پچھلے باب 9 میں سطح زمین کے اوپر درجۂ حرارت کی غیر مساوی تقسیم کو بیان کیاگیا ہے۔ ہوا جب گرم ہوتی ہے تو پھیلتی ہے اور جب ٹھنڈی ہوتی ہے تو سکڑ جاتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں کرۂ ہوا کے دباؤ میں تبدیلی واقع ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہوا اونچے دباؤ سے کم دباؤ کی طرف بہنے لگتی ہے ۔ آپ پہلے سے جانتے ہیں کہ افقی حرکت کرتی ہوئی ہوا کو باد (Wind)کہتے ہیں۔ کرۂ ہوا کے دباؤ کا تعین اس وقت بھی ہوتا ہے جب ہوا اوپر اٹھ رہی ہو یا نیچے بیٹھ رہی ہو ۔ہوا تمام کرۂ ارض پر حرارت اور رطوبت کی تقسیم ازسرنو کرتی ہے۔ اس طرح پورے سیارے پر یکساں درجۂ حرارت کو برقرار رکھتی ہے ۔ نم ہوا کی عمودی اٹھان اسے ٹھنڈا کر دیتی ہے، جس سے بادل بنتے ہیں اور بارش ہوتی ہے ۔ اس باب میں دباؤ میں فرق کی وجہ ، کرۂ ہوا میں گردش کو کنٹرول کرنے والی قوتیں، ہوا کا اضطرابی طرز ، تودۂ ہوا کی تشکیل، تودۂ ہوا کے باہمی تعامل کے نتیجے میں موسم کا بگڑنا اور شدید ٹراپیکی طوفانوں کے مظہر کی تفصیل بتائی گئی ہے۔
کرۂ ہوا کا دباؤ (Atmospheric Pressure)
کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے جسم پر ہوا کا دباؤ کافی ہے۔ جیسے جیسے ہم اوپر کی طرف جاتے ہیں۔ ہوا تغیر پذیر ہوتی جاتی ہے اور ہمیں سانس لینے میں بھی پریشانی ہونے لگتی ہے۔
اوسط سطح سمند ر سے کرۂ ہوا کی اوپری سطح تک ایک اکائی رقبے پر ہوا کے کالم کا وزن ہوائی دباؤ (Atmospheric pressure) کہلاتا ہے۔ہوائی دباؤ کو ملی بار (mb) اور پاسکل کی اکائی میں بیان کیا جاتاہے۔ وسیع پیمانہ پر استعمال ہونے والی اکائی کیلو پاسکل ہے جو hPa کی شکل میں لکھی جاتی ہے۔ سطح سمندر پر ہوائی دباؤ کا اوسط 1013.2 ملی بار یا 1013.2 hPa ہے ۔ ہوائی دباؤ قوت ثقل کی وجہ سے سطح پر ہوا کثیف ہوتی ہے۔ اس لیے دباؤ زیادہ ہوتا ہے۔ ہوا کے دباؤ کی پیمائش مرکری بیرومیٹر (Mercury barometer) یا نروائڈبیرو میٹر (Aneroid barometer) کی مدد سے کی جاتی ہے۔ اپنی کتاب، ’جغرافیہ میں عملی کام ۔حصہ اول(این سی ای آر ٹی 2006 ) کا مطالعہ کیجیے اور ان آلات کے بارے میں واقفیت حاصل کیجیے۔ ہوا کا دباؤ اونچائی کے ساتھ کم ہوتا جاتا ہے۔ کسی بھی بلندی پر یہ دباؤ ایک دوسری جگہ پر بدلتا رہتا ہے اور یہی تبدیلی ہوا کی حرکت یعنی اونچے دباوی علاقے سے نچلے دباوی علاقے کی طرف ہوا کے بہنے کا سبب بنتی ہے۔
دباؤ کا عمومی انحراف
(Vertical Variation of Pressure)
کرۂ ہوا کی نچلی پرت میں بلندی کے ساتھ ہوا کا دباؤ بڑی تیزی سے کم ہوتا ہے، اس کے کم ہونے کی مقدار ہر 10 میٹر کی بلندی پر تقریباً 1 ملی بار ہوتی ہے۔ یہ ہمیشہ ایک ہی شرح سے کم نہیں ہوتی ۔ جدول10.1 میں معیاری کرۂ ہوا کے لیےکچھ چنیدہ سطحوں پر اوسط دباؤ اور درجۂ حرارت کو بیان کیا گیا ہے۔
جدول 10.1 : چنیدہ سطحوں پر معیاری دباؤ اور درجہ حرارت
| سطح |
دبائو ملی بار میں |
درجۂ حرارت (oc) میں |
| سطح سمندر |
1013.25 |
15.2 |
1 کلو میٹر
|
898.76 |
8.7 |
| 5 کلومیٹر |
540.48 |
-17.3 |
| 10 کلو میٹر |
265.00 |
-49.7 |
عمودی دباؤ کی ڈھال کی قوت افقی دباؤ کی ڈھال سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن اس میں عام طور پر توازن تقریباً یکساں لیکن مخالف قوت ثقل سے برقرار رہتا ہے ۔ اس لیے ہم اوپر کی طرف بہنے والی تیز ہواؤں کو محسوس نہیں کرپاتے ۔
دباؤ کی افقی تقسیم
(Horizonotal Distribution of Pressure)
ہوا کے دباؤ میں معمولی فرق بحی ہوا کی سمت اور رفتار میں نمایاں اہمیت کے حامل ہیں۔
تصویر10.1:شمالی نصف کرۂ میں مساوی البار، دباؤ اور ہوا کا نظام
تصویر10.2:ہوا کے دبائو کی تقسیم(ملی بار میں)-ماہ جنوری
تصویر10.3:ہوا کے دباؤ کی تقسیم (ملی بار میں)-ماہ جولائی
دباؤ کی افقی تقسیم کا مطالعہ مساوی البار خطوط کا خاکہ بنا کر کیا جاتا ہے۔مساوی البار خطوط وہ ہیں جو مساوی دباؤ والے مقامات کو آپس میں جوڑتے ہیں۔دباؤ پر بلندی کے اثر کو ختم کرنے کے لیے کسی جگہ پر پیمائش کیے گئے دباؤ کا موازنہ کرنے کی غرض سے اسے سطح سمندر کی حد تک کم کر دیا جاتا ہے۔ سطح سمندر پر دباؤ کی تقسیم کو موسمی نقشوں میں دکھایا جاتا ہے۔
تصویر 10.1 میں دباؤ کےنظام کے مطابق مساوی البار کے طرز کو دکھایا گیا ہے۔ کم دباؤ والے نظام میں ایک یا زیادہ خطوط مساوی البار ہوتے ہیں اور سب سے کم دباؤ مرکز میں ہوتاہے۔ زیادہ دباوی نظام میں بھی ایک یا زیادہ خطوط مساوی البار ہوتے ہیں لیکن مرکز میں سب سے زیادہ دباؤ ہوتا ہے۔
سطح سمندر پر دباؤ کی عالمی تقسیم (World Distribution of Sea Level Pressure)
سطح سمندر پر ماہ جنوری اور ماہ جولائی کے مہینوں میں دباؤ کی عالمی تقسیم کو تصویر 10.2 اور 10.3 میں دکھایا گیا ہے۔ خط استوا کے نزدیک سطح سمندر پر دباؤ کم ہوتا ہے اور اس علاقے کو استوائی کم دباؤ (Equatorial low)کا علاقہ کہا جاتا ہے۔ 30º شمال اور 30º جنوب میں زیادہ دباؤ کا علاقہ پایا جاتا ہے۔ اسے نیم ٹراپیکی زیادہ دباؤ(Subtropical high) کا علاقہ کہا جاتا ہے۔ قطبین کی طرف 60ºشمال اور 60ºجنوب میں کم دباؤ کی پٹی پائی جاتی ہے۔ اور انہیں نیم قطبی کم دباؤ(Sub polar low) والا علاقہ کہا جاتا ہے۔ قطبین کے پاس دباؤ زیادہ ہوتا ہےاور اسے قطبی زیادہ دباؤ (Polar high) والا علاقہ کہتے ہیں۔ دباؤ کی یہ پٹیاں اپنی فطرت میں مستقل نہیں ہوتیں ۔ یہ سورج کی ظاہری حرکت کے ساتھ آگے پیچھے کھسکتی رہتی ہیں۔ شمالی نصف کرہ میں موسم سرما میں یہ جنوب کی طرف کھسک جاتی ہیں اور موسم گرما میں شمال کی طرف کھسکتی ہیں۔
ہوا کی سمت اور رفتار کو متاثر کرنے والی قوتیں
(Forces Affecting the Velocity and Direction of Wind)
آپ جانتے ہیں کہ کرۂ ہوا کے دباؤ میں فرق ہونے کی وجہ سے ہوا حرکت کرنے لگتی ہے۔ حرکت کرنے والی ہوا کو باد (Wind) کہا جاتا ہے۔ ہوا زیادہ دباؤ سے کم دباؤ کی طرف بہتی ہے۔ سطح پر بہتی ہوئی ہوا رگڑ کھاتی ہے۔ اس کے علاوہ زمین کی گردش بھی ہوا کے بہاؤ کو متاثر کرتی ہے۔زمین کے ذریعہ ڈالی گئی قوت کو کور یولِس قوت(Coriolis force) کہتے ہیں۔ اس طرح سطح زمین کو افقی ہوا پر تین قوتوں– شرح دباؤ کی قوت، رگڑ کی قوت اور کور یولِس قوت کا ملا جلا اثر پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ قوت ثقل بھی ہوتی ہے جوہوا کو نیچے کی طرف کھینچتی ہے۔
شرح دباؤ کی قوت(Pressure Gradients Force)
کرۂ ہوا کے دباؤ میں فرق کی وجہ سے ایک قوت پیدا ہوتی ہے۔ فاصلے کے تعلق سے دباؤ میں تبدیلی کی شرح کو شرح دباؤ کہا جاتا ہے۔ جہاں مساوی البار ایک دوسرے سے قریب ہوتے ہیں وہاں شرح دباؤ تیز ہوتی ہے اور جہاں خطوط مساوی البار دور دور ہوتے ہیں وہاں یہ کمزور ہوتی ہے۔
رگڑ کی قوت (Frictional Force)
یہ ہوا کی رفتار کو متاثر کرتی ہے۔ اس کا اثر زمینی سطح کےپاس سب سے زیادہ اور عموماً 1 سے 3 کلو میٹر تک ہوتا ہے۔ سطح سمندر پر رگڑ سب سے کم ہوتی ہے۔
کور ریولس قوت (Coriolis Force)
زمین کی اپنے محور پر گردش ہوا کی سمت کو متاثر کرتی ہے۔ اس قوت کانام ایک فرانسیسی ماہر طبیعات کے نام پر کوریولس قوت رکھا گیا ہے جس نے اس کی تشریح 1844 میں کی ۔ یہ قوت ہوا کو شمالی نصف کرہ میں دائیں طرف اور جنوبی نصف کرہ میں بائیں طرف منحرف دیتی ہے۔ یہ انحراف اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب ہوا کی رفتار تیز ہوتی ہے۔ کوریولس قوت زاویۂ عرض البلد کے ساتھ براہ راست متناسب ہوتی ہے۔ چنانچہ قطبین پر کوریولس قوت سب سے زیادہ ہوتی ہے اور خط استوا پر سب سے کم ہوتی ہے۔ کوریولس قوت شرح دباؤ کی قوت پر عمودی طور پر کام کرتی ہے۔ شرح دباؤ کی قوت خط مساوی البار کے عمود پر ہوتی ہے۔ اس طرح شرح دباؤ کی قوت جتنی زیادہ ہوگی ہوا کی رفتار اتنی ہی تیز ہوگی اور ہوا کی سمت میں انحراف بھی زیادہ ہوگا ۔ ان دو قوتوں کے ایک دوسرے پر عمودی ہونے کی وجہ سے کم دباؤ کے علاقوں میں ہوائیں اس کے چاروں طرف بہتی ہیں۔ خط استوا پر کوریولس قوت صفر ہوتی ہے اور ہوائیں مساوی البار خطوط کے عمود پر بہتی ہیں۔ کم دباؤ شدید ہونے کے بجائے پُر ہونے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خط استوا کے قریب ٹراپیکی سیقلون نہیں بن پاتے ۔
دباؤ اور ہوا (Pressure and Wind)
ہوا پیدا کرنے والی قوتوں کا خالص نتیجہ ہوا کی رفتار اور سمت ہے ۔ 2 سے 3 کلو میٹر اوپر کرۂ ہوا میں ہوائیں سطح زمین کی رگڑ سے آزاد ہوتی ہیں اور شرح دباؤ کی قوت اور کوریولس قوت سے کنٹرول ہوتی ہیں۔ جب مساوی البار خطوط سیدھے ہوتے ہیں اور کوئی رگڑ نہیں ہوتی تب شرح دباؤ کی قوت کو کوریولس قوت توازن میں رکھتی ہے جس کی وجہ سے ہوائیں خط مساوی البار کے متوازی بہتی ہیں۔ اس ہوا کو زمینی انحرافی ہوا (Geostrophic wind) کہتے ہیں (تصویر 10.4)۔
تصویر10.4:زمینی انحرافی ہوا
کوریولس ۔C
زمینی انحرافی ہوا ۔V
افقی شرح دباؤ۔ PH
جنوبی نصف کرۂ
شمالی نصف کرۂ
کم دباؤ کے چاروں طرف ہوا کی گردش کو سیقلونی گردش کہا جاتا ہے۔ زیادہ دباؤ کے چاروں طرف گردش کو مخالف سیقلون گردش کہاجاتا ہے۔ ایسے نظام کے چاروں طرف ہواؤں کی سمت مختلف نصف کروں میں اپنے محل وقوع کے اعتبار سے بدلتی رہتی ہے۔
سطح زمین پر کم دباؤ یا زیادہ دباؤ کے چاروں طرف ہوا کی گردش زیادہ اونچی سطح پر ہوا کی گردش کے ساتھ قریبی تعلق رکھتی ہے۔ عموماً کم دباؤ کے علاقہ میں ہوائیں اوپر سے نیچے کی طرف بہہ آتی ہیں اور سطح پر الگ ہو جاتی ہیں(تصویر 10.5)۔مرکوزیت (Convergence) کے علاوہ کچھ گرد اب حملی روئیں کو ہ غرافی ارتفاع اور محاذ ہوا کے ساتھ ارتفاع بھی ہواؤں کو اوپر اٹھاتے ہیں جو بادل اور بارندگی کی تشکیل کےلیے ضروری ہے۔
تصویر 10.2 سیقلون اور مخالف سیقلون میں ہواؤں کی سمت کا طرز
| ہواؤں کے دباؤ کا نظام |
مرکز میں دبائو کی حالت |
ہواؤں کی سمت کا طرز |
|
|
شمالی نصف کرۂ |
جنوبی نصف کرۂ |
سیقلون مخالف سیقلون |
کم دباؤ اونچا دباؤ |
گھڑی کی سوئیوں کے مخالف گھڑی کی سوئیوں کے مطابق |
گھڑی کی سوئیوں کے مطابق گھڑی کی سوئیوں کے مخالف |
کرۂ ہوا کی عمومی گردش(General Circulation of the Atmosphere)
سیاری ہواؤں(Planetary winds) کا طرز زیادہ تر ۔ (i)کرۂ ہواکے گرم ہونے میں عرض البلدی انحراف (ii) دباوی پٹیوں کا ظہور (iii)سورج کے ظاہری رہگذر کے ساتھ پٹیوں کا کھسکنا (iv) بر اعظموں اور بحر اعظموں کی تقسیم اور (v) زمین کی گردش پر منحصر ہے۔ سیاری ہواؤں کی حرکت
تصویر10.6:کرۂ ہوا کی ٓسان عمومی گردش
قطبی گرداب
قطبی سیل
قطبی جیٹ اسٹریم ،فیرل سیل
نیم ٹراپیکی جیٹ اسٹریم،ہیڈلی سیل
قطبی مشرقی ہوائیں
مغربی ہوائیں
شمال مشرقی تجارتی ہوائیں
جنوب مشرقی تجارتی ہوائیں
مغربی ہوائیں
قطبی مشرقی ہوائیں
کےطرز کو کرۂ ہوا کی عمومی گردش کہا جاتا ہے۔ کرۂ ہوا کی عمومی گردش سے بحر اعظموں کا پانی بھی حرکت کرتا ہے جس سے زمین کی آب و ہوا متاثر ہوتی ہے۔ تصویر 10.6 میں کرۂ ہوا کی عمومی گردش کی قیاسی تفصیل بتائی گئی ہے۔ آئی ٹی سی زیڈ (ITCZ) پر ہوا زیادہ تشمُّس سے پیدا حمل کی وجہ سے اوپر اٹھتی ہے اور کم دباؤ کا منطقہ بن جاتا ہے۔ منطقہ حارہ کی ہوائیں اس کم دباؤ کے منطقے میں اکٹھا ہوتی ہیں ۔ مرکوز ہوا حملی سیل کے ساتھ اوپر اٹھتی ہے اور کرۂ متغیرہ کے اوپر 14 کیلو میٹر کی بلندی تک پہنچتی ہے اور قطبین کی طرف حرکت کرنے لگتی ہے ۔ اس کی وجہ سے 30ºشمال اور جنوب میں ہوائیں انبار کی صورت میں اکھٹا ہونے لگتی ہیں۔ ہواؤں کے انبار کا کچھ حصہ زمین کی طرف بیٹھنے لگتا ہے اور نیم ٹراپیکی زیادہ دباؤ بنتا ہے۔ ہواؤں کے نیچے آنے کی دوسری وجہ 30º شمالی اور جنوبی عرض البلد پر پہنچنے پر ہوا کا ٹھنڈا ہونا ہے۔
اس کے نیچے سطح زمین کے پاس ہواخط استوا کی طرف مشرقی ہواؤں (Easterlies) کی شکل میں چلتی ہے۔ خط استوا کے دونوں طرف کی مشرقی ہوائیں بین ٹراپیکی مرکوزیت والے منطقہ (ITCZ) میں ملتی ہیں ۔ سطح سےاوپر کی طرف گردش اور اس کے برعکس کوسیل (Cell) کہا جاتاہے۔ منظقہ حارہ میں اسی سیل کو ہیڈلی سیل (Headly Cell)کہتے ہیں ۔ وسطی عرض البلاد میں گردش یہ ہے کہ قطبین سے آنے والی ٹھنڈی ہوائیں نیچے بیٹھتی ہیں جبکہ نیم ٹراپیکی اونچے دباؤ سے بہنے والی گرم ہوا اوپر اٹھتی ہے۔ سطح زمین پر ان ہواؤں کو مغربی ہوائیں(Westerlies) اور سیل کو فیرل سیل (Ferrel Cell) کہتے ہیں ۔ قطبی عرض البلاد پر ٹھنڈی کثیف ہوائیں قطبین کے پاس نیچے آتی ہیں اور وسطی عرض البلاد کی طرف قطبی مشرقی ہواؤں کی صورت میں بہتی ہیں۔ اس سیل کو قطبی سیل کہاجاتا ہے۔ یہ تینوں سیل عمومی گردش کے طرز کو طے کرتے ہیں۔ نچلے عرض البلاد سے اونچے عرض البلاد کی طرف حرارتی توانائی کا منتقل ہونا عمومی گردش کو برقرار رکھتا ہے۔
کرۂ ہوا کی عمومی گردش بحراعظموں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ کرۂ ہوا کی بڑے پیمانے کی ہوائیں بحراعظموں کی بڑی اور سست رفتار روؤں کو پیدا کرتی ہیں۔ بدلے میں سمندر ہوا میں توانائی اور آبی بخارات فراہم کرتے ہیں۔ یہ تعامل بحراعظموں کےبڑے حصے پر آہستہ آہستہ ہوتا ہے ۔
کرۂ ہوا کی عمومی گردش اور بحر اعظموں پر اس کا اثر
کرۂ ہوا کی عمومی گردش میں بحر الکاہل کا گرم اور ٹھنڈا ہونا سب سے زیادہ اہم ہے۔ وسطی بحر الکاہل کا گرم پانی آہستہ آہستہ جنوبی امریکی ساحل کی طرف بہتا ہے اور ٹھنڈی پیرووین رو کی جگہ لے لیتاہے۔ پیرو کے ساحل پر گرم پانی کا ایسا ظہور النینو(EL Nino)کہلاتا ہے۔النینو کا واقعہ وسطی بحر الکاہل اور آسٹریلیا میں دباؤ میں تبدیلی کو جنوبی اہتزاز (Southern oscillation) کہا جاتا ہے۔ النینو اور جنوبی اہتزار کے مجموعی مظہر کو اینسو (ENSO) کہتے ہیں۔ جس سال اینسو طاقتور ہوتا ہے پوری دنیا میں بڑے پیمانے پر موسم میں تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ جنوبی امریکہ کے خشک مغربی ساحل پر بھاری بارش ہوتی ہے، آسٹریلیا میں اور کبھی کبھی ہندوستان میں خشک سالی ہو جاتی ہےجب کہ چین میں سیلاب آجاتا ہے۔ اس مظہر پر گہری نظم رکھی جاتی ہے اور دنیا کے اکثر حصوں میں لمبے عرصے کی پیشین گوئی کے لئے اسے استعمال کیا جاتا ہے۔
موسمی ہوائیں(Seasonal Winds)
شدید گرمی ،دباؤ اور ہوائی پٹیوں کے علاقوں میں تبدیلی کی وجہ سے ہواؤں کی گردش کے طرز میں ترمیم ہوتی رہتی ہے۔ اس منتقلی کا واضح اثر مانسون میں خاص کر جنوب مشرقی ایشیا میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ آپ مانسون کے بارے میں اپنی کتا ب ’ہندوستان : طبعی ماحول ‘ میں تفصیلی مطالعہ کریں گے۔ عمومی گردش سے کچھ دیگر مقامی انحراف ذیل میں دیے گئے ہیں۔
مقامی ہوائیں(Local Winds)
زمین کے سطحوں کے گرم اورٹھنڈا ہونے میں فرق اور روزانہ یا سالانہ پیدا ہونے والی گردشیں کئی عام ، مقامی یا علاقائی ہواؤں کو جنم دیتی ہیں۔
نسیم بری اور بحری(Land and Sea Breezes)
جیسا کہ پہلے وضاحت کی گئی ہے کہ زمین اور سمندر حرارت کو مختلف طور سے جذب کرتے ہیں اور منتقل کرتے ہیں۔ دن کے وقت زمین سمندر کی بہ نسبت جلدی تپ جاتی ہے اور زیادہ گرم ہو جاتی ہے۔ اس لئے زمین پر ہوائیں اوپر اٹھنے لگتی ہیں اور کم دباؤ کا علاقہ بن جاتا ہے جبکہ سمندر نسبتاً ٹھنڈا ہوتا ہے اور اس پر ہوا کا دباؤ بھی نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ اس طرح سمندر سے زمین کی طرف شرح دباؤ بن جاتا ہے اور سمندر سے زمین کی طرف ہوائیں نسیم بحری(Sea breeze) کی شکل میں بہنے لگتی ہیں۔ رات میںحالت بالکل بر عکس ہو جاتی ہے۔ زمین سمندر کی بہ نسبت جلدی گرمی کھو دیتی ہے اور نتیجہ کے طور پر نسیم بری (Land breeze) چلنے لگتی ہے۔
تصویر10.7:نسیم بری اور نسیم بحری
باد کوہی اور باد وادی
(Mountain and Valley Winds)
پہاڑی علاقوں میں دن کے وقت ڈھلانیں گرم ہو جاتی ہیں اور ہوائیں ڈھلان پر اوپر کی طرف چڑھنے لگتی ہیں ۔ ڈھلان کی خلا کو پر کرنے کے لیے وادی سے ہوائیں اوپر کی طرف چلتی ہیں۔ اس ہوا کو باد وادی نسیم (Valley beeze)کہتے ہیں ۔ رات میں ڈھلانیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں اور کثیف ہوا باد کو ہی (Mountain wind) کی شکل میں وادی میں اترتی ہے۔ جب اونچے پٹھاروں اور برفیلے علاقوں کی ٹھنڈی ہوا وادی میں پہنچتی ہے تو اسے کیٹابیٹک ہوا (Katabatic Wind) کہتے ہیں۔ دوسری قسم کی گرم ہوا پہاڑی سلسلوں کے عقبی حصوں پر ہوتی ہے۔ ہوائیں پہاڑی سلسلوں کو پار کرتے وقت کثیف ہو جاتی ہیں اور بارش کرتی ہیں۔ جب یہ ہوائیں ہوائی رخ کے عقبی ڈھالوں پر اترتی ہیں تو خشک ہوا ایڈیاباٹک عمل (Adiabatic Process) سے گرم ہو جاتی ہیں ۔ یہ خشک ہوا چھوٹے وقفہ میں برف کو پگھلا دیتی ہے۔
ہوا کے تودے(Air Masses)
جب ہوا متجانس علاقوں پر لمبے عرصے تک بنی رہتی ہے تو اس علاقے کی صفات بھی اخذ کر لیتی ہے۔ متجانس علاقے وسیع سمندری سطح یا وسیع میدان ہو سکتے ہیں۔ درجۂ حرارت اور رطوبت کے اعتبار سے ممتاز صفات والی ہوا کو تودۂ ہوا (Air mass) کہا جاتا ہے۔ اس کی تعریف اس طرح کی جا سکتی ہے کہ ’یہ ہوا کی ایک بڑی جسامت ہے جس کے درجۂ حرارت اور رطوبت میں افقی انحراف بہت کم ہوتا ہے‘۔ وہ متجانس سطح جس پر تودۂ ہوا بنتا ہے اسے علاقۂ منبع (Source region) کہا جاتا ہے۔
تودۂ ہوا کی تقسیم علاقہ منبع کے اعتبار سے کی جاتی ہے۔ پانچ علاقہ منبع اس طرح ہیں :(1) گرم ٹراپیکی اور نیم ٹراپیکی بحر اعظم (2) نیم ٹراپیکی گرم ریگستان (3) نسبتاً ٹھنڈے اونچے عرض البلدی بحر اعظم (4) اونچے عرض البلاد میں بہت ٹھنڈے برف سے ڈھکے بر اعظم (5) آرکٹک اور انٹارکٹک میں مستقل طور پر برف سے ڈھکے بر اعظم ۔ اسی کے حساب سے مندرجہ ذیل تودۂ ہوا کی شناخت کی گئی ہے :(1) بحری ٹراپیکی (mT) (2)بری حاری (cT)( 3)بحری قطبی (mp)( 4)بر اعظم قطبی (cp) (5)براعظمی آرکٹک(cA)۔ٹراپیکی تودۂ ہوا گرم ہوتے ہیں اور قطبی تودۂ سرد ہوتے ہیں۔
محاذ(Front)
جب دو مختلف تودۂ ہوا ملتے ہیں تو ان کے درمیان کا سرحدی منطقہ محاذ (Front) کہلاتا ہے ۔ محاذوں کی تشکیل کے طریق عمل کو محاذ زائی (Frontogenesis) کہتے ہیں ۔ چار قسم کے محاذ ہوتے ہیں :1۔ٹھنڈا( 2(Coldگرم (Warm) 3۔ساکن (Stationary) 4۔ برداشتہ (Occluded) (تصویر10.8الف، ب، ج)جب محاذی ہوائیں ساکن رہتی ہیں تو اسے سکونی محاذ (Stationary Front)کہا جاتا ہے۔ جب ٹھنڈا تودۂ ہوا گرم تودۂ ہوا کی طرف چلتاہے تو اس کے منطقہ رابطہ کو ٹھنڈا محاذ (Cold Front) کہا جاتا ہے اور جب گرم تودۂ ہوا ٹھنڈے تودۂ ہو اکی طرف چلتا ہے تو اس کے منطقہ رابطہ کو گرم محاذ (Warm front) کہاجاتا ہے ۔ اگر کوئی تودۂ ہوا سطح زمین سے پوری طرح اوپر اٹھ جاتا ہے تو اسے برداشتہ محاذ (Occluded fron t)کہتے ہیں ۔ محاذ وسطی عرض البلاد میں واقع ہوتے ہیں اور ان کی خصوصیت یہ ہے کہ درجۂ حرارت اور دباؤ کی شرح شدید ہوتی ہے۔ان کی وجہ سے درجۂ حرارت میں اچانک تبدیلی ہوتی ہے ، جن کی بنا پر ہوائیں اوپر اٹھتی ہیں اور ان سے بادل بنتے ہیں اور بارش ہونے لگتی ہے۔
تصویر10.8:(الف) گرم محاذ؛(ب) ٹھنڈا محاذ؛
(ج)برداشتہ کے عمودی سیکشن
برون ٹراپیکی سیقلون(Extra Tropical Cyclone)
منطقہ حارہ سے باہر وسطی اور اونچے عرض البلادوں پر بننے والے نظام کو وسطی عرض البلدی یا برون ٹراپیکی سیقلون ( Extra Tropical Cyclones)کہا جاتا ہے ۔ محاذ کے گزرنے کی وجہ سے وسطی اور اونچے عرض البلادی علاقوں کے موسمی حالات میں اچانک تبدیلی ہو جاتی ہے۔
برون ٹراپیکی سیقلون قطبی محاذ کے ساتھ بنتے ہیں۔ ابتدائی طور پر محاذ ساکن ہوتا ہے ۔ شمالی نصف کرہ میں گرم ہوائیں محاذ کے جنوب کی طرف اور ٹھنڈی ہوائیں محاذ کے شمال کی طرف بہتی ہیں۔ جب محاذ کا دباؤ کم ہوتا ہے تو گرم ہوائیں شمال کی طرف اور ٹھنڈی ہوائیں جنوب کی طرف بہنے لگتی ہیں جس سے گھڑی سوئی مخالف سیقلون گردش پیدا ہوتی ہے۔ سیقلون گردش کی وجہ سے گرم محاذ اور ٹھنڈے محاذ کے ساتھ برون ٹراپیکی سیقلون پوری طرح فروغ پاتے ہیں۔ ایک ترقی شدہ سیقلون کا پلان اور کراس سیکشن تصویر 10.9 میں دیا گیا ہے۔ اس میں آپ دیکھتے ہیں کہ گرم ہواؤں کے پاکیٹ یا گرم حصے آگےاور پیچھے کی ٹھنڈی ہواؤں کے حصے میں گھسے پڑے ہیں۔
گرم ہوا ٹھنڈی ہوا پر پھسلتی ہے اور یا زندگی محاذ کے سامنے آسمان میں بادلوں کا سلسلہ ظاہر ہوتا ہے اور ترتیب کی وجہ بنتا ہے۔ ٹھنڈا محاذ گرم ہواؤں تک پیچھے سے پہنچتا ہے اور گرم ہوا کو اوپر دھکیل دیتا ہے۔ اس کی وجہ سے ٹھندے محاذ کے ساتھ انباری بادل (Cumulus clouds) بنتے ہیں۔ ٹھنڈا محاذ گرم محاذ کی بہ نسبت تیزی سے چلتا ہے اور گرم محاذ کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ گرم ہوائیں پوری طرح سے اوپراٹھ جاتی ہیں اور برداشتہ محاذ بن جاتا ہے اور سیقلون غائب ہونے لگتا ہے۔
سطح اور سطح سے اوپر ہواؤں کی گردش کا عمل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ برون ٹراپیکی سیقلون سے کئی طرح سے مختلف ہوتا ہے۔ برون ٹراپیکی سیقلون میں محاذوں کا سسٹم واضح ہوتا ہے جو ٹراپیکی سیقلون میں نہیں ہوتا ۔ ان کا علاقہ وسیع ہوتا ہے اور یہ خشکی اور سمندر دونوں پر
تصویر 10.9:برون ٹراپیکی سیقلون
بنتے ہیں جبکہ ٹراپیکی سیقلون صرف سمندر پر ہی بنتے ہیں اور خشکی تک پہونچتے پہونچتے غائب ہو جاتے ہیں۔ برون ٹراپیکی سیقلون کی بہ نسبت ایک وسیع رقبے کو متاثر کر تا ہے۔ ٹراپیکی سیقلون میں ہواؤں کی رفتار کافی تیز اور زیادہ تباہ کن ہوتی ہے۔ برون ٹراپیکی سیقلون مغرب سے مشرق کی جانب چلتے ہیں لیکن ٹراپیکی سیقلون مشرق سے مغرب کی طرف چلتے ہیں۔
ٹراپیکی سیقلون(Tropical Cyclon)
ٹراپیکی سیقلون تیز و تند آندھیاں ہیں جو ٹراپیکی علاقوں میں سمندروں پر پیدا ہوتی ہیں اور ساحل کی طرف چلتی ہیں۔ تیز ہواؤں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوتی ہے ، بھاری بارش ہوتی ہے اور آندھیاں چلتی ہیں۔ یہ قدرتی آفات میں سب سے زیادہ تباہ کن ہیں۔بحر ہند میں ان کو سیقلون بحر اٹلانٹک میں ہری کین (Hurricane) ،مغربی بحر الکاہل اور جنوبی چینی سمندر میں ٹائیفون(Typhoon) مغربی آسٹریلیا میں ولی ۔ ولیز (Willy Willies)کے نام سے جانا جاتاہے۔ ٹراپیکی سیقلون گرم ٹراپیکی سمندروں میں بنتے ہیں اور شدت اختیار کرتے ہیں۔ ٹراپیکی سیقلون کے بننے اور شدت اختیار کرنے میں معاون حالات درج ذیل ہیں:
(۱) وسیع سمندری سطح جس کا درجۂ حرارت 27O سیلسیس سے زیادہ ہو۔
(۲) کوریلس قوت کی موجودگی
(۳) عمودی ہوا کی رفتار میں معمولی انحراف
(۴) پہلے سے موجود ایک کمزور ۔کم دباؤ کا علاقہ یاکم سطحی سیقلونی گردش
(۵) سمندری سطحی نظام پر اوپری انفصال (Upper divergence)
طوفان میں شدت لانے والی توانائی، طوفانی مرکز کے چاروں طرف انباری بارانی بادل (Cumulonimbus cloud)اوپر اٹھنے میں کثافت کے عمل سے ملتی ہے۔ سمندر سے لگاتار نمی کی فراہمی کی وجہ سے طوفان مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ خشکی تک پہونچنے پر نمی کی فراہمی کی وجہ سے طوفان مزید مضبوط ہو جاتاہے۔ خشکی تک پہونچنے پر نمی کی سپلائی منقطع ہو جاتی ہے اور طوفان غائب ہونے لگتا ہے ۔وہ جگہ جہاں ٹراپیکی سیقلون ساحل کو پار کرتا ہے سیقلون کی رویت زمین (Land fall) کہلاتی ہے۔ 20Oشمالی عرض البلد کوپار کرنے والے سیقلون دوبارہ مڑتے ہیں اور زیادہ تباہ کن ہو جاتے ہیں۔ ایک رسیدہ سیقلون طوفان کی عمودی ساخت کی قیاسی نمائندگی تصویر 10.10 دکھائی گئی ہے۔
رسیدہ سیقلون کی خصوصیت سیقلون کے مرکز کے ارد گرد جس کو آنکھ بھی کہتے ہیں، سخت گردابی ہواؤں کی گردش ہے۔ اس گردشی نظام کا قطر 150 سے 250 کلو میٹر کے درمیان رہتا ہے۔
سیقلون کی آنکھ سکون کا خطہ ہے جس میں ہوائیں نیچے اترتی ہیں۔ آنکھ کے ارد گرد آنکھ کی دیوار ہوتی ہے جہاں زبردست گرداب والی ہوائیں اوپر چڑھتی ہیں اور کرہ متغیرہ ساکتہ تک پہونچ جاتی ہیں۔ اس خطے میں ہوا کی رفتار سب سے زیادہ ہوتی ہے جو 250 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے چلتی ہے۔ یہاں موسلا دھار بارش ہوتی ہے ۔ آنکھ کی دیوار سے بارش کی پٹیاں باہر نکلتی ہیں اور انباری (Cummulus) بارانی(Cunulonimbus)
بادلوں کے ریلے بیرونی خارجی علاقوں کی طرف سرکنے لگتے ہیں۔ خلیج بنگال، بحیرۂ عرب بحر ہند کے اوپر طوفان کا قطر 600 سے 1200 کلو میٹر کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ نظام آہستہ آہستہ 300 سے 500 کلو میٹر یومیہ کی
تصویر10.10:ٹراپیکی سیقلون کا ایک عمودی سیکشن(راما ساستری کے بعد)
سست رفتار سے سیقلون طوفانی موجیں پیدا کر تا ہے اور یہ موجیں ساحلی نشیبی زمینوں کو تہہ آب کر دیتی ہے خشکی پر پہنچ کر طوفان ختم ہو جاتا ہے۔
رعدی طوفان اور ٹارنیڈو
(Thunderstorms and Tornadoes)
دیگر شدید قسم کے مقامی طوفانوں میں رعدی طوفان اور ٹارنیڈو ہیں۔ ان کا عرصہ مختصر ہوتا ہے۔ یہ چھوٹے علاقہ پر ہی وقوع میں آتے ہیں لیکن ان کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ رعدی طوفان ایک مکمل طور پر بنا انباری بارانی بادل ہےجس میں بجلی کی چمک اور گھن گرج ہوتی ہے۔ جب یہ بادل ذیلی صفر والے درجۂ حرارت کی اونچائی تک پہونچتے ہیں تو ژالے کی تشکیل ہوتی ہے اور ژالہ باری کی شکل میں نیچے آتے ہیں ۔ اگر نمی کی مقدار کم ہوتی ہے تو رعدی طوفان دھول بھری آندھی پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر نمی کی مقدار کم ہوتی ہے تو رعدی طوفان دھول بھری آندھی پیدا کر سکتے ہیں۔ رعدی طوفان کی خصوصیت یہ ہے کہ شدید چڑھائی (updraft)سے اوپر کی طرف بڑھتی ہیں ۔ اس کی وجہ سےبادل کافی بڑے ہو جاتے ہیں اور کافی بلندی تک پہنچ جاتے ہیں جس کی وجہ سے ترسیب یا بارندگی ہوتی ہے۔ بعد میں اترائی (Downdraft)ٹھنڈی ہوا نیچے کی جانب زمین تک آتی ہے اور بارش ہوتی ہے۔ کبھی کبھی سخت رعدی طوفان سے بھنور دار ہوائیں ہاتھی کے سونڈ کی طرح زبردست طاقت سےا ترتی ہیں، ان کے مرکز میں کم دباؤ ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ اپنے راستے میں زبردست تباہی لاتی ہیں۔ اس طرح کے مظہر کوٹا رنیڈو کہا جاتا ہے۔ ٹارنیڈو عموما وسطی عرض البلاد میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ سمندر کے اوپر تشکیل پانے والے ٹارنیڈو کو فوارۂ آب (Water Sprouts) کہتے ہیں۔
یہ زبردست طوفان کرۂ ہوا کی توانائی کی بدلتی تقسیم کے ساتھ مطابقت پیدا کر نے کے مظاہر ہیں۔ ان طوفان میں ممکنہ اور حرارتی توانائی حرکی توانائی میں بدلتی ہے اور مضطرب کرۂ ہوا دوبارہ اپنی مستحکم حالت میں آجاتا ہے۔
مشق
1. کثیر انتخابی سوالات
(i) اگر سطحی ہوا کا دباؤ 1000mb ہے تو سطح سے ایک کیلو میٹر کی بلندی پر ہوا کا دباؤ ہوگا
(الف) 700 mb (ب) 900 mb
(ج) 1100 mb (د)1300 mb
(ii) بین ٹراپیکی مرکوزیت والا منطقہ عموماً درج ذیل میں سے کہاں واقع ہوتا ہے:
(الف) خط استوا کے قریب (ب) خط سرطان کے قریب
(ج)خط جدی کے قریب (د)دائرۂ آرکٹک کے قریب
(iii) شمالی نصف کرہ میں ایک کم دباؤ کے چاروں طرف ہوا کی سمت ہوتی ہے :
(الف) گھڑی کی سوئیوں کے موافق (ب)گھڑی کی سوئیوں کے مخالف
(ج)خطوط مساوی البلاد کے عمود پر (د)خطوط مساوی البلاد کے متوازی
(iv) درج ذیل میں تودۂ ہوا کے بننے کا علاقۂ منبع کو ن سا ہے
(الف) استوائی جنگلات (ب)سائبیریا کا میدان
(ج)خطوط مساوی البلاد کے عمود پر (د)دکن کا پٹھار
2. مندرجہ ذیل سوالوں کا جواب تقریباً 30 الفاظ میں دیں:
دباؤکی پیمائش میں کون سی اکائی استعمال کی جاتی ہے؟ موسمی نقشوں کی تیاری میں کسی جگہ کے دباؤ کو سطح سمندر کے دباؤ تک کیوں کم کیا جاتا ہے؟
ii۔ جب شرح دباؤ کی قوت شمال سے جنوب کی طرف ہے یعنی شمالی نصف کرہ میں نیم ٹراپیکی اونچے دباؤ سے خط استوا کی طرف ہے تو منطقہ حارہ میں ہواؤ ں کی سمت شمال مشرقی کیوں ہوتی ہے؟
iii ۔ زمینی انحرافی ہوائیں (Geostrophic) کیا ہوتی ہیں؟
iv۔ نسیم بری اور نسیم بحری کی وضاحت کریں۔
3. مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تقریباً 150 الفاظ میں دیں۔
(i)۔ہواکی رفتار اور سمت کو متاثر کرنے والے عوامل کو بیان کریں۔
(ii)۔ گلوب پر کرۂ ہوا کی عمومی گردش کو دکھانے کے لیےایک آسان ڈائیگرام بنائیں۔ 30Oشمالی اور جنوبی عرض البلاد پر نیم ٹراپیکی اونچے دباؤ بننے کی ممکنہ وجوہات کیا ہیں؟
(iii)۔ٹراپیکی سائیکلون سمندر پر کیوں بنتے ہیں؟ ٹراپیکی سائیکلون کے کس حصے میں موسلا دھار بارش ہوتی ہے اور تیز رفتار ہوائیں چلتی ہیں اور کیوں؟
پروجیکٹ کا کام
(i)۔ موسمی نظام کو سمجھنے کے لیے میڈیا یعنی اخبار ، ٹیلی ویژن اور ریڈیو سے موسمی معلومات اکٹھا کیجیے:
(ii)۔ کسی اخبار میں موسم والے سیکشن کو ، خاص کر سیٹیلائیٹ سے لی گئی تصویر والے نقشے کو پڑھیے ۔ بادلوں کی موجودگی والے علاقہ پر نشان لگایئے اور بادلوں کی تقسیم سے کرۂ ہوا کی گردش کا پتہ لگانے کی کوشش کیجیے ۔ اخبار میں دی گئی پیشین گوئی کا ٹی وی کی خبروں سے موازنہ کیجیے(اگر آپ کے یہاں ٹی وی دیکھنے کی سہولت دستیاب ہے) اور تخمینہ لگایئے کہ ایک ہفتے میں کتنے دن پیشین گوئی بالکل درست تھی۔