تیسری اکائی
ارضی ہیئتیں
اس اکائی میں بتایا گیا ہے
- چٹانیں اور معدنیات -چٹانوں کی اہم اقسام اور ان کی خصوصیات
- ارضی ہیئتیں اور ان کا ارتقاء
- جیو مارفی طریقہ ہائے عمل - فرسودگی، ہبوط ملبہ، کٹاؤ اور ذخیرہ اندوزی ؛ مٹیاں - ان کی تشکیل
باب 5
معد نیات اور چٹانیں
زمین کی تشکیل مختلف عناصر سے ہوئی ہے ۔ یہ عناصر زمین کی خارجی پرت میں ٹھوس شکل میں ہیں جبکہ اندرون زمین یہ گرم اور پگھلی شکل میں ہیں۔
قشرارض کا 98 فیصد حصہ 8 عناصر جیسے آکسیجن، سیلیکن، المونیم، لوہا، چونا، سوڈیم، پوٹا شیم اور میگنیشیم سے مل کر بنا ہے ۔ (فہرست ५5.1) اور باقی حصے ٹیٹینیم ، ہائڈرو جن ، فاسفورس، میگنیز، سلفر، کاربن اور دیگر عناصر سے بنے ہیں۔
قشرارض کے عناصر الگ سے بہت ہی کم پائے جاتے ہیں اور عام طور پر دیگر عناصر کے ساتھ مل کر مختلف مادّے بناتے ہیں۔ ان مادّوں کو معدن کہا جاتا ہے ۔
اس طرح معدن قدرتی طور پر ظاہر ہونے والا وہ نامیاتی اور غیر نامیاتی مادّہ ہے جس کی ایٹمی ساخت منظّم ہوتی ہے اور ایک مقررہ کیمیاوی ترکیب اور طبعی خصوصیات کی حامل ہوتی ہے۔ کوئی معدن دو یا زیادہ عناصر سے مل کر بنتا ہے لیکن کبھی کبھی ایک ہی عنصر والی معد نیات جیسے سلفر، تانبہ، چاندی، سونا،گریفائٹ وغیرہ بھی پائی جاتی ہے ۔
گرچہ کرۂ حجر کو بنانے والی معدنیات کی تعداد محدود ہے لیکن وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مختلف اقسام کی معدنیات بنا لیتی ہیں۔ قشرارض میں کم از کم دو ہزار قسم کی معدنیات کی شناخت کر کے ان کے نام رکھے گئے ہیں لیکن عام طور پائی جانے والی معدنیات چھ اہم معدنی افراد سے تعلق رکھتی ہیں اور انہیں چٹانوں کی تشکیل کرنے والی اہم معدنیات کہا جاتا ہے۔
تمام معدنیات کا بنیادی منبع زمین کے اندر کا گرم میگما ہے۔ جب میگما ٹھنڈا ہوتا ہے تو معدنیات کے بلور ظاہر ہوتے ہیں اور جیسے جیسے میگما ٹھنڈا ہو کر چٹان بنتا ہے تو معدنیات کے منظّم سلسلے ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ کوئلہ، پٹرول اور قدرتی گیس جیسی معدنیات نا میاتی مادّے ہیں جو بالترتیب ٹھوس، مائع اور گیس کی شکل میں پائے جاتے ہیں۔
ذیل میں کچھ اہم معدنیات کی ماہیئت اور خصوصیات کے بارے میں مختصر معلومات دی گئی ہیں۔
خصوصیات
(PHYSICAL CHARACTERISTICS)
(i) روئے کی خارجی شکل (External crystal form)۔
سالموں کی اندرونی ترتیب سے متعین ہوتی ہے مثلاً مکعب، ہشت ضلعی، چھ ضلعی منشور وغیرہ۔
(ii) شگاف پذیری۔(Cleavage)
کسی دی گئی سمت میں ٹوٹنے اور نسبتاً مستوی سطح بنانے کا رجحان ، سالموں کی اندرونی ترتیب کا نتیجہ ؛ ایک یا زیادہ سمتوں میں کسی بھی زاویئے پرٹوٹ سکتی ہیں۔
(iii) ٹوٹنا (Fracture)
۔ اندرونی سالموں کی ترتیب اتنی پیچیدہ ہوتی ہے کہ سالموں کے مستوی (Plane)
نہیں بن پاتے؛ روئے ٹکڑوں کے مستوی کے سہارے نہ ٹوٹ کر نا ہموار اندازمیں ٹوٹیں گے۔;
(iv) چمک (Lustre)
۔ بنا رنگ کے لحاظ کی اشیاءکا ظہور ؛ ہر معدن کی ایک امتیازی چمک ہوتی ہے مثلاً دھاتی، ریشمی ، بلوری وغیرہ۔
(v) رنگ (Colour)
۔ کچھ معدنیات خصوصی رنگ والی ہوتی ہیں جوان کے سالموں کے ساخت سے متعین ہوتے ہیں مثلاً مالا چائٹ، ازورائٹ، چالکو پائرائٹ وغیرہ اور کچھ معدنیات کا رنگ ملاوٹ سے متعین ہوتا ہے جیسے ملاوٹ کی وجہ سے عقیق کا رنگ سفید، ہرا، لال، پیلا وغیرہ ہو سکتا ہے ۔
(vi) دھاری (Streak)
۔ کسی معدن کے پسے ہوئے پاؤڈرکا رنگ۔ یہ رنگ معدن کے رنگ کا ہو سکتا ہے اور مختلف بھی۔ مالا چائٹ ہرا ہوتا ہے اور ہری دھاری دیتا ہے۔ فلورائٹ گلابی یا ہرا ہوتا ہے لیکن سفید دھاری دیتا ہے ۔
(vii) شفافیت (Transparency)
۔ شفاف (Transparent)۔
روشنی کی خفیف کر نیں اس طرح گزر جاتی ہیں کہ شئے کو آر پار دیکھا جا سکتا ہے؛ نیم شفاف(Translucent)۔
روشنی کی خفیف کرنیں گزرتی ہیں لیکن اس طرح جذب ہو جاتی ہیں کہ شئے کو دیکھا نہیں جا سکتا؛ غیر شفاف (Opaque)
وہ ہے جس میں سے روشنی کی کرنیں نہیں گزر پاتیں۔
(viii) ساخت (Structure)
۔ انفرادی بلوروں کی خصوصی ترتیب، باریک، میانہ یا موٹے دانے دار؛ ریشہ دار۔ الگ الگ کیے;جانے کے لائق، غیر مرکوز شعاعی۔
(ix) سختی (Hardness)
۔کھرچنے پر نسبتی مزاحمت،سختی کے درجے کی 1 سے 10 تک کی پیمائش کرنے لیے دس معدنیات کو منتخب کیا گیا ہے ۔ وہ ہیں 1. ٹالک، 2. جپسم، 3. کیلسائٹ، 4. فلورائٹ، 5. اپیٹائٹ ، 6. فیلسپار، 7. کوارٹز، 8. ٹوپاز، 9. کورنڈم، 10. ہیرا۔ اس کے مواز نے میں ناخن کی سختی २2.5 ہے اور شیشہ یا چاقو کی دھار کی سختی ५5.5 ہے ۔
(x) ثقل نوعی (Specific gravity)
۔کسی دی گئی شئے کے وزن اور اسی کے حجم کے برابر پانی کے وزن کے درمیان کا تناسب۔ کسی شئے کو ہوا میں تولیے اور پھر پانی میں تولیے اور ہوا میں تو لے گئے وزن کو دونوں وزنوں کے فرق سے تقسیم کیجیے۔
دھاتی معدنیات (Metallic Minerals)
ان معدنیات میں دھات کی مقدار ہوتی ہے اور ان کو مزید تین قسموں میں منقسم کیا جاتا ہے:
(i) بیش قیمت دھات : سونا، چاندی، پلیٹینم وغیرہ ۔
(ii) آہنی دھات : لوہا اور دیگر دھاتوں کو ملا کر اکثر مختلف قسم کے اسٹیل (Steel) بنائے جا تے ہیں ۔
(iii) غیر آہنی دھات : جس میں لوہا کم ہوتا ہے اس میں تانبہ، سیسہ، زنک، ٹن، المونیم وغیرہ جیسی دھات شامل ہوتی ہیں۔
غیر دھاتی معدنیات
(Non-Metallic Minerals)
ان میں دھات کی مقدار نہیں ہوتی۔ سلفر،فاسفیٹ اور نائٹریٹ غیر دھاتی معدنیات کی مثالیں ہیں۔ سیمنٹ غیر دھاتی معد نیات کا آمیزہ ہے۔
چٹانیں: (Rocks)
قشرارض چٹانوں سے بنا ہے۔ چٹان ایک یا ایک سے زیادہ معدنیات کا مجموعہ ہوتی ہے۔ چٹانیں سخت یا نرم اور مختلف رنگوں کی ہو سکتی ہیں مثلاً گرینائٹ سخت ہے۔ صابن پتھر (Soap Stone) نرم ہے۔ گیبر و (Gabbro) کالا ہے اور کوارٹزائٹ دودھیا سفید ہو سکتا ہے۔ چٹانوں میں معد نیات کی مقررہ ترکیب نہیں ہوتی۔ فیلسپار اور کوارٹز چٹانوں میں پائی جانے والی عام معدنیات ہیں۔
چونکہ چٹان اور ارضی ہیئت، چٹان اور مٹی میں قریبی تعلق ہے۔ اس لیے جغرافیہ داں کے لیے چٹانوں کا بنیادی علم ہونا ضروری ہے۔ چٹانوں کی کئی قسمیں ہیں جنہیںان کی طرز تشکیل کی بنیاد پر تین خاندانوں میں درجہ بند کیا گیا ہے۔ (i) آتش فشانی چٹانیں ۔ میگما اور لاوے کے ٹھوس ہونے سےبنی ہیں؛ (ii)رسوبی چٹانیں۔ خارجی طریق ہائے عمل کے ذریعہ چٹانی ریزوں کے جمع ہونے کا نتیجہ ہیں؛ (iii)متغیرہ چٹانیں ۔ موجودہ چٹانوں کی تجدید قلم کاری (Recrystallisation) کی بنا پر بنی ہیں۔
آتش فشانی چٹانیں(Igneous Rocks)
آتش فشانی چٹانیں زمین کے اندر سے نکلے میگما اور لاوے سے بنتی ہیں۔ ان کو بنیادی چٹانیں بھی کہا جاتا ہے۔ آتش فشانی چٹانیں (لا طینی زبان میں اگنس (Ignis)کے معنیٰ آگ ہے ) میگما کے ٹھنڈا ہونے اور ٹھوس ہونے پر بنتی ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ میگما کیا ہوتا ہے۔ جب میگما او پر اٹھ کر ٹھنڈا ہوتا ہے اور ٹھوس شکل اختیار کر لیتا ہے تو اسے آتش فشانی چٹان کہتے ہیں۔ ٹھنڈا ہونے اور ٹھوس بننے کا عمل قشرارض میں یا سطح زمین پر ہو سکتا ہے۔
آتش فشانی چٹان کو ان کی بافت (Texture) کی بنیاد پر درجہ بند کیا جاتا ہے۔ بافت کا مطلب ہے ساختی نقش جو دانوں کے سائز اور ترتیب پر مبنی ہوتا ہے یا پھر مادے کی دیگرطبیعی حالات پر۔ اگر پگھلا ہوا مادہ کافی گہرائی میں آہستہ آہستہ ٹھنڈا ہوتا ہے تو معدنی دانوں کا سائز کافی بڑا ہوتا ہے ۔ سطح پر اچانک ٹھنڈا ہو جانے سے دانے چھوٹے اور ہموار ہوتے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان میں ٹھنڈا ہونے سے آتش فشانی چٹان کے دانے میانہ سائز کے ہوتے ہیں۔ گرینائٹ، گیبرو، پگمیٹائٹ، بسالٹ، آتش فشانی بریشیا اور ٹف (Tuff)آتش فشانی چٹانوں کی مثالیں ہیں۔
علم صخریات (Petrology) چٹانوں کی سائنس ہے۔ سنگ شناس یا ماہر صخریات چٹانوں کے تمام پہلوئوں کا یعنی معدن کی ترکیب، بافت، ساخت، پیدائش، وقوعہ، تبدیلی اور دوسری چٹانوں کے ساتھ ان کی نسبت کا مطالعہ کرتا ہے ۔
رسوبی چٹانیں (Sedimentary Rocks)
رسوبی چٹانوں کو انگریزی میں (Sedimentary Rocks) کہا جاتا ہے۔ سیڈ یمینٹری لفظ لاطینی زبان کے لفظ سیڈ یمنٹم (Sedimentum)سے ماخوذ ہے جس کے معنیٰ ہوتے ہیں ذرات کا نیچے بیٹھنا۔ سطح زمین کی چٹانیں (آتش فشانی، رسوبی اور متغیرہ) عریاں کاری کے عوامل کی وجہ سے مختلف سائز کے ٹکڑوں میں ٹوٹتی رہتی ہیں۔ یہ ٹکڑے مختلف خارجی ایجنسیوں کے ذریعہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیے جاتے ہیں اور جمع کر دئیے جاتے ہیں۔ یہ جمع شدہ ٹکڑے آپس میں ملنے کے عمل (Compaction) سے چٹانوں میں بدل جاتے ہیں۔ اس عمل کو حجریت (lithification) کہتےـ ہیں۔ کئی رسوبی چٹانوں میں ذخیروں کی پرتیں حجریت کے بعد بھی اپنی خصوصیت برقرار رکھتی ہیں۔ اس لیے ہم رسوبی چٹانوں جیسے بلوا پتھر،شیل (shale) وغیرہ میں مختلف موٹائیوں کی کئی پرتیں دیکھتے ہیں۔ بننے کے طرز پر منحصر رسوبی چٹانوں کو تین اہم جماعتوں میں درجہ بند کیا جاتا ہے ۔
(i)میکا نیکی طور پر بنی چٹانیں جیسے بلواپتھر،کانگلومیریٹ،چوناپتھر،شیل،لوئس(loess) وغیرہ۔
(ii)نامیاتی طور پر بنی چٹانیں جیسے گیزرائٹ، کھریا، چونا پتھر، کوئلہ وغیرہ۔
(iii)کیمیاوی طور پر بنی چٹانیں جیسے چرٹ(chert)،
چونا پتھر، ہیلاٹ، پوٹاش وغیرہ ۔
متغیرہ چٹانیں (Metamorphic Rocks)
متغیرہ (Metamorphic) لفظ کے معنیٰ ’’ہیئت کی تبدیلی‘‘ ہے۔ یہ چٹانیں دباؤ (pressure) ، حجم (Volume) اور درجۂ حرارت (Temperature) (PVT) میں تبدیلی کے عمل سے بنتی ہیں۔ تغیر پذیری (Metamorphism) اس وقت ہوتی ہے جب چٹانیں ساختمانی طریق عمل کے ذیعہ نچلی سطح پر دب جاتی ہیں یا جب پگھلا ہوا میگما قشرارض میں اوپر اٹھتے ہوئے قشری چٹانوں کے ربط میں آ جاتا ہے یا نیچے دبی چٹانوں پر اوپر والی چٹانوں کا دباؤ کافی حد تک بڑھ جاتا ہے ۔ تغیر پذیری وہ طریق عمل ہے جس کے ذریعہ پہلے کی ٹھوس چٹانیں تجدیدی قلم کاری سے گزرتی ہیں اور اصل چٹانوں میں مادوں کی ترتیب ازسر نو ہوتی ہے ۔
کسی نمایاں کیمیاوی تبدیلی کے بغیر ٹوٹنے اور دبنے کی وجہ سے چٹانوں کے اندر اصل معدنیات کے انتشار اور ازسر نو ہونے والی ترتیب کو حرکتی تغیر پذیری(Dynamic Metamorphism) کہتے ہیں۔ چٹانوں کے مادے حرارتی تغیر (Thermal Metamorphism) کی وجہ سے کیمیاوی طور پر بدلتے ہیں یا ان میں تجدیدی قلمکاری ہوتی ہے۔ حرارتی تغیر پذیری کی دو قسمیں ہیں۔ ربطی تغیر پذیری(Contact Metamorphism) اور علاقائی تغیر پذیری (Regional Metamorphism)۔ ربطی تغیر پذیری میں چٹانیں گرم درانداز میگما اور لاوے کے ربط میں آتی ہیں اور اونچے درجۂ حرارت کے تحت چٹانی مادوں کی جدید قلمکاری ہوتی ہے۔ اکثر میگما اور لاوے سے نکلنے والے نئے مادے چٹانوں میں مل جاتے ہیں۔ علاقائی تغیر پذیری میں اونچے درجۂ حرارت یا دباؤ یا دونوں کے ساتھ ساختمانی ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں شکل بگڑنے کی وجہ سے چٹانوں میں تجدیدی قلم کاری ہوتی ہے۔ کچھ چٹانوں میں تغیر پذیری کے عمل کی وجہ سے دانے یا معدنیات پر توں یا لکیروں میں مرتب ہو جاتی ہیں۔ متغیرہ چٹانوں میں معدنیات یا دانوں کی ایسی ترتیب کو پرت کاری یا طبق کاری (Foliation) یا لکیر کاری (Lineation) کہتے ہیں۔ کبھی کبھی مختلف زمروں کے مادے یا معد نیات یکے بعد دیگرے متبادل پتلی اور موٹی پرتوں میں مرتب ہوتی ہیں اور ہلکے اور گہرے شیڈس (Shades) میں نظر آتی ہیں۔ متغیرہ چٹانوں میں اس طرح کی ساخت کو پٹی سازی(Banding) کہتے ہیں اور پٹی سازی ظاہر کرنے والی چٹانوں کو پٹی دار(Banded) چٹانیں کہتے ہیں۔ متغیرہ چٹانوں کی اقسام تغیر پذیر ہونے والی اصلی چٹانوں پر منحصر ہوتی ہے۔ متغیرہ چٹانوں کو دو اہم جماعتوں میں درجہ بند کیا گیا ہے ۔ طبق دار چٹانیں (Foliated rocks) اور غیر طبق دار (Nonfoliated)چٹانیں ۔ ان دو جماعتوں کے تحت کچھ اہم متغیرہ چٹانوں کی فہرست ان کی اصل چٹان اور خصوصیات کے ساتھ دی گئی ہے۔ نیسوائڈ (Gneissoid) گرینائٹ، سی نائٹ، سلیٹ، ششٹ، سنگ مرمر، کوارٹزائٹ وغیرہ متغیرہ چٹانوں کی چند مثالیں ہیں۔
چٹانی چکر (Rock cycle)
چٹانیں لمبے عرصے تک اپنی اصلی حالت میں نہیں رہتی ہیں۔ ان میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ چٹانی چکر ایک مسلسل طریق عمل ہے جس کے ذریعہ پرانی چٹانیں نئی چٹانوں میں تبدیل ہوتی رہتی ہیں ۔
آتش فشانی چٹانیں ابتدائی چٹانیں ہیں اور دوسری چٹانیں (رسوبی اور متغیرہ) انہیں ابتدائی چٹانوں سے بنتی ہیں۔ آتش فشانی چٹانیں متغیرہ چٹانوں میں بدل سکتی ہیں۔ آتش فشانی اور متغیرہ چٹانوں سے حاصل ہونے والے ریزوںسےر سوبی چٹانیں بنتی ہیں۔ رسوبی چٹانیں بھی ریزوں میں بدلتی ہیں اور یہ ریزے رسوبی چٹانوں میں بدل سکتے ہیں۔ رسوبی چٹانیں

( تصویر5.1: چٹانی چکر)
فرسودگی اور کٹائو
پگھلنا
متغیرہ چٹان
تغیر پزیری
میگما
رسوبی چٹان
انجماو
حجریت
آتش فشانی چٹان
رسوب
خود بھی ریزوں میں بدل سکتی ہیں اور یہ ریزے رسوبی چٹانوں کے بننے کا ذریعہ ہو سکتے ہیں۔ ایک بار قشری چٹانوں (آتش فشانی، متغیرہ اور رسوبی) کے بننے کے بعدیہ مینٹل (زمین کے اندرون) میں نیچے دھسنے کے طریق عمل(Subduction process) (پلیٹوں کے امتزاجی منطقہ میں قشری پلیٹوں کا کلی یا جزوی طور پر دوسری پلیٹ کے نیچے جانا ) میں نیچے جاتی ہیں اور اندرون میں درجۂ حرارت زیادہ ہونے کی وجہ سے پگھلنے لگتی ہیں اور پگھلے ہوئے میگما میں بدل جاتی ہیں جو آتش فشانی چٹانوں کا اصل منبع ہے (تصویر 5.1)۔
مشق
1. کثیر انتخابی سوالات
(i) درج ذیل میں گرینائٹ کے دو اہم عناصر کیا ہیں ؟
(الف) لوہا اور نکل (ج) سلیکا اور المونیم
(ب) لوہا اور چاندی (د) آئرن آکسائڈ اور پوٹا شیئم
(ii) درج ذیل میں متغیرہ چٹان کی خصوصیت کون سی ہے ؟
(الف) قابل تبدیل (ج)قلمی
(ب) کلیتاً (د)طبق کاری
(iii) مند رجہ ذیل میں کون سا ایک عنصر کا معدن نہیں ہے ؟
(الف)سونا (ج) ابرق
(ب)چاندی (د) فیلسپار
(iv) ذیل میں کو ن سا سب سے سخت معدن ہے ؟
(الف) ٹوپاز (ج) کوارٹز
(ب)ہیرا (د) فیلسپار
(v) مندرجہ ذیل میں کون سی رسوبی چٹان نہیں ہے؟
(الف)ٹلائٹ (ج)بریشیا
(ب) بوریکس (د)سنگ مرمر
2. درج ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 30 الفاظ میں دیں۔
(i) چٹان سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ چٹان کےتین اہم درجوں کے نام بتائیے۔
(ii) آتش فشانی چٹان کسے کہتے ہیں؟ آتش فشانی چٹان کے بننے کا طریقہ اور اس کی خصوصیات بتائیے۔
(iii) رسوبی چٹان سے کیا مراد ہے ؟ رسوبی چٹان کا طرز تشکیل بیان کیجیے ۔
(iv) چٹانی چکر کے ذریعہ چٹانوں کی اہم اقسام میں کیسا تعلق بتایا گیا ہے ؟
3. مند رجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 150 الفاظ میں دیں۔
(i) اصطلاح ’’معدن‘‘ کی تعریف کیجیے اور معدنیات کے اہم درجوں کا نام ان کی طبیعی خصوصیات کے ساتھ بتائیے۔
(ii) قشر زمین کی چٹانوں کی اہم قسموں کی ما ہیئت اور طرزآفرینش بیان کیجیے۔ آپ ان میں فرق کیسے کریں گے ؟
(iii) متغیرہ چٹانیں کیا ہیں؟ متغیرہ چٹانوں کی اقسام کا تذکرہ کیجیے اور یہ بھی بتائیے کہ یہ کیسے بنتی ہیں؟
پروجیکٹ کا کام
مختلف چٹانوں کے نمونوں کو اکٹھا کیجیے اور ان کی طبیعی خصوصیات سے انہیں پہچاننے کی کوشش کیجیے اور ان کے خاندان کی شناخت کیجیے۔