غزل
یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے
ہم اور بلبل بے تاب گفتگو کرتے
پیام بر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا
زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے
مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ
کسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے
وہ جانِ جاں نہیں آتا تو موت ہی آتی
دل و جگر کو کہاں تک بھلا لہو کرتے
نہ پوچھ عالم برگشتہ طالعی آتش
برستی آگ جو باراں کی آرزو کرتے
مشق
لفظ ومعنی
شرح آرزو : خواہش کا اظہار
آوارہ : پریشان، مارا مارا پھرنے ولا
برگشتہ : منحرف، پھرا ہوا
طالع : قسمت
برگشتہ طالعی : قسمت کا مخالف ہونا یعنی بد نصیبی
مہ : ماہ
باراں : بارش
غور کرنے کی بات
- مطلعے میں طرز کلام کی برجستگی اور سادگی کے ساتھ ساتھ گفتگو اور مکالمے کے انداز نے ڈرامائی کیفیت پیدا کردی ہے جس نے اس کا لطف دوبالا کردیا ہے۔
سوالات
1. مطلعے میں شاعر نے بلبل کو بیتاب کیوں کہا ہے؟
2. دوسرے شعر میں پیامبر کے میسر نہ ہونے کو شاعر نے ’’ خوب ہوا‘‘ کیوں کہا ہے؟
3. چوتھے شعر میں دل وجگر کو لہو کرنے سے کیا مراد ہے؟
4. مقطعے کے دوسرے مصرعے میں شاعر نے ’’برگشتہ طالعی‘‘ کی جو تعبیر کی ہے اس کی وضاحت کیجیے۔
عملی کام
- آتش کی شاعری میں قلندری اور بانکپن کی ایسی لے ہے جو متواتر شکستوں کے باوجود بھی حوصلہ اور وقار قائم رکھتی ہے۔ اس کیفیت کا ذکر دیگر شعرا کے تعلق سے بھی ہوتا ہے۔ آتش کا ایسا شعر نقل کیجیے جس میں یہ خصوصیت موجود ہو۔