مرزا اسداللہ خاں غالبؔ
(1869 - 1797)
غالب آگرے میں پیدا ہوئے۔دادا ،باپ اور پھرچچا کی موت کے بعد ان کے نانا نے ان کی پرورش کی۔تیرہ سال کی عمر میں غالب کی شادی دِلّی کے ایک معزز خاندان میں ہوگئی۔شادی کے کچھ عرصے بعدوہ دِلّی آگئے اور آخری دم تک یہیں رہے۔
غالب اُردو کے عظیم شاعر تھے۔انھوں نے پہلے اسدؔ اور بعد میں غالبؔ تخلص اختیار کیا اور اسی تخلص سے مشہور ہوئے۔اُردو کے ساتھ ساتھ فارسی شاعری میں بھی غالب کا مرتبہ بہت بلند ہے۔ان کا اُردو کلام ان کے فارسی کلام سے بہت کم ہے۔
غالب کی شاعری کے بارے میں دوباتیں مشہور ہیں۔ایک تو یہ کہ وہ فلسفی شاعرتھے اور دوسری یہ کہ ان کا کلام بہت مشکل ہے۔ان باتوں میں تھوڑی بہت سچائی ضرور ہے۔ غالب کی شاعری اس معنی میں فلسفیانہ ہے کہ ان کے کلام میں زندگی اور کائنات کی بہت سی نازک اورباریک باتوں کی طرف اشارے ملتے ہیں۔یہ بھی صحیح ہے کہ غالب کے کلام میں فکر کا عنصر زیادہ ہے۔
ان کی شاعری ہمیں نئی نئی دنیاؤں کی سیرکراتی ہے۔زندگی کا کوئی مرحلہ ایسا نہ ہوگا جس پر ہم ان کے کسی نہ کسی شعرکے ذریعے اظہار رائے نہ کرسکیں۔
غالب نے قصیدہ، رباعی اور قطعات وغیرہ بھی کہے۔لیکن غزل گو کے علاوہ قصیدہ گو کی حیثیت سے بھی ان کا مرتبہ بہت بلند ہے۔خطوط نگاری میں بھی غالبؔ نے بڑی شہرت حاصل کی ۔ان کے اُردو خطوط کے دو مجموعے ’’اُردوئے معلی ‘‘ اور ’’عودِ ہندی‘‘ بہت معروف ہیں۔
غزل
ابن مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
بات پرواں زبان کٹتی ہے
وہ کہیں اور سنا کرے کوئی
کون ہے جو نہیں ہے حاجت مند
کس کی حاجت روا کرے کوئی
جب توقع ہی اُٹھ گئی غالبؔ
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی
مشق
لفظ ومعنی
ابن مریم : مریم کا بیٹا یعنی حضرت عیسٰیؑ
جنوں : دیوانگی، سودا
حاجت من : محتاج، ضرورت مند
حاجت روا کرنا : ضرورت پوری کرنا
گلہ : شکوہ ،شکایت
غورکرنے کی بات
- یہ غزل سہل ممتنع کی بہترین مثال ہے۔
- مطلعے میں شاعر نے ابن مریم کی تلمیح کا استعمال کیا۔کسی مذہبی یا تاریخی واقعے کی طرف اشارہ کرنے کو تلمیح کہتے ہیں۔ ابن مریم حضرت عیسیٰ کی کنیت ہے ۔غالب نے اس شعر میں شوخ انداز اختیار کرتے ہوئے یہ اشارہ کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی طرح کوئی میرے دکھ کی دوا کرے۔
- ابن مریم حضرت عیسٰیؑ علیہ السلام کی کنیت ہے۔ کنیت اُس نام کو کہتے ہیں جو باپ یا ماں کے تعلق سے بولا جاتا ہے۔
- مریم حضرت عیسٰیؑ کی ماں کا نام ہے۔اللہ نے حضرت عیسٰیؑ کو یہ معجزہ دیا تھا کہ وہ جاں بلب مریض پر دَم کرکے اُس کو تندرست اور قم باذن اللہ(اُٹھ اللہ کے حکم سے)کہہ کر مردے کو زندہ کردیتے تھے۔غالب نے اسی خصوصیت کی طرف اشارہ کیا ہے۔
- ’’کون ہے جونہیں ہے حاجت مند‘‘ کہہ کر غالب نے یہ ظاہرکیا ہے کہ ہر ایک حاجت مند ہے۔
سوالات
1. ابن مریم کی وضاحت کرتے ہوئے مطلعے کا مفہوم اپنے الفاظ میں بیان کیجیے۔
2. ’’زبان کٹتی ہے‘‘ سے کیا مراد ہے؟
3. توقع ختم ہوجانے کے بعد غالب نے گلہ نہ کرنے کا اشارہ کیوں دیا ہے؟