Skip to content

باب 3



زمین کا اندرونی حصہ 


زمین کی ماہیئت سےمتعلق آپ کا تصور کیا ہے ؟ کیا آپ اسے کر کٹ بال کی طرح ٹھوس یا ایک کھوکھلے بال کی طرح سمجھتے ہیں جس کی چاروں طرف چٹانوں کا موٹا غلاف یعنی کرۂ حجر ہے؟ کیا کبھی آپ نے آتش فشاں کے پھٹنے کی تصویر ٹیلی ویژن اسکرین پر دیکھی ہے؟ کیا آپ آتش فشانی دہانے سے باہر بہتے گرم لاوا، دھول، دھواں، آگ اور میگما (Magma)نکلنے کو دو بارہ یاد کر سکتے ہیں؟ زمین کے اندرونی حصے کو بالواسطہ ثبوتوں سے سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ زمین کے اندرونی حصے تک نہ کوئی پہونچا ہے اور نہ ہی پہونچ سکتا ہے ۔  

زمینی سطح کے خد و خال زمین کے اندرونی حصوں میں واقع ہونے والے اعمال کی پیدا وار ہے۔ خارجی اور داخلی اعمال لگاتار زمینی منظر کی شکل بدلتے رہتے ہیں۔ اگر داخلی اعمال کے اثرات کو نظر انداز کر دیا جائے تو کسی خطے کے زمینی خدو خال کی مناسب مہم ادھوری رہے گی۔ انسانی زندگی زیادہ تر اس خطے کے خدو خال سے متاثر ہوتی ہے ۔ اس لیےیہ ضروری ہے کہ ہم ان قوتوں سے آشنا ہوں جو زمینی مناظر کی تشکیل کو متاثر کرتی ہیں۔ زمین کیوں ہلتی ہے ؟ سنامی لہریں کیوں بنتی ہیں؟ ان کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم زمین کے اندرونی حصوں کی بعض تفصیلات کو جانیں۔گزشتہ باب میں آپ نے دیکھا کہ زمین بنانے والے مادے قشر سے قلب تک پرتوں کی شکل میں منقسم ہیں۔ یہ جاننا دل چسپ ہوگا کہ سائنس دانوں نے کس طرح ان پرتوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور ان میں سے ہر پرت کی خصوصیات کیا ہیں۔ اس باب میں انہیں چیزوں سے متعلق معلومات ہیں۔  

اندرون زمین کے بارے میں معلومات کے ذرائع  

(Source of Information About the Interior)

‏زمین کا نصف قطر 6370 کلومیٹر ہے۔ کوئی بھی انسان زمین کے مرکز تک نہیں پہونچ سکتا تا کہ اس کا مشاہدہ کرے یا مادوں کا نمونہ حاصل کر سکے۔ ان حالات میں آپ کو حیرت ہوگی کہ کس طرح سائنس داں ہمیں زمین کے اندرونی حصے نیز زمین کی گہرائی میں موجود مادے کی قسموں کے بارے میں بتاتے ہیں۔ زمین کے اندرونی حصوں کے بارے میں زیادہ تر ہماری معلومات تخمینوں اورماخوذات پر مبنی ہیں۔ پھر بھی معلومات کا ایک حصہ براہ راست مشاہدوںاور مادوں کے تجزیہ سے حاصل ہوتا ہے ۔  

راست ذرائع (Direct Sources)  

سب سے زیادہ آسانی سے دستیاب ٹھوس زمینی مادہ سطحی چٹان ہے یا وہ چٹانیں ہیں جو کان کنی کے علاقوں سے ملتی ہیں۔ جنوبی افریقہ میں سونے کی کانیں 3 سے 4 کلومیٹر گہری ہیں۔ اس گہرائی سے آگے جانا ممکن نہیں ہے کیونکہ اتنی گہرائی تک پہنچ کر قشری حصے کے حالات کا پتہ لگانے کے لیے کئی پروجیکٹوں پر کام کیا گیاہے ۔ سائنس داں پوری دنیا میں دو بڑے پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں جیسے ’’عمیق بحری برماکاری پروجیکٹ‘‘ (Deep Ocean Drilling)اور بحری مربوط برما کاری پروجیکٹ (Integrated Ocean Drilling)۔ بحر آرکٹک میں کو لا کے پاس عمیق ترین برما کاری (Drilling)اب تک 12 کلومیٹر کی گہرائی تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اور کئی دیگر عمیق برما کاری پر وجیکٹوں نے مختلف گہرائیوں پر جمع کیے گئے موادوں سے معلومات کا ضخیم حصہ فراہم کیا ہے۔

آتش فشاں کا پھٹنا بھی براہ راست معلومات حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ آتش فشاں کے پھٹنے کے دوران جیسے ہی پگھلے مادے (میگما)سطح زمین پر آتے ہیں، انہیں تجربہ گاہ میں تجربہ کے لیے دستیاب کرایا جاتا ہے۔ حالانکہ اس میگما کے منبع کی گہرائی کو معلوم کرنا مشکل ہے۔

بالواسطہ ذرائع (Indirect Sources)  

مادے کی خصوصیات کا تجزیہ بالواسطہ طور پر اندرون زمین کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔ کان کنی کی سر گرمی سے ہم جانتے ہیں کہ درجۂ حرارت اور دباؤ سطح زمین سے اندرون زمین کی طرف بڑھتے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی معلوم ہے کہ مادے کی کثافت بھی گہرائی کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔ ان خصوصیات کی تبدیلی کی شرح کا پتہ لگانا بھی ممکن ہے۔ زمین کی کل موٹائی جاننے کے بعد سائنس دانوں نے مختلف گہرائیوں پر درجۂ حرارت، دباؤ اور کثافت کی مقدار کا تخمینہ لگایا ہے۔ اندرون زمین کی ہر پرت کے تعلق سے ان خصوصیات کی تفصیل اسی باب میں آگے دی گئی ہے۔  

معلومات کا دوسرا ذریعہ وہ شہاب ثاقب ہیں جو کبھی کبھی زمین پر گرتے ہیں، حالانکہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ تجزیہ کے لیے دستیاب مادے شہاب ثاقب کے ہیں، اندرون زمین کے نہیں۔شہاب ثاقب میں مشاہدے میں آئے ہوئےمادے اور ان کی ساخت بالکل اسی طرح ہیں جیسے زمین کی ہیں۔ یہ ٹھوس اجرام ہیں اور انہی مادوں سے بنے ہیں جن سے ہمارا سیارہ بنا ہے۔ اس لیے یہ اندرون زمین کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا ایک دوسرا ذریعہ ہے۔  

دیگر بالواسطہ ذرائع میں قوت ثقل، مقنا طیسی فیلڈ اور زلزلئی سرگرمیاں شامل ہیں۔ قوت ثقل (g)   سطح زمین کے مختلف عرض البلاد پر ایک جیسی نہیں ہوتی۔یہ خط استواء کے پاس کم ہوتی ہے اور قطبین پر زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مرکز زمین سے خط استواء کی دوری قطبین پر زیادہ ہوتی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مرکز زمین سے خط استواء کی دوری قطبین کے بالمقابل زیادہ ہے۔ قوت ثقل کی مقدار مادے کی ضخامت کے اعتبار سے بھی بدلتی رہتی ہے۔ زمین کے اندر مادوں کی ضخامت کی غیر مساوی تقسیم اس مقدار کو متاثر کرتی ہے ۔ مختلف مقامات پر قوت ثقل کی پیمائش دیگر کئی عوامل سے متاثر ہوتی ہے۔ یہ پیمائش متوقع مقداروں سے مختلف ہوتی ہیں۔ اس طرح کے اختلاف کو ثقلی تضاد کہتے ہیں۔ ثقلی تضاد ہمیں قشرارض میں مادوں کی ضخامت کی تقسیم کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔ مقنا طیسی سروے سے بھی قشری حصے میں مقناطیسی مادوں کی تقسیم کی جانکاری ملتی ہے۔ زلزلئی سرگرمی اندرون زمین کے بارے میں معلومات کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ اس لیے ہم اس پر کچھ تفصیلی بحث کریں گے۔  

زلزلے (Earthquake)

زلزلئی لہروں کا مطالعہ اندرونی پرتوں کی مکمل تصویر فراہم کرتا ہے۔ آسان لفظوں میں زلزلہ سے مرادزمین کا ہلنا ہے۔ یہ ایک قدرتی تبدیلی ہے جو توانائی کے اخراج سے ہوتی ہے اور جس سے ہر سمت میں چلنے والی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔  

زمین کیوں    ہلتی    ہے ؟

توانائی کا خروج شگاف کے ساتھ ہوتا ہے ۔ شگاف قشری چٹانوں میں ایک واضح ٹوٹ پھوٹ ہے۔ شگاف پر چٹانیں انہیں دباتی ہیں تو رگڑ انہیں آپس میں متصل کر دیتی ہے۔ پھر بھی مخالف سمت میں ان کی حرکت کا رجحان کسی بھی وقت رگڑ پر غالب ہو جاتا ہے ۔ نتیجے کے طور پر بلاک کی شکل بگڑ جاتی ہے اور آخر کار وہ ایک دوسرے پر تیزی سے پھسلنےلگتے ہیں۔ اس کی وجہ سےتوانائی پیدا ہوتی ہے اور توانائی کی لہریں ہر سمت میں چلتی ہیں۔ وہ نقطہ جہاں سے توانائی خارج ہوتی ہے زلزلے کا ’’ماسکہ‘‘ (Focus)کہلاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اسے ہائپو سینٹر (hypocentre)کہتے ہیں۔توانائی کی   لہریں ہر سمت میں چلتی ہوئی سطح زمین تک پہونچتی ہیں۔ ماسکہ کے قریب سطح زمین پر واقع نقطہ ’مرکزہ‘ (epicentre)کہلاتا ہے۔ یہ لہروں کو سب سے پہلے محسوس کرتا ہے۔ یہ نقطہ ما سکہ کے بالکل اوپر ہوتا ہے ۔  

زلزلئی لہریں (Earthquakes Waves)  

تمام قدرتی زلزلے کرۂ حجر میں ہوتے ہیں۔ آپ اسی باب میں مختلف پرتوں کے بارے میں بعد میں پڑھیں گے ۔ یہاں یہ معلوم کر لینا کافی ہے کہ کرۂ حجر کا تعلق سطح زمین سے 200کلومیٹر تک گہرائی والے حصے سے ہے۔ ایک آلہ جسے زلزلہ نگار یا ’’سیسمو گراف‘‘ کہتے ہیں، سطح تک پہونچنے والی لہروں کو ریکارڈ کرتا ہے۔ تصویر 3.1میں سیسمو گراف پر ریکارڈ کی گئی زلزلئی لہروں کی ٹیڑھی لکیر دی گئی ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ اس ٹیڑھی لکیر کے تین مختلف حصے ہیں جس میں سے ہر ایک مختلف قسم کی ترتیب کو ظاہر کرتا ہے۔ زلزلئی لہریں بنیادی طور پر دو قسم کی ہیں۔ جرمی لہریں (Body waves) اور سطحی لہریں (Surface waves) ۔ جرمی لہریں ما سکہ پرتوانائی کے خارج ہونے سے پیدا ہوتی ہیں اور پوری زمینی حصے کا سفر کرتی ہوئی تمام سمت میں حرکت کرتی ہیں۔ اسی لیے ان کا نام جرمی لہر ہے۔ جرمی لہر سطح کی چٹانوں سے تعامل کر کے لہروں کا نیا مجموعہ پیدا کرتی ہے جسے سطحی لہریں کہا جاتا ہے۔ یہ لہریں سطح کے ساتھ چلتی ہیں۔ جب یہ لہریں مختلف کثافت والے مادوں سے گزرتی ہیں تو لہروں کی رفتار بدلنے لگتی ہے۔ زیادہ کثافت والے مادوں میں رفتار تیزہوتی ہے اور ان کی سمت بھی بدلتی ہے۔ جب یہ مختلف کثافت کے مادوں کے پاس آتی ہیں تو منعکس یا منعطف ہو جاتی ہیں۔  

1st

سطحی لہریں، ثانوی لہریں، ابتدائی لہریں

وسعت، آنے کا وقت

جرمی لہروں کی دو قسمیں ہیں۔ ان کو پی لہر (P-waves) اور ایس لہر (S-waves)کہا جاتا ہے ۔پی لہریں تیزی سے حرکت کرتی ہیں اور سب سے پہلےسطح پر پہونچتی ہیں۔ ان کو ابتدائی لہر (Primary waves)   بھی کہا جاتا ہے۔ پی لہریں آواز کی لہروں کی طرح ہوتی ہیں۔ یہ گیس ، مائع اور ٹھوس تینوں سے گزرتی ہیں۔ ایس لہریں سطح پر کچھ دیر سے پہو نچتی ہیں۔ ان کو ثانوی لہریں(Secondary waves)   کہا جاتا ہے۔ یہ صرف ٹھوس مادوں سے گزرتی ہیں۔ ایسی لہروں کی یہ صفت کافی اہم ہے۔ اس نے سائنس دانوں کو زمین کے اندرونی حصے کو سمجھنے میں کافی مدد کی ہے۔ انعکاس (Reflection)لہروں کو واپس لوٹا دیتا ہے جبکہ انعطاف (Refraction)لہروں کو مختلف سمتوں میں موڑ دیتا ہے۔ لہروں کی سمت میں تبدیلی کو سیسمو گراف پر ان کے ریکارڈ کی مدد سے اخذ کیا جاتا ہے۔ سطحی لہریں سیسمو گراف پر آخر میں ریکارڈ ہوتی ہیں۔ یہ لہریں کافی تباہ کن ہوتی ہیں۔ ان کی وجہ سے چٹانیں کھسک جاتی ہیں اور جس کے نتیجہ میں عمار تیں منہدم ہونے لگتی ہیں۔

زلزلئی لہروں کی سرایت: (Propagation of Earthquake waves)

مختلف زلزلئی لہریں مختلف طرز پر چلتی ہیں۔ جب وہ حرکت کرتی ہیں یا سرایت کرتی ہیں تو وہ چٹانیں لرز نے لگتی ہیں جس سے ہو کر یہ گزرتی ہیں۔پی لہریں، لہروں کی سمت کے متوازی ارتعاش پیدا کرتی ہیں۔ یہ سرایت کی سمت میں مادوںپر دباؤ ڈالتی ہیں۔یہ مادے میں کثافت کی تفریق پیدا کر دیتی ہیں جس کی وجہ سے مادے میں پھیلنے اور سکڑنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ دیگر تینوں لہریں سرایت کی سمت کے عمود پر ارتعا ش کرتی ہیں۔ اس لہر کے ارتعاش کی سمت عمودی سطح میں لہروں کی سمت کے عمود پر ہوتی ہے۔ اس لیے یہ جس مادے سے گزرتی ہیں اس میں چوٹی (Crest)اور نشیب (Trough)پیدا کر دیتی ہیں۔ سطحی لہروں کو سب سے زیادہ تباہ کن لہر مانا جاتا ہے ۔  

سایہ دار منطقہ کا نمود  (Emergence of Shadow Zone)

‏‏زلزلے کی لہریں دور واقع زلزلہ نگار پر ریکارڈ کی جاتی ہیں۔ کچھ خصوصی علاقوں میں لہروں کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا۔   ایسے علاقے کو سایہ دار منطقہ (Shadow zone) کہا جاتا ہے ۔ مختلف واقعات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ہر زلزلے کے مختلف سایہ دار منطقے ہوتے ہیں۔ تصویر 3.2(الف) اور (ب) میں پی اور ایس لہروں کے سایہ دار منطقوں کو دکھایا گیا ہے۔ یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ مرکز سے 1050کے اندر کسی بھی دوری پر واقع زلزلہ نگار پی اور ایس لہروں کی آمد کو ریکارڈ کر لیتا ہے۔ جبکہ 1450سے زائد پر واقع زلزلہ نگار پی لہروں کو ریکارڈ کر لیتا ہے لیکن ایس لہروں کا اندر اج نہیں کرپاتا۔ اس لیے 1050اور 1450کے درمیان منطقے کو دونوں قسم کی لہروں کے لیے سایہ دار منطقہ کی حیثیت سے شناخت کیا گیا ہے ۔ 1050سے آگے پورے منطقے میں ثانو ی لہریں نہیں ملتیں۔ثانوی لہروں کا سایہ دارمنطقہ ابتدائی لہروں کی بہ نسبت زیادہ بڑا ہوتا ہے ۔ ابتدائی لہروں کا سایہ دار منطقہ زمین کے چاروں طرف مرکزہ سے دور ایک پٹی کی شکل میں 1050اور 1450کے درمیان ظاہر ہوتا ہے ۔ ایس لہروں کا سایہ دار منطقہ نہ صرف وسعت میں بڑا ہے بلکہ یہ سطح زمین کے 40 فیصد سے بھی زیادہ حصے پر پھیلا ہوا ہے۔ آ پ کسی بھی زلزلہ کے سایہ دار منطقہ کی نقشہ کشی کر سکتے ہیں بشر طیکہ آپ کو مرکز کا محل وقوع معلوم ہو۔ زلزلے کے مرکز کے محل وقوع کو کیسے معلوم کیا جاتا ہے ؟ (اس کے لیے صفحہ 32 پر سرگرمی والے خانے کو دیکھیں)

زلزلے کی اقسام  

(Types of Earthequakes)

(i) زلزلے کی تمام اقسام میں عام ترین ساختمانی زلزلے (Tectonic earthquake)ہیں۔ یہ شگافی سطح کے ساتھ چٹانوں کے کھسکنے سے پیدا ہوتے ہیں۔  

2nd

3rd

ثانوی لہروں کا سایہ دار منطقہ

یہاں براہ راست ثانوی لہریں موصولنہیں ہوتیں 

تصویر3.2 (الف)اور (ب): زلزلئی سایہ دار منطقے

4th

تھائیلینڈ میں مد و جزری لہروں سے ہوئی تباہی کا ایک منظر

مرینا بیچ، ہند میں مدو جزری لہروں سے ہوئی تباہی کا ایک منظر

انڈونیشیا میں مد و جزری لہروں سے ہوئی تباہی کا ایک منظر

کولمبو، سری لنکا کے ساحلی علاقوں میں مد و جزری لہروں سے ہوئے تباہ گھروں کے ملبوں پر چلتے ہوئے لوگ 


(ii)ساختمانیزلزلے کی ایک خصوصی قسم آتش فشانی زلزلہ ہے۔ حالانکہ یہ صرف فعال آتش فشانی علاقوں تک ہی محدود ہیں۔  

(iii) شدید کان کنی سرگرمی والے علاقوں میں کبھی کبھی زیرزمین کا ن کی چھت گر جانے سے معمولی لرزش پیدا ہو جاتی ہے۔ اسے انہدامی زلزلہ (Collapse earthquake)کہا جاتا ہے ۔  

(iv) کیمیائی یا نیوکلیائی آلات کے پھٹنے سے بھی زمین ہلنے لگتی ہے ۔ ایسی ہل چل کو دھماکے دار زلزلہ(Explosion eathquake)کہتے ہیں۔  

(v) بڑے آبی ذخائر کے علاقوں میں ہونے والے زلزلوں کو آبی ذخائر سےپیداہونے والا زلزلہ (Reservoir induced eathquakes) کہتے ہیں۔  

‏‏زلزلے کی پیمائش   (Measuring Earthquakes)

‏زلزلے کے حادثے کو پیمانے پر جھٹکے کی شدت یا قدر کے اعتبار سے دکھاتے ہیں۔ شدت یا قدر کے پیمانے کو ریکٹر اسکیل(Richeter Scale)کہتے ہیں۔ قدر کا تعلق زلزلے کے دوران خارج توانائی سے ہے۔ اس قدر کو مطلق عدد 0-10میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ شدت کا پیمانہ ایک اطالوی زلزلہ شناس مرکلی کے نام پر ہے۔ شدت کا پیمانہ حادثے کی وجہ سے ہوئی واضح تباہی کے حساب پر مبنی ہوتا ہے ۔ شدت کے پیمانے کا تفاوت 1سے 12تک ہوتا ہے۔  

زلزلہ کے اثرات (Effects of Earthquake)

‏‏زلزلہ ایک قدرتی خطرہ ہے۔ زلزلے کے فوری خطرناک اثرا ت درج ذیل ہیں :  

(i) ز مین کا ہلنا  

(ii) متفرقاتی زمینی مسکن  

(iii) زمین اور کیچڑ کا کھسکنا  

(iv)  مٹی کا رقیق ہونا  

(v) زمین کا جھکاؤ  

(vi) اولانش

(vii) زمین کا ہٹاؤ  

(viii) باندھ اور کناروں کے ٹوٹنے سے سیلاب کا آنا  

(ix) آگ لگنا

   (x) تعمیرات کا انہدام  

(xi) چیزوں کا گرنا

(xii) سونامی  

اوپر درج کی گئی پہلی چھ باتیں ارضی ہیئتوں پر بھی کچھ نہ کچھ اثر ڈالتی ہیں جبکہ دیگر ایسے اثرات ہیں جن کا تعلق فوری طور پر لوگوں کی جان و مال کے ساتھ ہے۔ سونامی کا اثر اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب لرزش کا مرکز بحری پانی کے نیچے ہوتا ہے اور قدر (Scale) کافی اونچی ہوتی ہے ۔ سونامی کی لرزشوں کے ذریعہ پیدا کی گئی لہریں ہیں یہ خود زلزلہ نہیں ہیں بلکہ زلزلہ کا نتیجہ ہیں۔ اگر چہ زلزلے کی اصل سرگرمی کچھ سکنڈ کے بعد ختم ہو جاتی ہے لیکن سونامی کے اثرات تباہ کن ہوتے ہیں خاص کر اس صورت میں جب زلزلے کی قدر ریکٹر پیمانے پر 5 سے زیادہ ہو۔  

زلزلے کے وقوعہ کا تواتر (Frequency of Earthquake Occurrences)

زلزلہ ایک قدرتی خطرہ ہے ۔ اگر اونچی قدر والی لرزش ہوتی ہے تو یہ بھاری جانی اور مالی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ حالانکہ یہ ضروری نہیں کہ گلوب کے تمام حصوں پر بڑے جھٹکے واقع ہوں۔ ہم دوسرے باب میں زلزلوں اور آتش فشاں   کی تقسیم کو تفصیل سے پڑھیں گے۔ یہ بات یا د رکھیں کہ اونچی قدر یعنی +8 والے زلزلے کم ہوتے ہیں۔ اونچی قدروں پر زلزلے ایک یا دو سال میں ایک بار ہوتے ہیں جبکہ چھوٹی قدروں کے زلزلے ہر منٹ پر ہوتے رہتے ہیں۔  

5th

تصویر 3.3:

ایک زلزلے کی وجہ سے یوری میں لائن آف کنٹرول پر امن سیتو کی تباہی کا منظر

زمین کی ساخت (Structure of the Earth)

قشرارض (Crust)

یہ زمین کا سب سے باہری ٹھوس حصہ ہے۔ اس کی ماہیت ٹوٹنے والی (Brittle)ہے۔ قشر کی موٹائی بحری اور بری علاقوں کے تحت بدلتی رہتی ہے۔ بحری قشر برّی قشر کے مقابلے میں پتلی ہوتی ہے۔ بحری قشر کی اوسط موٹائی 5 کلومیٹر ہے جبکہ بری قشر کی موٹائی تقریباً30 کلومیٹر ہے۔ برّی قشر بڑے پہاڑی نظاموں کے علاقے میں زیادہ موٹی ہوتی ہے ۔ ہمالیائی علاقے میں یہ 70 کلومیٹر تک موٹی ہے ۔  

یہ بھاری چٹانوں سے بنی ہے جس کی کثافت مکعب سینٹی میٹر ہے۔ بحری قشر میں پائی جانے والی اس طرح کی چٹان بسالٹ (basalt)ہے۔ بحری قشر میں مادوں کی اوسط کثافت 2.7 گرام فی مکعب سینٹی میٹر ہے۔  

غلاف (Mantle)

قشرارض کے بعد اندرون زمین کا حصہ غلاف یا مینٹل کہلاتا ہے ۔ غلاف موہو غیر تسلسل (Moho's Discontinuity) سے 2900 کلومیٹر کی گہرائی تک پھیلا ہوا ہے۔ مینٹل کے اوپری حصہ کو کرۂ زیر قشر (Asthenosphere)کہا جاتا ہے۔ لفظ استھنیو کے معنیٰ ہیں کمزور۔ یہ چار سو کلومیٹر کی گہرائی تک پھیلا ہے ۔ یہ اس میگما کا اصل منبع ہے جو آتش فشاں کے پھٹنے کے دوران سطح زمین تک اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔ اس کی کثافت (3.4گرام فی مکعب سینٹی میٹر)قشرارض کی کثافت سے زیادہ ہے۔ قشر ارض اور کرۂ زیر قشر کو ملا کر کرۂ حجر کہتے ہیں۔ اس کی موٹائی 10 سے 200 کلومیٹر تک ہوتی ہے۔ نچلا غلاف (Lower Mantle)کرۂ زیر قشر کے بعد ہوتا ہے۔ یہ ٹھوس حالت میں ہے ۔  

6th

تصویر3.4: زمین کا اندرونی حصہ

کرۂ حجر ( قشر اور سب سے بالائی ٹھوس غلاف) 
غلاف(Mantle) 
قلب( Core)

قلب (Core)

جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ زلزلئی لہروں کی رفتار زمین کے قلب کی موجودگی کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ قلب اور غلاف کی سرحد 2900 کلومیٹر کی گہرائی پر واقع ہے ۔ خارجی قلب مائع حالت میں ہے جبکہ داخلی قلب ٹھوس حالت میں ہے ۔ قلب کافی بھاری مادوں سے مل کر بنا ہے جس میں زیادہ تر لوہا اور نکل(Nickel) شامل ہیں۔ اس لیےکبھی کبھی اسے نیفے(nife)(زمین کاسب سے نچلا اندرونی حصہ)پرت بھی کہتے ہیں۔  

آتش فشاں اور آتش فشانی ارضی ہیئتیں

(Volcanoes and Volcanic Landforms)

آپ نے کئی مواقع پر آتش فشاں کی تصویر اور فوٹو گراف دیکھے ہوں گے۔ آتش فشاں وہ مقام ہے جہاں سے گیس، راکھ اور پگھلے چٹانی مادے یعنی لاوازمین پر پہونچتے ہیں۔ کسی آتش فشاں کو اس صورت میں زندہ آتش فشاں کہا جاتا ہے جس میں مذکورہ مادے نکل رہے ہوں یا ماضی قریب میں نکلے ہوں۔ ٹھوس قشر کے نیچے غلاف ہے۔ اس کی کثافت قشر   سے زیادہ ہوتی ہے ۔ غلاف میں ایک کمزور منطقہ ہے جس کو کرۂ زیر قشر (Asthenosphere)کہا جا تا ہے ۔ اسی زیر قشر کے حصے سے پگھلے چٹانی مادے سطح زمین تک پہونچتے ہیں۔ اوپری مینٹل کے حصے والے مادے کو میگما (Magma)کہاجاتا ہے ۔ ایک بار جب یہ قشر کی طرف حرکت کرنا شروع کر دیتا ہے یا سطح تک پہونچتا ہے تو اسے لاوا (Lawa)کہا جاتا ہے۔ جو مادے زمین کے اوپر پہونچتے ہیں ان میں بہتالاوا، آتش زدہ کنکڑ پتھر، آتش فشانی بم، راکھ اور دھول اور گیس جیسے نائٹروجن کے مرکبات، سلفر کے مرکبات اور کلورین، ہائیڈرو جن اور آرگن کی کچھ مقدار شامل ہوتی ہیں۔  

آتش فشاں (Volcanoes)  

پھٹنے کی ماہیئت اور سطح پر بنی شکلوں کی بنیاد پر آتش فشاں کی درجہ بند ی کی جاتی ہے۔ آتش فشاں کی اہم اقسام درج ذیل ہیں۔  

7th



شیلڈ آتش فشاں 
خاکستری مخروط

شیلڈ آتش فشاں (Shield Volcanoes)  

بسالٹ (Basalt) بہاؤ کے علاوہ زمین کے تمام آتش فشانوں میں شیلڈ آتش فشاں سب سے بڑا ہے۔ ہوائی کے آتش فشاں اس کی سب سے مشہور مثالیں ہیں۔ یہ آتش فشاں زیادہ تر بسالٹ سے بنے ہیں ۔بسالٹ ایک ایسا لاوا ہے جو پھٹنے کے وقت کافی سیال ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ آتش فشاں تیز ڈھلان والے نہیں ہیں۔ اگر پانی کے سوراخ (Vent) میں گھس جائے تو دھماکہ خیز ہوجاتے ہیں ورنہ اس کی خصوصیت کم دھماکہ والی ہے۔ خارج ہونے والا لاوا فوارے کی شکل میں نکلتا ہے اور سوراخ کے اوپر مخروطی شکل بناتا ہے جس کو خاکستری مخروط (Cinder Cone) کہتے ہیں۔  

مرکب آتش فشاں(Composite Volcanoes)

ان آتش فشانوں کی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں بسالٹ کے بالمقابل زیادہ ٹھنڈا اور چپچپا لاوا نکلتا ہے۔ یہ آتش فشاں اکثر دھماکوں کے ساتھ پھٹتے ہیں ۔ لاوے کے ساتھ آتش زدہ مادوں کی بڑی مقدار اور راکھ زمین پر نکلتی ہیں۔ یہ مادے سوراخ کے قرب وجوار میں اکٹھے ہوتے ہیں، پر تیں بناتے ہیں اور جمع شدہ انبار مرکب آتش فشاں کی طرح نظر آتا ہے۔  

8th

 


مرکب یا مخلوط؟ آتش فشاں 

 آتش فشانی طشت(Caldera)

یہ زمینی آتش فشانوں میں سب سے زیادہ دھماکے دار ہوتے ہیں۔ یہ عموماً اتنے دھماکہ خیز ہوتے ہیں کہ کوئی طویل ڈھانچہ بنانے کے بجائے اپنے اوپرہی ڈھیر یا منہدم ہونے لگتے ہیں۔ اس منہدم نشیب کو کالڈیرا کہا جاتا ہے۔ ان کی دھماکہ خیزی سے پتہ چلتا ہے کہ لاوے کی سپلائی کرنے والا میگما چیمبر نہ صرف بڑا ہے بلکہ قرب و جوار میں ہی ہے۔  

سیلابی بسالٹ والے علاقے  (Flood Basalt Provinces)

ان آتش فشانوں سے بہت ہی زیادہ سیال لاوا نکلتا ہے جو لمبی دوری تک بہتا ہے۔ دنیا کے کچھ حصے ہزاروں کلو میٹر موٹے بسالٹ لاوا بہاؤ سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ ان میں بہاؤ کے سلسلے ہوتے ہیں جس میں کچھ بہاؤ کی موٹائی 50 میٹر سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ انفرادی بہاؤ بھی کئی سو کلو میٹر تک پھیل سکتا ہے۔ ہندوستان کا دکن ٹریپ (trap) جس میں موجود ہ مہاراشٹر پٹھار کے زیادہ تر حصے آتے ہیں، ایک بڑا سیلابی بسالٹ والا علاقہ ہے ۔ یہ مانا جاتا ہے کہ شروع میں ٹریپ کے موجودہ رقبہ کی بہ نسبت زیادہ علاقے شامل تھے۔

وسط ۔ بحری ستیغ کے آتش فشاں (Mid-Ocean Ridge Volcanoes)

یہ آتش فشاں بحری علاقوں میں ہوتے ہیں۔ وسط۔ بحری ستیغوں کا نظام 70,000کلومیٹر سے بھی زیادہ طویل ہے اور تقریباً تمام سمندری طاسوں میں پھیلا ہوا ہے ۔ اس ستیغ کے مرکزی حصے میں اکثر آتش فشاں پھٹتے رہتے ہیں۔ ہم اس پر اگلے باب میں تفصیل سے بحث کریں گے ۔  

آتش فشانی ارضی ہیئتیں (Volcanic Landforms)

تداخلی یا اندرونی اشکال (Intrusive Forms)  

آتش فشاں کے پھٹنے کے دوران جو لاوانکلتا ہے وہ ٹھنڈ ہوکر آتشی چٹان بن جاتا ہے۔ ٹھنڈا ہونے کا عمل لاوے کے سطح پر پہونچنے کے بعد ہوتا ہے یا لاوا قشری حصوں میں بھی ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ لاوے کے ٹھنڈے ہونے کے محل وقوع کی بنیاد پر آتشی چٹانوں کی (سطح پر ٹھنڈا ہونے والے ) آتش فشانی چٹان (Volcanic Rocks)اور (قشر میں ٹھنڈا ہونے والے ) پلوطانی چٹان(Plutonic rocks)میں درجہ بندی کی جاتی ہے۔ جو لاوا قشری حصوں میں ٹھنڈا ہوتا ہے، اس کی شکل مختلف ہوتی ہے۔ ان اشکال کو تداخلی یا اندرونی اشکال کہا جاتا ہے۔ کچھ شکلیں تصویر 5.२3.میں دکھائی گئی ہیں۔  

9th

تصویر3.5:آتش فشانی ارضی ہیئتیں

فرش پر خاکستری مخروط کے ساتھ کالڈیرا
اشعاعی ڈائک کے ساتھ آتش فشانی گرانہ 
آتش فشانی گنبد کے ساتھ مادی مخروظ 
لاوا پٹھار 
خاکستری مخروط 
لاوا امیسا 
مرکب آتش فشاں 

بیتھولتھ (Batholith)  

مقنا طیسی مادوں کا ایک بڑا وجود جوقشر کی زیادہ گہرائی میں ٹھنڈا ہوتا ہے، ایک بڑے گنبد کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ سطح زمین پر اس وقت ظاہر ہوتے ہیں جب عریاں کاری کا عمل اوپر کے مادوں کو ہٹا دیتا ہے۔ ان کا رقبہ بڑا ہوتا ہے۔ اور یہ کئی کلومیٹر کی گہرائی تک پھیلے ہوتے ہیں۔ یہ گرینائٹ کے وجود ہیں۔ بیتھولتھ میگما چیمبر کے ٹھنڈے حصے ہیں۔  

لیکو لتھ (Lacolith)

یہ سطحی بنیاد والے بڑے گنبد نما تدا خلی وجود ہیں جو نیچے سے نلکی (Pipe)جیسی شکل سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ مرکب آتش فشاں کے سطحی آتش فشانی گنبد کے مشابہ ہوتے ہیں اور زیادہ گہرائی پر واقع ہوتے ہیں۔ انہیں لاوے کا مقامی منبع سمجھا جا سکتا ہے جو سطح تک پہونچنے کا راستہ بنا لیتا ہے۔ کرناٹک کے پٹھار میں گرینا ئٹ چٹانوں کی گنبد نما پہاڑیاں جا بجاپائی جاتی ہیں۔ اب ان میں سے زیادہ تر پرت ریزہ ہو کر لیکولتھ یا بیتھو لتھ کی مثالیں پیش کرتے ہیں۔  

لیپو لتھ، فیکولتھ اورسل (Lapolith, Phacolith and Sills)

جب کبھی لاوا اوپر کی طرف چلتا ہے تو اس کا ایک حصہ افقی سمت میں حرکت کرتا ہے۔ جہاں اسے کمزور سطح ملتی ہے تو یہ مختلف شکلوں میں جمع ہونے لگتا ہے۔ اگر یہ پیالہ نما شکل میں اوپر کی طرف جو فی ہوتا ہے تو اسے لیپو لتھ کہتے ہیں۔ کبھی کبھی تداخلی چٹانوں کے لہری تودے نائودیس (Synclines)کی بنیاد پر یا طاقدیس (Anticline)کے اوپر موڑدار آتشی علاقہ میں پائے جاتے ہیں۔ ایسے لہری مادے میگما چیمبر جو بعد میں بیتھو لتھ ہو جاتے ہیں، کے نیچےمنبع سے ایک متعینہ نلی سے جڑےہوتے ہیں۔ ان کو فیکولتھ کہا جاتا ہے۔ تداخلی آتشی چٹانوں کے تقریباً افقی وجود کو مادے کی موٹائی کے مطابق سل یا شیٹ کہتے ہیں۔ پتلی پرت کوشیٹ کہتے ہیں جبکہ موٹے افقی ذخیروں کو سل کہتے ہیں۔  

ڈائک (Dyke)  

جب لاوا دراڑوں سے اپنا راستہ بناتا ہے تو زمین میں شگاف پڑ جاتے ہیں۔ یہ زمین کے تقریباً عمود پر ٹھوس ہونے لگتا ہے۔ یہ ایسی حالت میں لاوا ٹھنڈا ہوکر دیوار نما ساخت بنا لیتا ہے۔ ایسی ساخت کو ڈائک کہتے ہیں۔ مغربی مہاراشٹر کے علاقے میں یہ عام طور پر پائی جانے والی تداخلی شکلیں ہیں۔ ان کو آتش فشاں کے لیے فیڈر (Feeder)سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ سے دکن ٹریپ کی تشکیل ہوئی ۔  


عملی کام : مرکزہ (Epicentre) کا محل وقوع معلوم کرنا  

اس کے لیے آپ کو ضرورت ہوگی :  

تین زلزلہ پیما مقامات سے پی اور ایس لہروں کی آمد کے وقت کے بارے میں اعداد و شمار ۔  

طریقہ کار  

1. پی اور ایس لہروں کی آمد کے وقت کا تینوں مقامات پرپتہ لگائیے۔

2. پی اور ایس لہروں کے پہو نچنے میں وقت کے فرق کو معلوم کیجیے۔ اسے وقتی تاخیر (Timeag)کہتے ہیں۔ (نوٹ کریں کہ یہ ماسکہ سے زلزلہ پیما کی دوری تک براہ راست متعلق ہے)

A. بنیادی اصول : ہر سیکنڈ کی وقتی تاخیر کے لیے ، زلزلہ آپ سے 8 کلومیٹردور ہے ۔  

3. مذکورہ اصول کا استعمال کر کےوقتی تاخیر کو دوری میں بدلیے (ہر مقام کے لیےسکینڈ کی وقتی تاخیر8 xکلومیٹر)

4. نقشے پر زلزلہ پیما کے مقامات کا محل وقوع دیکھئے۔

5. زلزلہ پیما مقام کو مرکز مانتے ہوئے دائرہ کھینچیے جس کا نصف قطر اس دوری کے برابر ہو جسے پہلے آپ نکال چکے ہیں (دوری کو نقشے کے پیمانے کے مطابق بدلنا نہ بھولیں)

6. یہ دائرے ایک دوسرے کو ایک نقطے پر کاٹیں گے۔ یہ نقطہ مرکزہ کا محل وقوع ہے۔ عام تجر بے میں کمپیوٹر ماڈل کا استعمال کر کے مرکزہ کا محل وقوع معلوم کیا جاتا ہے۔ اس میں قشر ارض کی ساخت کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کچھ سومیٹر تک کے محل وقوع کو صحیح طور پر معلوم کیا جا سکتا ہے۔ اجمالاً جو طریقہ کار یہاں بتایا گیا ہےوہعموماً انجام دیے جانے والے کام کی کافی آسان شکل ہے حالانکہ اصول یکساں ہے ۔  

درج ذیل ڈائیگرام میں مرکزہ کا محل وقوع اسی طریقہ کار کا استعمال کر کے نکالا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ضروری اعداد و شمار کی فہرست بھی ہے۔ آپ خود سے کوشش کیوں نہیں کرتے؟ 


 

اعداد و شمار
آنے والا وقت
        پی لہریں 
گھنٹہ     منٹ      سیکنڈ 
         پی لہریں 
گھنٹہ        منٹ            سیکنڈ
مقام
45   24    03            20           23              03 S1
57    23   03                 17       22               03 S2
55    23   03 00        22             03 S3
نقشہ کا پیمانہ1=40کلومیٹر

10th12th


مشق

1. کثیر انتخابی سوالات۔  

     (i)  درج ذیل میں کون سے زلزلئی لہریں زیادہ تباہ کن ہیں؟  

               (الف)پی لہریں (ب)  سطحی لہریں

              (ج)ایس لہریں   (د)  مذکورہ میں کوئی نہیں

(ii)  زمین کے اندرونی حصوں کی معلومات سے متعلق درج ذیل میں کون راست ذریعہ ہے؟  

(الف)  زلزلئی لہریں (ب)  آتش فشاں

               (ج)  قوت ثقل        (د)زمینی مقناطیسیت

(iii) کس قسم کے آتش فشاں سے دکن ٹریپ کی تشکیل ہوئی ہے؟

(الف) شیلڈ (ب) مرکب

(ج) سیلاب (د) کالڈیدا

(iv) مند رجہ ذیل میں کون کرۂ حجر سے متعلق ہے؟   

(الف) اوپری اور نچلا غلاف      (ب)  قشراور اوپری غلاف  

               (ج)   قشر اور قلب               (د)     غلاف اور قلب

.2 درج ذیل سوالوں کا جواب تقریباً 30الفاظ میں دیں :

        (i)  جرمی لہریں کیا ہیں؟  

      (ii)  اندرون زمین سے متعلق معلومات حاصل کرنے والے راست ذرائع کے نام بتائیے؟  

      (iii)  زلزلئی لہریں سایہ دار منطقہ کیوں بناتی ہیں؟  

     (iv) زلزلئی سر گرمیوں کے علاوہ اندرون زمین سے متعلق معلومات حاصل کرنے والے بالواسطہ ذرائع کا اختصار سے ذکر کریں۔  

.3 مند رجہ ذیل سوالوں کا جواب تقریباً 150الفاظ میں دیں :

(i)  چٹانی تودوں پر زلزلئی لہروں کے سرایت کرنے کے اثرات کیا ہیں جب وہ ان سے گزرتی ہیں؟  

           (ii)  تداخلی اشکال سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ مختلف تداخلی اشکال کی مختصراًتشریح کریں۔