Skip to content
Ghulistan-e-Adab Chapter-16



خواجہ حیدر علی آتش ؔ

(1847 – 1777)


آتش کے بزرگ بغداد سے ہندوستان آئے اور دہلی میں سکونت اختیار کی، لیکن نواب شجاع الدولہ کے عہد میں ان کے والد خواجہ علی بخش دہلی سے فیض آباد منتقل ہوگئے۔ آتش کی پیدائش فیض آباد میں ہوئی۔ کم عمری ہی میں والد کا سایہ سرسے اُٹھ گیا۔ اس لیے ان کی تعلیم مکمل نہ ہوسکی، البتہ عربی، فارسی کی کچھ تعلیم انھوں نے گھر پر حاصل کی۔ آتش اپنی غیرمعمولی شاعرانہ صلاحیت کے باعث بہت جلد مقبول ہوگئے اور نواب محمد تقی خاں کے دربار سے منسلک ہوگئے۔ بعد ازاں انھیں کے ہمراہ لکھنؤ آئے اور یہیں کے ہوکر رہ گئے۔ انھوں نے عمر کا بیشتر حصہ تنگ دستی کی حالت میں بسر کیا لیکن طبیعت کی قلندری اور بانکپن نہ گیا۔ کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ آخر عمر میں آنکھوں کی روشنی بھی جاتی رہی ۔ لکھنؤ ہی میں ان کا انتقال ہوا۔
آتش کی غزل میں روز مرہ کے بے تکلف اور برجستہ استعمال سے گفتگو اور مکالمے کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے جس نے ان کی غزل کے لطف کو دوبالا کردیا ہے۔ وہ صاف اور شستہ زبان کو فنکارانہ انداز میں برتنے کا ہنر جانتے تھے۔ ان کی غزل کی ایک منفرد اور امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ ایک طرف وہ حسن محبوب کے بیان میں شوخی اور رنگینی سے کام لیتے ہیں تو دوسری طرف زندگی کے سنجیدہ موضوعات اور تصوف ومعرفت کے مضامین کو شعرمیں سنجیدگی اوردرویشانہ سر شاری کی کیفیت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ اُن کے کلام کی انھی امتیازی خصوصیات کی بنا پر ان کا شمار اُردو کے ممتاز غزل گو شعرا میں ہوتا ہے۔

غزل


سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے  تجھ  کو  خلق خدا  غائبانہ  کیا
زیر زمیں سے آتا ہے جو گل سو زر بکف
قاروں نے  راستے   میں لٹایا  خزانہ  کیا
طبل وعلم نہ پاس ہے اپنے ، نہ ملک ومال
ہم سے خلاف ہو کے کرے گا  زمانہ کیا
آتی ہے کس طرح سے مری قبض روح کو
دیکھوں تو موت ڈھونڈ رہی ہے بہانہ کیا
یوں مدعی حسد سے نہ دے داد تو نہ دے
آتش غزل  یہ  تونے  کہی  عاشقانہ  کیا

مشق

لفظ ومعنی

غائبانہ                   :          غیر حاضری میں، غیر موجودگی میں
قاروں                  :          حضرت موسیٰ کے زمانے کا ایک مال دار مگر کنجوس شخص جو اپنے مال 
              سمیت زمین میں دھنس گیا۔ مجازاً ہر مال دار اور بخیل شخص  
طبل وعلم               :          نقارہ اور جھنڈا
مدعی                   :           دعویٰ کرنے والا

غور کرنے کی بات

  • آتش کو زبان کا شاعر بھی کہا گیا ہے۔بعض دوسرے شعرا بھی بول چال کی زبان کے شاعر کہلاتے ہیں اور اپنی زبان کی سلاست، روانی، چستی اور برجستگی سے پہچانے جاتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ شاعری میں زبان کی بہت اہمیت ہے مگر شاعری کو صرف لفظوں کا کھیل بھی نہیں کہا جا سکتا۔ دراصل جذبات کو زبان دینے کا نام شاعری ہے۔ اس لیے جس شعر میں جذبے کی گرمی محسوس نہ کی جاسکے وہ محض بے جان لفظوں کا مجموعہ بن کر رہ جاتا ہے۔ آتش کی شاعری میں صنعتوں کے برمحل استعمال کے ساتھ ساتھ جذبے کی گرمی بھی ہے اور خیال کی بلندی بھی۔ اس لیے آتش کو صرف زبان کا شاعر کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

سوالات

1.  آتش کی اس غزل میں ان کے شاعرانہ لہجے کی کس خصوصیت کا اظہار کیا ہوا ہے؟
2.  دوسرے شعر کا مطلب بیان کیجیے۔
3.  غزل کے تیسرے شعر میں’’ طبل وعلم نہ پاس ہے اپنے، نہ ملک ومال‘‘ سے آتش کی کیا مراد ہے؟

عملی کام

  • آتشؔ لکھنوی کی غزلوں کا مطالعہ کیجیے۔