پہلی اکائی
جغرافیہ بحیثیت مضمون
اس اکائی میں بتایا گیا ہے
- جغرافیہ ایک تکملی مضمون کی حیثیت سے ؛ مکانی اوصاف کی سائنس کی حیثیت سے
- جغرافیہ کی شاخیں ؛ طبیعی جغرافیہ کی اہمیت
باب1
جغرافیہ ایک مضمون کی حیثیت سے
آپ نے ثانوی سطح تک جغرافیہ کو سماجی مطالعات کے نصاب کے ایک حصے کے طور پر پڑھا ہے ۔ آپ دنیا اور اس کے مختلف حصوں میں جغرافیائی نوعیت کے بعض پہلوؤں سے پہلے ہی واقف ہیں۔ اب آپ جغرافیہ کو ایک الگ مضمون کی حیثیت سے پڑھیں گے اور زمین کے طبیعی ماحول، انسانی سر گرمیوں اور ان کے تفاعلی روابط کےبارے میں جانیں گے۔ آپ اس سطح پر ایک بر محل سوال کر سکتے ہیں کہ ’’ ہم جغرافیہ کیوں پڑھیں‘‘؟ ہم روئے زمین پر رہتے ہیں ۔ ہمارے ماحول کا ہماری زندگی پر کئی طرح سے اثر پڑتا ہے ۔ ہمیں زندہ رہنے کے لیے اپنے گردو پیش کے علاقے کے وسائل پر منحصررہنا پڑتا ہے۔ ابتدائی سماج اپنے ماحول کے قدرتی وسائل مثلاً خوردنی پودوں اور جانوروں پر اپنی گزر بسر کرتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہم نے ٹکنا لو جی کو فروغ دیا اور قدرتی وسائل جیسے زمین، مٹی اور پانی کا استعمال کر کے خوراک پیدا کرنا شروع کیا۔ ہم نے اپنے کھانے کی عادت اور کپڑے کو موجودموسمی حالات کے مطابق ڈھالا۔ قدرتی وسائل کی بنیاد، ٹکنالوجی کی ترقی، طبعی ماحول کےساتھ مطابقت یا اس میں تر میم سماجی تنظیم اور ثقافتی ارتقا میں کافی تغیر پایا جاتا ہے۔ جغرافیہ کےطالب علم ہونے کی حیثیت سے آپ کو مختلف جگہوں اور لوگوں کے بارے میں جاننے کا تجسس پیدا ہوگا۔ آپ کو ان تبدیلیوں کے سمجھنے میں بھی دلچسپی ہوگی جو ایک لمبے عرصہ کے بعد رونما ہوئی ہیں۔ جغرافیہ آپ کو تنوع کو سمجھنے اور زمان و مکان پر اس تنوع کے اسباب کے پتہ لگانے کے لیے تیار کرتا ہے ۔ آپ اپنے اندر وہ مہارتیں پیدا کر سکتے ہیں جن سے نقشوں میں تبدیل شدہ گلوب کو سمجھ کر سطح زمین کا بصری شعور پیدا کر سکیں۔ جدید سائنسی تکنیک جیسے جی آئی ایس (GIS)اور کمپیوٹر کارٹو گرافی میں حاصل مہارت اور سمجھ آپ کو اس قابل بنائے گی کہ آپ خود بھی ترقی کی قومی کوشش میں با معنی کردار ادا کر سکیں۔
دوسرا سوال جو آپ پوچھ سکتے ہیں یہ ہے کہ ’’جغرافیہ کیا ہے ‘‘؟ آپ جانتے ہیں کہ زمین ہمارا گھر ہے۔ یہ بہت سی دیگر چھوٹی بڑی مخلوقات کا بھی مسکن ہےجو اس زمین پر رہتی ہیں اور اپنی بقا کی کوشش کرتی ہیں۔ زمین کی سطح ایک جیسی نہیں ہے ۔ اس کے طبیعی خد و خال مختلف ہیں۔ اس پر پہاڑ، پہاڑیاں، وادیاں، میدان، پٹھار، سمندر، جھلیں، ریگستان، جنگل بیابان پائے جاتے ہیں۔ سماجی اور ثقافتی اوصاف میں بھی اختلافات ہیں۔ گاؤں، شہر، سڑکیں، ریلوے، بندر گاہیں، بازار اور انسانوں کے ذریعہ بنائے گئے بہت سے دیگر عناصر ہیں جو انہوں نے اپنے تہذبی ارتقاکے دوران تعمیر کی ہیں۔
یہ تغیر طبیعی ماحول اور سماجی ثقافتی اوصاف کے درمیان تعلق کو سمجھنے میں مدد کرتے ہیں۔ ماحول نے ایسااسٹیج فراہم کیا ہے ۔ جس میں انسانی سماج نے اپنی ثقافتی ارتقا کے دور ان ایجاد کی گئی تکنیک اور آلات کی مدد سے اپنی تخلیقی سرگرمیوں کا مظاہرہ کیا۔ اب آپ شاید اس سوال کا جواب دے سکیں کہ جغرافیہ کیا ہے ؟ سیدھے سادے الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ’’ جغرافیہ زمین کا تفصیلی بیان ہے ۔ ‘‘ ایک یونانی عالم ایریٹو ستھینز(194-276ق م )نے پہلی بار جغرافیہ کی اصطلاح کا استعمال کیا۔ یہ لفظ یونانی زبان کے دو مادے اصول ’’جیو (زمین ) اور گرافوس (بیان) سے نکلا ہے۔ ان دونوں کو ملا کر معنی ہوا زمین کا بیان کرنا۔ زمین کو ہمیشہ سے انسان کا گھر سمجھا جاتا رہا ہے، اس لیےمحققین نے جغرافیہ کی تعریف ’ انسانوں کے گھر کی حیثیت سے زمین کا بیان’ کی ہے۔ آپ کی حقیقت سے بخوبی آشناہیں کہ اصلیت کے کئی پہلو ہوتے ہیں اور زمین بھی کثیرابعادی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طبیعی علوم کے کئی مضامین جیسے ارضیات ، خاک شناسی، بحریات، نباتات، حیوانیات اور موسمیات اور سماجی علوم کے ہمسر مضامین جیسے معاشیات ، تاریخ، سماجیات، سیاسیات، بشریات، وغیرہ سطح زمین کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ جغرافیہ اپنے مواد مضمون اور طریقہ کار میں دوسرے مضامین سے مختلف ہے لیکن دوسرے مضامین کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے۔ یہ اپنا ڈاٹا بیس (معلوماتی اساس) طبیعی سائنس اور سماجی علوم کے تمام شعبوں سے اخذ کرتا ہے اور ان کی تطبیق کی کوشش کرتا ہے۔
ہم نے محسوس کیا ہے کہ سطح زمین پر طبیعی اور ثقافتی ماحول میں فرق پایا جاتا ہے۔ کئی مظاہر آپس میں ایک جیسے ہوتے ہیں اور کئی مختلف ہوتے ہیں۔ اس لیےمعقول بات یہ تھی کہ جغرافیہ کو علاقائی امتیاز (aereal differentiation)کے مطالعے کی حیثیت سے دیکھا جائے۔ اس طرح جغرافیہ میں ان تمام مظاہر کا مطالعہ ہوتا ہے جو اس روئے زمین پر بدلتی رہتی ہیں۔ جغرافیہ داں صرف روئے زمین پر پائے جانے والے مختلف مظاہر کا ہی مطالعہ نہیں کرتے بلکہ دوسرے عوامل کے ساتھ ان تعلقات کا بھی مطالعہ کرتے ہیں جن کی وجہ سے یہ اختلافات رونما ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک خطے سے دوسرے خطےمیں فصلوں کی ترتیب مختلف ہوتی ہے لیکن فصلوں کی ترتیب میں یہ اختلاف مٹی، آب وہوا، بازارکی مانگ اور کسانوں کی سرمایہ کاری کی استطاعت اور ان کے لیےدستیاب تکنیک کی صلاحیت میں فرق کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس طرح جغرافیہ کا کام کسی دو یا دو سے زیادہ مظاہر میں علتی رشتے کا پتہ لگانا ہے۔
جغرافیہ داں کسی مظہر کا بیان سبب اور اثر کے تعلق سے کرتا ہے ۔ اس کی وجہ سے نہ صرف اس مظہر کی تشریح میں مدد ملتی ہے بلکہ اسے مستقبل میں بھی دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
جغرافیائی مظاہر خواہ وہ ہوں یا انسانی جامد نہیں ہیں بلکہ ازحد متحرک ہیں۔ وہ بدلتی رہنے والی زمین اور ہمیشہ فعال، نہ تھکنے والے انسان کے درمیان تفاعل کے نتیجے میں وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ ابتدائی انسانی سماج براہ راست اپنے قریبی ماحول پر منحصر تھا۔ اس طرح جغرافیہ کا تعلق فطرت اور انسانی تفاعل کے منجملہ مطالعے سے ہے۔ ’انسان‘ ’فطرت‘ کا لازمی جزہے اور ’فطرت‘ پر ’انسانوں‘ کے عمل کا نقش پڑتا ہے ۔ فطرت نے انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو متاثر کیا ہے۔ اس کے اثرات کو کھانے، پہننے، گھر بنانے اور پیشہ کو اپنانے میں دیکھا جا سکتا ہے۔انسانوں نے فطرت کے ساتھ اسے اپنا کر یا تبدیلی کر کے ایک سمجھوتہ کیا ہے ۔ جیسا کہ آپ پہلے سے جانتے ہیں کہ موجودہ سماج ابتدائی سماج کے مر حلے سے گزرا ہے جو اپنی بقا کے لیے براہ راست قریبی طبعی ماحول پر منحصر تھا۔ موجودہ سماج نے اپنے فطری ماحول کو ٹکنا لوجی کے اخترا عات اور استعمال سے بدلا ہے اور فطرت کے فراہم کردہ وسائل سےاستفادہ اور انھیں استعمال کرنے میں اپنے دائرہ کار کو وسیع کیا ہے۔ ٹکنا لوجی کی بتدریج ترقی کی وجہ سے انسان اپنے فطری ماحول کی زنجیروں کی جکڑن کو کم کرنے کے لائق بن سکا ہے ۔ اس ٹکنا لوجی کی وجہ سے جسمانی محنت کی جانفشانی کم ہوئی، محنت کی صلاحیت بڑھی اور انسانوں کو آرام کا وہ موقع ملا جس سے وہ اپنی اعلیٰ ضروریات کو پورا کر سکیں۔اسکی وجہ سے پیدا وار میں اضافہ ہوا اور مزدوروں کی نقل و حرکت بھی بڑھ گئی۔
فطری ماحول اور انسانوں کے با ہمی تعامل کو ایک شاعر نے بڑی خوبصورتی سے انسان اور فطرت (خدا)کےدرمیان مکالمہ کی شکل میں اس طرح بیان کیا ہے
توشب آفریدی چراغ آفریدم
سفال آفریدی ایاغ آفریدم
بیابان و کہسار دراغ آفریدی
خیابا و گلزار و باغ آفریدم
(علامہ اقبال)
’’تم نے رات بنائی میں نے چراغ بنایا’’تم نے مٹی بنائی، میں نے پیالہ بنا د یا ۔ تم نے جنگل، بیا بان، پہاڑی زمین اور ریگستان بنایا میں نے پھولوں کی وادی اور با غیچہ لگا دیا‘‘۔ انسان فطری وسائل کو استعمال کرنے میں اپنے کمالِ ہنر کا دعویٰ کرتا ہے ۔ ٹکنا لوجی کی مدد سے انسان ضرورت کے مرحلے سے نکل کر آزادی کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے ۔ اس نے ہر جگہ اپنا نقش چھو ڑا ہے اور فطرت کے ساتھ مل کر نئے امکانات کو جنم دیا ہے۔ اس طرح اب ہمیں انسان سے متاثرفطرت (humanised nature) اور فطرت سے متاثر انسان (naturalised human beings) ملتے ہیں اور جغرافیہ اسی باہمی کار کردگی کے تعلق کا مطالعہ کرتا ہے۔ نقل و حمل اور مواصلاتی جال کے ذریعہ مکان اور جگہوں کو منظّم کیا گیا ہے۔ لنک (Linkراستوں) اور نوڈ (Node) ( ہر قسم کی بستیاں اور ان کی درجہ بندی) نے جگہوں کو جوڑا اور خود بتدر یج منظّم ہوتے گئے ۔ سماجی علوم کے ایک مضمون کی حیثیت سے جغرافیہ مکانی تنظیم اور (spatial organisation) اور مکانی تکمل (spatial Integration) کا مطالعہ کرتا ہے ۔
بحیثیت مضمون جغرافیہ کا تعلق سوالات کے تین مجموعوں سے ہے :
(i) کچھ سوالات روئے زمین پر پائی جانے والی فطری اور ثقافتی شکلوں کی شناخت سے متعلق ہیں۔ یہ سوالات ’’کیا‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔
(ii) کچھ سوالات روئے زمین پر پائی جانے والی اور ثقافتی شکلوں کی تقسیم سے متعلق ہیں۔ یہ سوالات ’’کہاں‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ دونوں سوالات فطری اور ثقافتی اشکال کی تقسیم اور محل وقوع کے پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ سوالات اشیاء کی شکلوں اور ان کے محل وقوع کی جدولی معلومات فراہم کرتے ہیں۔ سامر اجی عہد میں مطالعے کا یہ طریقہ ایک مقبول عام طریقہ تھا۔ لیکن ان دونوں سوالات سے جغرافیہ ایک سائنسی مضمون نہیں بنتا جب تک کہ تیسرے سوال کا اضافہ نہ کیا جائے۔ تشریح کا تعلق تیسرے سوال سے ہے ۔ با اوصاف ، سلسلہ ءعمل اور مظاہر کے درمیان رشتوں سے ہے ۔ جغرافیہ کا یہ پہلو ’’کیوں ‘‘ سوال سے تعلق رکھتا ہے ۔
بحیثیت مضمون جغرافیہ مکان (Space) سے متعلق ہے اور مکانی خصوصیات وصفات کا جائزہ پیش کرتا ہے ۔ یہ تقسیم، جائے وقوع اور کسی جگہ کسی مظہر ارتکاز کے طرز کا مطالعہ کرتا ہے اور اس طرز کی وضاحت فراہم کرتا ہے ۔ یہ انسانوں اوران کے طبیعی ماحول کے متحرک تعامل سے پیدا شدہ انسلاکات اور ارتباطات کا بھی مشاہدہ کرتا ہے ۔
جغرافیہ بحیثیت ایک تکملی مضمون (Geobraphy as an Integrating Discipline)
جغرافیہ امتزاج کا مضمون ہے۔ یہ مکانی تطبیق کی کوشش کرتا ہےاور تاریخ زمانی تطبیق کی کوشش کرتا ہے ۔ فطری طور پر اس کی رسائی کلی ہے ۔ یہ اس حقیقت کی شناخت پیش کرتا ہے کہ دنیا بین انحصاری کا ایک نظام ہے۔ موجودہ دنیا کا تصور ایک عالمی گائوں سے ہے ۔ نقل و حمل کے بہترین ذرائع کی وجہ سے دوریاں کم ہو گئی ہیں۔ سمعی و بصری ذرائع بلاغ اور معلوماتی ٹکنا لوجی نے معلوماتی اساس (Database)کوثروت مند بنایا ہے ۔ ٹکنالوجی کی وجہ سے فطری مظاہر اور معاشی و سماجی پیمانوں کی بہتر نگرانی کا امکان بڑھ گیا ہے ۔ ایک تکملی مضمون کی حیثیت سے جغرافیہ کا رشتہ کئی فطری اور سماجی علوم کے ساتھ ہے ۔ تمام علوم خواہ وہ طبعی ہوں یا سماجی ان کا بنیادی مقصد حقیقت کی تفہیم ہے۔ جغرافیہ کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ حقیقت کے پہلوؤں سے متعلق مظاہر کے متعلقات کو سمجھے۔ تصویر 1.1 میں جغرافیہ کا تعلق کو دیگر علوم کے ساتھ دکھایا گیا ہے ۔ سائنسی معلومات سے متعلق ہر مضمون جغرافیہ سے بڑامربوط ہے کیونکہ ان کے بہت سے عناصر مکانی حیثیت سے بدلتے رہتے ہیں۔ جغرافیہ حقیقت کو اس کے مکانی تناظر میں کلی طور سمجھنے میں تعاون کرتا ہے ۔ اس طرح جغرافیہ نہ صرف جگہوں کے اعتبار سے بدلنے والے مظاہر کا مشاہدہ کرتا ہے بلکہ ان کو مجموعی طور پر مربوط کرتا ہے جو دوسری جگہوں پر مختلف ہو سکتے ہیں۔ ایک جغرافیہ داں کو تمام متعلقہ میدانوں کی فہم رکھنی چاہئے تاکہ وہ معقول طور پر انہیں مربوط کر سکے۔ اس تکمل کو کچھ مثالوں سے سمجھا جا سکتا ہے ۔ جغرافیہ تاریخی واقعات کو متاثر کرتا ہے۔ دنیا کی تاریخی روش کو بدلنے میں مکانی دوریاں بہت ہی اہم سبب رہی ہیں۔ مکانی پھیلاؤنے خصوصاً گزشتہ صدی میں کئی ممالک کو دفاع فراہم کیا ہے ۔ روایتی جنگ میں بڑے رقبے والے ممالک اپنےپھیلاؤ کی وجہ سے فتح نہ ہو سکے ۔ نئی دنیا کے ممالک کے آس پاس سمندری وسعت نے انہیں دفاع فراہم کیا اور ان کی زمین کو جنگ تھوپے جانے سے محفو ظ رکھا۔ اگر ہم دنیا کے تاریخی واقعات پر نظر ڈالیں تو ان میں سے ہر ایک کی تشریح جغرافیائی طور پر کی جا سکتی ہے ۔ 
جغرافیہ
علم خاک
علم آبیات
علم موسمیات
علم ارضیات
ریاضی اور علم فلکیات
علم شماریات اگنا میٹرکس
معاشیات
علم آبادیات
علم سیاسیات
تاریخ
سماجیات
فلسفہ
علم الانسان
ماحولیاتی علوم
ماحولیات
علم حیوانات
علم نباتات
خاکی جغرافیہ
علم بحریات
علم آب و ہوا
علم ہیئت ارضی
ریاضیاتیاور فلکیاتی جغرافیہ
جغرافیہ میں کمیاتی تکنیک
معاشی جغرافیہ
آبادیاتی جغرافیہ
سیاسی جغرافیہ
تاریخی جغرافیہ
سماجی جغرافیہ
جغرافیائی فکر و نظر
ثقافتی جغرافیہ
ماحولیاتی جغرافیہ
انسانی ماحولیات
حیواناتی جغرافیہ
نباتاتی جغرافیہ
ہندوستان میں ہمالیہ نے ایک عظیم رکاوٹ کا کام کیا ہے اور اس کی حفاظت کی لیکن درّوں نے مرکزی ایشیا کے مہاجرین اور حملہ آوروں کو راستہ فراہم کیا۔ سمندری ساحل نے مشرق اور جنوب مشرقی ایشیا، یوروپ اور افریقہ کے لوگوں کے ساتھ ربط قائم کرنے میں حوصلہ افزائی کی۔ جہاز رانی کی ٹکنا لوجی نے بشمول ہندوستان ایشیا اور افریقہ کے کئی ممالک میں یوروپی ممالک کو اپنی نو آبادی قائم کرنے میں تعاون فراہم کیا کیونکہ انہیں سمندر کے ذریعہ رسائی مل گئی۔ اس طرح جغرافیائی عوامل نے دنیا کے مختلف حصوں کی تاریخ کے رخ کوبدلاہے ۔
ہر جغرافیائی مظہر میں وقت کے ساتھ تبدیلی ہوتی رہتی ہے اور اسے عصری طور پر بیان کیا جا سکتا ہے ۔ارضی ہیئتوں، آب و ہوا، نباتات، معاشی سرگرمیوں، پیشے اور ثقافتی ترقی کی تبدیلیوں میں ایک مقررہ تاریخی روش ہوتی ہے ۔ کئی جغرافیائی خدو خال ایک ہی وقت میں مختلف اداروں کے ذریعہ فیصلہ کن عمل کی بدولت وجود میں آتے ہیں۔ زمان و مکان کو ایک دوسرے کے تعلق سے بدلناممکن ہے۔ مثال کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مقام الف مقام ب سے 1500کلومیٹر دور ہے یا اس کے بدلے یہ کہا جا سکتا ہے کہ مقام الف، مقام ب سے دوگھنٹے دور ہے (اگر ہوائی جہاز سے سفر کیا جائے ) یا سترہ گھنٹے دور ہے (اگر تیز رفتار ٹرین سے سفر کیا جائے )۔ یہی وجہ ہے کہ وقت جغرافیائی مطالعے میں چوتھے بُعد کی حیثیت سے ایک تکملی حصہ بن جاتا ہے ۔ براہ مہربانی دیگر ابعاد ثلا ثہ کا تذکرہ کیجیے۔
ڈائیگرام (1.1)اچھی طرح ظاہر کرتا ہے کہ جغرافیہ کا ربط مختلف طبعی اور سماجی علوم سے ہے ۔ اس ربط کو دو زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔
جغرافیہ اور فطری علوم
(Physical Geography and Natural sciences)
علوم جغرافیہ کی تمام شاخیں جیسا کہ تصویر 1.1میں دکھایا گیا ہے ۔طبیعی سے مربوط ہیں۔ روایتی جغرافیہ ارضیات ، موسمیات، آبیات اور علم خاک سے جڑا ہوا ہے اور اس طرح علم ہئیت ارض (Geomorphology)علم آب و ہوا، علم بحریات اور خاکی جغرافیہ کا گہرا تعلق فطری سائنس سے ہے کیونکہ ان کے اعداد و شمار(Data)انہیں علوم سے ماخوذ ہیں۔ حیاتی جغرافیہ (Bio-Geography)کا نزد یکی تعلق علم نباتات، علم حیوانات اور ماحولیات سے ہے کیونکہ انسان مختلف جائے پناہ میں رہتے ہیں۔
ایک جغرافیہ داں کو ریاضی اور آرٹ میں اور خاص کر نقشہ بنانے میں بھی مہارت ہونی چاہئے ۔ جغرافیہ فلکی عمل وقوع کے مطالعہ سے بھی کافی منسلک ہے اور عرض البلد و طول البلد کی کار کر دگی کو بتاتا ہے ۔ زمین کی شکل کرہ نما (Geoid) ہے لیکن جغرافیہ داں کا بنیادی آلہ نقشہ ہے جو زمین کی نمائندگی دوا ابعاد پر کرتا ہے ۔ کرۂ نما کو دوا بعاد میں منتقل کرنے کے مسئلہ کو گراف کے ذریعہ یا ریاضی کے ذریعہ تیار کردہ اظلال (Projection)سے حل کیا جا سکتا ہے۔ کارٹو گرا فک اور کمیاتی تکنیک کو استعمال کرنے میں علم ریاضی، علم شمار یات (Statistics)اور اکنا میٹرکس (Economatirics)کی اچھی خاصی مہارت ہونی چاہئے۔ نقشے آرٹ سے پرتخیل کے ذریعہ بنائے جاتے ہیں۔ خاکہ کھینچنے، ذہنی نقشہ تیار کرنے اور کار ٹو گرافی کے عمل میں آرٹ میں مہارت کی ضرورت ہوتی ہے ۔
جغرافیہ اور سماجی علوم
(Geography and Social Sciences)
تصویر 1.1میں شامل ہر سماجی علم جغرافیہ کے کسی نہ کسی شعبے سے تعلق رکھتا ہے ۔ جغرافیہ اور تاریخ میں تعلق پہلے ہی تفصیل سے بتا دیا گیا ہے ۔ ہر مضمون کا ایک فلسفہ ہوتا ہے جو اس مضمون کی علت فراہم کرتا ہے فلسفہ بھی مضمون کی بنیاد کا حامل ہوتا ہے اور اس کے ارتقاء کے عمل میں واضح تاریخی عوامل کے تجربات سے بھی گزرتا ہے ۔ اس لیے جغرافیہ کے مادری شعبے کی حیثیت سے جغرافیائی فکر و نظر کی تاریخ کو اس کے نصاب میں آفاقی طور پر شامل کیا گیا ہے ۔ تمام سماجی علوم یعنی سماجیات، سیاست ، معاشیات اور آبادیات سماجی حقیقت کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ جغرافیہ کے شعبے مثلاً سماجی، سیاسی، معاشی اور آبادی و بستیاں ان مضامین سے قریب تر تعلق رکھتے ہیں کیونکہ ان تمام مضامین کی ہی صفات پائی جاتی ہیں۔ سیاسیات کا مرکزی موضوع ، عوام اور اقتدار ہے ، جبکہ سیاسی جغرافیہ، ریاست ، وہاں کے لوگوں اور سیاسی رویے کا ایک مکانی اکائی کی حیثیت سے مطالعہ کرتا ہے ۔ معاشیات معیشت کی بنیادی صفات جیسے پیدا وار، تقسیم، مبادلہ اور صرف سے بحث کرتا ہے ۔ ان تمام اوصاف کا مکانی پہلو بھی ہے اور اس بنا پر معاشی جغرافیہ پیدا وار، تقسیم، مبادلہ اور صرف کے مکانی پہلوؤں کا مطالعہ کرتا ہے ۔ اسی طرح آباد یاتی جغرافیہ (Population Geography)آبادیات (Demography)سے قریبی رشتہ رکھتا ہے۔
مند رجہ بالا بحث سے ظاہر ہوتا ہے کہ جغرافیہ کا فطری اور سماجی علوم کے ساتھ باہمی ربط کافی مضبوط ہے ۔ مطالعہ کرنے کا اس کا اپناطریقۂ کا ر اسے دوسروں سے ممتاز کر دیتا ہے ۔ دیگر مضامین کے ساتھ اس کا نفوذی تعلق ہے ۔ اگر چہ تمام مضامین کا اپنا منفرد دائرہ کار ہے لیکن یہ انفرادیت معلومات کی روانی میں رکاوٹ نہیں بنتی جیسا کہ جسم میں خلیوں کی انفرادی پہچان ہے جو غشا ئیوں سے جدا ہوتے ہیں لیکن خون کی روانی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ۔ جغرافیہ داں ہم عصر مضامین سے اعداد و شمار لیتے ہیں اور انہیں ایک مکانی ترتیب دے کرنظریہ وضع کی کوشش کرتے ہیں۔ جغرافیہ داں کے لیے نقشہ کافی مئوثر آلات ہیں جس میں جدولی اعداد و شمار کو بصری شکل میں تبدیل کر کے مکانی ترتیب پیش کی جاتی ہے ۔
جغرافیہ کی شاخیں (Branches of Geography)
برائے مہربانی تصویر 1.1کا مطالعہ کریں ۔ اس میں صاف طور سے دکھایا گیا ہے کہ جغرافیہ بین العلومی مطالعے کا مضمون ہے ۔ ہر مضمون کا مطالعہ کسی نہ کسی منہج کے مطابق ہوتا ہے ۔ جغرافیہ کے مطالعےکے اہم مناہج ہیں۔ (۱) نظامی اور (۲)علاقائی ۔نظامی جغرافیائی منہج کو رائج کرنے والے جغرافیہ داں الیکزنڈر وون ہمبولٹ1769-1859)(Alexandor) Von Humboldt)ہیں۔ علاقائی جغرافیہ منہج کو ہمبولٹ کے ہم عصر ایک اور جرمن جغرافیہ داں کا رل رِٹّر (1779-1859)(Karl Ritter) نےمتعارف کر ایا ۔
نظامی منہج (تصویر 1.2) میں کسی مظہر کا مطالعہ ایک کل کی حیثیت سے سارے عالم کے لیے کیا جاتا ہے پھر نوعیات کی شناخت کی جاتی ہے یا مکانی ترتیب پیش کی جاتی ہے ۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص قدرتی نباتات کے مطالعے میں دلچسپی رکھتا ہے تو اسے سب سے پہلے پوری دنیا کے نباتات کا مطالعہ کرنا ہوگا ۔ اس کے بعد نوعیات جیسے استوائی بارانی جنگلات یا ملائم لکڑی والے مخروطی جنگلات یا مانسونی جنگلات وغیرہ کی شناخت کرنا، توضیح کرنا اور ان کی حد بندی کرنا ہوگی ۔ علاقائی طرز میں پہلے دنیا کو درجہ وار سطحوں پر مختلف خطوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور پھر کسی ایک خطے کے تمام جغرافیائی مظاہر کا مطالعہ کیا جاتا ہے ۔ یہ خطے قدرتی ، سیاسی یا موسومہ خطے ہو سکتے ہیں۔ کسی خطے کے مظاہر کا کثرت میں و حدت کی تلاش کرتے ہوئے ایک کل کی حیثیت سے مطالعہ کیا جاتا ہے ۔
ثنویت (dualism)جغرافیہ کی ایک اہم خصوصیت ہے جس کا تعارف بہت پہلے ہی ہو گیا تھا۔یہ ثنویت مطالعہ میں اہمیت کے طور پر مذکورپہلو پر منحصر ہوتی ہے ۔ شروع میں محققین کا زور طبیعی جغرافیہ پر تھا ۔ لیکن انسان سطح زمین کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ وہ فطرت کا بھی ایک حصہ ہیں۔ انسانوں نے اپنی ثقافتی ترقی سے سطح زمین کو اپناتعاون دیا ۔ اس طرح انسانی جغرافیہ کی ترویج ہوئی جس میں زیادہ اہمیت انسانی سرگرمیوں کو دی جاتی ہے ۔

جغرافیہ کی شاخیں(نظامی طرز کی بنیاد پر)
جغرافیہ کی شاخیں (نظامی منہج پر مبنی)
(Branches of Geography (Based on Systematic Approache)
1۔جغرافیہ (Physical Geography)
(i) علم ہیئت ارضی (Geomorphology)میں زمینی اشکال ، ان کے ارتقا ء اور متعلقہ سلسلۂ عمل کا مطالعہ کیا جاتا ہے ۔
(ii) علم آب و ہوا (Climatology)میں کرۂ ہوا کی ساخت، موسم اور آب و ہوا کے عناصر، آب و ہواکے خطوں کے بارے میں مطالعہ کیا جاتا ہے ۔
(iii) آبیات (Hydrology)سطح زمین پر آبی اقلیم کا مطالعہ کرتا ہے جس میں بحرا عظم ، جھیلیں، ندیاں اور دیگر آبی مخازن شامل ہیں اور انسانی زندگی اور اس کی سرگرمیوں کے ساتھ زندگی کی مختلف شکلوں پر ان کے اثرات کا مطالعہ کرتا ہے ۔
(iv) خا کی جغرافیہ (Soil Geography) مٹی کے تشکیلی سلسلۂ عمل ، مٹی کی قسمیں ، ان کی زرخیزی کی صورت حال، ان کی تقسیم اور ان کے استعمال کا مطالعہ کرتا ہے ۔
2۔انسانی جغرافیہ (Human Geography)
(i) سماجی؍ثقافتی جغرافیہ (Social/Cultural Geography) کے تحت سماج اور اس کی مکانی تحریکات اور سماج کے مسکنی عطا کردہ ثقافتی عناصر کا مطالعہ کیا جاتا ہے ۔
(ii ) آبادیاتی اور مسکنی جغرافیہ (دیہی اور شہری )
(Population and Settlement Geography)(Rural and Urban)میں آبادیاتی جغرافیہ آبادی کی نمو، تقسیم،ثقافت، جنسی تناسب، ہجرت اور پیشہ ورانہ ساخت وغیرہ کا مطالعہ کیا جاتا ہے ۔ بستی جغرافیہ میں دیہی اور شہری بستیوں کی خصوصیات کا مطالعہ کیا جاتا ہے ۔ بستی جغرافیہ میں دیہی اور شہری بستیوں کے خصوصیات کا مطالعہ کیا جاتا ہے ۔
(iii) معاشی جغرافیہ (Economic Geograpy)میں لوگوں کی معاشی سرگرمیوں جیسے زراعت، صنعت، سیاحت، تجارت اور نقل و حمل، بنیادی سہولیات اور خدمات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔
(iv) تاریخی جغرافیہ (Historical Geography) میں ان تاریخی طریق ہائے عمل کا مطالعہ کیا جاتا ہے جن کے ذریعہ مکان کی تنظیم کی جاتی ہے ۔ موجودہ صورت میں آنے سے پہلے ہر خطے میں کچھ نہ کچھ تاریخی تجربات ہوئے ہیں۔ جغرافیائی اشکال میں بھی زمانی تبدیلیاں ہوئی ہیں اور یہ شکلیں تاریخی جغرافیہ سے تعلق رکھتی ہیں۔
(v) سیاسی جغرافیہ (Political Geography) میں مکان کو سیاسی واقعات کے زاویے سے دیکھا جاتا ہے اور سرحدوں ، پڑوسی سیاسی اکائیوں کے درمیان مکانی تعلقات، انتخابی حلقوں کی حد بندی اور انتخابی منظر کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور آبادی کے سیاسی روئیے کو سمجھنےکے لیے نظریاتی ڈھانچہ تیار کیا جاتا ہے ۔

جغرافیہ کی شاخیں(علاقائی طرز نظر پر مبنی)
3۔ حیاتیاتی جغرافیہ (Biography)
طبیعی جغرافیہ اور انسانی جغرافیہ کی باہمی مواجہت کی وجہ سے حیاتی جغرافیہ کا ارتقا ہوا جس میں درج ذیل شاخیں شامل ہیں:
(i) نباتاتی جغرافیہ (Plant Geography) میں اپنے فطری ماحول میں قدرتی نباتات کی مکانی ترتیب کا مطالعہ ہوتا ہے ۔
(ii) حیوانیاتی جغرافیہ (Zoo Geography) میں جانوروں اور ان کے مسکن کی جغرافیائی خصوصیات اور مکانی ترتیب کا مطالعہ ہوتا ہے ۔
(iii) ماحولیات؍ماحولیاتی نظام (Ecology/Ecosystem)، انواع (Species) کے مساکن، فطری ماحول اور ان کی خصوصیات کا سائنٹیفک مطالعہ ہے ۔
(iv) ماحولیاتی جغرافیہ ((Environmental Geography) پوری دنیا میں ماحولیاتی مسائل جیسے زمین کی مسخ کاری، آلو د گی اور تحفظ کے تعلق سے احساس و بیداری نے جغرافیہ میں اس نئے شعبے کا تعارف کرایا ۔
1.علاقائی مطالعات ؍رقبہ جاتی مطالعات (Regional Studies/Area Studies) اس میں بڑے، وسطی اور چھوٹے پیمانے پر علاقائی مطالعات شامل کیے جاتے ہیں۔
2. علاقائی منصوبہ بندی (Regional Planning) اس میں ملک ؍دیہات اور قصباتی؍ شہری منصوبے شامل ہوتے ہیں۔
3. علاقائی ترقی (Regional Developement)
4. علاقائی تجزیہ (Regional Analysis)
ہر مضمون میں دو پہلو عام ہوتے ہیں۔ وہ ہیں :
(i) فلسفہ
(الف) جغرافیائی فکر و نظر
(ب) زمین اور انسان کا باہمی تفاعل؍انسانی ماحولیات
(ii) طریقۂ کار اور تکنیک
(الف) کارٹوگرافی بشمول کمپیوٹر کا رٹوگرافی
(ب) کمیتی تکنیک؍شمار یاتی تکنیک
(ج) فلیڈ سروے کا طریقہ
(د) جیو انفار میٹکس(ارضیاتی معلومات)جس میں فضائی ادراک (Remote sensing) ، جی آئی ایس ، جی پی ایس وغیرہ شامل ہیں
مند رجہ بالا درجہ بندی جغرافیہ کی شاخوں کا ایک جامع خاکہ پیش کرتی ہے ۔ عام طور جغرافیہ کے نصاب کی تدریس و آموزش اسی خاکے کے مطابق ہوتی ہے لیکن یہ خاکہ جامد نہیں ہے ۔ ہر مضمون کی نشو و نمانئے خیالات، مسائل ، طریقۂ کار اور تکنیک کے ساتھ ہوتی رہتی ہے ۔ مثال کے طور پر پہلے نقشہ نویسی کا کام ہاتھوں سے ہوتا تھا لیکن اب اس کی جگہ کمپیوٹر کارٹو گرافی نے لے لی ہے ۔ ٹکنا لوجی نےمحققین کو بڑی مقدار کے اعداد و شمار کو استعمال کرنے کے قابل بنا دیا ہے ۔ انٹرنیٹ و سیع معلومات فراہم کرتا ہے ۔ اس طرح تجزیہ کرنے کی کوشش کافی حد تک بڑھ گئی ہے ۔ جغرافیائی معلوماتی نظام (GIS)نے وسیع معلومات کادروازہ کھول دیا ہے ۔ جغرافیہ محل و قوعی نظام (GIS) مقامات کے صحیح تعین کے لیے آسان آلہ بن گیا ہے ۔ ٹکنا لوجی کی وجہ سے درست نظریاتی فہم کے ساتھ تر کیبی جدوجہد کی صلاحیت بڑھ گئی ہے ۔
آپ ان تکنیک کے کچھ ابتدائی پہلوؤں کو اپنی کتاب ، جغرافیہ میں عملی کام۔ حصہ اول (این سی ای آر ٹی، 2006)میں پڑھیں گے جس سے آپ اپنی مہارت کو مسلسل فروغ دیں گے اور ان کے استعمال کو سیکھیں گے۔
طبیعی جغرافیہ اور اس کی اہمیت
(Physical Geography and its importance)
یہ باب’’ طبیعی جغرافیہ کے مبادیات‘‘ نامی کتاب میں رکھا گیا ہے ۔ کتاب کا مواد واضح طور پر اس کے دائرہ کار کی عکا سی کرتا ہے ۔ اس لیےیہ مناسب ہے کہ جغرافیہ کی اس شاخ کی اہمیت کو جانا جائے۔ طبیعی جغرافیہ میں کرۂ حجری (ارضئی ہیئتیں، پن نکاسی، ریلیف اور زمینی خد و خال)، کرۂ ہوا (اس کے اجزائے تر کیبی، ساخت، موسم اور آب و ہوا کے عناصر اور کنٹرول، درجہ حرارت، دباؤ ، ہوائیں، بارندگی، آب و ہوائی اقسام وغیرہ) ، کرۂ آب (بحرا عظم، سمندر، جھلیں اور اقلیم آب سے منسلک خصوصیات) اور کرۂ حیات (انسان اور خورد د بینی عضویوں کی شمولیت کے ساتھ زندگی کی شکلیں، ان کے زندہ رہنے کا نظام یعنی غذائی سلسلہ، ماحولیاتی پیرامیٹر اور ماحولیاتی توازن)۔ مٹی کی تشکیل خاک سازی کے طریق عمل سے ہوتی ہے اور سر چشمی چٹان، آب و ہوا ، حیاتی سرگرمی اور وقت پر منحصر ہوتی ہے ۔ وقت کے ساتھ مٹی میں پختگی آتی ہے اور مٹی کے پروفائل بننے میں مدد ملتی ہے ۔ بنی نوع انسان کے لیے ہر عنصر ضروری ہے ۔ ہیئت ارضی انسانی سرگرمیوں کی جائے و قوع کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہے ۔ میدانوں کا استعمال زراعت کے لیے ہوتا ہے ۔ پٹھار جنگلات اور معد نیات فراہم کرتے ہیں۔ پہاڑ چراگا ہیں، جنگلات، سیاحوں کے لیے پر فضا مقامات فراہم کرتے ہیں اور ندیوں کا منبع ہیں جو نشیبی زمین کو پانی فراہم کرتی ہیں۔ آ ب و ہوا ہمارے گھروں کی قسموں، کپڑے اور غذائی عادات کو متاثر کرتی ہے۔ نباتات، فصلی ترتیب، مویشی پالن اور کچھ حد تک صنعت وغیرہ پر آب و ہوا کا واضح اثر دیکھنے کو ملتا ہے۔ انسانوں نے ایسی ٹکنا لوجی کی ترویج کی ہے جو آب و ہوائی عناصر کومحد و د جگہ میں بدل سکتی ہے جیسے ایر کنڈیشنزاور کولر۔ درجۂ حرارت اور بارندگی جنگلوں کی کثافت اور گھاس کے میدانوں کی کیفیت کی ضمانت دیتی ہیں۔ ہندوستان میں مانسونی بارش زراعتی لے کو حرکت دیتی ہے ۔ بارش زمین دوز پانی کے آب گیروں کو ازسر نو چارج کر دیتی ہے جو بعد میں زراعت اور گھریلواستعمال کے لیے دستیاب ہوتا ہے ۔ ہم سمندروں کا مطالعہ کرتے ہیں جو وسائل کا خزانہ ہیں۔ مچھلی اور دیگر سمندری غذاؤں کے علاوہ سمندر میں معدنی وسائل وافر مقدار میں موجود ہیں۔ ہندوستان نے سمندری فرش سے مینکنیز کی گانٹھوں کو جمع کرنے کی ٹکنا لوجی حاصل کر لی ہے۔ مٹی قابل تجدید وسیلہ ہے جو زراعت جیسی کئی معاشی سرگرمیوںکو متاثر کرتی ہے ۔ مٹی کی زر خیزی فطری طور پر مقرر ہوتی ہے اور ثقافتی طور پر بھی برھائی جاتی ہے۔ مٹی پودوں ، جانوروں اور خورد بینی عضو یوں کو اپنے اندر جگہ دے کر کرۂ حیات کے لیے بھی بنیاد فراہم کرتی ہے ۔
جغرافیہ کیا ہے ؟
جغرافیہ کا تعلق سطح زمین کے علاقائی؍رقبہ جاتی اختلافات کے بیان و تشریح سے ہے ۔ (رچرڈہارٹ شورن)
جغرافیہ میں سطح زمین کے مختلف حصوں میں عموماً متعلقہ مظاہر کے اختلافات کا مطالعہ کیا جاتا ہے ۔ (ہیٹز)
ایک مضمون کی حیثیت سے طبیعی جغرافیہ کا مطالعہ قدرتی وسائل کا اندازہ لگانے اور نظم و نسق کرنے کی حیثیت سے ابھر رہا ہے ۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے طبیعی ماحول اور انسان کے درمیان باہمی ربط کو سمجھنا ضروری ہے ۔ طبیعی ماحول وسائل فراہم کرتا ہے اور انسان ان وسائل کا استعمال کرکے اپنی معاشی اور ثقافتی ترقی کو یقینی بناتا ہے۔ جدید ٹکنالوجی کی مدد سے وسائل کے تیز رفتار استعمال نے دنیا میں ماحولیاتی عدم توازن پیدا کر دیا ۔ اس لیے پائیدار ترقی کے لیے طبیعی ماحول کی بہتر فہم مطلقاًلازم ہے۔
مشق
1. کثیر انتخابی سوالات
(i) درج ذیل میں کس محقق نے ’’جغرافیہ‘‘ کی اصطلاح وضع کی؟
(الف) ہیروڈوٹس (ب) اییریٹوستھینز
(ج) گلیلیو (د) ارسطو
(ii) درج ذیل میں کس خدو خال کو طبیعی خدو خال کہا جا سکتا ہے؟
(الف) بندرگاہ (ب) سڑک
(ج) میدان (د) آبی پارک
(iii) ذیل کے دونوں کالموں سے صحیح جوڑے بنائیں اور صحیح انتخاب پر نشان لگائیں:
1.موسمیات الف ۔آبادیاتی جغرافیہ
2. آبادیات ب ۔ خاکی جغرافیہ
3. سماجیات ج ۔ علم آب و ہوا
4. علم خاک د ۔ سماجی جغرافیہ
(الف) 1 ب،2 ج ، 3 الف، 4 د (ب) 1الف،2د،3ب،4ج
(ج) 1د،2ب،3ج،4الف (د) 1ج،2الف،3د،4ب
(iv) درج ذیل میں کون سا سوال سبب، اثر اور ربط سے تعلق رکھتا ہے ؟
(الف) کیوں (ب) کہاں
(ج) کیا (د) کب
(v) درج ذیل میں کون سا سوال مضمون زمانی امتزاج کی کوشش کرتا ہے ؟
(الف) سماجیات (ب) جغرافیہ
(ج) انسانیات (د) تواریخ
2 . درج ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 30 الفاظ میں دیں۔
(i) اسکول جاتے وقت آپ کن اہم تہذیبی خدو خال کا مشاہدہ کرتے ہیں؟ کیاوہ یکساں ہیں یا مختلف ہیں؟ کیا انہیں جغرافیہ کے مطالعے میں شامل کیا جانا چاہئے یا نہیں؟ اگرہاں، تو کیوں؟
(ii) آپ نے ٹینس بال، کرکٹ بال، سنترہ اور اور سیتا پھل دیکھا ہے۔ ان میں سے کون سا زمین کی شکل سے مشابہ ہے ؟ آپ نے اسی خاص چیز کو زمین کی شکل بتانے کے لیے کیوں منتخب کیا ؟
(iii) کیا آپ اپنے اسکول میں ’’ون مہوتسو‘‘ مناتے ہیں؟ ہم اتنے سارے درخت کیوں لگاتے ہیں؟ درخت کس طرح ماحولیاتی توازن کو بر قرار رکھتے ہیں؟
(iv) آپ نے ہاتھی ، ہرن، کیچوے، درخت اور گھاس کو دیکھا ہے۔ یہ کہاں رہتے ہیں یا اُگتے ہیں؟ اس کرہ کو کیا نام دیا گیا ہے؟ کیا آپ اس کرہ کی کچھ اہم خصوصیات بیان کر سکتے ہیں؟
(v) اپنے گھر سے اسکول تک پہنچنے میں آپ کو کتنا وقت لگتا ہے ؟ اگر اسکول آپ کے گھر کی سڑک کے پاردوسری طرف ہوتا توآپ کو اسکول پہنچنے میں کتنا وقت لگتا؟ آپ کے گھر اور اسکول کے درمیانی فاصلے آپ کا آپ کے آنے جانے میں لگنےوالے وقت پر کیا اثر پڑتا ہے؟ کیا آپ وقت کو مکان (دوری ) میں یا اس کے برعکس تبدیل کر سکتے ہیں؟
3. درج ذیل سوالوں کے جواب تقریبًا150الفاظ میں دیں :
(i) آپ روزانہ اپنے گرد پیش میں قدرتی اور ثقافتی مظاہر میں ہونے والی تبدیلی کا مشاہدہ کرتے ہیں ۔ تمام درخت ایک ہی قسم کے نہیں ہیں۔ تمام نظر آنے والے پرندے اور جانور مختلف ہیں۔ یہ تمام مختلف عناصر روئے زمین پر پائے جاتے ہیں۔ اب آپ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ جغرافیہ ’’ علاقائی اختلافات‘‘ کا مطالعہ ہے؟
(ii) آپ نے سماجی مطالعات کے حصوں کے طور پر جغرافیہ، تاریخ، علمِ تمدن اور معاشیات کا مطالعہ پہلے کر لیا ہے ۔ ان کی باہمی مواجہت پر روشنی ڈالتے ہوئے ان مضامین کے تکمل کی کوشش کریں۔
پروجیکٹ کا کام
قدرتی وسیلہ کی حیثیت سے جنگل کا انتخاب کیجیے۔
(i) ہندوستان کا ایک خاکہ بناکر اس پر مختلف قسم کے جنگلات کی تقسیم کو دکھا یے۔
(ii) ہمارے ملک کے لیے جنگلات کی معاشی اہمیت کے بارے میں لکھیے۔
(iii) راجستھان اور اتراکھنڈ میں چپکو تحریک پر مبنی ہندوستان میں جنگلات کے تحفظ کی ایک تاریخی رپورٹ تیار کیجیے۔