مثنوی
مثنوی عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں:دودو کیا گیا۔ ادب کی اصطلاح میں مسلسل اشعار کے اس مجموعے کو ’’ مثنوی‘‘ کہتے ہیں جس میں شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں لیکن ہر شعر کا قافیہ الگ ہوتا ہے۔ مثنوی کے لیے اشعار کی تعداد مقرر نہیں۔ اردو میں طویل مثنویاں بھی لکھی گئی ہیں اور مختصر بھی۔ میر حسنؔ کی ’’سحر البیان‘‘ اور دیا شنکر نسیمؔ کی ’’ گلزارِنسیم‘‘ طویل مثنویاں ہیں۔ نواب مرزا شوقؔ کی ’’زہرِعشق‘‘ نہ بہت طویل ہے نہ مختصر۔ حالیؔ کی ’’مناجاتِ بیوہ‘‘ اور اقبالؔ کا ’’ساقی نامہ‘‘ مختصر مثنویاں ہیں۔
مثنوی عام طورپر چھوٹی بحرمیں لکھی جاتی ہے۔ چونکہ زیادہ تر مثنویاں سات چھوٹی بحروں میں لکھی گئی ہیں، اس لیے کہا جانے لگا کہ اساتذہ نے مثنوی کے لیے یہ سات چھوٹی بحریں مخصوص کردی ہیں۔ یہ کوئی اٹل ضابطہ نہیں ہے۔ بہت سی مثنویاں ان سات بحروں کے علاوہ بھی لکھی گئی ہیں۔ طویل مثنویوں میں عام طور پر درج ذیل آٹھ اجزا ہوتے ہیں:
1۔ حمدومناجات 2۔ نعت
3۔ منقبت 4۔ حاکم وقت کی مدح
5۔ اپنی شاعری کی تعریف 6 ۔ مثنوی لکھنے کا سبب
7۔ قصہ یا واقعہ 8 ۔ خاتمہ
لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر مثنوی میں یہ تمام اجزا موجود ہوں۔ موضوعات کے لحاظ سے مثنوی کا دامن بہت وسیع ہے۔ اس میں محبت کی کہانیاں، جنگ اور مہم جوئی کے واقعات، کسی معاشرے کے احوال یا افراد کی تعریف وتنقیص اور نصیحت ورہ نمائی کے مضامین بھی بیان ہوئے ہیں۔
اردو کی قدیم مثنویوں میں زیادہ تر عشقیہ قصے اور مذہبی واخلاقی مضامین نظم کیے گئے ہیں۔ عشقیہ مثنویوں میں نثری داستانوں کی بیشتر خصوصیات موجود ہیں، مثلاً پیچ در پیچ قصہ ، ذیلی قصّے، مثالی کردار والے افراد اور فوق الفطرت عناصر وغیرہ۔ اِن مثنویوں میں اس زمانے کی تہذیب ومعاشرت کی جھلکیاں بھی ملتی ہیں۔
دیا شنکر نسیمؔ
(1843 - 1811)
دیا شنکرنسیم لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ پنڈت گنگا پرشاد کول کے بیٹے تھے۔ بزرگوں کا وطن کشمیر تھا۔ نسیم نے اردووفارسی کی تعلیم حاصل کی اور امجد علی شاہ بادشاہِ اودھ کی فوج میں بخشی کے عہدے پر ملازم ہوگئے۔ لڑکپن میں ہی شعر کہنے لگے تھے۔ اُن دنوں لکھنؤ میں شیخ امام بخش ناسخ اور خواجہ حیدر علی آتش مشہور ترین اساتذہ تھے۔
مثنوی ’’گلزارِ نسیم‘‘1838-39میں لکھی گئی اور1844 میں شائع ہوئی۔ اس میں جو کہانی بیان ہوئی ہے وہ ’’قصہ گل بکاؤلی‘‘ کے نام سے مشہور تھی۔ یہ قصہ عزت اللہ بنگالی نے فارسی میں لکھا تھا۔ اس کا اردو ترجمہ نہال چند لاہوری نے ’’ مذہب عشق‘‘ کے نام سے کیا۔ ’’ قصہ گل بکاؤلی‘‘ میں اردو کی کئی داستانوں کی طرح مختلف داستانوں کے اجزا شامل ہیں۔ یہ مثنوی لکھتے ہوئے نسیم نے ’’مذہب عشق‘‘ کو پیش نظر رکھا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اوّلین شکل میں یہ مثنوی بہت طویل تھی۔
پوری مثنوی پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ نسیم نے نثری قصے کی تفصیلات کوایسی مہارت سے مختصر کیاکہ داستان میں غزل کے اشعار جیساایجاز پیدا ہوگیا ہے۔ تقریباً ہر مصرعے میں ایسی فنی خوبیاںاور نزاکتیں کار فرما ہیں کہ ایک عام نثری داستان انتہائی بلیغ منظوم افسانہ بن گئی ہے۔
’’گلزار نسیم ‘‘ اور میر حسنؔ کی مثنوی ’’ سحرالبیان‘‘ کا موازنہ کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ’’گلزار نسیم‘‘ کا اسلوب بناوٹی اور بوجھل ہے۔ یہ بات صحیح نہیں ہے۔ ’’ گلزار نسیم‘‘ میں تشبیہ واستعارہ کی کثرت، لفظی ومعنوی رعایات اور کم سے کم لفظوں میں زیادہ سے زیادہ بات کہہ دینے کے ہنر نے ایسا جادو جگایا کہ چھوٹی سی کہانی میں مختلف معنوی امکانات پیدا ہوگئے۔ یہ خوبی غزل کے عمدہ شعرمیں ہوتی ہے اور پڑھنے والے سے بھر پور توجہ کا مطالبہ کرتی ہے۔
مثنوی ’’ گلزار نسیم‘‘ کو دبستان لکھنؤ کی شاعری کا مثالی نمونہ کہا جاتا ہے۔ نسیم کے زمانے کے لکھنؤ اور وہاں کی شاعری میں جو شائستگی، مرصع کاری اور تکلفات رائج تھے وہ اس مثنوی میں پوری طرح جلوہ گر ہیں۔ نثری ادب میں اِن خوبیوں کا استعمال، مرزا رجب علی بیگ سرور اپنی کتاب ’’فسانۂ عجائب‘‘ میں پہلے ہی کرچکے تھے۔ اس طرح یہ کتابیں لکھنوی نثر ونظم کا اعلیٰ ترین نمونہ کہی جاسکتی ہیں۔
پہنچنا بکاؤلی کا دارُالخلافت زین الملوک میں
اور وزیر ہوکرتاج الملوک کی تلاش میں رہنا
گُل چیں کا جو اب پتا ملا ہے یوں شاخ قلم سےگُل کھلاہے
وہ باد چمن چمن خراماں یعنی وہ بکاؤلی پریشاں
گلشن سے جو خاک اُڑاتی آئی اس شہر میں آتی، آتی آئی
دیکھا تو خوشی کے چَہچہے تھے گُل چیں کےشگوفےکھل رہےتھے
گلبانگ زناں تھا جو جہاں تھا ایک ایک ہزار داستاں تھا
پاتے ہی پتا خوشی سے پھولی شاد ایسی ہوئی کہ رنج بھولی
جادو سے بنی وہ آدمی زاد انسانوں میں آ ملی پری زاد
سلطاں کی سواری آرہی تھی صورت جو نگاہ کی پری تھی
پوچھا: اے آدم پری روٗ انساں ہے، پری ہے،کون ہےتو؟
کیا نام ہے، اور وطن کدھرہے؟ ہے کون سا گل چمن کدھرہے؟
دی اُس نے دعا کہا بہ صدسوز فرخ ہوں، شہا! میں ابن فیروز
گُل ہوں تو کوئی چمن بتاؤں غربت زدہ کیا وطن بتاؤں!
گھر بار سے کیا فقیر کو کام کیا لیجیے چھوڑے گاؤں کا نام
(دیا شنکر نسیمؔ)
مشق
لفظ ومعنی
دارالخلافت : راجدھانی
گل چیں : پھول توڑنے والا
باد چمن چمن خراماں : کئی باغوں سے ہو کر آنے والی ہوا
خاک اڑانا : آوارہ پھرنا، مارا مارا پھرنا
چہچہے : خوشی سے بھری آوازیں
شگوفے : کلیاں
گلبانگ زناں : خوشی کے نغمے گاتا ہوا
آدمی زاد : آدمی کی اولاد
پری زاد : پری کی اولاد
صورت نگاہ کی : چہرے پر نظر ڈالی
پری روٗ : پری جیسے چہرے والا
بہ صد سوز : انتہائی دکھ سے
شہا : اے بادشاہ
ابن : بیٹا
غربت زدہ : مسافر، پردیسی
غورکرنے کی بات
- مثنوی کے اس حصے میں بکاؤلی کے دارالخلافت میں پہنچنے اور زین الملوک کی تلاش میں چمن چمن پھرنے اور مشقت اٹھانے کا بیان ہے۔
- پہلے شعر کے دوسرے مصرعے پر غور کیجیے،اس میں ’’شاخ قلم‘‘ سے گل کھلانے کا ذکر ہے۔ قلم کی ڈالی سے پھول کھلا یا گیا ہے۔ یعنی قلم سے جو باتیں لکھی گئی ہیں انھیں پھولوں سے تشبیہ دی ہے۔ اس مثنوی کا نام ’’گلزار نسیم‘‘ ہے۔ گلزار پودوں کے مجموعے کو کہتے ہیں اور بہت سے پودوں میں قلم لگائی جاتی ہے ۔چنانچہ نسیم نے اسی رعایت سے قلم استعمال کیا ہے۔
- بادِ چمن چمن، وہ ہوا جو ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے باغ میں پہنچے اور متعدد باغات میں گھومتی رہے۔ مطلب بکاؤلی کے پریشان ہونے سے ہے۔
- ’’ایک ایک ہزار داستاں تھا ‘‘ ہزار داستاں کنایۃً بلبل کی اُس قسم کے لیے استعمال ہوتا ہے جو متعدد بولیاں بولتا ہے اور نہایت خوش الحان ہوتا ہے۔ یہاں مراد یہ ہے کہ چمن میں جو بھی تھا وہ خوشی کے ترانے گارہا تھا۔
- گلبانگ زناں کا لفظ، گلبانگ اور زناں سے مل کر بنا ہے۔گلبانگ زناں کے معنی ہیں: ’’خوشی کے نعرے لگاتا ہوا۔‘‘ یہاں اس سے مراد ہے خوشی کے نغمے گاتا ہوا۔ گلبانگ زناں کی طرح آپ نے اور بھی مرکب الفاظ پڑھے ہوں گے جیسے نعرہ زناں وغیرہ۔
سوالات
1. مثنوی کس زبان کا لفظ ہے اور یہ نظم کی دوسری قسموں سے کس طرح مختلف ہے؟
2. مثنوی ’’گلزارِ نسیم‘‘ کا موازنہ عام طور پر کس مثنوی سے کیا جاتا ہے اور کیوں؟
3. ’’گلزار ِنسیم‘‘ کو دبستانِ لکھنؤ کی شاعری کا مثالی نمونہ کہنے کے کیا اسباب ہیں؟
4. بکاؤلی نے سلطان کی سواری کو آتے دیکھ کر آدم زاد کا روپ کیوں اختیار کرلیا؟
5. مثنوی ’’گلزارِ نسیم‘‘ کا قصہ اردو میں پہلے کس نام سے لکھا گیا اور اس کے مصنف کون تھے؟
عملی کام
- شاخِ قلم مرکب اضافی ہے یعنی قلم کی شاخ۔ اس قسم کے پانچ مرکبات تحریر کیجیے۔
- درج ذیل الفاظ کو جملوں میں استعمال کیجیے:
گل چیں، آدم زاد، غربت زدہ
- درج ذیل الفاظ کے مجموعوں میں غیر متعلق لفظ کی نشاندہی کیجیے:
گل، چمن، شگوفہ، سلطان، شاخ، رنج، غربت، فقیر، دکھ، بلبل
- مثنوی گلزارِ نسیم کا ایک حصّہ آپ نے پڑھا۔ اب آپ مکمل مثنوی حاصل کرکے ’’گل بکاؤلی‘‘ کی پوری کہانی پڑھیے۔