غزل
رفتگاں میں جہاں کے ہم بھی ہیں
ساتھ اس کارواں کے ہم بھی ہیں
جس چمن زار کا ہے تو گل تر
بلبل اس گلستان کے ہم بھی ہیں
وجہ بیگانگی نہیں معلوم
تم جہاں کے ہو واں کے ہم بھی ہیں
مرگئے مرگئے نہیں تو نہیں
خاک سے منھ کو ڈھانکے ہم بھی ہیں
اس سرے کی ہے پارسائی میرؔ
معتقد اس جواں کے ہم بھی ہیں
مشق
لفظ ومعنی
رفتگاں : گزرے ہوئے لوگ، وہ لوگ جو مرچکے ہیں
کارواں : قافلہ
بیگانگی : غیرت، اجنبیت
پارسائی : نیکی، پرہیزگاری
اس سرے کی : اس درجے کی
معتقد : اعتقاد رکھنے والا، ماننے والا
غورکرنے کی بات
- میر کی شاعری میں جس پرکاری اور سادگی کا ذکر ہوتا ہے یہ غزل اس کی خوبصورت مثال ہے۔
- یہ بھی کہا جاتا ہے کہ میرکی شاعری رنج و غم سے بھری ہوئی ہے۔ لیکن یہ بات پوری طرح درست نہیں ہے۔میرکی بڑائی اسی میں ہے کہ وہ مذکورہ کیفیت کے ساتھ ساتھ زندگی کے دوسرے پہلوؤں کو بھی اتنی ہی خوبی سے بیان کرنے پر قادر تھے۔
- غزل کے چوتھے شعر میں ’’منھ کو ڈھانکے‘‘ استعمال ہوا ہے۔جبکہ دوسرے اشعار میں قافیے کے بعد آنے والا لفظ ’’کے‘‘ ردیف میں شامل ہے، جیسے ’’جہاں کے‘‘، ’’کارواں کے‘‘ وغیرہ ’’ڈھانکے‘‘ جیسی صورت میں، جہاں ردیف والا لفظ قافیے والے لفظ کا حصہ بن جائے، اُس کو ’’ قافیہ معمولہ‘‘ کہتے ہیں۔
سوالات
1. دوسرے شعر میں چمن زار، گل تر، بلبل اور گلستاں کے الفاظ کے استعمال سے کون سی شعری صنعت پیدا ہوگئی ہے؟
2. تیسرے شعر کا مطلب اپنے الفاظ میں بیان کیجیے۔
3. مقطعے میں ’’اس سرے کی‘‘ پارسائی سے کیا مراد ہے؟
عملی کام
- رفتگاں اور کارواں کے معنی لکھیے اور ان الفاظ کو جملوں میں استعمال کیجیے۔
- اس غزل میں جو قافیے لائے گئے ہیں، اسی طرح کے پانچ قافیے تحریرکیجیے۔
- اُردو کے ایسے دومشہور شاعروں کی ایک ایک غزل لکھ کر اُستاد کو دکھائیے جو آگرہ میں پیدا ہوئے ہوں۔