مرثیہ
مرثیہ لفظ ’’رثا‘‘سے بنا ہے۔ جس کے معنی رونا، ماتم کرناہیں۔ مرثیہ سے وہ نظم مراد لی جاتی ہے جس میں کسی مرنے والے کے اوصاف بیان کرکے اُس کی موت پررنج وغم کا اظہار کیا جائے۔ اُردو میں مرثیے کا ایک خاص مفہوم متعین ہوگیا ہے، یعنی مرثیہ صرف اس نظم کو کہا جاتا ہے جس میں حضرت امام حسینؓ اور دیگر شہداے کربلا کی شہادت کا ذکر کیا جائے۔ باقی تمام لوگوں کی موت پر کہی جانے والی نظموں کو شخصی مرثیہ کہاجاتا ہے۔ مثلاً حالیؔ کا مرثیہ غالبؔ، اقبال کا مرثیہ داغؔ وغیرہ۔
ابتدا میں مرثیے مختصر لکھے جاتے تھے اور ان کے لیے کوئی خاص شکل مقرر نہیں تھی۔ چنانچہ شروع میں مرثیے غزل کی ہیئت میں بھی لکھے گئے، اور تین مصرعوں، چار مصرعوں، پانچ مصرعوں اور چھے مصرعوں کے بندوں کی شکل میں بھی نظم کیے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ سوداؔ پہلے شاعر ہیں جنھوں نے مرثیے کے لیے مُسدّس کی ہیئت استعمال کی۔ میر خلیق ؔاور میر ضمیرؔ کے زمانے میں مسدّس کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی اور پھر مرثیے کے لیے صرف یہی ہیئت مخصوص ہوگئی۔ میرضمیرؔ نے مرثیے کے اجزائے ترکیبی متعین کیے جو حسب ذیل ہیں:
مرثیے کے آخری دو اجزا یعنی شہادت وبین اُس کا اصل موضوع ہوتے ہیں۔ ان کی کامیابی پر مرثیہ اور مرثیہ نگار کی کامیابی کا دارومدار ہوتا ہے۔ مرثیے کا بنیادی مقصد رونا رُلانا اور رونے کی ترغیب دینا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہادت اور بین کی پیش کش میں شاعر اپنا سارا زورِ کلام صرف کردیتا ہے، اور اپنے اشعار کو پُر تاثیر بنانے کی بھر پور کوشش کرتا ہے۔
انیسؔ ودبیرؔ اور اُن کے پیروؤں کے مرثیوں میں مرثیے کے یہ اجزا عام طور پر پائے جاتے ہیں، لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر مرثیے میں یہ تمام اجزا موجود ہوں اور اسی تر تیب کے مطابق ہوں۔ بعض مرثیے ایسے بھی ملتے ہیں جن میں شہادت کا بیان نہیں ہے بلکہ حضرت امام حسین ؓ کی شہادت کے بعد کے واقعات نظم کیے گئے ہیں۔ ایسی صورت میں اجزائے مرثیہ کا التزام ممکن نہیں۔
ببر علی انیسؔ
(1874-1802)
میر ببر علی نام، انیسؔ تخلص تھا۔ فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ انیسؔ کے اجداد دہلی کے رہنے والے تھے۔ اُن کے پردادا میر غلام حسین ضاحکؔ دہلی کی تباہی کے بعد اپنے بیٹے میرحسنؔ کے ساتھ دہلی چھوڑ کر فیض آباد چلے آئے تھے۔ میر انیسؔ نے اپنے والد میر خلیقؔ کے زیر سایہ تعلیم و تربیت پائی۔ میر نجف علی فیض آبادی اور مولوی حیدر علی لکھنوی سے بھی تعلیم حاصل کی۔ انیسؔ کی والدہ بھی ایک تعلیم یافتہ خاتون تھیں اورفارسی زبان نیز مذہبی امور سے کافی واقفیت رکھتی تھیں۔ انیسؔ کی ابتدائی تعلیم وتربیت میں اُن کی والدہ کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔
میر انیسؔ کا مطالعہ وسیع تھا۔ عربی اور فارسی میں اچھی دستگاہ رکھنے کے ساتھ ساتھ وہ اُن تما م علوم سے خاطر خواہ واقف تھے جو اُس زمانے میں رائج تھے۔قرآن و حدیث، عروض، منطق، فلسفہ، طب، رمل وغیرہ سب میںا نھوں نے اچھی استعداد بہم پہنچائی تھی۔ اِن کے علاوہ وہ فنِ سپہ گری اورفن شہ سواری سے بھی بہ خوبی واقف تھے۔ اِن فنون کی تعلیم انھوں نے باقاعدہ طور پر اُس زمانے کے مانے ہوئے استادوں سے حاصل کی تھی۔
میر انیسؔ نہایت خوددار اور پابند وضع شخص تھے۔ وہ اپنے خاندان کی عزت اور اپنے بزرگوں کے علم وفضل پر بڑا فخر کرتے تھے۔ مرثیہ پڑھتے وقت وہ اپنی آواز کے اُتار چڑھاؤ اور چہرے کی حرکات وسکنات سے سارا منظر دل نشین کردیتے تھے اور مجلس میں سماں باندھ دیتے تھے۔میر انیسؔ کے والد آخری عمر میں لکھنؤ چلے آئے۔اُن کے ساتھ انیسؔ بھی آگئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ لکھنؤ ہی میں ان کی وفات ہوئی۔انیسؔ ایک قادر الکلام شاعر اور ماہر فن کار تھے۔ زبان پرانھیں بے پناہ قدرت حاصل تھی۔ لفظوں کے انتخاب اوراستعمال میں ان کا کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ ایک بات کوکئی کئی ڈھنگ سے ادا کرنے میں ماہر تھے ۔مشکل الفاظ اور عربی فارسی تراکیب اور محاورات کو بھی بے حد لطیف پیرایے میں نظم کرنے میں انھیں ملکہ حاصل تھا ۔نازک خیالات اور لطیف سے لطیف کیفیات کی ترجمانی وہ نہایت مناسب الفاظ اور بے حد موثر انداز میں کرتے ہیں۔
شہادت ِحضرت عبّاس
گرنے لگا جس دم علم سید والا عباس نے جھک کر اُسے گردن سے سنبھالا
اک تیر لگا چشم پہ اور سینے پہ بھالا بند آنکھیں ہوئیں، منھ سے لہو شیر نے ڈالا
خم تھے کہ پڑا فرق پہ گرز ایک شقی کا
شق ہوگیا سر حضرتِ عباسِ علی کا
کچھ گرزِ گراں بار کا صدمہ نہیں تھوڑا سر پھٹ گیا پر مشک کو دانتوں سے نہ چھوڑا
زیں سے جو گرے آپ، کھڑا ہوگیا گھوڑا پھر تیرنے مشکیز ے کو اور سینے کو توڑا
پانی جو بہا، عید ہوئی فوجِ عدو میں
مچھلی سے تڑپنے لگے عباس لہو میں
ناگاہ یہ آوازِ علی دشت سے آئی شبیر خبر لے کہ تصدق ہوا بھائی
چلائی یہ زینب کہ دہائی ہے دہائی حضرت نے کہا لٹ گئی بابا کی کمائی
تشریف شہ ہر دو سرا لائے ہیں، زینب!
عباس کے لاشے پہ علی آئے ہیں، زینب!
جب کٹ گئے دریا پہ علم دار کے بازو شانوں سے جدا ہوگئے جرار کے بازو
ریتی پہ گرے شاہ کے غم خوار کے بازو تھرانے لگے سید ابرار کے بازو
رنگ اُڑ گیا، تصویر الم ہوگئے شبیر
ہاتھوں سے جگر تھام کے خم ہوگئے شبیر
چلائے بہ صد غم مرے بھائی! مرے بھائی! کیا دِل کا ہے عالم مرے بھائی! مرے بھائی!
کیوں چشم ہے پرنم، مرے بھائی! مرے بھائی! اُکھڑا ہے ترا دم، مرے بھائی! مرے بھائی
سینے میں اجل سانس ٹھہرنے نہیں دیتی
ہچکی تمھیں اب بات بھی کرنے نہیں دیتی
یہ کہتے تھے حضرت کہ قیامت ہوئی طاری عباس علم دار کراہے کئی باری
اٹکا جو دم آنکھوں میں تو آنسو ہوئے جاری تن رہ گیا، اور روح سوئے خلد سدھاری
چلا کے جو شہ روئے تو گھبرائی سکینہ
نکلا تھا دم اُن کا کہ نکل آئی سکینہ
لاشے پہ عبا ڈال کے شبیر پکارے کیوں گھر سے نکل آئیں، میں قربان تمھارے
گھبرا کے سکینہ نے کہا: پیاس کے مارے حضرت نے کہا بھائی تو دنیا سے سِدھارے
میں تم کو اسی واسطے سمجھاتا تھا رو کر
اب ڈھونڈنے آئی ہو، مرے بھائی کو کھو کر
سر پیٹ کے ہاتھوں سے یہ چلّائی وہ بے پر دکھلا دو مجھے لاشہ عباسِ دلاور
اکبر نے کہا روکے، نہ مانے گی یہ مضطر حضرت نے کہا لاشِ علم دار دکھا کر
پانی کی تمنا میں ہزاروں سے لڑے ہیں
منھ دیکھ لو، یہ شیر سے عباس پڑے ہیں
میّت سے لپٹنے کو جو وہ دوڑ کے آئی حضرت نے عبا، بھائی کے چہرے سے اُٹھائی
چِلّائی سکینہ کہ دُہائی ہے دُہائی ریتی میں علم دار نے بھی شکل چھپائی
تھرانے لگا لاشہ سقائے سکینہ
لاشے سے صدا آنے لگی ہائے سکینہ
مشق
لفظ ومعنی
علم : جھنڈا
سید والا : بزرگ سردار،مراد امام حسینؓ
چشم : آنکھ
فرق : مانگ (سرکی)
گُرز : ایک ہتھیار کا نام جو اوپر سے گول موٹا اورنیچے سےپتلا ہوتا ہے اور دشمن کے سر پہ مارنے کے کام آتا ہے۔
شقی : سخت دل
شق ہونا : پھٹ جانا
گراں بار : ھاری بوجھ سے دبا ہوا
مشک : پانی بھرنے کا،چمڑے کا تھیلا
زِین : چار جامہ،گھوڑے کی پیٹھ پر کسا جانے والا کجاوہ
مشکیزہ : چھوٹی مشک
عدو : دشمن
ناگاہ : اچانک
تصدُّق : قربان، نثار
شہ ہردو سرا : دونوں دنیا کے بادشاہ
جرار : بہادر، جری
ریتی : ریت
اَبرار : نیک لوگ
تصویر الم : دکھ کی تصویر، دکھ کا مجسّمہ
اجل : موت
سوئے خلد : جنت کی طرف
عبا : لمبا کرتا، جُبّہ
بے پر : بے یارو مددگار
دلاور : بہادر
مضطر : بے چین، پریشان
سقا : پانی پلانے والا
غور کرنے کی بات
- اس مرثیہ کا جو حصّہ آپ نے پڑھا اس کے ابتدائی چھے بند شہادت کے بیان پر مشتمل ہیں اور آخری تین بند بین کا حصّہ ہیں۔
- پہلے بند کے پانچویں مصرعے میں لفظ ’شقی‘ آیا ہے۔ چھٹے مصرعے میں فظ’ شق‘ مذکور ہے۔ شق اور شقی میں حرف ’یا‘ کا فرق ہے۔جب کسی شعر یا مصرعے میں اس قسم کے دو الفاظ آئیں جن میں پہلے کے مقابلے میں دوسرے میں ایک یا دوحروف کم یا زیادہ ہوں تو اسے ’’تجنیس ناقص‘‘ یا ’’تجنیس زائد‘‘ کہا جاتا ہے۔
- پہلے بند کے چوتھے مصرعے کا آخری ٹکڑا ’’منہ سے لہو شیر نے ڈالا‘‘ حضرت عباس سے متعلق ہے۔ اس میں انھیں شیر کی طرح بہادر کہنے کے بجائے براہِ راست’’شیر ‘‘ کہا گیا ہے۔ یعنی ’’شیر‘‘ اپنے اصلی معنی (ایک درندہ) کی بجائے مجازی معنی(ایک بہادر انسان) میں استعمال ہوا ہے۔ جب کوئی لفظ اس طرح اپنے اصلی معنی کے بجائے مجازی معنی میں استعمال ہوتا ہے اور دونوں معنوں میں تشبیہ کا رشتہ ہوتا ہے تو اسے استعارہ کہتے ہیں۔
- آٹھویں بند میں عباس کے لیے’’شیر سے عباس پڑے ہیں‘‘آیا ہے یہاں عباس کو شیر سے تشبیہ دی گئی ہے اور ’’شیر سے عباس‘‘ مراد ہیں ۔اس لیے یہاں یہ تشبیہ ہے۔
- دوسرے بندمیں پانی بہنے کی رعایت سے عبّاس کے لہو بہنے کا ذکر ہے اور مشکیزے سے پانی بہنے کے باوجود عبّاس پیاس سے مچھلی کی طرح تڑپنے لگے۔ پانی بہنا، لہو ٹپکنا اور مچھلی سے تڑپنا شعر کی خوبصورتی میں اضافہ کررہے ہیں۔
سوالات
1۔ مرثیہ کا یہ حصہ کس جز سے تعلق رکھتا ہے ؟
2. حضرت عباس کو سقائے سکینہ کیوں کہا گیا ہے؟
3۔ مرثیے کے تیسرے بند کی تشریح کیجیے۔
4۔ دشمن کی فوج میں خوشی کی لہر کیوں دوڑ گئی؟
5. حضرت سکینہ بھائی کی شہادت پرکس طرح بین کرنے لگیں؟ اپنے الفاظ میں بیان کیجیے۔
عملی کام
- واقعہ کربلا اسلامی تاریخ میں خاصی اہمیت کاحامل ہے ۔آپ پورا واقعہ اسلامی تاریخی کتابوں سے پڑھیے۔
- درج ذیل مرکبات کے معنی لکھ کر ان کی وضاحت کیجیے۔
- درج ذیل شعر میں کون سی صنعت پائی جاتی ہے۔
خم تھے کہ پڑا فرق پہ گرز ایک شقی کا
شق ہوگیا سر حضرت عبّاس علی کا
- شامل نصاب بند کے علاوہ اس مرثیے کے دوسرے اشعار لائبریری سے حاصل کرکے پڑھیے۔