چوتھی اکائی
آب و ہوا
اس اکائی میں بتایا گیا ہے
- کرۂ ہوا ۔ ترکیب اور ساخت ؛ موسم اور آب و ہوا کے عناصر
- اشعاع شمسی ۔ زاویہ وقوعہ اور تقسیم ؛ زمین کا حرارتی بجٹ ۔ کرۂ ہوا کا گرم اور ٹھنڈا ہونا (ایصال، حمل ، بری شعاع ریزی ، وزش افقی ) ؛ درجۂ حرارت کو متاثر کرنے والے عوامل ، درجۂ حرارت کی تقسیم ۔ افقی اور عمودی؛ درجہ حرارت کی تقلیب
- ہوا کا دباؤ ۔ دباوی پٹیاں ؛ ہوائیں ۔سیاری ، موسمی اور مقامی ، تودہ ٔ ہوا اور محاذ ؛ ٹراپیکی اور بیرون ٹراپیکی سیقلون
- بارند گی ۔ تبخیر ؛ تکثیف ۔ شبنم ، پالہ ، کہرا ،دھند اور بادل ؛ بارش ۔ اقسام اور عالمی تقسیم
- عالمی آب و ہوا ۔ درجہ بندی (کوپین) ،گرین ہاؤس اثر ،کروی حرارت کا بڑھنا اور آب و ہوائی تبدیلیاں
باب 8
کرۂ ہوا کی بناوٹ اور ساخت
کیا کوئی شخص ہوا کے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہے؟ ہم دن میں تین مرتبہ کھانا کھاتے ہیں اور کئی مرتبہ پانی پیتے ہیں لیکن سانس ہر سیکنڈ ہی لیتے ہیں۔ ہوا تمام جانداروں کی بقاء کے لیے ضروری ہے ۔ انسان جیسے کچھ ذی روح کھانے اور پانی کے بغیر کچھ دیر تو زندہ رہ سکتے ہیں لیکن ہوا میں سانس لیے بغیر چند منٹ بھی زندہ نہیں رہ سکتے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں کرۂ ہوا کے بارے میں تفصیل سے جاننے کی ضرورت ہے ۔ در اصل کرۂ ہوا مختلف قسم کی گیسوں کا آمیزہ ہے اور اس نے پوری زمین کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ یہ حیات بخش گیسوں کا مجموعہ ہے جیسے انسان اور حیوانات کےلیے آکسیجن اور پیڑ پودوں کے لیےکاربن ڈائی آکسائڈ ۔ ہوا زمینی جسامت کا ایک لازمی جز ہے ۔ کرۂ ہوا کی جسامت کا ننانوے فیصد حصہ سطح زمین سے 32کلو میٹر کی اونچائی تک محدود ہے۔ ہوا کا کوئی رنگ و بُو نہیں ہے اور اسے صرف تبھی محسوس کیا جا سکتا ہے جب وہ باد(wind)کی طرح بہنے لگتی ہے۔
کرۂ ہوا کی ترتیب (Composition of the Atmosphere)
کرۂ ہوا گیس ، آبی بخارات اور گرد و غبار کے اجز اء سے بنا ہوا ہے۔جد کرۂ ہوا کی بالائی سطحوں میں گیسوں کا تناسب بدلتا رہتا ہے چنانچہ 120 کیلو میٹر کی اونچائی پر آکسیجن تقریباً نہیں کے برابر ہوتی ہے۔ اسی طرح کاربن ڈائی آکسائڈ اور آبی بخارات تو سطح زمین سے صرف 90 کلومیٹر کی اونچائی تک ہی پائے جاتےہیں۔
گیسیں(Gases)
موسمیات کی رو سےکاربن ڈائی آکسائڈ ایک بہت اہم گیس ہے، کیونکہ یہ نہ صرف اوپر سے آنے والی شمسی شعاعوں کےلیے شفاف ہوتی ہے بلکہ اوپر چڑھنے والی ارضی شعاعوں کے لیے غیر شفاف ہوتی ہے۔یہ ارضی شعاعوں کے کچھ حصے کو جذب کر لیتی ہے اور کچھ حصے کو سطح زمین کی طرف واپس لوٹا دیتی ہے۔ نیز یہ بڑی حد تک گرین ہاؤس اثر (Green house effect) کے لیے ذمہ دار ہے۔ دوسری گیسوں کی مقدار برقرار رہتی ہے، لیکن کاربن ڈائی آکسائڈکی مقدار پچھلی کچھ دہائیوں سے متواتر بڑھ رہی ہے جس کی اصل وجہ رکازی ایندھنوں(Fossil Fuels) کا استعمال ہے۔ اس نے ہوا کی درجہ حرارت میں بھی اضافہ کیا ہے۔ اوزون (Ozone) ایک اور اہم عنصر ہے جو سطح زمین سے 10 سے 50 کلو میٹر اوپر پایا جاتا ہے اور فلٹر کی حیثیت سے کام کرتا ہے نیز سورج سے آنے والی بیش بنفشی شعاعوں (Ultra-violet rays) کو جذب کرکے انہیں زمین کی سطح تک پہنچنے سے روکتا ہے۔
آبی بخارات(Water Vapours)
آبی بخارات بھی فضا میں پائی جانے والی ایک متغیر گیس ہے ، جو بڑھتی اونچائی کے ساتھ کم ہوتی جاتی ہے۔ گرم اور مرطوب منطقہ حارہ میں، مقدار کے اعتبار سے ہوا میں اس کا تناسب چار فیصد ہوتا ہے، جبکہ سرد اورخشک صحرائی علاقوں اور قطبی خطوں میں اس کا تناسب ایک فیصد سے بھی کم ہوتا ہے۔ آبی بخارات بھی خط استوا سے قطبین کی جانب کم ہوتے جاتے ہیں ۔ یہ شمسی شعاع ریزی کے کچھ حصے کو جذب کر لیتے ہیں نیز ارضی شعاع ریزی کی گرمی کو محفوظ رکھتے ہیں۔ اس طرح یہ ایک کمبل کا کام کرتے ہیں، جس سے زمین نہ تو زیادہ ٹھنڈی ہونے پاتی ہے نہ زیادہ گرم ۔ آبی بخارات ہوا کے اندر استقرار اور عدم استقرار کو بھی متوازن رکھتے ہیں۔
دھول کے ذرات (Dust Particles)
کرۂ ہوا کے اندر چھوٹے ٹھوس ذرات کو تھامے رکھنے کی بھر پور صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ ذرات مختلف ذرائع سے پیدا ہوتے ہیں مثلاً سمندری نمک ، باریک مٹی ، دھوئیں کی کالک ، راکھ ،پھولوں کا زیرا ، دھول اور شہاب ثاقب سے ٹوٹے ہوئے ذرات ۔ دھول کے ذرات عموماً کرۂ ہواکی نچلی سطح میں مرتکز ہوتے ہیں، تاہم ہوا کی حملی روئیں(Convectional air currents) اسے کافی اونچائی تک پہنچا دیتی ہیں۔ استوائی اور قطبی علاقوں کی بہ نسبت نیم ٹراپیکی اور معتدل خطوں میں خشک ہواؤں کی وجہ سے دھول کا ارتکاز زیادہ ہوتا ہے۔ دھول اور نمک کے ذرات ایک رطوبت خوار مرکزہ(Hygroscopic nuclei) کا کام کرتے ہیں جن کے ارد گرد آبی بخارات کی تکثیف ہوتی ہے اور بادل بنتے ہیں۔
کرۂ ہوا کی ساخت (Structure of the Atmosphere)
کرۂ ہوا جداگانہ کثافت اور درجۂ حرارت والی مختلف پرتوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ سطح زمین کے نزدیک اس کی کثافت بہت زیادہ ہوتی ہےاور اونچائی بڑھنے کے ساتھ گھٹتی جاتی ہے۔ فضا کی عمودی تقسیم پانچ مختلف پرتوں میں کی جاتی ہے جو درجۂ حرارت کی صورتحال پر منحصر ہوتی ہے۔ انہیں کرۂ متغیرہ(Troposphere)، کرۂ قائمہ (Stratosphere) ، کرۂ متوسطہ(Mesosphere)،کرۂ آیونی (Ionosphere) اور کرۂ بیرونی (Exosphere)کے نام سے جانا جاتا ہے۔

تصویر8.1:کرۂ ہوا کی ساخت
کرۂ بیرونی
کرۂ آیون
کرۂ متوسطہ ساکتہ
کرۂ متوسطہ
کرۂ قائمہ ساکتہ
کرۂ قائمہ
کرۂ متغیرہ ساکتہ
کرۂ متغیرہ
کرۂ متغیرہ فضا کی سب سے نچلی پرت ہے ۔ اس کی اوسط اونچائی 13 کلو میٹر ہے۔ قطبین کے نزدیک تقریباً آٹھ کلو میٹر اور خط استوا کے نزدیک تقریباً 18 کلو میٹر کی اونچائی ہے۔ کرہ ٔ متغیرہ کی موٹائی خط استوا پر سب سے زیادہ ہوتی ہے کیونکہ طاقتور حملی روؤں کے ذریعہ حرارت کافی بلندی تک منتقل ہوتی ہے۔ اس پرت میں آبی بخارات اور دھول کے ذرات پائے جاتے ہیں۔ موسم اور آب و ہوا کی تمام تبدیلیاں اسی پرت میں رونما ہوتی ہیں۔ اس پرت میں درجۂ حرارت 165 میٹر کی اونچائی پر 10C کی شرح سے گھٹتا جاتاہے ۔ یہ تمام حیاتیاتی سرگرمیوں کے لیے بہت ہی اہم طبق ہے۔ کرۂ متغیرہ کو کرۂ قائمہ سے الگ کرنے والے منطقہ کو کرۂ متغیرہ ساکتہ (Tropopause) کہا جاتا ہے۔ کرۂ متغیرہ ساکتہ کا درجۂ حرارت خط استوا پر تقریباً منفی 800C اور قطبین پر منفی 450C کے قریب ہوتا ہے۔ یہاں کا درجۂ حرارت ہمیشہ تقریباً یکساں رہتا ہے، اور اسی لیے ، اسے کرۂ متغیرہ ساکتہ کہتے ہیں۔ کرۂ قائمہ کرۂ ساکتہ کے اوپر پایا جاتا ہے اور 50 کلو میٹر کی اونچائی تک پھیلا ہے۔ کرہ قائمہ کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ اوزون کی پرتوں پر مشتمل ہے۔ یہ پرتیں بالا بنفشی اشعاع کو جذب کر لیتی ہیں اور زمین پر زندگی کو توانائی کی شدید و مضر قسم سے تحفظ عطا کرتی ہیں۔
کرۂ متوسطہ کرۂ قائمہ کے اوپر پایا جاتا ہے جو 80 کلو میٹر کی اونچائی تک پھیلا ہے۔ اس پرت کے اندر پھر سے درجۂ حرارت اونچائی کے بڑھنے کے ساتھ گھٹنا شروع ہو جاتا ہے۔ اور80 کلو میٹر کی اونچائی پر درجۂ حرارت منفی 1000 تک پہنچ جاتا ہے۔ کرۂ قائمہ کی بالائی حد کو کرۂ قائمہ ساکتہ (Mesopause) کہتے ہیں ۔ آیونی کرۂ متوسط (Mesopause) ساکتہ کے اوپر 80 کلو میٹر اور 400 کلومیٹر کے درمیان پایا جاتا ہے ۔ اس میں بجلی سے چارج شدہ ذرات پائے جاتے ہیں جنہیں آیون ( Ions) کہا جاتا ہے اس لیے اسے کرۂ آیون کہتے ہیں اور زمین سے بھیجی جانے والی ریڈیائی لہریں اس پرت کے ذریعہ زمین پر واپس لوٹ آتی ہیں۔ یہاں اونچائی کے ساتھ درجۂ حرارت بڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔ کرۂ آیون سے اوپر کرۂ ہوا کی سب سے بالائی پرت کو کرۂ بیرونی کہا جاتا ہے۔ یہ سب سے اونچی پرت ہے لیکن اس کے بارے میں بہت کم معلومات حاصل ہو سکی ہیں۔ اس پرت میں جو بھی مادے ہیں ان کی پرت کافی پتلی ہے اور بتدریج خلا میں ضم ہو جاتی ہیں۔ گرچہ کرۂ ہوا کی تمام پرتوں کا اثر ہم پر پڑتا ہے لیکن جغرافیہ داں کرۂ ہوا کی پہلی دو پرتوں سے زیادہ متعلق نظر آتے ہیں۔
موسم اور آب و ہوا کے عناصر (Elements of Weather and Climate)
کرۂ ہوا کے خاص عناصر جن میں تبدیلی واقع ہوتی ہے اور جو زمین پر انسانی زندگی کو متاثر کرتے ہیں، وہ ہیں : درجۂ حرارت ، دباؤ ، بہتی ہوا ، رطوبت، بادل اور بارش و برف ۔ ان عناصر کے بارے میں باب 9،10 اور 11 میں تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔
مشق
1- کثیر انتخابی سوالات :
(i) درج ذیل میں کون سی گیس کرۂ ہوا میں سب سے زیادہ ہے؟
(الف)آکسیجن (ب)آرگن
(ج)نائٹروجن (د) کاربن ڈائی آکسائڈ
(ii) انسانی زندگی کے لیے کرۂ ہوا کی کون سی اہم پرت ہے :
(الف) کرۂ قائمہ (ب) کرۂ متغیرہ
(ج) کرۂ متوسطہ (د) کرۂ آیون
(iii) سمندری نمک ، زیرے ، راکھ ، دھواں کے ذرات ، باریک مٹی ۔ یہ سب ذیل میں سے کس سے جڑے ہیں؟
(الف )گیس (ب)دھول کے ذرات
(ج) آبی بخارات (د) شہاب ثاقب
(iv) کرۂ ہوا کی کس بلندی پر آکسیجن گیس کی مقدار برائے نام رہ جاتی ہے؟
(الف ) 90 کلو میٹر (ب) 120 کلو میٹر
(ج)100 کلو میٹر (د)150 کلو میٹر
(v) درج ذیل میں کون سی گیس آنے والی اشعاع شمسی کے لیے شفاف ہے اور جانے والی ارضی اشعاع ریزی کے لیے غیر شفاف ہے؟
(الف ) آکسیجن (ب) نائٹروجن
(ج)ہیلیم (د) کاربن ڈائی آکسائڈ
2۔ درج ذیل سوالات کا تقریباً 30 لفظوں میں جواب لکھیں:
(i) کرۂ ہوا سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
(ii) موسم اور آب و ہوا کے عناصر کیا ہیں؟
(iii) کرۂ ہوا کی ترکیب کو بیان کریں۔
(iv) کرۂ ہوا کی تمام پرتوں میں کرۂ متغیرہ سب سے اہم کیوں ہے؟
3۔ درج ذیل سوالات کا تقریباً 150 لفظوں میں جواب لکھیں :
(i) کرۂ ہوا کی ترکیب کو بیان کریں۔
(ii) کرۂ ہوا کی ساخت کےلیےایک مناسب ڈائی گرام بنائیں۔ اس پر لیبل لگائیں اور اس بارے میں بتائیں۔
