Skip to content

باب 6

ارضی صوریاتی تبدیلیاں



زمین کی پیدائش کیسے ہوئی، اس کے قشر اور اندرونی پر توں کا ارتقاء کیسے ہوا ، قشری پلیٹوں کی حرکت کیسے ہوئی اور اب بھی ہو رہی ہے ، آتش فشاں، آتش فشانی اشکال، چٹانیں اور معدنیات، جن سے قشری بنی ہے اور متعلقہ دیگر معلومات کے بارے میں پڑھنے کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ اس سطح زمین کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کریں جس پر ہم رہتے ہیں۔ آیئے اس سوال کا جواب تلاش کریں ۔  

زمین کی سطح غیر مساوی کیوں ہے ؟    


پہلی بات تو یہ ہے کہ قشر زمین متحرک ہے۔ آپ خوب جانتے ہیں کہ اس نے حرکت کی ہے اورافقی و عمودی طور پر حرکت کرتی ہے ۔ ماضی میں اس کی حرکت کی رفتار آج کے مقابلے میں تیز تھی۔ زمین کے اندر کام کرنے والی اندرونی قوتوں سے قشرارض بنی ہے اور انہیں قوتوں میں فرق کی وجہ سے قشر کی اوپری سطح میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ سطح زمین لگاتار توانائی (سورج کی روشنی) کے ذریعہ پیدا خارجی قوتوں سے دو چار ہوتی رہتی ہے۔ در حقیقت اندرونی قوتیں ابھی بھی فعال ہیں گر چہ ان کی شدت مختلف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین کی سطح کرۂ ہوا میں پیدا ہونے والی خارجی قوتوں اور زمین کے اندر سے آنے والی اندرونی قوتوں کا لگاتار سامنا کرتی رہتی ہے ۔ خارجی قوتوں کو بر نموئی قوت (Exogenic Forces)اور اندرونی قوتوںکو درنموئی قوت (Endogenic Forces)کہا جاتا ہے۔ بر نموئی قوتوں کے عمل کی وجہ سے سطح زمین کی ریلیف یا بلندیاں ٹوٹ کر نیچے گرتی ہیں۔اس عمل کو پست کاری (Degradation) کہتے ہیں اور جب طاس یا نشیب بھر کر اوپر اٹھتے ہیں تو اس عمل کو رسوب اندوزی (Aggradation)     کہتے ہیں۔ کٹاؤ کے ذریعہ مبنی سطح کی ریلیف کے فرق کو ختم کر دینے کے مظہر کو ہموار کاری (Gradation) کہتے ہیں۔ درنموئی قوتیں زمینی سطح کے کچھ حصوں کو لگاتار اٹھاتی یا بناتی رہتی ہیں۔ اس لیے بر نموئی قوتیں زمین کی سطح پر ریلیف کے اس فرق کو ختم کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ اس لیے جب تک بر نموئی اور در نموئی قوتوں کا مخالف عمل چلتا رہتا ہے یہ فرق باقی رہتا ہے۔ عام طور پر در نموئی قوتیں زمین بنانے والی قوتیں ہیں اور برنموئی قوتیں زمین کو توڑنےپھوٹنے والی قوتیں ہیں۔ زمین کی سطح حساس ہے۔ انسان اپنی بقاء کے لیےاس پر منحصر ہے اور اسے وسیع طور پر اور شدت کے ساتھ استعمال کرتا رہا ہے ۔ اس لیے اس کی ماہیئت کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ تو ازن بگاڑے بغیر نیز مستقبل کے لیے اس کی استعداد کو کم کیے بغیر اس کا موثر استعمال کیا جا سکے۔ تقریباً تمام نامیات زمین کے ماحول کو برقرار رکھنے میں تعاون دیتی ہیں۔ پھر بھی انسان حد سے زیادہ وسائل کا استعمال کرنے کا سبب بنا ہے۔ ہم اس کا استعمال ضرور کریں لیکن اس کی استعداد کو اس قابل چھوڑیں کہ مستقبل میں بھی زندگی بر قرار رہے۔ زمین کی زیادہ تر سطحوں کے بننے میں ایک لمباعرصہ (سینکڑوں اور ہزاروں سال) لگتا ہے اور انسانوں کے ذریعہ اس کا صحیح اور غلط استعمال ہونے کی وجہ سے ہی اس کی استعداد تیزی سے گھٹ رہی ہے ۔ اگر ان طریق ہائے عمل کو سمجھا لیا جائے جن سے زمین کی مختلف شکلیں بنی ہیں اور بن رہی ہیں اور ان کی مادوں کی     ماہیئت کو سمجھ لیں جن سے زمین کی سطح بنی ہے تو انسانی استعمال کے مضرا اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے اور اسے آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔    

ارضی صوریاتی تبدیلیاں    

(Gemorphic Processes)

آپ ارضی صوریاتی تبدیلیوں کے معنیٰ جاننا چاہیں گے۔ اندرونی اور خارجی قوتیں زمین کے مادوں پر طبیعی تناؤ اور کیمیاوی عمل کا سبب بنتی ہیں اور زمین کی سطح کی شکل و صورت بدلتی رہتی ہیں۔ انہیں ارضی صوریاتی تبدیلیا ں کہا جاتا ہے ۔ مسخ کاری (Diastrophism)     اور آتش فشانی (Volcanism) در نموئی جیومارفی طریق ہائے عمل ہیں۔ ان کا مختصر تذکرہ اس سے پہلے والی اکائی میں کیا جا چکا ہے ۔فرسودگی، ہبوط ملبہ، کٹاؤاور ذخیرہ اندوزی بر نموئی جیو مارفی طریق ہائے عمل ہیں۔ اس باب میں انہیں بر نموئی طریق ہائے عمل کا تفصیلی تذکرہکیا گیا ہے ۔    
قدرت کا کوئی بھی بر نموئی عنصر (جیسے پانی، برف، ہواوغیرہ) جوزمینی مادوں کو اٹھا نے اور نقل و حمل کرنے کے قابل ہو، جیو مارفی عامل (agent) کہلاتا ہے ۔ جب یہ قدرتی عناصر شرح ڈھال کی وجہ سے متحرک ہوتے ہیں تو وہ مادے کو ہٹا کر ڈھال کی طرف لے جاتے ہیں اور نچلی سطح پر جمع کر دیتے ہیں۔ جیو مارفی طریق ہائے عمل اور جیو مارفی عوامل خاص کر برنموئی عوامل جب تک الگ الگ نہ بیان کیے جائیں، ایک ہی ہیں۔
ایک طریق عمل(Process) وہ قوت ہے جس کا استعمال زمینی مادوں پر کیا جائے تو اسے متاثر کرتی ہے۔ ایک عامل (جیسے بہتا پانی ، متحرک برف کے تودے ، ہوا، موجیں اور دھارے وغیرہ) وہ متحرک ذریعہ ہے جو ملبے کو ہٹانے، منتقل کرنے اور ذخیرہ اندوزی کا کام کرتا ہے ۔ بہتا ہوا پانی، زیر زمین پانی، گلیشیئر، ہوا ، موجیں اور دھارے وغیرہ جیومارفی عوامل (Geomorphic Agents)ہیں۔    

کیا آپ کے خیال میں جیو مارفی طریق عمل اور جیو مارفی عوامل میں

قوت ثقل ایک سمتی قوت ہونے کی حیثیت سے مادے کو ڈھال پر تحریک دینے کے علاوہ مادوں میں تناؤ بھی پیدا کرتی ہے۔ بالواسطہ ثقلی تناؤ موجوں اور مد و جزر سے پیدا ہونے والے دھاروں اور ہواؤں کو فعال بناتا ہے۔ قوت ثقل اور شرح ڈھال کے بغیر کوئی حرکت نہیں ہو سکتی اور نہ ہی کٹاؤ، نقل و حمل اور ذخیرہ اندوزی ممکن ہے ۔ اس طرح قوت ثقل بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ دیگر جیو مارفی طریق ہائے عمل ۔ قوت ثقل وہ قوت ہے جو ہمیں سطح زمین سے مربوط رکھتی ہے اور یہی وہ قوت ہے جوزمین پر تمام سطحی چیزوں کو متحرک رکھتی ہے ۔ زمین کے اندر اور روئے زمین کی تمام حرکتیں شرح ڈھال کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ یعنی بلند سطح سے نچلی سطح کی طرف ، اونچے دبائو سے نچلے دباؤ کی طرف ، تمام حرکات شرح ڈھال کی وجہ سے ہی واقع ہوتی ہیں۔    

در نموئی تبدیلیاں (Endogenic Processes)    

زمین کے اندر سے نکلنے والی توانائی در نموئی جیو مارفی طریق ہائے عمل کے لیے اصل قوت ہے۔ یہ توانائی زیادہ تر تابکاری، گردشی اور مدو جزری رگڑ اور زمین کی پیدائش سے نکلی ابتدائی حرارت سے پیدا ہوئی ۔ ارضیاتی حرارتی شرح ڈھال اور اندرونی حرارت بہاؤ کی وجہ سے یہ توانائی کرۂ حجر میں مسخ کاری (Diastrophism) اور آتش فشانیت (Volcanism) پیدا کرتی ہے۔ ارضیاتی حرارتی شرح ڈھال اور اندرونی حرارتی بہاؤ قشر کی موٹائی اور مضبوطی کی بنا پر اندرونی قوتوں کا عمل ہر جگہ یکساں نہیں ہوتا اور اسی وجہ سے ساختمانی طور پر کنٹرول کی گئی اصل قشری سطح غیر ہموار ہوتی ہے۔    

مسخ کاری (Diastrophism)    

وہ تمام کام جو قشر زمین کو حرکت دیتے ہیں، بلند کرتے ہیں یا اس کے کسی حصے کو بنا دیتے ہیں وہ مسخ کاری کے تحت آتےہیں۔ اس میں شامل ہیں: (i) عمل کوہ سازی (Orogenic Processes) جس میں زبردست موڑکے ساتھ پہاڑوں کا بننا اور قشر زمین کی ایک لمبی اور پتلی پٹی کو متاثر کرنا شامل ہے؛ (ii) عمل بر اعظم سازی (Epeirogenic Processes)جس میں زمین کے ایک بڑے حصے کا اوپر اٹھنا اور اینٹھاشامل ہے(iii)     زلزلے جس میں مقامی اور نسبتاً چھوٹی     ہلچلیں شامل ہوتی ہیں (iv)     پلیٹ ساختمانی (Plate tectonics) جس میں قشری پلیٹیوں کی افقی حرکت شامل ہے۔    
عمل کو ہ سازی میں قشر سنگین طور پر موڑ میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔ برّ اعظم سازی کے عمل میں شکلوں میں معمولی تغیر ہو سکتا ہے ۔ کوہ سازی، براعظم سازی، زلزلہ اور پلیٹ ساختمانی سے قشر میں شگاف اور دراڑ پڑ سکتی ہے۔ ان تمام اعمال کی وجہ سے دباؤ ، حجم اور درجہ حرارت میں تبدیلیاں ہوتی ہیں اورنتیجتاً چٹانوں میں تغیر کا عمل ہوتا ہے ۔    

عمل کو ہ سازی اور برّا عظم سازی میں فرق بتائیے۔


آتش فشانیت (Volcanism)    
آتش فشانی کے عمل میں پگھلی چٹانوں (میگما) کا سطح زمین پر یا سطح کی طرف حرکت کرنا اور کئی داخلی و بیرونی آتش فشانی شکلوں کا بننا شامل ہے۔ آتش فشانیت کے بہت سے پہلوؤں کی تفصیل دوسری اکائی میں آتش فشاں کے تحت اور اس اکائی میں اس سے پہلے باب میں آتش فشانی چٹانوں کے تحت پہلے ہی بتائی جا چکی ہے ۔    

لفظ آتش فشانیت اور آتش فشاں سے کیا پتہ چلتا ہے؟

برنموئی تبدیلیا ں(Exogenic Processes)    

برنموئی تبدیلیاں اپنی توانائی سورج کی حتمی توانائی اور ساختمانی عوامل سے پیدا شدہ شرح ڈھالوں سے بھی متعین ہونے والے ماحول سے اخذ کرتی ہیں ۔

آپ کیوں سوچتے ہیں کہ ڈھال یا شرح ڈھال ساختمانی عوامل کی پیداوار ہیں؟

قوت ثقل ڈھلواں سطح والی تمام زمینی مادوں پر کام کرتی ہے اور مادوں میں نیچے ڈھال کی طرف حرکت پیدا کرتی ہے۔ فی اکائی رقبہ پر لگائی گئی قوت کو تناؤ (Stress) کہتے  ہیں۔  ٹھوس  کو  دھکا دینے یا کھینچنے سے تناؤ پیدا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے شکل میں تبدیلی ہوتی ہے۔ ارضی مادوں کے رخ پر کام کرنے والی قوت میں کھینچ تناؤ (Shear Stress)      یا  جدا کرنے والی قوتیں ہوتی ہیں۔ تناؤ ہی چٹانوں اور دیگر ارضی مادوں کو توڑتا ہے۔ قینچ تناؤ کا نتیجہ زاویائی تبدیلی یا پھسلن ہے۔ ثقلی تناؤ کے علاوہ ارضی مادے سالماتی تناؤ(Molecular Stress)کا بھی شکار ہوتے ہے۔سالماتی تناؤ کئی وجوہات سے ہو سکتا ہے۔ ان میں درجۂ حرارت کی تبدیلی، قلم کاری اور پگھلنا زیادہ عام ہیں۔ کیمیائی طریق ہائے عمل دانوں کے درمیان بندھن کو کمزور کر دیتے ہیں، حل پذیر معدنیات کو تحلیل کر دیتے ہیں یا مادوں کو سیمنٹ کی طرح چپکا دیتے ہیں۔ اس طرح فرسودگی،تودوں کی حرکت، کٹاؤ اور جماؤ کی بنیادی وجہ ارضی مادوں میں تنائو کا پیدا ہونا ہے ۔   

چونکہ سطح زمین پر مختلف آب و ہوائی خطے ہیں۔ اس لیے بر نموئی جیومارفی طریق ہائے عمل ایک خطے سے دوسرے خطے میں مختلف ہوتے ہیں۔ دواہم آب و ہوائی عناصر درجۂ حرارت اور بارش مختلف طریق ہائے عمل کو کنٹرول کرتے ہیں۔    
برنموئی ارضی صوریاتی تبدیلیاں ایک عام اصطلاح ’’عریاں کاری‘‘ (Denudation)کے تحت آتے ہیں۔ لفظ ڈینیوڈ (Denude)     کے معنی ہیں عریاںکرنا۔ فرسودگی(Weathering) ہبوط ملبہ (Mass Wasting)تودوں کا کھسکنا(Mass Movement)     کٹاؤ     (Erosion)اور نقل و حمل (Transportation)عریاںکاری کے عمل میں شامل ہیں۔ عریاں کاری کے اعمال اور انہیں چلانے والی قوتوں کو بالترتیب فلو چارٹ (تصویر 6.1) میں دکھایا گیا ہے۔ اس چارٹ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہر ایک عمل کے لیے ایک واضح چلانے والی قوت یا توانائی ہے۔    
چونکہ سطح زمین پر عرض البلدی، موسمی اور زمین اور پانی کی وسعت میں اختلاف کے ذریعہ پیدا حرارتی شرح ڈھال کی وجہ سے مختلف آب و ہوائی خطے پائے جاتے ہیں، اس لیےبرنموئی جیومارفی طریق ہائے عمل ایک خطے سے دوسرے خطے میں مختلف ہو جاتے ہیں۔ نباتات کی کثافت، قسم اور تقسیم    
1st
          تصویر6.1:عریاں کاری کے تحت ہونے والی تبدیلیاں اور انہیں چلانے والی طاقتیں
عریاں کا ری کے تحت تبدیلیاں
طریق عمل فرسودگی تودے کٹاؤ/ نقل و حمل
چلانے والی طاقت / توانائی ثقلی / سالماتی تناؤ اوریا کیماوی عمل قوت ثقل حرکی توانائی
            
                  
جو اکثر بارش اور درجۂ حرارت پر منحصر ہوتی ہیں بالواسطہ طور پر نموئی جیومارفی طریق ہائے عمل پر اثر ڈالتے ہیں۔ مختلف آب و ہوائی خطوںمیں مختلف آب و ہوائی عناصر میں اختلاف کی وجہ سے مقامی اختلافات ہو سکتے ہیں۔ اختلافات کے یہ پہلو بلندی میں فرق اور مغربی و مشرقی ڈھالوں کی بہ نسبت شمالی و جنوبی ڈھالوں پر شعاع ریزی میں فرق کی وجہ سے رونما ہو سکتے ہیں۔ مزید بر آں ہواؤں کی رفتار اور سمت، بارش کی مقدار اور قسم، اس کی شدت، بارندگی اور عمل تبخیر کے درمیان تعلق، روزانہ درجہ حرارت میں تفاوت، انجماد اور برف گداخت کا تواتر، پالہ رسنے کی گہرائی وغیرہ کی وجہ سے بھی ایک ہی آب و ہوائی خطے کے اندر جیومارفی طریق ہائے عمل میں تبدیلی ہو سکتی ہے ۔    


تمام خارجی تبدیلیوں کے پس پشت اہم محرک قوت کیا ہے ؟


آب و ہوائی عوامل کے مساوی ہونے پر بر نموئی جیومارفی طریق ہائے عمل کے فعال ہونے کی تیزی چٹانوں کی ساخت اور اقسام پر منحصر ہوتی ہے۔ ساخت کی اصطلاح میں موڑ، شگاف، ،فرش کی سمت اور جھکاؤ، جوڑوں کی موجودگی یا عدم موجودگی، فرشی سطح، تر کیبی معدنیات کی سختی یا نرمی، موجود معدنیات کی کیمیاوی اثر پذیری، نفوذیت یا عدم نفوذیت وغیرہ شامل ہیں۔ مختلف ساخت کی چٹانوں کی مختلف اقسام مختلف جیومارفی طریق ہائے عمل کے لیے مختلف قسم کی مزاحمت پیدا کرتے ہیں۔ ایک خاص قسم کی چٹان ایک طریقِ عمل کے لیے مزاحم ہو سکتی ہے لیکن وہی چٹان دوسرے طریقِ عمل کے لیے غیر مزاحم ہو سکتی ہے ۔ مختلف آب و ہوائی حالتوں میں مخصوص چٹانیں جیومارفی طریق ہائے عمل کے لیے مختلف درجے کی مزاحمت پیش کر سکتی ہیں۔ اس طرح یہ طریق ہائے عمل مختلف شرح پر کام کرتے ہیں اور وضعی ہیئت (Topography) میں اختلاف پیداکر دیتے ہیں۔ زیادہ تر نموئی جیومارفی طریق ہائے عمل معمولی اور سست رفتار ہوتے ہیں اور قلیل عرصے میں نا قابل مشاہدہ ہوتے ہیں لیکن لمبے عرصے میں لگاتار کام کرنے کی وجہ سے چٹانوں کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔    
آخر کار یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ سطح زمین پر تبدیلیاں گرچہ بنیادی طور پر قشری ار تقاء سے متعلق ہیں لیکن وہ ارضی مادوں کی ساخت اور قسم میں تبدیلی، جیو مارفی طریقِ ہائے عمل میں فرق اور ان کے شرح عمل میں فرق کی وجہ سے کسی نہ کسی صورت میں برقرار رہتی ہیں۔    
جیومارفی طریقِ ہائے عمل کو یہاں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ۔    

فرسودگی (Weathering)    

فرسودگی ارضی مادوں پر آب و ہوا اور موسم کے عناصر کا عمل ہے۔ فرسودگی کے تحت کئی اعمال ہیں جو انفرادی یا اجتماعی طور پر ارضی مادوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور انہیں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بدل دیتے ہیں۔

فرسودگی کی تعریف موسم اور آب و ہوا کے مختلف عناصر کے اثرات کے ذریعہ چٹانوں کی میکا نیکی ٹوٹ پھوٹ اور کیمیاوی تحلیل کی صورت میں کی جاتی ہے ۔


چونکہ فرسودگی میں مادوں کی حرکت بہت کم یا نہیں ہوتی ہے۔ اس لیے اسے اپنی جگہ پر مقامی عمل (In-situ or On-site Process) کہتے ہیں۔    

کیا یہ معمولی حرکت جو کبھی کبھی فرسودگی کی وجہ سے ہوتی ہے، نقل و حمل کے مترادف ہے ؟ اگر نہیں تو کیوں؟


فرسودگی کا عمل کئی پیچیدہ ارضیاتی آب و ہوائی ، آب و ہوائی ، وضعی اور نباتاتی عوامل سے متاثر     ہوتا ہے ۔ آب و ہوا خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ ایک آب و ہوا سے دوسری آب و ہوا میں نہ صرف فرسودگی کے عمل میں تبدیلی ہوتی ہے بلکہ فرسودگی کا غلاف بھی بدلتا رہتا ہے (تصویر ६6.2)۔

2nd

عملی کام    

تصویر 6.2 میں آب و ہوائی نظام کی عرض البلدی قدر کو نشان زدکیجیے اور تفصیل کا مواز نہ کیجیے۔


تصویر62:مختلف آب و ہوائینظام اور فرسودگی غلاف کی گہرائی(استراکھوف کے بعد کی ترمیم کے ساتھ 1967)
حاری جنگلاتی منطقہ 300ملی میٹر سے کم
نیم ریگستان اور ریگیستان
ٹیگا۔ پوڈزول منطقہ
ٹنڈرا
درجہ حرارت
بارندگی
1۔ نئی چٹانیں 
2۔ کم کیمیائی تبدیلی کا منطقہ
3۔ معتدل سے اچھی کیمیائی تبدیلی کا منطقہ
4۔ چیکا معدن کا منطقہ
5۔ المونیم کے آکسائڈ کے غلبہ کا منطقہ
6۔ لوہا اور المونیم کے آکسائڈ کے ساتھ مٹی

عمل فرسودگی کی تین اہم قسمیں ہیں (i)کیمیائی(ii) طبیعی یا میکانیکی (iii)حیاتیاتی فرسودگی کا عمل ۔ بہت کم ایسا ہوتا ہےکہ ان میں سے کوئی ایک عمل بذات خود پورا ہوتا ہو۔ البتہ ایک عمل کا غلبہ اکثر دیکھنے کو ملتا ہے ۔    

کیمیائی فرسودگی کا عمل    

(Chemical Weathering Processes)

عمل فرسودگی کی ایک جماعت یعنی تحلیل کاری، کار بونیشی عمل، آبیدگی، آکسیڈیشن، تخفیف کاری چٹانوںپر عمل کرکے آکسیجن، سطحی یا مٹی کے پانی اور دیگر تیزابوں کے کیمیاوی تعامل کے ذریعہ انہیں ریزے کی حالت میں تحلیل یا تخفیف کر دیتے ہیں۔ تمام کیمیائی تعامل کو تیز رفتار کرنے کے لیے حرارت کے ساتھ پانی اور ہوا (آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائڈ) کا ہونا ہے۔ مجموعی طور پر ہوا میں موجود کا ربن ڈائی آکسائڈ اور پودوںاور جانوروںکا گلنا سڑنا، زیر زمین کا ربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار کو بڑھا دیتے ہیں۔ بہت سی معدنیات پر یہ کیمیائی تعامل، تجربہ گاہ میں کیے جانے والے کیمیائی تعامل کے مشابہ ہوتے ہیں۔    

طبیعی فرسودگی کا عمل    

(Physical Weathering Processes)

طبیعی یا میکا نیکی فرسودگی کے اعمال کچھ اطلاقی قوتوں پر منحصر ہوتے ہیں۔ یہ اطلاقی قوتیں ہو سکتی ہیں: (i)     قوت ثقل جیسےبہت زیادہ دباؤ ، بوجھ اورکھینچ تناؤ، (ii)حرارت کی تبدیلی (Crystal) کی نمو یا جانوروں کی سرگرمی کی وجہ سے تو سیعی قوت (iii) نم اور خشک دور سے کنٹرول شدہ آبی دباؤ۔ ان میں سے بہت سی قوتیں سطح پر اور مختلف ارضی مادوں کے اندر ایک ساتھ کام کرتی ہیں جس سے چٹا نیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ طبیعی فرسودگی کے زیادہ تر اعمال حرارتی تو سیع اور دباؤ کے ہٹنے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ گرچہ یہ اعمال معمولی اور سست ہوتے ہیں لیکن چٹانوں کو کافی حد تک نقصان پہونچاتے ہیں کیونکہ بار بار پھیلنے اور سکڑنے سے چٹانیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔    

حیاتیاتی سرگرمی اور فرسودگی

(Biological Activity and Weathering)

حیاتی فرسودگی سے مراد جانداروں کی حرکت یا نمو کی وجہ سے فرسودگی کے ماحول اور طبیعی تبدیلیوں سے معدن اور آئن (ion) کا دینا     یا ہٹانا ہے۔ کیچوے ، دیمک ، کترنے والے جاندار جیسے عضویوں کے ذریعہ بنانے یا چھید کرنے سے نئی سطح کیمیائی حملے کی زد میں آ جاتی ہے اور نمی اور ہوا کو سرایت کرنے میں مدد ملتی ہے۔ انسان بھی نباتات میں خلل ڈال کر، مٹی کو جوت کر اور اس میں کاشت کاری کر کے، ہوا پانی اور ارضی مادوں میں معدنیات کے درمیان نئے روابط پیدا کرتا ہے ۔ سڑے گلے پودے اور جانوروں کے مادے ہیومک (humic) ، کار بونک اور دیگر تیزابوں کی پیداوار میں مدد دیتے ہیں جو گلنے سڑنے اور کچھ عناصر کی حل پذیری کو تیز کر دیتے ہیں۔ الگی (Algae)نمو کے لیے معدنی غذ ائیت کا استعمال کرتی ہے اور لوہا اور میگنیز آکسائڈ کے ارتکازمیں تعاون کرتی ہے ۔ پودوں کی جڑیں میکانیکی طور پر ارضی مادوں پر زبردست دبائو ڈالتی ہیں اور انہیں الگ الگ توڑ دیتی ہیں۔    

فرسودگی کے کچھ خصوصی اثرات    

(Some Special     Effects of Weathering)

بوجھ ہٹانے، حرارتی سکڑن اور پھیلاؤ اور نمک کی فرسودگی کے بارے میں طبیعی فرسودگی کے عمل کے تحت اسے پہلے ہی واضح کیا جا چکا ہے۔ پرت ریزی نتیجہ ہے نہ کہ طریق عمل ۔ چٹانوں یا فرشی چٹان کے خول کی تقریباً خمیدہ چادروں کے ہٹنے سے ہموار اور گول سطح بن جاتی ہے (تصویر 6.4)۔

3rd
                            تصویر6.3:پرت ریزی اور دانے دار انتشار

درجۂ حرارت کی تبدیلیوں کے ذریعہ ہونے والے پھیلاؤ اور سکڑن سے پرت ریزی ہو سکتی ہے۔ پرت ریز گنبد اور سنگ کے تودے بالترتیب بوجھ کے ہٹنے اور حرارتی پھیلاؤ کی وجہ سے بنتے ہیں۔    

فرسودگی کی اہمیت    

(Significance of Weathering)

فرسودگی کے عمل سے چٹانیں چھوٹے ٹکڑوں میں ٹوٹ جاتی ہیں اور فرسودگی کاعمل نہ صرف ریگو لتھ (regolith)     اور مٹی کے بننے کا راستہ ہموار کرتا ہے بلکہ کٹاؤ اور تودوں کی حرکات کے لیے بھی ذمہ دار ہے۔ بایوم(Biome)اور حیاتیاتی تنوع (Biodiversity)     بنیادی طورپر جنگلات (نباتات) کا نتیجہ ہیں اور جنگلات فرسودگی کے غلاف کی گہرائی پر منحصر ہیں۔ اگر چٹانوں کی فرسودگی نہ ہو تو کٹاؤ کی اہمیت نہیں ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ فرسودگی ہبوط ملبہ (Mass Wasting)     ، کٹاؤاورریلیف کی تخفیف اور کٹاؤ کے ذریعہ زمینی شکلوں کی تبدیلی میں اضافہ کرتی ہے۔ چٹانوں کی فرسودگی اور ذخیرہ اندوزی لوہا، مینگنیز، المونیم، تانبہ وغیرہ جیسی قیمتی کچھ دھاتوں کے ارتکاز اور افزودگی میں تعاون دیتی ہے جو قومی معیشت کے لیے کافی اہم ہیں۔ فرسودگی مٹی کے بننےکا ایک اہم عمل ہے ۔

جب چٹانیں فرسودگی کے زیر اثر آتی ہیں تو کچھ مادے زمین دوز پانی کے ذریعہ کیمیائی یا طبیعی پیچنگ کی بنا پر ہٹا دیئے جاتے ہیں اور باقی باندہ قیمتی مادوں کا ارتکاز بڑھ جاتا ہے۔ اس قسم کی فرسودگی کے بغیر ان قیمتی مادوں کا ارتکاز کافی نہیں ہوتا اور معاشی طور پر ان کا استحصال، طریق عمل اور تلخیص بھی ممکن نہیں ہو پاتی ۔ اسی کو افزودگی (Enrichment)کہتے ہیں۔

تودہ حرکات (Mass Movements)    

یہ حرکات قوت ثقل کے زیر اثر چٹانی ٹکڑوں کے ڈھیر کو ڈھال پر نیچے کی طرف منتقل کرتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہوا، پانی یا برف چٹانی ٹکڑوں کو اپنے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں لے جاتے بلکہ دوسری طرف چٹانی ٹکڑے ہوا، پانی اور برف کو اپنے ساتھ ڈھوتے ہیں۔ تودے کی حرکات سست سے تیزرفتارتک ہو سکتی ہیں اور مادوں کے اتھلے سے لےکرگہرے کالم تک کو متاثر کر سکتی ہیں اور اس میں خزش (Creep)، بہاؤ (Flow)، کھسکاؤ (Slide)     اور گرنا (Fall)شامل ہوتے ہیں۔ قوت ثقل اپنی طاقت تمام مادوں پر ڈالتی ہےیعنی فرشی چٹانوں اور فرسودگی کے ماحصل دونوں پر۔ اس لیے تودوں کی حرکات کے لیے فرسودگی لازمی نہیں۔     البتہ یہ تودوں کی حرکات میں معاون ضرور ہوتی ہے۔ تودوں کی حرکات غیر فر سودہ مادوں کی بہ نسبت فرسودہ ڈھلانوں پر زیادہ فعال ہوتی ہیں۔    
تودہ حرکات میں قوت ثقل کا تعاون ہوتا ہے اور جیو مارفی طریق ہائے عمل جیسے بہتا پانی، گلیشیر، ہوا، موجیں اور دھارے تو دہ حرکات کے عمل میں کوئی حصہ نہیں لیتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تودہ حرکات کٹاؤ کے تحت نہیں آتی گر چہ ایک جگہ سے دوسری جگہ تک مادوں کی منتقلی (قوت ثقل کے تعاون سے) ہوتی ہے۔ ڈھلانوں کے اوپر کے مادوں خلل ڈالنے والی قوتوں سے ان کی اپنی مزاحمت ہوتی ہے اور تبھی ٹوٹتی ہیں جب قوت مادوں کی جرّی مزاحمت سے زیادہ ہوتی ہے۔ کمزور غیر مربوط مادے، پتلی پرتوں والی چٹانیں ، شگاف، کھڑی ڈھال کی پرتیں، عمودی کلیف (Cliff)یا تیز ڈھلان، وافر بارندگی اور موسلا دھار بارش اور نباتات کی کمی وغیرہ تودہ حرکات میں معاون ہوتی ہیں۔
تودہ حرکات سے قبل کئی اسباب سر گرم ہوتے ہیں، یہ ہیں (i)اوپری مادوں کے نتیجے سے قدرتی یا مصنوعی طریقوں سے سہارے کا ہٹنا (ii) شرح ڈھال اور ڈھلانوں کی بلندی میں اضافہ (iii)قدرتی یا مصنوعی طور پر مادوں کا اضافہ کر کے زیادہ بوجھ لادنا (iv) بھاری بارش اور ڈھلان والے مادوں کی سیری اور چکنا ہٹ کی وجہ سے بوجھ میں اضافہ (v) اصل ڈھال والی سطح کے اوپر سے بوجھ یا مادوں کا ہٹنا (vi)     زلزلہ کا ہونا، دھماکہ یا مشینوں کا چلنا     (vii) قدرتی رساؤ کا زیادہ ہونا (viii)     جھیلوں، آبی ذخیروں اور ندیوں سے زیادہ مقدار میں پانی آنا جس کی وجہ سے پانی ڈھال کے نیچے سے یا ندیوں کے کنارے سے آہستہ آہستہ باہر آنے لگتا ہے     (ix) قدرتی نباتات کی اندھا دھند کٹائی ۔    
پرت ابھا ر (Heave)     (پالے کی نم اور دیگر و جوہات سے مٹی کا ابھرنا)، بہاؤ اور کھسکاؤ حرکات کی تین شکلیں ہیں۔ تصویر 6.5 میں مختلف قسم کی تودہ حرکات ، ان حرکات کی نسبتی شرح اورر طوبتی حد کے آپسی تعلق کو دکھایا گیا ہے ۔    

زمینی کھسکاؤ (Landslides)    

یہ نسبتاً تیز اور قابل مشاہدہ حرکات ہیں۔ اس میں شامل مادے نسبتاً خشک ہوتے ہیں۔ ادھڑے تودے کی سائز اور شکل چٹان میں عدم تسلسل کی ماہیئت، فرسودگی کے درجے اور ڈھلان کی تیزی پر منحصر ہوتی ہے ۔ مادوں کی حرکات کی قسم پر منحصر، اس درجے میں بھی کئی قسموں کی پہچان کی گئی ہے۔
ہبوط ارض (Slump) چٹانی ملبوں کی ایک یا کئی اکائیوں کا اس ڈھال کی نسبت سے جس پر حرکت ہو رہی ہے، پیچھے کی طرف گردش کے ساتھ کھسکنا ہے(تصویر ६6.6)۔ زمینی ملبوں کا پیچھے کی طرف گردش کیے بغیر لڑھکنا یا کھسکنا ملبہ کھسکاؤ (Debris Slide)     کہلاتا ہے۔ عمودی یا اوپر لٹکتی سطح سے زمینی ملبوں کا آزادانہ طور پر گرنا ہی ملبوں کا گرنا ہے۔ جوڑ یا شگافی سطح سے نیچے فرش کی طرف انفرادی چٹانی تودوں کا آزادی سے کھسکنا چٹانی کھسکاؤ(Rockslide) ہے۔ تیز ڈھال پر چٹانی کھسکاؤ بہت تیز اور تباہ کن ہوتا ہے۔ تصویر 6.7 میں چٹانی کھسکاؤ کے نشانات دکھائے گئے ہیں۔ کھسکاؤ عدم تسلسل کے ساتھ سطحی نا کامی کی طرح فرشی سطح کے تیز جھکاؤ جیسی بھی ہو سکتی ہے۔ کسی بھی تیز ڈھال پر چٹانی بلاکوں کا    ڈھال سے ہٹ
4th
                   تصویر6.4:عبقی گردش کے ساتھ ہونے والا ہبوط ارض
 ڈھال کی ابتدائی حالت
ہبوط ارض کے اجسام مادوں کی عقبی گردش دکھاتے ہوئے

کر گرنا چٹانوں کا گرنا (Rock Fall)     کہلاتا ہے۔ چٹانوں کا گرنا چٹانی رخ کی بناوٹی پرتوں سے ہوتا ہے ۔ یہ ایسا وقوعہ ہے جو چٹانی کھسکاؤ سے الگ ہوتا ہے اور مادوں کو کافی گہرائی تک متاثر کرتا ہے ۔    
5th

تصویر6.5:اتر پردیش کی ہند۔نیپال سرحد پر شاردا ندی کے پاس ہمالیہ کے شیوالک سلسلوں میں ہبوط ارض کے نشانات

تودوں کی بربادی اور تودوں کی حرکات میں کون سی اصطلاح زیادہ مناسب ہے اور کیوں؟ کیا سیل مٹی کو تیز بہاوی حرکات میں شامل کیا جا سکتا ہے ؟ اگر شامل کیا جائے تو کیوں؟ اور نہ شامل کریں تو کیوں؟


ہمارے ملک میں ملبہ اولانش اور زمینی کھسکاؤ ہمالیہ میں اکثر ہوتے رہتے ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ اول ہمالیہ ساختمانی حیثیت سے فعال ہیں۔ یہ زیادہ تر رسوبی چٹانوں اور غیر مربوط اور نیم مربوط ذخیروں سے بنے ہیں۔ اس کے ڈھال بہت تیز ہیں۔ ہمالیہ کی بہ نسبت تامل ناڈو، کرناٹک، کیرالہ کی سرحد بنانے والی نیل گیری اور مغربی ساحل کے ساتھ مغربی گھاٹ ساختمانی حیثیت سے نسبتاً مستقل ہیں اور زیادہ تر سخت چٹانوں سے بنے ہیں؛لیکن پھر بھی ان پہاڑیوں میں ملبہ اولانش اور زمینی کھسکاؤ ہوتے رہتے ہیں لیکن اتنے کثیر الوقوع نہیں ہیں جتنا کہ ہمالیہ میں۔ کیوں؟ مغربی گھاٹ اور نیل گیری کے زیادہ تر ڈھال عمودی جوف اور کگار کی طرح تیز ہیں۔ درجۂ حرارت کی تبدیلی اور تفاوت کی وجہ سے میکا نیکی فرسودگی واضح ہے۔ یہاں کم عرصے میں بارش کی مقدار کافی ہوتی ہے ۔ اس لیے ان مقامات میں زمینی کھسکاؤ اور ملبہ اولانش کے ساتھ چٹانوں کا براہ راست گرنا بھی اکثر ہوتا رہتا ہے ۔


کٹاؤ اور رسوب اندوزی    

(Erosion and Deposition)

کٹاؤ میں چٹانی ملبوں کا اٹھانا اور دوسری جگہ لے جانا شامل ہے۔ جب چٹانی تودے فرسودگی کی وجہ سے یا کسی دوسرے عمل سے چھوٹے ٹکڑوں میں ٹوٹتے ہیں تو ارضیاتی کٹاؤ کے عوامل جیسے بہتا پانی، زمین دوز پانی، گلیشیئر، ہوا اور موجیں انہیں ایک جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ لے جاتی ہیں۔ یہ عمل ان میں سے ہر عامل کی حرکت پر منحصر ہوتا ہے ۔ ان جیومارفی عوامل کے ذریعہ ڈھوئے جانے والے چٹانی ملبوں کی خرا شیدگی (Abrasion)     بھی کٹاؤ میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ کٹاؤ کی وجہ سے ریلیف پست ہوتا ہے یعنی زمینی منظر ٹوٹ جاتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گرچہ فرسودگی کٹاؤ میں معاون ہے لیکن کٹاؤ کے لیے شرط نہیں ہے ۔ فرسودگی ، ہبوط ملبہ اور کٹاؤ عریاں کاری کے طریق ہائے عمل ہیں۔کٹائو سطح زمین پر لگاتا ر تبدیلیوں کے لیے زیادہ ذمہ دار ہوتا ہے۔ جیسا کہ تصویر 6.1میں اشارہ کیا گیاہے کہ عریاں کاری کے طریق ہائے عمل جیسے کٹاؤ اور نقل و حمل حرکی توانائی سے کنٹرول ہوتے ہیں ۔ زمینی مادوں کا کٹاؤ اور نقل و حمل، ہوا، بہتے پانی ، گلیشیئر، موجوں اور زمینی پانی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ان میں سے پہلے تین عوامل آب و ہوائی حالات کے زیر اثر ہوتے ہیں۔    
یہ مادے کی تین حالتوں۔ گیس (ہوا) مائع (بہتا پانی) اور ٹھوس (گلیشیئر) کی بالترتیب نمائندگی کرتے ہیں۔    

\

کیا آپ آب و ہوا کے زیر اثر تین عوامل کا موازنہ کر سکتے ہیں؟


کٹائو کے عوامل موج اورز مین دوز پانی کا کام آب و ہوا کے زیر اثر نہیں ہوتا ہے ۔ موجوں کی حالت میں ساحلی خطوںمیں برّی اور بحری کروں کی آپسی مواجہت کا محل وقوع موجوں کے کام کی تعیین کرتا ہے، جبکہ زمین دوز پانی کا کام خطے کی حجر یاتی صفات سے متعین ہوتا ہے ۔ اگر چٹانیں نفوذ پذیر اور قابل تحلیل ہیں اور پانی موجود ہے تو کار سٹ کی وضع (Karst Topography)بنتی ہے ۔ دوسرے باب میں کٹاؤ کے ہر عامل کے ذریعہ بننے والی ارضی ہیئت کا تذکرہ کریں گے ۔    
ذخیرہ اندوزی کٹاؤ کا نتیجہ ہے۔ کٹاؤ والے عامل اپنی رفتار کھو دیتے ہیں۔ اس لیے سست ڈھالوں پر توانائی کم ہو جاتی ہے اور ان کے ذریعہ ڈھوئے جانے والے مادے نیچے کی طرف بیٹھنے لگتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ذخیرہ اندوزی در حقیقت کسی عامل کا کام نہیں ہے۔ موٹے مادوں کا جماؤ پہلے ہوتا ہے اور بار یک مادوں کی ذخیرہ اندوزی بعد میں ہوتی ہے ۔ ذخیرہ اندوزی سے نشیبی زمین بھرنا شروع ہو جاتی ہے۔ وہی کٹاؤ والے عوامل جیسے بہتا پانی     ،گلیشیئر ، ہوا، موجیں اور زمین دوز پانی رسوب اندوزی یا ذخیرہ اندوزی کے عوامل بھی ہیں۔    
کٹاؤ اور رسوب اندوزی سے سطح زمین پر کیا ہوتا ہے؟ اس کی تفصیل دوسرے باب ارضی ہیئتیں اور ان کی ارتقاء میں دی گئی ہے ۔    

تودوں کی حرکت اور کٹاؤ میں مادے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں۔ اس لیے ان دونوں کو ایک اور یکساں کیوں نہ سمجھا جائے ؟ کیا چٹانوں کی فرسودگی کے بغیر قابل ذکر کٹاؤہو سکتا ہے ۔

مٹی کی تشکیل     (Soil Formation)    

آپ مٹی میں پودوں کو اگتا ہو دیکھتے ہیں۔ آپ زمین پر کھیلتے ہیں اور مٹی کے رابطہ میں آ جاتے ہیں۔ آپ مٹی کو چھوتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں اور کھیل کے دوران اپنے کپڑوں کوگندا کر لیتے ہیں۔ کیا آپ اسے بیان کر سکتے ہیں؟    
مٹی ایک محرک واسطہ ہے جس میں کئی کیمیائی طبیعی اور حیاتیاتی سرگرمیاں     لگاتار چلتی رہتی ہیں۔ مٹی گلنے (Decay)کا نتیجہ ہے۔ یہ نشوو نما کاذریعہ بھی ہے۔ یہ بدلنے والی اور بڑھنے والی شئے ہے۔ اس کی کئی صفات موسم کے مطابق بدلتی رہتی ہیں۔ یہ متبادل طور پر ٹھنڈی اور گرم یا خشک اور نم ہو سکتی ہے۔ اگر مٹی بہت زیادہ ٹھنڈی یا گرم ہو جاتی ہے تو اس میں حیاتیاتی سرگرمیاں بند ہو جاتی ہیں۔ جب پتیاں گرتی ہیں یا گھاس مرجھا نے لگتی ہے تو نامیاتی مادے نمو پانے لگتے ہیں۔    

پیڈولوجی (Pedology) مٹی کی سائنس ہے اور پیڈولوجسٹ مٹی کا سائنس داں ہوتا ہے ۔

مٹی کی تشکیل کا عمل    

(Process of Soil Formation)

مٹی کے بننے کا عمل یا مٹی کی تشکیل (Pedogenesis) سب سے پہلے فرسودگی پر منحصر ہوتی ہے۔ فرسودگی کا یہ غلاف(فرسودہ مادوں کی گہرائی) ہی مٹی کی تشکیل میں بنیادی سرمایہ کاری ہے۔ فرسودہ مادوں یا باہر سے لگائی گئی ذخیرہ اندوزی میں سب سے پہلے بیکٹیریا (bacteria) اور دیگر انتہائی چھوٹے پودے جیسے کائی اور لایکن آباد ہوتے ہیں نیز کئی اجسام نامی بھی ان غلافوں اور ذخیروں میں اپنی آما جگاہ بنا لیتے ہیں۔ جانداروں اور پودوں کے مردہ باقیات ہیومس(Humus)     کے اضافے میں تعاون کرتے ہیں۔ شروع میں چھوٹی گھاس اور فرن اُگتی ہیں بعد میں جھا ڑیاں اور درخت ان بیجوں سے اگنا شروع ہو جاتی ہیں جو پرندوںا ور ہوا کے ذریعہ لائے جاتے ہیں۔ پودوں کی جڑیں نیجے گھستی ہیں۔ بل بنانے والے جانور ذرات کو اوپر لاتے ہیں، مادوں کی کمیت مسامدار اور اسپنج کی طرح ہو جاتی ہے جس میں پانی کو روکنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور ہوا گزر سکتی ہے اور بالآخر ایک پختہ مٹی کی تشکیل ہو جاتی ہے جو جاندار اور نامیاتی ماحصل کی شکلوںکاپیچیدہ آمیزہ ہوتا ہے ۔

کیا مٹی تشکیل کے لیے فرسودگی تنہا ذمہ دار ہے؟ اگر نہیں تو کیوں؟

مٹی کی تشکیل کرنے والے عوامل    

(Soil Forming Factors)

مٹی کی تشکیل کرنے والے پانچ بنیادی عوامل ہیں (i) سرچشمی مادے (ii)وضع یا زمینی خدوخال (iii)آب و ہوا (iv)     حیاتیاتی سرگرمیاں     (v)وقت۔در حقیقت مٹی کو بنانے والے عوامل متحد ہو کر کام کرتے ہیں نیز ایک دوسرے کے عمل کو متاثر کرتے ہیں۔    

سرچشمی مادے (Parent Material)    

مٹی کی تشکیل میں سرچشمی مادہ ایک غیر فعال عامل ہے۔ سرچشمی مادے اپنی جگہ پر فرسودہ چٹانوں کے باقیات (دردی مٹی) یا حمالی ذخیرے(منتقل شدہ مٹی) ہو سکتے ہیں۔ مٹی کی بناوٹ بافت (ملبہ کا سائز) اور ساخت (ملبہ کے انفرادی دانوں کی تبدیلی؍ملبوں کے ذرات) اورچٹانی باقیات؍ذخیرے کی معدنی اور کیمیائی ترکیب پر منحصر ہوتی ہے ۔    
سرچشمی مادوں کے تحت فرسودگی کی ماہیئت اور شرح اور فرسودگی والے غلاف کی گہرائی بھی کافی اہم ہیں۔ ایک ہی فرشی چٹان پر مختلف مٹیاں ہو سکتی ہے اور مختلف فرشی چٹان پر ایک ہی قسم کی مٹی پائی جا سکتی ہے۔ لیکن مٹیاں جب نو خیز ہوتی ہیں اور پختہ نہیں ہوتیں تو سرچشمی چٹانوں کے ساتھ مضبوطی سے جڑی ہوتی ہیں۔ نیز چونا پتھر کے علاقوں میں جہاں فرسودگی کا عمل خاص ہوتا ہے، مٹیوں کا سرچشمی چٹانوں کے ساتھ تعلق صاف نظر آتا ہے ۔    

وضع یا زمینی خدوخال (Topography)

سرچشمی مادوں کی طرح وضع یا زمینی خد و خال بھی کنٹروں کرنے والا ایک جامد یا منفعل عامل ہے ۔ زمینی خد و خال کا اثر سر چشمی مادوں سے ڈھکی سطح کی اس مقدار سے محسوس کیا جا سکتا ہے جو سورج کے سامنے ہے اور سطحی اور ذیل سطحی پن نکاس کی اس مقدار سے سمجھا جا سکتا ہے جو مٹی پر ہوکر گذرتی ہے۔ تیز ڈھالوں پر مٹی کی پرت پتلی ہوتی ہے اور بالائی مسطح علاقوں میں موٹی ہوتی ہے۔ سست ڈھالوں پر جہاں کٹاؤ کا عمل سست ہوتا ہے اور پانی کا ر سنا بہتر     ہے وہاں مٹی کی تشکیل میں کافی مدد ملتی ہے۔ مسطح علاقوں میں چیکا مٹی کی موٹی پرت بن سکتی ہے جس میں نا میاتی مادوں کی اچھی خاصی مقدار جمع ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے مٹی کار نگ کالا ہو جاتا ہے۔

آب و ہوا (Climate)

مٹی کی تشکیل میں آب و ہوا ایک فعال عامل ہے ۔ مٹی کی نشو و نما میں شامل آب و ہوائی عناصر ہیں: (i)     رطوبت۔ اسکی شدت، کثرت وقوع، بارندگی ، تبخیر اور نمی کے اعتبار سے (ii)     درجۂ حرارت موسمی اور روزانہ تبدیلی کے اعتبار سے۔    
بارندگی مٹی کو ر طوبت دیتی ہے جس کی وجہ سے کیمیاوی اور حیاتیاتی سرگرمیاں ممکن ہو پاتی ہیں۔ پانی کی کثرت مٹی سے اُس کے اجزا ء کو نیچے لے جانے(Evluviation)     میں اور اسے نیچے جمع کرنے (Illuviation)میں مدددیتی ہے۔مرطوب استوائی بارانی جیسے آب و ہوائی علاقوں میں جہاں بارش زیادہ ہوتی ہے نہ صرف کیلشیم، سوڈیم، میگنیشیم، پوٹا شیئم وغیرہ بلکہ سلیکا کا     ایک بڑا حصہ بھی مٹی سے ہٹ جاتا ہے۔ مٹی سے سلیکا کے ہٹنے کو لاسلیکائی عمل (Desilication)کہتے ہیں۔خشک آب و ہوا میں اونچے درجۂ حرارت کی وجہ سے عمل تبخیر، عمل بارندگی سے زیادہ ہوتاہے اور زمین دوز پانی عمل موئینی (Capillary Action)کے ذریعہ سطح تک آجاتا ہے اور اس عمل میں پانی آبخرات بن کراڑ جاتا ہے اور مٹی میں نمک چھوڑ جاتا ہے۔ ایسے نمک مٹی میں قشر کی صورت اختیار کر لیتے ہیں جن کو مٹی کی سخت پرت (Hardpans) کہا جاتا ہے ۔ حاری آب و ہوا میں اور میانہ بارندگی والے علاقوں میں کیلشیئم کار بونیٹ کی گانٹھیں (کنکڑ) بن جاتی ہیں۔    
درجۂ حرارت دو طرح سے کام کرتا ہے۔کیمیائی اور حیاتی سرگرمیوں کو بڑھا دیتا ہے یا گھٹا دیتا ہے۔ کیمیائی سر گرمیاں اونچے درجۂ حرارت میں بڑھ جاتی ہیں اور ٹھنڈے درجۂ حرارت میں کم ہو جاتی ہیں اور (کاربونیشی عمل کو     چھوڑ کر)انجمادی حالت میں بند ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ سے کہ اونچے درجۂ حرارت کے ساتھ حاری مٹیوں میں گہری طبق نمایاں ہوتی ہے جبکہ منجمد ٹنڈرا علاقوں کی مٹیوں میں زیادہ تر میکا نیکی اعتبار سے ٹوٹے مادے ہوتے ہیں۔

حیاتیاتی سر گرمیاں (Biological Activity)    

نباتاتی غلاف اور نامیات جو شروع سے سر چشمی مادوں میں ہوتے ہیں، بعد کے مراحل میں نا میاتی مادے، استقرار طوبت، نائٹروجن وغیرہ کا اضافہ کرتے ہیں ۔ بے جان پودے ہیو مس فراہم کرتے ہیں جو مٹی میں نا میاتی مادوں کے باریک ذرات ہیں ۔ ہیو مس بننے (Humification)کے دوران کچھ نامیاتی تیزاب یا ترشے مٹی میں سرچشمی مادوں میں موجود معد نیات کو گلانے میں مدد کرتے ہیں ۔    
بیکٹیریائی سرگرمی کی شدت کی وجہ سے ٹھنڈی اور گرم آب و ہوا کی مٹیوں کے درمیان فرق دیکھا جا سکتا ہے۔ ٹھنڈی آب و ہوا میں ہیو مس اکٹھا ہوتا رہتا ہے کیونکہ بیکٹیریائی نشو ونماسست ہوتی ہے۔ بیکٹیریائی سرگرمی سست ہونے کی وجہ سے نامیاتی مادے گلتے سڑتے نہیں ہیں، جس کے نتیجے میں آرکٹک اور ٹنڈرا آب و ہوا میں پیٹ (Peat)     کی پرت بن جاتی ہے۔ مرطوب حاری اور استوائی آب و ہوا میں بیکٹیریائی نشو و نما اور سرگرمی شدید ہوتی ہے اور بے جان نباتات تیزی سے آکسی ڈائز ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے مٹی میں ہیومس کی مقدار کم رہ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بیکٹیریاں اور مٹی کے دیگر نامیات ہوا سے نائٹروجن گیس کو لیتے ہیں اور اسے کیمیائی شکل میں بدل دیتے ہیں جو پودوں کے ذریعہ استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس عمل کو نائٹروجن تثبیت (Nitrogen fixation) کہتے ہیں۔ ایک قسم کا بیکٹیریاں رائزوبیم (Rhizobium)     جو تھیلی دار پودوں کی گانٹھ والی جڑوں کی گانٹھ میں رہتا ہے اور نائٹروجن کی تثبیت کرتا ہے ، میزبان پودے کے لیے فائدہ مند ہے۔بڑے حشرات جیسے چینٹیاں، دیمک، کیچوے، کترنے والے جانور وغیرہ کا اثر میکانیکی ہوتا ہے۔ لیکن مٹی کی تشکیل میں ان کا کام بھی بہت اہم ہے کیونکہ یہ مٹی کو الٹتے پلٹتے رہتے ہیں۔ کیچوے چونکہ مٹی کھاتے ہیں۔ اس لیے ان کے بدن سے نکلنے والی مٹی کی کیمیا اور بافت بدل جاتی ہے ۔

وقت (Time)    

مٹی کی تشکیل میں وقت تیسرا اہم عامل ہے۔ مٹی کے بننے میں زیادہ سے زیادہ وقت لگتا ہے۔

کیا یہ ضروری ہے کہ مٹی بننے کا عمل اور مٹی بنانے والے عوامل کے درمیان فرق کیا جائے ؟

مٹی کے بننے میں وقت ، زمینی خدو خال اور سر چشمی مادوں کو منفعل عوامل کیوں سمجھا جاتا ہے؟


اس سے مٹی کی پختگی اور طبقات کی نشو ونما کا پتہ چلتا ہے۔ مٹی کو اس وقت پختہ کہا جاتا ہے جب مٹی تشکیل کرنے والے اعمال لمبے عرصے تک کا کام کر کے مٹی کا پروفائل (Profile)بناتے ہیں۔ وہ مٹیاں جو حال ہی میں الووئیم (Alluvium)یا گلیشیائی صحرہ (Glacial Till) کے جمع ہونے سے بنی ہیں، وہ نو خیز مٹی ہیں اور ان میں طبق (Horizons) کا فقدان ہوتا ہے یا کمزور طبق پائے جاتے ہیں۔ مٹی کی تشکیل اور پختگی کے لیے کوئی خاص وقت مقرر نہیں کیا جا سکتا ۔

مشق

-1    کثیر انتخابی سوالات    
(i) درج ذیل میں کون سا طریق عمل ہموار کاری کا طریق عمل ہے؟     
                                  (الف)    ذخیرہ اندوزی                             (ب)    آتش فشانی
                                  (ج)مسخ کاری                                             (د)کٹائو    
(ii) درج ذیل میں کون سامادہ عمل آبیدگی سے متاثر ہوتا ہے؟    
                              (الف)گرینائٹ                                             (ب)کلے
                              (ج)کوارٹز                                                           (د)نمک    
(iii)    ملبہ اولانش کو کس درجے میں شامل کیا جا سکتا ہے؟     
                              (الف)زمینی کھسکاؤ                                   (ب)تیز بہاؤ والی تودہ حرکت
                              (ج)سست بہاؤ والی تودہ حرکت    (د)دھنساؤ    
-2 درج ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 30الفاظ میں دیں۔
                         (i)    فرسودگی زمین پر حیاتیاتی تنوع کے لیے ذمہ دار ہے ۔ کیسے؟     
                         (ii)    تودوں کی حرکات کیا ہیں جو واقعی تیز اور قابل مشاہدہ ہیں؟     
                         (iii)    مختلف متحرک اور طاقتور بر نموئی ارضی صوریاتی تبدیلیاں کیا ہیں؟ ان کے اہم کام کیا ہیں؟     
                         (iv)    کیا مٹی کی تشکیل میں فرسودگی لازمی شرط ہے، کیوں؟     
-3 مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 150 الفاظ میں دیں۔    
                             (i)    ’’ہماری زمین دومخالف ارضی صور یاتی تبدیلیوں کے لیے کھیل کا میدان ہے ‘ ‘ واضح کریں۔
                             (ii)    ’’برنموئی جیو مارفی طریق ہائے عمل اپنی توانائی سورج کی گرمی سے حاصل کرتے ہیں‘‘ تشریح کریں۔     
                        (iii)    کیا طبیعی و کیمیاوی فرسودگی کے اعمال ایک دوسرے پر غیر منحصر ہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟ مثالوں سے واضح کریں۔
                    (iv)    آپ مٹی کی تشکیل کے طریق عمل اور مٹی کو تشکیل دینے والے عوامل میں کیسے فرق کریں گے؟ مٹی کی تشکیل میں آب و ہوا اور حیاتیاتی سرگرمی کا دو اہم عوامل کی حیثیت سے کیا رول ہے؟

پروجیکٹ

اپنے آس پاس کی زمینی وضع اور مادوں کی بنیاد پر آب و ہوا ، ممکنہ عمل فرسودگی، مٹی کے اجزائے تر کیبی اور صفات کا مشاہدہ کیجیے اور اسے ریکارڈکیجیے ۔