چونکہ اس باب میں ارضی ہیئتوں اور ان کے ارتقاء کی بات کی جارہی ہےتو پہلے ہم اس سوال سے شروع کرتے ہیں کہ ارضی ہیئت کیا ہے؟ آسان لفظوں میں سطح زمین کے چھوٹے تامیانے قطعات یا حصوں کو ارضی ہیئتیں (Iandforms) کہتے ہیں ۔
اگر ارضی ہیئتیں سطح زمین کے چھوٹے سے لے کر درمیانے قطعات کو کہتے ہیں، تو زمینی منظر(Landscape) کیا ہے؟
ایک دوسرے سے مربوط کئی ارضی ہیئتیں ، زمینی مناظر(سطح زمین کے بڑے قطعات) بناتی ہیں۔ ہر زمینی منظر کی اپنی شکل وصورت، سائز اور مادے ہوتے ہیں جو کچھ ارضی صوریاتی طریق ہائے عمل اور عوامل کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ زیادہ تر ارضی صوریاتی طریق ہائے عمل اور عوامل سست ہوتے ہیں اور ان کا نتیجہ برآمد ہونے میں وقت لگتا ہے۔ ہر ارضی ہیئت کی ایک ابتداہوتی ہے ۔ ایک بار ارضی ہیئت بننے کے بعد جیومارفی طریق ہائے عمل کے اعمال اور عوامل کے لگاتار کام کرنے کی وجہ سے ان کی شکل وصورت ، سائز اور ماہیت میں آہستہ آہستہ یا تیزی سے تبدیلی ہونے لگتی ہے۔
آب و ہوائی حالات میں تبدیلی کی وجہ سے یا زمینی تودوں کی افقی یا عمودی ہلچل کی وجہ سے طریق ہائے عمل کی شدت یا ان اعمال کے بذات خود تبدیل کرنے کی استعداد کی وجہ سے ارضی ہیئت میں ترمیم ہوتی ہے۔ یہاں ارضی ہیئت کا مطلب ہے سطح زمین کے کسی ایک حصے کا ایک ارضی ہیئت سے دوسری شکل میں ہونے والی تبدیلی کے مراحل یا انفرادی ارضی ہیئت میں اس کے بننے کے بعد ہونے والی تبدیلی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر ایک ارضی ہیئت کی وقت کے ساتھ بننے اور بدلنے کی ایک تاریخ ہوتی ہے۔ ایک زمینی تودہ ترویج کے کئی مراحل سے گذرتا ہے اور اس کا موازنہ زندگی کے مراحل۔ بچپن ، جوانی اور بڑھاپے سے کر سکتے ہیں۔
ارضی ہیئت کی ارتقاء کے دو اہم پہلو کیا ہیں؟
بہتا ہوا پانی (Running Water)
مرطوب علاقوں میں جہاں بھاری بارش ہوتی ہے، بہتا پانی زمینی سطح کی پست کاری میں سب سے زیادہ اہم جیومارفی عامل سمجھا جاتا ہے۔ بہتے ہوئے پانی کے دو اجزائے ترکیبی ہیں۔ ایک عام زمینی سطح پر پرت کی طرح براہ خشکی بہاؤ (Overland flow) اور دوسرا وادی میں ندیوں اور نالوں کی طرح لکیری بہاؤ (Linear flow) ۔ بہتے پانی کے ذریعہ زیادہ تر کٹاوی ارضی ہیئتیں شرح ڈھال پر بہنے والی نوخیز تیز روندیوں کے ساتھ منسلک ہیں۔ گذرتے وقت کے ساتھ کھڑے ڈھال والے دھارے لگاتار کٹاؤ کی وجہ سے نرم ڈھال والے دھاروں میں بدل جاتے ہیں اور نتیجے کے طور پر اپنی رفتار کھودیتے ہیں اور ذخیرہ اندوزی کا عمل شروع ہو جاتا ہے ۔ کھڑی ڈھال پر بہنے والے نالوں کے ساتھ بھی بھراؤ کا عمل ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ مظہر اوسطاً کم ڈھالوں کے بالمقابل چھوٹے پیمانے پر ہوگا۔ ندیوں کی شرح ڈھال یا ڈھلان جتنی زیادہ سست ہوگی، ذخیرہ اندوزی یا بھراؤ کا عمل اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ جب ندی کی یہ لگاتار کٹاؤ کی وجہ سے نرم ڈھال والی ہوجاتی ہے توتہ کا کٹاؤ کم ہو جاتا ہے اور کناروں کا بغلی کٹاؤ بڑھ جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں پہاڑیاں اور وادیاں پست ہو کر میدان میں بدل جاتی ہیں۔
کیا کسی اونچے زمینی تودے کی ریلیف مکمل طور پر پست ہو سکتی ہے؟
براہ خشکی بہاؤ سے پرت دار کٹار(Sheet erosion) ہوتا ہے۔ سطح زمین کی ناہمواریت پر منحصر براہ خشکی بہاؤ تنگ تاچوڑے راستوں میں مرکوز ہوسکتا ہے۔ بہتے پانی کے کالم کی رگڑ کی وجہ سے سطح زمین سے مادوں کی چھوٹی یا بڑی مقدار بہاؤ کی سمت میں ہٹائی جاتی ہے اور بتدریج چھوٹی اور پتلی نالیاں (Rills) بن جاتی ہیں۔ یہ نالیاں بتدریج لمبی اور چوڑی گلیاں (Gullies) ہوجاتی ہیں؛ آگے چل کر گہری ، چوڑی ، لمبی گلیوں میں تبدیلی ہوجاتی ہیں اور ایک دوسرے سے مل کر وادیوں (Valleys) کا جال بنا دیتی ہیں۔ ابتدائی منزل میں تہ یا فرش کا کٹاؤ زیادہ ہوتا ہے جس کے دوران آبشارچے(Cascades) اور آبشار(Water falls) جیسی ناہموار یت ہٹا دی جاتی ہے۔ وسطی منزل میں دھارے اپنے فرش کا کٹاؤ کم کر دیتے ہیں اور وادی کے کناروں کا بغلی کٹاؤ بڑھ جاتا ہے۔ دھیرے دھیرے گھاٹیوں کے کنارے بھی پست ہوتے ہیں اورڈھال کم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح پن نکاسی والے طاسوں کے فاصل آب بھی کم سے کمترڈھلان میں بدلتے جاتے ہیں اور آخر میں ایک مدھم ریلیف کی نشیبی زمین بچ جاتی ہے جس میں کہیں کہیں باقی ماندہ کم رکاوٹ والی ہیئتیں ہوتی ہیں جن کو مونیڈناک(Monadnocks) کہا جاتا ہے۔ دھاروں کے کٹاؤ کے ذریعہ اس طرح سے میدان کے بننے کو لاحقہ میدان یا پینی پلین (Peneplain) کہا جاتا ہے جو تقریباًمیدان کی طرح ہی ہوتا ہے۔ بہتے پانی کے عہد میں بنے زمینی مناظر کی ہر منزل کی خصوصیات کو ذیل میں مختصراً بیان کیا گیا ہے۔
نوخیزی کی منزل (Youth Stage)
اس منزل میں دھارے کم ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے کم ملتے ہیں اور اصل ڈھال پر اتھلی V۔ شکل کی گھاٹیاں(V-shaped Valleys) بناتے ہوئے بہتے ہیں اور کوئی سیلابی میدان نہیں ہوتا یا بہت ہی تنگ سیلابی میدان اصل دھاروں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ دھاروں کے فاصل چوڑے اور مسطح ہوتے ہیں جس میں دلدل، مرداب اور جھیلیں ہوتی ہیں۔ اگر پیچاک (Meanders) ہوتے ہیں تو وہ چوڑی اونچی زمین پر بنتے ہیں۔ یہ پیچاک اونچی زمین کے سنگری پیچاک ہوتے ہیں۔ جہاں مقامی طور پر سخت چٹانوں کے وجود نمایاں ہوجاتے ہیں وہاں شرشرے(Rapids) اور آبشار (Water Falls) ہو سکتے ہیں۔
بلوغت کی منزل (Mature Stage)
اس منزل کے دوران اچھی مربوطیت (Integration) کے ساتھ ندیوں کی تعداد کافی ہو جاتی ہے۔ گھاٹی ابھی بھی V۔ شکل کی ہوتی ہے لیکن گہری ہوتی ہے۔ بڑی ندیاں(Trunk Streams) اتنی چوڑی ہوتی ہیں کہ ان میں چورس سیلابی میدان بن جاتے ہیں جن میں ندیاں وادی کے اندر ہی پیچاک میں بہتی ہیں۔ ندیوں کے مابین مسطح اور چوڑا علاقہ اور نوخیز دلدل و مرداب غائب ہو جاتے ہیں اور ندیوں کے فاصل (فاصل آب) واضح ہو جاتے ہیں۔ آبشار اور شر شرے بھی غائب ہو جاتے ہیں۔
بڑھاپے کی منزل (Old Stage)
بڑھاپے کی منزل کے دوران نرم شرح ڈھال کے ساتھ چھوٹی معاون ندیاں کم ہوتی ہیں۔ وسیع سیلابی میدان پر ندیاں آزادانہ طور پر پیچاک بناتی ہیں اور قدرتی پشتے اور جھیل دیکھنے کو ملتے ہیں۔ فاصل آب وسیع اور مسطح ہوتے ہیں جن میں جھیلیں ، دلدل اور مرداب ہوتے ہیں۔ زمینی منظر کا زیادہ تر حصہ سطح سمندر (Sea Level) پر یا اس سے تھوڑی اونچائی پر ہوتاہے۔
کٹاؤ سے بنی ارضی ہیئتیں
(Erosional Landforms)
وادیاں (Valleys)
وادیاں چھوٹی اور تنگ نالیوں کی حیثیت سے شروع ہوتی ہیں۔ نالیاں بتدریج لمبی گلیوں میں بدل جاتی ہیں۔ یہی گلیاں مزید گہری، چوڑی اور لمبی ہو کر وادی کی شکل اختیارکرلیتی ہیں۔ ان کی لمبائی چوڑائی اور شکلوں پر منحصر کئی قسم کی وادیوں کی پہچان کی گئی ہے جیسے V۔ شکل کی وادی، تنگ گھاٹی(Gorge)، تنگ گہری وادی یا کینئین(Canyon) وغیرہ۔ ایک تنگ گھاٹی یا گارج وہ گہری وادی ہوتی ہے جس کے کنارے بہت تیز ڈھال سے لے کر سیدھی ڈھلان والے ہوتے ہیں (تصویر1.7) اور کینیئن کے کناروں کے ڈھال تیز سیڑھی نما ہوتے ہیں(تصویر:2.7) اور گہرائی گارج کے برابر ہوتی ہے۔ گارج کی اوپری اور نچلی چوڑائی برابر ہوتی ہے لیکن کینیئن کا اوپر کا حصہ نچلے حصے کی بہ نسبت زیادہ چوڑا ہوتا ہے۔ درحقیقت کینیئن تنگ گھاٹی کی بدلی ہوئی شکل ہوتی ہے۔ وادیوں کی قسمیں ان کی چٹانوں کی ساخت پر منحصر ہوتی ہیں جن سے وہ بنی ہوتی ہیں۔ مثلاً کینیئن کا بننا عام طور سے افقی فرشی رسوبی چٹانوں میں ہوتا ہے اور گارج کی تشکیل سخت چٹانوں میں ہوتی ہے۔
پوٹ ہول اور آبشاری کنڈ
(Potholes and Plunge Pools)
پہاڑی ندیوں کے چٹانی فرشوں پر کم و بیش دائرے کی شکل میں بنی نشیب کو پوٹ ہولس (Potholes) کہا جاتا ہے جو ندیوں کے کٹاؤ کے ساتھ چٹانی ٹکڑوں کی رگڑ کی وجہ سے بنتی ہیں۔ ایک بار جب کوئی چھوٹا اور اتھلانشیب بن جاتا ہے تو اس نشیب میں کنکڑ پتھر جمع ہوجاتے ہیں اور پانی کے بہاؤ کی
تصویر1.7: تامل ناڈو، ضلع دھرم پوری میں ہوگنکال کے پاس گارج کی شکل میں کاویری ندی کی گھاٹی
تصویر1.7تامل ناڈو ، ضلع دھرم پوری میں ہو گنکال کی شکل میں کاویری کی گھاٹی
تصویر 7.2: ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں کولوریڈوندی کا سنگری پیچاک لوپ جواپنی وادی کا کینئین کی خصوصیت والے سیڑھی نما ڈھال کا منظر پیش کرتا ہے۔
تصویر7.2:ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں کولوریڈوندی کا سنگری پیچاک لوپ جو اپنی وادی کا کینئین کی خصوصیات والے سیڑھی نما ڈھال کا منظر پیش کرتا ہے۔
وجہ سے گردش کرنے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں نشیب کی جسامت بڑھنے لگتی ہے۔ اس طرح کے نشیبوں کا سلسلہ آخر کار ایک دوسرے سے مل جاتا ہے اور ندی کی وادی گہری ہوجاتی ہے۔ آبشار کے نچلے حصے پر بھی بڑے پوٹ ہول بنتے ہیں جو کافی گہرے اور چوڑے ہوتے ہیں کیوں کہ ان پر پانی اور کنکڑ پتھر کی گردش کا اثر بہت زیادہ ہوتاہے۔ آبشار کے نچلے حصے پر اس قسم کے بڑے گہرے گڈھے کو آبشاری کنڈ (Plunge Pools) کہتے ہیں۔
بریدہ یا سنگری پیچاک
(Incised of Enterenched Meanders)
تیز شرح ڈھال پر تیز دھاروں میں عام طور پر کٹاؤ دھارے کی تہ پر زیادہ ہوتا ہے۔ نیز تیز شرح ڈھال والے دھاروں کی صورت میں وادی کے کناروں پر بغلی کٹاؤ کم اور نرم ڈھال پر بہنے والے دھاروں کے مقابلے میں زیادہ نہیں ہوتا۔ نرم ڈھال پر بہنے والی ندیوں میں بغلی کٹاؤ کےسرگرم ہونے کی وجہ سے بریدگی او رپیچاکی رہ گذر بننے لگتی ہے۔ سیلابی میدان اور ڈیلٹائی میدانوں میں پیچاکی رہ گذر کا ملنا عام بات ہے۔ بہت گہری اور چوڑی پیچاک سخت چٹانوں میں بھی بنی ہوئی ملتی ہیں۔ اسی پیچاک کو بریدہ یا سنگری پیچاک (Incised or Entrenched Meander) کہتے ہیں(تصویر 7.2)۔
تصویر7.3:جوڑی داراور غیر جوڑی دارندی تراس
جوڑی دار تراس
غیر جوڑی دار تراس
ندی تراس(River Terraces)
ندی تراس پرانی وادی یا سیلابی میدان کی سطحیں ہیں۔ یہ سیلابی غلاف کے بغیر فرشی چٹانوں کی سطحیں ہوسکتی ہیں یا ندیوں کی ذخیرہ اندوزی پر مشتمل سیلابی تراس ہو سکتی ہیں۔ ندی تراس بنیادی طور پر کٹاؤ کی پیداوار ہیں اور
ندی کے اپنے ہی جماؤ والے سیلابی میدان میں عمودی کٹاؤ سے بنتی ہیں۔ مختلف بلندیوں پر اس قسم کی کئی تراس ہو سکتی ہیں جو ندی کی سابقہ سطح کو بتاتی ہیں۔ ندی تراس ایک ہی بلندی پر ندی کے دونوں کناروں کی طرف ہو سکتی ہیں۔ اس صورت میں اسے جوڑی دار تراس (Paired Terraces) کہتے ہیں (تصویر3.7)۔
رسوب اندوزی سے بنی ارضی ہیئتیں
(Depositional Landforms)
سیلابی پنکھ(Alluival Fans)
سیلابی پنکھے (تصویر4.7) اس وقت بنتے ہیں جب ندیاں بلندی سے نچلی پہاڑی کی کم شرح ڈھال والے میدانوں میں پہنچتی ہیں۔ عام طور پر ندیاں

تصویر7.4:جموں و کشمیر میں امرناتھ کے راستے پر پہاڑی ندیوں کے ذریعہ کردہ سیلابی پنکھ
پہاڑی ڈھلانوں پر بہتی ہوئی موٹے دانوں کے بوجھ کو ڈھوتی ہیں۔ لیکن یہ بوجھ ندی کے لیے اتنا بھاری ہوجاتا ہے کہ اسے کم شرح ڈھال پر نہیں ڈھوسکتی ہیں۔ اس لیے یہ بوجھ نچلی پہاڑی پر وسیع مخروطی شکل میں جمع ہو جاتا ہے جسے سیلابی پنکھ کہا جاتا ہے۔ عام طور پر سیلابی پنکھ سے بہنے والی ندی اپنی اصلی گذرگاہ پر زیادہ دیر تک نہیں بہتی بلکہ پنکھ کے آر پار اپنی حالت بدلتی رہتی ہے اور کئی گذرگاہ بنا لیتی ہے جسے شاخی آبگزر (Distributaries) کہتے ہیں۔ مرطوب علاقوں میں سیلابی پنکھ کا مخروطہ کم ڈھلان کے ساتھ اوپر سے نیچے تک کم ہوتا ہے جب کہ خشک اور نیم خشک آب و ہوا میں تیز ڈھلان کے ساتھ مخروطے (Cones) بلند ہوتے ہیں۔
ڈیلٹا(Delta)
ڈیلٹا سیلابی پنکھ کی طرح ہوتے ہیں لیکن دوسری جگہ بنتے ہیں ۔ ندی کے دہانے پر ندی کے ذریعہ لائے گئے انبار جمع ہوتے ہیں اور سمندر میں پھیل جاتے ہیں۔ اگر یہ انبار سمندر میں دور تک نہیں پہنچتے یا ساحل کے ساتھ منقسم نہیں ہوتے تو یہ ایک نچلے مخروطے کی شکل میں پھیلتے اور جمع ہو جاتے ہیں۔
تصویر7.5:آندھرا پردیش میں کرشنا ندی کے ڈیلٹا کا سیٹلائٹ منظر
سیلابی پنکھ کے برعکس ڈیلٹا بنانے والے رسوب اچھی طرح چھنٹے ہوئے اور واضح پرتوں والے ہوتے ہیں سب سے زیادہ موٹے مادوں کا جماؤ پہلے ہوتا ہے اور باریک ذرات جیسے سلٹ اور چیکا سمندر میں بہ جاتے ہیں۔ جیسے جیسے ڈیلٹا کی نشو و نما ہوتی ہے شاخی آبگزر کی لمبائی بڑھتی رہتی ہے(تصویر5.7) اور ڈیلٹا سمندر میں بنتا رہتا ہے۔
سیلابی میدان، قدرتی پشتے اور پوائنٹ بار
(Floodplains, Natural Levees and Point Bars)
جس طرح کٹاؤ کی وجہ سے وادی کی تشکیل ہوتی ہے۔ اسی طرح ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے سیلابی میدان کی تشکیل ہوتی ہے۔ سیلابی میدان ندی کے ذریعہ لائے گئے رسوبوں کی ذخیرہ اندوزی سے بنی ایک اہم ارضی ہیئت ہے۔ جب ندی کم ڈھلانوں سے گذرتی ہوئی نکلتی ہے تو بڑے سائز کے مادوں کا جماؤ پہلے ہو جاتا ہے۔ اس طرح عموماً باریک سائز کے مادے جیسے ریگ، سلٹ اور چیکا نسبتاً آہستہ بہتے ہوئے پانی کے ذریعہ نرم ڈھال کی گذرگاہوں اور میدانوں میں لائی جاتی ہیں اور سیلاب کے دوران جب پانی کناروں سے اوپر بہنے لگتا ہے تو یہ تہ میں جمع ہو جاتی ہیں ۔ ندی کی رسوب اندوزی سے بنی ندی کی تہ فعال سیلابی میدان (Active floodplain) ہوتی ہے۔ کناروں کے اوپر کا سیلابی میدان غیر فعال سیلابی میدان (Inactive floodplain) ہوتا ہے۔ کناروں کے اوپر کے غیر فعال سیلابی میدان میں دو طرح کے ذخیرے ہوتے ہیں ۔ سیلابی ذخیرے (Flood Deposits) اور رودباری ذخیرے (Channel Deposits) ۔میدانوں میں ندی اپنی گذر گاہ جانبین میں بدلتی رہتی ہے اور کبھی کبھی ندی اپنا راستہ ہی بدل دیتی ہے اور پہلی گذر گاہ چھوڑ دیتی ہے جو بعد میں بتدریج بھر جاتی ہے۔ اس طرح چھوڑے گئے یا منقطع ندی گذر گاہوں کے بھر جانے سے بنے سیلابی میدانوں میں موٹے رسوب ملتے ہیں۔ کناروں سے اوپر بہنے والے پانی کے سیلابی رسوب میں باریک مادے جیسے سلٹ اور چیکا ہوتے ہیں۔ ڈیلٹا میں بنے سیلابی میدان کو ڈیلٹا میدان کہا جاتا ہے۔
سیلابی میدانوں کی کچھ اہم ارضی ہیئتوںمیں قدرتی پشتے اور پوائنٹ بار ہیں (تصویر6.7) ۔ قدرتی پشتے بڑی ندیوں کے کنارے پائے جاتے ہیں۔ یہ ندی کے کناروں کے ساتھ موٹے رسوبوں کے کم بلند ، خطی اور متوازی ستیغ(Ridges) ہیں جو اکثر علیحدہ علیحدہ کٹے ہوئے انفرادی ٹیلوں یا ڈھیر کی شکل میں نظر آتے ہیں۔
پوائنٹ بار کو پیچاکی بار (Meander Bar) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بڑی ندیوں کے پیچاک کے حد بی جانب میں پائے جاتے ہیں اور کنارے کے ساتھ پانی کے بہنے کی وجہ سے خطی صورت میں رسوبوں کے جماؤ ہوتے ہیں ۔ یہ اپنے پروفائل اور وسعت میں تقریباً یکساں ہوتے ہیں نیز ان میں رسوبوں کا سائز ملا جلا ہوتا ہے۔
تصویر7.6:قدرتی پشتہ اور پوائنٹ بار
Point bar
Floodplain
Natural levee
قدرتی پشتے کس طرح پوائنٹ بار سے مختلف ہوتے ہیں؟
پیچاک(Meanders)
بڑے سیلابی اور ڈیلٹائی میدانوں میں ندیاں اپنی سیدھی رہگذر میں بہت کم بہتی ہیں۔ لوپ کی طرح ندیوں کے گھماؤ پھراؤ کو پیچاک کہا جاتا ہے جو سیلابی اور ڈیلٹائی میدانوں میں بنتی ہیں (تصویر7.7)
تصویر7.7:بہار میں منظر پور کے پاس بوڑھی گنڈک ندی کے پیچاک کو دکھاتا ہوا سیٹیلائٹ منظر جس میں کئی ہلال نما جھیل اور منقطع کنارے نظر آ رہے ہیں ۔
پیچاک ارضی ہیئت نہیں ہے بلکہ صرف ندی کے طرز کی ایک قسم ہے۔ اس کے بننے کی وجہ ہے:(۱) بہت کم شرح ڈھال پر بہتے ہوئے پانی کا کناروں کے بغلی کٹاؤ کا میلان؛(۲) کئی ناہمواریت کے ساتھ کناروں پر بنے سیلابی رسوب کی ڈھیلی فطرت جس کا استعمال پانی کے دباؤ سے بغلی جانب ہوتا ہے؛(۳) سیال پانی پر کام کرنے والی کوریولس قوت (Coriolis force) جو اسے ہوا کے رخ کو موڑنے کی طرح موڑ دیتی ہے۔ جب ندی کی شرح ڈھال بہت ہی کم ہوتی ہے تو پانی کی رو سست ہوتی ہے اور بغلی طور پر کام کرتی ہے ۔ کناروں کے ساتھ موجود تھوڑی سی ناہمواریت آہستہ آہستہ کناروں میں چھوٹی خمیدگی میں بدل جاتی ہے؛ اس خمیدگی کی شکل گہری ہوتی جاتی ہے جس کی وجہ سے خم کے اندر جماؤ اور کنارے کے باہر کٹاؤ کا عمل ہے۔ اگر جماؤ اور کٹاؤ یا اندرونی کٹاؤ نہ ہو تو پیچاک کے بننے کا رجحان کم ہوجاتا ہے۔ عام طور سے بڑے دریاؤں کے پیچاک میں حدبی کنارے کے ساتھ سرگرم ذخیرہ اندوزی ہوتی ہے اور جوفی کنارے کے ساتھ اندرونی کٹاؤ ہوتاہے۔ جوفی کنارہ منقطع کنارہ (Cut-off bank) کہلاتا ہے جس میں تیزکگار (Steep scarp) ہوتا ہے اور حدبی کنارہ ایک لمبے ، ہلکے پروفائل کو پیش کرتا ہے جسے تدریجی ڈھال کا کنارہ (Slip-off bank) کہتے ہیں (تصویر8.7)۔ جیسا کہ پیچاک

تصویر7.8:پیچاکی نشو نما اور منقطع لوپ، تدریجی ڈھال کا کنارہ اور اندرونی کٹاوی کنارہ
تدریجی کٹاوی کنارہ
نقطۂ خم پوائنٹ بار
اندرونی کتاوی کنارہ
تدریجی کٹاوی کنارہ(حد بی کنارہ)
تدرجی کٹاوی کنارہ
دایاں کنارہ
بایاں کنارہ
گہرے لوپ میں بڑھتے ہیں تو وہ نقطۂ خمیدگی (Inflection Point) پر کٹاؤ کی وجہ سے منقطع ہو جاتے ہیں اور ہلال نما جھیل (Ox-bow lake) کی شکل میں چھوڑ دیئے جاتے ہیں ۔
زیر زمین پانی (Groundwater)
یہاںزیر زمین پانی کا ایک وسیلہ کے طور پر مطالعہ کرنا مقصد نہیں ہے۔ ہماری توجہ زمینی تودوں کے کٹاؤ اور ارضی ہیئتوں کےارتقاء میں زیر زمین پانی کے کام پر ہے۔ جب چٹانیں مسام دار، پتلی پرت، زیادہ دراڑ اور رخنے والی ہوتی ہیں تو سطح کا پانی اچھی طرح نیچے رستا ہے۔ کچھ گہرائی تک عمودی طور پر جانے کے بعد زمین دوز پانی پرتی سطح کے مفاصل پریا مادوں سے ہو کر افقی طور پر بہنے لگتا ہے۔ یہی نیچے جانے والا اور افقی طور پر بہنے والا پانی چٹانوں کے کٹاؤ کا سبب بنتا ہے۔ زیر زمین پانی کی حرکت سے مادوں کا طبیعی یامیکانیکی طور پر ہٹنا ارضی ہیئت کی تشکیل میں اہم نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیر زمین پانی کے کام کے نتائج کو ہر قسم کی چٹان میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ لیکن چونا پتھر اور ڈولومائٹ جیسی چٹانوں میں جو کیلشیئم کاربونیٹ سے بھرپور ہوتی ہیں، محلول، ترسیب اور ذخیرہ اندوزی کے کیمیائی عمل کے ذریعہ سطحی پانی اور زیر زمین پانی مختلف قسم کے زمینی مناظر کی تشکیل کرتے ہیں۔ محلول اور ترسیب کے یہ دو اعمال چونا پتھر یا ڈولومائٹ میں سرگرم رہتے ہیں خواہ یہ الگ سے چٹان ہوں یا دوسری چٹانوں کے ساتھ ملی ہوئی ہوں۔ کوئی بھی چوناپتھر یا ڈولومائٹ کا علاقہ زیر زمین پانی کے محلول اور ذخیرہ اندوزی کے اعمال کے ذریعہ بنائی گئی امتیازی ارضی ہیئتوں کو دکھاتا ہے اسے کارسٹ ٹوپوگرافی (Karst topography) کہتے ہیں جس کا نام ایڈریاٹک سمندر سے متصل بالکن میں کارسٹ خطے کی چونا پتھر چٹانوں میں امتیازی وضع کی تشکیل کی وجہ سے ہے۔
کارسٹ ٹوپوگرافی میں کٹاوی اور جمادی ارضی ہیئتوں کی خصوصیات بھی پائی چاتی ہیں۔
تصویر7.9:کارسٹ (Karst)کی مختلف شکلیں
غار کا ایک سین
ستون
اسٹیلک نائٹ
سوالو(Swallow) ہول کا ایک سیکشن
غار کا منھ
اسٹیلیگ مائٹ
سنک(Sink) ہول کا ایک سیکشن
وادیٔ سنک/یووالا
سنک ہول(Sink hole)
منہدم سنگ ہول کا ایک سیکشن
کٹاؤسے بنی ارضی ہیئتیں (Erosional Lanforms)
کنڈ، سنک ہولز،لیپیز اور چونا پتھر کھڑنجے
(Pools Sinkholes, Lapies and Limestone Pavements)
چھوٹے سے میانے سائز کے گول سے لے کر نیم دائرہ والے اتھلے نشیبوںکو سوالو ہولز (Swallow holes) کہتے ہیں جو چونا پتھر کی سطح پر محلول کے ذریعہ بنتے ہیں۔ چونا پتھر ؍کارسٹ علاقے میں سنک ہول (Sink hole) کا ہونا عام بات ہے۔ سنک ہول ایک ایسا کھلا ہوا حصہ ہے جو اوپر میں تقریباً دائرہ نما اور نیچے کی طرف قیف نما ہوتا ہے، جس کا سائز کچھ مربع میٹر سے لے کر ایک ہیکٹئیر تک ہوتا ہے اور گہرائی نصف میٹر سے کم سے لے کر 30 میٹر تک یا اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اس میں سے کچھ صرف محلول کے عمل (محلول نیچے بیٹھتا ہے) سے بنتے ہیں اور دیگر پہلے محلول کی شکل میں بننا شروع کرتے ہیں اور اگر سنک ہول کا فرش خالی جگہ کی چھت یا زمین دوز غار بن جاتا ہے تو یہ منہدم ہو کر نیچے غار میں یاخالی جگہ میں جانے کا بڑا ہول (انہدامی سنک) ہو سکتا ہے۔ اکثر سنک ہول مٹی کی پرت سے ڈھل جاتے ہیں اور اتھلے پانی کے کنڈکی طرح نظر آتے ہیں ۔ کوئی بھی آدمی اس کنڈ میں پیر رکھے تو وہ نیچے چلا جائے گا جیسا کہ ریگستان کی ڈھیلی ریت میں ہوتا ہے۔ کبھی کبھی انہدامی سنک (Collapse Sink) کو ڈولائن کی اصطلاح میں استعمال کیا جاتا ہے۔ انہدامی سنک کی بہ نسبت محلول سنک زیادہ عام ہیں۔ اکثر سطح پر بہنے والی ندی سنک ہول یا سوالو ہول میں چلی جاتی ہے اور زیر زمین ندی کی طرح بہتی ہے پھر کچھ دوری کے بعد غار کے منھ سے باہر آجاتی ہے۔ جب سنک ہول اور ڈولائن اپنے کناروں پر مادوں کے بیٹھنے کی وجہ سے یا گپھا(Cave) کی چھت گرنے کی وجہ سے ایک ساتھ ملتے ہیں تو لمبی ، تنگ یا چوڑی کھائیاں بن جاتی ہیں جن کو وادی سنک (Valley Sinks) یا یووالہ(Uvala) کہتے ہیں۔ دھیرے دھیرے چونا پتھر کی زیادہ ترسطح ان گڈھوں اور کھائیوں کے ذریعہ ختم ہو جاتی ہے اور پیچیدہ نقطوں(بھول بھلیاں) ، دندانوں، ستیغوں اور لیپیز کے ساتھ ناہموار سطح رہ جاتی ہے۔ خاص کر یہ ستیغ اور لیپیز متوازی سے نیم متوازی جوڑوں کے ساتھ تحلیلی سرگرمی میں فرق کی وجہ سے بنتے ہیں۔ لیپی میدان آخر کار قدرے ہموار چونا پتھر کھڑنجے(Limestone Pavement) میں بدل جاتا ہے۔
غار یا گپھائیں (Caves)
ان علاقوں میں جہاں چٹانوں (شیل، بلوا پتھر، کوارٹزائٹ) کی متبادل تہیں ہوتی ہیں اور ان کے درمیان چونا پتھر یا ڈولومائٹ کی پرتیں ہوتی ہیں یا ان علاقوں میں جہاں چونا پتھر گھنے، ضخیم اور موٹی تہوں کی شکل میں ہوتا ہے، غار کا بننا زیادہ ہوتا ہے۔ پانی مادوں کے ذریعے یا دراڑوںاور زخنوں کے ذریعے نیچے رستا ہے۔ انہیں چٹانی مفاصل کے ساتھ چونا پتھر تحلیل ہوتا ہے اور لمبے اور تنگ سے لے کر وسیع خلا پیدا ہوتا ہے جسے غار کہتے ہیں۔ چونا پتھر کی تہوں اور درمیانی چٹانوں پر منحصر مختلف بلندیوں پر غاروں کی بھول بھلیاں سی ہو سکتی ہے۔ غاروں کا عام طور پر ایک دہانہ ہوتا ہے جس سے غار والی ندی کا اخراج ہوتا ہے۔ جن غاروں کے دونوں سرے پر دہانے ہوتے ہیں انہیں سرنگ (Tunnel) کہتے ہیں۔
رسوب اندوزی سے بنی ارضی ہیئتیں
(Depositional Landfomrs)
چونا پتھر والے غاروں کے اندر ذخیرہ اندوزی سے کئی ارضی ہیئتیں بنتی ہیں۔ چونا پتھر میں اہم کیمیا کیلشئیم کاربونیٹ ہے جو آسانی سے کاربنی پانی (بارش کے پانی میں جذب کاربن ڈائی آکسائڈ) میں گھل جاتی ہے۔ اس کیلشیئم کاربونیٹ کی ذخیرہ اندوزی اس وقت ہوتی ہے جب اسے محلول کی شکل میں لے جانے والا پانی بھاپ بن کر اڑ جاتا ہے یا کھردری چٹانی سطحوں پر کاربن ڈائی آکسائڈ کو چھوڑ کر نیچے رس جاتا ہے۔
اسٹیلک ٹائٹ، اسٹیلگ مائٹ اور ستون
(Stalactites, Stalagmites and Pillars)
اسٹیلک ٹائٹ مختلف قطرے کے برف کے قلموں کی طرح (غار کی چھت سے) لٹکنے والی شکل ہے۔ عام طور پر یہ اپنی بنیاد میں چوڑی ہوتی ہیں اور آخر میں پتلی ہو تی جاتی ہیں اور کئی شکلوں میں نظر آتی ہیں۔ اسٹیلگ مائٹ غار کے فرش سے اوپر اٹھتی ہوئی شکل ہے۔ دراصل ، اسٹیلگ مائٹ سطح سے یا پتلے پائپ کے ذریعہ یا اس کے بالکل اوپر اسٹیلک ٹائٹ سے ٹپکتے پانی کی وجہ سے بنتا ہے(تصویر11.7)۔
اسٹیلگ مائٹ ایک ستون کی صورت اختیار کرسکتا ہے۔ ستون ایک ڈسک کی طرح یا تو ہموار، گول ابھرا ہوا سرا ہوتا ہے یا نشیب کی طرح چھوٹا آتش فشانی دہانہ ہوتا ہے۔ اسٹیلگ مائٹ آپس میں مل کر کالم اور مختلف قطرے کے ستون (Pillars) بناتے ہیں ۔
تصویر7.10:ایک چونا پتھر غار میں اسٹلیک ٹائٹ اور اسٹلیگ مائٹ
ہمارے ملک میں کئی گلیشئیرہیں جو ہمالیہ کی ڈھالوں اور وادیوں میں حرکت کرتے ہیں۔ اتراکھنڈ ، ہماچل پردیش اور جموںوکشمیر کے بلند و بالا خطوط میں ایسے مقامات ہیں جہاں ان میں سے کچھ کو دیکھا جا سکتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ بھاگیرتھی ندی کو گنگوتری گلیشئیر کے گومکھ کو پگھلا پانی کہاں سے ملا ہے؟ دراصل الکاپوری گلیشئیر سے الک نندا کو پانی ملتا ہے ۔الک نندا اور بھاگیرتھی ندیاں دیوپریاگ کے آس پاس مل کر گنگا ندی کی تشکیل کرتی ہیں۔
گلیشئیر(Glaciers)
زمین کے اوپر پرت کی طرح حرکت کرتے ہوئے برف کے تودے(براعظمی گلیشیئریا پائے کوہ گلیشیئراگر چوڑی پرت پائے کوہ کے میدانوں پر پھیلی ہو) یا چوڑی ناند کی طرح گھاٹیوں میں پہاڑوں کی ڈھلان پر برف کے خطی بہاؤ (پہاڑی اور وادی گلیشئیر) کو گلیشئیر کہتے ہیں(تصویر12.7)۔ پانی کے بہاؤ کے برعکس گلیشئیر کی حرکت سست ہوتی ہے۔ ایک دن میں اس کی حرکت کچھ سینٹی میٹر سے لے کر کچھ میٹر تک یا اس سے کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔ گلیشئیر بنیادی طور پر قوت ثقل کی وجہ سے حرکت کرتے ہیں۔
تصویر7.11:اپنی وادی میں ایک گلیشیئر
گلیشئیر کے ذریعہ کٹاؤ سب سے زیادہ ہوتا ہے کیونکہ برف کے وزن کی وجہ سے رگڑزیادہ ہوتی ہے۔ گلیشئیر کے ذریعے زمین سے اٹھائے گئے مادے (عام طور پر بڑے سائز کے زاویاتی بلاک اور ٹکڑے) فرش پر یا وادی کے کنارے پر گھسیٹے جاتے ہیں اور تراش وخراش سے کافی نقصان پہنچاتے ہیں۔ گلیشئیر غیر فرسودہ چٹانوں کی بھی نقصان پہنچاتا ہے اور اونچے پہاڑوں کو چھوٹی پہاڑیوں اور میدانوں میں بدل دیتا ہے۔
گلیشئیر حرکت کرتا رہتا ہے، کنکر پتھر ہٹتے رہتے ہیں ، فاصل آب کم ہو جاتے ہیں اور ڈھلان اس حد تک کم ہو جاتی ہیں کہ گلیشئیر کی حرکت رک جاتی ہے اور کم اونچی پہاڑیاں اور پن گلیشیائی میدان دیگر ذخیرہ اندوزی کی شکلوں کے ساتھ باقی رہ جاتے ہیں۔ تصویر13.7اور14.7گلیشئیر کے ذریعہ مختلف کٹاؤ اور جماؤ کی شکلوں کو دکھایا گیا ہے جس کا ذکر متن میں کیا گیا ہے ۔
کٹاؤ سے بنی ارضی ہیئتیں
(Erosional Landforms)
سرک (Cirque)
گلیشیائی پہاڑوں میں سرک سب سے زیادہ عام ارضی ہیئت ہے۔ سرک اکثر گلیشیائی وادی کے سرے پر پائے جاتے ہیں۔ جمع شدہ برف پہاڑوں کی چوٹی سے نیچے اترتے وقت ان سرک کو کاٹتی ہے۔ یہ گہرے ، لمبے اور چوڑے نشیب یا طاس ہوتے ہیں جن کے سرے اور کنارے کی ڈھلان تیز جوفی ڈھال سے لے کر اونچی کھڑی دیوار کی طرح ہوتی ہے۔ گلیشئیر کے غائب ہونے کے بعد سرک کے اندر پانی کی جھیل اکثر دیکھی جا تی ہے۔ ایسی
تصویر7.12:کچھ گلیشیائی کٹاوی اور جماوی ہیئتیں (اسپنسر، 1962سے ماخوذ اور ترمیم شدہ)
آریت
مخروطی چوٹی
کول(Col)
لٹکتی وادی
ناقص دنبالہ
وسطی مورین
طرفی مورین
اختتامی مورین
پن گلیشیائی میدان
جھیلوں کو سرک جھیل(Cirque Lake) یا ٹارن(Tarn Lake) جھیل کہتے ہیں۔ ایک سیڑھی نما ترتیب میں ایک دوسرے کے نیچے دو یا دو سے زیادہ سرک ہو سکتے ہیں۔
مخروطی چوٹی اور دندانے دار ستیغ
(Horns and Serrated Ridges)
سرک کی دیواروں کے سرے پر کٹاؤ کی وجہ سے مخر وطی چوٹی (Horns)بنتی ہے۔ اگر تین یا اس سے زیادہ شعاعی گلیشیئر سرے کی طرف کٹاؤ کرتے ہیں حتیٰ کہ ان کے سرک آپس میں مل جاتے ہیں تو اونچی، تیز نوک والی کھڑی دیوار کی چوٹی بنتی ہے جسے ہارن یا مخروطی چوٹی کہا جاتا ہے۔ سرک کی دیواروں کے درمیان فاصل یا سرے کی دیوار تدریجی کٹاؤ کی وجہ سے پتلی ہوتی جاتی ہے اور دندانے دار ستیغوں (Serrated Ridges)میں بدل جاتی ہے کبھی کبھی انہیں آریت (arets) بھی کہتے ہیں جس کی چوٹی بہت تیز اور ٹیڑھی بیرونی خطوط والی ہوتی ہے۔
تصویر7.13:مختلف جماوی ارضی ہیئتوں کے ساتھ گلیشیائی زمینی منظر کا ایک سیر بین خاکہ
(سپنسر، 1962سے ماخوذ اور ترمیم شدہ)
آلپس کی سب سے اونچی چوٹی میٹر ہارن اور ہمالیہ کی سب سے اونچی چوٹی ایوریسٹ دراصل مخروطی چوٹیاں ہیں جو شعاعی سرک کے سرے کے کٹاؤ کے ذریعہ بنی ہیں۔
گلیشائی وادی ؍نشیب
(Glacial Valley/Troughs)
گلیشیائی وادی نشیب کی طرح اور U۔ شکل کی ہوتی ہے جس کا فرش وسیع اور نسبتاً ہموار ہوتا ہے اور جس کے کنارے تیز ڈھال والے ہوتے ہیں۔ وادی میں ٹوٹا پھوٹاملبہ ہوتا ہے یا پھر مورین کی شکل کا ملبہ ہوتا ہے جو بظاہر دلدل نظر آتا ہے۔ چٹانی فرش میں کھدی ہوئی یا وادی میں ملبوں کے ذریعہ بنی ہوئی جھیل ہو سکتی ہے۔ اصل گلیشیائی وادی کے ایک یا دونوں کناروں پر لٹکتی گھاٹیاں (Hanging Valleys)ہو سکتی ہیں۔ اصل گلیشیائی وادی میں کھلنے والے فاصل کے رخ یا لٹکتی گھاٹی کے دنبا لے اکثر منقطع ہو جاتے ہیں اور مثلثی شکل میں نظر آتے ہیں۔ سمندری کنارے پر سمندری پانی سے بھرے ہوئے بہت گہرے گلیشیائی نشیب (اونچے عرض البلاد میں) فیرڈ؍جورڈ (Fjords/Fiords) کہلاتے ہیں۔
گلیشیائی وادی اور دریائی وادی میں بنیادی فرق کیا ہیں؟
جماؤ رسوب اندوزی سے بنی ارضی ہیئتیں
پگھلتے گلیشیئر کے ذریعہ چھوڑے گئے مخلوط موٹے اور باریک ملبے کو گلیشیائی مٹی (Glacial till) کہا جاتا ہے۔ زیادہ تر چٹانی ٹکڑے زاویائی یا نیم زاویائی شکل میں ہوتے ہیں۔ نیچے، بغل میں یا گلیشیئر کے آخری سرے پر برف کے پگھلنے سے ندیاں بنتی ہیں۔ چٹانی ملبوں کی کچھ مقدار جو اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ پگھلنے سے حاصل پانی کے دھاروں کے ذریعے بہ کر نیچے آتے ہیں اور جمع ہو جاتے ہیں۔ اس گلیشیائی ۔آبی جماؤ کو پن گلیشیائی جماؤ (Outwash deposits)کہتے ہیں۔ گلیشیائی مٹی کے بر عکس پن گلیشایائی جماؤ پرت دار اور غیر مخلوط یا ایک ہی قسم کے ہوتے ہیں ۔ پن گلیشیائی جماؤ والےچٹانی ٹکڑوں کے کنارے کسی حد تک گول ہوتے ہیں۔ تصویر 7.14 میں جمائو سے بنی کچھ ارضی ہیئتوں کو دکھایا گیا ہے جو عام طور پر گلیشیائی علاقوں میں پائی جاتی ہیں۔
یہ گلیشیائی مٹی کے جماؤ سے بنے لمبے ستیغ ہیں۔اختتامی مورین (Terminal moraines) گلیشیئر کے اختتام پر جمع ملبوں کے لمبے ستیغ ہیں۔ طرفی مورین (Lateral moraines) گلیشیائی وادی کے متوازی بغل میں بنتے ہیں۔طرفی مورین اختتامی مورین سے مل کر فال یا نقل کی شکل کا ستیغ بناتے ہیں۔ گلیشیائی وادی کے دونوں کناروں پر کئی طرفی مورین ہو سکتے ہیں۔ ان مورین کی ابتدا کی وجہ گلیشیائی۔ آبی پانی ہے جو مادوں کو گلیشیئر کے کناروں پر دھکیلتا رہتا ہے۔ بہت سے وادی گلیشیئر تیزی سے پیچھے کھسکتے ہیں اور وادی کے فرش پر ناہموار پرتیں چھوڑ دیتے ہیں۔ اس طرح کے جماؤ کی موٹائی کافی مختلف ہوتی ہے اور سطحی وضع میں انہیں فرشی مورین(Ground moraine) کہا جاتا ہے ۔ گلیشیائی وادی کے وسط میں جانبی مورین کے پہلو میں جمع مورین کو وسطی مورین (Medial moraine)کہا جاتا ہے۔ جانبی مورین کے مقابلہ میں یہ مورین نا مکمل ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی وسطی مورین اور فرشی مورین میں تمیز کرنا مشکل ہوتا ہے۔
جب موسم گرما میں گلیشیئر پگھلتا ہے تو پانی برف کی سطح کے اوپر بہتا ہے یا کناروں کے ساتھ رستا ہے یا سوراخوں کے ذریعہ برف میں گھستا ہے۔ یہ پانی گلیشیئر کے نیچے جمع ہوتا ہے اور ایک دھارے کی طرح برف کے نیچے بہتا ہے۔ ایسے دھارے زمین پر بہتے ہیں (نہ کہ زمین میں کٹی ہوئی وادی میں) اور ان کا کنارہ برف کا بنا ہوتا ہے۔ بہت موٹے مادے جیسے بڑے پتھر اور بلاک کچھ چھوٹے چٹانی ملبوں کے ساتھ دھارے میں آتے ہیں اور گلیشیئر کے نیچے برف کی وادی میں بیٹھ جاتے ہیں اور برف کے پگھلنے کے بعد لہر دارستیغ کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ ان کواسکرس(Eskers) کہا جاتا ہے۔
گلیشیائی پہاڑوں کے قدم پربنے میدان یا براعظمی بر فیلی چادر کے حدود سے باہر بنے میدان جو وسیع مسطح سیلابی پنکھوں کی شکل میں گلیشیائی ۔آبی جماؤ سے ڈھکے ہوتے ہیں۔ یہ سیلابی پنکھ آپس میں مل کر بجری، سلٹ،ریت اور چیکا کے پن گلیشیائی میدان بناتے ہیں۔
ڈرم لِن ہموار بیضوی ستیغ کی مانند شکلیں ہیں جو کچھ بجری اور ریت کے تودوں کے ساتھ گلیشیائی مٹی سے بنے ہوتے ہیں۔ ڈرم لن کے لمبے محاور برف کی حرکت کے متوازی ہوتے ہیں، ان کی لمبائی ایک کلومیٹر اور اونچائی 30 میٹر تک ہو سکتی ہے۔ ڈرم لن کے گلیشیئر رخی سرے کو اسٹاس (Stoss)کہتے ہیں جو دوسرے سرے دُم (Tail)کی بہ نسبت زیادہ کند اور تیز ڈھال والا ہوتا ہے۔ اسٹاس پر گزر تے برف کےدھکیلنے کی وجہ سے کند ہو جاتا ہے۔ ڈرم لِن سے گلیشیئر کی حرکت کی سمت کا پتہ چلتا ہے۔
ساحلی طریقے زیادہ تر متحرک ہوتے ہیں اور اسی لیے زیادہ تباہ کن بھی ہوتے ہیں۔ کیا آپ کے خیال میں ساحلی اعمال اور شکلوں کے بارے میں جاننا اہم نہیں ہے؟
موجوں کے عمل کے علاوہ ساحلی زمین کی ہیئت درج ذیل باتوں پر منحصر ہوتی ہے ۔ (۱) زمین اور سمندری فرش کی بناوٹ؛ (۲) کیا ساحل سمندر کی طرف بڑھ رہا ہے (سمندر سے نکل رہا ہے ) یا زمین کی طرف پیچھے ہٹ رہا ہے (سمندر میں ڈوب رہا ہے )۔ سطح سمندر کو مستحکم مانتے ہوئے ساحلی ارضی ہیئت کے ارتقاء کے تصور کی تشریح کرنے کے لیے دو طرح کے ساحل پر غور کیا جا سکتا ہے ۔ (۱) اونچے چٹانی ساحل (ڈوبے ہوئے ساحل) کم اونچائی، ہموار اور نرم ڈھال کے رسوبی ساحل (ابھرے ساحل)
اونچے چٹانی ساحلوں کے ساتھ ندیاں بہت زیادہ نا ہموار ساحلی کناروں کے ساتھ ڈوبتی ہوئی لگتی ہیں۔ ساحلی کنارہ سب سے زیادہ کٹا پھٹا نظر آتا ہے جس میں پانی زمین کے اندر تک گھسا ہوتا ہے جہاں گلیشیائی وادی یعنی فیور ڈموجود ہوتی ہے ۔ پہاڑی کنارہ تیزی سے پانی میں گرتا ہے۔ شروع میں کناروں پر کسی قسم کی جماوی ارضی ہیئت نہیں ہوتی بلکہ کٹاؤ کی شکلیں غالب رہتی ہیں۔
نچلے رسوبی ساحل کے ساتھ ندیاں ساحلی میدان اور ڈیلٹا بنا کر اپنی لمبائی بڑھاتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ساحلی خط ہموار نظر آتا ہے جس میں کہیں کہیں مردابی جھیل اور مدو جزری تنگ کھاڑی (Tidal Creeks)کی شکل میں پانی جمع رہتا ہے۔ پانی کی طرف زمین کی ڈھال کم ہوتی ہے۔ ساحل کے ساتھ دلدل اور مرداب بکثرت ہو سکتے ہیں۔ جماوی شکلیں غالب ہوتی ہیں۔
جب موجیں کم ڈھال والی رسوبی ساحل سے ٹکراتی ہیں تو نیچے کے رسوب میں منتھن ہوتا ہے اور یہ تیزی سے حرکت کرکے بحری سوارہ، رکاوٹی سوارہ، لسان الارض اور مردابی جھیل بناتی ہیں۔ لیگون آخر کار دلدل میں بدل جاتے ہیں اور دلدل بتدریج ساحلی میدان میں بدل جاتا ہے ۔ان جماوی شکلوں کی بر قراری مادوں کی سپلائی پر منحصر ہوتی ہے ۔
طوفانی اور سونامی موجیں زبردست تبدیلی لاتی ہیں۔ ان میں رسوبوں کی سپلائی کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ۔ بڑی ندیاں جو اپنے ساتھ وافر مقدار میں رسوب لاتی ہیں، نچلے رسوبی ساحل کےساتھ ڈیلٹا بناتی ہیں ۔