Skip to content
Tabaee_geography_kemubadiat



دوسری اکائی

زمین

اس اکائی میں بتایا گیا ہے
  • زمین کی ابتداء اور ارتقاء؛زمین کا اندرونی حصہ ؛ برا عظمی سرکائو سے متعلق ویگیز کا نظریہ ؛ پلیٹ ٹکٹو ٹکس؛ زلزلے اور آتش فشاں   

باب 2


زمین کی پیدائش اور ارتقا ء


کیا آپ کو نرسری کی نظم "Twinkle Twinkle little star"یاد ہے؟ تاروں بھری رات ہمیں بچپن سے ہی ہمیشہ دلکش لگتی ہے۔ آپ نے بھی ان تاروں کے بارے میں سوچا ہوگا اور کئی سوالات آپ کے ذہن میں ابھرے ہوں گے۔ آسمان میں کتنے ستارے ہیں؟ یہ وجود میں کیسے آئے؟ کیا کوئی آسمان کی انتہا تک پہونچ سکتا ہے ؟ ہو سکتا ہے کئی اور سوالات آپ کے ذہن میں ہوں۔ اس باب میں آپ ’’چمکنے والے چھوٹے ستارے ‘‘ کیسے بنے، کے بارے میں سیکھیں گے ۔ اسی کے ساتھ آپ زمین کی ابتدا وارتقا کی کہانی بھی پڑھیں گے ۔

زمین کی ابتدا   (Origin of the Earth)

  اولین نظریات (Early Theories)  

زمین کی ابتدا سے متعلق مختلف فلسفیوں اور سائنس دانوں نے کئی مفر و ضات پیش کیے۔ ان میں سے پہلا اور مشہور مفر و ضہ ایک جرمن فلسفی ایمینویل کانٹ کا تھا ۔ ریاضی داں لیپلاس (La Place) نے اس میں 1976میں ترمیم کی۔ اسے سحابی مفروضہ (Nubular Hypothesis)کہا جاتا ہے۔ اس مفر وضے کے مطابق آہستہ آہستہ گردش کرتے ہوئے شہاب پر لپٹے مادوں کے بادل سے بنے تھے۔اس کے بعد 1900میں چیمبر لین اور مولٹن (Chamberlain and Moulton)نے یہ مفروضہ پیش کیا کہ ایک سیلانی ستارہ سورج کے پاس آ یا جس کے نتیجہ میں سگار کی شکل میں یہ مادے پھیل کرسورج کی سطح سے الگ ہو گئے ۔ جب سورج کے پاس سے گزرنے والا ستارہ آگے چلا گیا تو سورج سے الگ ہوئے مادے سورج کے گرد گھومنے لگے اور دھیرے دھیرے سیاروںکی ٹھوس شکل اختیار کرنے لگے ۔ سرجیمس جینز (Sir James Jeans)اور بعد میں سر ہیر والڈ جیفرے نے اس دلیل کی تائید کی۔ بعد میں سورج کا ایک ساتھی بھی تسلیم کر لیا گیا جو سورج کے ساتھ موجود تھا۔ ان دلیلوں کو دوتائی نظریات (binary theories)کہا جاتا ہے ۔ 1950میں جرمنی کے کارل ویز اسکر اور روس کے اوٹو شمدت (Otto Schmidt)نے سحابی مفروضہ میں ترمیم کی جو تفصیل میں مختلف تھی۔ انہوں نے مانا کہ سورج شمسی سحاب سے گھر اہوا تھا جس میں زیادہ تر ہائیڈ روجن اور ہیلیم (Helium)کے ذرات تھے جن کو دھول کہا جا سکتا ہے، ذرات کی رگڑ اور آپسی ٹکر کی وجہ کے ذریعے سے طشتری نما بادل بن گئے اور عمل الحاق کے ذریعہ سیارے وجود میں آئے ۔  

جدید نظریات (Modern Theories)  

بعد کے سانئس دانوں نے صرف زمین یا سیاروں کے بجائے کائنات کی ابتدا کے مسئلے کو سمجھنا شروع کریا۔ موجودہ دور میں کائنات کی ابتداء سے متعلق سب سے مشہور دلیل بڑے دھماکے کی تھیوری (Big Bang Theory)ہے۔ اسے تو سیعی کائنات کا مفروضہ (expanding universe hypothesis)بھی کہا جاتا ہے۔ 1920میں ایڈوین ہبل (Edwin Hubble)نے کائنات کے پھیلنے کا ثبوت فراہم کیا۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، کہکشائیں (Galaxies)ایک دوسرے سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ آپ تجربہ کر کے پتہ لگا سکتے ہیں کہ کائنات کی تو سیع کا کیا مطلب ہے۔ ایک غبارہ لے کر کہکشاں کو ظاہر کرنے کے لیے اس پر چند نقطے لگائیں اور پھر غبارہ کو پھیلانا شروع کریں تو اس پر بنے نقطے ایک دوسرے سے دور ہوتےہوئے نظر آئیں گے۔ اس طرح کہکشاں کے درمیان فاصلہ بڑھتاجا رہا ہے اور اس بنا پر کائنات کو پھیلتا ہوا تسلیم کیا جاتا ہے۔ آپ یہ دیکھیں گے کہ غبارےپر نقطوں کے درمیان فاصلوں کے بڑھنے کے علاوہ خود نقطے بھی پھیل رہے ہیں۔یہ بات حقیقت کے مطابق نہیں ہے۔ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ کہکشاؤں کے درمیان کا خلا بڑھ تو رہا ہے لیکن مشاہدات کہکشاؤں کی توسیع کی تائید نہیں کر تے۔ اس لیے غبارے کی مثال جزوی طور پر ہی صحیح ہے ۔  

1st

بڑے دھماکے کا نظریہ کائنات کے ارتقاء میں درج ذیل مراحل کو پیش نظر رکھتا ہے :  

(i) شروع میں کائنات کی تشکیل کرنے والے تمام مادے ’’ایک چھوٹی گیند‘‘ (واحد ایٹم) میں نا قابل تصور خفیف جسامت ، لا متنا ہی حرارت اور غیر کثافت کی شکل میں ایک ہی جگہ موجود تھے ۔  

(ii) بڑے دھماکے کے وقت چھوٹی گیند شدت کے ساتھ پھٹی۔ اس کی وجہ سے زبردست توسیع ہوئی۔ اب یہ عام طور پر تسلیم کیا جاتا ہے کہ بڑا دھماکہ اب سے 13.7کھرب سال قبل ہوا اور تب سے اب تک اس کی توسیع ہوتی جا رہی ہے۔ جیسے جیسے یہ بڑا ہوا تو کچھ توانائی مادے میں بدل گئی۔ بڑے دھماکے کے بعد سب سے زیادہ پھیلاؤ ایک سیکنڈ کے کچھ حصوں ہی میں ہوا ۔اس کے بعد پھیلاؤ کم ہو گیا ہے پہلے تین منٹ کے دوروان پہلا ایٹم بننا شروع ہوا۔  

(iii) دھماکے کے بعد تین لاکھ سال کے دوران درجۂ حرارت 4500کیلوین تک گر گیا اور ایٹمی مادوں کی تشکیل ہونے لگی نیز کائنات شفاف ہو گئی ۔ کائنات کی توسیع کا مطلب ہے کہکشاؤں کے درمیان خلاءکا بڑھنا ۔ ہوائل (Hoyle)کا مستقل حالت (steady state)کا تصور اسی نظریئے کا ایک متبادل ہے۔ یہ کائنات کو کسی بھی وقت تقریبًاایک جیسا مانتا ہے ۔ لیکن کائنات کی تو سیع سے متعلق ثبوتوں کے اضافے کی وجہ سے اب سائنس داں کائنات کی توسیع والی دلیل کی حمایت کرتے ہیں۔  

ستاروں کی تشکیل (The Star Formation)  

مادہ اور توانائی کی تقسیم ابتدائی کائنات میں مساوی نہیں تھی۔ کثافت میں ایسی ابتدائی تفریق کی وجہ سے قوت ثقل میں فرق پیدا ہوا جس کی وجہ سے مادے ایک ساتھ جمع ہونے لگےاور یہی کہکشاؤں کی ترقی کی بنیاد بنے۔ ایک کہکشاں میں ستاروں کی کافی بڑی تعداد ہوتی ہے ۔ کہکشائیں وسیع فاصلوں پر پھیلی ہوئی ہیں جن کی پیمائش روشنی کے ہزاروں سال میں کی جاتی ہے۔ ایک کہکشاں کا قطر 80,000سے 1,50,000 نوری سال تک ہوتا ہے ۔ ایک کافی بڑے بادل کی شکل میں ، جسے سحاب (Nebula)کہتے ہیں، ہائڈروجن گیس کے جمع ہونے سے کہکشاں بننا شروع ہوتی ہے۔ بالآخر بڑھتے ہوئے سحاب میں گیسوںکا مقامی جھنڈ بننے لگتا ہے۔ یہ جھنڈ بڑھ کر کثیف گیسوں کا انبار بن جاتا ہے جس سے ستارے بنتے ہیں۔ یہ مانا جاتا ہے کہ ستارے تقریبًا 5سے 6ارب سال قبل بنے تھے۔  

ایک نوری سال فاصلے کی پیمائش ہے نہ کہ وقت کی، روشنی 3,00,000کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہے ۔ اس حساب سے روشنی کے ذریعہ ایک سال میں طے کی گئی دوری ایک نوری سال کہلاتی ہے۔ یہ 9.046 x 1012    کلومیٹر کے برابر ہوتی ہے۔ سورج اور زمین کے درمیان اوسط دوری 1,49,598,000کلو میٹر ہے۔ نوری سال کی اصطلاح میں یہ محض 8.31منٹ ہے۔  


سیاروںکی تشکیل (Formation of Planets)

  سیاروں کے ارتقاء میں درج ذیل مراحل کو تسلیم کیا جاتا ہے :  

(i) ستارے کسی سحاب کے اندر گیس کے مقامی جھنڈہیں۔ گیس کے ان جھنڈوں کے درمیان قوت کشش کی وجہ سے گیسی بادل کا ایک مرکز بن گیا اور اس گیسی مرکز کے چاروں طرف گیس اور دھول کی گھومتی ہوئی بڑی پلیٹ بن گئی۔

(ii) دوسرے مرحلہ میں گیسی بادل گاڑھا ہونا شروع ہو گیا اور مرکز کے ارد گرد کے مادے چھوٹی گول شئےعمل اتصال کی وجہ سے نجمیات(planetesimals)میں تبدیل ہو گئی۔ ایک دوسرے سے ٹکرا کر بڑے مادّے وجود میں آئےاور قوت کشش کی وجہ سے ایک دوسرے سے چپکنے لگے۔ چھوٹے مادی وجودوں کی کثیر تعداد کو نجمیات کہتے ہیں۔

(iii) آخری مرحلے میں چھوٹے نجمیات کی کثیر تعداد ایک دوسرے سے مل کر سیاروں کی شکل میں کچھ بڑے مادی وجود بن گئے۔  

ہمارا شمسی نظام (Our Solar System)  

ہمارا نظام شمسی نو سیاروں پر مشتمل ہے۔ ایک نیا سیارہ 2003 UB313حال ہی میں دریافت ہوا ہے ۔ وہ سحابی ، جس سے ہمارا نظام شمسی بنا ہے ، 5سے 5.6 بلیَن سال پہلے منہدم ہونا اور مرکز بنانا شروع کیا اور4.6 بلیَن سال پہلے سیارے بننا شروع ہو گئے ۔ ہمارا نظام شمسی سورج ایک ستارہ ، نو سیارے، 63چاند، لاکھوں چھوٹے مادی وجود جیسے سیارچوں، شہابیوں اور دھول و گیس کے ذرات کی کثیر مقدار پر مشتمل ہے ۔  

نوسیاروں میں سے عطارد، زہرہ، زمین اور مریخ کو داخلی سیار ے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ سورج اور سیارچوںکی پٹی کے درمیان واقع ہیں۔ دوسرے پانچ سیاروں کو خار جی سیارے کہا جاتا ہے۔ متبادل کے طور پر پہلے چار سیاروں کو ارضی (Terrestrial) یعنی زمین کی طرح کے سیارے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ چٹان اور دھات کے بنے ہیں اور ان کی کثافت بھی نسبتًا زیادہ ہے۔ بقیہ پانچ کو جو وین یا عظیم الجثہ گیس والے سیارے کہا جاتا ہے۔ جو وین (Jovain)کا مطلب ہوتا ہے مشتری کی طرح کا۔ ان میں سے اکثر ارضی سیاروں سے بڑے ہیں اور ان کے کرۂ ہوا کی پرت موٹی ہے جو زیادہ تر ہیلیم اور ہائیڈ روجن پر مشتمل ہے۔ تمام سیارے ایک وقت میں 4.6بلیَن سال قبل بنے۔ ہمارے نظام شمسی سے متعلق کچھ اعداد و شمار ذیل کی فہرست میں دیئے گئے ہیں۔

نظام شمسی

پلوٹو نیپچون یورینس زحل مشتری  مریخ زمین زہرہ عطارد
39.785 30.058 19.182 9.539 5.203 1.524 1.000 0.723 0.387 دوری
0.5-0.9 1.66 1.17 0.70 1.33 3.945 5.517 5.245 5.44 کثافت
-0.3 3.88 4.11 9.460 11.19 0.533 1.000 0.949 0.383 نصف قطر
1 8 تقریبا17  تقریبا18 16 2 1 0 0 سیارچے

2nd

* فلکیاتی اکائی میں سورج سے دوری یعنی زمین کی اوسط دوری (149,598,000کلومیٹر)1 =  

@ کثافت گرام فی مکعب سینٹی میٹر  

# نصف قطر استوائی نصف قطر (6378.137کلومیٹر)=1


ارضی اور جووین (Jovian)سیاروں کے درمیان فرق درج ذیل حالات پر مبنی ہے :  

(i) ارضی سیارے اصل ستارہ کے قریب میں بنے جہاں اتنی زیادہ گرمی تھی کہ گیس گاڑھی ہوکر ٹھوس ذرات میں تبدیل نہ ہو سکی۔ جو وین سیارے کافی دور بنے ۔

(ii) شمسی جھونکا سورج کے پاس شدید تھا۔ اس لیے اس نے ارضی سیاروں سے گیس اور دھول کو اڑا دیا۔ شمسی جھونکے اتنے شدید نہیں تھےکہ جو وین سیاروں سے گیس اڑا سکیں۔

(iii)   ارضی سیارے چھوٹے ہیں اور ان کی کم قوت ثقل فراری گیسوں کو نہ روک سکی ۔  

داخلی سیارے چٹانی کیوں ہیں جب کہ زیادہ تر دیگر سیارے گیس کی حالت میں ہیں؟  


چاند (The Moon)  

چاند زمین کا قدرتی ذیلی سیارہ ہے ۔ زمین کی ابتداء کی طرح ہی یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ چاند کیسے بنا ہے۔ 1838میں سر جارج ڈراون نے اس طرف اشارہ کیا کہ شروع میں چاند زمین کا ہی حصہ تھا اور زمین تیزی سے گردش کرنے والی مادی وجود تھی۔ اس کی پوری جسامت ایک ڈنبل (درمیانی حصہ میں پتلا اور کناروں پر موٹا) کی طرح تھی اور بعد میں یہ ٹوٹ گئی۔ اُنھوں نےیہ بھی بتایا کہ جو مادے چاند کو بنانے کے لیے الگ ہوئے وہ موجودہ بحرالکاہل کے نشیب سے نکلے تھے۔ لیکن موجودہ سائنس داں ان دونوں میں سے کسی تشریح کو نہیں مانتے۔ اب یہ عام طور پر مانا جاتا ہے کہ زمین کے ذیلی سیارے کی حیثیت سے چاند کی تشکیل ’ایک بڑے تصادم‘ یایوں کہا جا سکتا ہے کہ ایک ’’بڑے چھینٹے‘‘ کا نتیجہ ہے۔ زمین کے بننے کے فوراً بعد مریخ کی جسامت سے تین گنا بڑا ایک جرم فلکی زمین سے ٹکرایا۔ اس نے زمین کے ایک بڑے حصے کو خلاء میں اڑا دیا ۔ یہ اڑا ہوا مادہ زمین کا طواف کرنے لگا اور بالآخر تقریباً 4.44بلیّن سال قبل موجودہ چاند کی شکل اختیار کر گیا ۔  

‏زمین کا ارتقاء

(Evolution of the Earth)

کیا آپ جانتے ہیں کہ سیارہ ٔزمین ابتداء میں بنجر، پتھریلی اور گرم چیز تھی جس پر ہائیڈروجن اور ہیلیم کی بہت ہلکی فضا موجود تھی ۔ یہ زمین کی موجودہ تصویر سے بالکل الگ تھی۔ اس لیے بعض تبدیلیاں ایسی ہوئی ہوں گی جن کی وجہ سے پتھریلی، بنجر اور گرم زمین زندگی کے وجود کو سہولت فراہم کرنے والے کافی مقدار میں پانی اور معاون کرۂ ہوا والی خوبصورت سیارے میں بدل گئی۔ درج ذیل حصے میں آپ پائیں گے کہ 4ہزار 6سو ملیَن سال سے اب تک کے زمانے تک کس طرح سطح زمین پر زندگی کا ارتقاء ہوا۔  

زمین کی ساخت پر توں والی ہے۔ کرۂ ہوا کے آخری چھور سے لے کر زمین کے مرکز تک موجود مادے یکساں نہیں ہیں۔ کرۂ ہوا کے مادے کی کثافت سب سے کم ہے۔ سطح زمین سے لے کر سب سے بڑی گہرائی تک زمین کے اندر مختلف پر تیں ہیں اور ہر پرت کا مادہ مختلف اوصاف رکھتا ہے ۔  


زمین میں پرت دار ساخت کیسے بنی؟  


کرۂ حجری کی تشکیل  

(Devlopment of Lithosphere)

اپنے ابتدائی مادے والے مرحلے میں زمین زیادہ تر طیار حالت میں تھی ۔ کثافت میں بتدریج زیادتی کی وجہ سے اندر کی حرارت بھی بڑھتی گئی ۔ نتیجے کے طور پر اندر کے مادے اپنی کثافت کے لحاظ سے الگ ہونے لگے۔ اس کی وجہ سے بھاری مادے (جیسے لوہا) زمین کے مرکز کی طرف بیٹھنے لگے اور ہلکے مادے سطح کی طرف آ گئے ۔ وقت گزر نے کے ساتھ ساتھ زمین مزید ٹھنڈی ہوئی ، ٹھوس ہونے لگی اور چھوٹے سائز میں جمنے لگی۔ اس کی وجہ سے زمین کی اوپری سطح قشرارض کی شکل میں بن گئی ۔ عظیم تصادم کے تحت چاند کے بننے کے دوران زمین مزید گرم ہو گئی۔ تفریقی عمل کے ذریعہ زمین کی تشکیل کرنے والے مادے مختلف پرتوں میں الگ ہو گئے۔ سطح سے لے کر مرکز تک قشرارض، غلافِ ارض، خارجی قلب اور اندرونی قلب جیسی پرتیں ہیں۔ سطح سے مرکز تک مادوں کی کثافت بڑھتی جاتی ہے ۔ ہم دوسرے باب میں ہر پرت کی خصوصیات کے بارے میں تفصیل سے بحث کریں گے ۔  

کرۂ ہوا اور کرۂ آب کا ارتقاء

(Evolution of Atmosphere and Hydrosphere)

زمین کی کرۂ ہوا کی موجودہ بناوٹ میں زیادہ تر نائٹروجن اور آکسیجن ہیں۔ آپ کرۂ ہوا کی ساخت اور اجزائےتر کیبی کےبارے میں باب 8میں پڑھیں گے۔

موجودہ کرۂ ہوا کے ارتقاء کے تین مراحل ہیں۔ پہلا مرحلہ ابتدائی مادوں سے بنا کرۂ ہوا کا خاتمہ ہے۔ دوسرے مرحلے میں زمین کی اندرونی گرمی نےکرۂ ہوا کے ارتقاء میں کردار ادا کیا۔ آخری کرۂ ہوا کی بناوٹ میں ضیائی تالیف (Photosynthesis)کے عمل کے ذریعہ جانداروں کی دنیا نے ردو بدل کیا ۔  

یہ سمجھا جاتا ہے ہائڈروجن اور ہیلیم کے ساتھ ابتدائی کرۂ ہوا شمسی جھونکوں کے نتیجہ میں ختم ہو گیا ۔ یہ تبدیلی صرف زمین کی ہی حالت میں نہیں ہوئی بلکہ تمام ارضی سیاروں میں ہوئی۔ جس میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ اولین کرۂ ہوا شمسی جھونکوں کی وجہ سےختم ہو گیا ۔  

زمین کے ٹھنڈا ہونے کے زمانے میں ٹھوس اندرون زمین سے گیس اور آبی بخارات نکلے۔ اس کی وجہ سے موجودہ کرۂ ہوا کا ارتقاء ہونے لگا۔ اولین کرۂ ہوا میں زیادہ تر آبی بخارات، نائیٹروجن، کاربن ڈائی آکسائڈ، میتھین، امو نیا اور بہت کم آزاد آکسیجن تھی۔ وہ عمل جس کی وجہ سے گیسیں اندرون زمین سے باہر نکلیں، اسے گیس رہائی (Degassing)کہا جاتا ہے۔ لگاتار آتش فشاں کے پھٹنے کی وجہ سے آبی بخارات اور گیس کرۂ ہوا میں ملتے رہے۔ جب زمین ٹھنڈی ہوئی تو باہر نکلے ہوئے آبی بخارات کی تکثیف شروع 



( ارضیاتی اوقاتی پیمانہ)

زندگی/ اہم واقعات عمر/موجودہ سال سے قبل
قرن
(EPOCH)
عرصہ
(PERIOD)
عہد
(ERA)
عصر
(EONS)
جدید انسان ہوموسیپیئن   0تا10,000
10,000
تا 20لاکھ 

ہولوسین پلائسٹوسین کواٹرنری کینوزئک 6 کروڑ
اولین انسان کےآباواجداد بن مانس:پھول والے پودے اور درخت اینتھر وپوائڈبن مانس خرگوش اور کھر ہے چھوٹے پستا نئے چوہے، چوہیا  20لاکھ تا 50
لاکھ
50لاکھ تا 2
کروڑ40لاکھ
2کروڑ40لاکھ
تا 3کروڑ70لاکھ
3کروڑ70لاکھ
تا 5کروڑ80لاکھ

5کروڑ80لاکھ 
تا 6کروڑ50لاکھ

پلایوسین
مایوسین
اولیگوسین
ایوسین
پہلے ایوسین
ٹرشیری 50لاکھ برس سے اب تک
ڈائنا سور کا خاتمہ
ڈائنا سور کا عہد
مینڈک اور کچھوے
6کروڑ50لاکھ تا14کروڑ 40لاکھ
14کروڑ40لاکھ
تا20کروڑ80لاکھ
20کروڑ80لاکھ تا
24کروڑ50لاکھ

 

کریٹیشیئس جوراسک ٹریاسک میسوزوئک
65-245
 


3rd

4th

ہو گئی ۔ کرۂ ہوا کی کاربن ڈائی آکسائڈ بارش کے پانی میں گھل گئی اور حرارت مزید کم ہو گئی جس کی وجہ سے تکثیف میں اور زیادتی ہوئی اور زیادہ بارش ہوئی۔ سطح زمین پر ہونے والی بارش کا پانی نشیبی جگہوں میں جمع ہونا شروع ہوا اور سمندر بن گئے۔ زمین کے بحر اعظم زمین کے بننے کے بعد تقریباً 5سو ملیَن برسوں کے اندر بنے۔ اس سے ہمیں لگتا ہے کہ بحرا عظم 4 ہزار ملیَن سال پرانے ہیں۔ تقریباً 3ہزار 8 سو ملیَن برس قبل زندگی کا ارتقاء ہونے لگا۔ تقریباً آج سے 2 ہزار 5 سو ملیَن سال سے 3 ہزار ملیَن سال قبل ضیائی تالیف کا عمل شروع ہوا۔ بہت دنوں تک زندگی صرف بحراعظموں تک محدود رہی۔ ضیائی تالیف کے عمل کے ذریعہ بحراعظموں میں آکسیجن بننا شروع ہو گیا ۔ تقریباً 2 ہزار ملیَن سال قبل تک سمندر آکسیجن سے سیر شدہ   ہو گئے اور آکسیجن کرۂ ہوا میں پھیلنے لگی ۔  

زندگی کی ابتدا (Origin of Life)  

زمین کے ارتقاء کا آخری دور زندگی کی ابتداء اور اس کے ارتقاء سے متعلق ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ زمین کی ابتدائی حالت حتی کہ پہلاکرۂ ہوا بھی زندگی کے ارتقاء کے لیے معاون نہیں تھا۔ جدید سائنس داں زندگی کی ابتداء کو ایک کیمیاوی تعامل کی حیثیت سے مانتے ہیں۔ اس کیمیاوی تعامل نے پہلے پیچیدہ نا میاتی سالموں کو جنم دیا اور انہیں ملایا۔ یہ ملان ایسا تھا کہ وہ غیر جاندار مادے کو جاندار چیزوں میں تبدیل کر کے اپنا ہم شکل بنا سکے۔ مختلف ادوار میں اس سیارے پر موجود زندگی کار یکا رڈ چٹانوں میں رکازی شکل میں پایا جاتا ہے۔ نیلی الگی (blue algae)کی موجودہ شکل سے قریبی تعلق رکھنے والی خورد بینی ساختیں ارضیاتی بناوٹ میں ملی ہیں ۔ وہ 3ہزار ملیَن سال سے بھی زیادہ قدیم ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہےکہ زندگی کی ابتداء 3 ہزار 8 سو ملیَن سال قبل ہونے لگی تھی۔ ایک خلیہ والے   بیکٹر یا سے جدید انسان تک زندگی کے ارتقاء کی تلخیص ارضیاتی وقتی پیمانے کے ساتھ مندرجہ بالا فہرست میں دی جا چکی ہے ۔  

مشق

1. کثیر انتخابی سوالات

(i) زمین کی عمر ہے:

      (الف) 4.6ملیَن سال (ب)  4.6بلیَن سال

     (ج)  13.7بلیَن سال (د)13.7ٹریلیَن سال

(ii) درج ذیل میں کس کازمانہ سب سے طویل ہے؟  

(الف)عصر (ب)عہد

(ج)عرصہ (د)قرن

(iii) درج ذیل میں کون موجودہ کرۂ ہوا کی تشکیل یا تر میم سے تعلق نہیں رکھتا؟

(الف)شمسی جھونکا (ب)گیس رہائی

(ج)تفریق                 (د)ضیائی تالیف

(iv) داخلی سیارے وہ سیارے ہیں جو :

         (الف)  سورج اور زمین کے درمیان ہیں۔ (ب)  سورج اور سیار چوں (Asteroid)کی پٹی کے درمیان ہیں۔

         (ج)  گیس کی حالت میں ہیں۔ (د)  بغیر ذیلی سیارہ والے ہیں۔  

(v)   زمین پر زندگی موجودہ زمانے سے تقریباً کتنے سال قبل ظاہر ہوئی ؟

(الف) 13.7بلیَن (ب)  4.6بلیَن

            (ج)  3.8ملیَن               (د)  3.8بلیَن  

2.   درج ذیل سوالوں کا جواب تقریباً 30الفاظ میں دیں ۔

(i) ارضی سیارے چٹانی کیوں ہیں؟  

(ii) درج ذیل سائنس دانوں کے ذریعہ زمین کی ابتداء سے متعلق دیئے گئے دلائل میں بنیادی فرق کیا ہے؟  

(الف)  کانٹ اور لیپلاس

(ب)  چیمبر لین اور مولٹن

(iii) تفریق کے طریق عمل سے کیا مراد ہے؟

(iv) ابتدامیں سطح زمین کی ماہیت کیسی تھی؟  

(v) وہ گیس جن سے شروع میں زمین کے کرۂ ہوا کی تشکیل ہوئی، کیسی تھی؟  

3. مند رجہ ذیل سوالوں کا جواب تقریباً 150الفاظ میں دیں :

(i) ’’بڑا دھماکہ نظریہ‘‘ پر ایک تفصیلی نوٹ لکھیے۔

(ii) زمین کے ارتقاء کے مراحل کی فہرست بنا یئے اور ہر مرحلے کو اختصار سے بیان کیجیے۔


پروجیکٹ کا کام  

’’اسٹار ڈسٹ‘‘ پروجیکٹ کے بارے میں مند رجہ ذیل خطوط پر معلومات اکھٹا کیجیے (ویب سائٹ:

- (www.sci.edu/public.html and www.nasm.ed

  (i) کس ایجنسی نے اس پروجیکٹ کو شروع کیا؟  

(ii)  سائنس دانوں کو اسٹار ڈسٹ سے متعلق معلومات اکٹھا کرنے میں دلچسپی کیوں ہے؟  

(iii)   اسٹار ڈسٹ کہاں سے اکٹھا کیا گیا ہے ؟