Skip to content


باب 11

کرۂ ہوا میں پانی

آپ کو یہ پہلے ہی بتایا جا چکا ہے کہ ہوا میں پانی کے بخارات موجود ہوتے ہیں۔ ہوا میں یہ بخارات کرۂ ہوا کے حجم کے اعتبار سے صفر سے لے کر چار فیصد تک ہوتے ہیں اور موسمی مظاہر میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ کرۂ ہوا میں پانی تین شکلوں میں موجود ہوتا ہے۔ گیس ، سیال اور ٹھوس ۔ کرۂ ہوا میں نمی آبی مخازن سے عمل تبخیر (Evaporation)کے ذریعہ اور پودوں سے اخراج بخارات (Transpiration) کے طور پر حاصل ہوتی ہے۔ اس طرح کرۂ ہوا ، بحر اعظموں اور بر اعظموں کے درمیان عمل تبخیر، اخراج بخارات ، تکثیف اور بارندگی کے ذریعہ پانی کا لگاتار تبادلہ ہوتا رہتا ہے۔ 
ہوا میں موجود آبی بخارات کو نمی یا رطوبت(Humidity)کہا جاتا ہے ۔مقدار کے لحاظ سے اسے مختلف انداز میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ کرۂ ہوا میں موجود آبی بخارات کی حقیقی مقدار کو رطوبت مطلق(Absolute humidity) کہا جاتا ہے۔یہ ہوا کے فی اکائی حجم میں آبی بخارات کا وزن ہے اور اسے گرام فی مکعب میٹر میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ ہوا میں آبی بخارات کو سمونے کی صلاحیت کلی طور پر اس کے درجہ حرارت پر منحصر ہوتی ہے۔ سطح زمین پر مطلق رطوبت ایک جگہ سے دوسری جگہ پر بدلتی رہتی ہے۔ ایک دیے گئے درجۂ حرارت پر اس کی پوری صلاحیت کے اعتبار سے کرۂ ہوا میں موجود نمی کے فیصد کو رطوبت اضافی (Relative humidity) کہا جاتا ہے۔ درجۂ حرارت میں تبدیلی کی وجہ سے ہوا میں نمی جذب کرنے کی صلاحیت بڑھتی یا گھٹتی رہتی ہے اور اس سے رطوبت اضافی بھی متاثر ہوتی ہے۔ یہ بحر اعظموں پر سب سے زیادہ اور بر اعظموں پر سب سے کم ہوتی ہے۔  
جس ہوا میں ایک خاص درجۂ حرارت پر اس کی پوری صلاحیت کے مطابق نمی ہوتی ہے اسے سیر شدہ ہوا (Saturated air) کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس حالت میں اور اس درجۂ حرارت پر ہوا نمی کی اضافی مقدار سمونے سے قاصر ہے۔ ہوا کے کسی دیئے گئے نمونے میں جس درجۂ حرارت پر وہ ہوا سیر شدہ ہو جاتی ہے اسے نقطۂ شبنم (Dew point) کہا جاتا ہے۔

تبخیر اور تکثیف

(Evaporation and Condensation)

کرۂ ہوا میں آبی بخارات کی مقدار میں اضافہ یا کمی بالترتیب عمل تبخیر اور عمل تکثیف کی وجہ سے ہوتی ہے۔ تبخیر وہ طریق عمل ہے جس کے ذریعہ پانی سیال سے گیس کی حالت میں بدلتا ہے۔ عمل تبخیر کی اصل ذمہ دار حرارت ہے۔ وہ حرارت جو پانی کو بخارات میں تبدیلی کرنے میں خرچ ہوتی ہے اسے تبخیر کی مخفی حرارت(Latent heat of vapurisation) کہا جاتا ہے۔
درجۂ حرارت میں اضافہ ہوا میں پانی کو جذب کرنے اور اسے روک کر رکھنے کی صلاحیت کو بڑھادیتا ہے۔ اسی طرح اگر نمی کی مقدار کم ہے تو ہوا میں نمی جذب کرنے اور روکنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ ہوا کی حرکت سیر شدہ پرت کو غیر سیر شدہ پرت سے بدل دیتی ہے۔ اس طرح ہوا میں جتنی زیادہ حرکت ہوگی ،تبخیر کا عمل اتنا ہی زیادہ ہوگا ۔  
آبی بخارات کا پانی میں بدلنا عمل تکثیف (condensation) ہے ۔ عمل تکثیف حرارت کے اخراج کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جب نم ہوا ٹھنڈی ہوتی ہے تو یہ اس حالت تک پہنچ سکتی ہے جہاں آبی بخارات کو روکنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے ۔ اس وقت زائد آبی بخارات سیال کی صورت میں کثیف ہو جاتے ہیں۔ اگر یہ بخارات براہ راست ٹھوس کی صورت میں بدلتے ہیں تو اسے عمل تصعید (Sublimation)کہتے ہیں ۔ آزاد ہوا میں تکثیف کا جو عمل بہت چھوٹے ذرات کے ارد گرد ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے، اسے نمگیر تکثیفی مرکزے(Hygroscopic condensation nuclei) کہا جاتا ہے ۔ دھول ،دھواں اور سمندر سے حاصل نمک کے ذرات خصوصاً بہتر مرکزے ہیں کیونکہ یہ پانی کو جذب کر لیتے ہیں ۔ عمل تکثیف اس وقت بھی ہوتاہے جب نم ہوا کسی زیادہ ٹھنڈی شئے کے ربط میں آتی ہے اور یہ اس وقت بھی ہوتا ہے جب درجۂ حرارت نقطۂ شبنم تک پہنچ جاتا ہے ۔ اس لیے ، تکثیف کا عمل ، ٹھنڈا ہونے کی مقدار اور ہوا کی رطوبت اضافی پر منحصر ہوتاہے۔ عمل تکثیف ہوا کے حجم ، درجۂ حرارت ، دباؤ اور نمی سے متاثر ہوتا ہے ۔ تکثیف کا عمل اس وقت ہوتا ہے جب :(1) ہوا کا درجۂ حرارت نقطۂ شبنم تک کم ہو جاتا ہے جب کہ اس کا حجم محکم رہتا ہے ؛ (2) حجم اور درجۂ حرارت دونوں کم ہو جائیں ؛(3) ہوا میں تبخیر کے ذریعہ نمی میں اضافہ ہو جائے ۔ بہرکیف تکثیف کے لیےسب سے زیادہ ساز گار حالت درجہ حرارت میں گراوٹ ہے۔
عمل تکثیف کے بعد کرۂ ہوا میں آبی بخارات یا نمی درج ذیل میں کوئی ایک شکل اختیار کرتی ہے۔ شبنم ، پالہ ، کہرا اور بادل ۔ تکثیف کی شکلوں کو درجۂ حرارت اور محل وقوع کی بنیاد پر درجہ بند کیا جا سکتا ہے۔ تکثیف کا عمل اس وقت ہوتا ہے جب نقطۂ شبنم ، نقطۂ انجماد سے کم ہوتا ہے یا جب نقطۂ انجماد سے زیادہ ہو جاتا ہے۔  

شبنم (Dew)

جب نمی ، پانی قطروں کی شکل میں (سطح زمین سے اوپر ہوا میں مرکزے کے بجائے ) کسی ٹھوس شے جیسے پتھر ، گھاس اور پودوں کی پتیوں کی ٹھنڈی سطح سے لمس کے بعد اس پر جمع ہوتی ہے تو اسے شبنم کہتے ہیں ۔ ا س کے بننے کےلیے مناسب حالات میں صاف آسمان ، ساکن ہوا ، اونچی رطوبت اضافی اور لمبی ٹھنڈی راتوں کا ہونا ضروری ہے۔ شبنم بننے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ نقطۂ شبنم ،نقطۂ انجماد سے زیادہ ہو ۔  
پالہ (Frost)  
پالہ ٹھنڈی سطحوں پر جمتا ہے جب تکثیف نقطۂ انجماد سے(0º) نیچے ہوتی ہے۔ یعنی نقطۂ شبنم ، نقطۂ انجماد پر یا اس سے نیچے ہوتا ہے۔ زائد رطوبت پانی کے قطروں کے بجائے برف کے باریک روؤں پر جمع ہوتی ہے۔ سفید پالہ کے بننے کے لیے مثالی حالات وہی ہیں جو شبنم کے بننے کے لیے ہیں سوائے اس کے کہ ہوا کا درجۂ حرارت نقطۂ انجماد پر یا اس سے نیچے ہونا چاہیے ۔

کہرا اور دھند(Fog and Mist)

جب زیادہ مقدار میں آبی بخارات والےکسی ہوائی تودے کا درجہ حرارت اچانک گر جاتا ہے تو اس میں پائے جانے والے باریک دھول کے ذرات پر بھی عمل تکثیف ہونے لگتا ہے۔ اس لیے کہرا ایک طرح کا بادل ہے جس کی بنیاد زمین پر یا اس کے زیادہ نزدیک ہوتی ہے ۔ کہرا اور دھند کی وجہ سے رویت(visibility)کم سے صفر تک ہو جاتی ہے۔ شہری اور صنعتی مراکز میں دھواں کافی مرکزے(Nuceli) فراہم کرتا ہے جو کہرے اور دھند کے بننے میں معاون ہوتے ہیں ۔ایسی حالت کو جس میں کہرا دھوئیں کے ساتھ ملا ہوتا ہے، دو کہرا (Smog) کہا جاتا ہے۔ کہرا اور دھند میں صرف یہ فرق ہے کہ دھند میں کہرے کی بہ نسبت زیادہ نمی ہوتی ہے۔ دھند کے ہر مرکزے میں رطوبت کی موٹی پرت ہوتی ہے۔ دھند پہاڑوں پر اکثر ہوتی ہے کیوں کہ ڈھلانوں پر چڑھتی ہوئی گرم ہوا ٹھنڈی سطح سے ملتی ہے۔ کہرے ، دھند کی بہ نسبت خشک ہوتے ہیں اور اس جگہ زیادہ ہوتے ہیں جہاں ہوا کی گرم روئیں ٹھنڈی روؤں کے ربط میں آتی ہیں۔ کہرے ایک طرح کے چھوٹے بادل ہیں جن میں دھول ، دھواں اور نمک کے ذرات کے ذریعہ فراہم کردہ مرکزے کے چاروں طرف تکثیف کا عمل ہوتا ہے۔

بادل(Clouds)

badal
تصویر11.1

بادل پانی کے چھوٹے قطرات یا برف کے چھوٹے روں کے انیوہ میں جو کافی بلندی پر آزاد ہوا میں آبی بخارات کی تکثیف کی وجہ سے بنتے ہیں۔ بلندی پر بادلوں کے بننے کی وجہ سے سے ان کی شکلیں مختلف ہوتی ہیں۔ ان کی بلندی ، وسعت ،کثافت اور شفافیت یا غیر شفافیت کے مطابق بادلوں کو چار اقسام میں درجہ بند کیا جاتا ہے :(1) سنبلی؛ (2) انباری؛ (3) چادری؛   (4) بارانی ۔

سنبلی (Cirrus)

sanbli
تصویر11.2
سنبلی بادل زیادہ بلندی (8,000سے 12,000میٹر) پر بنتے ہیں۔ یہ پتلے اور الگ الگ ہوتے ہیں جن کی شکل پنکھ نما ہوتی ہے۔ ان کا رنگ سفید ہوتا ہے۔

انباری (Cumulus)

انباری بادل روئی کے گالے کی طرح نظر آتے ہیں۔ یہ بادل عام طور پر 4,000 سے 7,000 میٹر کی بلندی پر بنتے ہیں ۔ یہ ٹکڑوں میں ہوتے ہیں اور انہیں جگہ جگہ بکھرا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کی بنیاد مسطح ہوتی ہے۔  

چادری (Stratus)

جیسا کہ ان کے نام سے ظاہر ہے، یہ پرت دار بادل ہیں جو آسمان کے ایک بڑے حصے کو ڈھک لیتے ہیں۔ عام طور پر یہ بادل حرارت کے ضائع ہونے کی وجہ سے یا مختلف درجۂ حرارت والے ہوا کے تودوں کے ملنے سے بنتے ہیں۔

بارانی (Nimbus)

بارانی بادل کا لے یا گہرے خاکستانی رنگ کے ہوتے ہیں۔ یہ درمیانی سطح پر یا زمین کی سطح کے بہت قریب بنتے ہیں ۔ یہ کافی کثیف ہوتے ہیں اور سورج کی شعاعوں کے لیے غیر شفاف ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ بادل اتنے نیچے ہوتے ہیں کہ زمین کو چھوتے ہوئے لگتے ہیں۔ بارانی بادل دبیز بخارات کے ڈول انبوہ ہیں۔  

1st
2nd
تصویر    11.1اور11.2 میں دکھائے گئے ان بادلوں کی قسموں کی پہچان کریں۔

ان چار بنیادی قسموں سے مندرجہ ذیل اقسام کے بادل بنتے ہیں: اونچے بادل ۔ سنبلی ، سنبلی چادری ، سنبلی انباری ؛ درمیانی بادل ۔ بلند چادری اور بلند انباری ؛ نچلے بادل ۔ چادری انباری اور بارانی چادری اور جامع عمودی تشکیل والے بادل ۔ انباری اور انباری بارانی۔

بارندگی(Precipitation)

آزاد ہوا میں تکثیف کا لگاتار عمل تکثیف شدہ ذرات کے سائز کو بڑھاتا رہتا ہے ۔ جب ہوا قوت ثقل کے بالمقابل انہیں روکے رکھنے میں ناکام ہو جاتی ہے ، تو وہ سطح زمین پر گرنے لگتے ہیں۔ اس طرح آبی بخارات کی تکثیف کے بعد نمی یا رطوبت کے اخراج کو بارندگی (Precipitation) کہا جاتا ہے ۔ یہ سیال یا ٹھوس حالت میں ہو سکتی ہے ۔ پانی کی صورت میں بارندگی کو بارش(Rainfall) کہا جاتا ہے ۔ جب درجۂ حرارت 0º سیلسیس سے کم ہوتا ہے تو بارندگی برف کے باریک گالوں کی صورت میں ہوتی ہے اور اسے برف باری(Snowfall) کہا جاتا ہے۔ اس میں شش پہلوی قلموں کی شکل میں رطوبت کا اخراج ہوتا ہے۔ یہی قلم برف کے گالے بن جاتے ہیں۔ بارش اور برف کے علاوہ بارندگی کی دوسری شکلیں برف باراں (Sleet) اور اولہ (Hail) ہیں۔گرچہ ان دونوں کا وقوع ہونا محدود ہے اور وقت و مقام کے لحاظ سے شاذ و نادر ہی وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
برف و باراں بارش کے منجمد قطرے اور پگھلے ہوئے برفیلے پانی کا دوبارہ جمنا ہے۔ جب نقطۂ انجماد سے اوپر درجہ حرارت کے ساتھ ہوا کی کوئی سطح زمین کے نزدیک ذیلی منجمد سطح کے اوپر ہوتی ہے تو بارندگی برف باراں شکل میں ہوتی ہے ۔ گرم ہوا سے نکلے بارش کے قطرے نیچے کی ٹھنڈی ہوا کے زد میں آتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر وہ ٹھوس ہو جاتے ہیں اور زمین پر برف کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی شکل میں آتے ہیں۔ یہ ٹکڑے بارش کے قطروں سے زیادہ بڑے نہیں ہوتے۔
کبھی کبھی بارش کے قطرے بادلوں سے نکلنے کے بعد برف کے چھوٹے گول ٹھوس ٹکڑوں کی شکل میں حجم ہو کر زمین پر گرتے ہیں۔ ان کو اولہ باری(Hailstones) کہا جاتا ہے۔ یہ اس وقت بنتے ہیں جب بارش کا پانی ٹھنڈی سطحوں سے ہو کر گذر تا ہے۔ اولہ باری میں برف کی کئی ایک کے اوپر دوسری ہم مرکزی پرتیں ہوتی ہیں۔  

بارش کی قسمیں(Types of Rainfall)

مبدا کی بنیاد پر بارش کو تین اہم قسموں میں درج بند کیا جاتا ہے۔ حملی (Convectional)،کوہ غرافیائی یا ریلیفی(Orographic or Relief) اور سائکلونی یا محاذی (Cyclonic or Frontal)۔

حملی بارش (Conventional Rain)

ہواگرم ہونے پر ہلکی ہو جاتی ہے اور حملی روکی صورت میں اوپر چڑھتی ہے۔ جب یہ اوپر چڑھتی ہے تو پھیلتی ہے اور حرارت کو خارج کرتی ہے۔ نتیجے کے طور پر تکثیف کا عمل شروع ہو جاتا ہے اور انباری بادل بنتے ہیں۔گرج اور بجلی کی کڑک کے ساتھ موسلا دھار بارش ہوتی ہے لیکن یہ بارش زیادہ دیر تک نہیں ہوتی ۔ عام طور پر ایسی بارش گرمی کے موسم میں یا دن کے گرم حصے میں ہوتی ہے ۔ یہ ابتدائی خطوں اور بر اعظموں کے اندرونی حصوں خاص کر شمالی نصف کرہ میں کافی عام ہے۔

کوہ غرافیائی بارش (Orographic Rain)

جب سیر شدہ ہوا کا تودہ پہاڑوں کے نزدیک آتا ہے تو یہ اوپر اٹھنے لگتا ہے۔ جب یہ اوپر اٹھتا ہے تو پھیلتا ہے اور اس کا درجۂ حرارت گرنے لگتا ہے اور نمی کثیف ہونے لگتی ہے۔ اس قسم کی بارش کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ ہوا رخی ڈھلانوں پر زیادہ بارش ہوتی ہے۔ جب یہ ہوائیں دوسری طرف کی ڈھلانوں پر بارش نہیں ہوتی اور یہ خشک رہتی ہیں۔ عقبی ڈھلانوں پر واقع علاقہ جس میں بارش کم ہوتی ہے سایۂ باراں کا علاقہ(Rain-shadow area) کہلاتا ہے۔ اس بارش کو ریلیف بارش (Relief Rain) بھی کہتے ہیں۔

سیقلونی بارش (Cyclonic Rain)

آپ نے باب 10 میں برون ٹراپیکی سیقلون کے بارے میں پہلے ہی پڑھ لیا ہے ۔سیقلونی بارش کو سمجھنے کے لیے باب 10 کا مطالعہ کیجیے۔  

بارش کی عالمی تقسیم

روئے زمین کے مختلف مقامات پر سال بھر میں مختلف مقدار میں بارش ہوتی ہے اور وہ بھی مختلف موسم میں۔  
عام طور پر جیسےجیسے ہم خط استوا سے قطبین کی طرف چلتے ہیں ،بارش تیزی سےکم ہوتی جاتی ہے۔ بر اعظموں کے اندرونی حصوں کی بہ نسبت دنیا کے ساحلی علاقوں میں بارش زیادہ ہوتی ہے۔ دنیا کے بری خطوں کے مقابلے میں بحر اعظموں پر زیادہ بارش ہوتی ہے کیونکہ وہ پانی کے بڑے سرچشمے ہیں ۔ خط استوا سے 35ºاور 40º شمالی اور جنوبی عرض البلاد کے درمیان مشرقی سواحل پر بارش زیادہ ہوتی ہے اور مغرب کی طرف کم ہوتی جاتی ہے ۔ لیکن خط استوا کے 45º اور 65º شمال اور جنوب کے درمیان، مغربی ہواؤں کی وجہ سے بر اعظموں کے مغربی کناروں پر بارش پہلے ہوتی ہے پھر یہ مشرق کی طرف گھٹتی جاتی ہے۔ جہاں کہیں ساحل کے متوازی پہاڑ موجود ہیں وہاں بارش ہوا رخی ساحلی میدان میں زیادہ ہوتی ہے اور عقبی اطراف میں کم ہوتی ہے۔
بارندگی کی کل سالانہ مقدار کی بنیاد پر عالمی بارندگی کی اہم اقلیموں کی پہچان درج ذیل طور پر کی گئی ہے:
استوائی پٹی سرد معتدل منطقے کے مغربی ساحلوں پر واقع ہوارخی ڈھلانوں اور مانسونی خطوں کے ساحلی علاقوں میں سالانہ 200 سینٹی میٹر سے زیادہ بارش ہوتی ہے۔بر اعظموں کے اندرونی علاقوں میں اوسط بارش ہوتی ہے جو سالانہ 100 سے 200 سینٹی میٹر کے درمیان رہتی ہے۔ براعظموں کے ساحلی علاقوں میں اوسط مقدار کی بارش ہوتی ہے۔ ٹراپیکی وسطی حصوں اور ٹراپیکی مشرقی اور اندرونی حصوں میں سالانہ بارش 50 سے 100 سینٹی میٹر کے درمیان ہوتی ہے۔ بر اعظموں کے اندرونی حصوں کے سایۂ باراں منطقہ میں پڑنے والے علاقوں میں بہت کم بارش ہوتی ہے جس کا سالانہ اوسط 50 سینٹی میٹر سے بھی کم ہوتا ہے ۔ بارش کی موسمی تقسیم، اس کی اثرانگیزی کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک اہم پہلو فراہم کرتی ہے۔ کچھ علاقوں میں بارش مساوی طور پر منقسم ہوتی ہے جیسے استوائی پٹی اور سرد معتدل علاقوں کے مغربی حصوں میں۔

مشق

1.  کثیر انتخابی سوالات  
        (i) انسانوں کے لیے مندرجہ ذیل میں سے کون سا کرۂ ہوا کا سب سے اہم جز وترکیبی ہے؟
               (الف)   آبی بخارات                                    (ب) نائٹروجن
              (ج)دھول کے ذرات                                    (د)   آکسیجن
(ii)  مندرجہ ذیل میں سے کون سا عمل سیال کو بھاپ میں بدلنے کے لیے ذمہ دار ہے؟
              (الف)عمل تکثیف                                       (ب)   اخراج بخارات
              (ج) عمل تبخیر                                             (د)بارندگی
(iii)  وہ ہوا جس میں اس کی بھر پور صلاحیت کے مطابق نمی ہوتی ہے، اسے مندرجہ ذیل میں سے کہا جاتا ہے:
            (الف)رطوبت اضافی                                    (ب)رطوبت خصوصی
            (ج)رطوبت مطلق                                       (د)سیر شدہ ہوا  
(iv)  مندرجہ ذیل میں سے آسمان میں سب سے بلند بادل کون سا ہے؟
            (الف)سنبلی                                                (ب)چادری
           (ج)بارانی                                                     (د)انباری
2. مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 30 الفاظ میں دیجیے۔
        (i)   تین طرح کی بارندگی کے نام بتائیے ۔
        (ii)  رطوبت اضافی کی تشریح کیجیے۔
  (iii) آبی بخارات کی مقدار بلندی کے ساتھ تیزی سے کیوں گھٹتی ہے؟
      (iv)  بادل کیسے بنتے ہیں؟ ان کی درجہ بندی کیجئے۔
3.  مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 150 الفاظ میں دیں:
      (i)  بارندگی کی عالمی تقسیم کی خصوصیات بیان کیجیے۔
      (ii)  عمل تکثیف کی شکلیں کیا ہیں؟ شبنم اور پالے کے بننے کا طریق عمل بیان کیجیے۔

پروجیکٹ کاکام  

یکم جنوری سے 31 دسمبر تک کے اخبارات کی چھان بین کیجیے اور ملک کے مختلف حصوں میں شدید بارش کی خبر کو نوٹ کیجیے۔