڑنے پھرنے کی طرف اشارہ ہے؟
- میر دردؔ اور میر تقی میرؔ دونوں شاعروں کا ایک ایک ایسا شعر لکھیے جس میں عشق کے تجربے کا بیان ہو۔