باب 4
بحرا عظموں اور براعظموں کی تقسیم
گزشتہ باب میں آپ نے اندرون زمین کا مطالعہ کیا۔ آپ عالمی نقشہ سے بھی واقف ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ برا عظم سطح زمین کے 29فیصد حصے پر ہیں اور باقی سمندر میں ہیں۔ بر اعظموں اور بحر اعظموں کی حالتیں جیسا کہ آج ہم نقشے پردیکھتے ہیں، ماضی میں ایسی نہیں تھیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بحر اعظموں اور بر اعظموں کی موجودہ حالت آنے والے وقت میں نہیں رہے گی۔ اگر ایسا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ماضی میں ان کی حالت کیا تھی؟وہ اپنی جگہ کیوں اور کیسے بدلتے ہیں؟ اور اگر یہ صحیح ہے کہ بر اعظموں اور بحراعظموں نے اپنی جگہ بدلی ہے اور اب بھی بدل رہے ہیں تو اس کا پتہ سائنس دانوں کو کیسے لگا؟ انہوں نے ان کی پچھلی پوزیشن کو کیسے طے کیا ؟ ان میں سے کچھ مزید متعلقہ سوالوں کے جواب آپ اس باب میں پائیں گے؟
بر اعظمی سرکاؤ (Continental Drift)
دبحر اوقیا نوس کے ساحل کا مطالعہ کیجیے۔ اس بحر اعظم کے دونوں اطراف پر ساحلی خطوط کی یکسا نیت کو دیکھ کر آپ حیرت میں پڑ جائیں گے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ کئی سائنس دانوں نے اس یکسا نیت کے بارے میں سوچا اور دونوں امریکہ، یوروپ اور افریقہ کے کبھی ایک ساتھ ملنے کے امکان پر غور کیا۔ سائنس کے معلوم تاریخی ریکارڈ سے ایک ڈچ نقشہ نویس (ابراہم آرٹیلیس)نے پہلی بار اس امکان کی طرف 1596ء میں اشارہ کیا۔ انٹونیو پلیگرینی نے ایک نقشہ بنایا جس میں اُس نے تینوں براعظموں کو ایک ساتھ دکھایا ۔ 1912 میں ایک جرمن ماہر موسمیات الفریڈویگنرنے ایک جامع دلیل ’’براعظمی سرکاؤنظریہ‘‘ کی شکل میں پیش کی۔ یہ بحراعظموں اور برّاعظموں کی تقسیم سے متعلق تھی ۔
الفریڈ ویگنر(Alfred Wegener) کے مطابق موجودہ سبھی برّاعظم ابتداء میں ایک برّا عظمی تو دہ کی شکل میں تھے اور ایک انتہائی بڑے بحراعظم نے اس کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا ۔ اس نے اس سپر (Super) براعظم کا نام ’’پنجیا‘‘ (Pangaea)رکھا جس کے معنی ہیں تمام زمین۔ اس انتہائی بڑے بحراعظم کا نام ’’پنتھا لسا‘‘ (Panthalassa) تھا جس کے معنیٰ ہیں تمام پانی۔ اس نے یہ دلیل دی کہ تقریباً 200 ملیَن سال قبل سپر براعظم ’’پنجیاً‘‘ ٹوٹنا شروع ہو گیا ۔ پنجیا پہلے دو بڑے بر اعظمی تو دوں میں منقسم ہوا۔ لوریشا(Laurasia) اور گونڈوانا لینڈ (Gondwana land) جو بالترتیب شمالی اور جنوبی حصے بن گئے۔ بعد میں یور یشیا اور گونڈوانا لینڈ کئی چھوٹے براعظموں میں ٹوٹتے چلے گئے جو آج موجود ہیں۔ بر اعظمی سرکاؤ کی تائید میں کئی ثبوت پیش کئے گئے ہیں۔ ان میں سے کچھ ذیل میں دیئے گئے ہیں۔
براعظمی سرکاؤ کی تائید میں ثبوت(Evidence in Support of the Continental Drift)
براعظموں کا تطابق (جگ۔سا۔فٹ) (Jig-Saw-Fit)
(The Matching of Continents (jig-Saw- fit)
ایک دوسرے کے آمنے سامنے افریقہ اور جنوبی امریکہ کے ساحلی خطوط میں قابل توجہ اوریقینی مماثلت پائی جاتی ہے۔ آپ کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ کمپیوٹر پروگرام کا استعمال کرکے بحر اٹلانٹک کے کناروں کی بہترین مناسبت(Best Fit)کا پتہ لگانے کے لیے 1964 میں بلارڈ نے ایک نقشہ تیار کیا۔ اسی میں دونوں ساحلوں کی جوڑی داری کو موجودہ ساحلی خطہ کے بجائے 1000 فیدم لائن پر ملانے کی کوشش کی گئی تھی جو بالکل صحیح ثابت ہوئی۔
بحرا عظموں کے دونوں اطراف میں موجود ایک ہی عمر کی چٹانیں
(Rocks of Same Age Across the Oceans)
حال ہی میں ریڈیو میٹری سےتاریخ نکالنے کے طریقے کی ترویج نے یہ سہولت فراہم کی ہے کہ وسیع بحرا عظموں کے دونوں اطراف میں موجود مختلف بر اعظموں کی چٹانی ساخت میں آپسی تعلق قائم کیا جا سکے۔ برازیل کے ساحل کی 2 ہزار ملیَن سال قدیم چٹانوں کی پٹی مغربی افریقہ کی چٹانوں سے مطابقت رکھتی ہے۔ جنوبی امریکہ اور افریقہ کے ساحل کے ساتھ موجود اولین سمندری ذخیرے جو راسک (Jurassic) عہد کے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت سے پہلے وہاں بحر اعظم کا وجود نہیں تھا۔
ٹلائٹ (Tillite)
یہ گلیشئیر کی ذخیروں سے بنی رسوبی چٹان ہے۔ ہندوستان کے رسوبی چٹانوں کا جنوبی نصف کرہ چھ مختلف زمینی تودوں میں اپنی مماثل شکلوں کی موجودگی کے لیے معروف ہے۔ اس سسٹم کے بنیادی حصے میں ٹلائٹ کی موٹی پرت وسیع اور لمبے عرصے کے گلیشیائی عمل کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس ترتیب کے مماثل حصے ہندوستان کے علاوہ افریقہ، جزیرہ فاک لینڈ، مڈگا سکر، انٹار کٹکا اور آسٹریلیا میں پائے جاتے ہیں۔ گونڈوانا قسم کے رسوب کی مجموعی مشابہت صاف طور پر واضح کرتی ہےکہ ان زمینی تو دوں کی تاریخ نمایاں طور پر ایک جیسی ہے۔ گلیشیائی ٹلائٹ قدیمی آب و ہوا اور براعظموں کے سرکاؤ کا بھی واضح ثبوت فراہم کرتی ہے۔
پلیسر ذخیرے (Placer Deposits)
گھانا ساحل میں سونے کے پلیسر ذخیروں کا ہونا اور اس خطے میں ما خذی چٹانوں کی مطلقاً عدم موجودگی ایک حیرت انگیز حقیقت ہے۔ سونے کی موجودگی والی پرتیں(Gold bearing veins) برازیل میں پائی جاتی ہیں اور یہ واضح ہے کہ گھانا میں سونے کےذخیرے برازیل کے پٹھار سے ماخوذہیں جب دونوں بر اعظم ساتھ ساتھ تھے۔
رکازوں کی تقسیم (Distribution of Fossils)
پودوں اور جانوروں کی ایک جیسی قسمیں جب زمین یا میٹھے پانی میں رہنے کی عادی ہو جاتی ہیں تو وہ سمندری رکاوٹوں کے دونوں طرف پائی جاتی ہیں۔ ایسی تقسیم کی توجیہ کرنے میں مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ ہندوستان، مڈگا سکر اور افریقہ میں لیمور کے ہونے کے مشاہدہ نے کچھ لوگوں کو ان تینوں زمینی تو دوں کو ملا کر ایک مسلسل زمینی تودہ ’’لیموریا‘‘ کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا۔ میسوسورس(Mesousaurus)ایک چھوٹا رینگنے والا جاندار ہے جو اتھلے کھارے پانی میں رہنے کا عادی ہے۔ اس کی ہڈیاں صرف دو مقامات پر پائی گئی ہیں۔ یہ دونوں مقامات اس وقت درمیان میں سمندر کی وجہ سے 4ہزار کلومیٹر دور ہیں۔
سرکاؤ کے لیے قوت (Force for Drifting)
ویگینر کے مطابق براعظموں کی سرکاوی حرکت دو وجوہات سے ہوئی (1) قطبی فراری قوت اور (۲) مدو جزری قوت۔ قطبی فراری قوت زمین کی گردش سے متعلق ہے۔ آپ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ زمین ایک مکمل کرہ نہیں ہے۔ اس میں خط استوا پر ابھار ہےاور یہ ابھار زمین کی گردش کی وجہ سے ہے۔ ویگنیر کی بتائی گئی دوسری قوت یعنی مدوجزری قوت چاند اور سورج کی کشش کی وجہ سے ہے جس کی بناء پر سمندر کے پانی میں مدوجزر پیدا ہوتے ہیں۔ ویگینر کا ماننا تھا کہ اگر یہ قوتیں کروڑوں سال تک کام کرتی رہیں تو ان کے موثر ہونے کے امکانات ہیں۔ بہر کیف زیادہ محققوں نے ان قوتوں کو قطعاً نا کافی مانا ہے۔
سرکاؤ کے بعد کے مطالعے (Post Drift Studies)
یہ بات دلچسپ ہے کہ براعظمی سرکاؤ کے لیے زیادہ تر ثبوت نباتات یا حیوانات کی تقسیم کی شکل میں یا ٹلائٹ جیسے ذخیروں کی شکل میں براعظمی علاقوں سے اکٹھا کیے گئے تھے۔ جنگ کے بعد کے زمانے میں کئی دریافتوں سے ارضیاتی ادب میں اضافہ ہوا۔ خاص کر سمندری فرش کی نقشہ کشی سے اکٹھا کی گئی معلومات نے برّا عظموں اور بحر اعظموں کی تقسیم کے مطالعے کے لیے نئی جہت فراہم کی۔
حمالی دھار اؤں کا نظریہ
(Convectional Current Theory)
آرتھر ہو مز نے 1930 کے عشرہ میں مینٹل کے حصہ میں فعال حمالی دھاراؤں کے امکانات پر بحث کی۔ یہ دھارا میں مینٹل کے حصے میں تاب کا ر عناصر کی وجہ سے پید اشدہ احرارتی فرق کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ ہومز نے کہا کہ ایسے دھاراؤں کا نظام پورے مینٹل کے حصے میں موجود ہوتا ہے۔ یہ قوت کے مدے پر ایک تشریح فراہم کرنے کی کوشش تھی جس کی بنیاد پر ہم عصر سائنس دانوں نے بر اعظمی سرکاؤ کے نظریئے کوبرخاست کر دیا۔
بحراعظمی فرش کی نقشہ کشی
(Mapping of the Ocean Floor)
بحرا عظم کی شکل وصورت کی تفصیلی تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ بحری فرش صرف ایک وسیع میدان نہیں ہے بلکہ یہ ریلیف سے بھرا ہوا ہے۔ جنگ کے بعد کے زمانے میں بحری فرش کی نقشہ نویسی کی مہمات نے بحری ریلیف کی تفصیل پیش کی اور پانی میں ڈوبے پہاڑی سلسلوں اور گہری خندقوں کے وجود کا پتہ دیا جو زیادہ تر بر اعظمی کناروں کے پاس ہی واقع ہیں۔ وسط بحری ستیغ آتش فشاں کے پھٹنے کے معاملے میں سب سے زیادہ فعال پائے گئے تھے۔ بحری قشر کی چٹانوں کی تاریخ نے اس حقیقت کو ظاہر کیا کہ یہ چٹانیں براعظمی علاقوں کی بہ نسبت زیادہ نو خیز ہیں۔ بحری ستیغ کے چوٹی کے دونوں طرف کی چٹانیں اور چوٹی سے برابر دوری پر واقع ہونے سے ان کی بناوٹ اور عمر میں قابل ذکر یکسا نیت کا پتہ چلا ہے ۔

تصویر4.1: بحری فرش
بحری فرش کی شکل وصورت
(Ocean Floor Configuration)
اس حصےمیں ہم کچھ چیزوں کو نوٹ کریں گے جو بحری فرش کی شکل و صورت سے متعلق ہیں اور ہمیں بر اعظموں اور بحراعظموں کی تقسیم کو سمجھنے میں مدد کرتی ہیں۔ آپ تیر ہویں باب میں بحری فرش کا تفصیلی مطالہ کریں گے۔ سمندر کی گہرائی اور ریلیف کی شکلوں کی بنیاد پر بحری فرش کو تین اہم حصوںمیں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ یہ حصے ہیں: براعظمی حاشیئے، گہرے سمندری طاس اور وسط بحری ستیغ۔
براعظمی حاشئیے(Continental Margins)
یہ برا عظمی کناروں اور گہری سمندری طاس کے درمیان عبوری حصہ بناتے ہیں۔ ان میں براعظمی شیلف، براعظمی ڈھال، براعظمی ابھار اور گہری بحری کھائیاں شامل ہیں۔ ان میں سے گہری بحری کھائیاں بحراعظموں اور بر اعظموں کی تقسیم کے سلسلےمیں قابل لحاظ دلچسپی والے علاقے ہیں۔
پاتالی میدان (Abyssal Plains)
یہ وسیع میدان ہیں جو براعظمی حاشیئے اور وسط، بحری ستیغوں کے درمیان واقع ہیں۔ پاتالی میدان وہ علاقے ہیں جہاں براعظمی رسوب کناروں کو پار کرکے ذخیرہ اندوز ہوتےہیں۔
وسط۔ بحری ستیغ (Mid-Oceanic Ridges)
یہ بحر اعظموں میں پہاڑی نظام کا ایک بین ربطی سلسلہ بناتا ہے۔ یہ سطح زمین پر سب سے طویل پہاڑی سلسلہ ہے حالانکہ یہ بحری پانی کے نیچے ڈوبا ہوا ہے۔ اس کی خصوصیات میں چوٹی پر مرکزی شگاف کا نظام، اس کی لمبائی میں شکستہ پٹھار اور بغلی منطقے شامل ہیں۔ چوٹی پر شگافی نظام شدید آتش فشانی سرگرمیوں کا خطہ ہے۔ گزشتہ باب میں آپ کو اس قسم کے آتش فشاں اور وسط بحری آتش فشاں سے تعارف کرایا جا چکا ہے ۔
زلزلےاور آتش فشاں کی تقسیم(Distribution of Earthquakes and Volcanoes)
تصویر 2.4 میں دیئے گئے زلزلئی سرگرمیوں اور آتش فشاں کی تقسیم کو دکھانے والے نقشے کا مطالعہ کیجیے۔ آپ بحر اٹلانٹک کے وسطی حصے میں ساحلی خطوط کے متوازی نقطوں کی ایک لکیر دیکھیں گے۔ یہ لکیر آگے بحر ہند میں بھی بڑھ جاتی ہے اور بر صغیر ہند کے جنوب میں دو حصوں میں منقسم ہو جاتی ہے۔ اس کی ایک شاخ مشرقی افریقہ کی طرف جاتی ہے اور دوسری میا نما ر سے ینوگنی تک اسی طرح کی لکیر سے ملتی ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ نقطوںکی یہ لکیر وسط بحری ستیغ سے ملتی ہے۔ سایہ دار پٹی ارتکاز کے دوسرے علاقے کو دکھاتی ہے جوالپائن، ہمالیائی نظام اور بحر الکاہل کے حلقے سے ملتی ہے۔ عام طور پر زلزلے کے ما سکے وسط بحری سلسلوں کے علاقے میں کم گہرائی پر ہوتے ہیں جبکہ الپائن، ہمالیائی پٹی اور بحر الکاہل کے حلقے کے ساتھ زلزلے کافی گہرائی میں آتے ہیں۔ آتش فشاں کا نقشہ بھی اسی طرح کی ترتیب کو دکھاتا ہے۔ بحر الکاہل کے کناروں کو حلقۂ آتش بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس علاقے میں فعال آتش فشاں پائے جاتے ہیں۔

سمندری فرش کے پھیلاؤ کا تصور
(Concept of Sea Floor Spreading)
جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ سرکاؤ کے بعد کے مطالعات سے کافی معلومات

تصویر4.3:سمندری فرش کی توسیع
بر اعظمی شگاف کا منطقہ امتزاجی پلیٹ سرحد انتشاری پلیٹ سرحد متغیرہ پلیٹ سرحد امتزاجی پلیٹ سرحد بر اعظمی قشر
خندق بحری توسیعی ستیغ شیلڈ آتش فشاں طبقاتی آتش فشاں
بر اعظمی قشر بحری قشر کرۂ حجری
مغلوب پلیٹ کرۂ زیر قشر گرم مقام
حاصل ہوئیں جو اس وقت موجود نہیں تھیں جب ویگینر نے بر اعظمی سرکاؤ کے تصور کو پیش کیا تھا ۔ خاص کر سمندری فرش کی نقشہ کشی اور سمندری خطوں کی چٹانوں کے قدیمی مقناطیسی مطالعوں سے درج ذیل حقائق سامنے آئے:
1. یہ محسوس کیا گیا کہ وسط بحری ستیغوں کے ساتھ آتش فشاں کا پھٹنا عام ہے جو اس علاقے میں لاوے کی ایک بڑی مقدار لاتے ہیں۔
2. وسط بحری ستیغوں کی چوٹی کے دونوں طرف برابر فاصلے پرواقع چٹانوں کی بناوٹ کے زمانے، کیمیاوی ترکیب اور مقناطیسی خصوصیت میں قابل ذکر یکسانیت پائی جاتی ہےاور یہ نہایت نوخیز ہیں۔ چوٹی سے دوری میں اضافے کے ساتھ چٹانوں کی عمر میں بھی اضافہ پایا جاتا ہے۔
3. سمندری قشر کی چٹانیں بر اعظمی چٹانوں کی بہ نسبت زیادہ کم عمر ہیں۔ سمندری قشر کے چٹانوں کی عمر 2 سو ملیَن سال سے زیادہ نہیں ہے جبکہ کچھ براعظمی چٹانیں 3 ہزار 2 سو ملیَن سال پرانی ہیں۔
4. سمندری فرش پر رسوب غیر متوقع طور پر بہت پتلے ہیں جب کہ سائنس دانوں کو یہ امید تھی کہ اگر سمندری فرش اتنے قدیم ہیں جتنا کہ براعظم تو ان پر رسوبوں کی ترتیب لمبے عرصے کی وجہ سے پورے طور پر ہونی چاہیے تھی لیکن کہیں بھی رسوب کا کالم 2 سو ملیَن سال سے زیادہ پرانا نہیں ۔
5. سمندری کے فرش پر پائی جانے والی گہری کھائیوں میں زلزلے کافی گہرائی میں آتے ہیں جبکہ وسط بحری ستیغ کے علاقے میں زلزلے کے ما سکے کم گہرائی پر ہوتے ہیں۔
یہ حقائق اور وسط بحری ستیغ کے دونوں اطراف کی چٹانوں کی مقناطیسی خصوصیات کے تفصیلی تجزیہ کی وجہ سے ہیس(Hess) نے 1961 میں ’’سمندری فرش کے پھیلاؤ‘‘ کا مفروضہ پیش کیا۔ ہیس کی دلیل یہ تھی کہ بحری ستیغوں کی چوٹی پر لگا تار آتش فشاں کے پھٹنے سے بحری قشرٹوٹ گئے اور اس میں نیا لاوا (Lawa) گھس گیا جس سے بحری قشر دونوں طرف ہٹ گئے ۔ اس طرح سمندری فرش کا پھیلاؤ ہوا ۔ بحری قشروں کی کم عمری اور یہ حقیقت کہ ایک سمندر کے پھیلاؤ کی وجہ سے دوسرا سمندر نہیں سکڑتا ، کی وجہ سے ہیس نے بحری قشر کی صرف (consumption) کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔ اس نے مزید یہ کہا کہ بحری فرش جو آتش فشانی فشار کی وجہ سے دھکیل دیاجاتا ہے وہ سمندری کھائیوں میں ڈوب جاتا ہے اور صرف کر لیا جاتا ہے۔ تصویر 4.3میں سمندری فرش کی توسیع کا بنیادی تصور پیش کیا گیا ہے ۔
پلیٹ ٹکٹو نکس یا ساختمانی پلیٹ (Plate Tectonics)
سمندری فرش کے پھیلاؤ کے تصور کے رائج ہونے سے بحرا عظموں اور براعظموں کی تقسیم کے مسئلے میں دلچسپی پھر سے شروع ہو گئی ۔ 1967 میں

تصویر4.4:ارضیاتی ماضی میں بر اعظموں کی پوزیشن
420ملین سال قبل
120ملین سال قبل
540ملین سال قبل
300ملین سال قبل
گزشتہ 540ملین سالوں کے دوران بر اعظموں کی نقل و حرکت۔
1۔افریقہ 2۔ جنوبی امریکہ 3۔انٹارکٹکا 4۔آسٹریلیا 5۔ہندوستان 6۔چین 7۔شمالی امریکہ 8۔یوروپ 9 اور 10۔ سائبیریا (ایمیلانی،1992)
میکنزی (Mckenzie)، پار کر (Parker)اور مورگن (Morgan) نے موجود خیالات کو آزادانہ طور پر یکجا کیا اور ایک دوسرے تصور کو پیش کیا جسے پلیٹ ٹکٹونکس کا نام دیا جاتا ہے۔ پلیٹ ٹکٹونکس یا سا ختمانی پلیٹ (اسے کرۂ حجری پلیٹ بھی کہا جاتا ہے) ایک بڑی ضخامت والی نا ہموار شکل کی ٹھوس چٹانوںکی سِل ہے جو عام طور پر برّی اور بحری کرۂ حجر سے بنی ہوئی ہے۔ یہ پلیٹیں افقی سِمت میں ٹھوس اکائی کے طور پر کرۂ زیر قشر ارض (Asthenospherere) کے اوپر حرکت کرتی رہتی ہیں۔ کرۂ حجری میں قشر ارض اور بالائی مینٹل دونوں شامل ہوتے ہیں۔ جن کی موٹائی بحری حصے میں 5 سے 100 کلومیٹر کے درمیان اور برّی حصے میں 200 کلومیٹر تک رہتی ہے۔ ایک پلیٹ برّی بھی ہو سکتی ہے اور بحری بھی۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس کا زیادہ تر حصہ دونوں میں سے کس میں پایا جاتا ہے ۔ بحر الکا ہلی پلیٹ ، بحری پلیٹ ہے جبکہ یوریشیائی پلیٹ برّی پلیٹ ہے ۔ ساختمانی پلیٹ کا نظریہ یہ بتاتا ہے کہ زمین کا کرۂ حجر سات بڑی پلیٹوں اور کچھ چھوٹی پلیٹوں میں منقسم ہے۔ ان بڑی پلیٹوں کے چاروں طرف نئے موڑدار پہاڑی ستیغ، کھائیاں اور شگاف ہوتے ہیں۔ (شکل ४4.5)
بڑی پلیٹیں درج ذیل ہیں:
1. انٹارکٹکا اور اس کے چاروں طرف کی بحری پلیٹ
2. شمالی امریکی پلیٹ (جس میں مغربی اٹلانٹک فرش شامل ہے اور جو کیریئبن جزائر کے ساتھ جنوبی امریکی پلیٹ سے جدا ہوتی ہے)
3. جنوبی امریکی پلیٹ (جس میں مغربی اٹلانٹک فرش شامل ہے اور جو کیریئن جزائر کے ساتھ شمالی امریکی پلیٹ سے جدا ہوتی ہے )
4. بحرالکا ہلی پلیٹ
5. ہندوستان۔ آسٹریلیا ۔ نیوزی لینڈ والی پلیٹ

6. افریقہ مشرقی اٹلانٹک کی فرشی پلیٹ کے ساتھ
7. یوریشیا اور متصلہ بحری پلیٹ ۔
کچھ اہم چھوٹی پلیٹیں درج ذیل ہیں:
.1 کوکوز پلیٹ : وسطی امریکہ اور بحرا لکاہلی پلیٹ کے درمیان ۔
.2 نزکا پلیٹ : جنوبی امریکہ اور بحرا لکاہلی پلیٹ کے درمیان ۔
.3 عربی پلیٹ : زیادہ تر سعودی عرب کا زمینی تودہ ۔
.4 فلپائنی پلیٹ: ایشیائی اور بحر الکاہلی پلیٹ کے درمیان ۔
.5 کیرو لائن پلیٹ: فلپائن اور ہندوستانی پلیٹ کے درمیان (نیوگنی کے شمال میں)
.6 فیوجی پلیٹ : آسٹریلیا کے شمال مشرق میں۔
پوری ارضی تاریخ میں یہ پلیٹیں ہی لگاتار گلوب پر حرکت کر رہی ہیں نہ کہ برّا عظم جیسا کہ ویگینر نے سوچا تھا۔ سبھی براعظم پلیٹ کا ہی حصہ ہیں اور یہ پلیٹیں ہی ہیں جو حرکت کر رہی ہیں۔ یہ بھی ذہن نشیں کر لینا چاہیے کہ ارضیاتی ماضی میں بغیر کسی استثناء کے تمام پلٹیوں نے حرکت کی ہے اور آئندہ زمانوں میں بھی اسی طرح حرکت کرتی رہیں گی۔ ویگینر نے سوچا تھا کہ شروع میں تمام برّاعظم ایک سُپر(Super) برّا عظم کی طرح پنجیا (Pangaea)ی شکل میں موجود تھے۔ بہر کیف بعد کی دریا فتوں نے یہ ظاہر کیا کہ پلیٹوں پر پڑے براعظمی تودے پورے ارضیاتی عہد میں گھومتے رہے ہیں اور پنجیا مختلف براعظمی تودوں کے امتزاج کا نتیجہ تھا جو کسی نہ کسی پلیٹ کا حصہ تھے۔ سائنس دانوں نے قدیم مقناطیسی اعداد و شمار کا استعمال کرکے مختلف ارضیاتی عہد میں موجودہ براعظمی تودوں کی پوزیشن کو متعین کیا ہے ۔ نا گپور کے علاقے کی چٹانوں کا تجزیہ کر کے بر صغیر ہند (زیادہ تر جزیرہ نما ہند) کی پوزیشن کا تعیُّن کیا گیا ہے ۔
پلیٹوں کی حدود کی تین اقسام ہیں۔
انتشاری سرحدیں (Divergent Boundaries)
یہ وہ سرحدیں ہیں جہاں پلیٹیں ایک دوسرے سے الگ ہوتی ہیں تونئی قشر وجود میں آتی ہے۔ وہ جگہ جہاں سے پلیٹیں ایک دوسرے سے دور ہوتی ہیں اسے تو سیعی جگہ کہا جاتا ہے۔ انتشاری سرحد کی بہترین مثال وسط اٹلانٹک بحری ستیغ ہے۔ یہاں پر امریکی پلیٹیں یوریشیائی اور افریقی پلیٹوں سے الگ ہوتی ہیں۔
امتزاجی سرحدیں (Convergent Boundaries)
یہ وہ سرحدیں ہیں جہاں ایک پلیٹ کے دوسری پلیٹ کے نیچے کی جانب چلے جانے سے قشر برباد ہو جاتا ہے ۔ وہ جگہ جہاں ایک پلیٹ دوسری پلیٹ کے نیچےڈوبتی ہے اسے مغلوب منطقہ (Subduction zone) کہتے ہیں۔ تین طریقے سے امتزاج ہو سکتا ہے۔ (1)بحری اور برّی پلیٹ کے درمیان؛ (2)دو بحری پلیٹوں کے درمیان ؛ اور (3)دو برّی پلیٹوں کے درمیان ۔
متغیرہ سرحدیں (Transform Boundaries)
یہ وہ سرحدیں ہیں جہاں پلیٹیں افقی طور پر ایک دوسرے پر پھسلتی ہیں تو نہ کوئی نیا قشر بنتا ہے اور نہ ہی برباد ہوتا ہے۔ متغیرہ شگاف جدائی کی وہ سطح ہے جو عموماً وسط بحری ستیغوں کے عمود پر ہوتی ہے۔ چونکہ پوری چوٹی پر آتش فشاں کا پھٹنا ایک ساتھ نہیں ہوتا اس لیے زمین کے محور سے دور پلیٹ کے حصے میں تفریقی حرکت ہوتی ہے۔ پلیٹ کے جدا ہوئے حصے پر زمین کی گردش کا بھی اثر پڑتا ہے۔
آپ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں کہ پلیٹوں کی حرکت کی شرح کیسے متعین کی جاتی ہے؟
پلیٹ کی حرکت کی شرح
(Rates of Plate Movement)
وسط بحری ستیغوں کے متوازی عمومی اور معکوس مقناطیسی فیلڈ کی پٹی سائنس دانوں کو پلیٹ کی حرکت کی شرح متعین کرنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ شرحیں کافی حد تک علیحدہ علیحدہ ہوتی ہیں۔ آرکٹک ستیغ کی شرح سب سے کم ہے (سالانہ २2.5سینٹی مرٹر سے بھی) اور جنوبی بحرالکاہل میں چلی (Chile)کے مغرب میں تقریباً३3400 کلومیٹر کی دوری پر،جزیرۂ ایسٹر کے پاس مشرقی بحرالکاہلی ابھار کی شرح سب سے زیادہ ہے ۔ (سالانہ 15 سینٹی میٹر سے بھی زیادہ )
پلیٹوں کی حرکت کے لیے قوت
(Force for the Plate Movement)
جس وقت ویگینر نے اپنا ’’برّا عظمی سرکاؤ وجود‘‘ کا نظریہ پیش کیا تھا، زیادہ تر سائنس داں زمین کو ایک ٹھوس بغیر حرکت والا وجود مانتے تھے۔ حالانکہ سمندری فرش کے پھیلاؤ کا تصور اور پلیٹ ساختمانی کے متحدہ نظریات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سطح زمین اور اندرون زمین دونوں ہی جامد نہیں ہیں بلکہ محرک ہیں۔ یہ حقیقت کہ پلیٹیں حرکت کرتی ہیں، ایک مسلمہ امر ہے۔ ٹھوس پلیٹوں کے نیچے کی متحرک چٹانیں دَوری (Circular) طور پر حرکت کرتی ہوئی مانی جاتی ہیں۔ گرم مادے سطح تک اٹھتے ہیں، پھیلتے ہیں، ٹھنڈے ہوتے ہیں اور پھر واپس گہرائی میں ڈوب جاتے ہیں۔ یہ دو ر بار بار دہرایا جاتا ہے جس سے سائنس دانوں کے مطابق حملی سیل یا حملی رو پیدا ہوتی ہے۔ زمین کے اندر کی حرارت دو اہم ذریعوں سے آتی ہے: تابکاری کے تکسُّر اور باقی ماندہ حرارت سے۔ 1930 کے عشرہ میں آرتھر ہو مزنے اس خیال پر پہلی بار غور کیا۔ بعد میں اس خیال نے سمندری فرش کے پھیلائو سے متعلق ہیری ہیس (Harry Hess) کی فکر کو متاثر کیا۔ ٹھوسپلیٹوں کے نیچے پڑے گرم، نرم مینٹل کی سست روی ہی پلیٹوں کی حرکت کو چلانے والی قوت ہے ۔
ہندوستانی پلیٹ کی حرکت
(Movement of the Indian Plate)
ہندوستانی پلیٹ میں جزیرہ نما ہند اور براعظم آسٹریلیا کے حصے شامل ہیں۔ ہمالیہ کے ساتھ مغلوب منطقہ (Subduction zone) برّ اعظمی امتزاج کی شکل میں اس پلیٹ کی شمالی سرحد بناتا ہے۔ مشرق میں یہ میا نمارکے راکن یو ما پہاڑوں سے ہوتے ہوئے جاوا کھائی کے ساتھ جزیرائی محراب تک پھیلا ہے۔ مشرقی کنارہ ایک تو سیعی مقام ہے جو جنوب مغربی بحر الکاہل میں بحری ستیغوں کی شکل میں آسٹریلیا کے مشرق میں پڑتا ہے۔ مغربی کنارہ پاکستان میں کر تھا ر (Kirthar)پہاڑکےساتھ چلتا ہے۔ یہ آگے مکرانا کے ساحل تک بڑھتے ہوئے بحر احمر کے شگاف سے چا گوس مجمع الجزائر کے جنوب کی طرف توسیعی مقام سے ملتا ہے۔ ہندوستان اور انٹارکٹک پلیٹ کے درمیان کی سرحد بھی بحری ستیغ (انتشاری سرحد) ہے جو تقریباً مشرقی اور مغربی سمت ہوتے ہوئے نیوزی لینڈ کےتھوڑے جنوب میں توسیعی مقام میں مل جاتی ہے ۔

تصویر4.6:ہندی پلیٹ کی حرکت
آج کا ہندوستان
10ملین سالقبل
38ملین سال قبل
خط استوا
55ملین سال قبل
71ملین سال قبل
اولین ہندوستان
ہندوستان پہلے ایک بڑا جزیرہ تھا جو آسٹریلیائی ساحل سے دور وسیع سمندر میں واقع تھا ۔ ٹیتھس (Tethys) سمندر نے اسے تقریباً 225 ملیَن سالوں تک برّا عظم ایشیا سے الگ رکھا۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ ہندوستان نے 200 ملیَن سال قبل شمال کی طرف اس وقت بڑھنا شروع کیا جب پنجیا ٹوٹا تھا ۔ ہندوستان 40 سے 50 ملیَن سال قبل ایشیا سے ٹکرایا جس کی وجہ سے ہمالیہ تیزی سے اوپر اٹھنے لگا۔ تقریباً 71 ملیَن سال قبل سےلے کر موجودہ وقت تک ہندوستان کی پوزیشن کو تصویر 4.6میں رکھایا گیا ہے۔تقریباً آج سے 140 ملیَن سال قبل تک بر صغیر جنوب کی جانب 500 جنوبی عرض البلد پر واقع تھا ۔ دونوں بڑی پلیٹیں یٹتھس سمندر سے الگ تھیں اور تبّتی بلاک ایشیائی زمینی تو دے سے زیادہ قریب تھا۔ہندوستانی پلیٹ کی ایشیائی پلیٹ کی طرف حرکت کرنے کے دوران ایک بڑی تبدیلی رونما ہو ئی اور وہ تھی لاوے (Lawa) کا نکلنا اور دکن ٹریپ کا بننا۔ یہ تقریباً 60ملیَن سال قبل شروع ہوا اور ایک لمبے عرصے تک چلتا رہا۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بر صغیر اس وقت بھی خط استوا سے قریب تھا۔ 40 ملیَن سال قبل اور اس کے بعد ہمالیہ کے بننے کا واقعہ شروع ہوا۔ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ یہ عمل اب بھی جاری ہے اور ہمالیہ کی بلندی آج کی تاریخ میں بھی بڑھ رہی ہے ۔
مشق
1. کثیر انتخابی سوالات
(i) مند رجہ ذیل میں سے سب سے پہلے کس نے اس بات کا امکان ظاہر کیا کہ یوروپ ، افریقہ اور امریکہ ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ واقع تھے؟
(الف) الفریڈ ویگینر (ب) انٹونیوپلیگرینی
(ج)ابراہم آرٹیلس (د) ایڈمنڈہیس
(ii) قطبی فراری قوت کا تعلق مند رجہ ذیل میں سے کس سے ہے ؟
(الف)زمین کی مداری گردش سے (ب) زمین کی محوری گردش سے
(ج)قوت ثقل سے (د) مدوجزر سے
(iii) درج ذیل میں سے کون سی چھوٹی پلیٹ نہیں ہے ؟
(الف) نزکا (ب) عربی
(ج) فلپائن (د) انٹارکٹکا
(iv) درج ذیل میں کس حقیقت کو بحری فرش کے پھیلاؤ کے تصور میں جگہ نہیں دی گئی تھی ؟
(الف) وسطی بحری ستیغوں کے ساتھ آتش فشانی سرگرمی
(ب) بحری فرش کی چٹانوں میں عمومی اور معکوسی مقناطیسی فیلڈ کا مشاہدہ
(ج) مختلف براعظموں میں رکازکی تقسیم
(د) بحری فرش کی چٹانوں کی عمر
(v) ہمالیائی پہاڑ کے ساتھ ہندوستانی پلیٹ کی سرحد درج ذیل میں سے کس قسم کی سرحد ہے ؟
(الف)بحراعظمی۔ براعظمی امتزاج (ب)انتشاری سرحد
(ج)متغیرہ سرحد (د)براعظمی ۔براعظمی امتزاج
2. sمند رجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 30 الفاظ میں دیں۔
(i) ویگیز نے بر اعظموں کو حرکت دینے کے لیے کن قوتوں کو ذمہ دار بتایا ہے ؟
(ii) مینٹل میں حملی رو کس طرح شروع ہوتی ہے اور بر قرار رہتی ہے ؟
(iii) پلیٹوں کی متغیرہ سرحد اور امتزاجی یا انتشاری سرحدوں میں اہم فرق کیا ہے ؟
(iv) دکن ٹریپ کے بننے کے دوران ہندوستانی زمینی تودے کا محل وقوع کیا تھا؟
3. درد ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 150 الفاظ میں دیں ۔
(i) بر اعظمی سرکاؤ کے نظریے کی تائید میں کون سے ثبوت ہیں؟
(ii) براعظمی سرکاؤا ور پلیٹ ساختمانی کے درمیان بنیادی فرق کی وضاحت کریں۔
(iii) سرکاؤ کے بعد کی اہم دریافتیں کیا ہیں جن کی وجہ سے بحر اعظموں اور بر اعظموں کی تقسیم کے مطالعہ میں سائنس دانوں کی دلچسپی ازسر نو پیدا ہوئی ۔
پروجیکٹ
زلزلے سے پیدا شدہ تباہیوں سے متعلق ایک کولاج بنائیے۔