Skip to content


باب 9


اشعاع شمسی ، حرارتی توازن اور درجۂ حرارت


کیا آپ اپنے چاروں طرف ہوا کو محسوس کرتے ہیں؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہم ہوا کے ایک بڑے انبار کے نیچے رہتے ہیں؟ہم سانس لیتے ہیں اور سانس چھوڑتے ہیں لیکن ہم ہوا کا احساس تب کرتے ہیں جب وہ چلتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چلنے والی ہوا باد(Wind)ہے۔ آپ اس حقیقت سے بخوبی آشنا ہیں کہ زمین چاروں طرف ہوا سے گھری ہوئی ہے۔ ہوا کا یہ غلاف کرۂ ہوا کہلاتا ہے جو مختلف گیسوں سے مل کر بنا ہے۔ یہ گیسیں زمین پر زندگی کو برقرار رکھتی ہیں۔    
زمین تقریباً اپنی تمام تر توانائی سورج سے حاصل کرتی ہےاور پھر زمین سورج سے حاصل کی گئی اس توانائی کو خلا میں واپس بھیج دیتی ہے۔ نتیجہ کے طور پر زمین ایک عرصہ میں نہ تو گرم ہوتی ہے ، نہ ہی ٹھنڈی رہتی ہے۔ اس طرح ، زمین کے مختلف حصوں میں حاصل شدہ حرارت کی مقدار ایک جیسی نہیں ہوتی ۔ اس اختلاف کی وجہ سے کرۂ ہوا کے دباؤ میں فرق ملتا ہے۔ پھر وہ ہواؤں کی مدد سے حرارت ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی ہے۔ اس باب میں کرۂ ہوا کے گرم اور ٹھنڈا ہونے کے طریق عمل اور زمین کے اوپر پیدا شدہ درجۂ حرارت کی تقسیم کی تفصیل بتائی گئی ہے۔        

اشعاع شمسی (Solar Radiation)

سطح زمین اپنی زیادہ تر توانائی چھوٹی لہروں کی شکل میں حاصل کرتی ہے۔ زمین کے ذریعہ حاصل شدہ توانائی کو آنے والی شمسی اشعاع کہا جاتا ہے جسے اختصار میں انسولیشن (insolation)کہا جاتا ہے۔ حاصل شدہ توانائی کو زمین ارضی اشعاع ریزی کے ذریعہ طویل موجوں کی شکل میں دوبارہ کرۂ ہوا میں بھیج دیتی ہے۔ اسے اشعاع ارضی کہا جاتا ہے۔        
چونکہ زمین ایک کروی شکل یعنی جی آیڈ (Geoid) کے مشابہ کرہ ہے۔ اس لیے کرۂ کے اوپری سطح ہوا پر سورج کی کرنیں ترچھی پڑتی ہیں اور زمین سورج کی توانائی بہت ہی کم حصہ کو روک پاتی ہے۔ ایک اوسط کے مطابق زمین اپنے کرۂ ہوا کے اوپری سطح پر حاصل ہونے والی شمسی توانائی(Output) سورج اور زمین کے درمیانی فاصلے میں فرق کی وجہ سے سال بھر میں تھوڑی مختلف ہوتی ہے۔ سورج کے گرد چکر کاٹنے کے دوران زمین 4 جولائی کو سورج سے سب سے زیادہ دور ہوتی ہے۔ (یہ دوری 152 ملین کلو میٹر ہے ) ۔ زمین کی اس پوزیشن کو اوج شمسی (Aphelion) کہا جاتا ہے۔ 3 جنوری کو زمین سورج کے قریب تر ہوتی ہے (یعنی 147 ملین کلو میٹر ) ۔زمین کی اس پوزیشن کو اقرب الشمس (Perihelion) کہتے ہیں ۔ اس طرح زمین کے ذریعہ حاصل شدہ سالانہ تشمس (Insolation) 3جنوری کو اس مقدار سے تھوڑا زیادہ دن ہوتا ہے جو 4 جولائی کو حاصل ہوتی ہے۔ تاہم حاصل شدہ شمسی توانائی کے اس فرق کا اثر دوسرے عوامل جیسے زمین اور سمندر کی تقسیم اور کرۂ ہوا کی گردش کی بنا پر ظاہر نہیں ہوتا ہے۔ اس طرح حاصل شدہ ، شمسی توانائی کا فرق سطح زمین پر موسم کی روز مرہ تبدیلیوں پر اثر انداز نہیں ہوتا ۔        

سطح زمین پر اشعاع شمسی میں تنوع (Variability of Insolation at the Surface of the Earth)

ایک دن ، ایک موسم اور ایک سال میں تشمس کی مقداراورشدت میں فرق ہوتا ہے۔ تشمس میں پائے جانے والے اس فرق کے ذمے دار عوامل ہیں :
۱۔زمین کا اپنے محور پر گھومنا ، ۲۔ سورج کی کرنوں کا زاویۂ میلان یا جھکاؤ ، ۳۔ دن کی لمبائی ، ۴۔کرۂ ہوا کی شفافیت ، ۵۔ زمین کی وضع اس کے پہلوؤں کی حیثیت سے ۔ تاہم اخیر کے دونوں عوامل کم اثر انداز ہوتے ہیں۔
یہ حقیقت کہ زمین کا محور سورج کے گرد اپنے بیضوی مدار کی سطح مستوی کے ساتھ 66-1/2 کا زاویہ بناتا ہے جو مختلف عرض البلد پر حاصل تشمس پر بڑی حد تک اثر ڈالتا ہے۔ درج ذیل جدول 9.1 میں دیے گئے انقلابیں (Solstices) کے موقع پر دن کی مدت میں فرق کو نوٹ کیجیے۔
دوسرا عامل جو حاصل تشمس کی مقدار کو متعین کرتا ہے، سورج کی کرنوں کے جھکاؤ کا زاویہ ہے۔ اس کا انحصار کسی بھی جگہ کے عرض البلد پر ہوتا ہے۔ جتنا اونچا عرض البلد ہو گا ،زمین کی سطح سے کرنوں کا زاویہ اتنا ہی کم ہوگا اور         کرنیں ترچھی پڑیں گی ۔ عمودی کرنوں کا رقبہ ہمیشہ ترچھی کرنوں کے رقبہ سے کم ہوتاہے۔ زیادہ رقبہ ہونے سے توانائی منقسم ہو جاتی ہے اور فی اکائی حاصل توانائی گھٹ جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ ترچھی کرنوں کو کرۂ ہوا میں لمبی دوری طے کرنی پڑتی ہے جس کے نتیجے میں زیادہ انجذاب ، انتشار اور نفوذ ہوتا ہے۔        

1st
                               تصویر9.1:گرمی کا نقطۂ عروج
شمسی شعاعیں
خط سر طان
دن
خط استوا
خط جدی
رات

کرۂ         ہو ا سے شمسی اشعاع کا گذر (The Passage of Solar Radiation Through the Atmosphere)

کرۂ ہوا چھوٹی موجوں والی شمسی اشعاع کے لیےزیادہ تر شفاف ہے۔ آنے والی شمسی شعاعیں سطح زمین پر پہنچنے سے پہلے کرۂ ہوا سے ہو کر گذرتی ہیں۔ کرۂ متغیرہ میں آبی بخارات ، اوزون اور دیگر گیسیں زیادہ تر قدرے زیر سرخ(Infrared Radiation) شعاع ریزی کو جذب کر لیتی ہیں۔
فضائے متغیرہ میں پائے جانے والے بہت چھوٹے معلق اجزائے مرئی طیف کو خلا اور سطح زمین کی طرف بکھیر دیتے ہیں۔ یہ عمل آسمان میں رنگوں کا باعث بنتا ہے۔ سورج کے طلوع اور غروب کے وقت لال رنگ کا ہونا اور آسمان کا نیلے رنگ کا ہونا کرۂ ہوا میں بکھری روشنی کا ہی نتیجہ ہیں۔        

سطح زمین پرتشمس کی مکانی تقسیم        

(Spatial Distribution of Insolation at the Earth's Surface)

روئے زمین پر حاصل شدہ تشمس منطقہ حارہ میں تقریباً 320 واٹ فی مربع میٹر سے لے کر قطبین میں 70 واٹ فی مربع میٹر تک ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ تشمس نیم ٹراپیکی صحرا کے اوپر حاصل ہوتا ہے، جہاں بادلوں کی موجودگی کم ہوتی ہے۔ خط استوا خطین (Tropics) کی بہ نسبت کم تشمس حاصل کرتا ہے۔ عموماً ایک ہی عرض البلد میں بحر اعظم کی بہ نسبت بر اعظم پر         زیادہ تشمس پایا جاتا ہے۔ موسم سرما میں وسطی عرض البلد اور اونچے عرض البلاد پر موسم گرما کی بہ نسبت کم شعاع ریزی پائی جاتی ہے۔        

کرۂ ہوا کا گرم اور ٹھنڈا ہونا        

(Heating and Cooling of Atmosphere)

کرۂ ہوا کے گرم اور ٹھنڈا ہونے کے مختلف طریقے ہیں۔        
زمین تشمس کے ذریعہ گرم ہونے کے بعد حرارت کو لمبی موجوں کی شکل میں کرۂ ہوا کی نزدیکی پرت میں منتقل کر دیتی ہے۔ زمین کے ربط میں رہنے والی ہوا آہستہ آہستہ گرم ہوتی ہے اور اوپری پرت کی ہوا بھی نچلی پرت کے ربط میں آکر گرم ہو جاتی ہے۔ اس عمل کو ایصال (Conduction) کہا جاتا ہے۔ ایصال اس وقت ہوتا ہے جب نامساوی درجۂ حرارت والے دو جسم ایک دوسرے کے ربط میں آتے ہیں۔ اس وقت گرم جسم سے ٹھنڈے جسم کی طرف توانائی کی روانی ہوتی ہے۔حرارت کا انتقال اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب تک کہ دونوں جسموں کا درجہ حرارت مساوی نہ ہو جائے یا دونوں جسموں کے درمیان ربط ختم کر دیا جائے۔ کرۂ ہوا کی نچلی پرتوں کو گرم کرنے کے لیے ایصال اہم ہے۔        
زمین کے ربط میں رہنے والی ہوا گرم ہو کر عمودی طور پر اوپر اٹھتی ہے اور حرارت کو کرۂ ہوا میں منتقل کرتی ہے۔ کرۂ ہوا کے عمودی طور پر گرم ہونےکے عمل کو حمل(Convection) کہتے ہیں۔ توانائی کا حملی انتقال صرف کرۂ متغیرہ تک محدود رہتا ہے۔        
ہوا کی افقی حرکت کے ذریعہ حرارت کا انتقال وزش (Advection) کہلاتا ہے۔ہوا کی عمودی حرکت کے بالمقابل افقی حرکت زیادہ اہم ہوتی ہے۔ وسطی عرض البلادوں میں زیادہ تر موسم میں یومہ (دن اور رات) تبدیلی وزش سے ہی ہوتی ہے۔ ٹراپیکی خطوں میں خاص کر شمالی ہندوستان میں گرمی کے موسم میں ایک مقامی ہوا جس کو ’’لو‘‘ کہا جاتا ہے، عمل وزش کا نتیجہ ہے۔        

ارضی شعاع ریزی (Terrestrial Radiation)

زمین کے ذریعہ حاصل کیا جانے والا تشمس چھوٹی موجوں کی شکل میں ہوتا ہے اور اس کی سطح کو گرم کرتا ہے۔ زمین گرم ہو کر بذات خود ایک شعاع ریز جسم بن جاتی ہے اور اپنی توانائی کو کرۂ ہوا میں لمبی موجوں کی شکل میں منتقل کرتی ہے۔ یہ توانائی کرۂ ہوا کو نیچے سے گرم کرتی ہے۔ اس عمل کو ارضی شعاع ریزی (Terresterial Radiation)کہا جاتا ہے۔
لمبی موجوں والی شعاع ریزی کرۂ ہوا کی گیسوں خاص کر کاربن ڈائی آکسائڈ اور گرین ہاؤس گیسوں کے ذریعہ جذب کر لی جاتی ہے۔ اس طرح کرۂ ہوا بالواسطہ طور پر ارضی شعاع ریزی سے گرم ہوتا ہے۔        
اس کے نتیجے میں کرۂ ہوا بھی شعاع ریزی کرتا ہے نیز حرارت کو خلا میں منتقل کر دیتا ہے۔ اور آخر کار سورج سے حاصل شدہ حرارت کی مقدار خلا میں واپس کر دی جاتی ہے اور اس طرح سطح زمین پر اور کرۂ ہوا میں درجۂ حرارت مستقلاً برقرار رہتا ہے۔        
2nd
                             تصویر9.2:کرۂ ارض کا حرارتی بجٹ
چھوٹی موجوں کی اشعاع شمسی 
خلا کے ذریعہ، منعکس بادلوں کے ذریعہ ،زمین کے ذریعہ
کل اشعاع شمسی
خلا میں منتشر
کرۂ ہوا کے ذریعہ جذب
شعاع ریزی، بادل، براہ راست
منتشر شعاع ریزی
زمین کے ذریعہ جذب 
زمین کے ذریعہ جذب

لمبی موجوں کی ارضی شعاع ریزی

کرۂ ہوا سے خلا میں شعاع ریزی، زمین سے خلا میں شعاع ریزی
تکثیف، اضطراب اور حمل، زمین سے شعاع ریزی

کرۂ زمین کی حرارت کا بجٹ        

(Heat Budget of the Planet Earth)

تصویر 9.2کرۂ ارض کی حرارت کے بجٹ کو دکھاتی ہے۔ زمین پورے طور پر حرارت کو نہ تو جمع کرتی ہے اور نہ اسے کھوتی ہے بلکہ یہ اپنے درجۂ حرارت کو برقرار رکھتی ہے۔ یہ تبھی ہو سکتا ہے جب تشمس ریزی کی شکل میں حاصل شدہ حرارت کی مقدار ارضی شعاع ریزی کے ذریعہ کھوئی ہوئی مقدار کے برابر ہو ۔
مان لیجئے کہ کرۂ ہوا کے اوپر سے آنے والا تشمس ریزی (100%) سو فیصد ہے ۔کرۂ ہوا سے ہو کر گذرتے ہوئے توانائی کی کچھ مقدار منعکس، منتشر اور جذب ہو جاتی ہے۔ صرف بچے ہوئے حصے ہی سطح زمین تک پہنچتے ہیں۔ سطح زمین پر پہنچنے سے پہلے اس کی ہی تقریباً 35         اکائی واپس خلا میں چلی جاتی ہے اور 2 اکائی زمین کے برفیلے علاقوں سے منعکس ہوتی ہے۔ شعاع ریزی کی منعکس شدہ مقدار کو زمین کا البیڈ و(Albedo of the earth) کہا جاتا ہے۔        
باقی 65 اکائیاں جذب کر لی جاتی ہیں جن میں 14 اکائیاں کرۂ ہوا میں اور 51 اکائیاں سطح زمین کے ذریعے۔ زمین یہ 51 اکائیاں ارضی شعاع ریزی کی شکل میں واپس لوٹا دیتی ہے۔ ان میں سے 17 اکائیاں براہ راست خلا میں لوٹ جاتی ہیں اور 34 اکائیاں کرۂ ہوا کے ذریعہ جذب کر لی جاتی ہیں(6 اکائیاں براہ راست کرۂ ہوا کے ذریعہ 9 اکائیاں حمل اور اضطراب کے ذریعے اور 19 اکائیاں تکثیف کی پنہاں حرارتLatent) Heat)کے ذریعہ جذب کی جاتی ہیں)۔ کرۂ ہوا کے ذریعہ جذب کی گئی 48 اکائیاں (14 اکائیاں تشمس سے اور x34          اکائیاںارضی شعاع ریزی سے) بھی خلا میں لوٹا دی جاتی ہیں۔ اس طرح زمین اور کرۂ ہواسے لوٹائی گئی کل شعاع ریزی بالترتیب         17+48=65 اکائیاں ہوئیں جو سورج سے حاصل کردہ 65 اکائیوں کے برابر ہیں۔ اسی کو کرۂ ارض کا حرارتی بجٹ یا حرارتی توازن کہا جاتا ہے۔        
اس سے اس بات کی تشریح ہو جاتی ہے کہ حرارت کے کثیر مقدار میں منتقل ہونے کے باوجود زمین کیوں گرم یا ٹھنڈی نہیں ہوتی۔

سطح زمین پر خالص حرارتی بجٹ میں انحراف

(Variation in the Net Heat Budget at the Earth's Surface)

جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ سطح زمین پر حاصل شدہ شعاع ریزی کی مقدار میں انحرافات پائے جاتے ہیں یعنی زمین کے کچھ حصوں پر شعاع ریزی کی فاضل مقدار ہوتی ہے تو دوسرے حصوں میں اس کی مقدار قلیل ہوتی ہے۔
تصویر 9.3 میں کرۂ ارض(یعنی) ۔کرۂ ہوا کے نظام کے خالص شعاع ریزی کے توازن میں عرض البلد کے لحاظ سے پائے جانے والے انحراف کو بتایا گیا ہے۔ اس تصویر سے پتہ چلتا ہے کہ 40 ڈگری شمال اور جنوب کے درمیان شعاع ریزی کا توازن زیادہ ہے جب کہ قطبین کے قریبی خطوں میں یہ توازن کم ہے ۔ منطقہ حارہ کی اضافی حرارتی توانائی قطبین کی طرف ازسرنو منتقل ہوتی ہےجس کے نتیجے میں منطقہ حار ہ حرارت کے زیادہ جمع ہونے سے بہت زیادہ گرم نہیں ہو تا یا اونچے عرض البلاد حرارت کی زیادہ کمی کی وجہ سے ہمیشہ جمے نہیں رہتے۔
3rd
تصویر9.3:خالص شعاع ریزی کے توازن میں عرض البلدی انحراف
زیادتی
کمی
اشعاع شمس-
ارضی اشعاع۔۔۔۔
کمی
قوت واٹ میں m-2
جنوب 
شمال
عرض البلد


درجۂ حرارت (Temperature)
کرۂ ہوا اور سطح زمین کے ساتھ شمس کے تعامل سے حرارت پیدا ہوتی ہے جس کی پیمائش درجۂ حرارت میں کی جاتی ہے۔ حرارت ایک چیز کے اجزا کی سالمی تحریک کی نمائندگی کرتی ہے، درجہ حرارت ڈگری میں ایک پیمائش ہے کہ کوئی چیز یا جگہ کتنی گرم یا ٹھنڈی ہے۔

درجۂ حرارت کی تقسیم کو کنٹرول کرنے والے عوامل        

(Factors Controlling Temperature Distribution)

کسی بھی جگہ کا درجۂ حرارت درج ذیل عوامل کی وجہ سے متاثر ہوتا ہے۔
1۔ اس جگہ کا عرض البلد، 2۔ سمندری سطح سے اس جگہ کی بلندی ، 3۔ سمندر سے اس کی دوری ، 4۔ہوائی تودہ کا دوران 5۔سردو گرم بحری روؤں کی موجودگی 6،۔مقامی حالات۔

4th
             تصویر9.4:جنوری کے مہینے  میں سطحی ہوا کےدرجہ حرارت کی تقسیم

عرض البلد :     کسی بھی جگہ کے درجۂ حرارت کا انحصار وہاں پر حاصل شدہ تشمس پر ہوتا ہے۔ یہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ عرض البلد کے مطابق تشمس مختلف ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے درجۂ حرارت بھی گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔        
بلندی :          کرۂ ہوا بالواسطہ طور پر سطح زمین سے نیچے کی طرف سے اٹھنے والی ارضی شعاع ریزی کے ذریعے گرم ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سطح سمند ر سے قریب کے علاقوں میں درجۂ حرارت ان علاقوں کی بہ نسبت زیادہ رہتا ہے جو زیادہ بلندی پر واقع ہیں۔ دوسرے الفاظ میں درجۂ حرارت ان علاقوں کی بہ نسبت زیادہ رہتا ہے جو زیادہ بلندی پر واقع ہیں۔ بلندی کے اعتبار سے درجۂ حرارت عموماً بلندی کے ساتھ ساتھ کم ہوجاتا ہے۔ بلندی کے اعتبار سے درجۂ حرارت میں ہونے والی کمی کی شرح کو عمومی شرح تخفیف (Normal Lapse rate)کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ شرح ہر 1000 میٹر کی بلندی پر 6.50C ہوتی ہے۔        
سمندر سے دوری :         دوسرا عامل جو درجہ حرارت کو متاثر کرتا ہے وہ سمندر سے دوری کے اعتبار سے کسی جگہ کا محل وقوع ہے۔خشکی کے مقابلہ میں سمندردھیرے دھیرے گرم ہوتا ہے اور دھیرے دھیرے ٹھنڈا ہوتا ہے،جبکہ زمین جلد گرم ہوتی ہے اور جلد ہی ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سمندرکے اوپر درجۂ حرارت میں فرق خشکی کے مقابلہ کم ہوتا ہے۔ سمندر کے کنارے واقع مقامات نسیم بحری(Sea breeze)۔ اور نسیم بری (Land breeze) سے متاثر ہوتے ہیں جس سے درجۂ حرارت معتدل ہو جاتا ہے۔ تودۂ ہوا (Air-mass)اور بحری روئیں (Ocean Currents) : نسیم بحری و نسیم بری کی طرح تودۂ ہوا کی گزرگاہ بھی درجۂ حرارت کو متاثر کرتی ہے۔ جو مقامات گرم تو دۂ ہوا کے زیر اثر ہوتے ہیں ان کا درجۂ حرارت زیادہ ہوتا ہے اور جو مقامات ٹھنڈے تو دۂ ہوا کے زیر اثر ہوتے ہیں، ان کا درجۂ حرارت کم ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ مقامات جہاں گرم بحری ہوائیں چلتی ہیں، ان کا درجۂ حرارت ان مقامات سے زیادہ ہوتا ہے جہاں سرد بحری روئیں چلتی ہیں۔

5th6th

             تصویر9.4:جولائی کے مہینے میں سطحی ہوا درجہ حرارت کی تقسیم
               تصویر9.5:جنوری اور جولائی کے درمیان درجہ حرارت کا تفاوت

درجۂ حرارت کی تقسیم        

(Distribution of Temperature)

درجۂ حرارت کی عالمی تقسیم کو ماہ جنوری اور ماہ جولائی میں درجۂ حرارت کی تقسیم کے مطالعہ سے سمجھا جا سکتا ہے۔ نقشہ میں درجۂ حرارت کی تقسیم کو عموماً مساوی الحرارت خطوط (Isotherms)کی شکل میں دکھایا جاتا ہے۔ مساوی الحرارت ایک قسم کے خطوط ہیں جو مساوی درجۂ حرارت والے مقامات کو جوڑتے ہیں۔ تصاویر 9.4 (a)         اور 9.4(b) ماہ جنوری اور ماہ جولائی میں سطح زمین کی ہوا کے درجۂ حرارت کی تقسیم کو دکھاتی ہیں۔
عمومی طور پر نقشہ میں درجۂ حرارت پر عرض البلد کے اثر کو اچھی طرح دیکھا جا سکتا ہے، کیونکہ خطوط مساوی الحرارت عام طور پر عرض البلد کے متوازی ہوتےہیں ۔ اس عام روش سے انحراف جولائی کی بہ نسبت جنوری میں ،خصوصاً شمالی نصف کرہ میں زیادہ پایا جاتا ہے کیونکہ شمالی نصف کرہ میں خشکی کا علاقہ جنوبی نصف کرہ کی بہ نسبت بہت زیادہ ہے۔اسلیے زمینی تودے اور بحری روئیں کے اثرات اچھی طرح دیکھے جا سکتے ہیں۔ جنوری میں خطوط مساوی الحرارت کا انحراف شمال میں بحر اعظم کی طرف اور جنوب میں بر اعظم کی طرف ہوتا ہے۔ اسے شمالی بحرا و قیانوس پر دیکھا                   جا سکتا ہے۔گرم بحری روؤں ، گلف اسٹریم اور شمالی اٹلانٹک ڈرفٹ کی موجودگی شمالی بحر اوقیانوس کو زیادہ گرم کر دیتی ہے اور خطوط مساوی الحرارت شمال کی طرف جھک جاتےہیں۔ خشکی کے اوپر درجۂ حرارت بڑی تیزی سے کم ہو جاتا ہےاور مساوی الحرارت خطوط یوروپ میں جنوب کی طرف جھک جاتے ہیں۔
سائبیریا کے میدانی علاقوں میں یہ کافی واضح ہوتا ہے۔ ماہ جنوری کا اوسط درجۂ حرارت 60º  مشرقی طول البلد کے ساتھ دونوں ہی عرض البلاد 80º شمال اور50º شمال میں منفی         20ºC ہوتا ہے۔جبکہ استوائی بحر اعظموں میں 27ºC         سے اوپر ،اور منطقہ حارہ میں 24ºC سے اوپر اور وسطی عرض البلاد میں 2ºC سے 0ºC تک نیز یوریشیائی براعظم کے اندرونی علاقوں میں - 18ºCسے         -48ºC تک ہوتا ہے۔
جنوبی نصف کرہ میں بحر اعظم کا اثر بالکل واضح ہے۔یہاں خطوط مساوی الحرارت کم و بیش عرض البلد کے متوازی ہوتے ہیں اور درجۂ حرارت میں انحراف شمالی نصف کرہ کی بہ نسبت بتدریج ہوتا ہے۔ 20ºS، 10ºC اور         0ºC کے مساوی الحرارت بالترتیب 35ºS، 45ºSاور 60ºS         عرض البلاد کے متوازی ہیں۔
ماہ جولائی میں مساوی الحرارت خطوط عموماً عرض البلاد کے ہی متوازی ہوتے ہیں۔ استوائی بحر اعظموں کا درجۂ حرارت 27ºS سے زیادہ ہوتا ہے۔ خشکی پر 30º شمالی عرض البلد کے ساتھ ایشیا کے نیم ٹراپیکی بر اعظمی علاقوں میں 30ºS         سے زائد درجۂ حرارت پایا جاتا ہے۔ 40º شمالی عرض البلد کے ساتھ خطوط مساوی الحرارت 10ºC اور         40ºجنوبی عرض البلد کے ساتھ درجۂ حرارت 10ºC ہوتا ہے۔
تصویر 9.5 ماہ جنورہ اور ماہ جولائی کےدرمیان درجۂ حرارت کے تفاوت کو ظاہر کرتی ہے۔ یوریشیائی بر اعظم کے شمالی مشرقی علاقے کے اوپر درجۂ حرارت کا اونچا تفاوت 60ºC سے زائد ہوتا ہے ۔ اس کی وجہ بر اعظمیت(Continentality) ہے۔ درجۂ حرارت کا کم سے کم تفاوت 3ºCہے جو         20ºCجنوب اور 15ºC شمال کے درمیان پایا جاتا ہے۔

مشق


1. کثیر انتخابی سوالات :
(i)       کو سورج دوپہر کے وقت درج ذیل میں سے کس عرض البلد پر ٹھیک سر کے اوپر ہوتا ہے
                                                              (الف) خط استوا پر                                                                       (ب) 23.5OC         پر
                                                      (ج)23.5ON         پر                                                                      (د) 66.5ON         پر
(ii) درج ذیل میں سے کس شہر میں دن سب سے بڑے ہوتے ہیں؟
(الف)          تروونت پورم (ب)          حیدر آباد        
                (ج)چنڈی گڑھ                                                              (د)ناگپور        
(iii) درج ذیل میں سے کس عمل سے کرۂ ہوا عموماً گرم ہوتا ہے:
                                   (الف)          چھوٹی موجوں والی شمسی شعاع ریزی
                                   (ب)                          لمبی موجوں والی ارضی شعاع ریزی        
                           (ج)                   منعکس شمسی شعاع ریزی        
                           (د)                           منتشر شمسی شعاع ریزی
(iv) درج ذیل اصطلاحات کو درست بیان کے ساتھ ملائیں:
1۔شمسی
2۔ البیڈو
3۔ خطوط مساوی
4۔ سالانہ تفاوت
سب سے گرم اور سب سے سرد مہینوں کے اوسط درجہ حرارت کے درمیان فرق ۔

خطوط جو مساوی درجۂ حرارت والے مقامات کو جوڑتے ہیں ۔ 
ٓنے والی شمسی شعاع ریزی 
کسی شئے سے منعکس ہونے والی مرئی روشنی کا فیصد 


1۔         تشمسسب سے گرم اور سب سے سرد مہینوں کے اوسط درجۂ حرارت کے درمیان فرق۔
2۔         البیڈو        خطوط جو مساوی درجۂ حرارت والے مقامات کو جوڑتے ہیں۔
3۔         خطوط مساوی الحرارتآنے والی شمسی شعاع ریزی
4۔         سالانہ تفاوتکسی شئے سے منعکس ہونے والی مرئی روشنی کا فیصد

(v) وہ اہم سبب جس کی وجہ سے کرۂ ارض پر درجۂ حرارت خط استوا کے بجائے نیم ٹراپیکی علاقوں میں سب سے زیادہ ہوتا ہے:
                           (a)        استوائی علاقوں کی بہ نسبت نیم ٹراپیکی علاقوں میں کم بادل ہوتے ہیں۔
                          (b)        استوائی علاقوں کی بہ نسبت نیم ٹراپیکی علاقوں میں موسم گرما میں دن کے گھنٹے زیادہ ہوتے ہیں۔
                          (c)        استوائی علاقوں کے مقابلے میں نیم ٹراپیکی علاقوں میں ’’گرین ہاؤس اثر‘‘ زیادہ ہوتا ہے۔
                          (d)        استوائی مقامات کی بہ نسبت نیم ٹراپیکی علاقے سمندر سے زیادہ نزدیک واقع ہیں۔
درج ذیل سوالات کا کم از کم 30 الفاظ میں جواب دیں:
                 (i)        کرۂ ارض کے اوپر حرارت کی غیر مساوی تقسیم زمان و مکان کے لحاظ سے آب و ہوا اور موسم کے فرق کا باعث بنتی ہے؟
                                    (ii) کون سے عوامل سطح زمین پر درجۂ حرارت کی تقسیم کو کنٹرول کرتے ہیں۔
                           (iii) ہندوستان میں درجۂ حرارت مئی کے مہینہ میں سب سے زیادہ کیوں ہوتا ہےاورر اس السرطان کے بعد کیوں نہیں ہوتا؟
                                    (iv)        سائبیریا کے میدانوں میں درجۂ حرارت کا سالانہ تفاوت اونچا کیوں رہتا ہے؟
درج ذیل سوالات کا 150 الفاظ میں جواب لکھیں:
(i) عرض البلد اور زمین کی گردش کے محور میں جھکاؤ کس طرح سطح زمین پر حاصل شعاع ریزی کو متاثر کرتی ہیں؟
(ii)ان طریق ہائے عمل کا تذکرہ کریں جو زمینی کرۂ ہوا کے نظام میں حرارت کے توازن کو برقرار رکھتے ہیں؟
(iii) ماہ جنوری میں کرہ کے شمالی اور جنوبی نصف کروں کے اوپر درجۂ حرارت کی عالمی تقسیم کا موازنہ کریں۔

پروجیکٹ کا کام

اپنے شہر یا قصبہ کے نزدیک واقع کسی موسمی رصد گاہ کا انتخاب کریں۔ رصد گاہوں کے موسمیاتی جدول میں دئیے گئے اعداد وشمارے مطابق درجۂ حرارت کی جدول بند ی کریں:
(i) رصدگاہوں کی بلندی ، عرض البلد اوران کے زمانہ کو درج کریں جس کا اوسط نکالا گیا ہے۔
(ii) درجۂ حرارت سے متعلق اصطلاحات کی وضاحت کریں جیسا کہ ٹیبل میں دیا ہوا ہے۔
(iii) ماہانہ درجۂ حرارت کا یومیہ اوسط نکالیں۔
(iv)                 ایک گراف بنائیں جس میں یومیہ درجۂ حرارت کا اعلی اوسط ، ادنی اوسط اور اوسط درجۂ حرارت مذکور ہو ۔
(v) درجۂ حرارت کا سالانہ تفاوت نکالیے ۔
(vi) پتہ لگائیں کہ کن مہینوں میں یومیہ درجۂ حرارت کا تفاوت سب سے زیادہ اور سب سے کم ہوتا ہے۔
(vii) ان عوامل کی ایک فہرست بنائیں جو کسی جگہ کے درجۂ حرارت کی تعین کرتے ہیں اور درجۂ حرارت میں ممکنہ انحراف کی توضیح پیش کریں جوماہ جنوری ، ماہ مئی ،ماہ جولائی اور ماہ اکتوبر میں واقع ہوتی ہے۔
مثال :
رصد گاہ : نئی دہلی (صفدر جنگ)
عرض البلد : 28º         35º
مشاہدات کے سال : 1951 سے 1980
سمندر سے اوسط بلندی : 216 میٹر

مہینہ  یومیہ 
اعلیٰ درجۂ حرارت کا اوسط(co)
یومیہ ادنیٰ درجۂ حرارت کا او سط(co) ریکارڈ کیا گیا سب سے اعلیٰ درجٔہ حرارت (co) ریکارڈ کیا گیا سب سے ادنیٰ درجۂ حرارت(co)
جنوری 21.6 7.3 29.3 -0.6
مئی 39.6 25.9 47.2 17.5
         

درجۂ حرارت کا ماہانہ یومیہ اوسط        
8th
درجۂ حرارت کا سالانہ رینج        
مئی میں درجۂ حرارت کااعلیٰ اوسط (–)جنوری میں درجۂ حرارت کا ادنیٰ اوسط
درجۂ حرارت کا سالانہ تفاوت  18.55ºC = 32.75ºC-142.2ºC=