غزل
پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
دل جگر تشنۂ فریاد آیا
دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز
پھر ترا وقت سفر یاد آیا
آہ! وہ جرأتِ فریاد کہاں
دل سے تنگ آکے جگر یاد آیا
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ
سنگ اُٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
مشق
لفظ ومعنی
دیدۂ تر : روتی ہوئی آنکھ
تشنہ فریاد : فریاد کا بہت زیادہ پیاسا، فریاد کا شدید خواہش مند
ہنوز : ابھی، اب تک
وقتِ سفر : سفرکا وقت، مراد جدائی
غورکرنے کی بات
- مطلعے کے دوسرے مصرعے میں ’’جگر تشنۂ فریاد‘‘ کی ترکیب میں ’’جگرتشنہ‘‘ تشنگی کے اظہار کا کلمہ مبالغہ ہے۔چنانچہ جگرتشنہ فریاد کے معنی ہوئے فریاد کے لیے بے انتہا پیاسا۔شاعرنے دیدہ ترکی رعایت سے فریاد کی تشنگی کا ذکر کیا ہے۔
سوالات
1. غزل کے مطلعے کا مفہوم اپنے الفاظ میں بیان کیجیے۔
2. شاعرکو دشت دیکھ کر گھر کیوں یاد آیا؟
3. دوسرے شعرمیں ’’وقت سفر یاد آیا‘‘ کہہ کر کس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے؟
عملی کام
- اس غزل سے ایسے الفاظ کی فہرست بنائیے جہاں شاعر نے اضافت کا استعمال کیا ہے۔
- اس غزل کو یاد کیجیے۔